Ayahs 23:80–8181 یعنی وہ اس دنیا میں ہر آن مردہ سے زندہ ہے اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر تم سوچو تو اپنی ذات اور اپنے گردوپیش میں بیسیوں ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔ نیز وہ اندھیرے میں سے اجالا نکالتا ہے اور اجالے کو پھر اندھیرے میں گم کردیتا ہے۔ دن رات کا باری باری آنا، دنوں کی مقدار میں کمی شروع ہونا اور راتوں کا بڑھنے لگنا اور اس کے برعکس راتوں کا گھٹنے لگنا اور دنوں کا بڑھنے لگنا پھر موسموں کا تغیر و تبدل یہ سب چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پھر تمہیں یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ جو ہستی اس قدر قدرتوں کی مالک ہے تمہیں اپنے پاس اکٹھا کرکے حاضر کرلینے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔
موجودہ نطریہ کے مطابق ہماری زمین کی دو قسم کی گردشیں ہیں ایک روزانہ یعنی 24 گھنٹے میں اپنے محور کے گرد اور دوسری سالانہ سورج کے گرد ساڑھے چھیاسٹھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے۔ اسی سے دن رات وجود میں آتے ہیں اور موسموں میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔ یہ تو محض نظریہ کا فرق ہے جہاں تک اللہ کی قدرت کا تعلق ہے اس کا بہرحال ہر ایک کو اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ بلکہ موجودہ نظریہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بھی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے جس نے ہماری زمین اور اس سے بھی بہت بڑے اجرام فلکی کو اس طرح مصروف گردش بنا رکھا ہے جس سے وہ سر مو نہ تجاوز کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔
Ayahs 23:82–8482 کفار مکہ سے جب بدوی لوگ پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے ؟ تو وہ کہہ دیتے کہ اس میں کوئی نئی بات تو ہے نہیں وہی پرانے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہیں۔ جو ہم پہلے بھی سنتے آئے ہیں۔ اور یہ بات وہ اس لئے کہتے تھے کہ انبیاء کی بنیادی اور اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خود بھی تو اپنے پیغمبر کو وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان کے آباء و اجداد انبیاء کی مخالفت میں کہتے چلے آئے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟ یہ خود بھی تو وہی پرانی گھسی پٹی بات دہرا رہے ہیں۔ دلیل کے ساتھ انھیں کوئی نیا جواب میسر نہیں آرہا۔ پھر کیا ان کا یہ قول ہی پرانے افسانے پر نہیں ؟ جو محض تقلید آباؤ کے طور پر کہی جاتی ہے۔
Ayahs 23:85–8683 یعنی انھیں خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین اور اس میں جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ملکیت ہے وہ خود بھی جو زندہ ہیں اور اس زمین پر چل پھر رہے ہیں اور وہ بھی جو مر کر زمین کے اندر چلے گئے ہیں خواہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہی بن چکے ہوں سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ پھر وہ یہ بات کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ اس مٹی سے جس میں ان کا وجود مل چکا ہے انھیں دوبارہ پیدا کردے۔
Ayah 23:8784 پہلی آیت میں صرف زمین اور اس میں موجودات کی ملکیت کے متعلق سوال تھا۔ اس آیت میں پوری کائنات کی ملکیت کا سوال ہے۔ کفار مکہ کو یہ بھی اعتراف تھا کہ اس پوری کائنات کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے معبودوں کے اس کائنات میں تصرف کے اختیار کہاں سے آگئے ؟ انھیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی چیزوں کو شریک بنا رہے ہیں۔ جو دوسروں کے تو کیا، اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ ایسے صریح ظلم اور اس کے انجام سے انھیں ڈر نہیں لگتا ؟
Ayah 23:8885 اس آیت میں ملکوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ملک، ملک اور ملک تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنا پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔
اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مشرکین، مکہ کے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں :
خدا جے پکڑے چھڑا لے محمد
محمد جے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا
یعنی اگر اللہ کسی کو پکڑ لے تو اسے محمد ﷺ چھڑا لیں گے اور اگر محمد ﷺ پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔
اس شعر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ محمد ﷺ بھی پکڑنے اور لوگوں سے مواخذہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان کے یہ اختیارات اتنے وسیع ہیں کہ ان کے پکڑے ہوئے کو کوئی (یعنی اللہ تعالیٰ جیسا کہ شعر میں محمد ﷺ کے مقابلہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے) بھی چھڑا نہیں سکتا۔ پھر جب اس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے جو اس کی ایسی توجییہ بیان کرکے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو عذر گناہ، بدتر از گناہ کا مصداق ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا رد پیش کیا جارہا ہے۔
Ayah 23:8986 کفار مکہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ہر چیز کی ملکیت اور اس پر پورے کا پورا اختیار و اقتدار اللہ ہی کو ہے۔ پھر یہ لوگ دوسروں کو اللہ کے اختیار و تصرف میں شریک کرکے اپنی مسلمہ بات کی خود ہی تردید بھی کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو مخاطب کرکے پوچھ رہے ہیں کہ تم جو اپنے پیغمبر کو کبھی ساحر اور کبھی مسحور کہتے ہو، حقیقت یہ ہے کہ مسحور پیغمبر نہیں بلکہ مسحور تم خود ہو۔ جو ایسی حقیقت کا انکار کر رہے ہو جس کا تمہیں خود بھی اعتراف ہے۔ اور جسے تم حقیقت سمجھ رہے ہو تو محض تمہارے باطل نظریات ہیں۔ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود حقیقت تم سے اوجھل ہے۔ ایسا جادو آخر کہاں سے تم پر چل گیا ہے ؟
Ayah 23:9087 سابقہ آیات میں تین باتوں کا اعتراف کرنے سے مشرکین پر حجت قائم ہوجاتی ہے ایک طرف تو وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہر طرح کا تصرف و اختیار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے معبودوں کا بھی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ایسے ہی مملوک ہیں جیسے کائنات کی دوسری اشیاء اور مخلوقات اور مملوک کبھی مالک کے اختیارات میں شریک نہیں ہوسکتا۔ یہی وہحق بات ہے جو ہم نے انھیں بتلائی ہے اور جس کا اعتراف وہ خود کر رہے ہیں۔ رہے ان کے زبانی دعوے کہ ان کے معبود بھی کچھ اختیارات رکھتے ہیں تو وہ اپنپے اقرار و اعتراف کی بنا پر بھی وہ جھوٹے قرار پاتے ہیں۔
Ayah 23:9188 جبکہ مشرکین اپنی دیویوں کی لات، منات اور عزیٰ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور باقی ممالک کے مشرکین نے تو ایسی دیو مالا تیار کی کہ اللہ کی نسل ہی چلا دی۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو۔ اب ظاہر ہے کہ بیٹا مملوک نہیں ہوتا بلکہ شریک ہوتا ہے۔ اب ایک طرف تو مشرکین مکہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے۔ لہذا اگر ہر چیز کو مملوک مان لیا جائے تو کوئی بھی چیز اس کی اولاد نہیں ہوسکتی۔ یا پھر ان کلیہ سے دستبردار ہونا پڑے گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
89 اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو الٰہ ماننے سے مشکل یہ پیش آتی ہے کہ الٰہ صرف وہی ہوسکتا ہے جس کے پاس کچھ اختیارات بھی ہوں۔ اس طرح اللہ کے علاوہ بہت سے اصحاب اختیار و اقتدار سامنے آجاتے ہیں اور ہر ایک کی یہ کوشش ہوگی کہ دوسرے کو بات کرکے خود غالب آجائے پھر جس مخلوق پر کسی الٰہ کا اختیار چلتا ہوگا یقیناً وہ اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے گا۔ اور اقتدار کی اس جنگ میں لامحالہ کائنات کا نظام بھی تباہ ہو کے رہے گا۔ لیکن چونکہ کائنات کے نظام میں ہم آہنگی اور استقلال پایا جاتا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ دوسرے معبودوں اور ان کے اختیارات کا عقیدہ باطل اور لغو ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ان بےہودگیوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 23:92–9390 یعنی اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ہستی کے پاس رتی بھر بھی اختیارات ہوتے تو تو اس کا سب سے علم اللہ کو ہی ہوسکتا تھا کیونکہ موجود اشیاء اور موجودہ علم کے علاوہ غیر موجود اشیاء اور نامعلوم علم کا بھی جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز بھی مخفی رہنا ناممکنات سے ہے۔ اور اپنی اس وسعت علم کی بنا پر ہی یہ فرما رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ نہ کوئی الٰہ ہوسکتا ہے نہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہے لہذا مشرکوں کے ان بیہودہ عقائد سے اللہ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔
Ayah 23:9491 اس آیت میں بھی اگرچہ خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن یہ ہدایت عام مومنوں کے لئے ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر یہ انداز اختیار کرلیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس طرح اللہ کے حق میں یہ گستاخیاں کر رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ ان پر کوئی آفت آکر رہے۔ لہذا مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ ایسے حالات میں وہ اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ اگر ظالموں پر عذاب آئے تو اللہ انھیں اس عذاب سے بچانے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔
Ayah 23:9592 کفار مکہ پر اس قسم کے عذاب کا آغاز غزوہ بدر سے ہی ہوگیا تھا۔ اور اختتام حجۃ الوداع کے دن اعلان برأت پر ہوا۔ جس کیرو سے مشرکین مکہ ہی نہیں بلکہ عرب بھر کے مشرکوں کو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس عرصہ کے اندر خواہ وہ اسلام قبول کرلیں یا جزیرۃ العرب کو خالی کردیں اور یہاں سے نکل جائیں۔ یا پھر ان سے جہاد کرکے ان کا کلی استیصال کردیا جائے یہ تو وہ عذاب تھا جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی ان پر نازل ہوا اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں آس پاس کے ممالک سے مشرک اور مشرکین کا کلی طور پر خاتمہ ہوگیا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔
Ayahs 23:96–9793 یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہوچکی ہے۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا (41: 34) نیز یہ جملہ ایک ایسی آفاقی حقیقت Truth Universal ہے۔ جس کا ہر شخص، ہر حال میں اور ہر زمانہ میں تجربہ کرکے اس کے خوشگوار اثرات سے مستفید ہوتا رہا ہے اور ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول جتنا مفید ہے اتنا ہی اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صاحب عزم انسان ہی اس پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔
Ayah 23:9894 سابقہ آیات میں ان دشمنوں کا ذکر تھا جو انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہخود بھی اور ان کے معاندانہ اعمال و افعال بھی سب کچھ کم از کم نظر تو آتے ہیں اور انسان ان کا مداوا بھی سوچ سکتا ہے ان دو آیات میں ان دشمنوں کا ذکر ہے جو جنوں یا شیطانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو انسانوں کے جسم میں داخل ہو کر برے خیالات اور برے ارادوں کے ذریعہ یوں حملہ آور ہوتے ہیں کہ انسان نہ انھیں دیکھ سکتا ہے اور نہ ان کی کارکردگی کو۔ اور بعض دفعہ انسان ایسے دشمن کی اکساہٹ پر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو اس کے برسوں کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ ایسے دشمن کے حملہ سے بچاؤ کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی پناہ میں آجائے۔ اور یہ دعا کرتا رہے جو ان دو آیات میں سکھلائی گئی ہے۔
Ayah 23:9995 رَبِّ ارْجِعُوْنَ میں اپنے پروردگار سے۔۔ کے بعد جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ رَبِّ ارْجِعِنِیْ نہیں استعمال کیا گیا۔ جس کا غالباً ترجمہ و مطلب یوں بنتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ یہ فرشتے جو میری جان نکالنے آئے ہیں یہ مجھے دنیا میں واپس لوٹا دیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیشمار مقامات پر فرشتوں کے عمل کو اپنا ہی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی نسبت اپنی طرف بھی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے۔
Ayah 23:10096 کلا یہاں دو معنی دے رہا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ چونکہ مرنے کے بعد دوبارہ کسی انسان کو اس دنیا میں واپس بھیجنا میرے قانون اور میری مشیت کے خلاف ہے۔ لہذا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا یہ کہ یہ جو مرنے والا کہہ رہا ہے کہ میں اب دنیا میں جاکر برے اعمال کے بجائے نیک اعمال بجا لاؤں گا تو یہ ایک بےکار سی بات ہے۔ کیونکہ موت کے وقت کے حالات کا مشاہدہ کرلینے اور فرشتوں کو دیکھ لینے کے بعد تو ایمان بالغیب رہتا ہی نہیں۔ اور مطلوب ایمان بالغیب ہے نہ کہ ایمان بالشہادۃ موجود اور دیکھی ہوئی چیز کا اقرار تو ہر شخص کرلیتا ہے اور اسے ایمان یا ایمان بالغیب نہیں کہہ سکتے نہ ہی اس عورت میں یہ دنیا دارالامتحان رہتی ہے۔
اور دوسری صورت یہ ہے کہ انسان کی عادت ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر جب وہ مصیبت دور ہوجائے اور خوشحالی میسر ہو تو وہ مصیبت کے اوقات اور اس مصیبت میں اللہ کے کئے ہوئے وعدہ وغیرہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اور اس صورت کی عام مشاہدہ سے بھی تائید ہوجاتی ہے۔ اور قرآن کریم کی کئی آیات سے بھی۔ اس لحاظ سے بھی کسی مرنے والے انسان کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا بےکار ہے۔ لہذا موت کے وقت جو کچھ وہ مرنے والا کہہ رہا ہے محض ایک بکواس ہی ہوگی جس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
97 یہاں برزخ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی پردہ، آڑ، روک وغیرہ ہے اور بعض کے نزدیک یہ لفظ فارسی لفظ پردہ ہی کا معرب ہے۔ لیکن، روک یا پردہ ایسا نہیں جیسے دو چیزوں کے درمیان کوئی کپڑا لٹکا کر یا دیوار بنا کر ہر چیز کو دوسری سے اوجھل کردیا جاتا ہے۔ جبکہ اس روک میں ایک طویل مدت زمانی بھی شامل ہے۔ اور یہ برزخ کسی انسان کی موت کے وقت سے لے کر اس کے دوبارہ جی اٹھنے تک کے زمانہ کو محیط ہے۔ اہل برزخ سے عالم دنیا بھی اوجھل ہوتا ہے اور عالم عقبیٰ سے بھی۔ اس عالم برزخ کو اللہ تعالیٰ نے موت کے زمانہ سے تعبیر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصہ کے دوران موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں۔ تاہم روح چونکہ زندہ ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہوتی ہے۔ لہذا اس عرصہ میں ہی زندگی کے تھوڑے بہت آثار پائے جاتے ہیں۔ اس عرصہ میں بہت کو عذاب وثواب بھی ہوتا ہے لیکن عذاب وثواب قیامت کے عذاب وثواب کی نسبت بہت ہلکا ہوتا ہے اسی عرصہ کے عذاب کو عذاب قبر کہتے ہیں خواہ میت کا جسم قبر میں موجود ہو یا گل سڑ گیا ہو یا درندوں نے کھالیا ہو یا پانی کی تہہ میں چلا گیا ہو۔
Ayahs 23:101–10298 جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو یہی دن مردوں کا اپنی قبروں سے جی کر اٹھنے اور اللہ کے حضور حاضر کئے جانے کا دن ہوگا اسی دن کو قیامت کا دن کہا جاتا ہے یہ دن چونکہ ہمارے موجودہ حساب کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہوگا۔ لہذا اس مدت میں انسان کو بہت سی قسم کے حالات اور واقعات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس آیت میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے۔ وہ زندہ ہونے کے بعد ابتدائی کیفیت ہے۔ اس وقت دہشت اور ہولناکی اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی سب رشتہ داریاں بھول جائیں گے۔ پھر جبکہ ہر آدمی اپنے حقیقی رشتہ داروں سے بھی الگ رہنے اور دور بھاگنے کی کوشش کرے گا ایک دوسرے کا حال پوچھتا تو دور کی بات ہے۔
Ayah 23:10399 ان دو آیات میں قیامت کے دن کا ایک دوسرا منظر سامنے لایا گیا ہے۔ جبکہ ہر شخص کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن کیا جائے گا اور پلڑا بھاری ہونے سے یہاں مراد نیکیوں والا پلڑا ہے۔ اور اصل چیز جو اس پلڑے کو بھاری اور وزن دار بناسکتی ہے وہ کلمہ توحید اور اس پر استقامت ہے۔ پھر اسی کے مطابق اعمال صالح اس کی تائید مزید کریں گے۔ نیکیوں کا پلڑا جھکنے پر فوراً صاحب عمل کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا کے امتحان میں پاس ہوگیا ہے اور اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ گیا اور برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو ایسے لوگ اس امتحان میں فیل اور ناکام ہوجائیں گے پھر ایک تو اس ناکامی پر انھیں افسوس اور حسرت ہوگی، دوسرے اس کے نتیجہ میں جہنم کا عذاب ان کے لئے پہلے ہی تیار ہوگا اور ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوگی کہ وہ اللہ کی توحید کے اقرار کے ساتھ شرک بھی کرتے رہے ہوں گے اور خسارہ کی صورت یہ ہوگی کہ وہ اچھے عمل بھی کرتے رہے، لعنت بھی کی مگر شرک کی آمیزش کی وجہ سے وہ اعمال ان کے کام بھی نہ آئے۔ الٹا جہنم کے عذاب سے دو چار ہونا پڑگیا۔
Ayahs 23:104–106100 کلح کا لغوی معنی بدشکل ہونا یا حلیہ کا اس طرح بگڑ جانا ہے جس سے انسان بدصورت اور ڈراؤنا معلوم ہو۔ وہ یوں کہ اوپر کا ہونٹ اوپر کو اٹھ جائے اور نیچے کا نیچے کو اور بڑے بڑے دانت سامنے نظر آئیں جیسے ابھی کسی کو پھاڑ کھائے گا۔ یعنی جہنم کی آگ ان کے چہروں کا اس طرح حلیہ بگاڑ کے رکھ دے گی۔
Ayah 23:107101 ظالم لوگ موت کے وقت بھی دوبارہ دنیا میں واپس جانے کی التجا کریں گے جیسا کہ اس سورة کی آیت نمبر 100 میں گزر چکا ہے اور دوزخ میں داخل ہونے کے وقت بھی۔ لیکن ان کی یہ التجا کن وجوہ کی بنا پر ناقابل قبول ہوگی، اس کی تشریح مذکورہ بالا آیت کے حاشیہ میں ملاحظہ فرما لیجئے۔
Ayahs 23:108–109102 خساء کا لفظ کتے اور سور کو دھتکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے ہم پنجابی زبان میں کتے کو دھتکارنے یا دفع کرنے کے لئے در در کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لئے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل سمجھ کر دفع ہونے یا نکل جانے کو کہا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی التجا کے جواب میں فرمائے گا کہ تم اس قدر ذلیل مخلوق ہو کہ تمہارا اس جہنم میں پڑے رہنا ہی مناسب ہے اور دیکھو ! آئندہ مجھ سے کوئی ایسی التجا نہ کرنا۔
Ayah 23:110103 کیونکہ دنیا میں تمہاری حالت یہ تھی کہ جب میرے مخلص بندے تیرے آگے دعاء استغفار کرتے تھے یا میری عبادت کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔ اس قدر ٹھٹھا کرتے اور ان کی نیک خصلتوں کی اتنا مذاق اڑاتے تھے کہ ان کے پیچھے پڑے رہنے کی وجہ سے تم نے میری یاد بھی بھلا دی۔ اور تمہیں اس بات کا احساس ہی نہ رہا تھا کہ تمہارے سر پر کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ہر وقت تمہاری ان کرتوتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اور وہ تمہیں شرارتوں کی سزا دینے پر قادر بھی ہے۔
Ayahs 23:111–112104 لیکن تمہارے اس تمسخر اور مذاق کے مقابلہ میں میرے مخلص بندے دنیا میں صبر ہی کرتے رہے۔ آج میں تمہیں تمہاری کرتوتوں کی پوری سزا دوں گا اور انھیں ان کے صبر کی پوری پوری جزاء دے رہا ہوں۔ میں انھیں ایسا مقام عطا کر رہا ہوں جہاں وہ ہر طرح کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہوں گے اور یہی صبر کرنے والے لوگ ہیں جو ہر طرح سے کامیاب رہے۔
Ayah 23:113105 ان مذاق اڑانے والوں اور دوزخ میں داخل ہونے والوں سے اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے سوال کریں گے : بھلا بتلاؤ تو کہ تم زمین میں کتنے سال مقیم رہے ؟ اس سوال میں زمین سے مراد صرف دنیا کی زندگی بھی ہوسکتی ہے اور قبر کی زندگی سمیت مجموعی زندگی بھی۔ جس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہمیں تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم زمین میں بھی کوئی ایک آدھ دن مقیم رہے ہیں اور ٹھیک ٹھیک مدت تو شمار کرنے والے ہی بتلا سکتے ہیں۔ ان سے پوچھ لیجئے۔ اس جملہ میں حادین یا شمار کرنے والوں سے مراد اعمال نامہ مرتب کرنے والے بھی فرشتے بھی ہوسکتے ہیں۔ جو ایک ایک دن بلکہ ایک ایک گھڑی کے اعمال ساتھ ہی ساتھ ریکارڈ کرتے جارہے ہیں۔
Ayah 23:114106 یعنی یہی بات تو اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ اور ناپائیدار ہے۔ لہذا دنیا اور اس کے ساز و سامان پر مست نہ ہوجاؤ بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ لیکن اس وقت تو تم ہماری اس بات کا بھی مذاق اڑایا کرتے تھے اور یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس یہ دنیا ہی دنیا اصل حقیقت ہے۔ لہذا ہم جتنے مزے اڑاسکتے ہیں اڑا لیں۔ پھر کب ایسا موقع ملے گا ؟ اور آج تم خود اس بات کا اقرار کر رہے ہو۔ کاش یہی بات تمہیں دنیا کی زندگی میں معلوم ہوجاتی۔
Ayah 23:115107 یعنی تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش و آرام کرنے اور مزے لوٹنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اسی دنیا میں نہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملتا ہے نہ اپنے خیال کے مطابق نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلہ ملتا ہے اور نہ ہی کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر واپس آیا ہے۔ جو یہ خبر دے کہ ظالموں کو اس کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہذا تم نے یقین کرلیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے جیسے ہی بن پڑے یہاں عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کرلو حالانکہ اگر تم اس کائنات کے نظام عدل میں ذرا بھی غور کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ یہ کائنات اور اس میں انسان کو محض ایک کھیل تماشہ کے طور پر نہیں بنایا گیا لیکن ہر سبب ایک نتیجہ پیدا کر رہا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہارے اچھے اور برے اعمال کا کوئی نتیجہ مرتب نہ ہو۔ اور چونکہ دنیا کی زندگی اعمال کے نتیجہ بھگتنے کے لحاظ سے بہت قلیل ہے۔ لہذا مرنے کے بعد اب طویل زندگی کا قیام ضروری ہوا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیا جاسکیں۔
Ayah 23:116108 یعنی اللہ تعالیٰ ہی حقیقی خالق ومالک اور بادشاہ ہے۔ اس کی شان اس بات سے بہت بلند ہے کہ وہ کوئی چیز بےکار و بےفائدہ پیدا کرے۔ اس نے جس چیز کو بھی پیدا کیا ہے۔ متعدد اغراض و مصالح کے تحت پیدا کیا ہے۔ اور جو نتائج اس سے مطلوب ہیں وہ حاصل ہو رہے ہیں اور ہو کے رہیں گے اس کی ذات اس چیز سے بھی بلند ہے کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا نہ دے۔ یا مخلص بندوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ نہ دے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا حاکم نہیں جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکے یا سفارش کرکے اس کے فیصلوں میں رد و بدل کروا سکے۔ وجہ یہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی چیز یعنی عرش عظیم کا بھی وہی مالک ہے پھر کوئی دوسری چیز کس شمار میں ہوسکتی ہے۔
Ayah 23:117109 یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی پکار کر شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں اور انہوں نے انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا ہے۔ تو ان کے پاس اس کے جواز میں نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ نقلی۔ ایسے من گھڑت قصوں کی بنیاد محض وہم و گمان پر ہوتی ہے پھر تقلید آباء کی وجہ سے یہ نظریے لوگوں میں رواج پا جاتے ہیں۔ ایسے مشرکوں سے اللہ تعالیٰ پورا پورا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے مقدار جرم کے مطابق سزا دی جائے گی۔ اور ایسے ہٹ دھرم اور منکر لوگ جو سمجھانے پر باز نہیں آتے۔ آخرت میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
Ayah 23:118110 اوپر اسی سورة کی آیت نمبر 109 میں ذکر ہوا ہے کہ جب میرے بندے مجھ سے مغفرت اور رحم کی دعا کرتے تو کافر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کا انجام بتلانے کے بعد پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ سے رحم اور مغفرت کی دعا مانگتے رہا کریں۔ اور اللہ چونکہ سب سے بڑھ کر اور سب سے رحم کرنے والا ہے لہذا تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ وہ تم پر رحم کرتے ہوئے تمہاری تقصیرات اور خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔
سورۃ النور