Ayah 23:11 افلح (مادہ۔۔ل ح) میں تین باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں (1) پھاڑنا (2) کامیابی اور (3) بقا (مقائیس اللغۃ) اور فلاح بمعنی کسان جو بیج بونے کے لئے زمین کو پھاڑتا، فصل پکنے پر کامیابی سے ہمکنار ہونا اور اس سے فائدہ اٹھانے پر اپنی مراد پاتا ہے۔ گویا افلح کے معنی ایسا کامیاب ہونا ہے جو کسی کے اپنے عمل اور محنت کے نتیجہ میں ہو۔
یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور اس دور میں نازل ہوئی جب مسلمانوں کے کامیابی ہونے کا تصور بھی محال تھا اور ان پر عرصہ حیات ہی تنگ کردیا گیا تھا اور اگر اسلام لانے سے پہلے کسی مسلمان کا کوئی کاروبار یا شغل تھا بھی تو اسلام لانے کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ تھے جن کے ہاں مال و دولت کی ریل پیل تھی۔ تجارت ان کے ہاتھ میں تھی اور صاحب اختیار و اقتدار تھے۔ کعبہ کے متولی ہونے کی بناء پر تمام قبائل عرب ان کی عزت بھی کرتے تے اور ان سے ڈرتے بھی تھے۔ ان حالات میں ایمانداروں کی کامیابی کا اعلان جہاں مسلمانوں کے لئے ایک بشارت تھی وہاں اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک دنیا دار انسان کے نزدیک کامیابی کا جو تصور اور معیار ہے وہ تصور ہی سرے سے غلط ہے۔ دنیوی اور اخروی کی کامیابی کے لئے جن صفات کا ہونا لازمی ہے۔ وہ وہی چھ صفات ہیں جن کا آئندہ آیات میں ذکر ہو رہا ہے۔
Ayah 23:22 خَشَعَ کے معنی ایسی عاجزی ہے جو دل میں ڈر اور ہیبت طاری ہونے کی وجہ سے ہو۔ پھر اس ڈر اور عاجزی کے اثرات اعضا وجوارح ہے پر بھی ظاہر ہونے لگیں۔ آنکھیں مرعوب ہو کر جھک جائیں اور آواز پست ہوجائے چناچہ ایسے مقامات پر بھی قرآن نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے، پھر اسی خشوع کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ انسان نماز میں باادب کھڑا ہو۔ ادھر ادھر نہ دیکھے، نہ اپنے کپڑوں کو سنوارتا رہے نہ اپنی داڑھی وغیرہ سے کھیلتا رہے۔ اور نہ دل میں نماز پر توجہ کے علاوہ دوسرے خیالات آنے دے۔ اور خیالات آنے بھی لگیں تو فوراً ادھر سے توجہ ہٹا کر یہ سوچنے لگے کہ وہ نماز میں اپنے مالک کے سامنے دست بستہ کھڑا ہے اور اس بات پر توجہ دے کہ وہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے۔ خشوع اگرچہ اجزائے صلوۃ کے لئے شرط نہیں تاہم حسن قبول کے لئے لازمی شرط ہے۔
Ayah 23:33 لغو سے مراد فضول اور بیکار مشغلے اور کھیل بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ اگر تفریح طبع کے لئے یا جسمانی کسرت کے طور پر کوئی کھیل کھیلتے ہیں تو ایسے کھیل نہیں کھیلتے جن میں محض وقت کا ضیاع ہو بلکہ ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن سے کوئی دینی فائدہ بھی حاصلہوتا ہو۔ جیسے جہاد کی غرض سے تیراکی، نیزہ بازی، تیراندازی، اور نشانہ بازی وغیرہ۔ اور لغو سے مراد بیہودہ اور فضول باتیں بھی ہوسکتی ہیں۔ جیسے فضل گپیں، غیبت، بکواس، تمسخر، فحش گفتگو اور فحش قسم کے گانے وغیرہ۔ ان باتوں سے وہ صرف خود ہی پرہیز نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں ایسی سوسائٹی پر وہاں سے وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں اور وہاں رہنا قطعاً گوارا نہیں کرتے۔
Ayah 23:44 زکوٰۃ (زکی۔ ذکو) کے معنی بالیدگی، نشوونما پانا، بڑھنا اور عمدہ ہونا ہے اور ذکی کے معنی کسی چیز کو عمدہ بنانا، اس کی اصلاح کرنا اور آگے بڑھانا ہے۔ اور تزکیہ نفس کے معنی نفس کو روحانی آلائشوں، بیماریوں یا اخلاق رذیلہ سے پاک صاف کرکے اوصاف حمیدہ پیدا کرنا ہے جیسے ارشاد باری ہے۔ ( قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا ۽) 91 ۔ الشمس :9) یعنی جس نے اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیا وہ کامیاب ہوگیا اور زکوٰۃ کے مفہوم میں یہ سب باتیں شامل ہیں اور زکوٰۃ سے جو دو فائدے زکوٰۃ ادا کرنے والے کو پہنچتے ہیں وہ ہیں تطہیر مال اور تزکیہ نفس (9: 103) اور زکوٰۃ سے جو فائدہ معاشرہ کو پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس غریبوں اور محتاجوں کی اولاد ہوتی ہے۔ طبقاتی تقسیم کم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے دولت کا بہاو و امیر سے غریب کی طرف ہوجاتا ہے۔
اور فاعِلُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی ان کی مستقل اور پختہ عادت بن چکی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جب جی چاہے ادا کردیں اور جب نہ چاہے تو نہ کریں۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ تو مدینہ میں فرض ہوئی تھی۔ پھر اس مکی سورة میں فاعِلُوْنَ کیا معنی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا نصاب محل زکوٰۃ اشیاء اور شرح زکوٰۃ کا تعین یہ سب کچھ فی الواقعہ مدینہ میں ہوا تھا۔ مگر اس کی شروعیت مکہ میں ہوچکی تھی۔ چناچہ اکثر مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ و صدقات کا ذکر پایا جاتا ہے۔
Ayah 23:55 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مقامات ستر کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں اور کسی کے سامنے کھولتے نہیں نہ عریاں لباس پہنتے ہیں کہ بدن کے اعضا نظر آتے رہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی عفت و عصمت کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں۔
Ayah 23:66 یعنی مسلمانوں کے لئے اپنے شہوانی جذبات اور خواہشات کی تکمیل کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کریں اور دوسری یہ کہ اپنی مملوک کنیزوں سے پوری کرسکتے ہیں۔ مملوک لونڈیوں کے لئے نکاح کی شرط نہیں اور اس سے تمتع کے جواز کی بنیاد نکاح نہیں بلکہ ملک ہے۔
اس آیت سے مزید دو امور کا پتہ چلتا ہے۔ ایک یہ کہ راہب سنیاسی یا بعض صوفی قسم کے لوگ شہوانی خواہش کی تکمیل کو برا سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ نکاح کو ان کی خود ساختہ ولایت کے معیار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ نکاح کے بعد انسان خانہ داری اور اولاد کے جھنجھٹوں میں پڑجاتا ہے۔ اور یہ چیز رہبانیت کی ریاضت کے حصول میں آڑے آتی ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کے نظریہ کا پورا پورا رد موجود ہے۔
نیز دور نبوی میں صحابہ کرام ؓ میں بھی کچھ رہبانیت کا رحجان چل نکلا تھا۔ چناچہ حضرت بن مالک فرماتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کے گھر آئے اور آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے لگے۔ جب انھیں بتلایا گیا تو اسے انہوں نے کم سمجھا اور کہنے لگے کہ کہاں ہم اور ہاں اللہ کے رسول جن کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف کئے جاچکے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا : میں ہمیشہ ساری رات نماز میں گزارا کرونگا دوسرے نے کہا : میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور تیسرے نے کہا میں ہمیشہ عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا اتنے میں آپ تشریف لے آئے اور ان لوگوں سے پوچھا : کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی اور ایسی باتیں کی ہیں ؟ اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار ہوں۔ اس کے باوجود میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں۔+ رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ تو جو کوئی میری سنت کو ناپسند کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب الترغیب فی النکاح)
اور دوسری یہ بات کہ مرد کے لئے تو اس کی مملوکہ کنیز سے تمتع جائز ہے۔ لیکن عورت اپنے مملوک غلام سے تمتع نہیں کرسکتی۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک عورت نے اپنے غلام سے تمتع کرلیا۔ پھر دلیل میں یہ آیت پیش کی۔ آپ نے صحابہ کی مجلس شوریٰ میں یہ معاملہ پیش کیا تو سب نے بالاتفاق کہا کہ تَاَوَّلْتُ کِتَاب اللّٰہِ تَعَالٰی خَیْرُ تَاوِیْلِہ (یعنی اس عورت نے اللہ کی کتاب کا غلط مفہوم اخذ کیا ہے) اور عورت کے لئے اس چیز کو حرام کرنے کی حکمت یہ ہے کہ غلام اپنی مالکہ کی خواہش شہوانی تو پوری کرسکتا ہے۔ لیکن اس کا قوام نہیں بن سکتا۔ لہذا ایسی عورت کے لئے بہتر یہی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے۔
Ayah 23:77 شہوانی خواہشات کے سلسلہ میں تین ہی صورتیں ممکن تھیں۔ ایک یہ کہ انسان ایسی خواہشات کو کلیتؤہ ترک کردے۔ دوسری یہ کہ ان خواہشات کی تکمیل میں انسان کلیتؤہ آزاد ہو اور تیسری یہ کہ کوئی معتدل روش اختیار کی جائے۔ اسلام نے ان میں سے معتدل روش کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ان خواہشات کی تکمیل کا راستہ کھول تو دیا۔ لیکن صرف جائز نکاح یا ملکبھین کی صورت میں۔ باقی دونوں انتہا پسندانہ عورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ نہ رہبانیت کی ترک خواہش کو پسند فرمایا اور نہ اس سلسلہ میں شتر بےمہار قسم کی آزادی کو۔ اس آیت میں اسی بےلگام آزادی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس میں زنا، لواطت یا لونڈے بازی، عورتوں کی ہم جنسی، جلق یا مشت زنی غرضیکہ شہوت رانی کی جتنی بھی صورت مندرجہ بالا دو صورتوں کے علاوہ ممکن ہیں سب ناجائز قرار پاتی ہیں۔
واضح ہے کہ جائز نکاح سے مراد ایسا نکاح ہے جو عورت کو بسانے کے لئے کیا جائے۔ عورت کی رضا کو مقدم سمجھا جائے۔ عورت کا نکاح اس کا ولی کرے، نکاح کا اعلان ہو اور کم از کم دو گواہ موجود ہوں اور حق مہر مقرر کیا جائے۔ ان شرائط کو پوری نہ کرنے والا نکاح مثلاً نکاح متعہ، نکاح حلالہ یا نکاح شعار جائز نہیں۔ دور نبوی میں اور بھی کئی قسم کے نکاح رائج تھے۔ جو یہ شرائط پوری نہیں کرتے تھے۔ لہذا وہ از خود باطل قرار پاگئے۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے۔ ایک تو وہی معروف نکاح ہے۔ جیسے آج کل بھی لوگ کرتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو نکاح کے لئے کہتا اور وہ اپنی کسی رشتہ دار عورت (مثلاً بہن، بھتیجی، بھانجی وغیرہ) یا بیٹی کا مہر ٹھہرا کر نکاح کردیتا۔ (اسی قسم کے نکاح کو اسلام نے بحال رکھا ہے)
دوسری صورت یہ تھی کہ جب کسی بیوی حیض سے پاک ہوجاتی تو شوہر اپنی بیوی سے کہتا کہ تو فلاں شخص کو اپنے بلا لے اور اس سے لپٹ جا۔ (یعنی اس سے ہمبستری کر) جب عورت اس مرد سے صحبت کر چکتی تو اس کا خاوند اس سے اس وقت تک علیحدہ رہتا جب تک کہ اس غیر مرد کا حمل نمایاں نہ ہوجاتا۔ اور جب حمل واضح ہوجاتا تو اس کے اس کے خاوند اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ اور شوہر اپنی بیوی سے یہ کام اس لئے کرتا تھا کہ بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو (تاکہ وہ شوہر کی ناموری کا باعث ہو) ایسے نکاح کو نکاح استبضاع کہا کرتے تھے۔
نکاح کی تیسری صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے شوہر کئی مرد ہوتے تھے لیکن یہ دس سے کم ہی ہوتے تھے۔ اور وہ سب اس عورت سے صحبت کیا کرتے۔ پھر جب اسے حمل قرار پا جاتا تو وہ وضح حمل کے چند دن بعد ان سب شوہروں کو بلا بھیجتی اور اس کی دعوت پر ان سب کو آنا پڑتا تھا۔ جب وہ اس کے ہاں اکٹھے ہوجاتے تو وہ ان سے کہتی۔ جو کچھ تم کرتے رہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ اب میرے ہاں جو بچہ پیدا ہوا ہے یہ تم سے فلاں کا بچہ ہے۔ اس معاملہ میں اس عورت کو پورا اختیار ہوتا کہ جس کا وہ چاہتی نام لے لیتی اور وہ بچہ اسی کا ہوجاتا اور کسی کو اس کے فیصلہ سے انکار کی مجال نہ ہوتی۔ (کیونکہ قومی رسم ہی یہی تھی)
اور چوتھی صورت یہ تھی کہ کسی عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے رہتے اور وہ ہر ایک سے صحبت کرا لیتی کسی سے بھی انکار نہ کرتی اور وہ کنجریاں تھیں جن کے دروازے پر پہچان کے لئے جھنڈا لگا دیتے۔ اب جس شخص کا جی چاہتا وہ اس سے صحبت کرسکتا تھا پھر جب اسے حمل ٹھہر جاتا اور بچہ جنتی تو اس کے ہاں جانے والے سب مرد اس عورت کے ہاں اکٹھے ہوجاتے اور کسی قیافہ شناس کو اپنے پاس بلاتے۔ قیافہ شناس علم قیافہ کی رو سے جس مرد کو اس بچہ کا باپ بتاتا وہ بچہ اسی کا بیٹا ہوجاتا وہ اس کا باپ کہلاتا۔ اور قیافہ شناس کے فیصلہ سے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوتی۔
پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو پیغمبر بناکر بھیجا تو آپ جاہلیت کے سب نکاح موقوف کردیئے۔ بس ایک ہی قسم کا نکاح باقی رکھا جو آج کل لوگ کرتے ہیں (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب من قال لانکاح الا بولی۔۔ )
Ayah 23:88 امانتوں سے مراد ہر وہ امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا معاشرہ کی طرف سے یا کسی فرد کی طرف سے کسی شخص کے سپرد کی گئی ہو۔ خواہ یہ امانت منصوبوں سے تعلق رکھتی ہو یا اقوال سے یا اموال سے ان سب کی پوری پوری نگہداشت ضروری ہے۔ یہی صورت مال، عہد اور معاہدات کی ہے۔ خواہ کوئی عہد اللہ تعالیٰ سے کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لیا ہو۔ خواہ یہ آپس کا قول وقرار ہو اور خواہ یہ معاہدہ بیع یا نکاح سے متفق ہو۔ ان کو وفا کرنا ضروری ہے۔ امانت میں خیانت اور وعدہ خلافی دونوں ایسے جرم ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ منافق کی علامتیں قرار دیا ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
1۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرتے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب علامہ~ن~ المنافق)
2۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک اسے چھوڑ نہ دے جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو بےوفائی کرے۔ اور جب جھگڑا کرے تو بکواس یا ناحق کی طرف چلے (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب علامہ~ن~ المنافق)
اب دیکھئے پہلی حدیث میں صرف تین علامتیں مذکور ہیں جن میں دو یہی ہیں جو اس آیت میں مذکور ہیں اور دوسری میں جو چار علامتیں مذکور ہیں ان میں سے دو یہی باتیں ہیں۔
Ayahs 23:9–109 ایمان لاکر کامیاب ہونے کی صفات کی ابتداء بھی نماز سے کی گئی اور اختتام بھی نماز پر ہوا۔ اس سے نماز کی دوسرے خصائل پر اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی۔ پہلی آیت میں نماز میں خشوع کا ذکر تھا۔ اور اس آخری آیت میں سب نمازوں کی حفاظت کا ذکر ہے۔ حفاظت سے مراد نمازوں کو مقررہ اوقات پر بروقت ادا کرنا اور ہمیشہ ادا کرنا۔ تسلی سے نماز ادا کرنا اس کے پورے ارکان بجا لانا یعنی جسم کا، کپڑوں کا اور جگہ کا پاک ہونا پھر وضو اور طہارت پوری طرح کرنا وغیرہ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔
Ayah 23:1110 فردوس بمعنی سرسبز وادی (منجد) اور بمعنی اودبار میں واقع باغ جس میں ہر قسم کے پھل اور پوھل موجود ہوں (منتہی الادب) گویا جنت الفردوس سے مراد جنت کا وہ حصہ ہے جس میں گسی اور ٹھندی چھاؤں والے سرسبز درخت بکثرت ہوں۔ پھولوں کی خوشبو سے معطر ہو اور اس میں ہر قسم کے پھل باافراط ہوں۔ اور جنت الفردوس جنت کا سب سے بلند طبقہ اور عین وسط میں ہوگا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ربیع بن نضر کا بیٹا حارثہ بن سراقہ بدر کے دن ایک غیبی تیر سے شہید ہوگیا۔ وہ آپ کے آکر کہنے لگے : مجھے حارثہ کا حال بتلائیے اگر وہ خیر کو پہنچا تو میں ثواب کی امید رکھوں اور صبر کرو اور اگر نہیں پہچنا تو میں اس کے لئے دعا کرتا رہوں آپ نے فرمایا : ام حارثہ ! جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تیرا بیٹا تو فردوس بریں میں داخل ہوا ہے جو جنت کے وسط میں بلند زمین اور سبے بلند مقام ہے (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
اسی جنت کے لئے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی : اَللّٰھُمَّ اِنِیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ الْفِرْدُوْسَ نیز آپ نے فرمایا کہ جب اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔
(نیز جنت کی وراثت کے سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر 43 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے)
مندرجہ بالا آیات کے نزول کے وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اور ان آیات کے نزول پر آپ نے مسلمانوں کے حق میں جو دعا فرمائی۔ مندرجہ ذیل حدیث سے اس حالت کا پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے :
حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب آپ پر وحی اترتی تو آپ کے چہرے کے آس پاس شہد کی مکھی کی گنگناہٹ جیسی آواز آنے لگتی تھی۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو تھوڑی ہی دیر بعد آپ نے قبلہ کی طرف منہ کرکے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! ہمیں زیادہ کر، تھوڑے نہ رہنے دے، ہمیں عزت عطا فرما، ذلیل نہ رہنے دے ہمیں عطا کر اور محروم نہ رکھ، ہمیں دوسروں پر مقدم کر، دوسروں کو ہم پر مقدم نہ رکھ، ہمیں خوش کردے اور ہم سے خوش ہوجا ! اس دعا کے بعد آپ نے فرمایا کہ : مجھے پر دس آیات نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرے گا، جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ نے ( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ ) 23 ۔ المؤمنون :1) سے لے کر دس آیات پڑھیں۔ (ترمذی۔ کتاب التفسیر)
Ayah 23:1211 ضَلاَلَۃٌ بمعنی خلاصہ، نچوڑ، ست، جوہر، کسی بھی چیز سے نکالا ہوا کارآمد حصہ (مفردات القرآن) اور انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا۔ پہلے یہ خشک مٹی تھی۔ پھر اس میں پانی ملایا گیا تو یہ گاڑا بن گیا۔ پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا جس میں بدبو پیدا ہوگئی۔ پھر اسے گوندھ کر اس کا چیکدار اور لیسدار حصہ لیا گیا اور اسے خشک کرلیا گیا۔ پھر اسے حرارت پہنچائی گئی حتیٰ کہ وہ ٹن کی طرح بجنے لگا۔ جبکہ مٹی کے برتن اور ان کی مختلف شکلیں بنائی اور آگ میں پکائی جاتی ہیں۔ اور ان میں مٹی کا صرف چیکدار اور کارآمد حصہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی مٹی سے آدم کا پتلا تیار ہوا جس میں اللہ نے اپنی روح سے پھونکا تو جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔ پھر آئندہ آدم کی نسل توالد و تناسل اور نطفہ سے چلی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے نطفہ بذات خود انسان کے جسم میں انھیں غذاؤں سے بنتا ہے جو زمین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے نطفہ بھی بالآخر زمین ہی کا جوہر ہے۔
Ayah 23:1312 یعنی رحم مادر ایسا محفوظ مقام ہے جہاں نطفہ کو نشوونما کے لئے مناسب حرارت تو ملتی رہتی ہے لیکن شدید گرمی یا سردی وغیرہ کے اثرات سے بالکل محفوظ ہوتا ہے اور وہ وہاں سے ہل بھی نہیں سکتا۔
Ayah 23:1413 رحم مادر میں نطفہ کی نشوونما کے دوران جو مراحل پیش ہوتے ہیں۔ ان کی تشریح سورة حج کی آیت نمبر 5 کے تحت کی جاچکی ہے۔
14 یعنی نطفہ اور بےجان گوشت کے لوتھڑے سے ایک جیتا جاگتا عقل و شعور رکھنے والا انسان بنا کر پیدا کردیا۔ جس کا ایک ایک عضو اور رگ حدیشہ کئی مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ بیکار پیدا نہیں کیا گیا۔ اب انسان کی اندرونی ساخت پر عور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کئی قسم کی آٹو میٹک کلوں اور مشینوں کی مجموعہ ہے کہیں چکی لگی ہے، کہیں چھلنی ہے، کہیں پیسنے کی کل، کہیں کوٹنے کی، کہیں توڑنے کی کہیں جذب کرنے والی کہیں فضلات کو باہر پھینکنے والی، کہیں اچھالنے والی اور کہیں اتارنے والی اور یہ خودکار مشینیں اس قدر مضبوط، مربوط اور منظم طریقے سے کام کر رہی ہیں جن کا مطالعہ کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور حکمتوں پر عش عش بھی کر اٹھتا ہے اور ورطہ~ئ~حیرت میں گم بھی ہوجاتا ہے۔ معدہ خالی ہوجائے تو از خود انسان کو بھوک اور پیاس لگتی ہے اور وہ کھانے پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اور جب غذا معدہ میں پہنچ جاتی ہے تو یہ سب خود کار مشینیں اپنا اپنا کام شروع کردیتی ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کل میں خرابی واقع ہوجائے تو انسان بیمار پڑجاتا ہے اور اگر خرابی درست نہ ہو بلکہ بڑھ جائے تو انسان مرجاتا ہے۔
یہ تو تھا جسم کی اندرونی ساخت کا قصہ، اب اس کے قوی پر نظر دوڑائیے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں زندگی کی ابتدائی خصوصیات کے سوا کسی بھی نہیں ہوتا نہ سماعت، نہ بصارت، نہ گویائی، نہ چلنے یا بیٹھنے کی طاقت، نہ عقل و خرد، نہ کوئی اور خوبی۔ مگر وہ رحم مادر سے باہر آکر کوئی اور ہی چیز بننا شروع ہوجاتا ہے۔ جس کو پیٹ والے جنین سے کوئی مناسب نہیں ہوتی۔ تھوڑی ہی مدت میں وہ ایک سمیع وبصیر اور ناطن بچہ بن جاتا ہے۔ اب وہ کچھ علم ماحول سے حاصل کرتا ہے اور کچھ اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے۔ ذرا اس میں عقل آتی ہے تو اس میں دوسروں سے سابقت یا آگے نکل جانے کا فن پیدا ہوتا ہے۔ اس کی یہ بیداری اور خودی اسے ہر اس چیز پر اپنا تحکم جتانے اور اپنا زور منوانے کی کوشش کرتی ہے۔ جس پر اس کا بس چل سکتا ہو اور اس کی یہی بیداری اور خودی اس میں کوئی اور ہی چیز ہونے کی کیفیت کو نمایاں تر اور افزوں تر کوئی چلی جاتی ہے۔ پھر وہ جوان اور پختہ عمر کا ہوتا ہے تو اس تمام قوتیں، طاقت اور قابلیتیں بھی بڑھتی جاتی ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب اس میں بمچوما دیگرے نیست کا تصور پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ بسا اوقات بعض انسان ایسے محیرالعقول کارنامے بھی سرانجام دیتے ہیں جو عام انسانوں کی بساط سے باہر ہوتے ہیں۔
15 اب اگر انسان ذرا سا بھی غور کرے کہ کس طرح ایک حقیر پانی کی بوند سے اس کی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور مختلف مراحل طے کرانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے کیا سے کیا بنادیا۔ تو بےاختیار اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل آتے ہیں کہ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس کس قدر خیرو خوبی والی اور حکمتوں اور قدرتوں والی ہے جس نے انسانی تخلیق کا آغاز مٹی سے یا نطفہ سے کیا پھر مختلف مراحل طے کراکر محیرالعقول طریقوں سے اسے ایک باشعور اور صاحب ادارہ و اختیار انسان بنادیا۔ واضح رہے کہ تبارک کا لفظ عموماً اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہے اور ان خیر کے کاموں کے سلسلہ میں آتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں۔
Ayah 23:1516 یعنی تمہارا اس دنیا میں آنا بھی تمہارے اپنے اختیار سے نہ تھا بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا اور اب اگر تم دنیا میں رہنا چاہو اور مرنے سے بچنے کی کوشش کرو تو یہ بات بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ اللہ کا قانون یہی ہے کہ تمہیں موت آکے رہے گی اور یہاں سے تمہاری اخروی زندگی کا آغاز ہوجائے گا۔ جیسا کہ نطفہ سے تمہاری دنیوی زندگی کا آغاز ہوا تھا۔ بالفاظ دیگر موت دنیوی زندگی اور اخروی زندگی کی سرحد پر واقع ہے۔
Ayah 23:1617 یعنی جس طرح نطفہ سے انسان بننے میں تمہارا اپنا کچھ بھی اختیار نہ تھا۔ اور اللہ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالفر سے تمہیں مختلف مراحل طے کرا کر تمہیں پیدا بھی کیا اور ایک محیرالعقول تخلیق بھی بنادیا۔ اسی طرح موت کے بعد اسی جسم کے خلاصہ سے مختلف مراحل طے کرا کر تمہیں دوبارہ اسی طرح زندہ پیدا کر دے گا۔ جس طرح پہلی بار کیا تھا۔ چناچہ سورة انشقاق میں اللہ تعالیٰ نے کئی قسمیں کھانے کے بعد فرمایا : (لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ 19ۭ ) 84 ۔ الانشقاق :19) یعنی یہ مراحل تمہیں بہرحال طے کرنا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی تخلیق کے مراحل کا تو ذکر کئی مقامات پر فرما دیا لیکن اس لئے وہ انسان کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور دوسری زندگی کے مراحل کا ذکر اس لئے نہیں فرمایا کہ نہ تو وہ انسان کے مشاہدہ میں آسکتے ہیں اور نہ ہی انسان کی عقل ان مراحل کو سمجھ سکتی ہے۔
Ayah 23:1718 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ دلیل بیان فرمائی جو انفس سے تعلق رکھتی ہے اور جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) اب آفاق سے چند دلائل پیش کئے جارہے ہیں۔
مبلع طرائق سے بعض علماء نے سات آسمان یا سات طبقات مراد لئے ہیں۔ جیسے ارشاد باری ہے : (اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15ۙ ) 71 ۔ نوح :15) اور بعض نے ان سے مراد سات راستے ہی لئے ہیں۔ جو فرشتوں کی آسمانوں میں آمدورفت کے راستے ہیں۔ اور آسمان چونکہ سات ہیں۔ اس لئے یہ راستے بھی سات ہیں۔ اور بعض علماء نے ان سے سات سیاروں کے راستے یا مدار مراد لئے ہیں۔ چونکہ نزول قرآن کے زمانہ میں بطلیموسی نظریہ ہیئت بھی درست سمجھا جاتا تھا اور اس نظریہ کے مطابق سات سیارے ہی محو گردش ہیں اور وہ چاند، زہرہ، عطارد، سورج، مشتری، مریخ اور زحل۔ لہذا قرآن نے لوگوں کے علم اور سمجھ کے مطابق ساتھ ہی راستوں کا ذکر فرمایا۔ اگرچہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔
اور فَوْقَکُمْ (یعنی تمہارے اوپر کے ایک معنی تو وہی ہیں جو عام فہم ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کی یا سیاروں اور ان کے مداروں کی تخلیق تمہاری تخلیق سے بہت بلند تر اور بڑی چیز ہے۔ اور اس مطلب کی بھی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوجاتی ہے۔ ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40 ۔ غافر :57)
19 یعنی ہم اپنی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اس کے مستقل نگہداشت بھی کرتے رہتے ہیں کیونکہ جس چیز سے بھی کام لیا جائے وہ کسی نہ کسی وقت بگڑ بھی جاتی ہے اس کی چال اور اس کے کام میں فرق آجاتا ہے اور اگر بروقت اس کی نگہداشت نہ کی جاوے تو وہ خراب اور تباہ بھی ہوجاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات کا نظام اتنا مربوط و منظم ہے کہ اس میں نہ ذرہ بھر فرق آتا ہے اور نہ کہیں ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ جو اس کی بات کی قوی دلیل ہے کہ اس کائنات کا کوئی ایسا منتظم موجود ہے جو اپنی اس عظیم الجثہ مخلوق کی ہمہ وقت کڑی نگہداشت کر رہا ہے۔
Ayah 23:1820 سوال یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقدار میں پانی اللہ تعالیٰ نے کب اتارا تھا ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو اس وقت ہی ایک خاص اور کثیر مقدار میں پانی اتار دیا تھا۔ اتنا کثیر مقادر میں جو قیامت تک زمین پر پیدا ہونے والی مخلوق، خواہ وہ کسی نوع سے تعلق رکھتی ہو، کی ضروریات کے لئے کافی ہو۔ اس کثیر مقدار کے ایک کثیر حصہ نے زمین کی تین چوتھائی سطح کو سمندروں کی شکل میں تدیل کر رکھا ہے۔ پھر اس کثیر مقدار کا کثیر حصہ زمین کی سطح کے نیچے چلا گیا جیسے زمین کے نیچے بھی پانی کے دریا بہہ رہے ہیں اور سطح زمین کا کثیر حصہ ایسا ہے کہ جہاں سے کھودیں نیچے سے پانی نکل آتا ہے۔ جو انسان نکال کر اپنے استعمال میں لاتا ہے اور کبھی زمین سے از خود چشمے ابل پڑتے ہیں۔ پھر اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم فرمایا کہ سورج کی گرمی سے سمندر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں۔ جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر بادلوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور مزید سردی سے زمین پر برسنے لگتے ہیں۔ اس بارش کے پانی سے زمین کی تمام نباتات سیراب ہوتی ہے۔ جاندار بھی اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ پھر اس بارش کا کچھ حصہ پانی میں جذب ہوجاتا ہے اور باقی حصہ ندی نالوں اور دریاؤں کی شکل میں پھر سمندروں میں جاگرتا ہے۔ اور جو پانی مخلوق استعمال کرتی ہے وہ بھی بالآخر یا تو پانی کی شکل میں زمین میں چلا جاتا ہے یا بخارات بن کر ہوا میں مل جاتا ہے۔ ان تصریحات سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کی جتنی مقدار زمین پر نازل فرمائی تھی۔ اس مقدار میں نہ کچھ اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی کمی واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ضروریات کی تکمیل کا ایک مستقل اور دائمی انتظام مہیا فرما دیا ہے۔
اس سلسلہ میں حیران کن امر یہ ہے کہ پانی بذات خود ایک مرکب چیز ہے جو دو حصے ہائیڈروجن گیس اور ایک حصہ آکسیجن سے مل کر بنتا ہے (O+H2) ہائیڈروجن گیس ایک آتش گیر اور فوراً بھڑک اٹھنے والی گیس ہے اور آکسیجن وہ گیس ہے۔ جو جلانے میں مدد دیتی ہے۔ گویا ان آتشیں خاصیت والے مادوں سے اللہ تعالیٰ نے وہ چیز پیدا کی جو آگ کو بجھا دیتی ہے اور پھر اسی کو کیمیاوی عمل کے ذریعہ پھاڑ کر انھیں گیسوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اور دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ ہائیڈروجن گیس اور آکسیجن گیس آج بھی وافر مقدار میں فضا میں موجود ہے اگر وہ از خود زمین کی پیدائش کے وقت مل کر پانی بن گئیں تھیں تو آج بھی مل کر پانی کی مقدار میں اضافہ کیوں نہیں کردیتیں ؟ نیچری اور دہریہ حضرات کے لئے یہ ایک بہت اہم لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے پاس تو اس کا واضح جواب موجود ہے کہ جتنا پانی بنانا اللہ کو منظور اور اس کے اندازہ کے موافق تھا اتنا بن گیا۔ ان گیسوں میں از خود یہ قدرت نہیں ہے کہ مل کر پانی بن جائیں۔
اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی مخلوق کی ضروریات کے مطابق آسمان سے بوقت ضرورت پانی برساتے ہیں۔ نہ اتنا زیادہ کہ مخلوق ڈوب کر مرجائے اور نہ اتنا کم کہ مخلوق قحط میں مبتلا ہو کر مرجائے۔ الا یہ کہ وہ عذاب الٰہی ہی کی شکل ہو۔
21 یعنی پانی کے زمین دوز ذخیروں کو اتنی گہرائی تک لے جائیں کہ اسے نکالنا انسانوں کی بساط سے باہر ہوجائے۔ یا ان ذخیروں کو کڑوا کسیلا بنادیں جو قابل استعمال ہی نہ رہیں۔
Ayah 23:1922 صرف یہی نہیں کہ ان باتوں سے تمہیں بہت سے پھل وغیرہ کھانے کو ملتے ہیں۔ بلکہ یہ باغ تمہارے لئے ذریعہ آمدنی اور ذریعہ معاش بھی ہیں۔
Ayah 23:2023 اس درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے۔ شام و فلسطین اس درخت کا اصلی وطن ہے۔ اور طور سینا کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ اس علاقہ کا مشہور مقام ہے۔ اس درخت کی عمر، اس کا قد و قامت اور پھیلاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے ہے۔ جیسے ہمارے ہاں برگد کا درخت ہوتا ہے۔ جس کے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے اس کی کئی شاخیں واپس زمین تک آکر اس کا سہارا بنتی ہیں۔ زیتوں کے درخت سے تیل وافر مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔ یہیں سے یہ تیل دنیا کے اکثر مقامات پر جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے یہ تیل بہت مفید چیز ہے۔ اور بہت سے لوگ اس کے پھل کا اچار ڈالتے ہیں۔ اس کے تیل کو سالن کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور سالن میں گھی کی جگہ بھی استعمال کرتے ہیں اس کی عام افادیت کے پیش نظر ہی اللہ تعالیٰ نے سورة تین میں زیتوں کی قسم بھی کھائی ہے۔
Ayahs 23:21–2224 چوپایوں میں عبرت یا حیران کن بات یہ ہے کہ گھاس پھوس کھانے والے اور چرنے والے مویشی (ماداؤں) کے جسم میں جب غذا جاتی ہے تو اس سے خون اور فضلہ یا گوبر کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی بنتی ہے۔ جو اوصاف میں ان دونوں چیزوں سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ خون اور گوبر دونوں نجس اور حرام چیزیں ہیں۔ جبکہ دودھ نہایت پاکیزہ، حلال، طیب، انتہائی سفید رنگ، مزہ میں شیریں اور پینے میں خوشگوار ہوتا ہے اور مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ اس سے بھوک بھی دور ہوجاتی ہے اور پیاس بھی۔ اس میں اللہ تعالیٰ محیرالعقول کارنامہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماداؤں کے جسم میں ایسی مشینری فٹ کردی ہے جو گھاس پھوس سی چیز کو ایک نہایت اعلیٰ اور قیمتی چیز میں تبدیل کردیتی ہے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مشینری صرف اس وقت حرکت میں آتی ہے۔ جب حمل قرار پا جائے اور اس کا نتیجہ فوری طور پر نہیں نکلتا۔ بلکہ بچہ کے وضع ہونے کے وقت تک یہ مشینری خود کو دودھ میں تبدیل کردینے کے قابل بن جاتی ہے ادھر پیدا ہوتا ہے تو ادھر ماں کے پستان دودھ سے بھر جاتے ہیں اور بچہ پیدا ہوتے ہی جب ماں کے پستانوں کی طرف لپکتا ہے تو اسے فوراً یہ قدرتی غذا مہیا ہوجاتی ہے جبکہ وہ کوئی اور غذا کھانے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔ اور اگر ماں کو حمل قرار نہ پائے تو اس بات کے باوجود کہ دودھ بنانے والی یہی گوشت پوست اور رگ ریشہ پر مشتمل یہ مشینری اس کے اندر موجود ہے۔ کبھی اپنا کام نہ کرے گا اور نہ دودھ بنے گا نہ پستانوں میں اترے گا۔
25 مویشیوں کی ایک ایک چیز انسان کے کام کی چیز ہے۔ ان کی کھال، ان کے بال، ان کی ہڈیاں، غرضیکہ ہر چیز سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے۔ زندہ ہوں تو ان پر سواری بھی کرتا ہے اور یہ کھیتی باڑی اور باربرداری کے کام بھی آتے ہیں۔ پھر ان کا گوشت انسان بطور خوراک بھی استعمال کرتا ہے اور دودھ جو ان سے حاصل ہوتا ہے وہ ان سب فوائد سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 23:2326 حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعات پہلے سورة اعراف حاشیہ نمبر 61 تا 64، سورة یونس حاشیہ نمبر 84، اور سورة ہود حاشیہ نمبر 34 تا 53 میں گزر چکے ہیں۔ وہ بھی پیش نظر رکھے جائیں۔
Ayah 23:2427 تمام انبیاء اور رسل ہمیشہ بشر ہی ہوتے تھے۔ اور انسانوں کے لئے رسول ہونا بھی کوئی بشر ہی چاہئے جو انہی میں سے ہو تاکہ جب وہ انھیں اپنی زبان میں اللہ کا پیغام پہنچاویں تو وہ اسے سمجھ سکیں۔ نیز رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا۔ ان احکام پر سب سے پہلے خود عمل پیرا ہو کر عملی نمونہ دکھلانا بھی ہوتا ہے۔ اب اگر رسول انسان کی بجائے فرشتہ ہو یا نوری مخلوق ہو یا کسی اور اعلیٰ جنس سے ہو۔ تو اس پر ایمان لانے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لوگ انسان ہو کر ایک فرشتہ یا کسی بالاتر جنس والی ہستی کی اقتداء کیسے کرسکتے ہیں۔ یہی وہ مصلحتیں ہیں جن کا بنا پر رسول کا بشر ہونا ضروری ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کسی بشر ہی کو نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور قرآن کریم میں ان باتوں کی بہت سے مقامات پر وضاحت موجود ہے۔ اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی زبان سے کئی بار اپنی بشریت کا اقرار کرایا ہے۔ حتیٰ کہ اس حقیقت کو اس کلمہ کا لازمی جز بنادیا جس کے اقرار پر کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ لیکن گمراہ لوگوں کی گمراہیوں میں سے ایک یہ بھی گمراہی بھی بطور قدر مشترک رہی ہے۔ بشریت اور رسالت دونوں صفات اکٹھی نہیں ہوسکتیں انبیاء کی تکذیب کرنے والوں نے سب سے پہلے بطور طعنہ انبیاء سے یہی بات کہی کہ تم تو ہم جیسے بشر ہو تم رسول بن کیسے سکتے ہو ؟ یہ ایک طرح کی گمراہی تھی اور دوسری طرح کی گمراہی انبیاء کے عقیدت مندوں میں پیدا ہوتی ہے۔ جو غلو کی راہ اختیار کرکے دوسری انتہاء کو پہنچتے ہیں۔ ان کا نظریہ بھی یہی ہوتا ہے کہ نبوت یا رسالت اور بشیریت ایک ہی شخص میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ فرق یہ پڑجاتا ہے کہ وہ رسالت کا تو اقرار کرتے ہیں مگر بشریت سے انکار کردیتے ہیں۔ دور کیوں جائیے ہم مسلمانوں میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ کو بشر کہنے والوں کو گستاخانہ رسول کا طعنہ دیتا ہے۔ چناچہ ان کا یہ فرمان زد نعرہ بشر عرش توں پار جا کوئی نہیں سکدا ان کے اسی نظریہ کی ترجمانی کرتا ہے یہ لوگ آپ کو بشر کے بجائے نور ثابت کرتے ہیں اور بشریت سے انکار کرتے ہیں اور یہ بحث پہلے سورة مائدہ کی آیت نمبر 15 کے حاشیہ نمبر 42 کے تحت گزر چکی ہے۔
28 دنیا داروں کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے کہ جو شخص بھی کوئی اصلاحی دعوت کے کام کا آغاز کرتا ہے تو انھیں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ یہ شخص اپنی چودھراہٹ قائم کرنے اور اپنا جھنڈا بلند کرنے کے لئے یہ کام کر رہا ہے۔ اور وہ اپنے اس نظریہ میں اس حد تک حق بجانب بھی ہوتے ہیں کہ وہ خود چونکہ اسی غرض کے لئے اپنی زندگیاں اور اپنی تمام تر کوششیں کھپا دیتے ہیں۔ لہذا وہ ہر شخص کو اسی نظریہ سے دیکھتے ہیں قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کو یہ طعنہ دیا۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہی بات کہی کہ موسیٰ اس ملک پر قابض ہونا چاہتا ہے اور آپ کی قوم نے آپ کے متعلق یہی نظریہ قائم کیا اور آپ سے کہا کہ اگر تم مال و دولت چاہتے تو جتنا چاہو حاضر ہے۔ اقتدار چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا قائد تسلیم کرلیتے ہیں اور کسی حسین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہو تو یہ کام بھی ہم کئے دیتے ہیں۔ بشرطیکہ ہماری مخالفت اور ہمارے معبودوں سے باز آجاؤ اور ہم سے سمجھوتہ کرلو
پھر یہ بات بھی واضح ہے کہ انبیاء کو بھی بالآخر اللہ کی مدد سے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے۔ مگر ان دونوں کے اقتدار کے حصول میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک دنیا دار کا مقصود ہی اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ جبکہ ایک نبی کا اصل مقصود احکام الٰہیہ کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ اقتدار کو محض ایک ذریعہ بناتا ہے۔ اس فرق کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک آدمی قتل ناحق کرتا ہے تو یہ سراسا فساد ہے اور ایک جج اس قاتل کو قصاص میں قتل کی سزا دیتا ہے تو یہ سراسر عدل اور رحمت اور فساد کی روک تھا ہے۔ جبکہ نفس قفل کے لحاظ دونوں واقعات ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔
29 یعنی یہ بات کہ رسول بشر ہی ہوتا ہے یا یہ کہ ایک اکیلا اللہ ہی ساری کائنات کی فرمانروائی اور حاجت روائی کے لئے بہت کافی ہے اور دوسرے سب معبود لغو اور باطل ہیں
Ayah 23:2530 قوم نوح کی نظروں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دیوانگی یہ تھی کہ ساری قوم کے نظریہ کے خلاف خالص توحید کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ نوح کا (نعوذ باللہ) ایک بیہودہ سا خیال ہے۔ بھلا ساری قوم کے مقابلہ میں اس اکیلے کی پکار کی کیا حقیقت ہے۔ لہذا اس کی طرف توجہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ وہ خود ہی جب اپنی ناکامی دیکھے گا تو اپنی ایسی باتوں سے باز آجائے گا۔
Ayahs 23:26–2731 حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ تبلیغ غالباً تمام انبیاء سے زیادہ ہے جو قرآن کی صراحت کے مطابق ساڑھے نو سو سال ہے۔ اس طویل عرصہ میں آپ اپنی قوم سے ناروا باتیں اور طعنے وغیرہ سنتے اور برداشت کرتے رہے۔ اتنی طویل مدت میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے۔ دوسروں کا کیا ذکر آپ کی بیوی اور ایک بیٹا بھی آپ کے مقابلہ میں کافروں کا ساتھ رہے تھے۔ حضرت نوح کو یہ یقین ہوگیا کہ اب جو کافر موجود ہیں وہ اس قدر ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دعوت حق کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ بس یہ لوگ صرف حضرت نوح کی اذیت اور ذہنی کوفت کا باعث بن رہے تھے۔ جب ان کافروں نے آپ کو اذیت دینے میں انتہا کردی تو اس وقت آپ نے دعا کی کہ یا اللہ ! یہ قوم مجھ پر غالب آگئی ہے اب تو ہی میری مدد فرما اور ان سے اس ظلم کا بدلہ لے جو انہوں نے اتنی طویل مدت مجھ پر ڈھایا ہے۔
Ayah 23:2832 یہ واقعات اور ان کی تفصیل سورة ہود کے حواشی نمبر 34 سے 53 تک تفصیل سے گزر چکے ہیں۔ لہذا ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
33 یعنی یہ قوم اتنی بدبخت تھی جس کی غرقابی پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور بجائے افسوس کے خوشی کا اظہار کیا۔ یہ قوم فی الواقعہ خس کم جہاں پاک کا مصداق تھی۔ جبکہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں واضح طور پر یہ الفاظ کہے تھے کہ : یا اللہ ! اس قوم میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ رہنے دے کیونکہ ان کے ہاں جو بچے پیدا ہوں گے وہ بھی فاسق و فاجر ہی پیدا ہوں گے اور کبھی حق کو قبول نہ کریں گے (71: 26، 27)
Ayah 23:2934 یہ بھی اس دعا کا حصہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار ہوتے وقت سکھلائی تھی۔ اس دعاء میں (اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِِِلْیْنَ ) کا ایک معنی تو ترجمہ سے واضح ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تو بہت اچھا مہمان نواز ہے یا بہت اچھا میزبان ہے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں ناپ میں بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی بہت اچھا ہوں (12: 59) مطلب یہ کہ مجھے بابرکت جگہ پر کشتی سے اتارنا اور اترنے کے بعد ہمیں وافر رزق بھی مہیا فرمانا
Ayahs 23:30–3135 یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ایک غور کرنے والا انسان سبق حاصل کرسکتا ہے۔ اور جب ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس وقت قوم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ نبی اور اس کے پیروکاروں کا بھی کہ وہ کس حد تک صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں اور جھٹلانے والوں کا بھی کہ وہ کس حد تک سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ پھر جو اس امتحان میں کامیاب ہوں انھیں انعامات سے نوازتے بھی ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور معاندین کو قرار واقعی سزا بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنے والی قوم میں سے کون ان نشانیوں کو سن کر عبرت و نصیحت حاصل رکتا ہے اور کون نہیں کرتا ؟
Ayah 23:3236 یہ اور نسل یا اور قوم عاد یا عاد اولیٰ تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم کے بعض دوسرے مقامات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اسی قوم کا ذکر ہوا ہے۔ اور ان کی طرف حضرت ہود کو بھیجا گیا تھا۔
37 یعنی اللہ کے ساتھ دوسرے شریک بنانے کے برے انجام سے تمہیں خطرہ پیدا نہیں ہوتا کہ کہیں ہم پر قہر الٰہی نازل نہ ہوجائے۔
Ayah 23:3338 انبیاء کی دعوت کی زد چونکہ چودھری قسم کے لوگوں پر ہی پڑتی ہے اور انھیں اپنی سرداریاں خطرہ میں پڑتی نظر آتی ہیں۔ اس لئے انبیاء کے اولین مخالف یہی لوگ ہوتے ہیں۔ اور عام لوگوں میں چونکہ انھیں کا اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ لہذا انبیاء کی دعوت کے مقابلہ انھیں عوام سے سرکھپانا پڑتا ہے۔ تاکہ وہ انبیاء کی دعوت قبول کرکے ان کے دائرہ اثر سے باہر نہ ہوجائیں۔ مشرکین مکہ کی طرح قوم عاد بھی اخروی زندگی کی منکر تھی۔ اور مال و دولت کی فراوانی اور آسودگی کی زندگی نے ان سرداروں کو بالکل خدا فراموش بنا رکھا تھا۔ اور ان کا منتہائے مقصود صرف دنیا کا مال و دولت اور اس کا حصول تھا۔
39 نبی کی دعوت کے مقابلہ میں جس بات کی دعوت وہ عوام الناس کو دے سکتے تھے وہ یہی تھی کہ آخر اس نبی میں کیا خوبی ہے کہ تم اس کی اطاعت کرو وہ بھی تمہارے ہی جیسا انسان اور کھانے پینے کا محتاج ہے۔
Ayahs 23:34–3640 حالانکہ وہ خود بھی ایک عام انسان ہی تھے۔ اور عام لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کے مطاع بنے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ عوام ان کی اطاعت کریں۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس لئے نہ تھا کہ انسان مطاع نہیں بن سکتا۔ بلکہ صرف اس لئے تھا کہ کہیں لوگ نبی کی دعوت قبول کرکے ہماری اطاعت کو ترک کرکے اس کی اطاعت نہ کرنے لگ جائیں۔ گویا اصل خطرہ انھیں سرداروں کا تھا اور ان کے لئے تو یہ واقعی خسارہ کی بات تھی۔ لیکن لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ نبی کی اطاعت کرکے تم خسارہ میں رہو گے۔ گویا بشر ہونے کے باوجود ان کی اپنی اطاعت میں خسارے کی بات ان کے نزدیک خارج از بحث تھی۔
Ayah 23:3741 آخرت سے انکار کرنے والوں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ چونکہ کوئی بھی مرا ہوا انسان آج تک دوبارہ زندہ ہو کر واپس نہیں آیا۔ لہذا ہم کیسے مان لیں کہ مرنے اور مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ گویا ان کے انکار کی اصل بنیاد ان کا اپنا تجربہ یا مشاہدہ ہوتا ہے۔ قوم عاد مشرکین مکہ کی طرح اللہ کی ہستی کے قائل تھے حالانکہ اللہ کی ہستی بھی کسی تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آتی۔ اور اللہ کی ہستی کے قائل ہونے کی وجہ بھی یہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی پیغمبر کی تعلیم سے متاثر ہو کر اللہ پر ایمان بالغیب لاتے ہیں۔ بلکہ اس لئے فلاسفروں اور حکماء نے اللہ کی ہستی کو علت العلل CauseFirst کے طور پر تسلیم کیا ہے یعنی جس طرح ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر چیز کے لئے صانع یا اس کے بنانے والے کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اس کارخانہ کائنات کا بنانے والا ہونا بھی ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ کی ہستی کو عقلی دلیل کی بنا پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ عقلی دلیل کی بنا پر بھی ایسی اشیاء کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو مشاہدہ اور تجربہ میں نہ آئی ہوں یا نہ آسکتی ہوں۔ اور دوبارہ زندگی کے قیام پر چونکہ بہت سے عقلی دلائل موجود ہیں۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی بیشمار مقامات پر ہوا ہے۔ لہذا جو لوگ آخرت اور دوبارہ زندگی کا انکار محض اس بنا پر کرتے ہیں کہ کوئی آدمی مر کر واپس نہیں آیا۔ یا انسان کا جسم مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے تو پر کیسے زندہ ہوسکتا ہے، تو یہ عقلی دلائل کا انکار اور محض جہالت ہے۔
Ayahs 23:38–3942 اسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل تھے۔ اور ان کے نزدیک حضرت ہود کا اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں یا یہ کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا اور تم سے تمہارے اعمال کا مواخذہ کرے گا اور یہ دونوں باتیں ہم ہرگز تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
Ayah 23:4043 یعنی ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی ان پر عذاب آنے والا ہے۔ جب یہ اس کے آثار دیکھ لیں گے تو اس وقت اپنی اس ہٹ دھرمی پر پچھتائیں گے لیکن اس وقت نہ انھیں پچھتانا کچھ کام دے گا اور نہ ایمان لانا۔