21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 21:1–2

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت قریب آچکا ہے لیکن وہ غفلت میں پڑے اعراض کیے جا رہے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت مگر یہ اس کو سنتے ہیں کھیلتے ہوئے

آیت 2 مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّہِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ ” جب بھی ان کی طرف کوئی نئی وحی آتی ہے ‘ کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اسے اپنے مخصوص لا ابالیانہ انداز میں ہی سنتے ہیں۔ وہ اللہ کے کلام کی طرف کبھی بھی سنجیدگی سے متوجہ نہیں ہوتے۔
Ayah 21:3

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل کھیل کے خوگر ہوچکے ہیں اور یہ ظالم خفیہ طور پر سرگوشیاں کرتے ہیں کہ نہیں ہیں یہ (محمد ﷺ مگر تمہاری ہی طرح کے ایک انسان تو کیا تم جانتے بوجھتے جادو میں پڑنے جا رہے ہو

آیت 3 لَاہِیَۃً قُلُوْبُہُمْ ط ” ان کا غیر سنجیدہ رویہ اس حد تک ان کے دلوں میں گھر کر گیا ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی ایک کھیل ہی سمجھ رکھا ہے۔ ہَلْ ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ج ” رسول اللہ ﷺ سے کلام اللہ سن کر اگر ان کا کوئی ساتھی متاثر ہوتا تو اسے الگ لے جا کر بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھاتے کہ ارے تم خواہ مخواہ اپنے جیسے ایک انسان کو اللہ کا رسول اور اس کی باتوں کو اللہ کا کلام سمجھ رہے ہو۔ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ” تم جانتے بھی ہو کہ یہ کلام وغیرہ سب جادو کا کمال ہے۔ تو کیا تم جانتے بوجھتے ہوئے اس کا شکار ہونے جا رہے ہو ؟ ان کی اس طرح کی سرگرمیوں کی خبریں حضور ﷺ تک بھی پہنچتی تھیں۔ آپ ﷺ کو یقیناً اس سے بہت صدمہ پہنچتا ہوگا کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ ہدایت قبول کرنے پر آمادہ ہوا تھا تو اس کو پھر ورغلا کر بھٹکا دیا گیا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ ان کے آپس کے شیطانی مشوروں کا سنتے تو یوں فرماتے :
Ayahs 21:4–5

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

رسول نے کہا کہ میرا رب جانتا ہے ہر اس بات کو جو آسمان اور زمین میں ہے اور وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ (کلام) پریشان خیالات ہیں بلکہ اس نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ تو شاعر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لائے ہمارے پاس کوئی معجزہ جیسے (معجزات کے ساتھ) پہلے رسولوں کو بھیجا گیا تھا

آیت 5 بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م ” کبھی وہ کہتے کہ یہ اللہ کا کلام تو ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ محمد ﷺ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کے پراگندہ خیالات پر مبنی باتیں لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔ بَلِ افْتَرٰٹہُ ” کبھی کہتے کہ یہ کلام تو خود ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے مگر یہ غلط طور پر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ج ” کبھی کہتے کہ خدا داد شاعرانہ صلاحیت کی بنا پر ان پر آمد ہوتی ہے اور یوں یہ کلام ترتیب پاتا ہے۔ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ” اور کبھی کہتے کہ اگر یہ واقعتا اللہ کے رسول ہیں تو پھر پہلے رسولوں کی طرح ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔
Ayah 21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

نہیں ایمان لائی کوئی بستی ان سے پہلے جس کو ہم نے ہلاک کیا تو کیا یہ لوگ (کوئی معجزہ دیکھ کر) ایمان لے آئیں گے

آیت 6 مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا ج ” ان سے پہلے بہت سے رسولوں کو حسی معجزات دیے گئے تھے جو انہوں نے اپنی قوموں کو دکھائے ‘ مگر ان میں سے کوئی ایک قوم یا کوئی ایک بستی بھی ایسی نہیں تھی جو ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لائی ہو۔ چناچہ وہ لوگ واضح معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور آخر کار ہلاکت ہی ان کا مقدر بنی۔
Ayah 21:7

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو (بطور رسول) ان کی طرف ہم وحی کرتے تھے تو (اے قریش مکہ !) تم اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں

آیت 7 وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ الاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ” آیت کے پہلے حصے میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ‘ مگر بعد میں خطاب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوگیا ہے جو کہتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ ہم ان کی بات کیسے مان لیں ؟ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے ‘ وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح کھاتے پیتے اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرتے تھے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ سے بالا تر ہے تو تمہارے ارد گرد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ موجود ہیں۔ تم لوگ ان سے پوچھ لو کہ پہلے رسول انسان تھے یا وہ کسی مافوق الفطرت مخلوق سے تعلق رکھتے تھے ؟
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

ہم نے ان (رسولوں) کے لیے ایسا جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ (زندہ) رہنے والے ہوتے تھے

آیت 8 وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ” پہلے جو انبیاء آئے تھے وہ سب عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی ابدی زندگی لے کر نہیں آیا تھا۔ چناچہ ان میں سے ہر ایک پر موت کا مرحلہ بھی آیا۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے ساتھ کیا گیا وعدہ سچ کر دکھایا پھر انہیں اور (ان کے ساتھ) جسے چاہا اسے نجات دی اور حد سے بڑھنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا

آیت 9 ثُمَّ صَدَقْنٰہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰہُمْ وَمَنْ نَّشَآءُ ” ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو سیلاب کی آفت سے محفوظ رکھا۔ ہود علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کو امان بخشی۔ صالح علیہ السلام اور ان پر ایمان والوں کو نجات دی۔ شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بچایا۔ لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کو مغضوب و معتوب بستیوں سے بحفاظت نکالا اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کو سمندر میں سے بچ نکلنے کا راستہ دیا۔ یوں ہم نے ہر مرتبہ اپنے رسولوں اور اہل ایمان کے ساتھ کیے گئے وعدے کو نبھایا۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

اے لوگو !) اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کردی ہے اس میں تمہارا ذکر ہے۔ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے

آیت 10 لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ” یہاں ”ذِکْرُکُمْ“ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارے حصے کی نصیحت اور تعلیم ہے یعنی ذکرٌ لکم اور دوسرا یہ کہ ”اس میں تمہارا اپنا ذکر بھی موجود ہے“۔ اس دوسرے مفہوم کی وضاحت ایک حدیث سے ملتی ہے ‘ جس کے راوی حضرت علی رض ہیں۔ آپ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : أَلَا اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ”آگاہ ہوجاؤ ! عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا“ فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ”تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا ؟“ یعنی اس فتنے سے بچنے کی سبیل کیا ہوگی ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : کِتَاب اللّٰہِ ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ 1 ”للہ کی کتاب ! اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں بھی ہیں ‘ تمہارے بعد آنے والوں کے احوال بھی ہیں اور تمہارے باہمی مسائل و اختلافات کا حل بھی ہے“۔ ان معانی میں یہاں ذِکْرُکُمْ سے مراد یہی ہے کہ تمہارے ہر دور کے تمام مسائل کا حل اس کتاب کے اندر موجود ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی ہمیں ہر قسم کی صورت حال میں قرآن مجید سے راہنمائی مل سکتی ہے۔
Ayah 21:11

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے پیس ڈالا جو ظالم تھیں اور پھر ان کے بعد ہم نے اٹھا کھڑا کیا دوسری قوموں کو

آیت 11 وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً ” ان کے باسی گنہگار ‘ سرکش اور نافرمان تھے۔ چناچہ انہیں سزا کے طور پر نیست و نابود کردیا گیا۔ وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ” جیسے قوم نوح علیہ السلام کے بعد قوم عاد کو موقع ملا اور قوم عاد کے بعد قوم ثمود نے عروج پایا اور اسی طرح یہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔
Ayah 21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پھر جب انہیں محسوس ہوا ہمارا عذاب تو اس سے بھاگنے لگے

آیت 12 فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ ” جب عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے اور انہیں احساس ہوگیا کہ اب واقعی عذاب آنے والا ہے تو :
Ayah 21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

اس وقت انہیں کہا گیا :) اب بھاگو مت اور واپس جاؤ اپنے سامان تعیش اور محلات کی طرف شاید کہ وہاں تمہیں پوچھا جائے

آیت 13 لَا تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَآ اُتْرِفْتُمْ فِیْہِ وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْءَلُوْنَ ” شاید وہاں تمہیں اپنا کوئیُ پرسان حال یا خبر گیری کرنے والا مل جائے۔
Ayah 21:14

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہائے ہماری شامت ! ہم تو خود ہی ظالم تھے

آیت 14 قَالُوْا یٰوَیْلَنَآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ” چونکہ اس وقت تک حقیقت ان پر منکشف ہوچکی تھی اس لیے انہوں نے بڑی حسرت سے اعتراف کیا کہ حق کو جھٹلا کر اور اللہ تعالیٰ کی نا فرمانیوں کا ارتکاب کر کے انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ستم ڈھایا تھا۔
Ayah 21:15

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر وہ بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کردیا انہیں کٹی ہوئی کھیتی اور راکھ کی مانند

آیت 15 فَمَا زَالَتْ تِّلْکَ دَعْوٰٹہُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰہُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ ” حَصِیْد کے معنی کٹی ہوئی کھیتی کے ہیں ‘ جبکہ خامِدِیْنَ سے مراد یہ ہے کہ وہ بجھی ہوئی آگ کی طرح ہوگئے۔ یعنی ان کی آبادیاں ایسی ویران ہوئیں کہ زندگی کی کوئی رمق وہاں نظر نہ آتی تھی۔
Ayah 21:16

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا ہے

آیت 16 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ ” یعنی ہم نے یہ دنیا کھیل تماشے اور شغل کے لیے نہیں بنائی ہے۔ ہماری ہر تخلیق بامقصد اور اٹل قوانین پر مبنی ہے۔ اسی طرح دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کے بارے میں بھیُ ”سنتّ اللہ“ اور قواعد و ضوابط بالکل غیرمبدلّ اور ناقابل تغیر ہیں۔
Ayahs 21:17–18

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو وہ ضرور ہم اپنے پاس سے بنا لیتے اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے تو جبھی وہ نابود ہوجاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اس کی وجہ سے جو تم لوگ بیان کر رہے ہو

آیت 18 بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ط ” یہ تاریخ انسانی کا قرآنی فلسفہ ہے۔ دوسری طرف ایک نظریہ سپنگلر کا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قوموں کی زندگی ایک فرد کی زندگی سے مشابہ ہے۔ جس طرح ایک بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ بچپن گزارتا ہے ‘ جوانی کو پہنچتا ہے ‘ بوڑھا ہوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے ‘ ایسے ہی دنیا میں قومیں اور ان کی تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں ‘ ترقی کرتی ہیں ‘ بام عروج پر پہنچتی ہیں ‘ اور پھر کمزوریوں اور خرابیوں کے باعث زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں کارل مارکس نے جو Dialectical Materialism کا نظریہ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو الرعد : 17 کی تشریح پیش کیا ہے ‘ وہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ بہر حال آیت زیر نظر میں جو فلسفہ دیا گیا ہے اس کے مطابق دنیا میں حق و باطل کی کشمکش مسلسل جاری ہے۔ ایک طرف ابلیس ‘ اس کی نسل اور اس کے ایجنٹ ہیں ‘ جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ‘ انبیاء ورسل ‘ صدیقین ‘ شہداء اور مؤمنین صادقین ہیں۔ قرآن کے اس فلسفہ کو اقبالؔ نے اس طرح بیان کیا ہے : ؂ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی مشیتِ الٰہی سے کبھی کبھی یہ کشمکش دھماکہ خیزہو کر باقاعدہ ایک معرکے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ طالبانِ حق کی مدد کرتا ہے اور ان کی طاقت کے ذریعے باطل کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ حق و باطل کا ایسا ہی ایک بہت خوفناک معرکہ قرب قیامت کے زمانے میں ہونے والا ہے۔ یہ جنگوں کا ایک طویل سلسلہ ہوگا جس کو عیسائی روایات میں Armageddon جبکہ احادیث میں ”المَلحَمۃ العُظمٰی“ کا نام دیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے مستقبل کے اس معرکے کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے : ؂ دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا اللہ کو پامردئ مؤمن پہ بھروسہ ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا یہاں علامہ اقبال نے لفظ ”تہذیب“ کے ذریعے اسی مخصوص ذہنیت اور سوچ کی طرف اشارہ کیا ہے جس کے تحت فرعون نے اپنے عوام کو ”طَرِیقَتکُمُ المُثْلٰی“ کے نام پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی تھی کہ اس وقت تمہارے مثالی تہذیب و تمدن کو بڑا خطرہ درپیش ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کو جب بھی منظور ہوتا ہے کوئی تحریک یا کوئی جمعیت حق کی علمبردار بن کر کھڑی ہوجاتی ہے اور باطل اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں ایسی ہی قوم یا جماعت اللہ کے دست قدرت کی وہ تلوار ہے جس سے وہ باطل کا قلع قمع کرتا ہے : ؂ صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب ! لیکن یہ مقام رفیع صرف وہی قوم حاصل کرسکتی ہے جو قدم قدم پر خود اپنا احتساب کرنے کی پالیسی پر عمل پیراہو۔
Ayahs 21:19–21

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو (ملائکہ مقربین) اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر (کی بنا پر گریز) نہیں کرتے اور نہ ہی وہ سستی کرتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ رات دِن (اس طرح اس کی) تسبیح میں لگے ہوئے ہیں کہ تھکتے نہیں ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں کچھ ایسے معبودبنا لیے ہیں جو نشوونما دیتے ہیں

آیت 21 اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ہُمْ یُنْشِرُوْنَ ” کیا ان کا خیال ہے کہ وہ ان باطل معبودوں کی نظر کرم سے دنیا میں خوب پھلیں پھولیں گے اور ترقی کی اعلیٰ منازل طے کرلیں گے ؟
Ayah 21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ان دونوں (زمین و آسمان) کے اندر اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتے تو لازماً یہ دونوں فساد سے بھر جاتے تو اللہ جو عرش کا مالک ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بناتے ہیں

آیت 22 لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ج ” اس کائنات کا نظم و ضبط زبان حال سے گواہی دے رہا ہے کہ یہ ایک وحدت Unitary System ہے۔ اس کا مدبر ومنتظم ایک ہی ہے اور اس کے انتظام میں ایک سے زیادہ آراء کی تعمیل و تنفیذ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَہٗٓ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لاَّبْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً ”آپ ﷺ ان سے کہیے کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تب تو وہ ضرورتلاش کرتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ“۔ اس سے یہ دلیل بھی نکلتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کا سربراہ ایک ہی ہونا چاہیے اور اگر کسی ادارے کے ایک سے زیادہ سربراہ ہوں گے تو اس کا نظم و نسق تباہ ہوجائے گا۔ یہی مثال مرد کی قوامیت کی دلیل بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ خاندان جیسا اہم اور حساس ادارہ ایک جیسے اختیارات کے حامل دو سربراہوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ سربراہ ایک ہی ہونا چاہیے تو پھر اس کا زیادہ حق دار مرد ہی ہے ‘ کیونکہ قرآن کے فرمان کے مطابق مرد ہی ”قوام“ ہے : اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ط النساء : 34 ”مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس لیے بھی کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں“۔ ہمارے ہاں ملکی سطح پر زیادہ تر انتظامی مسائل پارلیمانی نظام حکومت میں اختیارات کی ثنویت duality کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس نظام میں سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے عہدے الگ الگ ہیں۔ ان دو عہدوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اصولی طور پر ممکن ہی نہیں۔ چناچہ اگر وزیر اعظم با اختیار ہوگا تو صدر کے عہدے کی حیثیت لازمی طور پر نمائشی ہوگی اور اگر صدر فعال ہوگا تو وزیر اعظم کٹھ پتلی بن کر رہ جائے گا۔ اس کے مقابلے میں صدارتی نظام منطقی اور توحیدی نظام ہے جس میں ایک ہی شخصیت سربراہ مملکت بھی ہے اور سربراہ حکومت بھی۔
Ayahs 21:23–26

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے جوابدہی نہیں ہوسکتی اور ان سب کی جوابدہی ہوگی

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں آپ ﷺ کہیے کہ لاؤ اپنی دلیل یہ (قرآن) ذکر ہے ان لوگوں کا بھی جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا بھی جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں پہچانتے اس لیے وہ اعراض کر رہے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہی وحی کرتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کرو

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ رحمن نے (کسی کو اپنا) بیٹا بنا لیا۔ وہ پاک ہے (اس سے) بلکہ وہ اس کے ّ مکرم بندے ہیں

آیت 26 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ” جس کسی کو بھی یہ لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب اس کے مقرب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کی حیثیت سے اپنے ہاں با عزت مقام عطا کیا ہے : اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْط یونس : 2 ”یقیناً ان کے لیے ہے سچائی کا مرتبہ ان کے رب کے پاس۔“
Ayah 21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ سبقت نہیں کرتے اس سے بات میں اور وہ اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں

آیت 27 لَا یَسْبِقُوْنَہٗ بالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ” فرشتے اللہ تعالیٰ کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔ وہ اللہ کے احکام کے منتظر رہتے ہیں اور اس کے ہر فرمان کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayahs 21:28–30

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے سوائے اس کے جس کے لیے وہ راضی ہوگا اور وہ تو خود اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی بھی (بالفرض) ان میں سے کہے کہ میں الٰہ ہوں اللہ کے سوا تو اسے ہم بدلہ دیں گے جہنم کا اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا دیکھا نہیں ان کافروں نے کہ آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار شے کو بنایا تو کیا (یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی) یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے

آیت 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا ط ” یعنی شدید گرمی اور حبس کی صورت حال جس میں لوگوں کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازے بھی بند ہیں ‘ زمین کے سوتے بھی خشک ہیں ‘ بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ‘ ہر طرف خشک سالی کا راج ہے اور پھر یکا یک اللہ کی رحمت سے یہ صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ آسمان کے دہانے کھل جاتے ہیں اور بارش کے پانی سے زمین پر نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ Big Bang کے بعد مادے کا جو ایک بہت بڑا گولا وجود میں آیا تو وہ ایک یکجا وجود Homogenous mass کی صورت میں تھا۔ پھر مادے کے اس گولے میں تقسیم ہوئی ‘ مختلف ستاروں اور سیاروں کے گچھے بنے ‘ کہکشائیں Galaxies وجود میں آئیں ‘ سورج اور اس کے سیاروں کی تخلیق ہوئی ‘ اور یوں ہماری زمین بھی پیدا ہوئی۔ گویا اس سارے تخلیقی عمل کا اظہار اس ایک فقرے میں ہوگیا کہ آسمان اور زمین بند تھے ‘ یعنی باہم ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں کھول دیا ‘ جدا کردیا۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط ” یہاں پر خَلَقْنَا کے بجائے جَعَلْنَا فرمایا۔ زمین کے اوپر زندگی جس کسی شکل میں بھی ہے ‘ چاہے وہ نباتاتی حیات ہو یا حیوانی ‘ ہر جاندار چیز کا مادۂ تخلیق مٹی اور مبدأ حیات پانی ہے۔ مٹی تُراب اور پانی مل کر گارا طِین بنا۔ پھر یہ طینٍ لَّازب میں تبدیل ہوا۔ پھر اس نے حماأ مسنون کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد صلصالٍ مّنْ حَمَاأ مسنونکا مرحلہ آیا۔ پھر صلصا لٍ کا لفخّار بنا۔ اس سلسلے میں سورة الحجر ‘ آیت 26 کی تشریح بھی مد نظر رہے۔ گویا مٹی سے ہر جاندار چیز کی تخلیق ہوئی اور ان سب کی زندگی کا دارومدار پانی پر رکھا گیا۔ چناچہ ہر جاندار کے لیے مبدأ حیات پانی ہے۔
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر (ایک طرف) جھک نہ جائے اور ہم نے اس کے اندر بڑے کشادہ راستے بنائے تاکہ یہ لوگ راہ یاب ہوں

وَجَعَلْنَا فِیْہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ” میدانی راستوں کے علاوہ بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں کے اندر بھی قدرتی راستے رکھے اور وادیاں بنائیں تاکہ ایسے علاقوں میں بھی لوگوں کے لیے سفر کرنا ممکن ہو سکے۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا لیکن یہ لوگ اس (آسمان) کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے

آیت 32 وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًاج وَّہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوْنَ ” اس سے پہلے یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنّٰہَا للنّٰظِرِیْنَ۔ وَحَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ”اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اسے مزین کردیا ہے دیکھنے والوں کے لیے اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے“۔ یعنی آسمان دنیا پر جو ستارے ہیں وہ باعث زینت بھی ہیں ‘ لیکن دوسری طرف یہ شیاطین جن کے لیے میزائل سنٹر بھی ہیں۔ ان میں سے جو کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے اس پر شہاب ثاقب کی شکل میں میزائل داغا جاتا ہے اور یوں ان شیاطین کی پہنچ کے حوالے سے آسمان کو سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب تک کی سائنسی تحقیقات کے حوالے سے سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کے دو پہلو اور بھی ہیں۔ ان میں سے ایک تو O-Zone Layer کی فراہم کردہ حفاظتی چھتری ہے جس نے پورے کرۂ ارض کو ڈھانپ رکھا ہے اور یوں سورج سے نکلنے والی تمام مضر شعاعوں کو زمین تک آنے سے روکنے کے لیے یہ فلٹر کا کام کرتی ہے ماحولیاتی سائنس کے ماہرین آج کل اس کے بارے میں بہت فکر مند ہیں کہ مختلف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری فضا زمین کے اوپر کرۂ ہوائی بھی حفاظتی چھت کا کام دیتی ہے۔ خلا میں تیرنے والے چھوٹی بڑی جسامتوں کے بیشمار پتھر یہ پتھر یا پتھر نما ٹھوس اجسام مختلف ستاروں یا سیاروں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ہر وقت خلا میں بکھرے رہتے ہیں جب کرۂ ہوائی میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی تیز رفتاری کے سبب ہوا کی رگڑ سے جل کر فضا میں ہی تحلیل ہوجاتے ہیں اور یوں زمین ان کے نقصانات سے محفوظ رہتی ہے۔
Ayahs 21:33–34

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا رات دن سورج اور چاند کو یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) آپ سے پہلے ہم نے کسی انسان کے لیے دوام نہیں رکھا تو اگر آپ ﷺ فوت ہوگئے تو یہ لوگ کیا ہمیشہ رہیں گے

اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ ” آپ ﷺ کے یہ مخالفین ابوجہل ‘ ابولہب وغیرہ ہمیشہ کی زندگیاں لے کر تو نہیں آئے۔ ان سب کو ایک دن مرنا ہے اور ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم آزماتے رہتے ہیں تم لوگوں کو شر اور خیر کے ذریعے سے اور تم سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا دیے جاؤ گے

وَنَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ط ” اس دنیا میں تمہاری آزمائش کے لیے تم لوگوں کو ہم مختلف قسم کی کیفیات سے دو چار کرتے رہتے ہیں۔ خیر و شر اور خوشی و غم کے بارے میں تم لوگوں کے اپنے پیمانے اور اپنے معیار ات ہیں اور اسی مناسبت سے ان کیفیات کے بارے میں تمہارے منفی یا مثبت تاثرات ہوتے ہیں ‘ مگر ضروری نہیں کہ حقیقت بھی تمہارے ہی تاثرات کے مطابق ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ جسے شر سمجھتے ہو وہ حقیقت میں خیر ہو اور جو چیز تمہارے نقطہ نظر سے خیر ہے وہ اصل میں شر ہو۔۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا : وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ”اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے ‘ تم نہیں جانتے“۔۔ بہر حال دنیا میں پیش آنے والے اچھے برے یہ حالات تمہاری آزمائش کے لیے ہیں۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) یہ کافر لوگ جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ خود رحمن کے ذکر سے منکر ہیں کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے

آیت 36 وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ” یہ مشرکین مختلف انداز میں آپ ﷺ پر استہزائیہ فقرے کستے ہیں ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر اس طرح آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے ہیں : اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ج ” یعنی کہتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس طرح ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے ! وَہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ” انہیں تو اپنے معبودوں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ لات و عزیٰ کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان بنایا گیا ہے ُ عجلت سے جلد ہی میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا پس تم لوگ مجھ سے جلدی نہ مچاؤ

آیت 37 خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط ” یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل وضاحت کے لیے الانعام : 94 کی تشریح ملاحظہ ہو میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ”نور“ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔ سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ” کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر آپ ﷺ سچے ہیں

آیت 38 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ” اس سے مراد عذاب آنے یا معجزہ دکھانے کا وعدہ ہے۔
Ayahs 21:39–40

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ! ان کافروں کو معلوم ہوتا (اس وقت کے بارے میں) جب وہ آگ کو ہٹا نہ سکیں گے اپنے چہروں سے اور نہ ہی اپنی پیٹھوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ (قیامت) ان پر اچانک آئے گی اور انہیں مبہوت کردے گی تو نہ ان کی استطاعت ہوگی اس (قیامت یا عذاب) کو ٹالنے کی اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت ملے گی

آیت 40 بَلْ تَاْتِیْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ ” یعنی ان کے ہوش کھو دے گی۔ یہ وہی لفظ ب ہ ت ہے جو البقرہ : 258 میں نمرود کے بارے میں آیا ہے : فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ ط ”تو یہ سن کر وہ کافرّ ہکا بکا رہ گیا۔“