Ayah 22:2837 یہ فائدے صرف دینی ہی نہیں بلکہ اس احتیاع حج سے کئی قسم کے سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اور تمام مسلمانوں کو ایک مرکز وحد میسر آتا ہے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ قریش مکہ کو جو بیت اللہ کے متولی تھے پورے عرب میں ایک امتیازی مقام حاصل تھا۔ اور یہ حج کی برکت تھی کہ لوٹ مار کے دور میں بھی کم از کم چار مہینے لوگ امن وامان سے سفر کرسکتے تھے۔ یہ حج ہی کی برکت تھی کہ مکہ ایک عالمی تجارتی منڈی بن گیا تھا۔ اس تجارت سے اگرچہ بیرونی حضرات بھی خاصا فائدہ اٹھاتے تھے۔ تاہم سب سے زیادہ فائدہ۔۔ مکہ ہی کو پہنچتا تھا اور یہ حج کی برکت ہے کہ یہاں سے اٹھائی ہوئی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی تھی۔
38 ایام معلومات سے بعض علماء نے یکم سے دس ذی الحجہ تک کے دن مراد لئے ہیں۔ مگر یہ اس صورت میں جبکہ اللہ کے ذکر کو عام سمجھا جائے اور اگر اللہ کا نام لینے کو قربانی کے جانوروں سے متعلق سمجھا جائے تو یہ بعض کے نزدیک 10 ذی الحجہ اور اس کے بعد دو دن ہیں۔ اور بعض کے نزدیک تین دن یعنی 13 ذی الحجہ کی عصر تک ان کے نزدیک قربانی کرنا جائز ہے۔
بھیمہ الانعام سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری وغیرہ ہیں، جن کی قربانی دی جاتی ہیں اور یہ اسی صورت میں حلال ہوں گے جبکہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لیا جائے۔ اگر اللہ کے سوا کسی اور کا نام بھی لیا جائے یا عمداً اللہ کا نام چھوڑ دیا جائے تو ایسے ذبح شدہ جانور کا کھانا حلال اور جائز نہ ہوگا۔ اور اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو قربانی جائز اور حلال ہی رہے گی جب یاد آئے اسی وقت ہی اللہ کا نام لے لیا جائے۔ اگرچہ ذبح کے وقت کی کئی دعائیں منقول ہیں۔ تاہم مختصر سے مختصر الفاظ جو قربانی کے وقت کہے جاسکتے ہیں، یہ ہیں بسم اللہ اللہ اکبر
39 جاہلی دور میں کئی کام ایسے تھے۔ جنہیں نیکی کے کام اور معروف سمجھ کر بجا لایا جاتا تھا۔ مگر اسلام نے ان میں اصلاح کی۔ جیسے سفر حج میں حجارت نہ کرنا، پیدل روانہ ہونا، مشکل کے وقت بھی قربانی کے جانور پر سوار نہ ہونا، سفر سے واپسی پر گھر کے پچھواڑے سے داخل ہونا، ننگے ہو کر طواف کرنا، صفا و مردہ کے طواف کو اچھا نہ سمجھنا، عرفات کے قیام کو ضروری نہ سمجھنا، ایسے ہی امور میں سے ایک یہ بات تھی کہ وہ قربانی کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ کہہ کر ان کی غلط فہمی کا ازالہ فرما دیا۔
40 اس کا یہ مطلب نہیں کہ قربانی کے گوشت سے غنی قسم کے لوگ کھا ہی نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہے کہ محتاجوں اور فقراء و مساکین کو ضرور شامل کیا جائے۔ اور خود کھانے کا بھی یہ مطلب نہیں کہ اس میں سے ضرور ضرور کھایا جائے بلکہ یہ ہے کہ قربانی کا گوشت خود کھانے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ اور اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا قول یہ ہے کہ ایک حصہ خود رکھ لو۔ ایک حصہ اپنے ہمسایہ اور رشتہ داروں میں تقسیم کردو اور ایک حصہ فقراء مساکین میں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ تینوں حصے برابر برابر ہوں۔ بلکہ حسب ضرورت اس میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے اور بہتر یہ ہے کہ اپنے لئے حصہ تیسرے سے کم رکھا جائے اور فقراء کے لئے تیسرے حصہ سے زیادہ۔
Ayah 22:2941 یعنی دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے کے بعد حج کرنے والے حضرات حجامت بنوائیں، ناخن کٹوائیں، نہائیں دھوئیں، اور راستے کی گرد اور میل کچیل دور کریں۔ اور احرام کھول کر عام لباس پہن لیں۔ اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ احرام کھولنے کے بعد احرام کی دوسری پابندیاں تو ختم ہوجاتی ہیں مگر اپنی بیوی کے پاس جانا اس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب آدمی طواف افاضہ نہ کرلے۔ جس کا ذکر اسی آیت کے آخری جملہ میں ہے۔
42 یعنی جو بھی نذر کسی حاجی نے اس موقع کے لئے مانی ہو۔ اور بعض کے نزدیک نذر سے مراد وہی قربانی یا قربانیاں ہیں جن کا حاجی نے ارادہ کر رکھا ہو۔
43 عتیق کا ایک معنی آزاد ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر پر کسی ظالم اور جابر بادشاہ کا قبضہ نہیں ہوسکتا اور ایسے حملہ آوروں کا وہی حشر ہوگا جو اصحاب الفیل کا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کی یورش کے بعد بھی تاقیامت بیت اللہ کا طواف اور حج آزادانہ طور پر ہوتا رہے گا۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بیت اللہ کا نام بیت العتیق اس لئے ہوا کہ اس پر کبھی کوئی ظالم غالب نہیں ہوا (ترمذی، ابو اب التفسیر)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ (قیامت کے قریب) ایک لشکر کعبہ پر چڑھ آئے گا۔ جب وہ بیداء کے کھلے میدان میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب ماللہ کر فی الاسواق) البتہ قیامت کے بالکل نزدیک ایک چھوٹی پنڈلیوں والا کالا حبشی کعبہ کو گرانے آئے گا اور وہ اسے گرا دے گا۔ آپ نے فرمایا : گویا میں کعبہ کے گرانے والے کو دیکھ رہا ہوں، ایک کالا پھڈا اس کا ایک ایک پتھر اکھیڑ رہا ہے (بخاری، کتاب المناسک، باب حرم الکعبہ~ن)~ اور عتیق کا دوسرا معنی ہر وہ چیز ہے جس کے قدیم ہونے کے باوجود اس کی شرافت، نجابت اور احترام میں کوئی فرق نہ آئے۔ زندہ جاوید۔ اسی لحاظ سے کعبہ کو بیت العتیق کہتے ہیں۔
دس ذی الحجہ کو رمی الحجار، قربانی، غسل اور احرام کھولنے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرنا ضروری ہے اور اس طواف کو طواف افاضہ یا طواف زیارت کہتے ہیں اور یہ طواف حج کا رکن ہے اور واجب ہے۔ احرام کی پوری پابندیاں اس طواف کے بعد ہی ختم ہوتی ہیں۔ اور اگر طواف کرنے والا۔۔ یا لاغر ہو تو سوار ہو کر بھی طواف کیا جاسکتا ہے چناچہ حج اور قربانی کے کچھ احکام تو سابقہ چار آیات میں مذکور ہوچکے اور کچھ آئندہ آیات میں بتلائے جارہے ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کہ یہاں کچھ متعلقہ مسائل اور احادیث بھی درج کردی جائیں اور وہ حسب ذیل ہیں :
1۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ آپ نے عید الضحیٰ کے دن خطبہ کے دوران فرمایا : آج کے دن ہمیں پہلے نماز ادا کرنا چاہئے۔ پھر واپس جاکر قربانی کرنا چاہئے۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہماری سنت پر چلا اور جس نے قربان (نماز سے پہلے) کرلی۔ اس کی قربانی ادا نہیں ہوئی بلکہ اس نے اپنے گھر والوں کے لئے گوشت کی خاطر بکری کاٹی اس پر ابو بردہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے تو نماز سے پہلے ہی ذبح کرلیا اور اب میرے پاس کوئی بکری نہیں) صرف ایک جذعہ (ہٹھیا) ہے جو مسنہ (دوندی یا دو سال کی) بہتر ہے آپ نے فرمایا : اچھا اب وہ قربانی کرلو اور تمہارے بعد کسی کو ایسا کرنا کافی اور درست نہ ہوگا (بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الذبح بعدالصلوۃ)
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ قربانی نماز عید کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔ دوسرے اگر بکری قربانی دینا ہو تو اس کا مسنہ ہونا ضروری ہے۔
2۔ حضرت یونس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کئے۔ میں نے دیکھا۔ آپ اپنا پاؤں ان کے منہ کے ایک جانب رکھے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب من ذبح الاضاحی بیدہ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (1) قربانی کا جانور خوبصورت اور موٹا تازہ ہونا چاہئے (2) ایک شخص ایک سے زیادہ قربانیاں بھی دے سکتا ہے۔ (3) جانور کو لٹا کر اور اسے خوب قابو کرکے ذبح کرنا چاہئے۔ (4) ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ (5) اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا افضل ہے۔
3۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ : ہم منیٰ میں تھے کہ گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا : یہ کہاں سے آیا ہے صحابہ نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کی طرف سے ایک گائے قربانی کی ہے (بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الاضحیہ~ن~ للمسافرو النسائ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (1) صاحب استطاعت کو اپنے گھر والوں کی طرف سے الگ قربانی دینا سنت ہے۔ (2) حج کرنے والوں کو قربانی منیٰ کے مقام پر کرنا چاہئے۔
4۔ حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اسی مذبح میں قربانی ذبح کیا کرتے تھے جہاں رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے (بخاری۔ کتاب الاضاحی۔ باب الاضحیٰ والمخر بالمصلی)
یعنی منیٰ بھی سارے کا سارا علاقہ مذبح نہیں۔ بلکہ قربانی مذبح خانہ میں جاکر کرنا چاہئے۔
5۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے حج (10 ھ) کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتلاتے ہیں کہ : ایک نحر کی جگہ آئے تو ٹریسٹھ (63) اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے باقی سینتیس (37) حضرت علی ؓ کو دیئے جو انہوں نے نحر کئے۔ اور ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب۔۔ النبی )~
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (1) دو آدمی مل کر بھی قربانی کرسکتے ہیں۔ (2) قربانی جتنی زیادہ سے زیادہ کوئی دے سکتا ہو 1، دینا چاہئے۔
6۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو انسان کے عملوں میں خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں ہے (ترمذی۔ مع تحفہ~ن~الاحوذی ج 2 ص 352)
7۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں دس سال رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے (ترمذی حوالہ ایضاً )
8۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو شخص استطاعت رکھتا ہو۔ پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے (ابن ماجہ، کتاب الاضاحی۔ اردو ص 381 مطبوعہ مکتبہ سعودیہ، کراچی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی اگرچہ ہر مسلمان پر واجب نہیں تاہم صاحب استطاعت کے لئے سنت موکدہ ضرور ہے۔
9۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : مسنہ (بکری وغیرہ جو ایک سال کی ہو کر دوسرے میں لگی ہو) کی قربانی کرو۔ البتہ جب ایسا جانور نہ مل رہا ہو۔ تو جذعہ دنبہ (جو چھ ماہ کا ہو کر ساتویں میں لگا ہو) کرلو (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب سن الاضحیہ)
10۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (حجہ~ن~ الوداع) میں سو اونٹ قربانی کئے اور مجھے حکم دیا کہ ان کا گوشت بانٹ دوں۔ میں نے سارا گوشت بانٹ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا : ان کی۔۔ بھی بانٹ دو میں نے وہ بھی بانٹ دیں۔ پھر آپ نے ان کی کھالیں بانٹنے کا حکم فرمایا، میں نے وہ بھی بانٹ دیں۔ نیز آپ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز قصاب کو مزدوری میں نہ دو (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب لایعطی الجزار من الہدی شیأا)
11۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ عیدالضحیٰ کے دن عید میں شریک ہونے کے لئے دیہات سے (محتاج) لوگ آگئے۔ تو آپ نے فرمایا : قربانی کے گوشت سے تین دن تک کے لئے رکھ لو۔ باقی خیرات کردو۔ (تاکہ محتاجوں کو بھی کھانے کو گوشت مل جائے) بعد میں لوگوں نے عرض کیا کہ : ہم اپنی قربانیوں کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے اور ان میں چربی پگھلاتے تھے آپ نے پوچھا : تو اب کیا ہوا ؟ صحابہ نے عرض کیا : آپ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں ان محتاجوں سے منع کیا تھا جو اس وقت موقع پر آگئے تھے۔ اب تم کھاؤ بھی، صدقہ بھی کرو اور رکھ بھی سکتے ہو (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب النبی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث و نسخہ)
12۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قربانی کا گوشت توشہ کرکے مدینہ تک آئے۔ ابو سفیان نے کہا اس حدیث میں قربانی سے مراد ہدی (مکہ میں کی ہوئی قربانی) ہے۔ (بخاری، کتاب الاضاحی۔ باب اکل من لحوم الاضاحی وما یستو ود منہا)
13۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا۔ وہ ایک شخص کے پاس آئے جس نے نحر کرنے کے لئے اپنا اونٹ بٹھایا تھا۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا : اس اونٹ کو کھڑا کر اور پاؤں باندھ دے (پھرنحر کر) رسول اللہ ﷺ کی یہی سنت ہے۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ نحرالابل مقیدۃ)
14۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ اونٹ اور گائے (کی قربانی) میں سات سات آدمی شریک ہوجائیں (مسلم۔ کتاب الحج باب جواز الاشتراک فی الحج)
15۔ حضرت رائع بن خدیج کہتے ہیں کہ ہم تہامہ کے علاقہ میں ذوالحلیفہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہاں ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے ہم نے جلدی کرکے گوشت کاٹ کر ہنڈیاں چرھا دیں۔ آپ نے ہمیں وہ ہنڈیاں اوندھ دینے کا حکم دیا۔ پھر آپ نے دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر رکھیں۔ (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ جواز الاذبح بکل ما انہر الام)
اس حدیث کو امام مسلم، کتاب الاضاحی میں درج کرکے یہ اجتہاد کیا ہے کہ اونٹ کی قربانی میں دس آدمی تک شریک ہوسکتے ہیں جبکہ گائے، بیل میں صرف سات آدمی ہی شریک ہوسکتے ہیں۔
16۔ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں۔۔ کرے اور اسے اس کا بدلہ کے جانور یا نذر کے جانور میں سے کچھ نہ کھائے۔ باقی سب میں سے کھا سکتا ہے۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب ما یا کل من ائبدن۔۔ )
17۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا (اور خود پیدل چل رہا تھا) آپ نے اسے فرمایا : اسپر سوار ہوجا وہ کہنے لگا : یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے دوبارہ فرمایا : اس پر سوار ہوجا وہ پھر کہنے لگا : یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے تیسری بار اسے فرمایا : ارے کم بخت اس پر سوار ہوجا (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب رکوب البدن۔۔ )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت قربانی کے جانور پر سوار ہونا شعائر اللہ کی تعظیم کے منافی نہیں۔
18۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کا سہارا لئے چل رہا ہے۔ آپ نے پوچھا : اسے کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس نے پیدل کعبہ کو جانے کی منت مانی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو تکلیف دے اور اسے حکم دیا کہ وہ سوار ہوجائے۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ جواب من نذر المشیہ~ن~ الی الکبعہ~ن)~
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیدل سفر حج کار ثواب نہیں بلکہ مکروہ کام ہے اور اگر کسی نے ایسی نیت کی بھی ہو تو اسے پورا نہ کرنا چاہئے۔
19۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ جب مزدلفہ سے منیٰ میں آئے تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور کنکریاں ماریں۔ پھر اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے۔ پھر قربانی کی۔ پھر حجام سے سر مونڈنے کو کہا پہلے داہنی طرف سے پھر بائیں سے پھر وہ بال آپ نے صحابہ کو دے دیئے۔ (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب ان السنہ یوم النحران برمیثم ینحر)
یوم النحر کے کاموں کی از روئے سنت ترتیب یہ ہے پہلے رمی (2) بعد میں قربانی (3) پر حجامت اور احرام کھولنا۔ (3) پر حجامت اور احرام کھولنا اور (4) طواف افاضہ یا طوائف الزیادۃ تاہم ان کاموں میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو کچھ حرج نہیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
20۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : میں نے رمی سے پہلے طواف الزیارۃ کرلیا۔ آپ نے فرمایا کہ حرج نہیں اور ایک شخص نے کہا میں نے شام ہوجانے کے بعد رمی کی آپ نے فرمایا : کچھ حرج نہیں ایک نے کہا : میں نے قربانی سے پہلے سر منڈالیا۔ آپ نے فرمایا : حرج نہیں۔ (بخاری۔ کتاب المناسک، باب الذبح قبل الحلق)
21۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یا اللہ سر منڈانے والوں کو بخش دے لوگوں نے عرض کیا : اور بال کترانے والوں کو ؟ آپ نے دوبارہ فرمایا : یا اللہ بال منڈانے والوں کو بخش دے لوگوں نے پھر کہا، اور بال کترانے والوں کو ؟ غرض آپ نے تین بار سر منڈانے والوں کے لئے بخشش طلب فرمائی اور چوتھی بار فرمایا اور بال کترانے والوں کو بھی (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب الحلق والتقصیر عندالاحلال)
22۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ (قربانی کرنے تک) نہ حجامت بنائے اور نہ ناخن کاٹے (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب النہی من دخل علیہم شر ذی الحجہ۔۔ )
23۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا اور دسویں تاریخ کو ہی طواف الزیارۃ کرلیا۔ پھر ام المومنین حضرت صفیہ کو حیض آگیا۔ آپ نے ان سے صحبت کرنا چاہی۔ تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ تو حائضہ ہیں آپ نے فرمایا : گویا اس نے ہمیں یہاں روک دیا ؟ لوگوں نے کہا وہ دسویں تاریخ کو طواف الزیارۃ کرچکی ہیں آپ نے فرمایا : پھر کیا ہے چلو نکلو (بخاری۔ کتاب المناسک۔ باب الزیارۃ یوم النحر)
اس حدیث سے طوائف الزیارۃ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ جب تک حاجی طواف الزیارۃ نہ کرلے اس کا حج مکمل نہیں ہوتا۔ نہ وہاں مکہ سے رخصت ہوسکتا ہے۔
24۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا : لوگو ! تم پر حج فرض ہے۔ لہذا حج کرو ایک شخص (اقرع بن حابس) کہنے لگا : کیا ہر سال یارسول اللہ ! ؟ آپ خاموش رہے۔ اس شخص نے تین بار یہی سوال کیا پھر آپ نے فرمایا : اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا اور تم یہ کم بجا نہ لاسکتے۔ لہذا مجھے وہاں چھوڑ دو جہاں میں تم کو چھوڑ دوں (بات کرنا بند کردوں) کیونکہ تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جنہوں نے اپنے نبیوں سے بہت سوال کئے اور ان سے بہت اختلاف کرتے رہے۔ تو جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جتنا ہوسکے اسے بجا لاوو۔ اور جب میں کسی بات سے منع کروں تو اس سے رک جاؤ (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب کراھہ اکثار السوال من غیر ضرورۃ، ابن ماجہ باب اتباع السنہ آخری حدیث)
حج اور بالخصوص قربانی کے مسائل کی یہ تفصیل اس لیے دینا پڑی کہ مسلمانوں میں سے ہی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوچکے ہیں۔ جو کہ قربانی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ کبھی وہ یہ کہتے ہیں کہ قربانی صرف مکہ میں ہے اور حاجیوں کے لئے ہے اور ہم لوگ جو ہر شہر اور ہر بستی میں قربانیاں کرتے ہیں ان کا کوئی حکم نہیں۔ کہیں وہ اسے گوشت اور مالی ضیاع سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی یہ درد اٹھنے لگتا ہے کہ جتنی رقم قربانیوں پر خرچ کی جاتی ہے اتنی رقم سے محتاجوں کے لئے کئی رہائشی منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔ اور کبھی کہتے ہیں کہ جتنی رسم کسی قربانی پر صرف ہوتی ہے اتنی رقم صدقہ میں صرف کردی جائے تو بہتر ہے۔ مندرجہ بالا احادیث میں ان کی ان سب باتوں کا جواب اور تردید موجود ہے۔ ایسے لوگ دراصل مغربیت اور مغربی تہذیب سے مرعوب، اس کے شیدائی اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اگر قربانی سے دگنی رقم۔۔ اور اپنی عیاشیوں پر خرچ کردیں تو وہ ان کے نزدیک مالی ضیاع نہیں ہوتا۔ لیکن قربانی میں انھیں کئی طرح کے نقصانات نظر آنے لگتے ہیں۔ بہرحال ان کے سب اقوال خوئے بدرا بہانہ بسیار، کا مصداق ہوتے ہیں۔ انھیں محتاجوں اور فقیروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی اور اگر بالفرض حکومت کوئی ایسا منصوبہ بنا بھی لے تو وہ خود کبھی اس فنڈ میں کچھ دینا گوارا نہ کریں گے۔ ان کی اصل غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ قربانی نہ کرنے کے باوجود بھی وہ مسلمانوں کی نظروں میں بخیل اور چور نہ سمجھے جائیں۔ (ایسے لوگوں کے دلائل کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے میری تصنیف آئینہ پرویزیت حصہ سوم)
Ayah 22:3044 حرمت اللہ سے مراد اللہ کی حرام کردہ اشیاء بھی ہیں اور قابل احترام اشیاء یعنی شعائر اللہ بھی۔ یعنی ان سب چیزوں کی حرمت و احترام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے اور تعمیر کعبہ کا اولین مقصد یہ تھا کہ اسے شرکیہ اعمال و افعال اور بتوں کی نجاستوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔ اور قریش مکہ نے ایسی نجاستوں کا بھی۔۔ خیال نہ رکھا اور جو لوگ اللہ کی توحید کے قائل تھے ان کے بیت اللہ میں داخلہ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ گویا اللہ کے گھر اور اس کے شعائر کی ہر طرح سے توہین کی۔ نیز اس مقام پر حرمت سے مراد عموماً حج، عمرہ، کعبہ، قربانی اور احرام سے متعلق احکام ہیں۔ جیسے کسی۔۔ لڑائی جھگڑا کرنے، احرام کی حالت میں شکار کرنے اور صحبت کرنے سے بچنا اور ایسے احکام کا پورا پورا پاس رکھنا ضروری ہے اور یہ چیز ان کے حق میں ہیں اور اللہ کے ہاں بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے۔
45 یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام چرنے والے چوپائے انسان کے لئے حلال قرار دیئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کا ذکر پہلے کئی مقامات پر آچکا ہے اور وہ ہیں مردار خواہ وہ جانور کسی بھی طریقہ سے مرگیا ہو (2) ہر وہ جانور یا چیز جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کی جائے اس جملہ میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ مشرکین مکہ نے جو بحیرہ وصیلہ، سائیہ اور حام قسم کے مویشی حرام قرار دے رکھے ہیں۔ یہ قطعاً اللہ کی طرف سے حرام کردہ نہیں ہیں۔
46 یعنی آستانوں کی آلائشوں اور بتوں کی پرستش سے یوں بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے اور اسے اس گندگی کے نزدیک جانے سے بھی گھن آتی ہے۔ تمام جانور اللہ کی مخلوق و مملکوک ہیں۔ لہذا اسی کے نام پر اور اسی کے لئے کعبہ کی نیاز ہوسکتے ہیں۔ کسی۔۔ یا آستانہ پر ذبح کیا ہوا جانور مردار کی طرح حرام اور نجس ہے۔ لہذا ایسے کاموں سے بچنا ضروری ہے۔
47 قول الزور میں دونوں الفاظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ زور کے معنی صرف جھوٹ نہیں بلکہ ہر وہ بات ہے جو حق سے ہٹی ہوئی ہو اور اس کی کئی قسمیں ہوسکتی ہیں۔ قول الزور کے مقابلہ میں قرآن میں قولاً سدیداً کے الفاظ آئے ہیں یعنی ایسی بات جس مسیں کوئی رخنہ، ایہام، ہیرا پھیری اور۔۔ نہ ہو اور قول الزور ایسی بات ہے جس میں یہ باتیں، ان میں سے کوئی ایک موجود ہو اور صاحب فقہ اللغہ~ن~ کے نزدیک زور ایسا جھوٹ ہے جسے بنا کر سنوار کر پیش کیا جائے کہ وہ بھلا اور درست معلوم ہو۔ اس لحاظ سے اللہ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں کو غیر اللہ سے نامزد کرکے انھیں ذبح کرنا، بلادلیل شرعی حلال کو حرام بنانا اور حرام کو حلال بنالینا یہ سب قول الزور ہی کی اقسام ہیں اور افتراء علی اللہ بھی ہیں۔
ہر قول الزور کی ایک قسم شہادۃ السور ہے۔ یعنی ایسی شہادت جس میں ہیرا پھیری سے کام لیا جائے۔ اہم واقعہ کو غیر اہم اور غیر اہم کو اس طرح اہم بنا کر پیش کیا جائے۔ جس سے کسی ایک فریق کی حق تلفی ہوجائے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاوے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ یہاں اس آیت میں شرک کے ساتھ ہی قول الزور کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ آپ نے فرمایا : میں تمہیں بڑے بڑے گناہ بتلاؤں ؟ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ضرور بتلائیے فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اس وقت آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا : جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا، سن لو ! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا آپ برابر یہی الفاط دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں سمجھا کہ آپ چپ ہی نہ ہونگے (بخاری۔ کتاب الادب باب عنوان الوالدین من الکبائر)
Ayah 22:3148 حنفاء حنیف کی جمع ہے۔ اور حنیف بھی تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر استقامت کی طرف مائل ہونا (مفردات القرآن) اور حنیف وہ شخص ہے جو تمام باطل راہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ کی طرف آجائے۔ اور وہ سیدھی راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، عبادت و تصرفات میں کسی بھی چیز کو ذرہ برابر بھی شریک نہ سمجھا جائے۔
49 انسان تمام مخلوقات سے اشرف و افضل پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا اس کے لئے سزاوار یہی بات ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے خالق ومالک کے سامنے سر جھکائے اسی سے اپنی حاجات طلب کرے اور اسی کی عبادت کرے۔ اب اگر وہ اللہ کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کی عبادت کرے، اس کے آگے سر جھکائے یا حاجات روا کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اعلیٰ چیز اپنے سے کمتر درجہ کی چیز کے سامنے جھک گئی یا اگر وہ کسی انسان کے سامنے سرجھکائے تو بھی مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہی جیسی محتاج مخلوق کے آگے جھک رہا ہے اور یہ بھی انسانیت کی تذلیل ہے۔ ایسے شخص کی مثال یہ ہے جیسے وہ توحید کی بلندیوں سے شرک کی پستیوں میں جاگرا۔ اور اب وہ اپنے جیسے دوسرے مشرکوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ جو اسے کبھی کسی در پر جانے کا مشورہ دیں گے کبھی کسی دوسرے کے آستانہ پر جانے کا۔ حتیٰ کہ یہ شکاری پرندے اسے مکمل طور پر گمراہ اور بےایمان کرکے ہی چھوڑیں گے۔ اور اگر وہ ان سے کسی طرح بچ بھی گیا تو اللہ کے مقابلہ میں اس کی دینی خواہشات نفس ہی گمراہی کے گڑھے میں جا گرانے کو کافی ہیں۔ اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی بذات خود بھی شرک ہی کی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔
( اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ۭ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 23) 45 ۔ الجاثية :23) یعنی اگر وہ دوسرے مشرکوں کے ہتھے نہ بھی چڑھے تو اس کا اپنا نفس ہی اسے گمراہ کرنے کو کافی ہے
Ayah 22:3250 یعنی جس شخص کے دل میں اللہ کا تقویٰ اور اللہ کی محبت جاگزیں ہو وہ ان چیزوں کا ضرور ادب کرے گا جو اس کے نام سے منسوب ہیں یا جنہیں شعائر اللہ کہا جاتا ہے۔ ان چیزوں کی توہین یا بےحرمتی، بےادبی وہی شخص کرسکتا ہے۔ جس کے دل میں نہ اللہ کا خوف ہو اور نہ اس کی محبت ہو۔ واضح رہے کہ اللہ کے نام منسوب کردہ اشیاء کی تعظیم باادب کرنا شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔ شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کے نام منسوب کردہ چیزوں کا ایسے ہی ادب و احترام کیا جائے جیسا کہ اللہ کی طرف منسوب اشیاء کا کیا جاتا ہے۔
Ayah 22:3351 یہ مقررہ وقت وہ وقت ہے جب قربانی کا جانور حرم کی حدود میں یا مذبح میں پہنچ جائے۔ اس سے ان قربانی کے جانوروں سے یہی کئی طرح کے فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً بوقت ضرورت ان پر سوار ہونا، ان کا دودھ دوہنا، ان کی اون حاصل کرنا ان سے نسل چلانا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اسی سورة کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 17 سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کا جانور ہانکنے والے ایک شخص کو اس پر سوار ہوجانے کا تاکید سے حکم دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں سے فائدہ حاصل کرنا تعظیم کے منافی نہیں بلکہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے۔ دل میں ان اشیاء کی محبت اور قدر ضرور ہونی چاہئے۔ نیز قربانی کے جانوروں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرنا مشرکوں کا کام تھا کہ جس جانور کو کسی بت کے نام منسوب کرتے تو اس سے کچھ فائدہ حاصل کرنے کو گناہ سمجھتے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی۔
بعض مفسرین نے مقررہ وقت سے مراد یہ لی ہے کہ جب تک جانور کو اللہ کے نام منسوب نہ کردیا جائے یا ہدیٰ نہ بنادیا جائے۔ یہ مراد اس لئے درست نہیں کہ اللہ کے نام منسوب کرنے سے تو فوائد حاصل نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اس آیت میں اجازت کس چیز کی دی جارہی ہے نیز محولہ بالا حدیث بھی اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 22:3452 اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کی شریعتوں میں اللہ کے حضور قربانی پیش کرنا ایک لازمی جزو رہا ہے۔ اگرچہ اس قربانی کی تفصیلات اور جزئیات میں اختلاف رہا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسری چیز کے سامنے یا دوسری چیز کے لئے قربانی پیش کرے گا۔ یہ تو شرک فی العبادت ہے کیونکہ قربانی اور نذر و نیاز سب مالی عبادتیں ہیں۔ لہذا یہ عبادات کسی دوسرے کے لئے بجا لانا یا ان میں کسی دوسرے کو شریک کرنا عین شرک ہے۔ اسی لئے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تمہارا الٰہ تو صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ پھر دوسروں کو اس کی عبادت میں کیوں شریک بناتے ہو ؟53 یہاں لفظ مخبتین استعمال ہوا ہے۔ اور خبت النار بمعنی آگ کا شعلہ ختم ہوجانا اور کوئلہ یا انگارہ پر ساکھ کا پردہ چڑھ جاتا ہے۔ (مفردات القرآن) اور مخبت سے مراد ایسا شخص ہے جس نے اللہ کے احکام کے سامنے اپنے پندار نفس اور خواہشات نفس کو ختم کردیا ہو۔ نیز اس کے معنوں میں عاجزی اور نرمی اور تواضع سب کچھ شامل ہوتا ہے۔
Ayah 22:3554 ان کے دل اس بات سے سہم جاتے ہیں کہ مبادا ان سے کوئی کام اللہ کی مرضی اور منشاء کے خلاف سرزد ہوجائے۔ عمداً شرکیہ افعال بجا لانا تو بڑی دور کی بات ہے اور اس آیت میں مصیبت پر صبر کرنا، نماز کے قیام اور خرچ کرنے کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ سفر حج میں عموماً تکلیفیں بھی پیش آتی رہتی ہیں۔ نمازوں کے قضا ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے اور خرچ بھی خاصا اٹھتا ہے۔ لہذا یہ فرما دیا کہ اللہ کے حضور متواضع رہنے والوں میں یہ سب خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ یہ مطلب تو ربط معنوں کے لحاظ سے ہے تاہم ان کا حکم ہر حالت میں عام ہے۔
55 یہاں رزق سے مراد حلال اور پاکیزہ کمائی ہے کیونکہ رزق حرام کی نسبت اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنی طرف نہیں فرمائی۔ نہ رزق حرام سے صدقہ یا قربانی یا سفر حج کے اخراجات قابل قبول ہوتے ہیں۔ اور خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں یا اللہ کے احکام کے تابع رہ کر خرچ کرنا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص اسراف و تبذیر سے کام لیتا ہے یا سینما بینی اور فحاشی کے کاموں پر خرچ کرتا ہے تو یہ انفاق کی شرعی اصطلاح کی ذیل میں ہرگز نہیں آتے۔ بلکہ ایسے سب کام گناہوں کے کام ہیں۔
Ayah 22:3656 بدن کے لفظ کا اطلاق لغوی طور پر ہر عظیم الجثہ جانور پر ہوسکتا ہے۔ تاہم عرب میں یہ لفظ اونٹنوں کے لئے ہی مختص ہوگیا ہے۔ پہلے شعائر اللہ کا عمومی ذکر ہو رہا تھا۔ اب یہ ذکر کیا گیا کہ قربانی کے اونٹ بھی اللہ کے شعائر سے ہیں اور ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے اور بھلائیاں ہیں۔ تم ان پر سواری کرتے ہو۔ بار برداری کا کام لیتے ہو۔ دودھ اور اون اور بچے حاصل کرتے ہو۔ حتیٰ کہ ان کی کھالوں اور ہڈیوں سے بھی کئی طرح کے فوائد حاصل کرتے ہو اور چونکہ قربانی کے اونٹ قابل تعظیم ہیں لہذا ذبح کے وقت انھیں ہر ممکن سہولت پہنچاؤ۔
57 لفظ صواف اور معنوں میں استعمال ہو رہا ہے ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اگر قربانی کے اونٹ زیادہ ہوں تو پہلے انھیں صف بستہ کھڑا کرلیا جائے۔ پھر باری باری نحر کیا جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انھیں کھڑے کھڑے ہی نحر کیا جائے۔ انھیں بٹھا کر ذبح نہ کیا جائے۔ جیسا کہ اسی سورة کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 13 سے واضح ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اونٹ کا اگلا دایاں یا بایاں پاؤں رسی سے باندھ دیا جائے۔ پھر کسی نیزے، برچھے یا تیز دھار آلہ کو اس کے گلے یا سامنے کے حصہ میں چبو دیا جائے۔ تاکہ کھڑے کھڑے ہی ان کا خون نکل جائے۔
58 خون نکلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اونٹ از خود اپنی کسی دائیں یا بائیں پہلو پر گرپڑے گا۔ اس کی کھال اس وقت نہ اتاری جائے۔ جب تک تڑپنا بند نہ کردے۔ یا زندگی کی کچھ بھی رمق اس میں باقی ہو۔
59 یعنی حاجت مند بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کہ جو کچھ اللہ نے انھیں دے رکھا ہے، اسی پر صابر و شاکر رہتے ہیں۔ اور ضرورت مند ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے اور بعض حالات میں عام لوگوں کو ان کی احتیاج کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ حقیقتاً ایسے ہی لوگ صدقات و خیرات کے صحیح مستحق ہوتے ہیں۔ اور دوسرے وہ احتیاج سے مجبور ہو کر لوگوں سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ اس قربانی کے گوشت میں دو طرح کے لوگوں کو اللہ نے کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ایک عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر مدینہ کے آس پاس رہنے لوگ محتاج لوگ بکثرت مدینہ آگئے۔ تو آپ نے صحابہ کو حکم دے دیا کہ کوئی شخص تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ نہیں سکتا۔ جو کچھ زائد ہو سب خیرات کردیا جائے۔ لیکن یہ حکم صرف ان محتاجوں کی آمد کی وجہ سے تھا۔ جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ (مسلم۔ کتاب الاضاحی۔ باب الہی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث و سیخہ) تاہم ایسے نسخ کا مطلب اتنا ہی ہوتا ہے کہ اگر آج بھی ویسے ہی حالات سامنے آجائیں۔ کہ محتاج بکثرت ہوں جو خود قربانی دینے کے قابل نہ ہوں یا اتفاقاً اکٹھے ہوجائیں تو آج بھی وہی پہلا حکم ہی لاگو ہوگا۔
60 یعنی اپنے عظیم الجثہ جانوروں کو طاقت کے لحاظ سے ان سے کئی گنا بڑھ کر ہیں، تمہارے لئے ایسا مسخر بنادیا ہے کہ وہ ان سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتا ہے اور بوقت ضرورت انھیں ذبح بھی کر ڈالتا ہے مگر وہ اس کے سامنے چون و چرا کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔۔۔ ان نعمتوں کے لئے تمہیں اللہ کا شکر گزار اور اطاعت گزار بننا چاہئے۔
Ayah 22:3761 مشرکین کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کسی بت کے نام پر کوئی قربانی کا جانور ذبح کرتے تو اس کا گوشت اس کے سامنے رکھ دیتے اور اس کا خون بت کے جسم پر مل دیتے تھے۔ بتوں کے سامنے رکھا ہوا گوشت تو بتوں کے مجاوروں کے کام آتا تھا اور وہی ان بتوں کو بعد میں صاف بھی کر ڈالتے تھے۔ اور جب وہ اللہ کے نام کی قربانی کرتے تو بھی گوشت کعبہ کے سامنے لا رکھتے اور خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑا دیتے یا اس پر اس خون کے چھینٹے ڈالتے۔ گویا ان کے خیال کے مطابق قربانی کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس کا گوشت اور خون پیش کردیا جائے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس جاہلی نظریہ کی تردید کرتے ہو وے فرمایا کہ اللہ کو نہ تمہارے قربانی کے جانوروں کے گوشت کی ضرورت ہے اور نہ خون کی۔ خون تو ویسے ہی حرام اور ناپاک چیز ہے اور گوشت تم خود ہی کھا سکتے ہو اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ اللہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ تم نے کس نیت، خلوص اور محبت کے ساتھ اللہ کے حضور یہ قربانی پیش کی ہے۔ تمہاری نیت میں جس قدر خلوص اور تقویٰ ہوگا وہی اللہ کے حضور اس قربانی کی قدروقیمت ہوگی۔
بعض لوگ قربانی محض رسم کے طور پر بجا لاتے ہیں۔ بعض اس لئے کہ ہمارے بچے آخر دوسرے کی طرف سے گوشت آنے کی کیوں انتظار کرتے رہیں۔ اور بعض دولتمند اس لئے کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ انھیں طعنہ نہ دیں۔ اور بعض اس لئے کوئی موٹا، عمدہ اور قیمتی جانور قربانی کرتے ہیں کہ لوگوں میں ان کی شہرت ہو۔ اور بعض بخل سے کام لے کر کوئی کمزور اور عیب دار قسم کا جانور قربانی کردیتے ہیں۔ ایسے سب لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے۔ کہ اللہ تعالیٰ صرف یہ دیکھتا ہے آیا اس بندہ نے جو قربانی کی ہے وہ اللہ کی احسان مندی اور شکر بجا لاتے ہوئے شوق و محبت سے کی ہے یا نہیں۔ اگر کسی کی نیت ہی لنگڑی لولی ہو تو اگر وہ کوئی موٹا تازہ جانور بھی قربان کرے گا تو اس کا اسے کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟۔
62 بڑائی بیان کرنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر یا بسم اللہ واللہ اکبر اور شکر کی ادائیگی کے لئے اللھم منک ذلک (یعنی اے اللہ ! یہ قربانی کا جانور تو نے ہی عطا کیا تھا اور تیری رضا کے لئے میں اسے قربان کر رہا ہوں) پڑھنا چاہئے۔
63 جب ستم رسیدہ سید مسلمان ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آئے تو انھیں کئی قسم کے غم اور تفکرات لاحق تھے۔ گھر بار اور اپنا وطن مالوف چھوڑنے کا غم یا مدینہ میں آپ ہوا کی ناسازگاری، ذریعہ معاش کی فکر، کفار مکہ کی ایذا رسانیوں کی یاد جو انھیں بےچین کردیتی تھی۔ مزید ستم یہ کہ مدینہ میں آنے کے بعد بھی کفار مکہ نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ علاوہ ازیں ایک بڑا غم مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے دور ہوجانے کا تھا۔ جسے اب وہ دیکھ بھی نہ سکتے تھے۔ مناسک حج وعمرہ بجا لانا تو دور کی بات تھی۔ انھیں حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی طرف سے کافروں کی مدافعت کر رہا ہے اور وہ بتدریج ایسے حالات پیدا کردے گا کہ مسلمانوں کے لئے سب راہیں کھل جائیں گی۔ اور ان کے دشمن ہی بالآخر غائب و حاضر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کو کئی ایسے احکام دیئے گئے ہیں جن سے ان کی مناسک حج وعمرہ کی بجا لانے کی حسرت کی کسی حد تک تلافی ہوسکتی تھی۔ اور ان احکام پر حج کرنے والوں سے مماثلت بھی پائی جاتی تھی۔ مثلاً مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ان میں ہر صاحب استطاعت 10 ذی الحجہ کو قربانی کیا کرے چناچہ رسول اللہ نے مدینہ میں دس سال قربانی دیتے رہے نیز مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ یکم ذی الحجہ کا یعنی چاند دیکھنے سے لے کر قربانی کرنے تک نہ حجامت بنوائے اور نہ ناخن کٹوائے۔ نیز یہ کہ مسلمان کسی دوسرے کے ہاتھ میں اپنا قربانی کا جانور بیت اللہ شریف بھیج سکتے ہیں۔ نیز ایام تشریق میں وہ بھی اسی طرح تکبیرات پڑھا کریں جس طرح حاجی حضرات ان دنوں میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔
Ayah 22:3864 اللہ تعالیٰ اہل حق کا فریق اس لئے بنتا ہے کہ فریق ثانی خائن اور بددیانت بھی ہے اور ناشکرا بھی۔ بددیانت اور خائن اس لحاظ سے کہ اللہ نے انھیں کعبہ کی تولیت کی امانت سپرد کی تو انہوں نے اہل حق کو کعبہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی اور ناشکرے اس لحاظ سے ہیں کہ ان کو سب نعمتیں تو اللہ نے دی ہیں مگر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اپنی ساری نیاز مندیاں اور عبادتیں بتوں کے لئے وقف کردیں۔
Ayah 22:3965 مکہ میں جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے تو اس وقت بعض جرأت مند صحابہ نے ان کافروں سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی تھی مگر اس وقت اللہ نے انھیں ایسی اجازت نہیں دی۔ بکہ صبر و استقامت سے ظلم کو برداشت کرنے کی ہی تلقین کی جاتی رہی۔ پھر جب مسلمان مدینہ میں منتقل ہوگئے اور ایک چھوٹی سی اسلام مملکت کی داغ بیل پڑگئی، جو صرف مدینہ کے ایک چھوٹے سے قصبے تک محدود تھی۔ مسجد نبوی تعمیر ہوگئی جو مسلمانوں کے ہر طرح کے معاملات میں ہیڈ کو ارٹر کا کام دیتی تھی۔ مہاجرین کے مسولہ معاش کو مواخات کے ذریعہ کسی حد تک حل کرلیا گیا۔ یہودی قبائل اور مشرک قبائل سے امن و آشتی کے ساتھ آپس میں رہنے کے ماہدات طے پاگئے۔ اور مسلمان اس قبل ہوگئے کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ تو ان کو کافروں سے جہاد کرنے کی اجازت مل گئی۔ اور یہی وہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو مدافعانہ جنگ کی اجازت دی گئی اور اس اجازت کی وجہ صاف الفاظ میں بتلا دی گئی کہ یہ اجازت انھیں اس لئے دی جارہی ہے کہ ان پر مسلسل ظلم ڈھائے جاتے رہے ہیں۔ یہ اجازت سن 1 ہجری کے آخر میں ملی تھی۔ بعد میں بہت سی ایسی آیات نازل ہوئیں جن میں صرف مدافعانہ جنگ کی اجازت ہی نہیں بلکہ ہر اس قوت سے بھڑ جانے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا جو اللہ کے دین کے راستہ میں مزاحم ہورہی ہو۔
66 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ جہاد و قتال کے بغیر بھی مسلمانوں کی مدد کرکے انھیں غالب کر دے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ مسلمانوں کو بےسروسامان، تنگدست اور مٹھی بھر جماعت کو ان کفار مکہ پر غالب کردے جو اسلحہ، مال و دولت اور تعداد ہر لحاظ سے مسلمانوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔ مزید برآں تمام مشرک قبائلی اور یہود بھی ان کے معاون و مددگار ہیں۔
Ayah 22:4067 مسلمانوں کو یہ سب مصائب اس لئے جھیلنا پڑے اور انھیں صرف اس جرم بےگناہی کی سزا دی جاتی رہی کہ وہ صرف ایک اللہ کے پرستار تھے۔ مکہ میں جس قدر مظالم ڈھائے گئے یہ داستان اتنی طویل اور خونچکاں ہے جس کا بیان یہاں ممکن نہیں اور اس کے لئے ایک الگ کتاب درکار ہے اس بات کا کچھ تھوڑا بہت اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مکی دور میں خود رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدس پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے اور سازشیں تیار کی گئیں ان کا مختصر ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر 67 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔
68 اس آیت میں الناس سے مراد مشرکین اور اللہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب بدی قوت زور پکڑنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل حق کا ساتھ دے کر، خواہ وہ اہل حق کتنے ہی تھوڑے اور کمزور ہوں، بدی کا زور توڑ دیتا ہے۔ وہ قوت جسے اپنے سرنگوں ہونے کا تصور تک بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اللہ انھیں حق و باطل کے معرکہ میں لاکر اور اہل حق کی امداد کرکے انھیں صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کردیتا ہے۔ اللہ کا یہ قانون اگر جاری وساری نہ ہوتا تو مشرکین اور باطل قوتیں اہل حق کو کبھی جینے نہ دیتیں نہ ہی ان کے عبادت خانے برقرار رہنے دیتیں جن میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کے بجائے بس بت خانے۔۔ اور آستانے ہی دنیا میں نظر آتے۔
اس آیت میں صومعہ کا لفظ راہب قسم کے لوگوں کے عبادت خانوں کے لئے بیع (جمعہ بیعہ) عیسائیوں کی عبادت گاہ یا گرجا کے لئے صلوت یہودیوں کی عبادت گاہوں کے لئے اور مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور اب مسلمانوں کو جو جہاد و قتال کی اجازت دی جارہی ہے۔ تو وہ اللہ کے اسی قانون کے مطابق ہے کہ اللہ اہل حق کی امداد کرکے باطل کا سر کچل لدے۔ اس آیت میں دراصل مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑی بشارت دی گئی ہے اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں مشرکوں کے غلبہ کو روکا اور اہل حق کو ان سے بچایا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہی اسرائیل کو مشرکوں کے شر سے محفوظ رکھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں نصاریٰ کو اسی طرح اللہ تعالیٰ یقیناً مسلمانوں کو بھی مشرکین کے شر سے محفوظ رکھے گا اور انھیں غلبہ عطا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردینے اور اہل ایمان کے حق میں انھیں ساز گار بنانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 22:4169 اس آیت اسلامی طرز حکومت کے خدوخال اور حکومت چلانے والوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ اسلام میں ریاست کا قیام اصل مقصود نہیں بلکہ یہ کسی دوسرے عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہذا ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں بھی غیر اسلامی ریاستوں سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً ایک غیر اسلامی ریاست کی ذمہ داریاں محض یہ ہیں کہ پولیس کے ذریعہ امن بحال رکھا جائے۔ انتظامیہ کے ذریعہ حکومت کاروبار چلایا جائے اور فوج کے ذریعہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ جبکہ ایک اسلامی ریاست یہ ذمہ داریاں بھی پورا کرتی ہے اور یہ اس کا ثانوی فریضہ ہوتا ہے اس کے قیام کے اولین مقاصد یہ ہیں۔
1۔ پوری ریاست میں نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے۔
2۔ مکروہ کاموں کی روک تھام کی جائے اور اچھے کاموں کو فروغ دیا جائے اور ان اغراض کے لئے محکمہ قائم کئے جائیں اور اس طرح۔
3۔ ملک سے ظلم وجود کو ختم کرکے عدل و انصاف قائم کیا جائے اور اس راہ میں جو باطل قوتیں مزاحم ہوں۔ ان کو دور کیا جائے اور اسی کا نام جہاد ہے۔
علاوہ ازیں چونکہ ایک اسلامی ریاست کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اٹھتی ہے، اسی لئے اسلام نے حکومت کے انتظام و انصرام کو وہ اہمیت نہیں دی جو اخلاقی اقدار کو دی ہے اور یہی چیز ایک اسلامی طرز حکومت کو دوسرے تمام اقسام حکومت سے ممتاز کرتی ہے۔
اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عموماً اور مہاجرین کی خصوصاً اور بالخصوص خلفائے راشدین کی حقانیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ جن کے ذریعہ وہ تمام امور بطریق احسن سرانجام پائے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ اور جن کی داغ بیل خود رسول اللہ ﷺ نے ڈالی تھی۔
70 یعنی ایک ایسی طرز حکومت کے قیام کا تصور خواہ موجودہ حالات ناممکن نظر آرہا ہو لیکن ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو ابابیلوں کے لشکر سے ہاتھیوں کے لشکر کو بھی پٹوا سکتا ہے۔ وہ آخر ایک اہل حق کی کمزور سی جماعت کے مقابلہ میں کفار کے کروفر والے لشکر کو مغلوب کیوں نہیں کرسکتا۔
Ayahs 22:42–4471 ان آیات میں ایک تو رسول اللہ ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ کفار و مشرکین کے انکار، ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت کا واقعہ صرف آپ سے ہی پیش نہیں آیا بلکہ سب سابقہ انبیاء ایسے ہی حالات سے دو چار ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے مصائب پر صبر کیا تھا۔ لہذا آپ بھی صبر کیجئے۔ اور دوسرے یہاں ایک قانون بیان کیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ انبیاء اس وقت مبعوث کئے جاتے ہیں۔ جب معاشرہ میں خاصا بگاڑ پیدا ہوچکا ہو۔ لوگ اللہ وحدہ کو بھول چکے ہوں۔ شرک کی وبا عام ہو۔ غریبوں اور کمزوروں کو ظلم و تشدد ہو رہا ہو۔ حکومت اور قیادت بڑے بڑوں کے ہاتھ میں ہو۔ ان حالات میں جب بنی آکر اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تو جن بڑے بڑے لوگوں پر اس دعوت کی زد پڑتی ہے وہ سب اس نبی اور اس کی مختصر اور کمزور سی پیروکار جماعت کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ جس پر نبی انھیں اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈراتا ہے اور جب عذاب میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ بڑے بڑے فوراً یہ کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے کیوں نہیں آتے ؟ گویا نبی کی تکذیب کے لئے انھیں ایک اور دلیل ہاتھ آجاتی ہے۔
72 اللہ کے عذاب یا اس کی گرفت کے لئے بھی ایک قانون ہے۔ یہاں ایسی اندھیر نگری نہیں کہ ادھر کسی نے جرم کیا تو فوراً عذاب الٰہی سے وہ تباہ ہوگیا۔ ایسا ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی۔ اس کے بجائے اس کائنات میں اللہ کا قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اور عذاب کے سلسلہ میں یہی قانون ہے۔ اللہ مجرمین کو مہلت دیتا ہے۔ تاکہ انھیں انتباہ کے بعد سنبھلنے کا اور توبہ کرنے کا موقع میسر ہو۔ اس دوران اگر وہ سنبھل جائیں تو عذاب الٰہی رک جاتا ہے اور اگر نہ رکیں تو بھی عذاب اپنے معینہ مدت پر ہی آتا ہے اور جب اس کا معینہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ آکے رہتا ہے۔
اس آیت میں عذاب کے لئے نکیر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے مادہ نکر میں ناگواری کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور اجنبیت کا بھی لہذا اس کی ضد عرف بھی آتی ہے اور عجب بھی اور نکیر کا لفظ کسی ناگوار بات کے معنوں میں بھی آتا ہے اور کسی ناگوار بات پر گرفت کے معنوں میں بھی۔ پھر نکر کے معنی کسی چیز کی شکل و صورت کو اس طرح بدلنا ہے کہ اس کا حلیہ بگڑ جائے۔ لہذا نکیر کے معنی ایسی گرفت یا عذاب ہوگا جو اس عذاب میں خود لوگوں کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دے۔
Ayah 22:4573 یعنی رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام یہ ہوا کہ ان کی پررونق اور پربہار آبادیاں اور شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ اس عذاب نے صرف آدمیوں کا ستیاناس نہیں کیا بکہ ان کے تعمیر شدہ مکانات بھی زمین بوس ہوگئے۔ کنوئیں ویران ہوگئے۔ جن سے آسانی سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کبھی یہاں انسانوں کی کثیر تعداد آباد ہوگی۔
Ayah 22:4674 یعنی ان تباہ شدہ بستیوں سے جو ان کے راستہ میں پڑتی ہیں یہ لوگ کبھی بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان بستیوں کا ایسا انجام کیوں ہوا ؟ مگر یہ باتیں سوچنے کے لئے تو دیدہ بینا چاہئے اور وہ ان میں ہے نہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لئے آنکھ کی بینائی کی ضرورت نہیں دل کی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے :
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عقل، فہم، فکر، سوچ کو دل سے متعلق کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام قسم کے جذبات مثلاً محبت، ہمدردی، رحم، اخوت اور اس کے برعکس جذبات مثلاً نفرت، کینہ، بغض حسد سب کا منبع دل کو قرار دیا ہے۔ جبکہ جدید طب کی رو سے کم از کم عقلی، فہم، فکر اور سوچ وغیرہ دل سے نہیں بلکہ دماغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ باینہمہ ہر زبان کے محاورہ میں دل ہی کو ان اشیاء کا مرجع قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے مذکورہ بالا شعر میں بھی دل بینا استعمال ہوا ہے یا مثلاً :
ss یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل
ss ٹہلتا ٹہلتا ذرا باغ چل
اس شعر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ارادہ سوچ کے بعد پیدا ہوتا ہے جیسے دماغ کے بجائے دل سے منسوب کیا گیا ہے اور قرآن لوگوں کے اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ موجودہ نظریہ قابل تغیر و تبدل ہے اور عین ممکن ہے کہ اس تحقیق کے بعد نئی تحقیق کے بعد ان تمام اشیاء کا اصل مرکز دماغ کے بجائے دل ہی کو قرار دیا جائے اور دماغ کی تمام تر فکر اور سوچ بھی دل کے خیالات اور جذبات کے تابع ہو۔ لہذا ہمیں ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ بات اسی ہستی کی سب سے زیادہ صحیح ہوسکتی ہے جو خود ان اشیاء کی خالق اور ہر طرح کے قلبی واردات سے پوری طرح واقف ہے۔
Ayah 22:4775 اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ابھرنے والی قوم یا تہذیب کی طبعی عمر ہزار سال ہوتی ہے یا ہونی چاہئے۔ بلکہ یہ الفاظ انسان کے عذاب کو جلد طلب کرنے اور اس کے قانون تدریج و امہال کے مطابق تاخیر میں تقابل کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی قوم کے ظلم و جور میں اس قدر زیادتی واقع ہوجائے تو تین چار صدیاں گزرنے پر بھی اسے تباہ کردیا جائے۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے۔ کہ کوئی قوم یا تہذیب ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ یہ سب باتیں کسی قوم کے گناہوں کی رفتار پر منحصر ہوتی ہیں۔
Ayah 22:4876 یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں تاخیر ہوئی یا سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے اور اخروی زندگی میں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری سزا مل کے رہے گی۔
Ayah 22:4977 یعنی یہ بات میرے اختیار میں نہیں کہ اگر تم عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرو تو میں فوراً وہ عذاب لے آؤں۔ میرا کام صرف تمہیں تمہارے انجام سے ڈرانا ہے اور یہ کام میں پوری ذمہ داری سے سرانجام دے رہا ہوں۔
Ayah 22:5078 رزق کریم یعنی عزت کی روزی کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت کو کچھ ہی کھانے پینے کو ملے گا اعلیٰ قسم کا ہوگا خواہ پھل ہوں، مشروبات ہوں یا دوسری اشیاء جن پر لفظ رزق کا اطلاق ہوتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انھیں کھانے پینے کو دیا جائے گا وہ اعلیٰ قسم کے برتنوں میں اور عزت سے تختوں پر بٹھلا کر پیش کیا جائے گا۔
Ayah 22:5179 یعنی ہماری آیات کا انکار کرکے اور پھر اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کو دبا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے البتہ ان کی ان کرتوتوں کے عوض انھیں جہنم کا عذاب ضرور ہوگا۔