21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

نیز ہم نے سلیمان کے لئے تند و تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین 69 کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور ہم ہر چیز کو خوب 70 جانتے ہیں۔

69 پہلے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے فیصلے کا ذکر ہوا۔ بعد میں ان پر انعامات کا۔ حضرت سلیمان کو ایک معجزہ تو یہ عطا ہوا کہ تند و تیز ہوا ان کے لئے مسخر کردی گوی تھی۔ وہ ہوا کا جس طرح کا حکم دیتے وہ آپ کا تابع فرمان رہتی اور اس طرح آپ ایک ماہ کا سفر صرف چند گھنٹوں یعنی 3 سے 6 گھنٹوں کے درمیان کرلیا کرتے تھے۔ قرآن کریم کی تصریحات سے یہی کچھ ثابت ہے اور اس کی ایک توجیہہ، جو عام طور پر مشہور ہے، یہ کی گئی ہے کہ آپ نے ایک بہت بڑا تخت بنوایا تھا۔ جب آپ چاہتے اس پر خود بھی آپ کے۔۔ سلطنت بھی بیٹھ جاتے اور بھی جسے چاہتے اس پر بٹھا لیتے، پھر ہوا کو حکم دیتے تو وہ اس تخت کو اٹھا لیتی اور جب یہ تخت زمین سے خاصا بلند ہوجاتا تو آپ اس شام کا سفر کیا کرتے تھے اور جہاں آپ کو اترنا ہوتا تو آپ ہوا کو حکم دیتے تو وہ نرمی سے چلنے لگتی اور جہاں آپ چاہتے وہاں اتر جاتے تھے۔ اس طرح جو کام آج کے ہوائی جہاز پٹرول کے ذریعہ کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان یہی کام ہوا سے لے لیا کرتے تھے۔ اور اس کی رفتار بھی تقریباً وہی ہوتی تھی جو آج کل ہوائی جہازوں کی ہے۔ اس دور میں یہ ایک معجزہ تھا مگر آج کے دور میں ایک عادی اور معمولی چیز بن چکا ہے اور اس سفر کی دوسری توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ حضرت داؤد کو تو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی ڈھلائی کا کام سکھلایا تھا۔ جبکہ سلیمان کو لوہے کے علاوہ تانبے کی ڈھلائی کا فن بھی سکھلا دیا تھا اور آپ کے دور میں یہ کام آپ کی نگرانی میں وسیع پیمانہ پر ہوتا تھا۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا (وَاَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ 12؀) 34 ۔ سبأ :12) (یعنی ہم نے سلیمان کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے بہا دیئے تھے) جس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے دور میں لوہے اور تانبے کی مصنوعات نے خاص ترقی کی تھی اور آپ ان کی وسیع پیمانہ پر تجارت کیا کرتے تھے۔ آپ کے بحری بیڑے یمن سے شام اور شام سے یمن آتے جاتے تھے۔ اور چونکہ ہوا آپ کے تابع فرمان تھی لہذا یہ بیڑے برق رفتاری سے سفر کرتے اور ایک ماہ کا سفر چند گھنٹوں میں طے کرلیتے تھے۔ 70 یعنی ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ کون کس بات کا اہل ہے اور یہ بھی کسی چیز مثلاً ہوا سے ہی کیا کیا کام لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

شیطانوں کو بھی اس کے تابع بنادیا تھا جو اس کے لئے (سمندر میں موتی، جواہرات نکالنے کے لئے) غوطہ لگاتے 71 اور اس کے علاوہ اور بھی کئی کام کرتے تھے اور ہم ہی ان سب کے محافظ 72 تھے۔

71 جو حضرات معجزات کی تاویل کرنے کے عادی ہیں اور جب تک وہ انھیں طبعی امور کے تابع نہ بنالیں انھیں چین نہیں آتا۔ وہ اس آیت میں شیطانوں سے مراد دیہاتی طاقتور انسان لیتے ہیں۔ حالانکہ دیہاتی طاقتور لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں ان کے دیہاتی یا طاقتور ہونے سے ان کی نوع نہیں بدل جاتی۔ دنیا میں جتنی بھی فلک بوس عمارتیں ہیں یا بھاری کام ہوتے ہیں۔ یہ سب کام دیہاتی طاقتور ہی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ شہری نازنینوں کا کام نہیں ہوتا۔ اور دیہاتی طاقتور ہر بادشاہ بلکہ ہر سرماہ دار کو آسانی سے میسر آسکتے ہیں۔ پھر اس میں حضرت سلیمان کی کیا خصوصیت رہی جن کے خادمین میں اللہ نے بطور خاص جنوں کا نام لیا ہے۔ 72 یعنی ہم نے ان شیطانوں کو سلیمان کے تابع فرمان بنا رکھا تھا۔ وہ نہ ان کی حکم عدولی کرسکتے تھے اور نہ ان کے ہاں سے بھاگ سکتے تھے اور یہ سلیمان کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ بلکہ شیطان ان کے تابع فرمان رہنے پر اس لئے مجبور تھے کہ ہم خود ان کے محافظ تھے۔
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا : مجھے بیماری لگ گئی 73 ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

73 حضرت ایوب کس دور میں مبعوث ہوئے ؟ یا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے ؟ آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا ؟ اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور ہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ حضرت یوسف اور حضرت شعیب کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔ کتاب و سنت نے حضرت ایوب کی جس خصوصیت سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔ وہ آپ کا صبر ہے۔ آپ کا ابتدائی زمانہ نہایت خوشحالی کا دور تھا۔ مال کی سب اقسام : اولاد، بیویاں، جائیداد غرضیکہ سب کچھ واثر مقدار میں عطا ہوا تھا اور آپ کثرت اموال و اراضی میں مشہور تھے۔ اس دور میں آپ ہمیشہ اللہ کا شکر بجا لاتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوسری طرح آزمانا چاہا اور آپ پر ابتلا کا دور جو آیا کہ ہر چیز ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اپنا یہ حال تھا کہ کسی طویل بیماری میں مبتلا ہوگئے اور ایسے بیمار پڑے کہ ایک بیوی کے سوا سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بلکہ لوگوں نے اپنی بستی سے باہر نکال دیا۔ اس ابتلاء کے طویل دور میں آپ نے صبر استقامت کا ایسا بےمثال مظاہرہ کیا جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ صحیح روایات کے مطابق آپ کے ابتلاء کا دور 12 سال ہے۔ پھر جب اللہ سے اپنی بیماری کے لئے دعا کی تو اس دعا میں شکر و شکایت نام کو نہیں۔ بلکہ عرض بدعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انتہائی صابر، قانع اور خوددار آدمی اپنے مالک کو کوئی بات یاد کرا رہا ہو۔ کہا تو صرف اتنا کہا کہ پروردگار ! میں طویل مدت سے بیمار ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

چناچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو بیماری انھیں لگی تھی اسے دور کردیا۔ اور انھیں ہم نے صرف اس کے اہل و عیال ہی نہ دیئے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی 74 اور بھی دیئے اور یہ ہماری طرف سے خاص رحمت تھی اور (اس میں بھی) عبادت گزاروں 75 کے لئے ایک سبق تھا۔

74 جب حضرت ایوب اس صبر کے امتحان میں بھی پوری طرح کامیاب ہوگئے تو رحمت باری جوش میں آگئی۔ آپ کی یہی بےمطالبہ دعا یوں مقبول ہوئی کہ اللہ نے اسی مقام پر ایک چشمہ رواں کردیا۔ آپ کو صرف یہی حکم ہوا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ پاؤں مارنے کی دیر تھی کہ چشمہ پھوٹ پڑا۔ جس کا پانی میٹھا، ٹھنڈا، شفا بخش اور جلدی امراض کو دور کرنے والا تھا۔ آپ نے اس میں غسل فرمایا کرتے اور اسی کا پانی لیتے رہے۔ آپ کی بیماری، جلد کی بیماری تھی۔ جو اس طرح غسل کرنے اور پانی ملتے رہنے سے جلد ہی دور ہوگئی اور جتنا مال و دولت اور آل اولاد اللہ تعالیٰ آپ کو پہلے عطا فرمائی تھی۔ اس سے دگنی عطا فرما دی اور یہ اللہ کی رحمت اور آپ کے صبر کا پھل تھا۔ 75 عبادت گزاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان خوشحالی کے دور میں اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور تنگی اور تنگدستی کے دور میں صبر و استقامت سے کام لے۔ جیسا کہ حضرت ایوب نے نمونہ پیش کیا تھا اس جملہ میں سبق یہ ہے کہ جو شخص بھی اس طرح اللہ کا عبادت گزار بنتا ہے۔ ایوب کی طرح اللہ تعالیٰ اسے بھی پہلے سے زیادہ انعامات سے نوازتا ہے۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسمٰعیل، ادریس اور ذوالکفل 76 کو بھی نعمت دی تھی اور یہ سب بڑے صابر تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ یہ صالح بندے تھے۔

76 ذوالکفل کے حالات بھی کتاب و سنت میں کم ہی مذکور ہوئے ہیں۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے۔ یعنی آپ نبی تھے یا نہیں۔ مگر چونکہ آپ کا ذکر انبیاء کے ہی درمیان آیا ہے۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ آپ نبی تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے۔ آپ کا لقب ذوالکفل (بمعنی صاحب نصیب) اور نام بشیر بن ایوب ہے۔ شام کا علاقہ ہی آپ کی دعوت کا مرکز ہے۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا۔ پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہوگیا اور حکومت آپ کے سپرد کی۔ جس کے نتیجہ میں شام کے علاقہ میں ایک دفعہ پھر خوب اسلام پھیلا۔
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے 77 (یونس) کو بھی ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا جب وہ غصہ سے بھرے ہوئے (بستی چھوڑ کر) چلا گئے انھیں یہ گمان تھا کہ ہم ان پر گرفت نہ کرسکیں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ : تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے میں ہی قصور وار تھا۔

77 حضرت یونس کو قرآن میں اس مقام پر ذالنون کہا گیا ہے اور سورة القلم صاحب الحوث۔ حوت اسم جنس ہے جس کا اطلاق ہر قسم کی چھوٹی بڑی مچھلی پر ہوسکتا ہے۔ جبکہ نون سب سے بڑی (وہیل مچھلی) کو کہتے ہیں۔ (مفردات القرآن) اور آپ کا یہ لقب اس لئے ہوا کہ آپ ایک مدت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ زندہ و سلامت رہے اور اس دوران اللہ کی تسبیحات پڑھتے رہے۔ آپ اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے۔ آپ کا زمانہ بعثت نویں صدی ق م ہے۔ حسب معمول قوم نے آپ کی دعوت کا انکار کیا۔ آپ نے قوم کے مستقل انکار پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ اور جب قوم نے کہا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے تو آپ نے از خود ہی انھیں چالیس دن بعد عذاب آنے کی وعید سنا دی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے چالیس دن کا کوئی وعدہ نہیں فرمایا تھا۔ پھر جب یہ مدت گزرنے کو ہوئی اور عذاب کی کوئی علامت نہ دیکھی تو غم اور غدصہ کی وجہ سے وہاں سے فرار کی راہ اختیار کی تاکہ قوم انھیں جھوٹا نہ کہے۔ کشتی میں سوار ہوئے تو وہ ہچکولے کھانے لگی۔ کشتی والوں نے قرعہ ڈالا اور اس قرعہ کے نتیجہ میں حضرت یونس کو سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اس دوران آپ ہر وقت اللہ تسبیح اور اپنے گناہوں کے اعتراف پر مشغول رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مشکل سے نجات دی۔ اور مچھلی نے آپ کو برلب ساحل اگل دیا۔ جب ذرا طاقت آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ اسی قوم یعنی اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ اب دوسری طرف صورت حال یہ پیش آئی کہ جب حضرت یونس مفرور ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کے قول کو پورا کردیا اور وقت معینہ پر اہل نینوا کو عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو وہ سب لوگ بچے، بوڑھے، جوان عورتیں مرد مل کر کھلے میدان میں نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑ گڑائے اور توبہ کی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب ٹال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ میں یہ ایک ہی استثناء ہے کہ آیا ہوا عذاب ٹل گیا ہو۔ اب اس قوم کی طرف جب یونس آئے تو وہ پہلے ہی نرم ہوچکی تھی۔ لہذا آپ کی تبلیغ کا خاطر خواہ فائدہ ہوا۔
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تب ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انھیں اس غم سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان رکھنے والوں کو نجات 78 دیا کرتے ہیں۔

78 یعنی اللہ تعالیٰ کو عاجزی سے پکارنے پر اللہ تعالیٰ کا سابقہ خطاؤں کو معاف کرکے مزید انعامات سے نوازنا حضرت یونس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار لوگ ہمیں اسی طرح پکاریں گے ہم انھیں مصائب سے نجات دیں گے۔ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا کرتے رہے (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87؀ښ) 21 ۔ الأنبیاء :87) احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے اور امت نے شدائد و مصائب میں اس دعاء کو بہت مجرب پایا ہے۔
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو بھی، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا : اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑنا اور بہترین وارث 79 تو تو ہی ہے

79 حضرت زکریا اور ان کا اولاد کے لئے اپنے پروردگار کو پکارنے کا ذکر پہلے سورة آل عمران کی آیت نمبر 37 اور سورة مریم کی ابتداء میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہاں سے حواشی دیکھ لئے جائیں۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

سو ان کی بھی ہم نے دعا قبول کی اور انھیں یحییٰ عطا کیا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ سب لوگ بھلائی کے کاموں کے طرف لپکتے تھے اور ہمیں شوق اور خوف سے 80 پکارتے تھے اور یہ سب ہمارے آگے جھک جانے والے تھے۔

80 بعض صوفی حضرات کہا کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی توقع یا اس کے عذاب کے خوف سے کرتا ہے وہ اصلی محب نہیں ہے اور اپنے اس نظریہ کو اتنا پھیلایا کہ عوام الناس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناچہ ایک شاعر کہتا ہے : سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے او خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے حالانکہ اللہ تعالیٰ انبیاء کی یہ صفت بیان فرما رہے ہیں کہ وہ ہمیں توقع اور خوف سے پکارا کرتے تھے۔ گویا اس آیت میں ایسے متصوفین کا مکمل اور موجود ہے۔ کیونکہ انبیاء سے بڑھ کر اللہ کا محب اور کون ہوسکتا ہے ؟
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس عورت کو بھی، جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ پھر ہم نے اپنی روح سے ان کے اندر پھونکا 81 اور انھیں اور ان کے بیٹے کو تمام اہل عالم کے لئے ایک نشانی بنادیا 82 ۔

81 جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم کا پتلا بنا کر اسے سنوار لیا تو اس میں اپنی روح سے پھونکا جس سے انسان میں قوت ارادہ اختیار اور قوت تمیز و استنباط ودعیت کی گئی۔ پھر توالد و تناسل کے ذریعہ یہی اوصاف تمام اولاد آدم میں منتقل ہوئے اور یہ اوصاف ایسے ہیں جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائے جاتے۔ بعد ازاں اللہ نے اپنی روح کو حضرت مریم کے ہاں بھیجا۔ یہی روح حضرت مریم کے سامنے متمثل ہو کر ایک تندرست انسان کی شکل بن گئی۔ اسی روح نے اپنے آپ کو حضرت مریم کے سامنے تیرے پروردگار کا رسول کہا اور اسی روح نے (جو مفسرین کے قول کے مطابق جبریل) حضرت مریم سے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں چناچہ اس روح نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری جس سے حضرت مریم کو حمل قرار پا گیا۔ ( سورة مریم) اسی واقعہ کو اللہ تعالیٰ اس مقام پر بھی اور سورة تحریم کی آیت نمبر 12 میں ان الفاظ سے عبیر فرمایا کہ ہم نے مریم میں اپنی روح سے پھونکا اسی لئے آپ کو روح اللہ و کلمہ~ن~ اللہ کہا جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ہر مقام پر یہ وضاحت فرما دی کہ حضرت مریم نے فی الواقعہ اپنی عصمت کی پوری پوری حفاظت کی تھی۔ ایسی وضاحتوں کے باوجود یہود نے حضرت مریم پر تہمت زنا لگا دی اور اس کو حضرت زکریا سے منسوب کردیا۔ صرف اس لیے کہ آپ حضرت مریم کے کفیل تھے۔ یہ تو یہود کی کارستانی تھی اور نصاریٰ دوسری انتہا کر جا پہنچے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین خداؤں میں کا تیسرا قرار دے دیا۔ گویا آپ کی اس معجزانہ پیدائش یہود و نصاریٰ غلو کا شکار ہو کر گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ 82 بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوچکے ہیں جو حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں۔ اور یہ وہی طبقہ جو جدید زمانے کی عقل پرستی سے ذہنی طور پر ہر وقت مرعوب رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مریم میں فرمایا تاکہ ہم اس (عیسیٰ کی پیدائش) کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادیں (19: 21) اور اس مقام پر فرمایا کہ ہم نے حضرت مریم اور اس کے بیٹے دونوں کو جہاں والوں کے لئے نشانی بنادیا نیز سورة مومنون کی آیت نمبر 50 میں فرمایا : اور ہم نے ابن مریم (حضرت عیسیٰ ) کو اور ان کی ماں کو نشانی بنادیا اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش معمول کے مطابق ماں اور باپ دونوں کے ملاپ سے ہوئی تھی تو حضرت مریم اور عیسیٰ ابن مریم دونوں کی لوگوں کے لئے یا جہان والوں کے لئے ایک نشانی کیسے بن سکتے تھے ؟
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ (انبیاء کی جماعت) ہی تمہاری امت ہے جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں لہذا میری ہی 83 عبادت کرو۔

83 اس مقام پر امت کا لفظ دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ نیز اس آیت میں تمام بنی نوع انسان یکساں مخاطب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے دین کے اصول ہمیشہ ایک ہی رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر چیز کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذا وہی عبادت کا مستحق ہے۔ اور اسی کو توحید کہتے ہیں۔ پھر اسی توحید کا لازمی نتیجہ یہ بھی تھا کہ اس توحید کو ماننے والوں اور صرف اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جائے اور اس کے خلاف کرنے والوں یعنی مشرکوں کو سخت سزا دی جائے۔ گویا روز آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھنا بھی اسی عقیدہ توحید کے تسلیم کرنے کا تقاضا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ اور روزہ وغیرہ عبادت ہی کی اہم شکلیں ہیں۔ اور اللہ کی عبادت توقع اور خوف کے ساتھ کرنا چاہئے۔ اولاد اور رزق وغیرہ اللہ ہی سے طلب کرنا چاہئے۔ اور مشکل کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارنا چاہئے، اسی سے فریاد کرنا چاہئے۔ انبیاء خود بھی کوئی بااختیار ہستیاں نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ بھی ہر معاملہ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ یہ اصول دین سب انبیاء میں مشترک رہے ہیں۔ وہیں جزئیات تو ان جزئیات میں اس دور کے تقاضا کے مطابق اختلاف بھی واقع ہوتا رہا ہے۔
Ayahs 21:93–94

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے اپنے (دین کے) معاملہ کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا 84 مگر ہر ایک کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پھر جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن ہو۔ تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی اور ہم اس (کے ہر عمل) کو لکھتے جارہے ہیں۔

84 یہ دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے عموماً مذہبی پیشوا قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ یہ علمائے کرام ہوں یا مشائخ عظام اور اس سے ان کا مقصد عموماً حصول مال و جاہ ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں مقامات پر فرمایا کہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر، حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی تمام انبیاء کا مشترکہ دین تھا۔ اب یہ حضرات یہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ انبیاء اور ہمارے بزرگان کرام سب ہی غیب کی خبریں جانتے ہیں اور اپنے اپنے مریدوں کے احوال پر حاضر و ناظر ہوتے ہیں۔ وہ بزرگ خواہ زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں۔ ان کو پکارا جائے یا ان سے فریاد کی جائے تو وہ بھی لوگوں کی فریادیں سنتے اور ان کی امداد کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان باتوں پر وہ اپنا سارا زور صرف کرتے، ایسے واقعات اور قصے تراش کر انھیں عوام میں اتنا مشہور کردیتے ہیں کہ وہ الٹا توحید پرستوں کو شامت لے آتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کی گدیاں بحال رہیں اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔ لوگ ان کے در دولت پر حاضری دیتے رہیں۔ اور یہ حضرات انھیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کے سبز باغ دکھلاتے رہیں اور قیامت کے دن شفاعت کرکے انھیں بخشوا دینے کا یقین دلاتے ہیں۔ کتاب و سنت کی رو سے یہ سب راہیں شیطانی راہیں ہیں۔ انبیاء کے مشترکہ دین کے خلاف ہیں۔ پھر بعض دفعہ علماء کی طرف سے ایسی بحثیں چھیڑ دی جاتی ہیں۔ جن کا دین سے کچھ تعلق نہیں ہوتا نہ ان کا دین میں کچھ مقام ہوتا ہے اور نہ ہی پھر ان پر کوئی عملی فائدہ مرتب ہوتا ہے مثلاً یہ کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ؟ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر قادر ہے وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ کوا حلال ہے یا حرام ؟ یا نصاریٰ میں یہ ایک مسئلہ مدتوں زیر بحث رہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خمیری روٹی کھایا کرتے تھے یا فطیری ؟ یا اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی ؟ پھر ایسے مسائل پر بحث و بدال اور مناظرے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ دونوں طرف سے کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ پوری قوم کے وقت کا ضیاع ہے۔ اور ایسے مسائل عموماً اس وقت علماء کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں جب قوم عملی انحطاط کا شکار ہو رہی ہو اور علماء کا عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھنا مقصود ہو۔ یہ سلسلہ بھی بالآخر فرقہ بازی پر منتج ہوجاتا ہے۔ جو کتاب و سنت کی رو سے کفر و شرک اور اللہ کا عذاب ہے۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ (ہمارے پاس)85 لوٹ کر نہ آئیں (بلکہ انھیں آنا پڑے گا)

85 اس آیت کے کئی مطلب بیان کئے جاتے ہیں اور وہ اپنی اپنی جگہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں۔ ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے واضح ہے۔ بعض مجرم بستیوں کو ہم ہلاک کرتے ہیں۔ تو یہ ان کے جرائم کا پورا بدلہ نہیں ہوتا۔ انھیں قیامت کو یقیناً ہمارے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس وقت ہم انھیں ان کے جرائم کی سزا دیں گے اور یہ ناممکن ہے کہ وہ ہمارے پاس نہ آئیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف اسی بستی کو ہلاک کرتے ہیں۔ جن کے متعلق ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے برے اعمال سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ ہلاک شدہ بستیوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ہم انھیں دوبارہ زندہ کرکے واپس دنیا میں بھیج دیں۔ تاکہ وہ اب اچھے اعمال بجا لاسکیں اور تلافی مافات کرسکیں۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج 86 کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نیچے کو دوڑتے آئیں گے۔

86 اس آیت کا سابقہ آیت سے ربط یہ ہے کہ جس دن یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ اس وقت لازماً ان تباہ شدہ بستی والوں کو ہمارے حضور پیش ہونا پڑے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ ہمارے حضور پیش نہ ہوں۔ اس لحاظ سے پہلا مطلب ہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ یاجوج ماجوج کے کچھ حالات تو سورة کہف کی آیت نمبر 94 کے تحت مذکور ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ۔۔ ذوالقرنین کا زمین بوس ہونا اور یاجوج ماجوج کا حملہ آور ہونا قرب قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت حذیفہ بن اسید غفاری کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپس میں قیامت کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم یہ دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ پھر آپ نے بالترتیب ان سب کا ذکر فرمایا۔ دسواں، دجال کا خروج، دابہ~ن~الارض کا ظاہرہونا، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول، یاجوج ماجوج کی یورش، تین مقامات پر زمین کی دھنس جانا، مشرق میں، مغرب میں اور جزیرہ عرب میں اور ان نو نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہوگی جو لوگوں کو یمن سے نکالے گی اور انھیں ان کے اجتماع کے مقان (شام) کی طرف لے جائے گی۔ (مسلم، کتاب الفتن و شرائط الساعہ~ن)~ اور جب یہ دیوار ٹوٹے گی تو یاجوج ماجوج یوں حملہ آور ہوں گے جیسے کوئی شکاری جانور قفس سے آزاد ہو کر اپنے شکار پر جھپٹتا ہے یہ لوگ اپنی کثرت اور ازدھام کی وجہ سے ہر بلندی و پستی پر چھا جائیں گے۔ جدھر دیکھو انہی کا ہجوم نظر آئے گا۔ ان کا بےپناہ سیلاب ایسی شدت سے تیز فتاری سے آئے گا کہ کوئی انسانی طاقت اسے روک نہ سکے گی۔ یوں معلوم ہوگا کہ ان کی افواج پہاڑ اور ٹیلوں سے پھسلتی اور لڑھکتی چلی آرہی ہیں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یاجوج ماجوج دونوں قومیں آپس میں متحد ہو کر ایسی شورش بپا کریں۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ دونوں قومیں آپس میں ہی بھڑ جائیں پھر ان کی لڑائی ایک عالمگیر فساد کا موجب بن جائے۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچا وعدہ (قیامت) نزدیک آجائے گا تو اس وقت کافروں کی آنکھیں یکایک پتھرا جائیں گی (اور وہ کہیں گے) افسوس ! ہم تو اس (سچے وعدہ) سے غفلت میں ہی پڑے رہے 87 بلکہ ہم خطا کار تھے۔

87 یعنی یاجوج ماجوج کی یورش کے بعد جلد ہی قیامت بپا ہوجائے گی۔ قیامت کے واقعہ ہونے سے پہلے سب نیک لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا۔ چناچہ عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جو اللہ کی مخلوق سے بدترین ہوں گے۔ (مسلم، کتاب الامارت باب الاترال طائفہ~ن~ من امتی۔۔ ) اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے جو روایت ہے اس میں شرار المخلق کے لئے بجائے شرار الناس کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی قیامت ان لوگوں پر آئے گی جو لوگوں میں سب سے بدتر ہونگے (مسلم کتاب الفتن و شرائط الساعہ~ن)~ تو یہ بدترین لوگ جب قیامت واقع ہونے کا منظر دیکھیں گے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ اس وقت وہ حسرت و یاس سے کہیں گے کہ ہم تو بھولے ہی رہے۔ پھر خود ہی کہنے لگیں گے کہ یہ صرف بھول ہی نہیں بلکہ یہ ہماری خطا تھی کہ ہم نے پیغمبروں کی بات نہ مانی ورنہ انہوں نے تو سمجھانے میں کچھ کسر نہ چھوڑی تھی۔
Ayahs 21:98–100

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم بھی اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے رہے سب جہنم کا ایندھن 88 ہیں۔ وہی تم کو جانا ہے۔ (

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ (معبود) واقعی الٰہ ہوتے تو کبھی جہنم میں نہ جاتے ان سب کو ہمیشہ جہنم میں رہنا ہوگا۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہ وہاں اس طرح پھنکاریں گے کہ اس میں اور کوئی آواز نہ سن سکیں گے۔

88 یعنی مشرکوں کو ان کے معبودوں یعنی بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بت عموماً پتھر کے ہوتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۝) 66 ۔ التحریم :6) جہنم کا ایندھن آدمی بھی ہوں گے اور پتھر بھی اور ان معبودوں کو جہنم میں دیکھ کر ان کے پوجنے والوں کی تکلیف اور حسرت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اس لئے کہ جن معبودوں سے وہ کئی طرح توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے وہ ایسے بےبس ثابت ہوئے کہ انہی کی طرح جہنم میں جل رہے ہیں اور دوسرے اس لئے وہ جہنم کا ایندھن بن کر ان پجاریوں کے آگ کے عذاب کو مزید بھڑکانے کا باعث بن رہے ہیں۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں کے لئے ہمارے طرف سے پہلے ہی بھلائی 89 مقدر ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔

89 جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرکین سب اپنے معبودوں سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے تو ہم مشرک کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کے علاوہ فرشتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا یہ فرشتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) سب جہنم میں جائیں گے ؟ اس سوال کا جواب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیا کہ جو شخص بھی خود یہ چاہتا ہو کہ اس کی عبادت کی جائے وہ یقیناً جہنم میں جائے گا۔ اور اسی حوالہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نازل فرمایا اور ہر دو جواب کی رو سے فرشتے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ تمام ہستیاں بھی مستثنیٰ قرار دے دی گئیں۔ جو خود تو اللہ کے نیک بندے اور صرف اللہ ہی کے عبادت گزار تھے لیکن بعد میں لوگوں نے انھیں پوجنا شروع کردیا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جن پانچ بتوں، ود، سواع، یغوث، یغوی اور نسر کو پکارتے تھے وہ حقیقتاً اللہ کے عبادت گزار بندے تھے۔ اور اللہ دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ بعد میں شیطان نے لوگوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ ان بزرگوں کے مجسمے بنا کر اپنے پاس رکھ لیا کرو۔ تاکہ تمہیں اللہ کی عبادت میں وہی مزا آئے جو ان بزرگوں کی موجودگی میں آتا تھا۔ چناچہ ابتداًء ان کے مجسمے اس غرض سے تراشے گئے تھے پھر بعد کے لوگوں نے انہی مجسموں کی عبادت شروع کردی۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اور اس طرح شیطان اپنے شر میں کامیاب ہوگیا اور بنی نوع انسان میں شرک کا آغاز ہوا۔ پھر شرک صرف یہی نہیں ہوتا کہ انسان کسی کے سامنے سجدہ کرے یا ایسے آراء بجا لائے جو اللہ کے لئے مختص ہیں یا ان کے سامنے قربانی یا نذر و نیاز دے بلکہ کسی بھی چیز کو مشکل کشا اور حاحت روا سمجھ کر اسے پکارا جائے تو یہ بھی واضح شرک ہے۔ اور ایسے بزرگوں کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں جو اس قسم کی تعظیم و تکریم کے متمنی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی فی الواقع جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اور جن لوگوں کو بعد میں معبود بنادیا گیا۔ حالانکہ وہ خود ان باتوں سے منع کرتے رہے۔ انھیں جہنم کی ہوا بھی نہ لگے گی۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہ اس کی آہٹ تک نہ 90 سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

90 ان آیات میں مشرکوں اور ان کے معبودوں کے انجام کے مقابلہ میں نیک لوگوں کے احوال کا ذکر کیا گیا ہے۔ خواہ انھیں کسی نے معبود بنا رکھا تھا یا نہیں۔ ایسے لوگ جہنم سے اتنے دور رکھے جائیں گے کہ وہ اہل دوزخ کی کسی قسم کی چیخ و پکار یا آہٹ تک نہ سننے پائیں گے اور ان سے بہت دور رہ کر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے اپنی سب پسند نعمتوں کے مزے اڑائیں گے۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

یہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت انھیں غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے آگے بڑھ کر ان سے ملیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن 91 ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا۔

91 قیامت کے دن گھبراہٹوں سے وہ قطعاً پریشان حال نہ ہوں گے بلکہ انھیں مکمل اطمینان میسر ہوگا۔ اس لئے یہ سب کچھ ان کے عقائد اور ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ فرشتے آکر انھیں سلام کریں گے اور جنت میں داخل کرنے کے لئے خود ان کے استقبال کو آئیں گے اور کہیں گے کہ جس دائمی راحت و مسرت کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔ آج اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

اس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جے سے تحریروں کا طرہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جس طرح ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح اس کا اعادہ 92 کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے اور ہم یہ کرکے رہیں گے

92 یعنی آسمانوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا : (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67؀) 39 ۔ الزمر :67) یعنی تمام آسمانوں کو لپیٹ کر اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لے گا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا تھا۔ اسی طرح موجودہ زمین و آسمان کی ایک ایک جز کو ختم کرکے نئی زمین، نئے آسمان اور نئی کائنات کو وجود میں لایا جائے گا۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث 93 میرے نیک بندے ہوں گے۔

93 اس آیت کے معنی بعض اہل مغرب کے شیدائیوں نے نہایت غلط تعبیر پیش کی ہے۔ وہ اس آیت میں صالحون سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرمانروا اور نیک بخت بندے مراد لیتے بلکہ ان کے نزدیک صالحون سے مراد صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ یعنی جو لوگ بھی اس وقت روئے زمین پر حکمرانی کر رہے ہیں یا حکمران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہی اللہ کے نزدیک صالح ہیں۔ خواہ وہ بدکردارہوں، کافر ہوں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بھی منکر ہوں اور یہ نظریہ کتاب و سنت کی مجموعی تعلیم کے سراسر منافی ہے۔ حالانکہ اس آیت اور اس سے پہلی آیات 3 میں اخروی زندگی اور جنت کا ذکر ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت اور جنت کی زمین کے وارث صرفو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار اور صالح لوگ ہیں اور اس معنی کی تائید سورة زمر کی درج ذیل آیت سے بھی ہوجاتی ہے : ( وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ 74؀) 39 ۔ الزمر :74) اور اہل جنت کہیں گے کہ ہر طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے جس نے ہم سے اپنے وعدہ پورا کردیا اور ہمیں زمین کا وارث بنادیا ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں وہیں رہتے ہیں رہی اس دنیا کی وراثت تو اس کے متعلق فرمایا : (اِنَّ الاَرْضَ نُوْرِِثُھَا مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ ) (7: 128 ) زمین اللہ تعالیٰ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے گویا اس موجودہ دنیا میں زمین کی وراثت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ نیک لوگوں کو ہی ملے۔ بلکہ بدکردار اور فاسق و فاجر بھی اس پر قابض ہوسکتے ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ضرور ہے کہ جو ایماندار اپنے دعوے ایمان میں اور صالح اعمال کرنے میں سچے اور مخلص ہیں۔ حق و باطل کے معرکہ میں اللہ انھیں ہی کامیاب کرتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا : (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 139۔ ) 3 ۔ آل عمران :139) اور اگر تم (اپنے اقوال و اعمال میں) مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے اور ایسے ہی لوگوں کے حق میں اللہ نے فرمایا : (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 55؀) 24 ۔ النور :55) تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ نام نہاد مسلمانوں کے لئے حکمران کا نہیں بلکہ سچ ایمانداروں اور فرمانبرداروں سے خلافت ارضی کا وعدہ ہے جو اقتدار ملنے کے بعد دنیا دار قسم کے حکمران نہیں بلکہ اللہ کی زمین اللہ کا نظام خلافت قائم کرنے والے ہوں۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بلاشبہ اس (ارشاد الٰہی) میں عبادت گزاروں 94 کے لئے ایک بڑی خبر ہے۔

94 یعنی عبادت گزاروں کے لئے ان آیات میں ایک بڑی خوشخبری ہے کہ اگر وہ ان آیات پر عمل پیرا ہوں گے تو یقیناً وہی منزل مقصود کو پالیں گے۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت 95 بنا کر بھیجا ہے۔

95 اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ جہان والوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ آپ کی ذات بابرکات اور آپ کی بعثت دراصل پوری نوع انسانی کے لئے رحمت ہے۔ آپ ہی کے ذریعہ غفلت میں پڑی ہوئی اور راہ بھٹی ہوئی انسانیت کو ایسا علم نصیب ہوا جو حق و باطل کی راہوں کو ممیز کرکے سیدھی راہ دکھلاتا اور اس پر چلاتا ہے۔ جس سے انسان نے دنیا کی زندگی اچھے طور پر گزارنے کے اصول اور ڈھنگ سیکھے۔ پھر اس راہ پر چلنے سے انسان کی اخروی زندگی بھی سنور جاتی ہے۔ آپ کی یہ مہربانی تو ان لوگوں پر تھی جو آپ پر ایمان لائے اور بدکرداروں اور کافروں کے لئے آپ کی ذات باعث رحمت تھی چناچہ ارشاد باری ہے (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ 33؀) 8 ۔ الانفال :33) یعنی جب تک آپ ان کافروں کے درمیان موجود ہیں اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا علاوہ ازیں آپ ہی کی دعا کی وجہ سے خسف اور مسخ اور بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے والے عذاب موقوف ہوئے اور مسلمانوں پر آپ کی رحمت کی داستان تو اتنی طویل ہے جس کا حصر یہاں ممکن نہیں۔ قرآن نے واضح الفاظ میں بتلا دیا کہ آپ مومنوں کے حق میں رحمت بھی تھے اور رحیم بھی۔ کفار مکہ آپ کی بعثت کو اپنے لئے ایک مصیبت سمجھتے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور باپ سے بیٹے کو اور بھائی سے بھائی کو غرض سب تو یہی رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے اسی قول کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نادانوں ! جس ہستی کو تم مصیبت سمجھ رہے ہو۔ مسلمان تو درکنار وہ تمہارے لئے بھی اللہ کی رحمت ہے۔ کیونکہ علوم نبوت اور تہذیب و انسانیت کے جو اصول وہ پیش کر رہا ہے ان سے سب مسلم و کافر اپنے اپنے مذاق کے موافق مستفید ہو رہے ہیں۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میری طرف جو وحی کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ پھر کیا تم سر تسلیم خم 96 کرتے ہو ؟

96 جہاں والوں کے لئے آپ کے رحمت ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو زندگی بھر تکلیفیں سہہ سہہ کر بحکم الٰہی خالص توحید کی دعوت دیتے رہے۔ اور موحد کے لئے اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ اسے آخرت میں ایک نہ ایک ضرور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے گی خواہ وہ کتنا ہی گہنگار ہو۔ درج ذیل حدیث اسی آیت کی وضاحت کرتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میری اور لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ روشن کی اور جب اس کی روشنی ارد گرد پھیل گئی تو کیڑے اور پتنگے اس آگ میں گرنے لگے۔ اب وہ شخص انھیں آگ سے دور ہٹانے لگا (تاکہ جلنے سے بچ جائیں) مگر وہ مانتے ہی نہیں اور اس آگ میں گھستے، گرتے اور مرتے جاتے ہیں۔ اسی طرح میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تمہیں آگ سے دور کھینچتا ہوں اور کہتا ہوں کہ دوزخ سے بچ جاؤ لیکن لوگ ہیں کہ سنتے ہی نہیں اور اس میں گرے پڑتے ہیں ( بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب الانتباء عن العاصی)
Ayahs 21:109–110

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو ان سے کہئے کہ : میں نے تم سب کو علی الاعلان 97 خبردار کردیا ہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ نزدیک ہے یا دور۔

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو باواز بلند کی جاتی ہیں اور وہ بھی جنہیں تم چھپا کر کرتے ہو۔

97 اِذْانْتُمْ عَلٰی سَوَاءٍ کا معنی یہ کہ میں نے تم کو برابری کی سطح پر خبردار کردیا ہے۔ یعنی تمہیں دو باتوں میں سے کسی بھی ایک کا اختیار ہے۔ چاہے میری دعوت کو قبول کرلو اور چاہے تو انکار کردو۔ انکار کی صورت میں تم پر عذاب آئے گا ضرور، لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟ جلد آئے گا یا دیر سے آئے گا کیونکہ عالم الغیب نہیں ہوں۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (عذاب میں تاخیر) تمہارے لئے ایک فتنہ ہو 98 اور تمہیں ایک معینہ مدت تک مزے اڑانے کا موقع دیا جاتا ہے۔

98 التبہ یہ بات ضرور کہوں گا کہ اگر تم پر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ تم سچے ہو اور اللہ تم سے راضی ہے۔ بلکہ یہ تاخیر تمہارے گناہوں میں اضافہ کا سبب بن کر تمہارے حق میں وبال جان بن سکتی ہے۔ الا یہ کہ تم اس دوران سنبھل جاؤ اور ہوش کے ناخن لو۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(آخر کار) پیغمبر نے کہا : اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور لوگو ! جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے مقابلہ میں ہمارا پروردگار رحمن ہی ہے جس سے مدد 99 طلب کی جاسکتی ہے

99 اکثر انبیاء جب اپنی زندگی بھر اللہ کی طرف دعوت دینے کے بعد کافروں کی طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے ایسی ہی یا ان الفاظ سے ملے جلے الفاظ میں دعا کی کہ یا اللہ ! اب تو ہی ان کافروں کے اور ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دے۔ چناچہ اس رسول (یعنی نبی ﷺ نے بھی کافروں کو مخاطب کرکے فرمایا : کہ جس طرح تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے رہے ہو اور مسلمانوں کو اپنی تضحیک اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے ہو تو اس کے ردعمل کے طور پر ہم اپنے پروردگار کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں جو نہایت مہربان ہے اور ایسے مشکل اوقات میں اسی سے مدد طلب کرنا چاہئے۔