Ayah 22:5280 اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور نبی دو الگ الگ شخصتیں ہوتی ہیں۔ نبی عام ہے اور رسول خاص بالفاظ دیگر ہر رسول نبی تو ہوتا ہے جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا 54ۚ ) 19 ۔ مریم :54) یعنی موسیٰ رسول بھی تھے اور نبی بھی لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ نبی اور رسول کا فرق پہلے سورة مائدہ کی آیت 67 کے تحت واضح کیا جاچکا ہے۔
81 تمنی کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتا ہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کرلیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو) تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے رکاوٹیں کھڑی کردیتا ہے۔ اور ایسا وسوسہ بعض دفعہ تو شیطان نبی اور اس کے پیروکاروں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ جیسے کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ پر خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے دل میں یہ خیال آنے لگا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ دکھلا دے تو اس سے کئی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں یا مثلاً رؤسائے قریش نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ ان ناتواں اور حقیر لوگوں (یعنی کمزور مسلمانوں) کو اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی دعوت غور سے سننے کو تیار ہیں اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی عدم مخالفت اور اسلام کے غلبہ کی خاطر کافروں کے اس مطالبہ پر غور کرنے کے لئے تیار بھی ہوگئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بروقت تنبیہ ہوجاتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسی آیات نازل فرما دیتا جو خود اسے منظور ہوتا تھا اور اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شیطان نبی یا رسول کی خواہش کی تکمیل کی راہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے، اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں اور یہ لوگ دو ہی قسم کے ہوسکتے ہیں ایک منافقین اور دوسرے وہ لوگ جن کے دل قبول حق کے سلسلہ میں پتھر کی طرح سخت ہوچکے ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ بالآخر ایسے لوگوں کی تمام تر سازشوں اور کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اور جس مقصد کی تکمیل کے لئے وہ کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرماتا ہے اسے پختہ سے پختہ تر بنا دیتا ہے۔
اور اگر تمنی کا معنی تلاوت کرنا سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول کوئی آیت تلاوت کرتا ہے۔ تو اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے سلسلہ میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انھیں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیت نازل فرمائی کہ (حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ 173۔ ) 2 ۔ البقرة :173) تو بعض لوگوں نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ اللہ کا مارا ہوا جانور تو حرام ہو اور انسان کا مارا ہوا (ذبح کیا ہو) حلال ؟ یہ خالصتہ شیطانی وسوسہ تھا۔ اسی طرح جب یہ آیت نازل ہوئی ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98) 21 ۔ الأنبیاء :98) (یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو سب جہنم کا ایندھن بنیں گے) اور آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو کافروں نے فوراً یہ اعتراض جڑ دیا کہ پرستش تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کی بھی کی جاتی رہی ہے تو کیا یہ ہستیاں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گی ؟ یہ بھی خالصتہ شیطانی وسوسہ تھا۔ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ دوسری صریح اور محکم آیات نازل فرما کر شکوک و شبہات اور شیطانی وساوس کو دور فرما کر اپنے حکم کی وضاحت فرما دیتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق بعض تفاسیر میں ایک واقعہ مندرج ہے جو یوں ہے کہ ایک دفعہ آپ سورة النجم کی تلاوت فرما رہے تھے اور یہ تلاوت مشرکین مکہ بھی پاس موجود تھے۔ جب آپ نے آیات تلاوت فرمائیں۔ (اَفَرَاَیْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزّٰی وَمَنَات الثَّالِثَۃَ الاُخْرٰی) تو شیطان نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر درج ذیل الفاظ یوں پڑھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ الفاظ آپ ہی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔ (تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنْ شَفَاعَتُھُنَّ لَتُرْجٰی) (یہ اونچی گردنوں والی دیویاں ہیں یعنی لات، عزی اور منات۔ اور اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کی یقیناً توقع کی جاسکتی ہے) چناچہ جب مشرکین مکہ نے جب یہ الفاظ سنے تو ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوگئے کہ ان کے بتوں کا بھلائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ وہ بڑے غور سے آپ کی تلاوت سننے لگے اور سورة والنجم کے اختتام پر آپ نے اور دیگر مسلمانوں نے سجدہ کیا تو ساتھ ہی مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔
پھر یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا اگلا حصہ یہ ہے کہ پھر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ مسلمانوں اور کفار مکہ میں صلح و سمجھوتہ ہوگیا ہے یہ خبر اڑتی اڑتی جب مہاجرین حبشہ کو ملی تو ان میں سے بعض مہاجر مکہ واپس آگئے۔ لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔
یہ واقعہ کئی لحاظ سے غلط ہے مثلاً :
1۔ ان تمام روایات کی اسناد مرسل اور متقطع ہیں۔ لہذا یہ روایات ساقط الاعتبار ہیں۔ اسی وجہ سے صحاح ستہ میں اس قسم کی کوئی روایت مذکور نہیں۔
2۔ ان آیات میں اس شیطانی وسوسہ سے پہلے ہی بتوں اور دیویوں کی مذمت مذکور ہے اور بعد میں بھی۔ لہذا درمیان میں بتوں کا یہ ذکر خیر کسی لحاظ سے بھی فٹ نہیں بیٹھتا۔
3۔ تاریخی لحاظ سے یہ روایات اس لئے غلط ہیں کہ ہجرت کا واقعہ 5 نبوی میں پیش آیا تھا اور جو مہاجر اس غلط افواہ کی بنا پر واپس مکہ آئے تھے وہ صرف تین ماہ بعد آئے تھے۔ جبکہ یہ سورت مدنی ہے اور ہجرت حبشہ سے واپسی اور اس سورة کے نزول کے درمیان کم از کم آٹھ نو سال کا وقفہ ہے۔
82 ان روایات میں دراصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو بعد میں محکم اور واضح آیات نازل کرکے شکوک و شبہات کو رد کرتا ہے وہ پہلے ہی ایسے واضح احکام کیوں نہیں بھیج دیتا جن سے شکوک و شبہات پیدا ہی نہ ہوں یہ اعتراض بھی دراصل کج رو اور کج فطرت کافروں کی عیاری کا غماز ہے اور اس کا جواب سورة آل عمران کے ابتداء میں آیات متشابہات اور آیات محکمات (آیت نمبر 7) میں بیان ہوچکا ہے اور یہاں بھی انھیں دوسرے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہ :
1۔ شکوک میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم کے کافر۔
2۔ ایسی آیات سے ہی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔
3۔ ایسی آیات دراصل سب لوگوں کے لئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔ جن سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے ؟ آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتا ہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے ؟
Ayahs 22:53–5483 یعنی ایمان والے فوراً یہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں بات تو فی الواقع وحی الٰہی ہے یا ہوسکتی ہے اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا واقعہ میں سے اس کا صرف آخری حصہ ہی ایسا ہے۔ جو درست ہے اور صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ یعنی کسی موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم تلاوت فرمائی۔ اس کے اختتام پر آپ نے اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو پاس بیٹھے ہوئے مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ ماسوائے ایک شخص (امیہ بن خلف) کے کہ اس نے کنکریں ایک مٹھی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی سے لگا کر کہنے لگا کہ بس مجھے اتنا ہی کافی ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والنجم) رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں بتوں کی تعریف مذکور ہو یا یہ الفاظ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہوں، ایمان والے فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات ناممکنات سے ہے۔ رہا مشرکوں کا مسلمانوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوجاتا تو اس کی وجہ قرآن کی اپنی تاثیر ہے۔ جس کی بنا پر وہ قرآن کو جادو اور آپ کو جادو گر کہا کرتے تھے اور مسلمانوں پر قرآن بلند آواز سے پڑھنے پر پابندی لگا رکھی تھی کہ اس سے ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی قرآن کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔
Ayah 22:5584 یعنی ان ہٹ دھرم کافروں کا یہ حال ہے کہ یہ جوتے کھا کر ہی سیدھے رہ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ ماننے والے نہیں یا تو ان کا یہ شک قیامت کا دن دیکھ کر دور ہوگا۔ جب سب حقائق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یا عذاب الٰہی کا منحوس دن دیکھ کر، جس سے ان کے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور نہ ہی اس دن کے بعد انھیں اگلا دن دیکھنا نصیب ہوگا۔
Ayah 22:5685 یعنی آج تو ہر شخص خواہ وہ ایماندار ہے یا کافر ہے یا منافق ہے یا مشرک ہے وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ وہ حق پر ہے اور جو کچھ وہ کر رہا ہے اچھا کر رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن سب کو روز روشن کی طرح علم ہوجائے گا کہ آج صرف اکیلے اللہ ہی کی حکمرانی ہے۔ اور ان کے معبودوں یا دیوتاؤں کے کارساز نہ ہونے کا سارا فریب کھل جائے گا اور اللہ تعالیٰ شہادات قائم کرکے یہ فیصلہ کردے گا کہ حق پر کون تھا اور جھوٹا کون ؟ یا فلاں شخص کتنا حصہ حق پر تھا اور کتنا باطل پر ؟ پھر اسی فیصلہ کے مطابق لوگوں کو بدلہ دیا جائے گا۔ اہل حق تو جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہوں گے اور حق کو جھٹلانے کو رسوا کن عذاب کا مزا چکھنا ہوگا۔
Ayahs 22:57–5886 اہل ایمان کا ذکر کرنے کے بعد خصوصی طور پر مہاجرین کا ذکر فرمایا۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے دین کی خاطر اپنے گھر بار، جائیداد اور وطن مالوف کو خیرباد کہا اس کے بعد خواہ جہاد کرکے شہید ہوجائیں یا طبعی موت سے وفات پاجائیں۔ ان کی ہجرت کا عمل ہی اتنا گرانقدر ہے جس کے عوض اللہ انھیں ہزارہا گناہ بہترین کھانے پینے کا سامان اور بہترین رہائش عطا فرمائے گا۔ اتنا بہتر جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔
Ayah 22:5987 یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کسی نے کس کس قدر خلوص نیت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ لہذا وہ اتنا ہی اسے زیادہ اجر دے گا اور یہاں حلیم کے لفظ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کسی مہاجر سے کچھ خطا ہو بھی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ نہیں کرے گا اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کیا تھا اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ لہذا ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔
Ayah 22:6088 پچھلی دو آیات میں ان مہاجر مسلمانوں کا ذکر تھا۔ جو کفار کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر گھر بار چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے اور وہ ظلم کا بدلہ لے ہی نہ سکتے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہے۔ جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ انھیں یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر وہ بدلہ لینا چاہیں تو اتنا ہی بدلہ لیں جس قدر ان پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں گے تو یہ خود ظالم ٹھہریں گے اس صورت میں اللہ ان کی مدد کرے گا۔ جو مظلوم ہیں۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبل کو جب یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو جہاں اور بہت سی نعمتیں ارشاد فرمائیں وہاں سب سے آخر میں اور بطور خاص جو نصیحت فرمائی یہ تھی۔ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ (مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب الدعاء الی اعثہادتین و شرائع الاسلام) یعنی مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا کیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ اسی مضمون کو شیخ سعدی~رح~ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا ہے۔
برس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن
اجابت از در حق بہر استقبال می آید
یعنی مظلوموں کی آہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس آہ کی قبولیت خود اسے لینے کو آگے آتی ہے۔
89 اس آیت میں صرف زیادتی کے برابر بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے تو اللہ اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتا اور اسے ظلم شمار کیا جائے گا۔ اس اجازت کے باوجود اگر بدلہ نہ لیا جائے تو یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ کیونکہ وہ خود بھی معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ لہذا بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت کو اپنائیں اور ہر وقت بدلہ لینے کے درپے نہ ہوا کریں۔
Ayah 22:6190 کائنات میں اللہ تعالیٰ کے تصرف اور قدرت کا یہ عالم ہے کہ دن اور رات کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے کبھی دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور کبھی راتیں گھٹنا اور دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اب جو ہستی کائنات میں اس قدر تصرف کی قدرت رکھتی ہے کیا وہ ظالم سے بدلہ نہ لے سکے گی۔ لہذا جہاں تک ہوسکے ظلم اور زیادتی سے اجتناب کرو اور اس سے بہتر یہ روش ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کردیا کرو۔
Ayah 22:6291 پھر جو ہستی کائنات میں اتنا تصرف کرنے پر قدرت رکھتی ہے اور اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کو تصرف میں ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ تاہم ظاہری اور باطنی اسباب اور ان کے نتائج پر اللہ اکیلے کا کنٹرول ہے تو پھر حق بات یہی ہے کہ اپنی حاجات کے لئے اکیلے اللہ ہی کو پکارا جائے۔ کیونکہ وہی سب سے بڑی قوت ہے اور قوت والا ہے اور وہی سب سے بڑا ہے جس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو اپنے قبضہ اختیار میں لے رکھا ہے اور جو لوگ ایسے قدرتوں والے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں وہ غلط کار ہیں اور غلطی پر ہیں۔ کیونکہ دوسروں کے پاس کوئی قدرت و تصرف ہے ہی نہیں۔
Ayah 22:6392 یہاں لطیف کا لفظ کا استعمال ہوا ہے اس کے مادہ ل طمیں بنیادی طور پر دو باتیں پائی جاتی ہیں (1) دقت نظر اور (2) نرمی المقائیس اللغہ~ن)~ اور لطیف کے معنوں میں کبھی تو ایک ہی معنی پایا جاتا ہے۔ جیسے اس آیت میں دقیقہ رس (یا ایک ہی معاملہ کی چھوٹی چھوٹی جزئیات پر تک نظر رکھنے والا) کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی یہ بیک وقت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ تمام مخلوق کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات اور تکلیفات کا علم رکھنا پھر ان کا ازالہ بھی کرنا۔ اس صورت میں لطیف کا ترجمہ مہربان کرلیا جاتا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تصرف کی ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔ یعنی پانی اور خشک مٹی کے اجزاء باہم ملتے ہیں تو زمین کے اجزا پھول جاتے ہیں اور ان میں روئیدگی کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اب جتنے بیج اس خشک زمین میں دبے پڑے تھے یا گھاس پھوس کی جڑیں خشک ہو کر زمین میں مل گئی تھیں ان میں جان پڑجاتی ہے اور اس خشک اور مردہ بیج میں اتنی قوت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کی نرم و نازک کونپل زمین کی سخت سطح کو چیر پھاڑ کر زمین سے باہر نکل آتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ سبزہ زار بن کر لہلانے لگتی ہے اور اس سارے عمل کے دوران اللہ تعالیٰ کا لطف یا وقت نظر ہی وہ چیز ہوتی ہے جس کی بنا پر ایسے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
Ayah 22:6493 چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے۔ لہذا ہر چیز اپنی ہستی اور اس کی بقاء تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوئی۔ جبکہ وہ خود کسی کا محتاج نہیں۔ تمام کائنات کے وجود سے پہلے بھی اس کی ہستی قائم و دوائم تھی اور وجود کے بعد بھی وہ اس سے بےنیاز ہے۔ لہذا کوئی اس کی حمد و ثنا بیان کرے یا نہ کرے اس سے اسے کچھ فرق نہیں پڑا (البتہ حمد و ثنا بیان کرنے والے کی اپنی ذات کو ضرور فائدہ پہنچ جاتا ہے) کیونکہ وہ اپنی ذات میں خود ہی محمود ہے۔
Ayah 22:6594 اس آیت اور اس سے پہلی آیات میں دراصل ایسی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بعیر انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا اور باقی رہنا مشکل تھا۔ اللہ کا سب سے پہلا احسان توبہ ہے کہ زمین سبزہ اگاتی ہے اور اسی سبزہ پر انسان کیا دوسرے جانوروں کی زندگی کا بھی اسی پر انحصار ہے۔ اگر زمین میں پانی کی آمیزش سے روئیدگی کی قوت پیدا نہ ہوتی تو کسی بھی جاندار کا اس زمین پر زندہ رہنا مشکل تھا اللہ کا دوسرا احسان انسان پر یہ ہے کہ اس نے زمین کی ہر چیز کو اس کے لئے مسخر کردیا ہے۔ ورنہ زمین پر بسنے والے درندے اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتے اور اس کی ہستی کا خاتمہ کرسکتے تھے۔ پھر کئی ایسے عظیم الجثہ جانور بھی ہیں کہ انسان محض ان کا ایک نوالہ ہی بنتا ہے۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی عقل دی کہ وہ زمین کی ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اپنے کام میں لا رہا ہے اور دوسری اشیاء کو اللہ تعالیٰ نے ایسے طبعی قوانین کا پابند بنادیا ہے کہ انسان انھیں معلوم کرکے ہر چیز سے گونا گوں فائدے حاصل کر رہا ہے۔ انسان ان اشیاء میں جیسی بھی۔۔ باتصرف کرے، کوئی چیز اس کے آگے دم نہیں مار سکتی، اسی احسان کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان سمندری سفر کے قابل ہوگیا ہے۔ وہ سمندر جو زمین کے تین چوتھائی حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ جاں کوئی نشان راہ بھی نہیں ہوتا نہ ہی سمت معلوم ہوسکتی ہے اور اس کی تلاطم خیز موجیں انسان جیسی کمزور مخلوق کو آن کی آن میں فنا کرکے میلوں گرائی تک پہنچا سکتی ہیں۔ جہاں سے کبھی اس کا سراغ تک نہ مل سکے۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو طبعی قوانین کا پابند بناکر اسے بھی انسان کے تباع کردیا ہے۔
اور تیسرا احسان اللہ کا یہ ہے کہ فضائے بسیط میں لاکھوں ہمہ وقت گردش میں مصروف سیارے اپنے اپنے مدار پر چلنے کے لئے طبعی قوانین کے اس قدر پابند اور ان میں جکڑے ہوئے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی زمین پر گر کر زمین کو پاش پاش اور انسان کو صفحہ ہستی سے مٹا نہیں سکتا۔ یہ سب اللہ کے اذن سے ہی جکڑے ہوئے ہیں۔ پھر یہ اللہ کا اذن ہی ہوگا کہ ایک وقت یہ اجرام فلکی آپس میں ٹکرا جائیں گے اور قیامت بپا ہوجائے گی۔ اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ ہر آفت سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
Ayah 22:6695 انسان کو اللہ کا زندگی بخشنا ایسا احسان ہے جسے ہر شخص احسان سمجھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا اس لحاظ سے احسان ہے کہ اگر آدم سے لے کر موجودہ دور تک تمام مخلوق زندہ رہتی۔ تو انسان کو زمین پر کھڑا ہونے کو بھی جگہ نہ ملتی۔ وسائل معاش اور ضروریات زندگی کا مہیا ہونا تو دور کی بات ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ ساتھ ہی ساتھ پہلوں کو موت کی نیند سلا کر آنے والوں کے لئے جگہ اور ضروریات زندگی مہیا کردیتا ہے۔ اسی طرح مرنے کے بعد زندہ کرنا پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دینا بھی اللہ تعالیٰ کا انسان پر احسان عظیم ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس اخروی زندگی اور اس کی تفصیلات سے بذریعہ وحی مطلع کرکے انجام سے خبردار نہ کرتا تو طاقتور اور درندہ صفت انسان کمزور انسانوں کو کچا چبا ڈالتے اور انھیں کبھی جینے کا حق نہ دیتے۔ جس کا بالآخر نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا میں مسلسل جنگ اور بدامنی کی وجہ سے انسان کا وجود ہی صفحہ ہستی سے ختم ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات کے باوجود انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ کسی ایسے حقائق پر غور کرتا ہے اور نہ اللہ کے ان احسانات کے لئے اس کا شکر گزار ہوتا ہے۔
Ayah 22:6796 منسک کا لفظ اگرچہ حج کے شعائر و احکام اور ادائیگی سے مختص ہوگیا ہے اور مناسک حج سے مراد اعمال اور ارکان حج ادا کرنے کے مقامات، قاعدے اور طریقے ہے اور نسک اس قربانی کو کہتے ہیں جو حج کے دوران کی جاتی ہے۔ تاہم اس لفظ کے معانی میں یہ وسعت ہے کہ اس کا اطلاق تمام عبادات کے طریق کار پر ہوتا ہے اور یہ لفظ منہاج سے اخص ہے۔ منہاج کے معنی میں تمام شرعی احکام کی ادائیگی کا طریق کار شامل ہے اور یہ طریق کار بھی اللہ ہی کی طرف سے بتلایا جاتا ہے اور منسک کا اطلاق صرف عبادات کے طریقے کار پر ہوتا ہے۔
97 عبادات کا طریق کار ہر نبی اور اس کی امت کے لئے مختلف رہا ہے اور اس میں وقت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا جاتا رہا ہے۔ اور چونکہ یہ طریق کار بھی اللہ ہی طرف سے ہوتا ہے لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس بارے میں آپ سے بحث یا جھگڑا کرے۔ کیونکہ اس زمانہ میں یہی طریق کار درست اور برحق ہے۔ جو آپ کو بتلایا جارہا ہے۔
Ayahs 22:68–7098 یعنی مختلف انبیاء کی شریعت یا عبادات کے طریقوں میں تبدیلی اور اس کی وجوہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق اور پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اللہ کی کتاب میں پہلے ہی سے ثبت ہیں۔ پھر اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ کون لوگ اس واضح سی بات پر بھی جھگرے پیدا کرنے والے ہیں۔ اللہ کو ان سب باتوں کا پہلے سے علم ہونا، پھر ان جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرکے انھیں ان کی ہٹ دھرمی کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کی وسعت علم اور عظیم قدرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ اور معمولی باتیں ہیں۔
Ayah 22:7199 یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی کتاب میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ اس نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ لہذا ان کاموں میں تم ان سے رجوع کرکے ان سے اپنی حاجات طلب کرسکتے ہو۔ نہ ہی انھیں کسی علمی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ امور کائنات میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کو بھی تصرف کا حق حاصل ہے۔ اور اس بنا پر ان کی بھی عبادت کرنا درست ہے۔ لہذا جو معبدا ان لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور ان سے کئی صفات اور اختیارات منسوب کردیئے گئے ہیں ان کے آستانوں پر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ نذریں، نیازیں چڑھائی جاتی ہیں بعض کے طواف اور اعتکاف تک بھی کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت جاہلانہ توہمات کے سوا کچھ بھی نہیں۔
100 یعنی اللہ تو اس لئے ان کی مدد نہیں کرے گا کہ ان ظالموں نے اللہ کے شریک بنا کر اور اللہ کو ناراض کرلیا اور ان کے معبود اس لیے مدد نہیں کرسکیں گے کہ ان میں اتنی قدرت ہی نہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے ظلم اور حماقت میں کیا شک ہوسکتا ہے۔
Ayah 22:72101 یعنی مشرکوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات پڑھی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بتلایا جاتا ہے کہ تصرف امور کے جملہ اختیارات صرف اللہ کو ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں تو ان مشرکوں کے تیور بگڑنے لگتے ہیں اور وہ یوں کعیدہ خاطر ہونے لگتے ہیں کہ کبھی ایسی آیات سنانے والے پر حملہ کردیں گے یا چپت رسید کردیں گے۔ آپ انھیں کہئے کہ بیشک تمہیں یہ آیات ناگوار ہیں۔ لیکن اس ناگواری کا انجام اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوگا اور وہ ہے آگ کا عذاب۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان دونوں ناگوار باتوں میں سے کون سی بات تمہیں قابل قبول ہے۔
Ayah 22:73102 اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں مکھی کا انتخاب اس لیے فرمایا کہ وہ بہت چھوٹی اور حقیر سے مخلوق ہے۔ جس سے سب لوگوں کو نفرت اور گھن آتی ہے۔ اب جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے خود اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر ہی اپنے معبود سے حاجت طلب کی۔ لہذا اس کمزوری میں تو کوئی شبہ ہی نہ رہا۔ اور جس سے مراد طلب کی جارہی ہے اس کا اپنا یہ حال ہے کہ وہ ایک مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ بلکہ ان کے سامنے جو نذریں، نیازیں پیش کی جارہی ہیں ان پر مکھی پیٹھ کر اس کا حقیر سا حصہ اڑا لے جائے تو وہ اس سے واپس بھی نہیں لے سکتا۔ پھر یہ کسی ایک معبود کا مسئلہ نہیں سارے معبود مل کر بھی نہ ایک مکھی تک پیدا کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی چھینی ہوئی چیز اس سے چھڑا سکتے ہیں۔ پھر اس سے بڑھ کر ان کی بےبسی اور کمزوری کیا ہوسکتی ہے ؟ اب اگر یہ مشرک اس ایک بات پر ہی غور کرلیں تو انھیں اپنی حماقتر کا پوری طرح علم ہوسکتا ہے کہ کمزوری اور بےبسی میں ان کے معبود ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔ لہذا ان سے حاجات طلب کرنا نہایت احمقانہ بات ہے۔
Ayah 22:74103 یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ جو اس پوری کائنات کو اور خود ان کو بھی عدم سے وجود میں لایا ہے۔ اور انھیں زندگی بخشی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی کارنامے پر غور کرتے تو کبھی اس کے اختیار و تصرف میں کمزور اور بےبس قسم کی مخلوق کو شریک بنانے کی حماقت نہ کرتے۔ مثلاً :
کائنات کی وسعت کا یہ حال ہے کہ موجودہ تحقیقات کی رو سے سورح کے گرد نو سیارے گردش کر رہے ہیں جن میں تیسرے نمبر پر ہماری زمین ہے اور اس کا سورج سے فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ آخری نواں سیارہ پلوٹو ہے جس کا سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل فاصلہ ہے جسامت کے لحاظ سے بھی ہماری زمین دوسرے سیاروں کی نسبت بالکل حقیر ہے۔ ہمارے اس نظام شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے۔ کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے یا ثابث مشاہدہ کئے جاچکے ہیں اور یہ ستارے یا سورج جسامت کے لحاظ سے ہمارے سورج سے بہت بڑے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور تقریباً 4 کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سورج موجود ہے جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹا سا نقطہ معلوم ہوتا ہے اس کا نام الف قنطورس Centauris Alfa ہے۔ ایسے ہی دوسرے سورج اس سے بھی دور ہیں اور خلا میں ہر طرف ایک دوسرے سے الگ الگ بکھڑے پڑے ہیں۔ رات کے وقت وہ آسمان پر روشنی کے ننھے منے نقطوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ سب ستارے دراصل بہت بڑے اجسام ہیں اور ہمارے سورج کی طرح یہ بھی خود روشن ہیں۔
جسامت کے لحاظ سے سیاروں اور ستاروں کو چار قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم کو سفید بونے کہا جاتا ہے ان کی اوسط جسامت مشتری کے برابر سمجھی گئی ہے اور مشتری کی جسامت نظام شمسی کے باقی آٹھ سیاروں (جن میں ہماری زمین بھی شامل ہے) کے برابر ہے۔ ہمارا سورج دوسری قسم میں آتا ہے اور اس کی جسامت ہماری زمین سے 3 لاکھ 37 ہزار گنا زیادہ ہے گویا ہمارا اتنا بڑا سورج بھی بڑے ستاروں میں شامل نہیں ہے۔ تیسری قسم کے ستاروں کو دیو (Gaints) اور چوتھی قسم کے ستاروں کو شاہ دیو Gaints Super کہا جاتا ہے۔ ایسے ستاروں کے مقابلہ میں ہمارا سورج ایسے ہی ہے جیسے سورج کے مقابلہ میں ہماری زمین ہے۔ ایسے ہی ایک ستارے کا نام قلب عقرب (Antarres) ہے۔ اگر اسے اٹھا کر نظام شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے لے کر مریخ تک تمام علاقہ اس میں پوری طرح سما جائے گا۔ جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ 14 کروڑ 15 لاکھ میل ہے۔ گویا قلب عقرب کا قطر 28 کروڑ 30 لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔
مزید برآں کائنات میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کر رہی ہیں پھر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں ہیئت دان مزید طاقتور اور جدید قسم کی دوربینیں استعمال کر رہے ہیں، توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہو رہا ہے کہ کائنات میں مزید وسعت پیدا ہورہی ہے۔ سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ میں آرہے ہیں۔
اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی برق رفتاری سے گردش کر رہی ہے۔ اسی طرح کائنات میں تمام سیارے کم و بیش اسی برق رفتاری سے محو گردش ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی طرح جکڑا ہوا ہے۔ کہ نہ وہ آپس میں ٹکراتے ہیں نہ ان کی چال میں فرق آتا ہے اور نہ ہی اپنے مدار سے ایک انچ بھی ادھرادھر ہوسکتے ہیں۔ اور جوں جوں انسان اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں میں غور کرتا ہے تو اس کی عظمت و جلال کا سکہ اس کے دل پر نقش ہوتا جاتا ہے۔
اب ایک طرف تو اس قدر عظمت و جلال اور قوت وقدرت والی اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ایسے معبودوں اور حاجت رواؤں کو شریک کیا جارہا ہے۔ جو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ایسے بےبس ہیں کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے مکھی سے چھڑانے کی قدرت بھی نہیں رکھتے۔ غور فرمائیے کیا ان دونوں کی قدرت میں کوئی نسبت قائم کی جاسکتی ہے ؟ اور حقیقت یہ ہے کہ جو دوسروں کو اللہ کے شریک بناتے ہیں تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچاننے کی کبھی کوشش کی ہے ورنہ وہ کبھی ایسی حماقت نہ کرتے۔
Ayah 22:75104 یعنی اللہ پیغام رسانی کے لئے فرشتوں میں سے اور آدمیوں سے بھی انتخابت خود اپنی حکمت اور صوابدید کے مطابق کرتا ہے۔ فرشتوں میں سے حضرت جبریل یا وہ فرشتے جو حضرت زکریا، حضرت مریم، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کے پاس پیغام رساں بن کر آئے تھے اور لوگوں میں سے تمام انبیاء و رسل اللہ ہی کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں اور احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ جس طرح لوگوں میں سے پیغمبر سب سے افضل ہوتے ہیں۔ اسی طرح پیغام رساں فرشتے بھی دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں۔ اس آیت میں دراصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ مکہ اور طائف کی بڑی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی کا انتخاب کرتا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ بات بھی اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ لوگوں میں سے رسالت کا اہل کون ہے اور اس معاملہ میں کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
Ayah 22:76105 ( يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا 110۔ ) 20 ۔ طه :110) یہ جملہ قرآن کریم میں چار مقامات سورة بقرہ آیت 255 (آیہ الکرسی) سورة طٰہ، آیت نمبر 110، سورة انبیائ، آیت نمبر 28، اور یہاں سورة حج کی آیت نمبر 76 میں استعمال ہوا ہے۔ اور ہر مقام پر اس جملہ سے پہلے یا آخر میں سفارش اور معبودان باطل کا ذکر ہے۔
اس جملہ میں سفارش پر پابندیوں کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ سفارش پر پابندیاں یہ ہیں۔ (1) کوئی شخص اللہ کے اذن کے بغیر سفارش نہ کرسکے گا (2) سفارش اسی کے حق میں کی جاسکے گی جس کے حق میں اللہ چاہے گا اور (3) صرف اس جرم یا خطا کے لئے جاسکے گی جس اللہ کو معاف کرنا منظور ہوگا۔ اب سب پابندیوں کو ملانے منطقی نتیجہ یہی حاصل ہوتا ہے کہ سفارش پر ہرگز تکیہ نہ کر بیٹھنا چاہئے۔ اور اس جملہ میں سفارش پر تکیہ نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ مثلاً ایک بااثر شخص کسی افسر سے مل کر کہتا ہے کہ حضور ! آپ کا فلاں ملازم جس جرم میں ماخوذ ہے اسے معاف کردیں۔ یہ میرا خاص آدمی ہے۔ اور اسر اسے یہ جواب دیتا ہے کہ تمہاری نظر تو صرف اس کے حالیہ جرم پر ہے۔ لیکن اس کا سابقہ ریکارڈ بھی بہت گندا ہے۔ لہذا اب مجھے اس کا موجودہ جرم بھی معاف کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جس پر سفارش کرنے والا لاجواب اور بےبس ہوجاتا ہے۔ بالکل یہی صورت حال اللہ کے حضور سفارش کی ہے۔ اللہ تو ہر انسان کے پورے ریکارڈ سے واقف ہے اور یہی اس جملہ کا مطلب ہے لیکن سفارش کرنے والے کو اس کی پوری ہسٹری شیٹ کا علم ہو ہی نہیں سکتا جس کی وہ سفارش کرنا چاہتا ہے اسی لئے سفارش پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔
106 اگرچہ یہ جملہ عام ہے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے سپرد ہے۔ مگر یہاں ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ جن معبودوں یا بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کیا جاتا ہے یا لوگوں کو جھوٹے دعوے دیئے جاتے ہیں یا لوگ خود ہی خود فریبی میں مبتلا ہوچکے ہیں ان کے یہ محض توہمات ہیں جو لغو اور باطل ہیں۔ ہر شخص کا انجام وہی کچھ ہوگا جو اللہ کو منظور ہوگا۔
Ayah 22:77107 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خطاب انفرادی طور پر ہو۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اخروی نجات اور کامیابی کے لئے تین کاموں کا سرانجام دینا نہایت ضروری ہے۔ نماز کی درست طور پر ادائیگی۔ خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کی عبادت جس میں مشرک کی آمیزش نہ ہو۔ اور نیک اعمال کی بجا آوری اور اور یہ خطاب مجموعی طور پر بحیثیت امت سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس قوم میں یہ صفات موجود ہوں ان کی اخروی کامیابی تو یقینی ہے ہی، ان کی دنیا میں بھی کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
سورة حج کے فضیلت یہ ہے کہ اس میں دو سجدے آئے ہیں (لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 189۔ ) 2 ۔ البقرة :189) بھی مقام سجدہ تلاوت ہے۔ اس سورة کا پہلا سجدہ تو متفق علیہ ہے۔ لیکن یہ دوسرا سجدہ اختلافی ہے سجدہ کے قائلین کی دلیل یہ ہے۔ یہاں ایمان لانے والوں کو سجدہ کا حکم دیا گیا ہے۔ اور دوسرے گروہ کی دلیل یہ ہے کہ یہاں رکوع اور سجدہ کا اکٹھا حکم آیا ہے۔ اور جہاں یہ دونوں الفاظ اکٹھے آئیں تو اس سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے کیونکہ یہ دونوں نماز کے ہی جزء اشرف ہیں اور جزء اشرف بول کر اسے کل مراد لینا اہل عرب کا عام دستور ہے۔ بلکہ بعض دفعہ قرآن میں صرف رکوع یا صرف سجود کے لفظ سے بھی پوری نماز مراد لی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں قائلین کا موقف ہی راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض روایات بھی ان کی تائید کرتی ہیں اگرچہ وہ روایات اتنی قوی نہیں ہیں۔
Ayah 22:78108 جہاد کرنے کا حق یہ ہے کہ دامے، درمے، سخنے ہر طرح سے جہاد کیا جائے۔ جہاد دراصل ہر اس بھرپور کوشش کا نام ہے جو امت دین کے لئے اور اس کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کی جائے۔ اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اسے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے دین کے تابع بنا دے۔ اس کا دوسرا درجہ اپنے اہل و عیال اور گھر بار کو پوری کوشش کے ساتھ اس راہ پر ڈالنا ہے۔ پھر اس کے بعد رشتہ داروں کی باری آتی ہے پھر عام لوگوں کی۔
جہاد کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں موقع اور ضرورت ہو انسان زبان سے لوگوں کو اس راہ کی طرف دعوت دے اسلام کی تبلیغ اشاعت کرے۔ اور جہاں موقع اور ضرورت ہو تو صاحب قلم، قلم سے جہاد کریں۔ اسلام کی تعلیم کی اشاعت کرکے لوگوں میں پھیلائیں۔ اور اسلام کے مخالفوں کے اعتراضات کے مدلل جواب دیں۔ اور اس کا آخری درجہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت جہاد بالسیف سے بھی دریغ نہ کریں۔ خواہ اس میں جان اور مال کی قربانی دینی پڑے۔ اور اس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو سربلند کرنا ہو۔ اور یہ ساری اور ہر قسم کی کوششیں جہاد ہی کے ضمن میں آتی ہیں۔ اور ایک مومن کے ایمان کا تقاضا ہیں جس قدر کسی کا ایمان مضبوط ہوگا اس قدر وہ جہاد میں سرگرم عمل رہے گا۔ اس کا ایمان خود اسے ایسی کوششوں کی ترغیب دیتا رہے گا۔
109 یعنی اسلام نے مسلمانوں پر جو فرائض عائد کئے ہیں ان میں ہر قسم کے لوگوں کی مجبوریوں کو بھی ملحوظ رکھا ہے اور سختی نہیں کی۔ مثلاً بوڑھوں، بچوں، عورتوں، اندھوں اور معذوروں کو جہاد بالسیف سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ مسافروں کی نماز میں تخفیف کردی گئی ہے۔ مریضوں کو نماز بیٹھ کر اور زیادہ بیماری میں لیٹ کر، حتیٰ کہ اشارہ سے پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے۔ پانی نہ ملنے پر تیمم کی اجازت ہے۔ اور ایسی مثالیں بیشمار ہیں اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں جو سخت احکام تھے انھیں دور کرکے آسان کردیا گیا ہے اور اس کی مثالیں کسی دوسرے مقام پر گزر چکی ہیں۔ اور اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ رسم و رواج کی پابندیوں اور بعض بزرگان دین کی خود ساختہ عائد کردہ پابندیوں کو ساقط الاعتبار قرار دیا گیا ہے اور اس کی کچھ تفصیل سورة اعراف کی آیت نمبر 157 کے تحت گزر چکی ہے اور اس سے متعلق احادیث سورة بقرہ کی آیت نمبر 158 کے تحت درج کردی گئی ہیں۔
110 تمام انبیاء و رسل کا دین ایک ہی رہا ہے اور یہاں بالخصوص جو حضرت ابراہیم کے دین کا نام لیا، دین موسوی یا عیسوی وغیرہ کا نام نہیں لیا، تو اس کی چند وجوہ ہیں۔ جو یہ ہیں :
1۔ آپ کو یہودی، عیسائی، مسلمان حتیٰ کہ صابی بھی اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور آپ سب کے ہاں یکساں محترم ہیں۔
2۔ اہل عرب میں سے اکثر قبائل آپ کی ہی اولاد تھے اور آپ ان کے جد اعلیٰ ہیں۔
3۔ رسول اللہ ﷺ تمام مسلمانوں کے روحانی باپ ہیں اور حضرت ابراہیم رسول اللہ ﷺ کے جدامجد تھے۔ لہذا حضرت ابراہیم تمام مسلمانوں کے باپ ہوئے۔
واضح رہے کہ دین کے بجائے ملت کا لفظ آیا ہے۔ اور یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ دین صرف ان احکام و فرامین کا نام ہے جو کتاب و سنت یا کسی الہامی کتاب میں مذکور ہوتے ہیں۔ انہی احکام و فرامین کو جب عملی شکل دے کر رائج کردیا جائے تو ایسے نظام کا نام ملت ہے۔ یعنی دین کی عملی شکل جو حضرت ابراہیم نے پیش فرمائی تھی وہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے لہذا ہمیں انہی کی ملت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
111 مسلم کے لغوی معنی ہیں اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم ختم کردینے والا۔ اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والی قوم مسلم ہی تھی۔ ابراہیمی یا نوحی، یا موسوی، یا عیسوی، وغیرہ ناموں سے وہ لوگ نہیں پکارے جاتے تھے۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کے یہ نام رکھے تھے۔ ان کے یہ نام ان کے خود ساختہ تھے یا دوسروں کے تجویز کردہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بھی مسلمان ہی رکھا تھا اور تمہارا نام بھی مسلمان ہی ہے۔
112 اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 14 کا حاشیہ
113 یعنی تمہیں ہر قسم کے احکام و قوانین خواہ یہ درون خانہ سے تعلق رکھتے ہوں یا تمہاری معشیت و معاش سے یا معاشرت و تمدن سے یا داخلی و خارجی پالیسی سے اللہ کے دین سے لینے چاہئیں اور انہی پر پوری طرح عمل پیرا ہونا چاہئے۔ لہذا تم اپنے نام کی لاج رکھو اور جس ہدایت عامہ کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ کو نمونہ بناؤ۔ بدنی اور مالی عبادات میں بھی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ ہر کام میں شریعت سے دوستی حاصل کرو اور جادہ حق سے ادھر ادھر نہ جاؤ۔ اس کے فصل اور رحمت پر اعتماد رکھو اور تمام کمزور سہارے چھوڑ دو ۔ صرف اللہ کو ہی اپنا مالک اور مولی سمجھو۔ اس سے بہتر مالک اور مددگار تمہیں اور کون مل سکتا ہے ؟