Ayahs 23:41–4344 یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تند و تیز اور شدید سرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔ بلکہ یہ قصہ عاد ثانی۔ یعنی ثمود) کی قوم کا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو انھیں سزا دی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔ عدل و اصناف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوا۔
45 غثاء بمعنی کوڑا، کرکٹ، کچرا، خس و خاشاک۔ یعنی وہ ہمارے عذاب کی رو میں یوں بہہ گئے جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے۔
Ayah 23:4446 قوم عاد اولیٰ اور عاد ثانی کے بعد، موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک درج ذیل انبیاء مبعوث ہوئے۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ایوب، اور حضرت شعیب (علیہم السلام) یہ تو وہ انبیاء ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اور جن کا ذکر قرآن میں نہیں آیا وہ ان سے بہت زیادہ ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ ﷺ سے دنیا میں مبعوث ہونے والے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 تا 315 بتلائی اور انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتلائی جبکہ قرآن میں صرف 27 انبیاء و رسل کا ذکر ہے۔
اب اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جہاں تک انسانی علم کی رسائی ہوسکی ہے اس کے مطابق عاد اولیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیانی مدت تقریباً چار ہزار سال پر محیط ہے۔ اس طویل عرصہ میں لاتعداد انبیاء و رسل مبعوث ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ ان انبیاء کا ایسا تانتا بندھا ہوا تھا کہ کوئی وقت ایسا نہ تھا جب روئے زمین پر کوئی نبی موجود نہ ہو۔ بلکہ بیک وقت ایک ہی زمانے میں کئی کئی انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ ان سب سے یہی سلوک ہوتا رہا کہ انھیں جھٹلایا گیا۔ کیونکہ چودھری قسم کے لوگ قطعاً اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے کہ وہ اپنی سرداریوں سے دستبردار ہو کر نبیوں کے مطیع فرمان بن جائیں۔ وہ دوسرے لوگوں کو بھی انبیاء کے خلاف بھڑکاتے رہے۔ ان کے اس جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آتے رہے۔ ایک قوم مٹتی تو دوسری اس کی جگہ لیتی رہی۔ پھر اس کے مقررہ وقت کے مطابق اسے بھی صفحہ ہستی سے نیست و نابود کیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کے آثار بھی باقی نہ رہے، ماسوائے ان داستانوں اور افسانوں کے جو بعد کے آنے والے لوگوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔
Ayah 23:4547 سلطان بمعنی غلیہ، قوت، اختیار (منجد، مقائیس اللغة) اور بمعنی فرمان شاہی (منجد) یعنی اتھارٹی یا اتھارٹی لیٹر Letter Athority وہ اختیار یا اختیار نامہ جو کسی حاکم اعلیٰ سے اس کے نائب کو ملا ہو۔ (اور سلطان بمعنی بادشاہ اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے لغوی نہیں۔ نہ ہی قرآن نے اس لفظ کو کسی بھی جگہ ان معنوں میں استعمال کیا ہے) اور اس مقام پر سلطان مبین سے مراد یا ان دونوں نبیوں کی نبوت ہے یا وحی الٰہی۔ اور آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے صرف عصا اور یدبیضا ہی نہیں بلکہ دوسرے معجزات بھی کیونکہ یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تثنیہ کا نہیں۔ نیز آیات سے مراد احکام الٰہی بھی ہوسکتے ہیں۔ جو فرعون کے پاس جاتے وقت انھیں دیئے گئے تھے۔ اور جن سے یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ ان کی۔۔ پر کوئی مافوق الفطرت قوت موجود ہے۔
Ayah 23:4648 یعنی وہ متکبر قسم کے لوگ تھے جو اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھتے تھے۔
Ayahs 23:47–4849 یعنی دوسرے انبیاء کا تکذیب کرنے والے چودھری حضرات تو اپنے انکار کی صرف ایک وجہ بتلاتے تھے کہ یہ نبی بھی ہم جیسا ہی انسان ہے اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں فرعون اور اس کے سرداروں نے اس وجہ کے ساتھ ایک اور وجہ بھی بیان کردی کہ ان نبیوں کی برادری تو ہماری غلام ہے۔ لہذا ہم ان پر ایمان لاکر دوہری رسوائی کیسے قبول کریں۔
یہاں عٰبِدُوْنَ کے لفظ سے عبارت کا مفہوم کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ عبادت محض پوجا پاٹ کا نام نہیں۔ کیونکہ بنی اسراویل فرعونیوں کا پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عبادت کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں ہمہ وقت کی غلامی اور فرمانبرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 23:4950 اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات فرعون اور اس کے سرداروں کی غرقابی کے بعد دی گئی تھی۔ دوسرے یہ کہ جو کہ احکام موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کے نازل ہونے سے پہلے دیئے گئے تھے وہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لئے اسی طرح قابل اتباع تھے جس طرح تورات کے احکام۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبی ہر کتاب اللہ کے علاوہ اللہ کی طرف سے اور بھی بہت کچھ نازل ہوتا ہے۔ اور اس کی اتباع بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے جیسے کتاب اللہ کی اور اس میں ان لوگوں کا پورا رد موجود ہے جو کہتے ہیں کہ ہمیں ہدایت کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے۔
Ayah 23:5051 اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ابن مریم بھی ایک نشانی تھے اور ان کی والدہ بھی ایک نشانی تھی۔ بلکہ یوں فرمایا ان دونوں کو ملا کر ایک نشانی بنایا۔ اور اس کی صورت صرف یہی رہ جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت کو بن باپ تسلیم کیا جاوے نیز یہ بھی کہ حضرت مریم کسی مرد کے چھوئے بغیر ہی نفحہ الٰہی سے حاملہ ہوئی تھیں۔
52 ربوۃ سے مراد ایسی زمین ہے جو عام سطح زمین سے قدرے بلند ہو اور اس کی بھربھری اور ریتلی قسم کی ہو۔ ایسی زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرکے خوب پھول جاتی ہے۔ پنجابی میں ایسی زمین کو میرا زمین کہتے ہیں۔ اس زمین کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام زمین کی نسبت سرسبز و شاداب بھی زیادہ ہوتی ہے اور بلند بھی ہوتی ہے۔
اب اس ربوۃ کی تعین میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہی بلند مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش واقع ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک چشمہ بھی جاری کردیا تھا اور کھجور کے ٹنڈ درخت سے اللہ کے حکم سے تازہ کھجوریں گرنے لگی تھیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس وقت کا ظالم یہودی بادشاہ ہیروڈس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن بن گیا تھا۔ حضرت مریم ان کی حفاظت کی خاطر اللہ کے حکم سے مصر کی طرف ہجرت کر گئیں۔ اور ایک بلند چشمہ دار جگہ پر قصبہ میں مقیم ہوئیں جسے رطہ کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وہیں جوان ہوئے پھر جب ہیروڈس مرگیا تو حضرت مریم انھیں لے کر اپنے وطن واپس آگئیں۔ اسرائیل روایات اسی توجیہ کی تائید کرتی ہیں۔
اور ربوۃ کے ساتھ ذات قرار سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں ضروریات زندگی مہیا ہوسکتی ہوں اور انسان کو وہاں قیام کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اور معین کا لفظ تائید مزید کے لئے ہے۔ جس کا معنی جاری پانی، نتھرا پانی، بہتا ہوا چشمہ، ٹھنڈا اور میٹھا پانی سب کچھ آتا ہے۔
بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں ہندوستان کے ضلع گورداسپور میں واقع ایک قصبہ قادیان میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ وہ خود تو وہیں قادیان میں دفن ہوا اور ان کا مقبرہ بھی وہیں بنا۔ 1947 ء میں پاکستان بنا تو مرزا صاحب کی امت وہاں سے پاکستان کے ضلع جھنگ میں منتقل ہوئی اسی طرح ایک بلند زمین اپنے ہیڈکوارٹر کے لئے منتخب کی اور اس کا نام ربوہ رکھ لیا۔ مرزا صاحب کے خلیفے اور اولاد وہیں اقامت پذیر ہیں۔
مرزا صاحب نے صرف نبوت کا ہی دعویٰ نہیں کیا بلکہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ آپ عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ پیدائش کے تو قائل تھے لیکن رفع عیسیٰ کے قائل نہیں تھے۔ کیونکہ اگر وہ اس کے قائل ہوتے تو آپ کو مسیح موعود بننے میں مشکل پیش آتی تھی۔ آپ کی امت نے تو جھنگ میں ایک ربوہ بنالیا لیکن آپ نے کشمیر کو ربوہ قرار دیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طبعی موت قرار دینے کے بعد فرمایا کہ ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ کشمیر کے صدر مقام سری نگر کے محلہ خانیار میں ایک قبر یوسف آز کے نام سے مشہور ہے۔ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے جو کوئی شہزادہ تھا اور کسی دوسرے ملک سے یہاں آیا تھا۔ مرزا صاحب کے مقصد کے لئے یہ بےسروپا افواہیں ہی کافی تھیں۔ چناچہ آپ کو الہام ہوگیا کہ یہ قبر تو عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کی ہے۔ اب اگر آپ کی امت کے بقول آپ کے الہام کو درست سمجھ بھی لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں صرف حضرت عیسیٰ کا ذکر نہیں بلکہ ان کی والدہ کا بھی ذکر ہے لہذا آپ کو الہام تو دو قبروں کا ہونا چاہئے تھا۔ مگر افسوس ہے کہ وہاں قبر صرف ایک ہی ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور الہامات کی بھی قلعی کھل جاتی ہے۔
Ayah 23:5153 خطاب کا یہ انداز اس لحاظ سے نہیں کہ سارے رسول کسی ایک جگہ اکٹھے کئے گئے تھے تو انھیں اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔ بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ چونکہ سارے رسولوں کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا بطور اختصار یہاں خطاب کا مشترکہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں اگرچہ خطاب رسولوں کو ہے تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور قرآن کریم نے بعض مقامات پر تو یٰاایُّھَا النَّاس کہہ کر حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر اس حکم کے مخاطب ایمان لانے والے ہیں۔
54 پاکیزہ چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شریعت نے حلال قرار دیا ہو اور انھیں حلال ذرائع سے ہی حاصل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مرغی بذات خود حلال چیز ہے مگر جب یہ چوری کی ہو تو حرام ہوجائے گی۔ اسی طرح سود یا دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ حرام مال تصور ہوگا۔ کسب حلال اور حرام سے اجتناب اس قدر اہم حکم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال سے پہلے ذکر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کی کمائی حرام کی ہو تو اس کے نیک اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔ اس سلسلہ میں ہم سورة بقرہ کی آیت نمبر 168 کے تحت آٹھ حدیثیں درج کرچکے ہیں جن کو دوبارہ دیکھ لینا مفید ہوگا۔ تاکہ اس اہم شرعی حکم کی اہمیت پوری طرح معلوم ہوجائے۔
55 یعنی اگر کسی نے کسب حلال میں حرام کی آمیزش کی ہو تو اسے میں خوب جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہارے اعمال میں اللہ کی رضا مندی اور خلوص کا حصہ کتنا تھا۔ یہ مطلب اس لحاظ سے ہوگا جب اس خطاب کا روئے سخن عام لوگوں یا ایمانداروں کی طرف سے سمجھا جائے کیونکہ انبیاء سے کسی قسم کی نافرمانی کا انکان نہیں اور اگر اس کا روئے سخن انبیاء کی طرف سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم نے حق تبلیغ کس حد تک ادا کیا ہے۔
Ayah 23:5256 امت سے مراد ایسا گروہ ہے جو ہم عقیدہ و ہم خیال ہو۔ اور یہاں تمہاری امت سے مراد انبیاء و رسل کی جماعت بھی ہوسکتی ہے اور ان کے ساتھ ان پر ایمان لانے والے بھی۔ اور یہ پوری کی پوری جماعت متحد العقیدہ تھی۔ یعنی ان سب کی اصولی تعلیم اور اصولی عقائد ایک ہی جیسے رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ (1) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کی ذات وصفات اور عبادات میں کسی دورے کو شریک نہ کیا جائے۔ (2) یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ مرنے کے بعد ہر انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسے اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا۔ دنیا میں جو اعمال وہ کرتا رہا اس کے متعلق اس سے باز پرس ہوگی۔ پھر ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ لہذا تمہیں صرف مجھ سے ڈرنا چاہئے۔ (3) کسب حرام سے مکمل طور پر اجتناب یعنی کسی صورت میں بھی دوسرے کے حقوق یا اموال پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے اور (4) اور نیک اعمال بجا لائے جائیں یہ چار باتیں ایسی ہیں جو اصولی نوعیت کی ہیں اور ان کا حکم ہر نبی کو دیا جاتا رہا ہے اور انہی باتوں کا نام دین ہے۔ رہے جزئی احکام جن کا تعلق بالخصوص شق نمبر 3 سے ہے تو اس میں انبیاء کی شریعتوں میں اختلاف بھی رہا ہے۔
Ayah 23:5357 یعنی اصل دین میں چند موٹی موٹی باتیں شامل تھیں۔ اور ہر نبی یہی اصول دین پیش کرتا رہا۔ مگر لوگوں نے انھیں اصول دین میں اختلاف کرکے سینکڑوں فرقے بناڈالے۔ مثلاً پہلی شق توحید ہی کو لیجئے۔ شیطان نے شرک کی بیسیوں نئی سے نئی قسمیں ایجاد کرکے لوگوں کو اس راہ پر ڈال دیا بعض لوگوں نے کسی شخص، نبی یا فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دیا۔ حلول اور اوتار کا عقیدہ وضع کیا اور اللہ تعالیٰ کو بعض لوگوں کے اجسام میں اتار دیا۔ کسی نے کہا کہ فلاں ہستی اللہ کے نور میں سے (جدا شدہ) نور ہے۔ کئی ہستیوں کو اللہ کے علاوہ عالم الغیب اور حاضر و ناظر تسلیم کیا گیا اور سب سے بڑھکر یہ کہ حضرت انسان نے جسے تمام مخلوق سے افضل و اشرف پیدا کیا گیا تھا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں، درختوں، مویشیوں، ستاروں، جن بھوتوں اور آستانوں سے وابستہ کردیا۔ اور ان کے آگے سرتسلیم خم کرنے لگا۔ انھیں سے مرادیں مانگنے لگا۔
دوسری شق آخرت پر ایمان ہے۔ بعض لوگوں نے تو روز آخرت اور دوبارہ جی اٹھنے کا انکار ہی کردیا۔ اور جنہوں نے اسے تسلیم کیا۔ انہوں نے بھی اس کے تقاضوں کو نہ سمجھا۔ بعض نے کہا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد یا سادات ہیں۔ لہذا ہمیں کیسے عذاب ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے سفارش کے عقیدے وضع کر لئے اور اگر فلاں حضرت کی بیعت کرلی جائے تو وہ شفاعت کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ بعض نے یہی عقیدہ اپنے دیوتاؤں سے یا بتوں سے وابستہ کردیا۔ نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا اور بعض پادری حضرات اس دنیا میں ہی لوگوں سے رقوم بٹور کرکے ان کے لئے معافی نامے جاری کرنے لگے۔ اور بعض لوگوں نے عقیدہ وضع کیا کہ اگر فلاں حضرت کے بہشتی دروازہ سے اس کے عرس کے دن نیچے سے گزرا جائے تو یقیناً نجات ہوجائے گی ایسے سستی نجات کے سب عقیدے لغو اور باطل ہیں۔ اور قرآن نے ایسے عقائد رکھنے والوں کو آخرت کے منکر یعنی کافر قرار دیا ہے۔
تیسری شق حلال اور پاکیزہ اشیاء کھانے سے متعلق تھی تو اس میں بھی لوگوں نے افراط وتفریط کی راہیں پیدا کرلیں۔ رہبان و مشائخ اور بعض صوفیاء نے اپنے اوپر حلال اشیاء کو حرام قرار دے لیا۔ اور بعض دوسروں نے حرام و حلال کی تمیز ہی ختم کردی اور سود جیسی حرام چیز کو جسے ساری شریعتوں میں حرام قرار دیا جاتا رہا ہے اسے حلال ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے علماء و مشائخ اور بتوں کے مہنتوں اور مقبروں اور مزاروں کے مجاوروں نے حلت و حرمت کے اختیار خود سنبھال لئے اور ایسے لوگوں کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔
چوتھی شق عمل صالح کی تھی۔ تو غالباً اس شق میں شرک سے بھی زیادہ فرقہ بازی ہوئی۔ دین کے بعض اصولی احکام کو مسخ کرکے بدعی عقائد و اعمال شامل کردیئے گئے اور ان باتوں کی اصل بنیاد حب حاہ وھل لتی اور بیشمار سیاسی اور بدعی قسم کے فرقے وجود میں آگئے۔ انہی میں سے ایک تقلید شخصی کا عقیدہ ہے جس کے ذریعہ اماموں کو نبیوں کا درجہ دے دیا گیا یا ان سے بھی بڑھ کر سمجھا گیا۔
گویا اس سادہ اور مختصر سی اصولی تعلیم سے اختلاف کرکے لوگ جو فی الحقیقت ایک ہی امت تھے سینکڑوں اور ہزاروں فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے فرقوں کو دوزخ کا ایندھن سمجھتا ہے۔ حالانکہ یہ اصولی تعلیم آج بھی موجود ہے اور اگر کوئی شخص یا کوئی فرقہ تعصب سے بالاتر ہو کو راہ حق کو تلاش کرنا چاہے تو راہ حق آج بھی اسی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے جس کا سراغ نہ لگایا جاسکتا ہو۔
Ayahs 23:54–5558 یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے حال میں مست اور مگن ہیں۔ انھیں ان کے حال پر ہی رہنے دیجئے ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔
Ayahs 23:56–6059 دنیا دار اور جاہل لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ آسودہ حالی اللہ کی رضا مندی کی علامت ہوتی ہے۔ اور تنگدستی یا پریشان حالی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی۔ حالانکہ بسا اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ چودھری لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب یہی نظریہ ہوتا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے اور ایمانداروں پر ظلم و زیادتی روا رکھنے کے باوجود ہی ان کا کچھ نہیں بگڑا تو وہ اس نظریہ پر مزید پختہ ہوجاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے ان پر ابتلاء کا دور یوں آتا ہے کہ ان پر مزید انعامات الٰہی کی بارش ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ ان انعامات کی حیثیت ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بجھنے والا چراغ بجھنے سے پیشتر ایک دفعہ خوب روشن ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی اللہ کی خوشنودی کے طور پر نہیں بلکہ امہال و استدراج کی بنا پر ہے۔ اور جتنی انھیں ڈھیل دی جارہی ہے اسی قدر ان کی شفادت کا پیمان لبریز ہو رہا ہے۔
Ayah 23:6160 ان لوگوں کے مقابلہ میں اب اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کی چند صفات بیان فرمائیں سب سے پہلی بات یہ کہ ان میں نیک کام کرتے رہنے کے باوجود ان میں نیکی کا غرور اور گھمنڈ پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس بات سے اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے یہ اعمال شاید اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے کے لائق تھے یا نہیں یا ان میں کچھ تقصیر تو نہیں ہوگئی۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ منزل من اللہ آیات پر ہی ایمان لاتے ہیں اور کائنات میں ہر طرف اللہ کی بکھری ہوئی آیات میں غور کرکے ان سے معرفت حاصل کرتے ہیں جن سے ان دلوں میں اللہ کی عظمت اور جلال کا سکہ بیٹھتا ہے تیسری صفت یہ ہے کہ وہ شرک کی ہر چھوٹی بڑی قسم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور چوتھی صفت یہ کہ اپنے اموال اور دوسری اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے صدقہ و خیرات وغیرہ ادا کرنے کے باوجود اللہ کے حضور اعمال کی باز پرس سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کے متعلق نبی اکرم سے پوچھا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں، انھیں کس بات کا ڈرا لگا رہتا ہے ؟ کیا وہ شراب پیتے ہیں یا چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اور صدیق کی بیٹی ! یہ بات نہیں بلکہ وہ لوگ روزہ رکھتے، نماز پڑھتے اور صدقہ دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ڈرتے ہیں شاید ان کا قبول نہ ہو۔ یہی لوگ ہیں جو نیکیوں کی طرف لپکتے اور آگے نکل جانے والے ہیں (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
Ayah 23:6261 یعنی ہم نے احکام شریعت ایسے نازل نہیں کئے جو انسان کی مسباط سے باہر ہوں۔ شرعی احکام میں مصلحت کے جس پہلو کو ملحوظ رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ شرعی احکام بالعموم مسلمانوں کی اکثریت کے لئے اور نارمل حالات میں قابل عمل ہوتے ہیں۔ جب حالات بدل جائیں جو احکام میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی کردی جاتی ہے پھر چونکہ یہ احکام ایک عام انسان کی استعداد یا قوت کار کو ملحوظ رکھ کردیئے جاتے ہیں۔ لہٰذاعام استعداد سے کم استعداد رکھنے والوں مثلاً بیماروں یا معذوروں کے لئے رخصت یا رعایت دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ نابالغ، مجنون وغیرہ سے شرعی احکام ویسے ہی ساقط کردیئے گئے ہیں۔ پھر معاشرہ میں کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کی استعداد سے زیادہ استعداد رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے وسیع میدان عمل کو سامنے لاکر اس حکم کی زیادہ سے زیادہ بجاآوری کی ترغیب دی جاتی ہے۔ مثلاً ہر عاقل و بالغ مسلمان کو پانچ وقت نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم ہے اور نماز سے پہلے وضو یا طہارت بھی ضروری ہے تو حالات کے مطابق مراعات تو یہ ہیں کہ جسے وقت پر وضو کے لئے پانی دستیاب نہ ہو وہ تیمم کرسکتا ہے۔ بیمار کو اگر وضو کرنے سے بیماری بڑھنے یا کسی اور تکلیف کا خطرہ ہو تو وہ بھی تیمم کرسکتا ہے۔ صفر، خوف کی حالت میں نماز قصر بھی کرسکتا ہے اور دو نمازیں اکٹھی بھی پڑ سکتا ہے، نیز سفر کی حالت میں سواری پر بھی نماز ادا کرسکتا ہے۔ نیز اگر قبلہ یا وقت صحیح کی تعیین میں دقت ہو تو اندازہ سے کام لے سکتا ہے۔ بارش یا کسی اور معقول عذر کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتا تو گھر پر نماز ادا کرسکتا ہے۔ اور کم استعداد والوں کی مثال یوں سمجھئے کہ بیمار بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اگر زیادہ بیمار ہے تو لیٹے لیٹے ہی پڑھ سکتا ہے۔ اتنی بھی ہمت نہ رہی ہو تو اشارہ سے بھی ادا کرسکتا ہے۔ ایسا بیمار یا انتہائی بوڑھا جو مسجد تک جانے کی ہمت نہیں رکھتا۔ مستقل طور پر اپنے گھر میں نماز ادا کرسکتا ہے۔ یہی اس جملہ کا مطلب ہے کہ ہم کسی شخص کو اس کے مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اتنی مراعات کے باوجود پھر بھی کوئی شخص عمداً (نماز ادا نہیں کرتا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اگر نماز کی بجا آوری میں کوتاہی کرتا ہے تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا۔
اور جو لوگ زیادہ استعداد رکھتے ہیں۔ ان کے لئے فرضی نماز کے علاوہ نوافل تجویز کئے گئے ہیں۔ مثلاً ظہر کی نماز کی فرض رکعات صرف چار ہیں۔ ان چار رکعات پر رسول اللہ ﷺ نے تطوعاً جو اضافہ کیا وہ ہمارے لئے سنت ہیں اور وہ چار رکعات فریضہ نماز سے پہلے ہیں اور دو بعد میں۔ پھر ان فرض اور سنت رکعات پر تطوعاً آخر میں مزید رکعات کا اضافہ ہوا جسے نفل کہتے ہیں اور ان پر مزید نوافل کا اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ پھر کچھ نمازیں ایسی ہیں جو فرض کفایہ ہیں جیسے نماز جمعہ اور نماز جنازہ وغیرہ اور کچھ سنت ہیں جیسے تہجد کی نماز جو آپ~صل 3~ پر تو فرض تھی مگر امت کے لئے سنت موکدہ ہے یا نماز تراویح اور کچھ نمازیں ہی نفلی ہیں مثلاً نماز چاشت، ادا بین اور شکرانہ کے نوافل اور کچھ نفل نمازیں حالات سے متعلق ہیں۔ جیسے نماز استسقائ، نماز کسوف اور خسوف وغیرہ یہ ہے وہ وسیع میدان جو ترقی درجات کا سبب بنتا ہے۔ پھر ایک نماز ہی کی یہ صورت نہیں۔ صدقات و خیرات بلکہ ہر رکن اسلام اور عمل صالح کی یہی صورت ہے کہ اس میں تطوعات کا وسیع میدان موجود ہے یہی وہ میدان ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( اُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ 61) 23 ۔ المؤمنون :61) اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھلے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنا کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کی بساط سے باہر ہو۔ کم از کم ہر انسان کو ایسا کرنے کی کوشش ضرور کرنا چاہئے۔
62 یعنی ہر انسان کے اعمال، افعال، اقوال حتیٰ کہ مال کے خیالات اور دل میں پیدا ہونے والے وساوس اور ارادے بھی ساتھ کے ساتھ ریکارڈ ہو رہے ہیں۔ قرآن کی تصریح کے مطابق یہ قلم بندی کرنے والے دو معزز فرشتے ہوتے ہیں ایک انسان کے دائیں طرف، دوسرا بائیں طرف، پھر ان کی ڈیوٹیاں بھی فجر اور عصر کے وقت بدلتی رہتی ہیں موجودہ دور کی سائنسی ایجادات نے اس حقیقت کو بہت حد تک قریب الفہم بنادیا ہے کہ یہ باتیں از خود کس طرح ریکارڈ میں آجاتی ہیں۔ گویا ہر شخص کی زندگی کی مکمل ہسٹری شیٹ اللہ کے ہاں موجود رہتی ہیں اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ تو کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات قلم بند ہونے سے رہ جاتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی غلط اندراج ہوسکتا ہے (نیز دیکھئے سورة کہف کی آیت نمبر 49)
63 یعنی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کسی کو اس کے کام سے کم اجر ملے، نہ یہ کہ اس کے گناہ سے زیادہ سزا ملے۔ یا کسی کا جرم کسی دوسرے کے کھاتے میں چلا جائے۔ غرضیکہ کسی طرح کی زیادتی اور حق تلفی ممکن نہ ہوگی۔
Ayah 23:6364 یعنی یہ بات ان کے ذہن میں آتی ہی نہیں کہ ان کی پوری ہسٹری شیٹ ساتھ ہی ساتھ تیار ہو رہی ہے۔ لہذا وہ اپنے دنیا کے دوسرے کاموں میں ہی ایسے منہمک اور مگن ہیں کہ انھیں اس نامہ اعمال اور اس کی بنا پر آخرت کی بازپرس کا خیال تک نہیں آتا۔
Ayahs 23:64–6565 یعنی جب عذاب الٰہی آتا ہے تو واویلا اور چیخ پکار کرنے والے بھی وہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال اور چودھری ٹائپ ہوتے ہیں۔ یہی لوگ نبیوں کی تکذیب، انھیں ایذائیں پہنچانے اور عوام کو اللہ کی راہ سے روکنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اور عذاب نازل ہونے پر چیخنے چلانے والے بھی یہی ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب عذاب آجاتا ہے تو پھر چیخنے چلانے یا فریادیں کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ نہ ہی کوئی طاقت انھیں اللہ کے عذاب سے بچاسکتی ہے۔
Ayah 23:6666 یہ عذاب دراصل ان کے اپنے ہی اعمال کی شامت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انھیں جب اللہ کی آیات سے نصیحت کی جاتیتھی اور برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تب تو وہ ایسی باتوں کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور اب جب سر سے پانی چرھ گیا تو پھر چیخنے چلانے کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟
Ayah 23:6767 سمر کے معنی رات کے وقت سونے سے پیشتر ایک دوسرے سے قصے کہانیاں بیان کرنا۔ تاکہ ان قصے کہانیوں میں محو ہو کر نیند آجائے۔ یہ قصے یا افسانے یا کہانیاں محض دفع الوقتی یا خوش وقتی کے لئے سنے سنائے جاتے ہیں۔ ان کا اور کچھ مقصد نہیں ہوتا۔ دیہاتوں میں آج بھی یہ دستور ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کو کوئی بھوت پریت یا ایسی ہی دوسری کہانیاں سناتے ہیں اور مکہ میں بھی یہی دستور تھا۔ اور مجر کے معنی بیماری، نیم بےہوشی یا نیم خفتگی کی حالت میں مہمل سی باتیں کرنا یا بڑبڑانا۔
گویا مترفین یا ان عیاش لوگوں کا جرم یہ تھا کہ اللہ کی آیات کو سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے اور راہ تکبر منہ موڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔ مزید برآں ایک دوسرے سے اگر آیات الٰہی کا ذکر کرتے بھی تو انتہائی بےنیازی اور لاپروائی سے جیسے کوئی مہمل سی باتیں یا قصے کہانیاں سنا رہا ہو۔ ان کے ان جرائم کی سزا یہی ہے کہ اب ان کے چھٹکارا کی سب راہیں بند کردی جاتیں اور نہ ہی ان کی آہ و فغاں پر کچھ توجہ دی جائے۔
Ayah 23:6868 یعنی اگر لوگ قرآن اور اس کی آیات میں غور کرتے تو انھیں باسانی معلوم ہوسکتا تھا کہ اس میں وہی باتیں مذکور ہیں تو سابقہ تمام انبیاء کی تعلیم وہی ہے اور جنہیں ان کے آباء و اجداد بھی سنتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی تعلیم تو ہے نہیں۔ پھر آخر ان کے اس طرح بدلنے کی کیا وجہ ہے ؟ بلکہ اگر وہ سنجیدگی سے اس میں غور کرتے تو انھیں خوب معلوم ہوجاتا کہ یہ کلام طعن وتشنیع کے نہیں۔ تعریف کے قابل ہے۔ جس میں سراسر حکمت بھری ہوئی ہے اور کلام بھی ایسا فصیح وبلیغ ہے۔
Ayah 23:6969 اللہ کی آیات سے بدلنے کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے اس رسول سے پوری طرح متعارف نہ ہوتے۔ اور جب وہ یہ باتیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کی زندگی ابتداء ہی سے بےداغ رہی ہے۔ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ کسی انسان سے فریب نہیں کیا۔ کبھی کسی کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ نہ کبھی وعدہ خلافی کی ہے نہ کبھی کسی سے الجھا ہے تو کیا وہ شخص کسی انسان سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ بول سکتا ہے کہ اس نے مجھے رسول بنایا ہے اور اللہ کے نام پر تمہیں فریب دے سکتا ہے ؟
Ayah 23:7070 انکار ایک تیسری وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے رسول کو دیوانہ سمجھ کر اس کی باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھیں۔ اگر وہ اسے دیوانہ کہہ بھیدیں تو ان کے دل ہرگز اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ جب دعوت توحید کا چرچا عام ہونے لگا تو قریش سرداروں کو بہت فکر لاحق ہوگئی۔ وہ اس دعوت کو روکنے کے لئے مشورہ کی خاطر ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی) ولید بن مغیرہ ایک سمجھدار آدمی تھا۔ کہنے لگا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو انھیں پیش کردہ تجاویز میں سے ایک سردار نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ہم لوگوں کو کہیں گے کہ وہ تو ایک مجنون آدمی ہے یہ سن کر ولید بن مغیرہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! وہ دیوانہ نہیں ہے۔ ہم نے دیوانوں کو بارہا دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ دیوانوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ہی ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں (الرحیق المختوم ص 121) (نیز رسول اور مجنون میں فرق کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت نمبر 184)
71 پھر جب یہ سب باتیں ناممکن ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جو دعوت یہ رسول پیش کر رہا ہے وہ حق اور درست ہو، اور ان کے انکار اور بدکنے کی وجہ صرف یہ ہوسکتی ہے کہ انھیں سچی بات سے چڑ ہوگئی ہے اور وہ اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ سچی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔
Ayah 23:7172 یعنی اگر اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کے احکام عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق نازل ہوں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی خواہشات کے مطابق احکام کرے تو اللہ تعالیٰ مالک مختار رہ کہاں گیا ؟ اس صورت میں تو اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) بندوں کے ہاتھوں میں کٹ پتلی بن گیا۔ پھر خواہشات بھی ہر شخص کی الگ الگ ہیں۔ اور ایک دوسرے کی خواہشات سے ٹکراتی ہیں اس بات کو ایک سادہ سی کہانی سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں ایک آدمی کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح ایک زمنیدار لڑکے سے کردیا اور دوسری کا ایک کمہار سے۔ ایک دفعہ وہ اپنی بیٹیوں سے ملنے گیا۔ پہلے بری بیٹی کے ہاں گیا تو وہ کہنے لگی۔ ابا جان ! کافی عرصہ سے بارش نہیں ہو رہی فصل کو پانی کی شدید ضرورت ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ رحمت کی بارش برسا دے۔ ورنہ اگر فصل نہ ہوئی تو ہم تو بھوکوں مرجائیں گے۔ اس نے بیٹی سے دعا کا وعدہ کیا۔ پھر دوسری بیٹی کے ہاں گیا۔ تو وہ کہنے لگی : ابا جان ! ابھی ابھی ہم نے برتنوں والا آوا چڑھایا ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ ابھی کچھ مدت بارش نہ ہو۔ اگر بارش ہوگئی تو ہمارا بہت نقصان ہوجائے گا وہ اس کی بات سن کر کہنے لگا : یا اللہ ! جیسے تیری مرضی ہے ویسے ہی کر۔ اپنے کاموں کو تو ہی بہتر جانتا ہے
اب اگر مشرکوں کی خواہش کا اتباع کیا جائے تو ان کی تو یہ خواہش ہے کہ ان کے معبودوں کو تصرف امور میں شریک سمجھا ہی نہ جائے بلکہ بنا بھی دیا جائے۔ اب بتلائیے کہ اس صورت میں یہ نظام کائنات ایک ساعت بھی قائم رہ سکتا ہے ؟ ایک گھر میں دو منتظم یا ایک مملکت میں دو بادشاہ بھی سما نہیں سکتے تو کیا اس کائنات میں مشرکوں کے سینکڑوں خداؤں کی خدائی سے کائنات کا نظام ایک منٹ بھی چل سکتا ہے۔ حق صرف اس لئے حق ہے کہ لوگ اس کی اتباع کریں نہ یہ کہ حق لوگوں کی خواہشات کی اتباع کرنے لگے۔ اور اگر بفرض محال ایسی صورت ہو تو کوئی بات بھیحق نہ رہے گی۔
73 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم نے ان کی طرف قرآن اس لئے نازل کیا تھا کہ وہ ہدایت حاصل کرتے۔ جیسا کہ کفار مکہ کہا کرتے تھے کہ اگر ذکر ہماری طرف نازل کیا جائے تو ہم یقیناً دوسری سب قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ (6: 157) پھر جب ذکر ان کے پاس آگیا تو بجائے اس کے کہ اسے قبول کرلیتے اس سے اعراض کرنے لگے۔
اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہاں ذکر سے مراد عزو شرف ہے اور یہ معنی بھی اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے یعنی ہم نے یہ ذکر تمہاری ہی زبان میں نازل کیا تاکہ تم اسے خوب سمجھ سکو پھر رسول نے تمہیں واضح طور پر بتلا دیا کہ اگر تم اس کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تم عرب و عجم کے حکمران بن جاؤ گے اور اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک دفعہ عقبہ بن ربیعہ، جو ایک معزز قریش سردار، نہایت بہادر اور فطرتاً نیک دل انسان تھا۔ حرم میں بیٹھ کر اپنے دوسرے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ میں محمد ﷺ سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ امید ہے وہ ان میں سے ایک نہ ایک ضرور قبول کرے گا اور اگر اس نے قبول کرلی تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں گے۔
مشرکوں نے کہا : ابو الولید ! ضرور یہ کام کرو۔ چناچہ آپ کے پاس اگر چند باتیں پیش کیں۔ جن کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں۔ ان سب باتوں کے جواب میں آپ نے سورة حم السجدہ کی چند آیات پڑھیں جنہیں عقبہ چپ چاپ سنتا رہا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے (فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ 13ۭ ) 41 ۔ فصلت :13) یعنی اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں عاد وثمود کی کڑک جیسی ایک کڑک کے خطرہ سے آگاہ کر رہا ہوں تو عتبہ کے آنسو بہنے لگے اور آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ قرآن کی یہ آیات اس کے دل کو خوب متاثر کر رہی تھیں اور اسے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا عذاب اسی وقت نہ آن پڑے۔ وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر اب وہ پہلا عتبہ نہ رہا تھا۔ جاکر قریشیوں سے کہنے لگا : محمد ﷺ جو کلام پیش کرتا ہے وہ شاعری نہیں کچھ اور ہی چیز ہے تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس میں تمہاری ہی عزت ہے اور اگر وہ خود ہی ختم ہوگیا تو یہی کچھ تم چاہتے ہو وہ کہنے لگے : ابوالولید ! معلوم ہوتا ہے تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ (تفسیر ابن کثیر، ج 6 د 159 تا 161)
مگر جب یہ عزوشرف بخشنے والا ذکر آگیا تو انہوں نے اس سے اعراض اور نفرت کا اظہار شروع کردیا۔
Ayah 23:7274 آپ کی دعوت سے ان لوگوں کے انکار کی ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اپنی اس محنت تبلیغ کا معاوضہ مانگتے ہوں اور وہ اسے تاوان سمجھ کر اس سے انکار کردیں۔ یہ بات بھی نہ تھی۔ نہ صرف یہ کہ آپ بےلوث ہو کر دعوت دین کا کام سرانجام دے رہے تھے بلکہ اس سے کئی مسائل پیدا ہوگئے۔ نبوت سے پہلے آپ تجارت کرتے تھے۔ نبوت کے بعد یہ شغل چھوٹ گیا۔ پہلے آپ مالدار تھے، بعد میں افلاس میں مبتلا ہوگئے۔ پہلے آپ اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھے۔ بعد میں وہی قوم آپ کی دشمن بن گئی۔ قوم نے آپ سے سمجھوتہ کی خاطر بیشمار مال و دولت قدموں میں ڈھیر کرنے کا لالچ دیا مگر آپ نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس سے ان لوگوں کو اتنا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ جو شخص کئی طرح مصبتیں سہہ کر اور بغیر معاوضہ کے ایسی خدمت سرانجام دے رہا ہے اس کی کوئی غرض دنیا سے وابستہ نہیں ہوسکتی۔ اور جس ہستی کے لئے وہ اتنی مشقتیں برداشت کر رہا ہے اس کا معاوضہ بھی اسی کے ذمہ ہے اور وہ ایسے ذرائع سے رزق مہیا کرتا ہے جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں آسکتے۔
Ayahs 23:73–7575 یعنی وہ ایسی موٹی موٹی باتیں ہیں جو ہر پیغمبر پر وحی کی جاتی رہی ہیں۔ ان میں کوئی ایچ پیچ نہیں۔ کوئی پیچیدگی اور ابہام نہیں۔ ان کے دلائل نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ جو ایک دیہاتی اور بدو کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔ مثلاً ایک بدو سے کسی نے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے ؟ کہنے لگا : ہاں ہے ! پوچھنے والے نے دوبارہ وال کیا بھلا کیسے ؟ بدو کہنے لگا : اگر ہم راہ میں کوئی اونٹ کی مینگنی پڑی دیکھیں تو ہم اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہاں سے یقیناً کوئی اونٹ گزرا ہے۔ اسی طرح جب ہم یہ کائنات کا اتنا وسیع کارخانہ دیکھتے ہیں لازماً اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس کا کوئی بنانے والا ضرور ہونا چاہئے
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گھر میں دو حاکم ہوں تو اس کا نظام کبھی درست نہیں رہتا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی مالک و مختار ہوں ؟ اگر ایسی صورت ہو تو کائنات کا نظام تو ایک دن بھی نہ چل سکے۔
اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر زمانہ میں مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ انسان جو غذائیں کھاتا ہے سب بےجان ہیں۔ کئی مراحل کے بعد انھیں غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے۔ پھر اسی نطفہ سے ایک جیتا جاگتا انسان پیدا ہوجاتا ہے۔ جس میں اس کے ماں باپ کے خصائل و عادات اور نقش وغیرہ تک جھلک موجود ہوتی ہے۔ اسی سے باسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جو کام اس دنیا میں ہر آں ہمارے سامنے ہو رہے ہیں وہ آخر انسان کی موت کے بعد کیوں ناممکن ہیں۔ غرض دین کی اصولی تعلیمات پر غور فرمائیے تو سب باتیں سیدھی، سادہ اور عام فہم نظر آئیں گی اور یہی اصولی باتیں ہی اللہ کی سیدھی راہ ہے۔
Ayah 23:7676 جب ابتدائے اسلام میں ہی کفار مکہ نے مسلمانوں اور پیغمبر اسلام پر مصائب ڈھانا شروع کئے اور یہاں تک مخالفت کی کہ ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حضور ان کے حق میں بددعا کی اور فرمایا : یا اللہ ! ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) والے قحط کے سات سال مسلط کر چناچہ آپ کی دعا قبول ہوگئی تو ان پر قحط کا عذاب آگیا۔ بارشیں رک گئیں۔ باہر سے غلہ آنا بھی رک گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ یہ لوگ مردار، ہڈیاں اور خون تک کھانے پر مجبور ہوگئے مگر بھوک پھر بھی نہ مٹتی تھی۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے اور بھوک کی وجہ سے اتنے کمزور ہوگئے تو آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو انھیں دھواں نظر آتا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور سورة دخان میں صراحت سے مذکور ہے۔ بالآخر ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگاہ تم تو رشتہ جوڑنے کی تاکید کرتے رہتے ہو اور ہم تمہاری ہی برادری ہو کر بھوکوں مر رہے ہیں ہمارے لئے اللہ سے رحم کی دعا کرو چناچہ آپ نے دعا فرمائی اور اللہ نے رحم کردیا۔ بارشیں بھی شروع ہوگئیں اور باہر سے غلہ آنا بھی اور بھلے دن آگئے پھر کفار مکہ سب باتیں بھول گئے اور پھر پہلے کی طرح مسلمانوں کو دکھ دینا شروع کردیا۔
Ayah 23:7777 سخت عذاب سے مراد وہ امر ہے جو کافروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں پڑتی رہی اور جس کا آغاز غزوہ بدر سے ہوا تھا۔
78 لفظ مُبْلِسُوْنَ آیا ہے اور یلس کے معنی غم کی وجہ سے سخت مایوس ہوجانا یا سخت مایوسی کی وجہ سے غمگین ہونا پھر اسی مایوسی کی بنا پر برافروختہ ہوجانا یا بھڑک اٹھنا۔ سعدی کا ایک شعر ہے۔
نہ بینی کہ چوں گر بہ عاجز شود۔۔ برآزر بچنگال چشم پلنگ
ترجمہ : تم دیکھتے نہیں کہ چیتے کے مقابلہ میں جب بلی عاجز ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت کا یقین ہوجاتا ہے تو چیتے پر حملہ کرکے اپنے پنجہ سے اس کی آنکھ نکال دیتی ہے) یعنی ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ جوں جوں انھیں مار پڑتی ہے اور انھیں اپنی کامیابی کے امکان ختم ہوتے نظر آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ سیدھی راہ اختیار کریں۔ مزید بروافروختہ ہوجاتے ہیں۔ اور دوسری اقوام اور دوسرے مشرک قبائلی کو اپنے ساتھ ملا کر اجتماعی طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر انھیں صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 23:7879 یعنی اللہ نے تمہیں آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ تم ان سے اتنا ہی کام لو جتنا جانور لیتے ہیں۔ دیکھو تو صرف وہ چیز دیکھو جس سے تمہیں دنیوی فائدہ نظر آتا ہو۔ اور سنو تو بھی ایسی ہی بات سنو اور سوچو تو صرف اپنے کاروبار اور روزگار کی بات سوچو یا یہ فکر کرو کہ کون کون سے وسائل سے تمہاری آمدنی ذرائع آمدنی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آخر اللہ نے تمہیں جانوروں سے کچھ زائد قوتیں بھی عطا فرمائی ہیں ان سے تم نے کیا کام لیا ؟ اللہ نے تمہیں آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ اپنی دنیوی ضرورتیں ہی پوری کرو مگر کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو بھی دیکھو۔ منزل من اللہ آیات کو اپنے کانوں سے غوف سے سنو۔ پھر ان تمام نشانیوں میں غور و فکر کرکے معرفت الٰہی حاصل کرو۔ اور اس کا شکر بجا لاؤ۔ جانوروں کی طرح ان قوتوں کو محض دنیوی مفادات میں کھپا دینا جہاں ایک طرف اللہ کی ناشکری پر دلالت کرتا ہے وہاں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تم اپنے آپ کو جانوروں سے بھی بدتر مخلوق ثابت کر رہے ہو۔
Ayah 23:7980 یعنی تمہیں ایک نفس سے پیدا کر کے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا اور یہ پھیلاؤ کا عمل تاقیامت جاری رہے گا۔ اب جو ذات تمہیں پھیلا سکتی ہے، وہ تمہیں سمیٹ کر اپنے ہاں اکٹھا بھی کرسکتی ہے اور جو کچھ تم اس دنیا میں کرتے رہے اس پر مواخذہ بھی کرسکتی ہے۔