22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 22:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

لوگو، اپنے رب (کے عذاب) سے ڈرو (کیونکہ) قیامت کا زلزلہ بڑی ہی (ہولناک) چیز ہوگی۔

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس روز تم اسے دیکھو گے (اس دن کسی کو کسی کا ہوش نہیں رہے گا یہاں تک کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے (بچے) کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ تمہیں مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی (ایسا) سخت ہوگا (جس کے خوف سے لوگ بدحواس ہو رہے ہوں گے) ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر علم (ودلیل) کے جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں

[1] اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں نہیں بلکہ قیامت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں جیسا کہ بعد کی آیات سے واضح ہے۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

حالانکہ اس (مردود) کی نسبت تو (اللہ کے ہاں) لکھا جا چکا ہے کہ جو کوئی اسے دوست بنائے گا تو وہ ضرور اسے گمراہ کرے گا اور عذاب دوزخ کی راہ دکھائے گا۔

[2] یعنی جو اس کی پیروی کرے گا۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو، اگر تم (دوبارہ) جی اٹھنے کے بارے میں شک میں ہو تو (اس بات پر غور کرو :) ہم نے تمہیں (کس چیز سے) پیدا کیا ( ؟ ) مٹی سے، پھر (تمہاری پیدائش کا سلسلہ کس طرح شروع ہوا ؟ ) نطفے سے۔ پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے (جو) شکل والی (بھی ہوتی ہے) اور بےشکل (بھی ) ۔ (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر (اپنی قدرت کی کار فرمائیاں) ظاہر کردیں۔ پھر (دیکھو، ) ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں (کہ تکمیل تک پہنچائیں) اسے ایک مقررہ میعاد تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ پھر (جب نطفہ رحم میں تکمیل کے تمام مراتب طے کرلیتا ہے تو) تمہیں طفولیت کی حالت میں باہر نکال لاتے ہیں۔ پھر (تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم (بڑے ہو کر) اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی تو (عمر طبعی سے پہلے) مرجاتا ہے اور کوئی بدترین عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے کہ سب جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم زمین کو دیکھتے ہو کہ خشک (پڑی) ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلہانے اور پھلنے پھولنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔

[3] یعنی نسل انسانی کی ابتدا آدم (علیہ السلام) سے ہوئی جو مٹی سے بنائے گئے تھے۔ [4] یعنی منی کی بوند سے۔ [5] یعنی نطفے سے جما ہوا خون اور خون سے گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے جس پر ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کا پورا نقشہ بنادیا جاتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بنانے سے پہلے ناقص صورت میں گر جاتا ہے یعنی اسقاط حمل کی صورت میں۔ [6] چناچہ اس سے ظاہر ہے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ [7] یعنی زیادہ بڑھاپا۔ [8] یعنی اتنا بڑھاپا آجاتا ہے کہ عقل و حواس بجا نہیں رہتے، یاد کی ہوئی چیزیں بھول جاتا ہے اور جانی ہوئی چیزوں کو نہیں جانتا۔
Ayah 22:6

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ (سب کچھ) اس وجہ سے ہے کہ اللہ برحق (کی ہستی ایک حقیقت) ہے اور وہ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

[9] یعنی اللہ کی ہستی ایک حقیقت ہے اور تمہارا یہ گمان محض باطل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ممکن نہیں۔ یہ سارے واقعات جو بیان ہوئے ہیں اللہ کے کمال قدرت وحکمت و صنعت پر دلیل ہیں۔
Ayahs 22:7–11

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور یہ (اس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت آ کر رہے گی، اس میں ذرا شک نہیں اور یہ کہ اللہ (قیامت میں) انھیں اٹھا کھڑا کرے گا جو قبروں میں (جا چکے) ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو علم (کی روشنی) اور رہنمائی اور روشن کتاب کے بغیر (گھمنڈ کرتا ہوا) اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

تاکہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بھٹکا دے۔ ایسے شخص کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے عذاب آتش (کا مزا) چکھائیں گے۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

( اور اس سے کہیں گے کہ) یہ ہے اس کا نتیجہ جو خود تیرے ہاتھوں نے پہلے سے مہیا کر رکھا تھا ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر (ذرا بھی) ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت کنارے پر (کھڑا ہو کر) کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ گیا تو مطمئن ہوگیا اور اگر کوئی آزمائش آ لگی تو منہ پھیر کر (کفر کی طرف) چل دیا۔ اس نے دنیا (بھی) کھوئی اور آخرت (بھی) ۔ یہی ہے صریح خسارہ۔

[10] یعنی اللہ کی بندگی تو کرتا ہے مگر دل کے جماؤ سے نہیں۔ اس کی حالت اس مذبذب آدمی کے مانند ہے جو کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو۔ اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آ ملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے کھسک جائے۔
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

(پھر) وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی ہستی کو (اپنی حاجت روائی کے لئے) پکارتا ہے جو اس کو نہ تو نقصان ہی پہنچا سکتی ہے اور نہ نفع۔ یہ ہے پرلے درجے کی گمراہی۔

[11] یعنی اگر اس کی مرادیں پوری ہوتی رہیں اور کوئی آفت نازل نہ ہو تو وہ اللہ سے راضی اور اس کے دین سے مطمئن۔ لیکن جہاں کوئی آفت آئی یا کسی نقصان سے سابقہ پیش آگیا یا کوئی تمنا پوری ہونے سے رہ گئی تو وہ پھر ہر اس آستانے پر جھکنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے جہاں سے اس کو فائدے کی امید اور مراد بر آنے کی توقع ہو، افسوس کہ آج کل اکثر و بیشتر مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ زندگی کی ذرا سی مصیبت ان کو اللہ کی طرف سے ہٹا کر دوسروں کی چوکھٹ پر گرا دیتی ہے۔
Ayahs 22:13–15

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسے کو پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے قریب تر ہے۔ (پس) کیا ہی برا ہے ایسا کارساز ! اور کیا ہی برا ہے ایسا ساتھی !

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو اللہ ضرور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو ( شخص) یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی کوئی مدد نہ کرے گا تو (اس کے لئے زندگی کی کوئی راہ باقی نہ رہی) اسے چاہئے کہ رسی چھت تک لے جائے (اور وہاں باندھ دے) ، پھر (اس میں گردن لٹکا کر زمین سے رشتہ) کاٹ لے، پھر دیکھے اس کی تدبیر اس چیز کو رد کرسکتی ہے جو اسے ناگوار ہے۔

[12] یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اس کی نسبت فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص نے امید و یقین کی جگہ شک و مایوسی کی راہ اختیار کی اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایسے شخص کے لئے صرف یہی چارہ کار رہ جاتا ہے کہ گلے میں پھندا ڈال کر زندگی ختم کر ڈالے۔
Ayahs 22:16–17

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ایسی ہی کھلی کھلی دلیلوں کے ساتھ ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے (تاکہ اس کے ذریعے سے) اللہ جس کو چاہے ہدایت دے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، قیامت کے دن اللہ ان (سب) کے درمیان (ان کے اختلافات کا) فیصلہ کر دے گا (اور ان کے اعمال کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی) ۔ اللہ (لوگوں کی) سب باتوں کو دیکھ رہا ہے۔

[13] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 49 صفحہ 99۔ [14] یعنی ایران کے آتش پرست جو دو الہٰوں کے قائل تھے ایک یزدان یعنی اِلٰہِ خیر اور دوسرا اہرمن یعنی اِلٰہِ شر۔
Ayahs 22:18–19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان، سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں ؟ اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں کہ (نافرمانی کی وجہ سے) عذاب کے مستحق ہوگئے۔ اور جس کسی کو اللہ ذلیل کرے تو (پھر) کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ (جن کا اوپر ذکر ہوا) دو (فریق) ہیں ایک دوسرے کے مخالف، جو اپنے رب کے بارے میں آپس میں جھگڑتے ہیں۔ تو جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے ان کے لئے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں (جو انھیں دوزخ میں پہنائے جائیں گے اور) ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔

[15] آیت 17 میں جن فرقوں کا ذکر ہوا ان سب کو حق و باطل کے اعتبار سے دو فریق کہہ سکتے ہیں۔ ایک مومنین کا گروہ اور دوسرا کفار کا مجمع جس میں یہود، نصاریٰ ، مشرکین، مجوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دو فریق بحث ومناظرہ میں اور جہاد و قتال میں ایک دوسرے کے مدمقابل رہتے ہیں۔ ان دونوں فریقوں کا انجام آگے بتلایا گیا ہے۔
Ayahs 22:20–24

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس (کی گرمی کی شدت) سے جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اور کھا لیں (سب) گل جائیں گی۔

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے (مارنے کے) لئے لوہے کے گرز ہوں گے۔

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب کبھی وہ گھٹن کے سبب (دوزخ سے) نکلنا چاہیں گے (تو) اس میں پھر دھکیل دیئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) کہ (اب نکلتے کیوں ہو ؟ ) جلنے کے عذاب (کا مزا) چکھو۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ان کو اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہاں انھیں سونے کے کنگن اور موتی (کے ہار) پہنائے جائیں گے اور لباس ان کا ریشمی ہوگا۔

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور (یہ سب انعام انھیں اس لئے ملیں گے کہ دنیا میں) انھیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی کی گئی تھی اور انھیں (اس) اللہ کی راہ بتائی گئی تھی جو سب خوبیوں والا ہے۔

[16] مراد ہے کلمہ طیبہ۔ [17] یعنی اسلام کی راہ۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے اور جو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور مسجد حرام (کی زیارت) سے جسے ہم نے یکساں (بلا امتیاز) تمام لوگوں کے لئے بنایا ہے، مقامی ہوں یا باہر سے آنے والے، (تو انھیں یاد رکھنا چاہئے کہ) انھیں اور ہر اس شخص کو جو اس (مسجد حرام) میں ازراہ ظلم حق سے منحرف ہونا چاہے گا ہم عذاب دردناک (کا مزا) چکھائیں گے۔

[18] یعنی تمام مسلمان، ملکی ہوں یا غیرملکی، مسجد حرام پر یکساں حق رکھتے ہیں۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ وقت یاد کرو) جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کی جگہ بتلا دی تھی (اور حکم دیا تھا) کہ ہمارے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا اور ہمارے (اس) گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) رکھنا۔

[19] یعنی خانہ کعبہ کی۔ [20] خانہ کعبہ کی عمارت اس وقت موجود نہ تھی۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اشارہ غیبی پا کر اس جگہ تعمیر شروع کی جس کا نشان انھیں دکھایا گیا تھا۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج (کے فرض ہونے) کا اعلان کردو تاکہ وہ ہمارے پاس (حج کے لئے دوڑے چلے) آئیں پیادہ بھی اور دبلے دبلے اونٹوں پر بھی جو دور دراز راستوں سے آئے ہونگے،

[21] یعنی اتنے دور دراز مقامات سے بھی کہ چلتے چلتے اونٹ تھک کر دبلے ہوجائیں۔
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ اپنے فائدوں کے لئے (وقت پر) آموجود ہوں اور مقررہ دنوں میں ان مویشی چوپایوں پر (قربانی کرتے وقت) اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں عطا کئے ہیں۔ پس (قربانی کا گوشت) خود بھی کھائیں اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلائیں،

[22] اصل مقصد تو دینی اور اخروی فوائد کی تحصیل ہے، یعنی حج وعمرہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا اور روحانی ترقیات کے بلند مقامات پر فائز ہونا ہے۔ لیکن اس عظیم الشان اجتماع کے ضمن میں بہت سے سیاسی، تمدنی اوراقتصادی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

[23] یعنی احرام اتار دیں، حجامت بنوائیں اور غسل کریں۔ [24] یعنی واجبات حج ادا کریں، مثلاً منیٰ میں کنکریاں پھینکنا، طواف زیارت کرنا۔ [25] یعنی خانہ کعبہ کا۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ تھا (تعمیر کعبہ کا مقصد، ) اور جو کوئی اللہ کی (ٹھہرائی ہوئی) حرمتوں کا احترام کرے گا تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اس کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) ان جانوروں کو چھوڑ کر جن کا حکم (قرآن میں) سنا دیا گیا ہے تمام چارپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں۔ پس بتوں کی ناپاکی سے بچتے رہو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔

[26] یعنی جن جانوروں کا حرام ہونا وقتاً فوقتاً تمہیں سنایا جاتا رہا ہے جیسا کہ سورة انعام میں تفصیلاً گزر چکا۔ [27] جھوٹی بات کے تحت ہر طرح کا جھوٹ آجاتا ہے لیکن دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ شرک ہے۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

(اور) یکسو ہو کر اللہ کے (ہو رہو) ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو (کسی کو) اللہ کا شریک بنائے تو (اس کا حال ایسا ہے کہ) جیسے وہ آسمان سے گرپڑا، پھر (یا تو) اسے پرندے (راہ میں سے) اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے کسی دوردراز جگہ لے جا کر پھینک دے گی۔

[28] مراد یہ ہے کہ شرک کرنے والا اپنی جان کو بدترین ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ یہاں ایمان کو بلندی میں آسمان سے اور شرک کرنے والے کو آسمان سے گرنے والے کے ساتھ اور اس کی خواہشات نفس جو اس کی فکر کو منتشر کرتی ہے پرندوں کے ساتھ اور شیاطین کو جو اسے وادی ضلالت میں پھینکتے ہیں ہوا کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ ہے (حقیت حال) اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو فی الحقیقت یہ دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔

[29] یعنی یہ تعظیم اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے دل میں کچھ نہ کچھ تو اللہ کا خوف ہے جبھی تو وہ اس کے شعائر کا احترام کر رہا ہے۔ شعائر کی تشریح سورة مائدہ حاشیہ 3 صفحہ 276 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

(مسلمانو، ) تمہارے لئے ایک وقت مقررہ تک ان (چوپایوں) سے فوائد (حاصل کرنا جائز ہے) ۔ پھر ان (کی قربانی) کی جگہ اس قدیم گھر کے قریب ہے۔

[30] یعنی ذبح کے وقت تک۔ [31] یعنی وقت ضرورت ان پر سوار ہونے اور وقت حاجت ان کا دودھ پینے کی اجازت ہے۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ قربانی کے جانوروں کو سواری کے لئے استعمال نہ کرنا اور ان کا دودھ نہ پینا چاہئے۔ یہاں اسی غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔
Ayahs 22:34–36

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ (اس امت کے) لوگ (قربانی کرتے وقت) ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں عطا کئے ہیں۔ پس (لوگو، یاد رکھو، ) تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے (اور جب اس کے سوا کوئی معبود نہیں) تو (چاہئے کہ) اسی کے فرماں بردار بنو۔ اور (اے پیغمبر، کامرانی وسعادت کی) خوشخبری دے دو عاجزی کرنے والوں کو

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کے دل لرز اٹھتے ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جو مصیبت بھی ان پر آپڑے اس پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور (دیکھو) قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیاں ٹھہرا دیا ہے۔ تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے، پس (قربانی کرتے وقت) انھیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو اور جب وہ کسی پہلو پر گرپڑیں (اور ٹھنڈے ہوجائیں) تو ان میں سے (خود بھی) کھاؤ اور بےسوالی (فقیر) اور سوالی (محتاج) کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان (جانوروں) کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم (ہمارا) شکر ادا کرو۔

[32] اونٹ کے ذبح کا بہترین طریقہ نحر ہے۔ اس کو قبلہ رخ کھڑا کر کے اس کے سینے پر زخم لگایا جاتا ہے اور جب بہت سارے اونٹ ہوں تو ان کو ذبح کے لئے قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

(یاد رکھو، ) اللہ تک تو نہ ان کے گوشت ہی پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، البتہ اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس نے ان (جانوروں) کو اس طرح تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ جو (دین کا) راستہ اس نے تمہیں دکھایا ہے تو (اس کے) اس (احسان) کے بدلے میں اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور (اے پیغمبر، خلوص دل سے) نیک کام کرنے والوں کو (جنت کی) خوشخبری دے دو ۔

[33] اس آیت میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرمایا۔ یعنی جانور کو ذبح کر کے گوشت کھلانے سے تم اللہ کی رضا کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ نہ یہ گوشت اور خون اس کی بارگاہ تک پہنچتا ہے۔ اس کے ہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور ادب پہنچتا ہے کہ کیسی خوشدلی اور جوش محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کی اجازت سے اس کے نام پر اس کے گھر کے پاس لے جا کر قربان کی۔ گویا اس قربانی کے ذریعے ظاہر کردیا کہ ہم خود بھی تیری راہ میں اسی طرح قربان ہونے کو تیار ہیں۔ یہی وہ تقویٰ ہے جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔
Ayahs 22:38–39

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں یقینا اللہ (ظالموں کے ظلم و تشدد سے) ان کی مدافعت کرتا ہے (اور) اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کسی دغاباز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

(جن مومنوں کے خلاف کافروں کی طرف سے جنگ کی جا رہی ہے اب) انھیں بھی (اس کے جواب میں) جنگ کی اجازت دی جاتی ہے اس واسطے کہ ان پر (سراسر) ظلم کیا گیا ہے اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔

[34] جب تک نبی ﷺ مکہ میں تھے تو حکم تھا کہ کفار کی سختیوں پر مسلمان صبر کریں اور ہاتھ روکے رکھیں چناچہ کامل تیرہ سال تک کفار کا ظلم و تشدد برداشت کرتے رہے۔ جب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور بالاتفاق یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی۔