21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 21:1–3

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

(باوجودیکہ) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ لگا ہے اس پر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے (چلے جا رہے) ہیں۔

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی تازہ نصیحت آتی ہے اسے وہ سنتے ہیں مگر (اس طرح کہ) کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں۔

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل (ہیں کہ) غافل ہیں اور ظالم (آپس میں) چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص تم ہی جیسا آدمی ہے تو کیا تم (اس کے) جادو (کے پھندے) میں (پھنس) جاؤ گے حالانکہ تم سوجھ بوجھ رکھتے ہو ؟۔

[1] یعنی حساب اعمال کا وقت روز قیامت قریب آگیا ہے۔ روز قیامت کو گزرے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قریب فرمایا گیا کیونکہ جتنے دن گزرتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ انسانی اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے اور اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔
Ayah 21:4

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

(پیغمبر نے) کہا کہ میرا رب (ہر) بات کو جانتا ہے (خواہ) آسمان میں (ہو) اور (خواہ) زمین میں اور وہ خوب سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[2] چناچہ وہ تمہاری سرگوشیوں اور سازشوں سے خوب واقف ہے۔
Ayahs 21:5–6

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

(ظالموں نے قرآن کو جادو کہنے پر بس نہ کیا) بلکہ کہنے لگے کہ یہ تو پریشان خوابوں کا مجموعہ ہے (جس کو یہ شخص وحی الٰہی سمجھ رہا ہے) ، نہیں بلکہ یہ اس نے گھڑ لیا ہے، نہیں بلکہ یہ (شخص) شاعر ہے (اور اگر واقعی پیغمبر ہے) تو جس طرح اگلے پیغمبر (نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھے اسی طرح یہ بھی کوئی نشانی ہمارے پاس لے آئے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

(حالانکہ) ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا (نشانیاں دیکھ کر) ایمان نہ لائی تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے ؟

[3] مراد ہے معجزہ۔ [4] مشرکین قرآن سن کر ضد اور ہٹ دھرمی سے ایسے بدحواس ہوجاتے تھے کہ کسی ایک رائے پر قرار نہ تھا۔ کبھی اسے جادو بتاتے، کبھی پریشان خوابوں کا مجموعہ کہتے، کبھی کہتے کہ اسے آپ نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے اور کبھی آپ کو شاعر بتاتے اور جب دیکھتے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں تو کہتے کہ اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے تو کوئی معجزہ لا دکھائے۔
Ayahs 21:7–8

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے بھی آدمی ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے ہیں جن پر ہم وحی کرتے رہے ہیں۔ تو (اے منکرو، ) اگر تمہیں (یہ بات) معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ (زندہ) رہنے والے تھے۔

[5] یہ ان کے اس قول کا جواب ہے کہ '' یہ شخص تم ہی جیسا آدمی ہے ''۔ [6] یعنی یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ان میں جو انبیاء مبعوث ہوئے تھے وہ انسان تھے یا فرشتے۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر (دیکھ لو، ) ہم نے ان سے (کئے ہوئے) وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہم نے انھیں اور (ان کے ساتھ) جس جس کو چاہا (عذاب سے) بچا لیا اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر مارا۔

[7] یعنی پیغمبروں کی تائید و نصرت اور ان کے دشمنوں کی ہلاکت کے وعدے۔
Ayahs 21:10–12

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

(لوگو، ) ہم نے تمہاری طرف (ایسی) کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، پھر کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کر ڈالیں جو ظلم (و ستم) ڈھا رہی تھیں اور ان کے بعد دوسری قوم کو اٹھا کھڑا کیا۔

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پھر جب ان (ہلاک ہونے والوں) کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے اس (بستی) سے بھاگنے،

[8] یعنی اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور زیربحث ہیں، تمہارے عیوب اور تمہاری بداخلاقیوں کا بیان ہے۔
Ayahs 21:13–16

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(ہم نے کہا، ) '' بھاگو مت اور لوٹ جاؤ اس (سازوسامان دنیا) کی طرف اور اپنے مکانوں کی طرف (واپس چلو) شاید کہ تم سے پوچھا جائے۔ ''

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ لگے کہنے کہ ہائے ہماری کمبختی، بیشک ہم ہی ظالم تھے۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

(دیکھو، ) وہ برابر یہی پکارا کئے یہاں تک کہ ہم نے ان کو ایسا (نیست و نابود) کردیا جس طرح کھیتی کٹ گئی ہو (یا) آگ ٹھنڈی ہوگئی ہو۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے لئے پیدا نہیں کیا۔

[9] یہ بطور استہزاء فرمایا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو اور ادھر ہی واپس جاؤ جہاں عیش کئے تھے تاکہ لوگ تمہارے عاقلانہ مشوروں اور مدبرانہ آراء سے استفادہ کرنے کے لئے تمہارے پاس آئیں، یا نزول عذاب کے وقت تمہاری خوشحالی کی وجہ سے لوگ ہمدردی کے طور پر تمہاری احوال پرسی کریں، یا تمہارے خدام باادب ہاتھ باندھ کر تم سے پوچھیں کہ حضور کیا حکم ہے۔
Ayah 21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے اگر ہم کو (یہ) کرنا ہی تھا۔

[10] مطلب یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو عبث نہیں بنایا ہے۔ اس کی تخلیق سے بیشمار حکمتیں اور مخلوق کی بےحساب مصلحتیں وابستہ ہیں۔ اگر ہمیں تفریح و تماشہ ہی مقصود ہوتا تو اپنے پاس کی کسی چیز کو مثلاً اپنی صفات کمال کے مشاہدے کو مشغلہ بناتے۔ ایک ذی شعور مخلوق کو بلاوجہ تکلیف میں کیوں ڈالتے ؟
Ayahs 21:18–20

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

لیکن ہم تو حق کو (پتھر کی طرح) باطل (کے سر) پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر کچل ڈالتا ہے اور باطل اسی دم ملیامیٹ ہوجاتا ہے۔ (لوگو، ) افسوس تم پر کہ تم ایسی باتیں بناتے ہو !۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور (دیکھو، اللہ کی وہ شان ہے کہ) جو (مخلوق) بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کے لئے ہے اور جو (فرشتے) اس کے حضور ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ رات دن اس کی تسبیح (وتقدیس) میں لگے رہتے ہیں اور (ذرا) سستی نہیں کرتے۔

[11] یعنی یہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کار زار ہے جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے اور حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔
Ayah 21:21

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے ایسے معبود بنا لئے ہیں جو ان کو زندہ اٹھائیں گے ؟

[12] یعنی جب اللہ معبودان باطل کے پجاریوں کو اپنے عذاب سے مار ڈالے تو کیا ان کے معبود ان کو زندہ اٹھائیں گے یا ہلاکت سے بچا لیں گے ؟
Ayahs 21:22–23

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو (زمین و آسمان) دونوں (کبھی کے) درہم برہم ہوگئے ہوتے۔ پس پاک ہے اللہ رب العزت ان باتوں سے جو یہ لوگ (اس کی نسبت) بیان کرتے ہیں۔

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کی بازپرس (اس سے) نہیں کی جاسکتی اور لوگوں سے (ان کے کئے کی) بازپرس ہونی ہے۔

[13] یعنی نظام عالم میں ابتری پڑجاتی۔ اللہ کے تصور و تعریف میں یہ امر داخل ہے کہ وہ مطلق الارادہ و مطلق الاختیار اور مالک کُل ہو۔ اب اگر فرض کرو کہ آسمان و زمین میں دو اللہ ہوں تو دونوں اسی شان کے ہوں گے۔ اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور اس کا انتظام دونوں کے کلی اتفاق سے ہوتا ہے یا نہیں یا گاہ بگاہ دونوں میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔ اتفاق کی صورت میں دو احتمال ہیں، یا تو اکیلے سے کام نہیں چل سکتا تھا اس لئے دونوں نے مل کر انتظام کیا۔ تو معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک بھی کامل قدرت والا نہیں۔ اور اگر تنہا ایک اللہ سارے عالم کا کام انجام دے سکتا تھا تو دوسرا بیکار ٹھہرا۔ اور اگر اختلاف کی صورت فرض کرلیں تو لامحالہ مقابلے میں یا تو ایک اللہ مغلوب ہو کر اپنا ارادہ و تجویز چھوڑ بیٹھے گا تو وہ اللہ نہ رہا، یا دونوں بالکل مساوی و متوازی طاقت سے ایک دوسرے کے خلاف اپنے ارادے اور تجویز کو عمل میں لانا چاہیں گے جس کا نتیجہ تصادم کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ آسمان و زمین میں دو اللہ ہوتے تو آسمان و زمین کا نظام کبھی کا درہم برہم ہوجاتا۔
Ayahs 21:24–27

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں ؟ (اے پیغمبر، تم ان سے) کہو کہ تم اپنی دلیل تو پیش کرو۔ یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے پہلوں کی کتابیں (موجود) ہیں (ان میں دوسرے معبودوں کی سند دکھا دو ) ۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق (بات) کو جانتے ہی نہیں، پس (جب حق کا ذکر آتا ہے تو) یہ منہ پھیر لیتے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے کوئی (ایسا) رسول نہیں بھیجا جس کو ہم نے یہ وحی نہ کی ہو کہ ہمارے سوا کوئی اور معبود نہیں، پس عبادت ہماری ہی کرو۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور ( یہ لوگ) کہتے ہیں کہ ( اللہ) رحمن نے (فرشتوں کو) اولاد بنا رکھا ہے۔ اس کی ذات (اس تہمت سے) پاک ہے۔ (فرشتے اس کی اولاد نہیں) بلکہ (فرشتے اس کے) معزز بندے ہیں۔

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

[14] یعنی قرآن۔ [15] یعنی سابقہ امتوں کی کتب آسمانی (تورات، انجیل وغیرہ) ۔ [16] یعنی توحید پر بہت سی دلیلیں قائم ہیں، عقلی بھی اور نقلی بھی۔ تم شرک پر بھی تو کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ۔
Ayahs 21:28–29

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

(وہ جانتے ہیں کہ) جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب اللہ کو معلوم ہے۔ اور وہ (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے بجز اس کے جس کے حق میں (ان کی سفارش سننے پر) اللہ راضی ہو، اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرے رہتے ہیں۔

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں سے (جرأت کر کے) یہ کہہ دے کہ میں (بھی) اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے (اور) ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

[17] یعنی ان کا ماضی بھی اور مستقبل بھی۔
Ayahs 21:30–31

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا منکرین (حق) نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ آسمان و زمین (اپنی ابتدائی خلقت میں) ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں الگ الگ کیا اور پانی سے تمام جاندار چیزیں پیدا کردیں ؟ کیا پھر بھی یہ لوگ (ہم پر) ایمان نہیں لاتے ؟۔

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ لوگوں کو لے کر ڈگمگانے نہ لگے، اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنا دئیے تاکہ لوگ (ان کے ذریعے سے اپنی اپنی) منزل (مقصود) پالیں۔

[18] یعنی کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass) کی سی تھی۔ بعد میں اس تودے کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں ہمارا نظام شمسی اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔ [19] جدید ماہرین علم الحیات کی تحقیق ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں اصلی عنصر نخرمایہ (Protoplasm) کا ہوتا ہے جس کا غالب حصہ پانی ہے۔ اس طرح پانی کو اللہ نے سبب زندگی بنایا اور اس سے زندگی کا آغاز کیا۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا مگر یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

[20] یعنی گرے نہ ٹوٹے پھوٹے نہ بدلی جائے اور شیاطین کی چوری چھپے آسمانی خبروں کی سن گن لینے سے بھی محفوظ ہے۔ اور چھت اس لئے کہا کہ دیکھنے میں چھت کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ [21] یعنی ان نشانیوں سے جو آسمان میں ہیں۔
Ayahs 21:33–34

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا (اور) تمام (اجرام فلکی اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے کسی بشر کے لئے (دنیا میں) ہمیشگی نہیں رکھی۔ پھر اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ (جیتے) رہیں گے ؟

[22] آیات 30 تا 33 میں تخلیق کائنات کا بیان ہے جس کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایک سے زیادہ الہٰوں کی کار فرمائی میں نہیں بن سکتا تھا اور نہ ہی اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا تھا۔ پھر کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ زمین و آسمان کے ایک دوسرے سے ملے ہونے، پھر الگ ہونے، پھر پانی سے تمام جاندار چیزیں پیدا ہونے اور اجرام فلکی کا اپنے اپنے مدار میں تیرنے کا جو تذکرہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے کیا تھا وہ موجودہ زمانے کا انسان بالکل اپنی جدید ترین معلومات کے مطابق پاتا ہے۔ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار (ایک نہ ایک دن) موت (کا مزا) چکھنے والا ہے۔ (لوگو، ) ہم تمہیں اچھے اور برے حالات (دونوں) میں (ڈال کر) آزماتے ہیں اور (پھر بالآخر) تم (سب) ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤگے۔

[23] مشرکین رسول اکرم ﷺ کی باتیں سن کر کہتے تھے کہ ساری دھوم محض اس شخص کے دم تک ہے۔ یہ دنیا سے رخصت ہوا تو پھر کچھ نہیں۔ تو اس کا جواب دیا کہ کون ایسا ہے جس پر موت کبھی نہ طاری ہو۔ اگر رسول کی موت کے تصور سے ہی انھیں اپنا دل ٹھنڈا کرنا مقصود ہو تو خوشی کا ہے کی۔ کیا تم کبھی نہیں مرو گے اور قیامت کے بوریے سمیٹو گے ؟ جب تم کو بھی آگے پیچھے مرنا ہے تو پیغمبر کی وفات پر خوش ہونے کا کیا موقع ہے۔ [24] یہاں انسان کے لئے تین قانون بیان کر دئیے : (1) ہر ذی حیات کے لئے جلد یا بدیر موت لازمی ہے۔ (2) انسان جب تک زندہ رہے گا اس کا امتحان برابر ہوتا رہے گا۔ (3) ہر انسان کے لئے اللہ کے حضور میں واپس جاکر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جب منکرین (حق) تمہیں دیکھتے ہیں تو (انہیں اور تو کچھ سوجھتا نہیں) بس (آپس میں) تمہاری ہنسی اڑانے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) کیا یہی (حضرت) ہیں جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی کے ساتھ) کیا کرتے ہیں۔ اور (ان منکروں کا اپنا حال یہ ہے کہ) خود (اللہ) رحمن کے ذکر سے (یک قلم) منکر ہیں۔

[25] یعنی تمسخر و استہزاء کے مستحق اگر ہیں تو یہ لوگ ہیں جو خود حقیقی معبود کے ذکر اور '' رحمن '' کے نام تک سے چڑتے ہیں اور جھوٹے معبودوں کی برائی سن کر چیں بجیں ہوتے ہیں۔