21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 21:76–78

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، لوگوں کو) نوح (کا واقعہ بھی یاد دلاؤ) جب اس نے (ہمیں) پکارا تھا (اور یہ زمانہ ابراہیم سے بہت) پہلے (کا واقعہ ہے) تو ہم نے اس کی (دعا) سن لی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور اس قوم کے مقابلے میں جس نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اس کی مدد کی۔ (بڑے ہی) برے تھے وہ لوگ، پس ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، لوگوں کو) داؤد اور سلیمان (کا واقعہ بھی یاد دلاؤ) جب کہ وہ دونوں ایک کھیت (کے مقدمے) میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں لوگوں کی بکریاں رات کے وقت جا پڑی تھیں (اور کھیت کو چر گئی تھیں) اور ہم لوگوں سے متعلق (ان کے) فیصلے کو دیکھ رہے تھے

[39] اشارہ ہے اس دعا کی طرف جو نوح (علیہ السلام) نے ایک مدت دراز تک اپنی قوم کی اصلاح کے لئے مسلسل کوشش کرتے رہنے کے بعد آخرکار تھک کر مانگی تھی کہ '' اے میرے رب، زمین پر ایک کافر بھی نہ چھوڑ۔ '' ( سورة نوح آیت 26 صفحہ (1436 [40] یعنی وہ بھاری غم جس میں وہ قوم کی تکذیب و ایذا رسانی کی وجہ سے مبتلا تھے۔
Ayahs 21:79–80

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پس ہم نے (صحیح) فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔ نیز ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو داؤد کے تابع کردیا تھا جو (اس کے ساتھ) تسبیح (و تقدیس) کیا کرتے تھے اور (اس کے) کرنے والے ہم تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو تمہارے لئے زرہ کا بنانا بھی سکھا دیا تھا تاکہ تمہیں (لڑائی میں ایک دوسرے کی) زد سے بچائے تو (اے لوگو، ) کیا تم (ہماری اس نعمت کا بھی) شکر کرو گے (یا نہیں) ؟

[41] قصہ یہ تھا کہ ایک شخص کی بکریاں رات کے وقت کسی دوسرے کے کھیت میں جا پڑی تھیں اور کھیت چر گئی تھیں۔ کھیت والے نے داؤد (علیہ السلام) کی عدالت میں دعویٰ دائر کردیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ بکریاں مالک سے چھین کر کھیت والے کو دے دی جائیں۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اختلاف کیا اور یہ رائے دی کہ بکریاں اس وقت تک کھیت والے کے پاس رہیں جب تک بکریوں کا مالک اس کے کھیت کو پھر سے نہ تیار کر دے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا تھا۔ یہاں اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ انبیاء باوجود نبی ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی صلاحیتیں پانے کے انسان ہی تھے اور الوہیت کا کوئی شائبہ ان میں نہ تھا۔ اس مقدمے میں داؤد (علیہ السلام) کی رہنمائی وحی کے ذریعے سے نہیں کی گئی اس لئے وہ غلطی کر گئے لیکن سلیمان (علیہ السلام) کی رہنمائی وحی کے ذریعے سے ہوئی اور انہوں نے صحیح فیصلہ کیا۔
Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے سلیمان کے لئے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کے رخ پر چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور ہم تو ہر چیز کا علم رکھتے ہیں۔

[42] یعنی فلسطین جس پر حاشیہ گزر چکا ہے۔
Ayahs 21:82–83

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیاطین میں سے بعض ایسے تھے جو اس کے لئے (سمندر میں) غوطہ لگاتے تھے اور اس کے سوا دوسرے کام بھی کرتے تھے اور ان کے نگران ہم ہی تھے۔

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ایوب (کی وہ حالت یاد کرو) جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ '' مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (تو میرے حال پر رحم فرما) ''

[43] موتی اور مونگے نکالنے کی غرض سے۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی (فریاد) سن لی اور جو دکھ اسے تھا اسے دور کردیا اور (نہ صرف) اس کے اہل (و عیال) اسے عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی (اسے دئیے) اپنی رحمت (خاص کے طور پر اور یہ نصیحت ہے (ہماری) عبادت کرنے والوں کے لئے۔

[44] ایوب (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور نہایت خوشحال پیغمبر تھے اور خوشحالی میں بھی اللہ کے شکرگزار بندے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مصیبت سے آزمایا۔ مال و اولاد سب فنا ہوگئے اور ان کے جسم پر پھوڑے نمودار ہوگئے لیکن اس حال میں بھی وہ اللہ کا شکر کرتے رہے اور امتحان میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی بدحالی کو خوشحالی میں بدل دیا بلکہ ان کی خوشحالی میں افزونی عطا فرمائی۔ [45] تاکہ وہ اس واقعہ سے بلاؤں پر صبر کرنے اور اس کے ثواب عظیم سے باخبر ہوں۔
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اسمٰعیل، ادریس اور ذوالکفل (کے حالات کو بھی یاد کرو) ۔ (یہ) سب (راہ حق میں) صبر کرنے والے تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان (سب) کو اپنی رحمت (کے سائے) میں لے لیا تھا۔ بلاشبہ وہ ہمارے نیک بندوں میں سے تھے۔

[46] ان کا ذکر سورة مریم (آیات 57-56) میں گزر چکا ہے۔ [47] ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے نصیب والا۔ ان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں لیکن ترجیحی قول یہ ہے کہ آپ انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے۔
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ذوالنون (کے واقعے کو بھی یاد کرو) جب کہ وہ خفا ہو کر چلا گیا تھا اور اس نے خیال کیا تھا کہ ہم (اس کے چلے جانے پر) کوئی گرفت نہ کریں گے۔ پھر اس نے اندھیروں میں پکارا کہ '' (اے اللہ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات، بیشک میں ہی قصوروار ہوں۔ ''

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تب ہم نے اس کی (فریاد) سن لی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔

[48] ذوالنون کے معنی ہیں مچھلی والا۔ مراد اس سے یونس (علیہ السلام) ہیں جنہیں مچھلی نے اللہ کے حکم سے نگل لیا تھا۔ [49] یونس (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے کیونکہ قوم نے ان کی دعوت قبول نہ کی تھی اور کفر پر قائم تھی۔ [50] کیونکہ یونس (علیہ السلام) حکم الٰہی کا انتظار کئے بغیر چلے گئے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انھیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا۔ اندھیروں سے مراد ہے دریا اور مچھلی کے پیٹ کے چند درچند اندھیرے۔
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا (کے واقعے کو بھی یاد کرو) جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا تھا کہ '' اے میرے رب، مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور (یوں تو) سب وارثوں سے بہتر وارث تو (خود) ہے ''

[51] یعنی مجھے اولاد عطا کر۔ [52] یعنی حقیقی وارث تو اللہ ہی ہے جسے کبھی فنا نہیں۔ لیکن میں جو ظاہری اور مادی وارث مانگ رہا ہوں وہ اس لئے کہ جو خدمت دین کی میں کر رہا ہوں اس کا سلسلہ میری اولاد کے ذریعے سے چلتا رہے اور میرے بعد بند نہ ہوجائے۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

پس ہم نے اس کی (پکار) سن لی اور اسے (فرزند) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کی خاطر اس کی بیوی کو تندرست کردیا۔ یہ (سب) لوگ (جن کا اوپر ذکر ہوا) نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور امید و بیم کے ساتھ ہمیں پکارتے تھے اور ہمارے آگے (عجزو نیاز سے) جھکے رہتے تھے۔

[53] یعنی اس کے بانجھ پن کو دور کر کے اسے اولاد کے قابل بنادیا۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس خاتون (کا واقعہ بھی یاد کرو) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی تو ہم نے اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ ) کو دنیا جہان کے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) ایک نشانی بنادیا۔

[45] مراد ہیں مریم (علیہ السلام) ۔ [55] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حاشیہ 14 صفحہ 598۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

(ان تمام پیغمبروں کے ذریعے ہم نے جو تعلیم دی تھی وہ یہی تھی کہ) تم سب کی امت (فی الحقیقت) ایک ہی امت ہے اور ہم ہی (تن تنہا) تم سب کے رب ہیں پس ہماری ہی عبادت کرو۔

[56] یعنی دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے تھے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے یعنی یہ کہ اللہ ہی کائنات کا رب ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنی چاہئے۔ بعد میں جتنے مذاہب پیدا ہوئے وہ اصل دین کو بگاڑ کر بنا لئے گئے۔
Ayahs 21:93–94

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

مگر لوگوں نے آپس میں (اختلاف کر کے) اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ (بالآخر) سب کو ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

پس (یاد رکھو کہ اصل اس باب میں یہ ہے کہ) جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہ ہوگی اور ہم اس کے (سب نیک کام) لکھتے جاتے ہیں۔

[57] اس وقت وہ اصل دین سے انحراف کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جس بستی کے لئے ہم نے ہلاکت ٹھہرا دی ممکن نہیں کہ وہ پلٹ سکے۔

[58] جن کا ہلاک اور غارت ہونا مقدر ہوچکا وہ کبھی اپنے کفر و عصیان کو چھوڑ کر اور توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع ہونے والے نہیں۔ نہ کبھی وہ دنیا میں اس غرض سے واپس بھیجے جاسکتے ہیں کہ دوبارہ یہاں آ کر گزشتہ زندگی کے گناہوں کی تلافی کرلیں۔ ان کے لئے تو صرف ایک ہی وقت ہے جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور اپنے گناہوں کے معترف ہو کر پشیمان ہوں گے مگر اس وقت پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی کیونکہ وہ وقت قیامت کا ہوگا جس کی علامات میں سے ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے جن کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
Ayahs 21:96–97

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دئیے جائیں گے اور وہ بلندی سے نکل پڑیں گے

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) وعدہ برحق قریب آ لگے گا تو اچانک کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گے (اور وہ بول اٹھیں گے، ) '' ہائے ہماری کمبختی، ہم تو اس (دن کی طرف) سے غفلت ہی میں رہے۔ نہیں بلکہ ہم ہی خطاکار تھے۔ ''

[59] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة کہف حاشیہ 33 صفحہ 698۔
Ayahs 21:98–104

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(اس دن مشرکین سے کہا جائے گا کہ) تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے تھے دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور تم (سب) وہاں پہنچنے والے ہو۔

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ (تمہارے معبود سچے) معبود ہوتے تو دوزخ میں نہ جاتے اور (اب تم) سب کو اسی میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہنا ہے۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے دوزخ میں (دکھ اور جلن کی) چیخیں ہوں گی اور (اپنی چیخ و پکار کے غل میں) وہ ( اور کچھ) نہ سنیں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

(مگر ہاں) وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ یقینا دوزخ سے دور (ہی دور) رکھے جائیں گے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہ اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا بھی ہراساں نہ کرے گا اور فرشتے ان کو (ہاتھوں ہاتھ) لیں گے (اور کہیں گے، ) '' یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا (کلام الہٰی میں) تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ''

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہوگا) جب کہ ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کاغذات کا طومار لپیٹ لیا جاتا ہے (اور) جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ (یہ ایک) وعدہ (ہے جس کا پورا کرنا) ہم پر (لازم) ہے (اور) ہم (پورا) کر کے رہیں گے۔

[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔
Ayahs 21:105–106

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے زبور میں (پندو) نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اس (بات) میں ایک (بڑا) پیام ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔

[61] آسمانی کتاب کا نام جو داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ [62] مطلب یہ ہے کہ دوسری تخلیق میں، جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا ہے، زمین کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجودہ عارضی زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہوجاتا ہے اور زمین کی وراثت مشیت الٰہی کے تحت مومن اور کافر، فرماں بردار اور نافرمان سب کو ملتی ہے مگر جزائے اعمال کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر۔ اس کے برعکس آخرت میں اللہ اپنے بندوں میں سے صرف مومنین صالحین کو زمین کا وارث بنائے گا امتحان کے طور پر نہیں بلکہ اس نیک رویے کی ابدی جزا کے طور پر جو انہوں نے دنیا میں اختیار کیا تھا۔ زبور میں بھی جو اس وقت موجود ہے نیکی اور راست بازی اور توکل کی نصیحت کے بعد ارشاد ہوتا ہے : '' صادقین زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے '' یہاں بھی راست باز لوگوں کے لئے زمین کی دائمی وارثت کا ذکر ہے اور یہ ذکر زیادہ صریح الفاظ میں سورة زمر آیات 74-73 میں ارشاد ہوا ہے۔
Ayahs 21:107–110

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تو تمہیں تمام دنیا جہان کے (لوگوں کے) لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تم (ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے (اس کے سوا کوئی نہیں) ۔ تو (بتلاؤ) تم اس کے فرماں بردار (بندے بنتے) ہو (یا نہیں) ؟

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ روگردانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں نے تمہیں (انکارو سرکشی کے نتائج سے) یکساں طور پر خبردار کردیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور (تاہم وہ ٹلنے والا نہیں) ۔

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

(اللہ کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں، ) وہ بلند آواز سے کہی ہوئی بات کو بھی جانتا ہے اور اس سے بھی واقف ہے جو تم لوگ چھپاتے ہو۔

[63] یعنی نبی ﷺ کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لئے اللہ کی رحمت اور مہربانی ہے کیونکہ آپ نے انھیں وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے اور اس کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ اس کے لئے تباہی کی راہ کون سی ہے اور سلامتی کی راہ کون سی۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور مجھے کیا معلوم، ہوسکتا ہے کہ یہ تاخیر تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک وقت (خاص) تک (تمہیں) فائدہ (پہنچانا ہو) ۔

[64] یعنی تاخیر عذاب میں ممکن ہے تمہیں جانچنا ہو کہ اس مدت میں کچھ سمجھ لو اور سرکشی سے باز آجاؤ۔ یا محض ڈھیل دینا ہو کہ ایک مدت تک دنیا میں پھنس کر شقاوت کا پیمانہ پوری طرح لبریز کرلو۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(آخرکار پیغمبر نے) دعا کی کہ اے میرے رب، تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور (لوگو، ) ہمارا رب نہایت مہربان ہے۔ اسی سے مدد مانگی گئی ہے ان باتوں پر جو تم بناتے ہو۔

[65] یہ اس وقت کہا جب تبلیغ کے سارے مراتب ختم ہوگئے اور اصلاح خاطر نہ ہوئی۔ [66] فیصلے سے مراد ہے عملی فیصلہ جو اندھوں کو بھی نظر آجائے یعنی کافروں کی شکست و تباہی۔