Ayah 21:1اقترب للناس حسابہم لوگوں کے قریب آگیا ان کا حساب یعنی گزشتہ زمانے کے مقابلہ میں اب حساب
(آخرت) کا زمانہ قریب آگیا۔ للناس میں لام بمعنی مِنْ ہے یعنی لوگوں سے قریب آگیا۔ الناس میں الف لام جنسی ہے عام لوگ یا عہدی یعنی کافر لوگ۔ آئندہ آیت سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ الناس سے مراد کافر ہیں۔
وہم فی غفلۃ اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں یعنی دنیا اور نفسانی خواہشات میں غرق ہونے کی وجہ سے وہ محاسبۂ
آخرت سے بھی غافل ہیں اور اس سزا سے بھی جو ان کو دی جائے گی۔
معرضون۔ منہ موڑے ہوئے ہیں یعنی حساب فہمی پر غور کرنے اور اس کی تیاری کرنے سے روگرداں ہیں۔
فِیْ غَفْلَۃٍکے بعد مُّعْرِضُوْنَ کا اضافہ اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ حساب کی طرف ان کا غافل ہونا دنیا میں ڈوبنے کی وجہ سے ہے ‘ یہ بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کی یاد میں غرق ہیں اس لئے ان کو آخرت کا خیال نہیں آتا۔
اگر الناس میں الف لام استغراقی والی قرار دیا جائے اور تمام لوگ مراد ہوں تو ہُمْ ضمیر بعض لوگوں یعنی کافروں کی طرف راجع ہوگی اور یہ جائز ہے جیسے آیت (وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ ۔ وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ ) میں المطلقات کا لفظ عام ہے ‘ لیکن بعولتہن کی ضمیر ان مطلقات کی طرف راجع ہے جن کی طلاق رجعی ہے۔
Ayah 21:2ما یاتیہم من ذکر من ربہم محدث الا استمعوہ وہم یلعبون۔ ان کے پاس ان کے رب کی
طرف سے جو نصیحت تازہ (ان کے حسب حال) آتی ہے یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں کہ (اس کے ساتھ) ہنسی کرتے ہیں۔
مِنْ ذِکْرٍمیں مِن زائد ہے جار مجرور محل فاعل میں ہے۔ ذکر یعنی ایسی نصیحت جو خواب غفلت سے بیدار کر دے۔ مُحْدَثٍتازہ جدید یعنی جس کا نزول جدید ہو کانوں میں بار بار آئے تاکہ نصیحت پذیری پر تنبیہ ہو۔ محدثٍ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ذکر قدیم نہ ہو (کیونکہ حدوث سے مراد نزول کا حدوث ہے اس سے معتزلہ کے اعتراض کی بیخ کنی ہوگئی جو کلام اللہ کو حادث کہتے ہیں اور محدث کے لفظ سے حدوث پر استدلال کرتے ہیں۔ مترجم) وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ یعنی قرآن سے استہزاء کرتے ہیں انتہائی غافل ہیں انجام کی طرف سے بالکل لا پروا ہیں اس لئے قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 21:3لاہیۃ قلوبہم (قرآن میں غور کرنے اور انجام کو سوچنے سے) ان کے دل بےفکر ہیں۔ ابوبکر وراق نے لاہِیَۃً کا
مطلب بیان کیا کہ ان کے دل دنیوی سجاوٹ و بناوٹ میں مشغول ہیں آخرت اور اس کی ہولناکیوں سے غافل ہیں۔
واسروا النجوی الذین ظلموا اور چھپا کر سرگوشیاں کیں ظالموں نے۔ (سرگوشی تو خود پوشیدہ ہی ہوتی ہے
کانوں کانوں میں بات کرنے کو نجویٰ کہتے ہیں پھر اَسَرُّوْاکیوں فرمایا تو اس اضافہ سے پوشیدہ رکھنے میں مبالغہ کو ظاہر کرنا مقصود ہے یا یہ مطلب ہے کہ ایسی جگہ سرگوشی کرتے ہیں کہ وہ مقام بھی پوشیدہ رہے کسی کو معلوم نہ ہو۔
اَسَرُّوْا میں واؤ زائد ہے یا ضمیر جمع کا ہے اور الذیناس سے بدل ہے یا اَسَرُّوْاسے پہلے ہولائمبتدا محذوف ہے اور الذین ظلموا سے پہلے ہُمْ مبتدا محذوف ہے۔
ہل ہذا الا بشر مثلکم نہیں ہے یہ مگر تم ہی جیسا انسان۔ کافروں کا خیال تھا کہ پیغمبر کا فرشتہ ہوناضروری ہے اور
یہ ہم جیسا انسان ہے اس لئے پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ پیغمبر کو پیغامبر بنا کر بھیجنے والے کا ہم جنس ہونا چاہئے اور ان کے گمان کے موافق ملائکہ اللہ کے ہم جنس تھے اسی لئے فرشتوں کو وہ خدا کی بیٹیاں کہتے تھے پس پیغمبر کا فرشتہ ہونا لازم ہے ‘ حق بات یہ ہے کہ رسول ﷺ کو ان کا ہم جنس ہونا چاہئے جن کے پاس رسول ﷺ : کو بھیجا گیا ہو تاکہ اس کی ہدایت سے کچھ فائدہ حاصل ہو سکے اللہ تو کسی کا ہم جنس نہیں اس کی مثل تو کوئی نہیں (اور فرشتے انسانوں کے ہم جنس نہیں ان سے لوگوں کو کیسے فائدہ پہنچنا ممکن ہے اگر بالفرض فرشتہ کو بھی پیغمبابنا کر بھیجا جاتا تو اس کی اصل شکل کو کوئی پہچان نہ سکتا نہ اس سے فائدہ حاصل کرسکتا لامحالہ فرشتے کو بشکل بشری بھیجا جاتا لیکن کسی کو کیا معلوم ہوتا کہ یہ فرشتہ ہے یا آدمی۔ مترجم)
اللہ کے پیغمبر نے جب دعوئے رسالت کے ثبوت کے لئے معجزات پیش کئے اور کافروں سے اس کا جواب نہ بن پڑا تو کہنے لگے۔
افتاتون السحروا انتم تبصرون۔ کیا تم پھر بھی دیدہ دانستہ جادو کی بات سننے جاؤ گے۔ یعنی یہ شخص
رسول نہیں ہے آدمی ہے اور یہ جو کچھ غیر معمولی عاجز کن چیزیں قرآن جیسی پیش کر رہا ہے تو یہ جادو ہے پس آنکھوں سے جادو دیکھتے ہوئے کیا تم جادو کی پیروی کرنے لگو گے ‘ رسول اللہ ﷺ کے معجزات کو جادو قرار دینے کی ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی نہ کوئی ثبوت پیش کرسکتے تھے اس لئے مجبوراً واَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَکہا یعنی بداہت کا دعویٰ کیا اور ایسا جادو قرار دیا جس کو ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ باہم مشورہ کو پوشیدہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ باہم متفق طور پر ایک ایسے فیصلہ پر پہنچنے کے خواستگار تھے اور ایسے قول پر اتفاق کرنا چاہتے تھے جس سے نبوت کا مقابلہ کرسکیں اور قصر نبوت کو ڈھا دیں جس کو سن کر سننے والے نبوت کی تکذیب کرنے پر آمادہ ہوجائیں وہ چاہتے تھے کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ تو اپنا نور پورا پورا پھیلانے والا تھا خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔
Ayah 21:4قل ربی یعلم القول فی السمآء والارض وہو السمیع العلیم۔ پیغمبر نے کہا میرا رب ہر بات
کو خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں جانتا ہے اور وہ ہی خوب سننے والا اور بخوبی جاننے والا ہے۔ یعنی ہر قائل کی ہر بات کو آسمانوں میں ہو یا زمین میں ظاہر ہو یا پوشیدہ ‘ چلا کر ہو یا چپکے چپکے بہرحال اللہ اس کو جانتا ہے وہ سب کی باتیں خوب سنتا ہے اور سب کے احوال و افعال کو خوب جانتا ہے اس سے کوئی پوشیدہ بات بھی پوشیدہ نہیں۔
Ayah 21:5بل قالوا اضغاث احلام بل افترہہ بلکہ یوں بھی کہا کہ یہ قرآن پریشان خیالات ہیں بلکہ اس شخص
نے اس کو خود تراش لیا ہے۔
کافروں نے رسول اللہ ﷺ : کی رسالت سے اس لئے انکار کیا تھا کہ یہ آدمی ہیں اور آدمی پیغمبر نہیں ہوسکتا اللہ نے ان کے اس قول کو گزشتہ آیت میں نقل فرما دیا۔ پھر کافروں نے قرآن کی شان میں کہا تھا کہ یہ بےہودہ گڑ بڑ خوابوں کا مجموعہ ہے اللہ نے پہلے قول کو نقل کرنے کے بعد کلام کا رخ موڑا اور کافروں کے دوسرے قول کو نقل فرمایا۔
مخلوط اور گڑبڑ خوابوں کا مجموعہ قرار دینے کا یہ مطلب تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہے۔ بلکہ کچھ بےہودہ خواب ہیں جو ان کو سوتے میں نظر آجاتے ہیں پھر اس سے بھی اعراض کیا (کیونکہ بیہودہ خواب غیر مربوط اور بےبنیاد ہوتے ہیں اور افادیت سے بھی خالی ہوتے ہیں اور قرآن مربوط مفید پیام کا حامل ہے اس لئے) کہنے لگے نہیں (یہ اصغاث احلام نہیں ہے ‘ بلکہ اس شخص نے خود اپنی طرف سے یہ کلام بنا لیا ہے (اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کردی ہے) ۔
بل ہو شاعر (پھر کہنے لگے یہ خالی دروغ بندی اور کذب تراشی ہی نہیں) بلکہ یہ شخص شاعر ہے (یہ اس کی شاعری
کی بلند پروازی اور کمال شعری ہے) پہلے قرآن کو دروغ بندی قرار دیا تھا پھر اس سے گریز کیا اور اللہ کے کلام کو شعر کہنے لگے۔
بغوی نے لکھا ہے مراد یہ ہے کہ کچھ مشرکوں نے کتاب اللہ کو پراگندہ خواب کہا کچھ لوگوں نے من گھڑت دروغ بندی قرار دیا اور بعض نے قرآن کو شعر کہا اور رسول اللہ ﷺ : کو شاعر۔ مفتری اور شاعر میں فرق یہ ہے کہ افتراء کرنے والے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جھوٹی بات کہہ کر سننے والے کو اس کے سچ ہونے کا یقین دلا دے اور شعر ان مقدمات کے مجموعہ کا نام ہے جن سے سننے والے اور پڑھنے والے کے دل میں خوف یا رغبت یا شوق یا خوشی یا غم یا تعظیم یا تحقیر یا کوئی اور جذبہ پیدا ہوجاتا ہے شعر کی غرض صرف جذبات کو برانگیختہ کرنا ہوتا ہے تصدیق کرانی مقصود نہیں ہوتی (گویا شعر کلام خبری ہوتا نہیں انشائی ہوتا ہے (اور افتراء کلام خبری کا نام ہے) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شاعر مقدمات شعریہ کے ساتھ کچھ واقعات بھی بیان کرتا ہے (خواہ کلام سچا ہو یا جھوٹا مگر واقعات کی تصویر کشی ضرور ہوتی ہے اس صورت میں شعر کے اندر شعریت اور انشائیت بھی ہوتی ہے اور خبریت بھی) جیسے مثنوی میں ہوتا ہے محض انشاء (یعنی ترہیب و ترغیب ‘ تعظیم و تحقیر وغیرہ) غزل میں ہوتی ہے اور مثنوی میں انشاء کے ساتھ اخبار بھی ہوتا ہے ‘ کافروں کے یہ پراگندہ اقوال دلالت کر رہے ہیں کہ ان کو کسی بات کا یقین نہ تھا کبھی قرآن کے متعلق کچھ کہتے تھے کبھی کچھ۔
فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون۔ (یعنی محمد ﷺ اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں) تو ہمارے سامنے
کھلی ہوئیں نشانی لائیں ایسی (محسوس) جیسی پہلے انبیاء کو دے کر بھیجا گیا تھا مثلاً حضرت صالح ( علیہ السلام) کی اونٹنی ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا اور یدبیضاء ‘ حضرت عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا مادر زاد نابینا اور کوڑھی کو تندرست کردینا وغیرہ۔
ابن جریر ؓ نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ مکہ والوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا آپ اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا کر دیجئے اس سوال کے بعد فوراً اللہ کی طرف سے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) آئے انہوں نے کہا اگر آپ ﷺ چاہتے ہوں تو آپ ﷺ کی قوم کا سوال پورا کردیا جائے (اور کوہ صفا کو سونے کا کردیا جائے) لیکن اس کے بعد بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو پھر (سب کو ہلاک کردیا جائے گا) مہلت نہیں دی جائے گی اور آپ چاہیں تو میں آپ کی قوم کو ڈھیل دوں اور (مزید سوچنے سمجھنے اور ایمان لانے کی) مہلت دے دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنی قوم کے لئے درخواست مہلت کرتا ہوں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 21:6ما امنت قبلہم من قریۃ اہلکنہا افہم یومنون۔ ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں
وہ (مطلوبہ معجزات دیکھنے کے بعد بھی) ایمان نہیں لائے تھے تو کیا یہ لوگ (اپنے مطلوبہ فرمائشی معجزات کو دیکھ کر) ایمان لے آئیں گے۔
قَبْلَہُمْ یعنی مشرکین مکہ سے پہلے ‘ مِّنْ قَرْیَۃٍجار مجرور فاعل کے قائم مقام ہے اور مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اہل قریہ۔ مِنْ قَریۃٍ میں مِن زائد ہے۔
اَہْلَکْنٰہَا یعنی مطلوبہ معجزات ان کے سامنے آئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ اہلکناہا ‘ قریۃ کی صفت ہے۔
اَفَہُمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ استفہام انکاری ہے یعنی مکہ کے مشرک تو گزشتہ کافروں سے کفر میں سخت ہیں جب گزشتہ کافر ایمان نہیں لائے تو یہ لوگ یقیناً (مطلوبہ معجزات کے ظہور کے بعد بھی) ایمان نہیں لائیں گے۔ آیت میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ مطلوبہ معجزات کو ظاہر اور نمودار نہ کرنے کی وجہ اور مصلحت صرف یہ ہے کہ یہ لوگ (کفار مکہ) اگر ظہور معجزات کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے اور یقیناً ایمان نہیں لائیں گے تو ان کو بھی (گزشتہ کافروں کی طرح) ہلاک کردیا جائے گا۔
Ayah 21:7وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔
(اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے پس (اے مکہ والو) تم اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم کو اس کا علم نہیں ہے۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو کہ سابق پیغمبر آدمی ہوئے یا فرشتے ‘ تاکہ تمہارا شبہ جاتا رہے۔ اہل کتاب سے پوچھنے کا حکم دینے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو رسول اللہ ﷺ (اور دوسرے دینی امور) کے سلسلہ میں اہل کتاب پر اعتماد تھا ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ یا یہ وجہ ہے کہ متواتر خبر موجب یقین ہوتی ہے خواہ اہل تواتر کافر ہی ہوں اور چونکہ آدمیوں کا ہی پیغمبر ہونا ہر زمانہ میں بطور متواتر مسلسل بیان کیا جاتا رہا ہے اس لئے یہودیوں کا قول بھی اس کے متعلق قابل اعتبار ہے۔
Ayah 21:8وما جعلنہم جسدا لا یاکلون الطعام اور ہم نے ان پیغمبروں کے ایسے جسم نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں۔ (یعنی فرشتے نہیں بنایا) جسد اسم جنس ہے ایک ہو یا زیادہ سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے یا مضاف محذوف ہے یعنی جسموں والے۔ جسد رنگ دار جسم کو کہتے ہیں ‘ لغوی اعتبار سے جسد کا معنی ہے کسی چیز کا باہم اکٹھا ہونا اور جڑنا۔
لاَ یَاکُلُوْنَ الطَّعَامَ ۔ جسداً کی صفت ہے یا علیحدہ ہے اور کافروں کے قول کا جواب ہے ‘ کفار کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ یہ رسول کھانا کھاتا ہے۔
وما کانوا خلدین۔ اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہیں ہوتے۔ آیت سابقہ کے مضمون کی تاکید اس آیت سے
ہو رہی ہے کہ جس کی زندگی کی بقاء کھانے پر موقوف ہو لامحالہ اس کے جسم میں تحلیل ہوگی اور تحلیل کا نتیجہ فنا ہے۔
Ayah 21:9ثم صدقنہم الوعد پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا ‘ یعنی ہم نے پیغمبروں کی مدد کا جو وعدہ کیا
تھا اس کو سچ کر دکھایا۔
فانجینہم ومن نشآء اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے تھے (یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے والوں کو) ہم نے (اپنے
عذاب سے اور کفار کی ایذا رسانی سے) بچا لیا۔ مَنْ نَّشَآء سے وہ لوگ مراد ہیں جو پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے یا آئندہ ایمان لانے والے تھے یا آئندہ ان کی اولاد پیدا ہونے والی اور ایمان لانے والی تھی ‘ یہی وجہ ہے کہ عرب عام تباہ کن عذاب سے محفوظ رکھے گئے (کیونکہ آئندہ ان کا یا آئندہ پیدا ہونے والی اولاد کا ایمان لانا اللہ کے علم میں تھا) ۔
واہلکنا المسرفین۔ اور (کفر و معصیت میں) حد سے بڑھنے والوں کو ہم نے تباہ کردیا۔
Ayah 21:10لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم افلا تعقلون۔ (اے گروہ قریش) ہم نے تمہاری طرف قرآن
نازل کیا ہے جس کے اندر تمہارا ذکر ہے کیا تم نہیں سمجھتے۔
ذکر یعنی تمہاری فضیلت اور بزرگی قرآن کے اندر ہے بشرطیکہ تم اس کو سمجھو (اور مانو) یا یہ مطلب ہے کہ قرآن میں تمہارے لئے شرف ہے کہ تمہاری زبان میں اتارا گیا ہے۔ یا ذکر سے مراد ہے اللہ کا ذکر اور ضروری دینی امور کا تذکرہ۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ذکر سے مراد ہے اچھا ذکر اور شہرت و ناموری۔ یا نصیحت یا وہ اعلیٰ اخلاق جن سے تم کو اچھا ذکر حاصل ہو۔ مجاہد کے نزدیک ذکر سے اس جگہ مراد ہیں باتیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے ذکر اور تذکرہ کسی چیز کو یاد رکھنا ‘ ذکر کرنا زبان پر جاری کرنا ‘ شہرت ‘ تعریف ‘ شرف ‘ نماز ‘ دعا وہ کتاب جس میں قرض کی تفصیل ہوتی ہے اور مالی حساب ہوتا ہے۔
اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَمیں ہمزہ انکاری ہے یعنی کیا تم اس کے اندر وہ باتیں نہیں سمجھتے جن سے تمہاری بہبودی اور شرف وابستہ ہے۔
Ayah 21:11وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ وانشانا بعدہا قوما اخرین۔ اور ہم نے بہت سی بستیاں
جہاں کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے ‘ غارت کردیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔
قَصْمٌتوڑنا مراد بکثرت ہلاک کرنا۔ قَرْیَۃٍیعنی اہل قریۃٍ بہت بستیوں والے کانَتْ ظَالِمَۃً یعنی کفر اور گناہ کر کے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا۔ اَنْشَاْنَاہم نے وارث بنایا۔ بَعْدَہَا اس بستی کو تباہ کرنے کے بعد۔
Ayah 21:12فلما احسوا باسنا اذا ہم منہا یرکضون۔ پھر جب اس بستی والوں نے ہمارے عذاب کی شدت
دیکھ لی تو یکدم تیزی کے ساتھ وہاں سے بھاگنے لگے۔
اَحَسُّوْا یعنی جب انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ بَاْسَنَآہمارے عذاب کی شدت کو یَرْکُضُوْنَ گھوڑوں کو ایڑ لگا کر تیزی سے بھاگنے لگے ‘ یا یوں کہا جائے کہ سوار گھوڑے کو ایڑ مار کر تیزی سے بھگاتا ہے اور بستی والے بھی تیزی سے بھاگنے لگے اس لئے ان کو ایڑ مارنے والے سواروں سے تشبیہ دی۔
Ayah 21:13لا ترکضوا وارجعوا الی ما اترفتم فیہ ومسکنکم (ان سے کہا گیا) بھاگو مت اور اپنے
سامان عیش کی طرف اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو۔ یعنی ان سے بزبان حال یا کسی فرشتے یا کسی مؤمن کی زبانی کہا گیا کہ (اب کیوں بھاگتے ہو) مت بھاگو اُتْرِفْتُمْ جس عیش میں پڑے تھے اسی کی طرف پلٹو۔ اتراف نعمت پر اترا جانا۔ خلیل نے کہا مترف اس شخص کو کہتے ہیں جو خوش حال ‘ فارغ البال ہو کوئی پریشانی اور فکر اس کو نہ ہو۔
لعلکم تسئلون۔ شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے۔
تا کہ کل کو تم سے پوچھا جائے کہ تم پر اور تمہارے مال و متاع پر کیا گزری اور تم اس کا جواب معائنہ کے بعد دے سکو۔ یا یہ مراد ہے کہ تم لوٹ کر جاؤ اپنے جلسوں میں بیٹھو ‘ شاید پھر تمہارے نوکر چاکر اور کارندے تم سے دریافت کریں کہ اب ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ شاید لوگ تمہاری مجلسوں میں آکر تم سے اپنی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کے متعلق دریافت کریں۔ یا یہ مطلب ہے کہ شاید کل کو تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی یا تم کو عذاب دیا جائے گا۔ باز پرس بھی عذاب کی ابتدائی تمہید ہی ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تم سے قتل نبی کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول حضور ا کے باشندوں کے حق میں ہوا ‘ حضور ا یمن کی ایک بستی تھی جس کے باشندے عرب تھے ‘ اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے ایک نبی کو مبعوث فرمایا ‘ پیغمبر نے ان کو توحید کی دعوت دی اہل حضور ا نے نبی کی تکذیب کی اور اس کو قتل کردیا ‘ اللہ نے (بطور سزا) شاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا ‘ بخت نصر نے ان کو قتل اور قید کیا جب عام طور پر لوگ قتل ہونے لگے تو پشیمان ہوئے اور (بستی چھوڑ کر) بھاگ کھڑے ہوئے فرشتوں نے ان کو آواز دی بھاگو مت ‘ اپنے گھروں اور مالوں کی طرف لوٹو۔ شاید تم سے (کچھ) مانگا جائے ‘ قتادہ نے (اس کی تشریح میں) کہا شاید تم سے کچھ دنیوی مال و متاع مانگا جائے اور پھر جس کو چاہو تم دے دو اور جس کو چاہو نہ دو ‘ تم بڑے مالدار اور اہل ثروت ہو ‘ غرض بخت نصر نے ان کا تعاقب کیا اور بےدریغ قتل کیا اور کسی ہاتف نے اوپر سے آواز دی انبیاء کا انتقام۔ یہ حالت دیکھ کر ان کو اپنے کئے پر پشیمانی ہوئی لیکن اقرار قصور نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں نے بعض سے کہا بھاگو نہیں لوٹ کر گھروں کو چلو شاید تم سے بطور تاوان مال طلب کیا جائے اور تم مال دے کر قتل ہونے سے بچ جاؤ اس وقت آسمان سے ندا آئی انبیاء کا انتقام۔
Ayah 21:14قالوا یا ویلنا انا کنا ظلمین۔ کہنے لگے ہائے ہماری تباہی (آگئی) ہم بلاشبہ ظالم تھے۔
Ayah 21:15فما زالت تلک دعوہم حتی جعلنہم حصیدا خامدین۔
وہ برابر یونہی پکار مچاتے رہے آخر ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی (کی طرح تباہ اور) مردہ کردیا۔ یعنی وہ برابریَا وَیَلنَا اِنَّا کُنَّا ظَالمینکی رٹ لگاتے رہے گویا وہ اپنی موت کو بلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے اے موت تو کہاں ہے آ جا اس وقت تیری ضرورت ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین مردے ‘ بجھے ہوئے خمود نار آگ کا بجھنا۔ حصیداً خامدین دونوں کا مجموعہ ہے ‘ ایک اسم کی طرح ہو کر جَعَلْنَا کا مفعول دوئم ہے۔ یعنی ان کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بھی ہم نے کردیا اور بجھی ہوئی آگ کی طرح بھی۔
Ayah 21:16وما خلقنا السمآء والارض وما بینہما لعبین۔ اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ کہ ان کے درمیان
ہے اس کو اس طور پر نہیں پیدا کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں۔ لِعٰبِیْنَبیکار کام کرنے والے ‘ یعنی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی کائنات کی تخلیق ہم نے بیکار نہیں کی۔ بلکہ ان کے اندر اپنی حکمت کے عجائب کا اظہار کیا ہے۔ عبرت اندوز نظر رکھنے والوں کے لئے ان کے اندر ذخیرۂ عبرت پوشیدہ ہے اور معاش و معاد کو درست کرنے کا سامان موجود ہے ‘ ضروری ہے کہ ان موجودات کی ظاہری نظر فریبیوں کا شکار نہ ہوجائیں اصل حکمت پر غور کریں اور اس ساری کائنات کو تحصیل کمال کا ذریعہ بنائیں۔
Ayah 21:17لو اردنا ان نتخذ لہوا لا تخذنہ من لدنا ان کنا فعلین۔ اگر ہم کو مشغلہ ہی بنانا ہوتا تو ہم خالص
اپنے ہی پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے اگر ہم کو یہ کرنا ہوتا۔
عطاء کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا لہو سے مراد عورت ہے۔ حسن اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے جماع کو لغت میں لہو کہتے ہیں اور عورت محل جماع ہے ‘ کلبی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ لہو سے مراد اولاد ہے۔ سدی کا بھی یہی قول ہے ‘ آدمی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلتا اور دل بہلاتا ہے۔
لاَ تَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّاکا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم لہو کرنے والے ہی ہوتے تو اپنی شان کے مناسب ان چیزوں کو ذریعۂ لہو بناتے جو ہماری ذات کے مناسب ہوتیں ‘ مثلاً وہ مخلوق جو مادہ سے خالی ہے (مجردات ‘ ملائکہ) ہر چیز کا جوڑا اور ہر شخص کی اولاد اس کی ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا ہم جنس کوئی نہیں ہے اس لئے اس کا جوڑا یا اولاد ہونا محال ہے اور ناممکن چیز سے اللہ کے ارادے کا تعلق ہوجائے یہ بھی محال ہے (موقوف علی المحال محال ہوتا ہے) اس آیت میں نصاریٰ کے عقیدے کی تردید ہے جو مسیح ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور مسیح ( علیہ السلام) کی ماں کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں۔
اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَمیں اِنْ شرطیہ ہے۔ کلام سابق جزاء پر دلالت کر رہا ہے اس لئے جزاء کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ قتادہ اور ابن جریج اور مقاتل کے نزدیک ان نافیہ ہے یعنی ہم ایسا کرنے والے نہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کا نتیجہ ہے۔
Ayah 21:18بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ہو زاہق بلکہ ہم حق بات کو باطل پر پھینک مارتے
ہیں سو وہ (حق) اس (باطل) کا بھیجا نکال دیتا ہے سو وہ مغلوب ہو کر دفعتاً جاتا رہتا ہے۔ اس کا عطف سابق کلام پر ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم کھیل کرنے والے نہیں۔ بلکہ باطل کو حق پردے مارتے ہیں۔ حق سے مراد ہے وہ آیات جو اللہ کی تنزیہ اور پاکی کو ثابت کر رہی ہیں اور اللہ کا بیوی بچوں سے پاک ہونا جن سے ظاہر ہو رہا ہے۔ قذف کا معنی ہے دے پٹکنا ‘ پھینک مارنا۔ الباطل سے مراد ہے کفر اور جھوٹ اور یہ قول کہ اللہ کے بیوی بچے ہیں۔ یَدْمَغُیعنی اس کو فنا کردیتا ہے۔ وَمْغٌ سر توڑ دینا ‘ بھیجا کچل دینا جس سے ہلاکت واقع ہوجائے۔ مجازراً مراد ہے فنا کردینا حق کو قائم کرنا اور باطل کو تباہ کردینا۔ قذف کا لفظ بتارہا ہے کہ جس چیز کو پھینک مارا گیا وہ بھاری اور ٹھوس ہے۔ ابطال باطل کو ومغ کہنا بطور مبالغہ ہے زاہق ہلاک ہونے والا جس کا نشان بھی باقی نہ رہے۔ قاموس میں ہے زہق الباطل باطل نابود ہوگیا۔ زہق الشئی وہ چیز تباہ اور ہلاک ہوگئی۔ بعض نے کہا زہوق کا معنی ہے جان نکل جانا۔
ولکم الویل مما تصفون۔ اور تمہارے لئے اس بات سے بڑی خرابی ہوگی جو تم گڑھتے ہو۔ خطاب
کافروں کو ہے۔ ویل ہلاکت۔ مِمَّا تَصِفُوْنَیعنی جو نامناسب اوصاف تم بیان کرتے ہو اور جو اللہ کی شان کو زیبا نہیں ہیں ان کی وجہ سے تمہارے لئے ہلاکت ہوگی۔
Ayah 21:19ولہ من فی السموت والارض ومن عندہ اور جتنے کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کے
ہیں (وہ بھی اور جو اس کے (یعنی اس کے مقرب) ہیں یعنی جو کوئی آسمان میں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے نہ کوئی اس کی مثل بننے کے لائق ہے نہ بیوی اور اولاد بننے کا سزاوار۔
وَمَنْ عِنْدَہُاور جو اس کے مقرب ہیں وہ بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی ملک ہیں ‘ یعنی ملائکہ انبیاء اور دوسرے اہل قربت بھی اسی کے ہیں۔ اللہ کا قرب (جسمانی نہیں) بےکیف ہے (اس کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی۔ مَنْ عِنْدَہٗکو مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِسے الگ مستقل طور پر بصورت عطف اس لئے بیان کیا کہ بعض ملائکہ مثلاً حاملین عرش اور انبیاء و ملائکہ کی حقائق اور دائرہ ظلال (یعنی حقائق امکانیہ اور اعیان ثابتہ) کا کوئی مکان نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔
لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون۔ (اور ان میں سے) اللہ کے نزدیک جو (بڑے مقبول
و مقرب) ہیں وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔
استحسار تھکنا ‘ ماندہ ہوجانا۔ استحسار کے معنی میں حسور کے معنی سے زیادہ زور ہے ‘ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی عبادت گو ثقیل ہے ‘ دوام عبادت دشوار ہے مقرب ملائکہ کو تھک جانا چاہئے لیکن وہ سست نہیں پڑتے کیونکہ ان کو عبادت میں لذت حاصل ہوتی ہے اس لئے ہر وقت عبادت میں ڈوبے رہتے ہیں ترک عبادت کو اپنی ہلاکت جانتے ہیں۔
Ayah 21:20یسبحون الیل والنہار لا یفترون۔ رات دن اللہ کی پاکی بیان کرتے (اور تعظیم الٰہی کا اظہار
کرتے) ہیں سست نہیں پڑتے۔ کعب احبار نے کہا ملائکہ کے لئے تسبیح خداوندی ایسی ہے جیسے آدمیوں کے لئے سانس (سانس لینا باعث حیات ہے اور سانس لینے سے آدمی کسی وقت نہیں تھکتا فرشتوں کے لئے تسبیح باعث حیات ہے وہ پاکی بیان کرنے سے نہیں تھکتے) ۔
لاَ یَفْتُرُوْنَکمزور نہیں پڑتے ‘ نہیں اکتاتے۔ وہ عبادت جس میں اہل قربت ہر وقت غرق رہتے ہیں اس سے مراد ذکر خفی اور ہر وقت اللہ کی طرف توجہ ہے جس طرح بری حیوان کے لئے ہوا میں سانس لینا اور بحری جانور کے لئے پانی میں سانس لینا ہر وقت ضروری ہے اور یہی بقاء حیات کا سبب ہے اسی طرح اہل قربت کے لئے خواہ ملائکہ ہوں یا انسان ہر دم اللہ کی طرف توجہ رکھنی لازم ہے (یہی ان کی زندگی ہے) ۔
ذکر خداوندی کے استغراق کی حالت میں بندہ جو کچھ کرتا ہے حقیقت میں وہ اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ ایسا شخص اللہ کی اطاعت و عبادت کی قوت حاصل کرنے کے لئے کھاتا پیتا اور سوتا ہے نکاح کرتا ہے تو اس کا مقصد ہوتا ہے سنت رسول اللہ ﷺ : کا اتباع۔ امت اسلامیہ کی تعداد میں اضافہ اور حضور کے اس فرمان کی تعمیل کہ نکاح کرو۔ تمہاری کثرت کے سبب میں دوسری امتوں پر قیامت کے دن فخر کروں گا۔ چونکہ ہر دم استغراق رکھنے والا شخص کسی وقت یاد سے غافل نہیں ہوتا اس لئے اکثر اس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا اگر بتقدیر الٰہی کوئی گناہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کو فوراً پشیمانی ہوجاتی ہے اور وہ توبہ کرلیتا ہے اس طرح اللہ اس کی خطاؤں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے یہی بنیاد ہے اس قول کی کہ عالم کی نیند بھی عبادت ہے ایسے ہی لوگوں کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تھکتے نہیں رات دن اللہ کی یاد میں سرگرم رہتے ہیں سست نہیں پڑتے۔
Ayah 21:21ام اتخذوا الہۃ من الارض کیا (باوجود ان دلائل توحید کے) ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے
ہیں (بالخصوص) زمین کی چیزوں میں سے۔
اَمْمنقطعہ ہے جو بَلْ (بلکہ) مع ہمزۂ استفہام کے معنی میں ہوتا ہے اور بل کلام سابق سے اعراض کے لئے آتا ہے (مطلب یہ ہوتا ہے کہ کلام سابق کا مضمون نہیں ہے بلکہ یہ بات ہے جو آئندہ بیان کی گئی ہے) اور ہمزۂ انکار توبیخ کے لئے ہے۔ آیات سابقہ کی ترتیب اس طرح ہے (اَسَرُّوْا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ہَلْ ہٰذَا الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) پھر فرمایا (بَلْ قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ بَلِ افْتَرٰہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ) اوّل مشورہ کر کے کہنے لگے یہ تو بس تم جیسا ہی آدمی ہے (اور اسی کہنے پر اکتفا نہیں کیا) بلکہ کہنے لگے یہ پراگندہ خواب ہیں بلکہ (اس سے بھی آگے بڑھ کر کہنے لگے) اس نے از خود بنا کر اور اپنے دماغ سے تراش کر خدا کی طرف نسبت کردی ہے (پھر کہنے لگے نہیں یہ بھی نہیں ہے) بلکہ یہ شاعر ہے اس تمام کلام کا حاصل یہ ہے کہ نبوت کے متعلق (تاویلیں کرنے میں) حد سے آگے بڑھ گئے اور فقط نبوت و قرآن کے معاملہ میں ہی انہوں نے حق سے تجاوز نہیں کیا بلکہ (اللہ کے ساتھ) انہوں نے دوسروں کو معبود بھی بنا لیا ہے اور معبود بھی وہ جو زمین کی پیداوار ہیں ‘ زمین کی چیزوں سے بنائے گئے ہیں۔ پتھر سونا ‘ چاندی (پیتل) وغیرہ ان معبودوں کا مادہ صنعت ہے۔ مِنَ الْاَرْضِکہنے سے تخصیص مقصود نہیں (کیونکہ ان کے معبود ستارے اور جن وغیرہ بھی تھے) بلکہ معبودوں کی تحقیر مقصود ہے (کہ ان کے معبود ایسے حقیر و ذلیل ہیں جو موجودات ارضی سے بنائے گئے ہیں) ۔
ہم ینشرون۔ وہ معبود مردوں کو زندہ کر کے اٹھائیں گے ‘ اس فقرے میں مشرکوں کی انتہائی جہالت کا اظہار ‘
استہزائیہ طرز کے ساتھ ہے۔ مستحق عبادت صرف وہی ہوسکتا ہے جو زندہ کرنے ‘ مارنے اور کامل نعمتیں عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور جب مشرک بتوں کو بھی معبود قرار دیتے ہیں تو گویا اس بات کے مدعی ہیں کہ بت بھی زندہ کرنے مردہ کرنے اور نعمتیں عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور یہ دعویٰ واقعیت کے خلاف ہے۔
Ayah 21:22لو کان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود
ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے۔
جس طرح لفظ غیر استثنائیہ بھی آجاتا ہے اسی طرح الا کبھی بصورت صفت ‘ بمعنی غیر کے بھی مستعمل ہے۔ آیت مذکورہ میں استثنائی معنی درست نہیں استثناء کے لئے ضروری ہے کہ الا کا مابعد (مستثنیٰ ) الا کے ماقبل (مستثنیٰ منہ میں) استثناء سے قبل داخل ہو اور پھر کلمۂ استثناء کے ذریعہ سے الگ کرلیا جائے اور یہاں اللہ (مستثنیٰ ) آلہۃ (مستثنیٰ منہ) میں داخل ہی نہ تھا ‘ پھر استثناء متصل و منفصل کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔
لَفَسَدَتا سے مراد یہ ہے کہ شروع ہی سے بگاڑ ہوجاتا اور دونوں پیدا ہی نہ ہوتے کیونکہ چند الٰٰہوں کا اگر مقصد میں اتفاق ہوتا تو سب کی باہمی قدرت میں ٹکراؤ ہونا یقینی ہوتا اور اگر آلہہ کے مقصد و مراد میں اختلاف ہوتا تب تو وجود کائنات میں رکاوٹ پڑجانا لازم ہی تھی۔
فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون۔ سو (اس تقریر سے ثابت ہوا کہ) مالک عرش خدا ان
امور سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کررہے ہیں۔
سُبْحٰنَفعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی میں اللہ کی کامل پاکی بیان کرتا ہوں جو عرش کا رب (حاکم ومالک) ہے۔ عرش تمام اجسام کو محیط ہے۔ انتظامات عالم کا مرکز اور تمام مقادیر کا سرچشمہ ہے اس عالم میں عرش کی حالت ایسی ہے جیسے انسانی جسم میں دماغ کی۔ عَمَّا یَصِفُوْنَیعنی مشرک جو اللہ کی بیوی بچے اور شرکاء ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ‘ میں ان کے اس بیان سے اللہ کے کامل طور پر پاک ہونے کا اقرار کرتا ہوں۔
Ayah 21:23لایسئل عما یفعل وہم یسئلون۔ اس سے اس کے فعل کی بازپرس نہیں کی جائے گی اور ان سے
(یعنی آسمان و زمین والوں سے ان کے اعمال کی) باز پرس کی جائے گی ‘ یعنی اللہ کی عظمت ‘ اقتدار کی قوت ‘ الوہیت میں یکتائی اور ذاتی حکومت کی وجہ سے اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ‘ باز پرس کرنے نہ کی جا سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا ہر فعل اپنی ملکیت میں تصرف ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے اور مالک اپنی ملکیت میں جیسا چاہے تصرف کرسکتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور مخلوق کا تصرف اپنی ملک میں تصرف نہیں مخلوق کسی چیز کی حقیقی مالک ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کی ملک میں تصرف ہے اور اللہ کی ملک میں تصرف اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ‘ لہٰذا اللہ کی ملک میں تصرف کرنے والوں سے باز پرس کی جائے گی۔ لَایُسَْءٰلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْءَلُوْنَ ۔ یہ پورا کلام سابق مضمون کی علت ہے کیونکہ جو مسؤل ہوگا وہ اس ذات کا شریک کیسے ہوسکتا ہے جو غیر مسؤل ہے۔
Ayah 21:24ام اتخذوا من دونہ الہۃ کیا خدا کو چھوڑ کر انہوں نے اور معبود بنا رکھے ہیں اس جملہ کو دوسری مرتبہ
ذکر کرنے سے مقصود ہے کفر کی برائی کی عظمت کا بیان اور کافروں کی جہالت کا مزید اظہار۔ تکرار کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلی مرتبہ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافروں کے پاس باطل معبودوں کو الٰہ قرار دینے کی کوئی عقلی دلیل نہیں ‘ کیا وہ مردوں کو زندہ کردیں گے اور دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھا دیں گے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کو الوہیت کا عقلاً کوئی استحقاق نہیں۔ پھر دوبارہ اسی جملہ کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی کسی کو اللہ کا شریک قرار دینے کی اجازت نہیں ‘ اس لئے شرک کی کوئی نقلی دلیل بھی ہے۔
قال ہاتوا برہانکم آپ ان سے کہئے کہ (اس دعوے پر) تم اپنی دلیل پیش کرو۔ یعنی شرک کی کوئی عقلی یا
نقلی دلیل پیش کرو۔ بےدلیل بات صحیح نہیں ‘ تمام عقلی و نقلی دلیلیں شرک کے خلاف موجود ہیں۔
ہذا ذکر من معی وذکر من قبلی میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں
موجود ہیں۔ یعنی یہ قرآن اور توریت و انجیل جو تمہارے سامنے موجود ہیں یہ قیامت تک میری امت کے لئے بھی نصیحت نامہ ہیں اور گزشتہ امتوں کے لئے بھی ہی یادداشت اور درس نصیحت تھا (مراد یہ ہے کہ تینوں کتابیں درس توحید پر متفق ہیں کسی میں بھی شرک کی اجازت نہیں ‘ پس یہی پیام توحید میری امت کے لئے بھی ہے اور سابق امتوں کے لئے بھی یہی درس نصیحت تھا)
عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ ذکر من معی سے قرآن مراد ہے اور ذکر من قبلی سے توریت و انجیل۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن ہو یا توریت یا انجیل یا کوئی اور آسمانی صحیفہ سب کو پڑھو اور بتاؤ کہ کسی کتاب میں بھی کسی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے کسی کو اپنا شریک یا بیٹا بنایا ہے یا انپے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دیا ہے۔
ایک شبہ مکہ کے مشرک تو نہ قرآن کو مانتے تھے نہ توریت و انجیل کو اگر ان کتابوں میں شرک کی اجازت نہ تھی تو مشرکین مکہ پر اس فیصلہ کا ماننا ان کی نظر میں کب ضروری تھا پھر کتب سماویہ میں شرک کی اجازت نہ ہونے کو ابطال شرک کی دلیل کیسے قرار دیا جاسکتا تھا۔
ازالہ مشرکین مکہ عناداً ان کتابوں کو نہیں مانتے تھے ورنہ ان کی صداقت و حقانیت تو واضح تھی خصوصاً قرآن کا اعجاز اور بلاغت اعلیٰ تو اس کی صداقت اور منزل من اللہ ہونے کی کھلی دلیل تھی ایسی حالت میں کافروں کا انکار قابل التفات ہی نہیں تھا گویا اہل انصاف کی نظر میں ان کتابوں کی سچائی مسلمہ تھی (اور مسلمات یقینیہ پر جس قیاس کی بنا ہوتی ہے وہ قیاس برہانی یقینی ہوتا ہے ‘ پس کتب سماویہ میں شرک کی اجازت نہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حق ہے) ۔
بل اکثرہم لا یعلمون الحق فہم معرضون۔ بلکہ ان میں زیادہ وہی ہیں جو امر حق کا یقین نہیں رکھتے سو (اس وجہ سے) اعراض کر رہے ہیں۔ یعنی حق و صداقت کے واضح ہونے کے باوجود یہ لوگ حق کو نہیں جانتے اور حق و باطل میں امتیاز نہیں کرتے ‘ اسی لئے توحید خداوندی اور اتباع رسول سے گریز کرتے ہیں۔
Ayah 21:25وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور ہم
نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود (ہونے کے قابل) نہیں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔ اس کلام میں تخصیص کے بعد تعمیم ہے یعنی توحید کا حکم صرف اس قرآن توریت اور انجیل میں ہی نہیں ہے بلکہ جو پیغمبر بھی ہم نے بھیجا اس کو یہی پیغام دیا کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ پس تم سب میری ہی خالص عبادت کرو۔
Ayah 21:26وقالوا اتخذ الرحمن ولد سبحنہ بل عباد مکرمون۔ اور یہ (مشرک) یوں کہتے ہیں کہ اللہ نے فرشتوں کو اولاد بنا رکھا ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ فرشتے اس کے بندے ہیں معزز۔
اس کلام کا عطف اَمِ اتَّخَذُوْا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِکے مضمون پر ہے یعنی کیا انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ رحمن نے اپنے لئے اولاد اختیار کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی خزاعہ کے حق میں ہوا جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بَلْ عِبَادٌبلکہ بندے ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں ہیں۔ خدا ان کا باپ نہیں ‘ خالق ہے۔
Ayah 21:27لا یسبقونہ بالقول وہم بامرہ یعملون۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے اور اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی اجازت و اذن کے بغیر کوئی بات نہیں کہتے اور اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ خلاف حکم کچھ نہیں کرتے۔
Ayah 21:28یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم اللہ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے۔ یہ گویا کلام سابق کی علت ہے
مطلب یہ ہے کہ اللہ سے فرشتوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں نہ گزشتہ عمل نہ موجودہ عمل نہ ہونے والا عمل اور چونکہ اللہ ان کے تمام احوال سے واقف ہے اس لئے وہ بھی اپنے احوال کی نگہداشت کرتے اور اعمال کا انضباط رکھتے ہیں۔
ولا یشفعون الا لمن ارتضی وہم من خشیتہ مشفقون۔ اور بجز اس کے جس کے لئے شفاعت کرنے کی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یعنی ہیبت الٰہیہ کی وجہ سے ان کا یہ حال ہے کہ فقط انہی لوگوں کی شفاعت کرتے ہیں جن کے حق میں شفاعت کو اللہ پسند فرماتا ہے اور (یہ شفاعت بھی) ڈرتے ڈرتے کرتے ہیں۔ عظمتِ الٰہیہ کا خوف ان پر چھایا رہتا ہے۔ تعظیم آمیز خوف کو خشیۃ کہا جاتا ہے اس لئے خشیۃ کو علماء کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔ اشفاق کا معنی ہے ڈرنا ‘ خوف کھانا ‘ اس کے بعد لفظ من آتا ہے تو کسی سے خوف کرنا اور ڈرنا مراد ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد علیٰ آتا ہے تو کسی کو نقصان پہنچنے اور دکھ پانے سے ڈرنا اور اس پر رحم کھانا مراد ہوتا ہے۔
Ayah 21:29ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جہنم کذلک نجزی الظلمین۔
اور (بالفرض اگر) ان میں سے کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔ ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ‘ یعنی کوئی فرشتہ یا کوئی مخلوق الٰہ ہونے کا مدعی بالفرض ہوجائے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ اس آیت کا مقصد غیر اللہ کی ربوبیت کی نفی اور اس بات کی تکذیب ہے کہ فرشتے مدعی الوہیت ہیں اور مدعی الوہیت کی سزا کا اظہار کر کے مشرکوں کو عذاب کی تہدید ہے۔ اس آیت کا مضمون (تقریباً ) ویسا ہی ہے جیسا آیت (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًالِلّٰہِ وَلاَ الْمَلٰءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَمَنْ یَّسْتَنِکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا) ۔ کا ہے۔ قتادہ نے کہا مَنْ یَّقُلْ مِنْہُمْسے مراد ابلیس ہے ‘ جو حقیقتاً یا حکماً ملائکہ میں سے تھا فرشتوں کے ساتھ اس کو شامل کردیا گیا ہے ‘ ابلیس نے غرور کیا اور اپنی عبادت کی لوگوں کو دعوت دی۔ دوسرا فرشتہ اس کا قائل نہیں ہوسکتا ‘ علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ (گویا قتادہ کے نزدیک آیت میں ایک واقعہ کا اور اس کی سزا کا اظہار کیا گیا ہے محض فرض پر کلام کی بناء نہیں ہے) ۔
Ayah 21:30اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا ففتنقہما کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں
ہوا کہ آسمان و زمین (پہلے) بند تھے ‘ پھر ہم نے دونوں کو (اپنی قدرت سے) کھول دیا۔
السَّمٰوٰت یعنی آسمانوں کا مجموعہ۔ الْاَرْضَزمینوں کا مجموعہ۔ رَتْقًا حضرت ابن عباس ؓ :‘ ضحاک ‘ عطا اور قتادہ نے کہا آسمان و زمین سب باہم چسپاں اور ایک ہی تھے۔ فَفَتَقْنٰہُمَا پھر ہوا داخل کر کے ہم نے دونوں کو الگ الگ کردیا۔ رتق کا لغوی معنی ہے بند کرنا ‘ ملا دینا اور فتق کا معنی ہے پھاڑ دینا ‘ کھول دینا۔ کعب نے کہا اللہ نے آسمان و زمین کو اوپر نیچے (تہ برتہ) بنایا تھا پھر ہوا پیدا کر کے اس کو دونوں کے بیچ میں داخل کر کے دونوں کو کھول دیا (یعنی الگ الگ کردیا) مجاہد اور سدی نے کہا آسمان و زمین چسپاں اور ایک طبقہ ہی تھے پھر اللہ نے ایک آسمان کے سات کردیئے اور اسی طرح ایک زمین تھی اس کے سات (طبقے) بنا دیئے۔ عکرمہ اور عطیہ نے کہا آسمان بند (بلا سوراخ) تھا اس سے بارش نہیں ہوتی تھی اور میں بھی بند (بلا سوراخ) تھی اس سے کوئی سبزہ نہیں اگتا تھا ‘ پھر اللہ نے بارش کے ذریعہ سے آسمان میں شگاف (یعنی سوراخ) اور سبزہ اگا کر زمین میں سوراخ بنا دیئے اس مطلب پر السمٰوٰت (بصیغۂ جمع) سے مراد ہوگا آسمان دنیا اور چونکہ اس کے اجزاء بہت ہیں اس لئے سموت کے لفظ کا اس پر اطلاق کیا (گویا سماء کے مختلف بلند اجزاء کو سموت کہا گیا) یا سماوات سے متعدد آسمان ہی مراد ہیں اور سب آسمانوں کو بارش برسانے میں دخل ہے (اس لئے تمام آسمانوں کو رتق فرمایا پھر ان سب کے اندر اللہ نے سوراخ کردیئے) حضرت مفسر (رح) نے فرمایا یہی قول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ تمام اہل عقل مؤمن ہوں یا کافر جانتے ہیں کہ پہلے بارش نہیں تھی پھر ہوگئی اور پہلے سبزہ نہ تھا پھر زمین سے اگنے لگا۔ بارش ہونا اور سبزہ پیدا ہونا ایک امر حادث ہے (جو پہلے نہ تھا پھر ہوگیا) اور ہر حادث کے لئے پیدا کرنے والے کی ضرورت ہے کوئی حادث بغیر واجب الوجود محدث کے نہیں ہوسکتا۔
رہا پہلا مطلب کہ آسمان و زمین باہم چسپاں تھے پھر اللہ نے ان کو ہوا کے ذریعہ سے الگ الگ کردیا تو عام کافروں کے لئے یہ (علمی مسئلہ) ظاہر نہیں لیکن وہ علماء سے دریافت کرسکتے ہیں آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں اس طرح ان کو بھی علم ہوسکتا ہے۔ آئندہ آیت عکرمہ اور عطیہ کے قول کی تائید کر رہی ہے۔ وجعلنا من المآء کل شی حی اور ہم نے (بارش کے) پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا ہے۔ اس کا عطف فتقنا
پر ہے یعنی ہم نے آسمان میں سوراخ کردیئے اور اس سے بارش نازل کی اور زمین میں سوراخ کردیئے اور اس سے سبزہ اگا دیا اور ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ اس مطلب پر رابطہ محذوف ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا ہم نے ہر زندہ چیز کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہے پانی سے پیدا کیا۔
جَعَلْنَاہم نے پیدا کیا (جعل بسیط جو صرف ایک مفعول چاہتا ہے) اس وقت من المآئکا تعلق جعلنا سے ہوگا اور کُلَّ شَیْ حَیٍِمفعول ہوگا ‘ جعلنا کا دوسرا ترجمہ ہے ہم نے کردیا پانی سے مخلوق ہر چیز کو (جعل مرکب جو دو مفعول چاہتا ہے) اس صورت میں کل شیمفعول اوّل ہوگا اور من الماء کا تعلق کائناً یا مخلوقاً محذوف سے ہوگا یعنی ہم نے پانی سے مخلوق کردیا ہر چیز کو۔
ایک شبہ گھاس کی پیدائش تو فی الجملہ پانی سے ہے۔ گھاس بھی کچھ نہ کچھ زندگی رکھتی ہے اس لئے گھاس کا پانی سے پیدا ہونا تو ٹھیک ہے ‘ بعض حشرات الارض کا مادہ تخلیق بھی رطوبت ہی ہے اس لئے ان کی تخلیق کو پانی سے قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن انسان اور اکثر حیوانات کا مادۂ تخلیق تو نطفہ ہے ان کو پانی کی پیداوار کہنا کس طرح درست ہے۔
جواب کلام مجازی ہے ہر حیوان کو اپنی بقاء کے لئے پانی کی ضرورت اتنی زیادہ ہے کہ گویا ہر حیوان پانی ہی سے پیدا کیا گیا ہے ‘ جیسے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍآدمی طبعاً اتنا عجلت پسند واقع ہوا ہے اور ہر چیز کے نتیجے کو اتنی جلد طلب کرتا ہے کہ گویا اس کی تخلیق ہی عجلت کے مادے سے ہوئی ہے یا لفظ بقاء محذوف ہے۔ یعنی ہم نے ہر زندہ چیز کی بقاء پانی سے کی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ پانی سے رطوبت مراد ہے نطفہ سے اکثر حیوانات کی تخلیق ہوتی ہے اور نطفہ مرطوب ہوتا ہے الماء کے اندر نطفہ داخل ہے ابوالعالبہ نے کہا اکثر مفسرین نے آیت کا تفسیری مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔
میں کہتا ہوں پانی سے مراد ہے نطفہ ‘ جیسے دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا ہے (وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَابَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ ) اور اللہ نے ہر چوپایہ کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ اس مطلب پر حدیث میں جو لفظ شی آیا ہے اس سے مراد حیوان ہے اور (چونکہ بعض حیوانات کی تخلیق پانی سے نہیں ہوئی جیسے آگ کے اندر پیدا ہونے والا کیڑا جس کو سمندر کہا جاتا ہے۔ مترجم) لفظ کل سے اکثر مراد ہے جیسے حدیث مبارک میں کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖیعنی تم میں سے اکثر لوگ نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔
افلا یومنون۔ کیا (ان باتوں کو سن کر) پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ استفہام انکاری ہے اورتعقیب کے لئے یعنی
صانع قدیم کی توحید ذاتی و صفاتی کی اتنی واضح اور عظیم الشان دلائل دیکھنے کے بعد بھی کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 21:31وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبہم وجعلنا فیہا فجاجا سبلا لعلہم یہتدون۔
اور ہم نے زمین میں اس لئے پہاڑ بنائے کہ زمین ان لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ لوگ (ان کے ذریعہ سے) منزل مقصود کو پہنچ جائیں۔
رَوَاسِیَ ۔ جِبَالاً محذوف کی صفت ہے جمے ہوئے پہاڑ گڑے ہوئے پہاڑ۔ یہ لفظ رساً سے ماخوذ ہے رسا کا معنی ہے ثبت۔
اَنْ تَمِیْدَِ بہُمْلفظ کَرَاہَۃَیا حرف نفی (لا) اس سے پہلے محذوف ہے تاکہ زمین اپنے باشندوں کو لے کر نہ لرزے۔
وَجَعَلْنَا فِیْہَا یعنی زمین میں یا پہاڑوں میں۔ فِجَاجًادو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے (قاموس) سبلاً کھلے ہوئے راستے۔ یہ سبیل کی جمع ہے (قاموس) فجاج میں وسعت مفہوم ہے سبلاً سے پہلے اس کو ذکر کرنا بتارہا ہے کہ آغاز تخلیق میں پہاڑی راستے کشادہ تھے لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ تاکہ وہ اپنے مقاصد و مصالح کا راستہ پالیں راہ چل کر اپنے مقصد کو حاصل کرلیں۔
Ayah 21:32وجعلنا السمآء سقفاً محفوظا وہم عن ایتہا معرضون۔ اور ہم نے آسمان کو (مثل
ایک) چھت (کے) بنایا جو محفوظ ہے اور وہ لوگ اس کے اندر کی نشانیوں سے اعتراض کئے ہوئے ہیں (غور نہیں کرتے) یعنی ہم نے آسمان کو گرنے سے محفوظ بنایا محض اپنی قدرت سے بغیر ستونوں کے سہارے کے۔ یا قیامت تک ٹوٹنے ‘ پھوٹنے تباہ و برباد ہونے اور بگڑنے سے محفوظ کردیا۔ یا اس بات سے محفوظ کردیا کہ کوئی شیطان اوپر چڑھ کر چوری چھپے کوئی خبر سن نہ پائے۔ عن ایاتہا یعنی چاند ‘ سورج ستارے اور ان کے مختلف احوال جو صانع کے وجود ‘ وحدت کمال قدرت اور وسعت حکمت پر دلالت کر رہے ہیں ان کی طرف سے وہ لوگ روگرداں ہیں غور نہیں کرتے۔
Ayah 21:33وہو الذی خلق اللیل والنہار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون۔
اور وہ ایسا ہے کہ اسی نے رات و دن اور سورج اور چاند بنائے ہر ایک۔ ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔
یہ بعض آیات ربوبیت والوہیت کا بیان ہے۔ کُلٌّیعنی ہر ایک فی فلک یعنی مدار نجوم جو سب ستاروں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے (قاموس) فلک کی جمع افلاک آتی ہے۔ عربی زبان میں ہر گول گھیرے کو فلک کہتے ہیں تکلے کے دمر کہ کو بھی اسی مناسبت سے فلک کہا جاتا ہے حسن نے کہا فلک تکلے کے دمر کہ کی شکل کی ایک چکی سے مراد یہ ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح ستارے دائرہ میں چلتے ہیں یعنی ستاروں کی رفتار مستدیر ہے۔ قتادہ نے کہا فلک سے مراد آسمان ہے جس کے اندر ستارے موجود ہیں اور ہر ستارہ اسی آسمان میں چلتا ہے جو اس کے لئے مقرر کردیا گیا ہے۔ کلبی نے کہا فلک آسمان کی گولائی کو کہتے ہیں کچھ لوگوں نے کہا آسمان کے نیچے موج بستہ کا نام فلک ہے جس میں چاند ‘ سورج اور ستارے چلتے ہیں۔
حضرت مفسر نے کہا میں کہتا ہوں فلک آسمان ہی ہے آسمان دنیا ہی پر سب ستارے چلتے ہیں ‘ اور فلکٍ کی تنوین بتارہی ہے کہ ہر ستارہ ایک دائرہ میں چل رہا ہے تمام ستاروں کے مدار مختلف متعدد گھیروں پر ہیں باوجود مدار کے تعدد فلک کو بصیغۂ واحد ذکر کرنا عربی محاورے کے مطابق ہے عرب بولتے ہیں امیر نے ان سب کو خلعت پہنایا (یعنی ہر ایک کو ایک ایک خلعت پہنایا) ۔
یَّسْبَحُوَْنتیرتے ہیں یعنی تیز چلتے ہیں جیسے پانی میں تیرنے والے کی (ہموار) رفتار ہوتی ہے۔ یسبحون کی ضمیر جمع شمس و قمر کی طرف راجع ہے شمس و قمر کے مطالع متعدد اور کثیر ہوتے ہیں ‘ اس لئے جمع کی ضمیر راجع کرنا درست ہے۔
ابن المنذر نے ابوجوع کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ : کو اللہ کی طرف سے آپ کی وفات کی اطلاع دی گئی تو حضور ﷺ نے عرض کیا اے میرے رب (میرے بعد) میری امت کا کون (نگراں) ہوگا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 21:34وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افائن مت فہم الخلدون۔ اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا تجویز نہیں کیا پھر اگر آپ کا انتقال ہوجائے تو کیا یہ لوگ (دنیا میں) ہمیشہ رہیں گے
Ayah 21:35کل نفس ذآئقۃ الموت ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا۔
خلد دنیا میں ہمیشہ رہنا۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کافروں نے کہا تھا ہم تو اس وقت کے منتظر ہیں جب محمد ﷺ پر موت کا چکر پڑے (اور وہ مرجائیں) مطلب یہ ہے کہ آپ ہمیشہ رہنے والے نہیں یہ بات طے شدہ ہے پھر آپ کے بعد کیا یہ لوگ ہمیشہ یہاں رہنے والے ہیں۔ (ایسا ہرگز نہ ہوگا) ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے بدن سے روح کے جدا ہونے کی تلخی سب کو چکھنی ہے۔