21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 21:37–43

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان کی سرشت میں جلدبازی ہے۔ ہم عنقریب تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائے دیتے ہیں تو ہم سے جلدی نہ مچاؤ۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور (منکرین مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتلاؤ) یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ! ان منکروں کو اس وقت کا علم ہوتا جب کہ (دوزخ کی آگ ان کو آ گھیرے گی اور اس) آگ کو نہ اپنے منہ پر سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ پر سے اور نہ ان کو (کہیں سے) مدد ملے گی۔

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

(قیامت آئے گی تو ان کو جتا بنا کر تھوڑا ہی آئے گی) بلکہ وہ تو اچانک ان پر آموجود ہوگی اور انھیں مبہوت کر دے گی پھر نہ تو اس کو وہ ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) یہ واقعہ ہے کہ تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے تو (اس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ منکرین) جس (عذاب) کا مذاق اڑایا کرتے تھے اسی نے انھیں گھیر لیا۔

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ وہ کون ہے جو تمہیں رات کو یا دن کو ( اللہ) رحمن (کے عذاب) سے بچا سکتا ہے ؟ مگر (ان سے کیا پوچھو گے) یہ تو اپنے رب کی یاد سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہمارے سوا (کوئی اور) معبود ہیں جو ان کو (ہمارے عذاب سے) بچا سکتے ہیں ؟ (بھلا وہ کیا بچائیں گے) وہ خود تو اپنی مدد کرسکتے نہیں اور نہ انھیں (اپنے بچاؤ کے لئے) ہماری رفاقت حاصل ہے۔

[26] یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انسان کی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن اس خاصے کی مذمت نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی برائی کے لئے نہیں ہے۔ چناچہ سورة التین میں فرمایا ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۝ۡ) 95 ۔ التین :4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا) چناچہ ضروری تھا کہ اس کی طبیعت میں جلدبازی بھی ہوتی جو اس کے اندر سعی عمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے محرک کا کام دیتی۔ لیکن طبیعت کے اور خواص کی طرح یہاں بھی ٹھوکر اصل خاصے کے تقاضے میں نہیں لگتی ہے بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی ہے۔ اسے جہاں صبر کرنا چاہئے وہاں بےصبری کرنے لگتا ہے اور جب فیصلہ کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے تو بےدھڑک فیصلہ کردیتا ہے۔ [27] یہاں نشانیوں سے مراد قیامت اور جہنم کا عذاب ہے جیسا کہ بعد کی آیات سے واضح ہے۔ [28] کافر قیامت اور دوزخ کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ شخص (یعنی محمد ﷺ آئے دن ہمیں دھمکیاں دیتا ہے کہ اگر تم میرا انکار کرو گے تو تم پر عذاب الٰہی نازل ہوگا اور قیامت میں تم جہنم میں جھونکے جاؤ گے۔ مگر ہمارے مسلسل انکار کے باوجود نہ کوئی عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے نہ قیامت ہی ٹوٹی پڑتی ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ گھبراؤ نہیں عذاب اپنے وقت پر آئے گا اور قیامت بھی اپنے وقت پر نازل ہوگی۔
Ayahs 21:44–46

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سروسامان دئیے چلے گئے یہاں تک کہ (خوشحالیوں کی سرشاری میں) ان پر ایک زمانہئ دراز گزر گیا (اور انہوں نے اپنے عیش و عشرت میں کوئی خلل پڑتے نہ دیکھا تو مغرور ہوگئے) ۔ تو کیا یہ لوگ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین کو چاروں طرف سے ان پر تنگ کرتے ہوئے چلے آ رہے ہیں ؟ پھر کیا یہ غالب آنے والے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ میں تو بس (اللہ کی) وحی کی بناء پر تمہیں (عذاب الٰہی سے) ڈراتا ہوں، (مگر یہ لوگ بہرے ہیں) اور بہرے پکار کو نہیں سنتے جب کہ انھیں ڈرایا جائے۔

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر انھیں تمہارے رب کے عذاب کی ذرا سی بھی ہوا لگ جائے تو بےاختیار بول اٹھیں کہ ہائے ہماری کمبختی، بیشک ہم ہی ظالم تھے۔

[29] یہ مضمون سورة رعد کی آیت 41 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم (لوگوں کے اعمال تولنے کے لئے) میزان عدل قائم کریں گے۔ پھر کسی شخص پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا، اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اسے بھی (تولنے کے لئے) لاحاضر کریں گے۔ اور حساب لگانے کے لئے ہم ہی کافی ہیں۔

[30] مطلب یہ ہے کہ یہ سارے انتظامات تو تمہارے مزید اطمینان کے لئے ہوں گے ورنہ رتی رتی حساب کے لئے تو ہم خود ہی بلا ان آلات کی مدد کے کافی ہیں۔
Ayahs 21:48–55

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو '' فرقان '' اور '' روشنی '' اور '' ذکر '' عطا کیا تھا ان متقیوں کے لئے

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور روز قیامت (کے تصور) سے لرزاں رہتے ہیں،

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور (اب) یہ بابرکت '' ذکر '' (بھی) ہم ہی نے اتارا ہے پھر کیا تم اس کے منکر ہو ؟

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور (اس سے بھی) پہلے ہم نے ابراہیم کو (اس کے درجے کے مطابق) سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اس (کی صلاحیتوں) سے (خوب) واقف تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم (کے لوگوں) سے کہا تھا کہ '' یہ کیا (واہیات) مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم لوگ جمے بیٹھے ہو ؟ ''

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ بولے، '' ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو ان ہی کی عبادت کرتے پایا ہے۔ ''

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا، '' یقینا صریح گمراہی میں پڑے رہے تم (بھی) اور تمہارے باپ دادا (بھی) ''

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے، '' کیا تو ہم سے سچ مچ کہہ رہا ہے یا دل لگی کرتا ہے ؟ ''۔

[31] مراد کتاب تورات ہے جو فرقان یعنی حق و باطل کا فرق دکھانے والی، جہل غفلت کے اندھیاروں میں روشنی پہنچانے والی اور '' ذکر '' یعنی نصیحت نامہ تھی۔
Ayahs 21:56–57

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا، '' (دل لگی کی بات نہیں) بلکہ تمہارا رب (وہی ہے) جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جس نے ان (سب) کو پیدا کیا اور میں اس پر تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم ! البتہ میں ضرور تمہارے بتوں کے ساتھ ایک چال چلوں گا جب تم (سب) پیٹھ پھیر کر چل دو گے۔ ''

[32] یعنی اس دعوے پر دلیل بھی رکھتا ہوں۔
Ayahs 21:58–60

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ (ان کے چلے جانے کے بعد) اس نے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا بجز ان کے بڑے (بت) کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

(جب لوگ معبد میں واپس آئے اور انہوں نے بتوں کا یہ حال دیکھا تو) بولے، '' (ارے ! ) ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ (حرکت) کس نے کی ؟ (جس کسی نے بھی کی ہو) اس میں شک نہیں کہ وہ بڑا ہی ظالم تھا ''

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(چند آدمیوں نے) کہا، '' ہم نے ایک نوجوان کو جسے ابراہیم کہا جاتا ہے ان (بتوں) کا تذکرہ کرتے سنا ہے۔ ''

[33] یعنی اس بڑے بت سے پوچھیں کہ ان چھوٹے بتوں کا کیا حال ہے، یہ کیسے ٹوٹے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے دریافت کریں اور آپ کو حجت قائم کرنے کا موقع ملے۔
Ayahs 21:61–62

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

(یہ سن کر لوگوں نے) کہا، '' تو اسے (پکڑ کر) سب لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ (جو کچھ وہ جواب دے) لوگ (اس کے) گواہ رہیں۔ ''

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(غرض ابراہیم کو لایا گیا اور) لوگوں نے (ان سے) پوچھا، '' اے ابراہیم، کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ (یہ حرکت) تو نے کی ہے ؟ ''

[34] مدعا یہ تھا کہ شہادت قائم ہو تو وہ آپ کے درپے ہوں۔
Ayahs 21:63–68

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

(ابراہیم نے) جواب دیا، '' (نہیں) بلکہ ان کے اس بڑے (گرو) نے کی (ہوگی) ۔ اگر یہ (بت) بولتے ہوں تو ان ہی سے پوچھ لو۔ ''

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

(یہ سن کر) وہ لوگ اپنے جی میں سوچنے لگے، پھر (آپس میں) کہنے لگے، '' اس میں شک نہیں کہ تم خود ہی ظالم ہو۔ ''

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر (شرمندگی کے مارے) انہوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا (اور بولے، '' ابراہیم، ) تجھے خوب معلوم ہے کہ یہ (بت) بولا نہیں کرتے۔ ''

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا، '' پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان۔

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تُف ہے تم پر اور ان پر بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ کیا تم (اتنی سی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟ ''

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

(یہ سن کر وہ آپس میں) لگے کہنے، '' جلا ڈالو اس کو اور بدلہ لو (اس سے) اپنے معبودوں کا اگر تم کو کچھ کرنا ہے۔ ''

[35] ابراہیم (علیہ السلام) کا طنزیہ انداز گفتگو شروع ہی سے ظاہر ہے۔ اسی لب و لہجہ میں آپ نے فرمایا، '' جی اور کیا کہیں ان کے بڑے گروہی نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ آپ ان بتوں سے کیوں نہیں دریافت کرلیتے ؟ ''
Ayahs 21:69–70

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

(مگر) ہمارا حکم ہوا، '' اے آگ، ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی (بن جا) ابراہیم کے لئے۔ ''

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

(تو دیکھو، ) انہوں نے ابراہیم کے ساتھ برائی کرنی چاہی تھی مگر ہم نے انھیں ناکام کردیا۔

[36] الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے آگ کا الاؤ تیار کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں ٹھنڈی اور بےضرر ہوگئی۔
Ayahs 21:71–73

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم اسے اور لوط کو (دشمنوں سے) نجات دلا کر ایسی سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور (پھر) ہم نے اسے اسحاق (بیٹا) اور (مزید براں) یعقوب (پوتا) عطا کیا اور ہر ایک کو صالح بنایا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں (لوگوں کا) امام بنادیا جو ہمارے حکم سے (لوگوں کی) رہنمائی کرتے تھے۔ اور ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی، اور وہ ہماری ہی عبادت کرنے والے تھے۔

[37] مراد ہے سرزمین فلسطین جو دینی اور دنیوی برکتوں سے مالامال ہے۔ دینی برکتیں یہ کہ اس سرزمین میں کثرت سے انبیاء مبعوث ہوئے اور دنیوی برکتیں اس ملک کی صحت بخش آب و ہوا اور سرسبزی و شادابی ہیں۔
Ayahs 21:74–75

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور (اسی طرح) ہم نے لوط کو بھی حکم اور علم عطا کیا اور اسے اس بستی سے نجات دی جو بدکاریاں کرتی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ وہ (بڑی ہی) بری فاسق قوم تھی۔

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

(اس طرح) ہم نے لوط کو اپنی رحمت (کی پناہ) میں لے لیا، یقینا وہ صالح لوگوں میں سے تھا

[38] حکم سے مراد فیصلے کی قوت و صلاحیت ہے اور علم سے مراد علم نبوت ہے۔