21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں

(1) کتاب اللہ میں جس عذاب کا ان مکہ والوں سے وعدہ کیا ہے، ان کے اس عذاب کا وقت قریب ہے اور یہ ابھی اس سے غافل ہیں اور اس کو جھٹلا رہے ہیں اور انہوں نے اس کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔
Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

(2) ان کے نبی کے پاس ان کے رب کی طرف بذریعہ جبریل امین ؑ جو نصیحت تازہ آتی ہے۔ یعنی قرآن کریم کی ایک آیت کے بعد دوسری آیت اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت نازل ہوتی ہے تو جبریل امین ؑ کی تشریف آوری اور رسول اکرم ﷺ کا ان کے سامنے آیات قرآنیہ کا تلاوت کرنا، اور ان کا سننا یہ سب چیزیں تازہ اور نئی ہیں تو یہ کفار مکہ رسول اکرم ﷺ کے پڑھنے اور قرآن کریم کو اس طریقے سے سنتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو ؟

(3) ان لوگوں کے دل یوم حشر سے بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم لوگ یعنی مشرکین مکہ ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کے بارے میں آپس میں چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ محمد ﷺ ہم جیسے ایک معمولی آدمی ہیں تو کیا پھر بھی ان کے سحر میں مبتلا ہو اور جھوٹ سنتے جاتے، حالانکہ تم خوب جانتے ہو، کہ یہ جادو اور جھوٹ ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے، میرا پروردگار اسے جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

(4) محمد ﷺ نے فرمایا کہ میرا رب ہر بات کو خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ آسمان میں ہو اور خواہ زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی بات کو بخوبی سننے والا اور جو ان کو سزا ملے گی اسے خوب جاننے والا ہے۔
Ayah 21:5

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں (نہیں بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے (نہیں) بلکہ یہ شعر جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے

(5) بلکہ بعض نے یوں بھی کہا کہ محمد ﷺ جو ہمارے پاس لے آکر آئے ہیں یہ منتشر خیالات ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر ﷺ نے ان قرآن کریم کو اپنی طرف سے بنالیا بلکہ بعض نے کہا یہ تو شاعر ہیں، شاعروں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کو چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی بڑی نشانی لائیں جیسا کہ پہلے رسول اپنی اپنی قوم کے انکار کے وقت نشانیاں لائے۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

(6) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ﷺ آپ کی قوم سے پہلے نشانیوں پر ایمان نہیں لائی جن کو ہم نے ان نشانیوں کی تکذیب کے وقت ہلاک کیا ہے سو کیا آپ کی قوم نشانیوں اور معجزات پر ایمان لے آئے گی بلکہ ہرگز یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”مآامنت قبلہم من قریۃ“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اگر آپ اپنے دعوی میں سچے ہیں اور آپ کو ہمارے ایمان لانے پر خوشی ہوگی، تو آپ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونے کی پہاڑی میں تبدیل کردیجیے۔ چناچہ جبریل امین آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی قوم نے جو آپ سے سوال کیا ہے اس کو پورا کردیا جائے گا لیکن اگر ان کے سوال کو پورا کردیا جائے اور پھر بھی یہ ایمان نہ لائیں تو نزول عذاب کے متعلق میں ان کو پھر مہلت نہیں دی جائے گی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان سے پہلے کوئی بستی والے جن کو ہم نے ہلاک کیا ہے ایمان نہیں لائے سو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لے آئیں گے۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بناکر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

(7) اور ہم نے آپ سے قبل صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے جیسا کہ آپ کو بنایا ہے جن کے پاس ہم فرشتوں کو بھیجا کرتے تھے جیسا کہ آپ کے پاس بھیجتے ہیں اگر تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے تو توریت وانجیل کے ماننے والوں سے پوچھ لو۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانانہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

(8) اور اسی طرح ہم نے ان انبیاء کرام کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور پانی نہ پیتے ہوں اور نہ وہ حضرات دنیا میں ہمیشہ رہنے والے ہوئے بلکہ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور پانی بھی پیتے تھے اور ان انبیاء کرام نے وفات بھی پائی ہے، یہ آیت کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا

(9) پھر ہم نے ان انبیاء کرام سے جو نجات کا وعدہ کیا تھا اس کو پورا کیا یعنی انبیاء کرام کو اور جو انبیاء کرام پر ایمان لائے ان کو اس نجات دی اور مشرکین کو ہلاک کردیا۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

(10) اور ہم تمہارے نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی کتاب بھیج چکے ہیں کہ اگر تم اس پر ایمان لے آؤ تو اس میں تمہاری عزت و شرافت ہے کیا پھر بھی اپنی عزت و شرافت کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو سمتگار تھیں ہلاک کرمارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے

(11) اور ہم نے بہت سی بستیاں جہاں کے رہنے والے کافر و مشرک تھے برباد کردیں اور ان کی ہلاکت کے بعد دوسری قومی پیدا قوم پیدا کردی جو ان کی بسیتوں میں آباد ہوگئی ،
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

(12) سو جب ان مشرکین نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آتا ہوا دیکھا تو عذاب سے بچنے کے لیے اس بستی سے بھاگنا شروع کردیا۔
Ayah 21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش و آسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے

(13) فرشتوں نے ان سے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان عیش کی طرف اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو، شاید تم میں سے کوئی ایمان لانے کے بارے میں یا نبی ؑ کے قتل کرنے کے بارے میں پوچھے۔
Ayah 21:14

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے

(14) وہ لوگ قتل انبیاء اور نزول عذاب کے وقت کہنے لگے، ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم ہی نبی ؑ کے قتل کرنے میں ظالم تھے۔
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا

(15) سو ان کی یہی چیخ و پکار جاری رہی حتی کہ ہم نے انکو ایسا نیست ونابود کردیا جس طرح فصل کٹ گئی ہو اور آگ ٹھنڈی ہوگی ہو حضرموت یمن میں ایک بستی ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کی طرف ایک نبی بھیجا انہوں نے اس نبی ؑ کو قتل کردیا، اللہ تعالیٰ نے اس پاداش میں ان بستی والوں پر بخت نصر بادشاہ کو مسلط کردیا، اس نے سب کو قتل کردیا، کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑا۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہو و لعب کے لئے پیدا نہیں کیا

(16) اور ہم نے زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کو اس طرح نہیں بنایا کہ ہم فضول کام کرنے والے ہوں کہ اوامرو نواہی کی کوئی ضرورت نہ ہو۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن و فرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے

(17) کفار جو اس بات کے قائل تھے کہ معاذ اللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اس کی اب اللہ تعالیٰ تردید فرماتے ہیں کہ اگر ہمیں لڑکیاں یا بیوی یا یہ کہ اولاد ہی بنانی ہوتی تو خاص اپنے پاس کی چیز یعنی حوروں میں سے بناتے۔
Ayah 21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اسکا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری خرابی ہے

(18) بلکہ ہم اس حق بات کو باطل بات پر پھینک مارتے ہیں سو وہ حق اس باطل کا خاتمہ کردیتا ہے یا یہ کہ ہم نے اثبات حق اور ایطال باطل کے لیے پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے اس بات پر بڑا عذاب ہوگا جو تم کہتے ہو کہ عیاذ باللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
Ayahs 21:19–20

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اسی کے مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کتراتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

(19۔ 20) تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جو اللہ کے نزدیک مقرب فرشتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے، دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں کسی وقت بھی عبادت خداوندی اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے اکتاتے نہیں۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ انکو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے ؟

(21) کیا ان کفار مکہ نے اللہ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں، زمین کی چیزوں میں سے جو کسی کو زندہ کرتے ہوں یا پیدا کرتے ہوں ،
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

(22) اور زمین میں یا آسمان میں اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خالق ہوتا تو دونوں کی مخلوقات بھی کبھی کی درہم برہم ہوجاتیں، سو ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو کہ مالک ہے عرش کا وہ ان کی باتوں سے جو اس کے لیے اولاد اور شریک ثابت کر رہے ہیں پاک ہے۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی

(23) اللہ تعالیٰ جو کچھ کہتا کرتا اور حکم دیتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور بندوں کے اعمال واقوال پر باز پرس کی جاسکتی ہے۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں ؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں

(24) کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنی دلیل ان جھوٹے معبودوں کے دعوی پر پیش کرو، یہ میری اور مجھ جیسوں کی کتاب ہے یعنی قرآن کریم ہے اور مجھ سے پہلے جو مومنین، کافرین گزرے ہیں ان کی کتابیں موجود ہیں، ان کی کتابوں میں یہ قطعا موجود نہیں کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے یا اس کا کوئی شریک ہے بلکہ ان لوگوں میں زیادہ وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تصدیق نہیں کرتے، اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تصدیق نہیں کرتے، اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کو جھٹلا نے پر تلے ہیں۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو

(25) ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ اپنی قوم کو تبلیغ کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تاکہ وہ اس کے قائل ہوجائیں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔
Ayahs 21:26–27

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے وہ پاک ہے (اسکے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

(26۔ 27) اور ان کفار مکہ میں سے بعض یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں اولاد بنا رکھی ہے توبہ توبہ اس کی ذات اولاد اور شریک سے پاک ہے، بلکہ وہ فرشتے اس کے بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت وفرمانبرداری کے صلے میں ان کو اعزاز واکرام سے نوازا ہے، قول وفعل میں اللہ کے حکم کے بغیر جبریل، میکائیل سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے مطابق قول وفعل انجام دیتے ہیں۔
Ayah 21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اسکے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

(28) اللہ تعالیٰ ان کے امور آخرت اور امور دنیا سب کو جانتا ہے اور قیامت کے دن وہ فرشتے سوائے اس شخص کے جس کے لیے شفاعت کرنے کی اللہ کی مرضی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی توحید کو قبول فرما لیا ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب فرشتے اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 21:29

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے (اور) ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

(29) اور ان فرشتوں میں سے یا یہ کہ مخلوق میں سے جو شخص نعوذ باللہ فرضایوں کہے کہ میں اللہ کے علاوہ معبود ہوں تو ہم اس کے بدلے اسے جہنم کی سزا دیں گیا اور ہم کافروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان کو جدا جدا کردیا ؟ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟

(30) کیا یہ لوگ جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی نہ آسمان سے بارش کا ایک قطرہ گرتا تھا اور نہ زمین سے کچھ پیداوار ہوتی تھی ایک دوسرے کے اس اعتبار سے ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا اور ایک دوسرے سے جدا کردیا کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین میں نباتات اگنے لگے، بلکہ ہم نے مرد و عورت کے پانی سے ہر ایک چیز کو بنایا جو بارش کے پانی کی محتاج ہے کیا ان باتوں کو سن کر بھی مکہ والے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

(31) اور ہم نے زمین پر مضبوط پہاڑوں کو جو کہ زمین کے لیے میخیں ہیں، اس لیے بنایا کہ زمین ان کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس زمین میں گھاٹیاں اور کھلے کھلے رستے بنائے تاکہ وہ لوگ ان رستوں کے ذریعے سے سفر کی آمد ورفت میں منزل مقصود کو پہنچ جائیں۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

(32) اور آسمان کو زمین کے اوپر چھت بنایا جو گرنے سے بھی اور بذریعہ ستاروں کی مار کے شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں

(33) اور یہ اہل مکہ اس آسمان کے اندر کی نشانیوں سے یعنی چاند، سورج، ستاروں سے اعراض کیے ہوئے ہیں ان میں تدبر اور غور و فکر نہیں کرتے، اور اس نے چاند وسورج کو مسخر کیا کہ ہر ایک ایک، الگ الگ دائرے میں اسطرح چل رہیں گویا تیر رہے ہیں۔
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟

(34) اور ہم نے آپ سے پہلے اور انبیاء کرام میں سے کسی بھی نبی کو دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا، اے محمد ﷺ اگر آپ کا انتقال ہوجائے تو کیا یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وما جعلنا لبشر من قبلک“۔ (الخ) ابن منذر ؒ نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو آپ کے انتقال فرمانے کی خبر دی گئی آپ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے بعد میری امت کی کون نگرانی کرے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں اور تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

(35) یہ آیت مبارکہ کفار کے جواب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ بدبخت آپ کے انقتال فرما جانے کے منتظر تھے اور اس کی خوشیاں مناتے تھے، موت تو ایسی چیز ہے کہ تم میں سے ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا اور ہم تمہیں سختی اور فراخی سے آزماتے ہیں، یہ دونوں باتیں اللہ کی طرف سے آزمایش ہیں اور مرنے کے بعد پھر تم سب ہماری طرف چلے آؤ گے اور ہم تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں

(36) اور اے محمد ﷺ ابوجہل اور اس کے ساتھی جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے اپنی گفتگو میں مذاق کرنے لگتے ہیں اور آپس میں کہتے ہیں کیا یہی صاحب ہیں جو تمہارے بتوں کا برائی سے ذکر کرتے ہیں حالانکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کے ذکر پر انکار اور کفر کیا کرتے ہیں اور بدبخت کہا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کو نہیں جانتے مسیلمہ کذاب جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا ارک الذین کفروا“۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم ؒ نے سدی سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا ابوجہل اور ابوسفیان کے پاس سے گزر ہوا یہ دونوں آپس میں گفتگو کررہے تھے جب ابوجہل نے آپ کو دیکھا تو بدبخت ہنسا اور ابوسفیان سے کہا کہ یہ بنی عبد مناف کے نبی ہیں، یہ سن کر ابوسفیان کو غصہ آیا اور کہا کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ بنی عبد مناف میں کوئی نبی ہو غرض کہ دونوں کی یہ گفتگو رسول اکرم ﷺ نے سنی اور آپ ابوجہل کے پاس لوٹ کر آئے اور اس کو ڈرایا اور فرمایا کہ تو اس وقت تک اپنی باتوں سے باز نہیں آئے گا جب تک کہ تیرے اوپر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جو دوسروں پر ہوا اس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی یہ کافر لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے مذاق کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان (کچھ جلدباز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھلاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو

(37) انسان جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہوا ہے یا یہ کہ انسان سے مراد نضر بن حارث ہے کہ وہ جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہوا ہے اسی بنا پر نزول عذاب کے بارے میں جلدی کرتا ہے۔ ہم عنقریب اپنی وحدانیت کے دلائل آفاق میں دکھائے دیتے ہیں یا یہ کہ اپنی عذاب بالسیف کی نشانی عنقریب بدر کے دن دکھائے دیتے ہیں سو تم وقت آنے سے پہلے نزول عذاب کے بارے میں جلدی مت کرو ،
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب آئے گا

(38) اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ وہ عذاب کا وعدہ جس سے آپ ہمیں کو ڈراتے ہیں وہ کب آئے گا اگر آپ سچے ہیں۔
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے من ہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

(39) کاش ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں اس وقت کی خبر ہوتی کہ عذاب میں ان کی کیا درگت بنے گی تو یہ ہرگز نزول عذاب کے بارے میں جلدی نہ کرتے، نزول عذاب کے وقت تو یہ لوگ اس عذاب کی آگ کو نہ اپنے سامنے سے روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے اور نہ ان کی کوئی حمایت کرے گا کہ اس عذاب کو ان سے دور کر دے۔
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ (قیامت) ان پر ناگہاں آواقع ہوگی اور انکے ہوش کھو دے گی پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

(40) بلکہ قیامت کا عذاب ان پر ایک دم سے آئے گا سو ان کے ہوش و حواس بھلا دے گا پھر اپنے اوپر سے نہ اس کو ہٹانے کی ان کو قدرت ہوگی اور نہ ان کو عذاب کے بارے میں مہلت دی جائے گی۔