22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 22:40–41

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

(یہ وہ مظلوم لوگ ہیں) جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دئیے گئے محض اس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے اور (دیکھو، ) اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے (کے ہاتھ) سے نہ ہٹواتا رہتا تو (نصاریٰ کی) خانقاہیں اور گرجے، (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے کبھی کے ڈھائے جا چکے ہوتے۔ اور (یاد رکھو، ) اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ بڑا قوت والا (اور) زبردست ہے۔

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

(یہ مظلوم مسلمان ایسے ہیں کہ) اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، (لوگوں کو) نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

[35] یعنی ایسے لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انھیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو۔ (اقامت صلوٰۃ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 4) ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو۔ ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کارفرماؤں کی خصوصیت کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت فی الواقع کس چیز کا نام ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اس آیت کی روشنی میں آج کسی مسلم ملک میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہے،
Ayahs 22:42–46

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر (یہ کافر) تمہیں جھٹلاتے ہیں تو (کیا ہوا، ) ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور ثمود۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین (سب ہی اپنے اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا۔ سو (پہلے تو) ہم نے کافروں کو ڈھیل دی پھر انھیں پکڑ لیا۔ تو (دیکھ لو) کیسا تھا ہمارا عذاب !

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

غرض کتنی ہی بستیاں ہیں کہ جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا (ان کی حالت یہ تھی کہ) وہ ظلم کرنے والی تھیں۔ وہ (ایسی) اجڑیں کہ (ان کی دیواریں) اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (کتنے ہی) کنوئیں بیکار اور (کتنے ہی) سربفلک محل (کھنڈر بنے ہوئے ہیں) ۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جن سے یہ (انجام کار کو) سمجھتے یا (ان کے) کان ایسے ہوجاتے جن سے یہ (نصیحت کی بات) سنتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں (جو سروں میں ہیں) بلکہ دل اندھے ہوجایا کرتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

[36] ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ، سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں حتیٰ کہ کسی چیز کے '' یاد ہونے '' کو بھی یوں کہتے ہیں کہ وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ اللہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ لیکن تمہارے رب کے ہاں ایک دن تم لوگوں کے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔

[37] کافر عذاب کے لئے جلدی مچاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ مچ کوئی عذاب آنے والا ہے تو وہ کیوں نہ آ چکتا ؟ اس پر فرمایا کہ فطرت کائنات کی اوقات شماری کا وہ حساب نہیں جو دنیا میں لوگوں نے بنا رکھا ہے۔ فطرت کا دائرہ عمل تو اتنا وسیع ہے کہ تمہارے معیار حساب سے ایک ہزار برس اس کے لئے ایک دن کی مدت سے زیادہ نہیں۔ پس انسانی تاریخ میں خدائی فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے کہ آج کسی نے صحیح یا غلط روش اختیار کی اور کل اس کے اچھے یا برے نتائج ظاہر ہوگئے۔ تاریخی نتائج کے لئے مہینے اور سال تو درکنار صدیاں بھی کوئی بڑی چیز نہیں۔
Ayahs 22:48–52

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے (پہلے) ڈھیل دی حالانکہ وہ ظالم تھیں، پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا اور (بالآخر سب کو) ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم کہہ دو کہ لوگو، میں تو تمہیں (انکار و بدعملی کے نتائج سے) صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں (اور بس) ۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو (اس کے صلے میں) ان کے لئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے وہی دوزخی ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی (جسے یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو) کہ جب اس نے (اللہ کی آیتیں) پڑھ کر سنائیں (تو) شیطان نے اس کے پڑھنے (کے بارے) میں (طرح طرح کے شبہات لوگوں کے دلوں میں) ڈال دئیے۔ پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے (شبہات) کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیتوں کو (اور زیادہ) پختہ کردیتا ہے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[38] رسول اور نبی کے فرق کے بارے میں ملاحظہ ہو سورة مریم حاشیہ 20 صفحہ 715۔ [39] اصل میں الفظ تمنّیٰ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں، ایک معنی کسی چیز کی خواہش یا آرزو کے اور دوسرے معنی تلاوت کے ہیں یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ [40] یعنی جب بھی پیغمبر نے کلام الٰہی لوگوں کو سنایا تو شیطان نے اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے۔ مثلاً نبی نے آیت حرم علیکم المیتۃ (تم پر مردار حرام کیا گیا) پڑھ کر سنائی تو شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کیسے ہوا۔ [41] یعنی شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات کو اللہ رفع کردیتا ہے اور ایک آیت سے جو شبہات پیدا ہوتے ہیں انھیں بعد کی واضح تر آیات سے صاف کردیا جاتا ہے۔
Ayahs 22:53–55

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

(اور یہ سب اس لئے ہوتا ہے) تاکہ اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے (شبہات) کو ان لوگوں کے لئے آزمائش (کا ذریعہ) بنا دے جن کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور بلاشبہ (یہ) ظالم مخالفت میں دور (جا پڑے) ہیں۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

(اور اے پیغمبر، یہ سب اس لئے بھی) تاکہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ (جو تم نے پڑھا ہے) تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے (اور بھی) جھک جائیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ اللہ ایمان والوں کو سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) جو منکر ہیں وہ اس (قرآن) کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ قیامت اچانک ان (کے سروں) پر آجائے یا ایک منحوس دن کا عذاب ان پر آ نازل ہو۔

[42] اصل میں لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جس کے معنی بانجھ کے ہیں۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو اور ہر کوشش الٹی پڑے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔
Ayahs 22:56–61

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن بادشاہی صرف اللہ ہی کی ہوگی۔ وہ ان (سب) کے درمیان (ان کے باہمی اختلافات کا) فیصلہ کر دے گا۔ پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے وہ نعمت بھرے باغوں میں ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہوگا۔

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ مارے گئے یا مرگئے تو اللہ ان کو (آخرت میں) ضرور اچھا رزق دے گا اور یقینا اللہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انھیں ایسی جگہ پہنچائے گا جسے وہ (بہت ہی) پسند کریں گے۔ اور یقینا اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) بردباد ہے۔

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ (تو اپنے وقت پر یوں ہی ہو کر رہے گا، ) اور جو شخص (دشمن کو) اسی قدر تکلیف پہنچائے جس قدر (دشمن کی طرف سے) اس کو تکلیف پہنچائی گئی تھی (اور) پھر (دشمن کی طرف سے) اس پر (دوبارہ) زیادتی ہوئی تو اللہ اس (مظلوم) کی مدد ضرور کرے گا۔ بیشک اللہ معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ (مدد) اس لئے (دی جائے گی) کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے اور وہ (سب کچھ) سننے والا اور (خوب) دیکھنے والا ہے۔

[43] یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پلٹ کرنا اور گھٹانا اور بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم شخص یا قوم کو مدد دے کر ظالموں کے پنجے سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ اس ظاہری معنی کے ساتھ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جس طرح اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اسی طرح کفر کی سر زمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔ [44] یعنی مظلوم کی فریاد سنتا ہے اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Ayahs 22:62–63

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ (مدد) اس لئے بھی (ہو گی) کہ اللہ ہی برحق ہے اور جن ہستیوں کو (یہ منکر) اللہ کے سوا (اپنی حاجت براری کے لئے) پکارتے رہتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی عالی شان اور (سب سے) بڑا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

(اے انسان) کیا تو نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے۔ پھر زمین (جو سوکھی پڑی تھی اس کی بدولت) سرسبز ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ (اپنے بندوں پر) مہربان (اور ان کی ضرورتوں سے) آگاہ ہے۔

[45] اسی طرح کفر کی خشک ویران سرزمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا۔
Ayahs 22:64–66

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی بےنیاز اور سب خوبیوں والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

(اے انسان) کیا تو دیکھتا نہیں ہے کہ اللہ نے ان (تمام) چیزوں کو جو زمین میں ہیں تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور کشتی کو بھی کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ اور (وہی) آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے ؟ مگر اس کا حکم (ہو جائے تو گرپڑے) ، بلاشبہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا ہی شفیق (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہیں زندگی دی، پھر تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں جلائے گا (بھی) ۔ کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

[46] یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اللہ کا حق نہیں مانتا اور منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے جھکنے لگتا ہے۔
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ہم نے ہر امت کے لئے (عبادت کا) ایک طور طریقہ ٹھہرا دیا ہے، جس پر وہ چل رہی ہے۔ پس ان لوگوں کو چاہئے کہ (اس) معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائے چلے جاؤ۔ یقینا تم سیدھے راستے پر (گامزن) ہو۔

[47] اس آیت میں اس اصل عظیم کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دین ہمیشہ سے ایک رہا ہے۔ البتہ '' مناسک '' یعنی عبادت کے طور طریقے میں اختلاف ہوا کیونکہ ہر عہد میں اور ہر قوم کی حالت یکساں نہ تھی۔ جس کی جو حالت تھی اس کے مطابق ایک طور طریقہ اسے دے دیا۔ پس طالب حق کو چاہئے کہ سب سے پہلے اصل کو دیکھے نہ کہ فرع کے پیچھے پڑجائے۔ لہذا اس بارے میں لوگوں کو تم سے نزاع کرنے کا حق نہیں۔ جس بات پر انھیں غور کرنا چاہئے وہ تو یہ ہے کہ اصل دعوت کیا ہے۔
Ayahs 22:68–70

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر (اس پر بھی) یہ لوگ تمہارے ساتھ جھگڑا کریں تو (ان سے) کہہ دو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم (دنیا میں) باہم اختلاف کر رہے ہو قیامت کے دن اللہ تمہارے درمیان (ان سب باتوں کا) فیصلہ کر دے گا۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اللہ اس سے (بخوبی) واقف ہے۔ یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ پس یہ (فیصلہ کرنا) اللہ کے نزدیک (بہت) آسان ہے۔

[48] یعنی لوح محفوظ میں۔ [49] یعنی جب حکومت کے ساتھ علم بھی اللہ کا کامل ہے تو اسے فیصلہ صادر کرنے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔
Ayahs 22:71–72

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے لئے نہ تو اس نے کوئی سند نازل کی ہے اور نہ ہی جن کے بارے میں یہ کوئی علم رکھتے ہیں۔ اور (قیامت میں ایسے) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں (جو کہ اپنے مضامین میں) خوب واضح (ہیں) پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم کافروں کے چہروں پر (ابھرتی ہوئی) ناپسندیدگی (دیکھ کر) پہچان لیتے ہو (اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) قریب ہے کہ وہ لوگ ان پر حملہ کر بیٹھیں جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ (اے پیغمبر، تم ان سے) کہو میں بتاؤں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے ؟ (وہ ہے) آگ جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے اور وہ (بہت ہی) برا ٹھکانہ ہے۔

[50] یعنی تمہاری اس ناگواری سے بڑھ کر جو اللہ کی آیات پڑھے جانے پر پیدا ہوتی ہے ایک ناگوار تر چیز اور وہ ہے دوزخ کی آگ جس پر تم کسی طرح صبر نہ کرسکو گے۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے، پس اسے کان لگا کر سنو۔ اللہ کے سوا جن (خود ساختہ معبودوں) کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے (پیدا کرنے کے) لئے (سب کے سب) اکٹھے (ہی کیوں نہ) ہوجائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو اس کو اس سے چھڑا تک نہیں سکتے۔ (تو دیکھو، ) طلبگار بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور۔

[51] یعنی پرستار بھی عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز۔
Ayahs 22:74–75

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں جانی جیسا کہ اس کے جاننے کا حق ہے (ورنہ) واقعہ یہ ہے کہ قوت والا (اور) زبردست تو اللہ ہی ہے۔

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ (اپنے احکام کی ترسیل کے لئے) فرشتوں میں سے (بھی) پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے (بھی) ۔ بلاشبہ اللہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔

[52] لیکن اس برگزیدگی کی وجہ سے انھیں معبود ہونے کا درجہ نہیں مل گیا جیسا کہ ان گمراہوں نے سمجھ رکھا ہے۔
Ayahs 22:76–78

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ لوگوں کے اگلے اور پچھلے (سب) حالات جانتا ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو (اللہ کی جناب میں) رکوع اور سجدے کیا کرو اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا کہ اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں (دنیا کے لوگوں میں سے) انتخاب فرمایا اور دین (کے بارے) میں تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں رکھی۔ (قائم رہو) اپنے باپ ابراہیم کے دین پر۔ اس نے پہلے بھی تمہارا نام '' مسلم '' رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) ، تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم (دوسرے) لوگوں پر گواہ۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑ لو۔ وہی تمہارا کارساز ہے، سو (کیا ہی) اچھا کارساز ہے اور (کیا ہی) اچھا مددگار !۔

[53] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ نبی ﷺ نے جو کچھ انھیں پہنچایا ہے اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں اس سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔ [54] اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید ہے، نبی ﷺ نے قرآن مجید کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ہو حبل اللہ المتین (یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے) قرآن کو اللہ کی رسی اس لئے فرمایا کہ یہی چیز ہے جو بندوں کو اللہ سے جوڑتی ہے جس نے اس کو تھام لیا گویا اس نے اللہ کا سہارا تھام لیا۔