Ayahs 22:1–21 علم ہئیت کے موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ اور زمین سورج کے گرد قصے عرصہ میں ایک چکر ختم کرتی ہے اسے ہم سال کا عرصہ کہتے ہیں۔ اس حساب سے ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ پھر اس فضائے بسیط میں صرف ہماری زمین ہی محو گردش نہیں بلکہ تمام سیارے اسی طرح گردش میں مصروف ہیں۔ ان سب کے مدار الگ الگ ہیں اور ان سیاروں میں کشش، جذب و انجذاب رکھ دی گئی ہے۔ جن کی وجہ سے ان میں ٹکراؤ پیدا ہیں ہوتا۔ اور یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے کنٹرول اور اس کی تدبیر کے تحت ہو رہے ہیں۔ ہر سیارہ اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کی اس شدت سے پابند ہے کہ ان کی رفتار سرمو فرق آتا ہے اور نہ ہی ان میں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے اور یہ سب ایسے امور ہیں جنہیں ہر انسان بجش خود دیکھ رہا اور ان کی شہادت دے رہا ہے۔ قریب قیامت کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سورج مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ بالفاظ دیگر سورج الٹی چال چلنے لگے گا۔ جسے ہم موجودہ نظریہ کے مطابق یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ زمین الٹی چال چلنے لگے گی اور بعض سیاروں کے الٹی چال چلنے کا نظریہ ہیئت دانوں میں مصروف ہے۔ بطلیموس نظریہ کے مطابق پانچ سیارے زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد ایسے ہیں جو سیدھی چال چلتے چلتے الٹی چال چلنے لوتے ہیں۔ پھر کچھ مدت بعد سیدھی چال چلنے لگتے ہیں۔ اور ان سیاروں کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں۔ الٹی چال چلنے اور پھر سیدھی چال پر رواں ہونے کی تصدیق قرآن کریم کی درج ذیل آیت سے بھی ہوجاتی ہے۔
(فَلَآ اُقْسِمُ بالْخُنَّسِ 15 ۙ ) 81 ۔ التکوير :15) سو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو سیدھی چال چلتے چلتے یکدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں (اور) ان کی جو سیدھی چال چلتے تھوڑا سے ہٹ جاتے ہیں (اور ان کی بھی) جو غائب ہوجاتے ہیں
پھر جب اللہ تعالیٰ قیامت بپا کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو صرف اتنا ہی ہوگا کہ کسی ایک سیارہ سے کشش جذب و انجذاب کو سلب کرلے اور ہماری زمین کسی دوسرے سیارے سے ٹکڑا کر پاش پاش ہوجائے۔ اب آپ اندازہ فرمائیے کہ اگر دو ریل گاڑیاں یا دو تیز رفتار بسیں آپس میں ٹکرا جائیں تو کیا حشر بپا ہوتا ہے۔ اور جب ہماری زمین جو چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی سی برق رفتاری سے محو گردش ہے۔ کم و بیش اسی رفتار والے سیارے سے ٹکڑا جائے گی تو کیا حشر بپا ہوگا۔ یہی منظر ان دو آیات میں پیش کیا گیا ہے کہ اس دھماکہ کی دہشت سے ہر حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا اور لوگ یوں مخبوط الحواس ہوجائیں گے جیسے کوئی نشہ آور چیز پی رکھی ہے۔ اس منظر کی ہولناکی کو بعض دوسری آیات میں یوں پیش کیا گیا ہے اس وقت زمین کو ریزہ ریزہ اور پاش پاش کردیا جائے گا (89: 21) زمین اپنے خزانے جیسے تیل، گیسیں اور معدنیات وغیرہ اپنے اندر سے نکال کر باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی (84: 4) پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے اور لوگ یوں بدحواس ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہوں گے جیسے روشنی کے گرد پتنگے گرے پڑتے ہیں (101: 4۔ 5) غرض قیامت کے واقع ہونے پر دہشت اور ہولناکی کے منظر کو قرآن میں اور بھی بہت سے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔
قیامت کا دن دراصل ایک طویل دور کا نام ہے اور از روئے قرآن اس دن کی مدت ہمارے موجودہ حساب کے مطابق پچاس ہزار سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں کئی اوقات ایسے آئیں گے جن کی دہشت اور ہولناکی اور گھبراہٹ اسی طرح کی ہوگی۔ چناچہ درج ذیل حدیث میں جس دہشت اور گھبراہٹ کا ذکر ہے وہ یقیناً قیامت کے بپا ہونے کا موقع نہیں بلکہ کوئی اور ہی وقت ہے۔ اور اس دہشت اور گھبراہٹ کا سبب بھی قیامت کا زلزلہ یا دھماکہ نہیں بلکہ اس کا سبب جہنم میں جانے کا خدشہ ہے۔
حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدم سے فرمائے گا اے آدم ! وہ کہیں گے پروردگار ! میں حاضر ہوں جو ارشاد ہو پھر ایک فرشتہ آواز سے پکارے گا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد سے دوزخ جانے والوں کا حصہ نکالو وہ عرض کریں گے : پروردگار ! دوزخ کے لئے کتنا حصہ (نکالوں ؟ ) راوی کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : ایک ہزار میں سے نو ننانوے یہ ایسا سخت وقت ہوگا کہ حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی برا سخت ہوگا یہ بات صحابہ پر بہت دشوار گزری اور ان کے چہرے متغیر ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ : نو سوننانوے تو یاجوج و ماجوج سے ہوں گے اور ایک تم سے ہوگا پھر تم تو تمام خلقت میں ایسے ہوگے جیسے کسی سفید بیل کے پہلو میں ایک کالا بال ہو یا کسی کالے بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہو۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ تم سب لوگ اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوگے (یہ سن کر خوشی سے) ہم نے اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے فرمایا : تم جنت کا تیسرا حصہ ہوگے ہم نے پھر اللہ اکبر پکارا۔ پھر آپ نے فرمایا : تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہوگے ہم نے پھر اللہ اکبر کہا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 22:32 اس صورت کے آغاز میں جو قیامت کے بپا ہونے کے وقت کی دہشت کا ذکر کیا گیا ہے یہ بطور تمہید ہے اور اس سے اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کر ان باتوں سے پرہیز کی تلقین کی جائے جو اللہ کے غضب کا موجب بنتی ہیں۔ جیسا کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے جملہ اختیارات و تصرفات کو اپنے بتوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اس آیت میں فی اللہ سے مراد اللہ کی ہستی نہیں ہے۔ کیونکہ مشرکین اللہ کی ہستی کے قائل تھے۔ جھگڑا صرف اس بات میں تھا کہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہمارے معبودوں کو بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل ہیں جب کہ وحی الٰہی ان کے اس عقیدے کی مکمل تردید کردیتی تھی۔
3 یعنی جو بھی شیطان یا شیطان سیرت انسان انھیں کسی شرکیہ فعل یا بدعی عقیدہ و عمل کی دعوت دیتا ہے تو اسے یوں تسلیم کرتے ہیں جیسے پہلے ہی اس کی اتباع کرنے کو تیار بیٹھے تھے۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص بھی شیطان کی رفاقت کا دم بھرے گا اور اس کی اتباع کرے گا تو وہ اسے ایسا گمراہ کرے گا کہ اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گا۔
Ayahs 22:4–54 مشرکین مکہ سے اولین جھگڑا تو ان کے بتوں کے خدائی اختیارات سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا جھگڑا یہ تھا کہ دین ابراہیمی کے پیرکار ہونے کا دعوی رکھنے کے باوجود لیث بعدالموت کا یقین نہیں رکھتے تھے لہذا اب ایسے دلائل دیئے جارہے ہیں جو لیث بعدالموت پر پوری رہنمائی کرتے ہیں۔
سب سے پہلی دلیل تو انسان کا اپنا وجود ہے۔ آدم کے پتلے کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے بنایا۔ مٹی بےجان چیز ہے۔ جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر آگے توالد و تناسل سے آدم کی اولاد پھیلی۔ اب جو چیزیں یا غذائیں انسان کھاتا ہے۔ وہ سب زمین سے حاصل ہوتی ہیں۔ انھیں غذاؤں سے کہیں انسان کا گوشت بنتا ہے، کہیں ہڈیاں، کہیں عضلات بنتے ہیں پھر اسی غذا سے نطفہ بھی بنتا ہے اور اس نطفہ کے ایک قطرہ میں ہزاروں جاندار جرثومے ہوتے ہیں۔ اب دیکھئے زمین بھی بےجان چیز ہے اور یہ غذائیں انسان نے استعمال کیں وہ بھی بنے جاں تھیں۔ لیکن اللہ نے انہی بےجان چیزوں سے زندہ اور متحرک جراثیم پیدا کردیئے۔ پھر ان ہزاروں جرثوموں میں کوئی ایک آدھ جرثومہ عورت کے خلیہ بیضہ سے ملتا ہے تو انسان کی تخلیق کا عمل شروع ہوجاتا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اللہ کو منظور ہو۔ ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے ملاپ کے بعد بھی حمل قرار نہیں پاتا۔ حالانکہ مرد اور عورت دونوں کے نطفہ میں پوری پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
پھر رحم مادر کے تہ بہ تہ اندھیروں میں انسان کی جس طرح تخلیق ہوتی ہے اور جن جن مراحل سے وہ گزرتا ہے ان میں سے اللہ نے صرف ان مراحل کا ذکر فرمایا ہے جو بالعموم عام انسانوں کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور اس مشاہدہ کی صورت اسقاط حمل ہے۔ نطفہ کے بعد جما ہوا خون، پھر اس کے بعد جما ہوا خون گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے۔ مگر اس پر کسی قسم کا کوئی نقش نہیں ہوتا۔ پھر اس گوشت کے لوتھڑے میں آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سب اعضاء کے نقوش بننے لگتے ہیں پھر اسی لوتھڑے میں ہڈیاں اور عضلات بنتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ مقررہ وقت کے بعد انسان کا بچہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اللہ چاہے تو وہ لڑکا بن جاتا ہے اور چاہے تو لڑکی بن جاتا ہے اور سب امور اور مراحل اللہ کی زبردست نگرانی میں طے ہوتے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
حضرت انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو کہتا ہے، پروردگار ! اب نطفہ پڑا۔ پروردگار اب یہ خون بن گیا۔ پروردگار اب یہ لوتھڑا بن گیا پھر جب اللہ انہی پیدائش کے متعلق فیصلہ کردیتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت ؟ بدبخت ہے یا نیک بخت ؟ اس کی روزی کیا ہے ؟ اور اس کی عمر کیا ہے ؟ پھر ماں کے پیٹ میں ہی یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری کتاب الحیض۔ باب قول اللہ مخلقنہ غیر مخلقہ~ن)~
اب انسان کی غفلت شعاری کا یہ حال ہے کہ کوئی کارنامہ خواہ کتنا ہی محیرالعقول ہو۔ اگر وہ علات بن چکا ہو تو اس میں غور کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتا۔ مگر اس جیسا یا اس سے کم محیرالعقول بات جو ابھی وقوع پذیر نہ ہوئی ہو اس کا فوراً انکار کردیتا ہے۔ لیث بعدالموت کا واقعہ انسان کی انہی پیدائش سے کچھ زیادہ محیرالعقول نہیں ہے۔ لیکن انسان کا انکار صرف اس بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔
پھر یہ بات کیا کم حیرت انگیز ہے کہ جب انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو جوانی تک اس کے جسم، اس کی عقل اور اس کی قوت ہر چیز میں اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن جوانی کے بعد انسان وہی پہلی سی غذائیں بلکہ پہلے سے اچھی غذائیں کھاتا ہے۔ لیکن اس کی عقل اور قوت میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا۔۔ ایک مقررہ حد تک جاکر رک جاتا ہے پھر اس میں انحطاط رونما ہونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اعضاء کے اضمحلال کے علاوہ اس کی عقل بھی ماؤف ہوجاتی ہے، سیکھی ہوئی باتیں بھول جاتا ہے اور بہکی بہکی بچوں کی سی باتیں کرنے لگتا ہے کیا یہ شواہد ایسے نہیں ہیں کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے نیز یہ کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہ اس کے کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ؟ پھر آخر لیث بعدالموت سے انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔
5 یہ معاد یا لیث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں جنہیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بیشمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ پیوند خاک ہوئی پڑی تھیں۔ جن میں نباتاتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ مگر جونہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھا اور ہر بےکار پڑا ہوا بےجان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا اور یہ احیائے اموات کا ایسا عمل ہے۔ جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے یہی صورت انسان کے جسم کی ہے۔ جس کا بدن گل سڑ جاتا ہے اور اس کے بھی اٹھنے کا موسم نفخہ~ئ~صور ثانی ہے۔ جب یہ موسم آجائے گا تو ہر انسان اپنے اپنے مدفن سے زندہ اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
Ayah 22:66 اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں حق کا معنی سچا ہے۔ یعنی ان دونوں مثالوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیث بعدالموت کو حتمی اور یقینی قرار دے رہا ہے تو اس کی بات بالکل سچی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اس کا وجود کوئی فرضی وجود نہیں جسے عقلی اشکالات کی وجہ سے تسلیم کرلیا گیا ہو جیسا کہ فلاسفروں کا خیال ہے جو علت و معلول کی کڑیاں جوڑتے جوڑتے جب عاجز آجاتے ہیں تو ایک ہستی کو واجب الوجود یا علت العلل CauseFirst تسلیم کرنے لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ ایک زندہ جاوید ہستی ہے جو ہر چیز میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا ہے اور ہر چیز پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے اور تیسرے یہ کہ اس کائنات میں جو کچھ ظہور پذیر ہو رہا ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ سب کائنات اور اس کائنات میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کو محض تفریح طبع کے لئے پیدا نہیں کیا۔ اور ان تینوں معانی پر قرآن کی دوسری بیشمار آیات شاہد ہیں۔
Ayah 22:77 ان آیات میں چند در چند حقائق بیان ہوئے ہیں جو یہ ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی ہستی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ وہ علیم وخبیر ہستی ہے۔ کائنات میں جملہ تصرفات اسی کی حکمت اور قدرت کے تحت واقع ہو رہے ہیں۔
(2) وہ مردہ اشیاء سے زندہ اشیا کو پیدا کرسکتا ہے۔ پھر زندہ اشیاء کو مردہ اشیاء میں تبدیل کرتا ہے اور پھر انھیں زندگی بخش سکتا ہے مثلاً انسان کو اس نے ایک مشت خاک سے پیدا کیا ہے۔ پھر انسان کا نطفہ بھی بےجان اشیاء سے بنتا ہے۔ جس میں زندگی پیدا ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں انسان کا جسم اور اس کی غذائیں جن مادوں سے مرکب ہیں وہ سب بےجان مادے ہیں۔ مثلاً انسانی جسم اور اس کی غذائیں سب کچھ نمکیات لوہا، چونا، کوئلہ اور چند گیسوں سے مرکب ہے۔ انھیں ہی ترکیب دے کر اللہ نے جاتے جاگتے انسان پیدا کردیئے۔ پھر مرنے کے بعد یہی انسانی جسم مٹی میں تحلیل ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ انھیں بےجان مادوں سے انسان کو نئے سرے سے پیدا کر دے۔
(3) تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اگر اسے اسی قدرت حاصل نہ ہوگی تو وہ ہرگز ایسے کام نہیں کرسکتا تھا۔ پھر ان کاموں میں اس کی حکمت کو بھی خاصا دخل ہے۔ مثلاً اس نے اگر نطفہ کے جراثیم میں انسان بننے کی استعداد رکھی ہے تو اس کے ساتھ ہی ساتھ پیدا ہونے والے بچہ میں اپنے والدین کی شکل، عقل اور قوت جسمانی کا بھی عکس موجود ہوتا ہے۔ اور ان باتوں میں نومولود کی اپنے والدین سے کافی حد تک مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ گویا مادہ کے علاوہ والدین کی پوشیدہ قوتیں بھی جنس میں منقل ہوجاتی ہیں اور ان کا ظہور بچہ کے بالغ ہونے پر ہوتا ہے۔
(4) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کائنات میں بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و عقل اس لئے عطا کی ہے کہ آیا وہ اس کائنات میں اللہ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہتا ہے یا نافرمان اور باغی بن کر زندگی گزارتا ہے۔ انسان کی اپنی یہ حالت ہے کہ جب وہ کسی کو کوئی ذمہ داری سونپتا ہے یا اجرت پر کوئی مزدور یا غلام رکھتا ہے تو اس کا محاسبہ بھی کرتا ہے لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کا بھی محاسبہ کرے کہ کون شخص اس کا حکم بجا لاتا ہے اور کون اس کی حکم عدولی کرتا ہے۔ اسی محاسبہ کے لئے اخروی زندگی کا قیام ضروری ہے اور یہی عقل و حکمت اور عدل کا تقاضا ہے اور دنیا کی مختصر سی زندگی چونکہ اعمال کی جزا و سزا کے لئے بالکل ناکافی ہے۔ لہذا اس لحاظ سے بھی قیامت اور روز جزا کا قیام ضروری ہے۔
Ayah 22:88 اس آیت میں علم کے لفظ کا اطلاق شرعی زبان میں عموماً وحی الٰہی پر ہوتا ہے مگر یہاں علم سے مراد فطری یا پیدائشی یا بدیہی علم ہے جو ہر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہر جاندار کو اپنی زندگی کے بقاء کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے یا یہ کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ کل ہمیشہ اپنے جزء سے جڑا ہوتا ہے یا یہ کہ آگ میں جو چیز ڈالی جائے، آگ اسے جلا دیتی ہے یہ ایسے امور ہیں جن کے لئے کسی عقلی یا نقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی کوئی شخص ایسے امور کے لئے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے اور ھدی سے مراد عقلی دلیل ہے۔ مثلاً اسی کائنات کا مربوط نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والی اور اسے کنٹرول میں رکھنے والی کوئی مقتدر علیم اور خبیر ہستی ہو۔ یا یہ کہ ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہونا ضروری ہے۔ یا یہ کہ اگر کہیں راستہ میں اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہے تو وہ اس بات پر عقلی دلیل ہوتی ہے کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے اور کتاب منیر سے مراد کوئی نقلی یا سمعی دلیل ہے۔ یعنی ایسی دلیل جو کسی الہامی کتاب میں مذکور ہو۔ مثلاً یہ کہ اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے تصرف و اختیار میں یا اس کی ذات وصفات میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں اور قرآن کریم و احادیث ایسے سمعی یا نقلی دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔
اب جو لوگ اللہ کی ذات یا اس کے اختیارات و تصرفات یا اس کی دوسری صفات کے بارے میں بحث یا کج بحثی یا جھگڑے کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی بدیہی یا تجرباتی دلیل (علم) ہوتا ہے۔ نہ کوئی عقلی دلیل (ھدی) ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سمعی، نقلی (کتاب منیر) دلیل ہوتی ہے۔ ان کی بحث فقط برائے بحث یا کج بحثی ہوتی ہے۔ ان کے پاس یہ بات کہنے کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا کہ چونکہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے آئے ہیں۔ لہذا ہم بھی ایسا کرتے ہیں یا کرتے رہیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ دلیل کوئی قسم نہیں اور اس جواب کا ماحصل یہی ہے کہ اگر بزرگوں نے گمراہی کی راہ اختیار کی تھی تو ان کی یہ گمراہی نسلاً بعد نسل ان کی اولاد در اولاد میں منتقل ہوتی چلی جائے۔ ان لوگوں کا اس جھگڑے سے اصل مقصد یہ ہوتا کہ دوسرے لوگوں کو بھی ایمان و یقین کی راہ سے دور رکھیں اور اپنی طرح ان کو بھی گمراہ کرکے چھوڑیں۔ ایسے بغض وعناد رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ذلیل اور رسوا کرے گا اور اخروی عذاب تو بہرحال اس سے شدید تر ہوگا۔
Ayahs 22:9–109 اب شخص دراصل تین جرائم کا مرتکب ہوتا ہے ایک تو اس نے جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر وحی الٰہی کا انکار کیا۔ جبکہ اس کے پاس نہ کوئی تجرباتی دلیل تھی، نہ عقلی اور نہ نقلی۔ دورے تکبر اور پندار نفس کا مظاہرہ کیا اور تیسرے اور لوگوں کو بھی راہ حق سے دور رکھنے کا سبب بنا۔ لہذا اس عذاب شدید سے بہتر واضح طور پر بتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے ہی بھیجے ہوئے اعمال کا بدلہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شوق نہیں اور نہ ہی کسی پر ظلم کرنا اللہ کے شایان شان ہے۔
Ayah 22:1110 یعنی کفر اور اسلام کی سرحد پر ہی کھڑا رہتا ہے۔ اسلام میں داخل ہوتا ہی نہیں اور اس انتظار میں وہاں کھڑا ہے کہ اگر اسلام لانے سے کوئی مادی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے تو پھر تو اسے اسلام گوارا ہے لیکن اگر اسلام میں داخل نہ ہونے میں کوئی مشکل یا مادی نقصان نظر آرہا ہو تو اس۔۔ سے فوراً کفر کی طرف نکل بھاگے۔ جیسا کہ عموماً منافقوں کا حال ہوتا ہے۔ گویا ایسے لوگوں کا مطمع نظر صرف مادی فوائد ہوتے ہیں۔ وہ جس طرف نظر آئیں ادھر ہی لڑھک جاتے ہیں۔ ایسے لوگ دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے خسارہ میں رہتے ہیں۔ دینی نقصان تو واضح ہے کہ ایسے لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں داخل کئے جائیں گے اور دنیوی نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ کافر انھیں اپنا ہمدرد اور ساتھی سمجھتے ہیں اور نہ مسلمان، دونوں طرف سے ان کی ساکھ تباہ ہوجاتی ہے اور بمصداق دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا انھیں کبھی بھی پذیرائی اور عزت نصیب نہیں ہوتی۔
Ayahs 22:12–1311 یعنی اس قسم کے منافقین کو جب اسلام میں داخل ہونے میں کوئی مشکل یا مصیبت نظر آتی ہے، کافروں اور مشرکوں کی طرف سے جانے میں کوئی مادی فائدہ نظر آتا ہے تو فوراً اس کنارے سے اتر کر مشرکوں کی صف میں جا شامل ہوتے ہیں اور ایسے۔۔ یا آستانوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کے اختیار میں دوسروں کا نفع و نقصان تو کیا ہوگا وہ اپنی بھی مدافعت نہیں کرسکتے۔ ایسے لوگوں کا نقصان تو یقینی ہے کہ انہوں نے دنیوی مفاد کی خاطر اپنا ایمان ضائع کردیا اور جس دنیوی فائدہ کی خاطر انہوں نے یہ گمراہی کی راہ اختیار کی۔ وہ فائدہ غیر یقینی ہے کبھی وہ توقع پوری ہو بھی جاتی ہے اگر اللہ کو منظور ہو تو بسا اوقات جس فائدہ کی خاطر اپنا ایمان بھی بھینٹ چڑھایا تھا وہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
12 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ جس نے بھی اسے راستے پر ڈالا خواہ وہ کوئی انسان تھا یا شیطان وہ اس کا بدترین کارساز اور برا ساتھی ثابت ہوا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے ان مشرک اور بت پرست اپنے معبودوں کو بھی جہنم میں پڑے دیکھ کر یہ جملہ کہیں گے کہ جن سے ہم نے کئی قسم کی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں یہ تو بہت برے کارساز اور برے ساتھی ثابت ہوئے جو جہنم کا ایندھن بن کر ہماری تکلیف میں مزید اضافہ کا باعث بن گئے ہیں۔
Ayah 22:1413 یعنی اللہ تعالیٰ کے اختیارات لامحدود ہیں۔ وہ چاہے تو ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں سینکڑوں گناہ زیادہ معاوضہ اور بدلہ دے۔ چاہے تو ان کی سب چھوٹی موٹی خطائیں معاف کر دے۔ البتہ ایک بات اس سے مستبعد ہے وہ یہ ہے کہ وہ بندوں پر کسی بھی طرح کا ظلم نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں وہ اپنے اختیارات کو استعمال نہیں کرتا بلکہ عدل کے تقاضوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
Ayah 22:1514 اس آیت میں ایسا خیال کرنے والے سے مراد وہی منافق ہے جو کفر اور اسلام کی سرحد پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتا ہے مگر اللہ کی رضا پر راضی اور شاکر نہیں رہتا۔ اور جب اسے کفر و شرک کی صف میں شامل ہونے میں کوئی مفاد نظر آتا ہے تو فوراً ادھر لڑھک آتا ہے اور انھیں حقیر دنیوی مفادات کی خاطر اللہ کو چھوڑ کر دوسرے آستانوں پر جانا اور در در کی خاک چھانتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے وہ مفادات حاصل نہیں ہوتے تو الٹا اللہ اور اس کی تقدید کو کو سنے لگتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے کی خاطر اپنی مقدور بھر کوشش کرکے دیکھے اور جو کچھ وہ کرسکتا ہے کر دیکھے اور بتلائے کہ کیا ایسے کرنے سے وہ اللہ کی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب ہوسکا ہے ؟ اس آیت میں جو آسمان کی طرف رسی تانے اور پھر اسے قطع کرنے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ بطور محاورہ ہیں ان سے لفظی معنی مراد نہیں ہیں۔ اور ایسے الفاظ تقریباً ہر زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اردو میں اس محاورہ کے قریب المعنی الفاظ یہ ہیں بیشک وہ الٹا سیدھا ہو کر دیکھ لے اور پنجابی میں ایسا محاورہ بالکل صحیح مفہوم ادا کرتا ہے اور وہ محاورہ ہے تتے توے تے گھیسنی پیا کرے یعنی خواہ وہ گرم گرم توے پر اپنی مقعد رگڑے۔ ان سب محاوروں کا مفہوم ایک ہی جیسا ہے کہ وہ اپنی مقدور بھر کوشش کرکے دیکھ لے۔
اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے لَنْ یَنْصُرَہُ اللّٰہُ سے ہ سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے دنیوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کرچکا ہے وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے خواہ کفار و مشرکین کو یہ بات کتنی ہی ناگوار اور غصہ دلانے والی ہو۔ اور وہ اس نصرت ربانی کو روکنے کے لئے اپنی انتہائی کوششیں۔۔ کرکے دیکھ لیں حتیٰ کہ آسمان پر ایک رسی تان کر اوپر چڑھیں اور وہاں سے وحی الٰہی اور آسمانی امداد کو منقطع کر آئیں۔ پھر دیکھیں کہ ان کی ان تدبیروں سے وہ وحی الٰہی اور نصرت ربانی آنا بند ہوجاتی ہے جس پر وہ اس قدر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔
یہ تفسیر کسی حد تک دل لگتی ہے مگر اس مقام پر سیاق وسباق اس تفسیر کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس سے پہلے بھی منافقوں اور مشرکوں کا ذکر چل رہا ہے اور بعد میں بھی کافروں اور مشرکوں ہی کا ذکر ہے۔ اور درمیان میں جو مومنوں کی بشارت سے متعلق کوئی آیت آجاتی ہے تو وہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کافروں اور مشرکوں کو ڈرایا جا رہا ہو وہاں مومنوں کی بشارت بھی ذکر آجائے اور اس کے برعکس بھی۔
Ayah 22:1615 یعنی اگرچہ قرآن میں ایسے بیشمار واضع دلائل موجود ہیں پھر بھی ان دلائل سے ہر شخص کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی بلکہ اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے متعلق اللہ کی مشیت ہو۔ مشیت الٰہی صرف انھیں نصیب ہوتی ہے جو خود ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ ضدی، ہٹ دھرم، تکبر اور نافرمان قسم کے لوگوں کو نہ اللہ کی نسبت نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ جبراً کسی کو ہدایت دے۔
Ayah 22:1716 یعنی کسی بھی اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ تمام انبیا و رسل کے اصول دین ایک ہی رہے ہیں۔ (تفصیل کے لئے اسی سورة کی آیت نمبر 92، 93 کے حواشی ملاحظہ فرما لیجئے) اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والے مسلمان ہوئے اور اسلام اور ایمان کا صرف یہ فرق ہے کہ اسلام کا تعلق ظاہری اعمال سے ہوتا ہے اور ایمان کا دل سے۔ اللہ اور اس کے رسول کی جس قدر اطاعت کی جائے، ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا جاتا ہے اور جتنا ایمان پختہ ہوتا جاتا ہے اطاعت کی مزید توفیق نصیب ہوتی رہتی ہے۔ گویا اسلام اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوتے ہیں۔
17 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر جو لوگ ایمان لائے تھے وہ بھی مسلمان ہی تھے اور بنی اسرائیل کی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں انھیں یہود نہیں کہا جاتا تھا۔ یہود تو وہ اس وقت کہلائے جب ان کے۔۔ میں بھی ان کے بدعی عقائد بھی شامل ہوگئے اور انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف تک کر ڈالی۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق ان کی نسبت یعقوب کے بڑے بیٹے یہودا کی طرف ہے۔ مگر یہ توجیہہ دو لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتی ایک یہ کہ اس لحاظ سے یہودی ایک قبیلہ نو کہلا سکتے ہیں ایک مذہب نہیں کہلا سکتے ہیں۔ حالانکہ یہودی ایک مذہب کا نام ہے کسی قبیلہ کا نام نہیں اور دوسرے اس لحاظ سے یہودیوں میں تمام بنی اسرائیل شامل ہیں صرف یہودا کی اولاد کی اولاد نہیں۔ اور بعض علماء کے خیال کے مطابق بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک بنی اسرائیل ہی کہلائے تھے۔ بعد میں نصاریٰ کے مقابلہ میں ان کا نام یہودی پڑگیا۔
18 صابی دراصل وہ ستارہ پرست اور سورج پرست قوم ہے جس نے اپنے معبودوں کی حمایت میں حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا تھا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت نوح کا پیروکار بتلاتے ہیں اور باقی بعد میں آنے والے سب انبیاء کے منکر ہیں۔ بعد میں صباء کا لفظ دین میں تبدیل کرنے یا آبائی مذہب سے سے روگردانی کرنے کے معنوں میں استعمال ہونے لگا اور ایک گالی کی حیثیت اختیار کر گیا۔ چناچہ مشرکین مکہ بھی اسلام لانے والوں کو اسی محبت سے نوازتے تھے اور کہتے تھے کہ فلاں شخص صابی ہوگیا ہے۔ یعنی بےدین اور لا مذہب ہوگیا ہے۔ جیسا کہ ہندوستان میں توحید کی طرح رجوع کرنے والوں کو وہانی کے لقب سے نوازا جانے لگا ہے۔
19 حضرت عیسیٰ اور ان پر نازل شدہ کتاب انجیل کے پیروکار۔ ابتداً ان کا نام ناصری یا گلیلی تھا۔ حضرت عیسیٰ ناصرہ ضلع گلیل میں پیدا ہوئے تھے۔ چناچہ یہود انھیں ایک بدعتی فرقہ کی حیثیت سے ناصری یا گلیلی کہہ کر پکارتے تھے۔ قرآن میں ان کا نام نصاریٰ مذکور ہے۔ اور اسے بھی ناصرہ سے منسوب قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی دوسری توجیہہ یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار یا حواریوں نے (نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ 52) 3 ۔ آل عمران :52) کا اقرار کیا تھا۔ لہذا یہ لوگ نصاریٰ کہلائے۔ بعد میں انہوں نے اپنے لئے عیسائی کا لقب پسند کرلیا ان لوگوں نے بھی بعد میں بہت سے بدعی عقائد شامل کر لئے جیسے عقیدہ تثلیث، الوہیت مسیح اور کفار مسیح وغیرہ
20 مجوسی بھی آتش پرست اور ستارہ پرست لوگ تھے اور صابی فرقہ کی طرح اپنے آپ کو حضرت نوح کے پیروکار بتلاتے ہیں اور باقی پیغمبروں کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی اور بدی کے خدا الگ الگ ہیں۔ نیکی کا خدا یا خالق یزدان ہے اور بدی کا خدا یا خالق اہرمن ہے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام للہ ند اوستا بتلاتے ہیں۔ مزوک نے ان کے مذہب اور اخلاق کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا حتیٰ کہ حقیقی بہن سے نکاح بھی ان کے ہاں جائز قرار دیا گیا۔
21 مشرک سے مراد مشرکین مکہ اور دوسرے ممالک کے مشرکین ہیں۔ جو مندرجہ بالا گروہوں کے ناموں میں سے کسی نام سے منسوب نہیں۔ اگرچہ موحد مسلمانوں کے سوا مندرجہ بالا سب مذاہب میں شرک کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور پائی جاتی ہے۔
22 اس کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت سے پہلے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ اختلاف کہاں واقع ہوتا ہے اور کون سا فرقہ کس قدر حق پر ہے۔ کیونکہ اصول دین ہمیشہ ایک ہی رہے ہیں اور تمام الہامی کتابوں میں مذکور ہیں اگرچہ تورات اور انجیل یا بائیبل میں تحریف ہوچکی ہے۔ پھر بھی ان اصول دین کا سراغ لگایا جاسکتا ہے اور یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فلاں فرقہ کا فلاں عقیدہ درست ہے اور فلاں باطل ہے۔ مگر یہاں اس اتبا میں کوئی بھی فرقہ مذہبی تعصب کی بنا پر حق کو تسلیم کرلینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ لہذا قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ نہ صرف یہ کہ ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا بلکہ اس فیصلہ کا نفاذ بھی کردے گا۔
Ayah 22:1823 ساری کائنات میں انسان اور جن ہی مکلف مخلوق ہیں اور انھیں کو قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے باقی مخلوق تکوینی طور پر اللہ کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہتی ہے اور ان کے سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کام پر اللہ نے انھیں لگا دیا ہے یا جو خدمت ان کے ذمہ کردی ہے اور جو قوانین ان کے لئے مقرر کردیئے ہیں ان سے وہ سرمو تجاوز نہیں کرتے اور انسانوں میں سے بھی ایک کثیر طبقہ ایسا ہے جس نے اپنے ارادہ کو اللہ کی مرضی کے تابع بنادیا ہے اور برضا ورغبت اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ تاہم انسانوں کا ایک کثیر طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اس اختیار کا غلط استعمال کیا اور باقی تمام مخلوق کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بجائے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں سرکشی کی راہ اختیار کی۔ اور اس امتحان میں ناکام رہا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تھا۔ ایسے لوگوں کو یقیناً اس سرکشی کی سزا عذاب الیم کی صورت میں بھگتنا پڑے گی۔
24 یعنی اللہ کے احکام روگردانی اور اس کے حضور سجدہ سے سرکشی کا لازمی نتیجہ ذلت اور رسوائی ہے۔ اور اللہ کے نافرمانوں کو بسا اوقات دنیا میں ہی یہ برا نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے اور اگر دنیا میں بچ بھی جائے تو آخرت میں اسے ضروری اس نتیجہ سے دورچار ہونا پڑے گا۔ اور کوئی طاقت اسے اس سزا سے بچا نہ سکے گی۔
25 اس سورة حج میں دو سجدہ ہائے تلاوت ہیں۔ اس آیت نمبر 18 پر پہلا سجدہ ہے اور یہی سجدہ متفق علیہ ہے جو ہر پڑھنے والے اور سننے والے کو ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی کائنات کی جملہ اشیاء کے سجدہ میں ان کے ہم آہنگ اور شریک ہوجائے۔
Ayah 22:1926 یعنی جھگڑنے اور لڑائی کرنے والے دو فریقوں میں سے ایک فریق تو اللہ کے فرمانبرداروں اور مسلمانوں کا ہے اور دوسرا کافروں کا۔ اور اس کافروں کے فریق میں وہ سب گروہ شامل ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی یہودی، صابی، عیسائی، مجوس، مشرکین اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جن کا اس آیت میں ذکر نہیں ہے جیسے ہندو، سکھ، بدھ مت والے، اللہ کی ہستی کے منکر یعنی نیچری اور دہریے وغیرہ سب اس دوسرے فریق شامل ہیں۔ ان دونوں فریقوں میں باعث نزاع مسئلہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات ہیں۔ فریق اول تو اللہ کی صفات بالکل اسی طرح تسلیم کرتا ہے جس طرح اللہ نے خود بتلائی ہیں۔ پھر وہ اللہ کا فرمانبردار اور اس کے حضور سجدہ ریز بھی رہتا ہے۔ دوسرے فریق میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کبھی یہ فریق اول کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ بھی کرلیتے ہیں۔ پھر یہ فریق صرف بحث و مناظرہ میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بنتے بلکہ میدان جہاد و قتال میں بھی ان کی یہی صورت ہوتی ہے اور حضرت علی ؓ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ آیت اتری ہی ان لوگوں کے حق میں تھی۔ جو غزوہ بدر میں مقابلہ کے فریق بنے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : قیامت کے دن میں سب سے پہلے پروردگار کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اپنا مقدمہ پیش کروں گا قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے سلسلہ میں اتری۔ جو بدر کے دن مبارزت کے لئے نکلے تھے۔ یعنی (مسلمانوں کی طرف سے) علی، حمزہ اور عبیدہ بن حارث اور (کافروں کی طرف سے) شیبہ بن عتبہ، عتبہ بن ربیعہ، اور ولید بن عتبہ۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اس حدیث میں میدان بدر مبارزت کا اجمالی سا ذکر ہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب لشکر کفار کو اس بات کا علم ہوگیا کہ تجارتی قافلہ بخیریت مکہ پہنچ گیا ہے تو سرداران قریش میں سے ایک سنجیدہ طبقہ کی رائے یہ تھی کہ اب جنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جس مقصد کے لئے ہم نکلے تھے وہ حاصل ہوچکا۔ عتبہ بن ربیعہ اور حکیم بن حزام ایسے لوگوں میں سے تھے۔ اس جنگ کا ایک سبب ایک حضرمی کا قتل بھی تھا۔ جو وادی نخلہ کے واقعہ مسلمانوں سے قتل ہوگیا تھا۔ حکیم بن حزام، عقبہ بن ربیعہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے۔ اگر تم چاہو تو لوگوں کو جنگ اور خونریزی سے بچا کر بہت بڑی نیکی کما سکتے ہو۔ عتبہ نے پوچھا وہ کیا تجویز ہے ؟ حکیم بن حزام (جو بعد میں اسلام لے آئے تھے اور جلیل القدر صحابی ہیں) نے کہا کہ اس حضرمی کی دیت تم خود ادا کردو۔ تو قصاص کا اضطراب جو لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔ از خود ختم ہوجائے گا۔ عتبہ نے اس تجویز کو بخوشی قبول کرلیا۔ پھر یہ دونوں حضرات جنگ بندی کے سلسلہ میں ابو جہل کے پاس گئے جو ایک متکبر، سرکش اور مشتعل مزاج سردار تھا۔ اسے یہ رائے قطعاً پسند نہ آئی۔ اس نے عتبہ کو کہا کہ تم اس لئے جنگ سے فرار چاہتے ہو کہ تمہارا ایک بیٹا مسلمان ہوچکا ہے اور تم اب بزدلی دکھا رہے ہو ؟ عتبہ یہ بزدلی کا طعنہ برداشت نہ کرسکا اور کہنے لگا کہ کل معلوم ہوجائے گا کہ بزدل کون ہے ؟ دوسری طرف ابو جہل نے حضرمی کے قبیلہ کو مشتعل کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لشکر کفار میں جنگ کی عمومی فضا پیدا ہوگئی اور جنگ نہ ہونے کا امکان ختم ہوگیا۔
دوسرے دن جب دونوں لشکر مقابلہ پر آگئے تو یہی عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور بیٹے ولید بن عتبہ کو لے کر نکلا اور ھل من مبارز (کوئی مقابلہ کے لئے سامنے آتا ہے ؟ ) کا نعرہ لگایا۔ مسلمانوں کے لشکر سے تین انصاری صحابہ مقابلہ کے لئے نکلے تو عتبہ نے چیخ کو پوچھا من انتم ؟ من القوم ؟ (یعنی تم کون لوگ اور کس قوم سے ہو ؟ ) انہوں نے اپنے نام بتلائے تو عتبہ نے کہا : تم ہمارے جوڑے نہیں ہو ہم تم سے لڑنے نہیں آئے۔ پھر چیخ کر پکارا : محمد ! ﷺ ہماری توہین نہ کرو۔ ہم ان کاشت کاروں سے لڑنے نہیں آئے۔ ہمارے مقابلہ میں ان لوگوں کو بھیجو جو ہمارے ہمسر اور ہمارے جوڑ کے ہوں۔ اور ایک روایت میں آیا کہ اس موقع ہر عتبہ کے مسلمان بیٹے اور ابو حذیفہ نے اپنے باپ کے مقابلہ پر نکالنا چاہا لیکن رسول اللہ ﷺ نے انھیں روک دیا۔ پھر حضرت حمزہ، حضرت علی ؓ اور حضرت عبیدہ بن حارث مقابلہ کے لئے نکلے۔ حضرت حمزہ نے عتبہ کو جلد ہی ٹھکانے لگا دیا اور حضرت علی ؓ نے شیبہ کو جہنم واصل کیا۔ لیکن حضرت ابو عبیدہ بن حارث کا ولید بن عتبہ سے شدید مقابلہ ہوا۔ دونوں کا بیک وقت ایک دوسرے پر کاری وار ہوا۔ حضرت ابو عبیدہ کی ٹانگیں کٹ گئیں اور وہ گرپڑے تو حضرت حمزہ اور حضرت علی ؓ آگے بڑھے اور ولید کا کام تمام کرکے ابو عبیدہ کو، جو دم توڑ رہے تھے، اٹھا کرلے آئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو وہاں پہنچ کر انہوں نے آپ سے پوچھا کہ میرے متعلق کیا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہیں یقیناً جنت ملے گی اس اطلاع پر ان کے چہرے پر بشاشت آگئی اور کہا : کاش آج ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ دیکھ لیتے کہ میں نے اپنی بات سچ کر دکھائی ہے اور اپنی جان رسول اللہ ﷺ پر نچھاور کردی ہے۔
27 یعنی فریق دوم کے لئے جنہوں نے کفر اور سرکشی کی راہ اختیار کی ان کے لباس میں کسی آتش گیر مادہ سے بنے ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُ 50ۙ ) 14 ۔ ابراھیم :50) یہ لباس بھڑک کر ان کے جسموں سے چمٹ جائے گا اور سر کے اوپر سے کھولتا ہوا جو پانی ڈالا جائے گا وہ اس آگ کو بجھائے گا نہیں بلکہ مزید آگ کو بھڑکانے کا باعث بن جائے گا۔ اس سے ان کے چمڑے گل کر گرپڑیں گے تو فوراً نئی جلد پیدا کردی جائے گی۔ تاکہ ان کے عذاب میں کمی واقع نہ ہو۔ پھر یہی کھولتا ہوا پانی ان کے دماغ کی راہ سے جسم کے اندر پہنچے گا جس سے سب انتڑیاں کٹ جائیں گی۔ مسید برآن انھیں لوہے کے ہنٹروں سے پیٹا بھی جائے گا جب وہ دوزخ سے نکل بھاگنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے انھیں ہنٹر مار مار کر پھر دوزخ میں دھکیل دیں گے اور ساتھ ہی انھیں یہ بتلاتے جائیں گے کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ اب بھاگتے کیوں ہو اور یہ دائمی عذاب کا مزا تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔
Ayahs 22:20–2328 عہد نبوی میں یہ رواج عام تھا کہ شاہان وقت اور بڑے بڑے رئیس لوگ سونے اور جواہرات کے مرصلے زیور پہنتے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانہ میں بھی ہندوستان کے مہاراجے اور نواب ایسے زیور اور ریشمی لباس پہنتے ہیں۔ یہاں یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اہل جنت کو وہاں ہر وہ راحت آرام اور عیش و عشرت حاصل ہوگی جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کی حقیقت کو سمجھنا بھی اس وقت ناممکن ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسی ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے آج تک دیکھا، نہ کانوں نے سنا۔ حتیٰ کہ کسی کے دل میں ان کا خیال تک بھی نہیں آسکتا (مسلم۔ کتاب الجنہ و صفہ~ن~نعیمہا)
Ayah 22:2429 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ ہے کہ اس آیت کو اس دنیا سے متعلق سمجھا جائے۔ اس صورت میں جو مطلب ہوگا وہ ترجمہ سے ہی واضح ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے آخرت سے متعلق سمجھا جائے جیسا کہ پہلے اہل جنت کا ذکر چل رہا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی ایسے مقام کی طرف راہنمائی کی جائے گی جہاں فرشتے انھیں سلام کہیں گے۔ مبارک باد پیش کریں گے۔ وہاں کسی قسم کی بک بک اور جھک جھک نہ ہوگی اور یہ ایسی راہ ہوگی جہاں پہنچ کر اہل جنت ستودہ صفات اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں ہی ہمیشہ مشغول رہا کریں گے۔
Ayah 22:2530 کفار مکہ ہیں، جنہوں نے مسلمانوں پر یہ پابندیاں لگا رکھی تھیں کہ وہ نہ بیت اللہ میں نماز ادا کرسکتے ہیں۔ نہ طواف کرسکتے ہیں اور نہ حج وعمرہ کے ارکان بجا سکتے ہیں۔ ایک تو وہ خود مشرک اور کافر تھے۔ کعبہ کو بھی بتوں کی نجاستوں سے بھر رکھا تھا۔ پھر مزید یہ کہ توحید پرستوں پر سب راہیں مسدود کر رکھی تھیں۔ چودہ سو مسلمان رسول اللہ ﷺ کی معیت میں عمرہ کرنے آئے۔ تو ان سے جنگ کی ٹھان لی۔ اور حدیبیہ کے مقام تک پہنچ کر ان سے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا اور مسلمانوں پر یہ پابندیاں فتح مکہ تک بدستور بحال رہیں۔ فتح مکہ کے بعد جب کفر کا زور ٹوٹ گیا تو یہ پابندیاں از خود ہی ختم ہوگئیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہی ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں انھیں دردناک عذاب کا مزا چکھنا ہوگا۔
31 یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے۔
جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج وعمرہ بجا لانے سے روکیں۔ کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں ؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لئے کھلے رہنے چاہئیں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر جس جگہ چاہیں آکر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے ؟ اور اس اختلاف کی وجہیں دو ہیں۔ ایک یہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ ، مزدلفہ، عرفات، مشرالحرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں جبکہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد الحرام کا ذکر کرکے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے۔ مثلاً ارشاد باری ہے :
(ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 196ۧ) 2 ۔ البقرة :196) یعنی یہ رعایت اس شخص کے لئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد الحرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا۔ یہاں لازماً مسجد الحرام سے مراد حرم مکہ ہی ہوسکتی ہے۔
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
(وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ للنَّاسِ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ 25 ) 22 ۔ الحج :25) اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا ماہ حرام میں جنگ کرنے سے بڑا گناہ ہے
پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خریدو فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں۔ اور یہ بات تو احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے حقوق ملکیت و وراثت اور حقوق بیع و اجارہ قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے اور اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ کے مکان پر قبضہ کرلیا۔ پھر اسے بیچ بھی دیا۔ چناچہ حجہ~ن~الوادع کے دوران آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے تو آپ نے فرمایا : عقیل نے ہمارے لئے مکان چھوڑا کب ہے کہ اس میں رہیں (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب توریث دور مکہ و بیہا شرایہا)
نیز عمر کے زمانہ میں نافع بن عبدالحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لئے اس شراط پر خریدا کہ اگر حضرت عمر ؓ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہوگی۔ بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار کرایہ کے مل جائیں گے (بخاری۔ کتاب فی الخصویات۔ باب الربط والحبس فی الحرم) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خریدو فروخت بھی جائز ہے اور کرایہ لینا بھی۔
ان سب امور کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور منیٰ میں مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے۔ تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے۔ اور امام بخاری کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خریدو فروخت اور وراثت وغیرہ سب کچھ جائز ہے جبکہ عنوان باب توریث دور مکہ و بیعہا و سزانہار سے معلوم ہو رہا ہے۔
23 یعنی جو شخص جان بوجھ کر مکہ میں بےدینی یا شرارت کی کوئی بات کرے گا یا اس کے احترام کو ملحوظ نہیں رکھے گا جو اس کو کسی دوسرے مقام پر یہی جرائم کرنے کی نسبت سے دوگنی سزا ملے گی۔ مکہ کی حرمت کے پیش نظر وہاں جو کام کرنے ممنوع ہیں وہ ہیں۔
حرم مکہ کو اللہ نے امن کی جگہ قرار دیا ہے۔ لہذا وہاں :
1۔ نہ وہاں فوج کشی جائز ہے نہ بدال و قتال حتیٰ کہ بلاضرورت کوئی ہتھیار اٹھانا بھی ممنوع ہے۔ اگر کوئی مجرم بھی حرم میں پناہ لے لے تو جب تک حرم میں ہے۔ اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔
2۔ حرم مکہ کے جانور بھی محفوظ و مامون ہیں۔ نہ ان کا شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ انھیں شکار کے لئے ہانکا جاسکتا ہے۔ البتہ موذی جانور کو حرم میں بھی مارنے کی اجازت ہے۔
3۔ حرم مکہ کے پودے درخت اور گھاس وغیرہ بھی محفوظ و مامون ہیں۔ التبہ بعض اقتصادی ضروریات کے پیش نظر۔۔ گھاس کاٹنے کی اجازت دی گئی۔
4۔ حرم مکہ سے کوئی گری پڑی چیز بھ ی اٹھانا روا نہیں۔ الایہ کہ اٹھانے والا مالک کو پہنچانتا ہو اور وہ اسے پہنچا دے۔
مندرجہ بالا امور میں پیشتر کام ایسے ہیں جو دوسرے مقامات پر کرنے جائز ہیں مگر حرم مکہ میں کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کرنے جائز نہیں۔ پھر ایسے کام مثلاً الحاد، بےدینی اور شرارت کے کام جو دوسرے مقامات پر بھی ممنوع ہیں انھیں اگر حرم مکہ میں کیا جائے تو یہ جرم کتنا شدید ہوجائے گا ؟ پھر اس نسبت سے اس کی سزا میں بھی اضافہ ہوگا۔
Ayah 22:2633 حضرت آدم نے سب سے پہلے کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ جس کے اب نشانات بھی زمین بوس ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آندھی چلائی جس سے اوپر کی مٹی اور ریت اڑ کر دور چلی گئی اور کعبہ کی بنیادی ننگی اور ظاہر ہوگئیں۔ انہی بنیادوں پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ ملا کر کعبہ کی تعمیر شروع کی تھی۔ اور حضرت ابراہیم کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس گھر کی بنیادیں خالص توحید پر رکھو۔ کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم بجا نہ لائے۔ لیکن مشرکین مکہ نے جو دین ابراہیمی کی پیروی کے مدعی تھے۔ اس ہدیت کی ایسی نافرمانی کی کہ وہاں تین سو ساٹھ بٹ لا کھڑے کئے بالآخر فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے اس گھر کو بتوں کی نجاست سے پاک فرمایا۔
34 اللہ کے گھروں یعنی مساجد کو صاف ستھرا رکھنا اتنا افصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولعزم انبیاء کو خصوصاً اس کام کی ہدایت کی۔ صفائی سے مراد ظاہری صفائی بھی ہے اور احادیث میں اس کی بھی تاکید آئی ہے۔ لیکن اللہ کے گھروں کی اصل پاکیزگی اور صفائی یہی ہے کہ وہاں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو نہ پکارا جائے اور نہ ہی وہاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کا ذکر اذکار اور کرامات بیان کی جاتی رہیں۔
Ayah 22:2735 جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان عام کردو کہ وہ حج کے لئے یہاں آئیں۔ حضرت ابراہیم کہنے لگے یہاں میری آواز کون سنے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اعلان کردو۔ آواز پہنچا دینا میرا کام ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم نے ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر پکارا : لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ لہذا حج کو آؤ۔ اور اللہ نے یہ آواز ہر اس شخص اور اس روح تک پہنچا دی جس کے لئے حج مقدر تھا اور اس کی روح نے اس اعلان پر لبیک کہا۔
36 یہاں ضامر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ضامر وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سدھارنے اور مشن کی کثرت اور کسرت کی وجہ سے دبلا پتلا اور چھریرے بدن والا ہوجائے اور سبک رو، یا سبک خرام ہو تاکہ مقابلہ میں آگے نکل سکے۔ اور جانور بھوک کی کمی کی وجہ سے دبلا ہو اسے عجف کہتے ہیں۔ عرب میں ضامر کا لفظ عموماً اونٹ کے لئے مختص ہوگیا خواہ وہ نر ہو یا مادہ اور اونٹ کا نام بطور خاص اس لیے لیا گیا کہ اس زمانہ میں اور اس علاقہ میں اونٹ ہی آمدورفت اور نقل و حرکت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔