23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقینا (وہ) ایمان لانے والے فلاح پا گئے۔

Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں خشوع رکھنے والے ہیں۔

[1] خشوع کے معنی ہیں کسی کے سامنے خوف وہیبت سے ساکن اور پست ہونا۔ اس کا تعلق دل سے بھی ہے اور جسم کی ظاہر حالت سے بھی۔ اصل خشوع دل کا ہے اور جسم کا خشوع اس کے تابع ہے۔ جب نماز میں دل خاشع و خائف ہوگا تو خیالات ادھر سے ادھر بھٹکتے نہیں پھریں گے، ایک ہی مقصود پر جم جائیں گے۔ پھر خوف وہیبت کے آثار جسم پر بھی ظاہر ہوں گے۔ مثلاً سر جھکانا، نگاہ پست رکھنا، دست بستہ کھڑا ہونا، ادھر ادھر نہ تاکنا، کپڑے یا داڑھی وغیرہ سے نہ کھیلنا وغیرہ۔
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہ جو لغو باتوں کی طرف رخ نہیں کرتے۔

[2] یعنی فضول اور بیکار مشغلوں میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ '' لغو '' ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو فضول، لایعنی اور لاحاصل ہو اور جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
Ayahs 23:4–5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہ جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

[3] یعنی ان کی عادت ہے کہ ہمیشہ زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کبھی دی کبھی نہ دی۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں اور ہاتھ کے مال کے بیشک ان پر کوئی الزام نہیں۔

[4] یعنی لونڈیاں جو جنگ میں گرفتار ہو کر آئیں اور اسیران جنگ کا تبادلہ نہ ہونے کی صورت میں اسلامی حکومت کی طرف سے لوگوں کی ملک میں دے دی جائیں۔
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

لیکن جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو ایسے ہی لوگ حَدِّ (شرع) سے بڑھنے والے ہیں

[5] یعنی جو شخص اپنی منکوحہ عورت یا لونڈی کے سوا کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے وہ حلال کی حد سے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت (Sodomy) ، استمنا بالید (Masterbation) وغیرہ سب صورتیں آگئیں۔ امام احمد بن حنبل استمنا بالید کو جائز قرار دیتے ہیں۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد (وپیمان) کا پاس رکھتے ہیں۔

[6] مراد تمام امانتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ یا معاشرے نے یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو سورة حج آیت 41
Ayahs 23:9–10

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

(تو) ایسے ہی لوگ (آدم کے اصلی) وارث ہیں۔

[7] یعنی نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں ان کی شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اہل ایمان کے صفات حسنہ کا ذکر نماز سے شروع کیا تھا اور اختتام بھی اسی پر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا اللہ کے ہاں کیا درجہ ہے اور یہ کس قدر مہتمم بالشان چیز ہے۔
Ayah 23:11

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوس کی میراث پائیں گے اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔

[8] اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کو رہنے کے لئے بہشت دے دی تھی پھر ان سے ایک قصور سرزد ہوا کہ انہوں نے درخت ممنوعہ کا پھل کھالیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بہشت سے نکال دیا مگر ان کی جائیداد ضبط نہیں کی بلکہ ان کی توبہ و استغفار پر ان کی اولاد سے وعدہ کیا کہ دنیا میں نیک عمل کرو گے تو میراث پدری حاصل کرسکو گے۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا،

[9] مٹی کا خلاصہ یعنی غذا۔ غذائے نباتاتی کا مٹی سے پیدا ہونا تو ظاہر ہے۔ غذائے حیوانی کا آخری ماخذ بھی نباتات کے واسطے سے مٹی ہی ٹھہرتی ہے۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ نطفہ بنا کر رکھا۔

[10] یعنی رحم مادر۔ [11] یعنی منی کی بوند۔
Ayahs 23:14–16

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے نطفے کو خون کا لوتھڑا بنادیا، ہم ہی نے پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر (دیکھو کس طرح) ہم نے اسے ایک دوسری ہی طرح کی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس (کیا ہی) بابرکت (ہستی) ہے اللہ (کی) تمام صنّاعوں سے بہتر (صنّاع) ۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

(لوگو، ) اس (پیدائش) کے بعد تم (سب) کو ضرور مرنا ہے،

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن یقینا تم (سب) اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے۔

[12] آیت 12 کا مطلب یہ ہے کہ نوع انسانی کا آغاز آدم (علیہ السلام) سے کیا گیا جو ایک ایسے جوہر سے بنائے گئے تھے جو مٹی کا خلاصہ تھا۔ پھر آگے نسل انسانی کا سلسلہ توالد و تناسل سے جاری ہوا جیسا کہ سورة سجدہ آیت نمبر 2 میں فرمایا : ثم جعل نسلہ من سلٰلۃ من ماء مھین۔ (پھر ہم نے اس کی نسل نچڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی) چناچہ آیت 14-13 میں ان مدارج کا بیان ہے جن سے رحم مادر میں بچہ گزرتا ہے۔ یہ مدارج چھ ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔ 1:۔ نطفہ جو مرد کا جنسی خلیہ (Sperm) فرج اور رحم سے گزرتا ہوا رحم کی نالی (Fallopian Tube) میں داخل ہوتا ہے اور وہاں عورت کے جنسی خلیہ (Ovum) میں داخل ہو کر اس طرح ٹک جاتا ہے گویا اپنے اصلی مکان میں پہنچ گیا۔ اس حالت کو قرآن نے قرار مکین سے تعبیر کیا ہے جو نہایت چسپاں ہے۔ ان دو جنسوں کے خلیوں سے جو شے وجود میں آتی ہے، وہ ہے (Fertilised Ovum) یعنی مخلوط نطفہ جیسا کہ سورة دھر میں فرمایا '' انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج '' (ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا) یہ حقیقت قرآن کے اعلان سے پہلے دنیا پر منکشف نہ ہوئی تھی۔ قرآن کے اس اعلان کے کئی صدیوں بعد سائنس نے اس حقیقت کو تسلیم کیا اس کا نام استقرار حمل ہے یعنی حمل کا ٹھہر جانا۔ یہ استقرار حمل رحم کی نالی میں واقع ہوتا ہے نہ کہ رحم میں جیسا کہ ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے کیونکہ رحم تو ایک طرح کا مجوف خول ہے اس میں ایک ذرہ تخم کا پڑجانا قرار مکین سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تعبیر کہہ رہی ہے کہ نطفہ کو ٹھیک اپنے نوعیت کے مطابق ایک جگہ مل گئی۔ پس اس سے مقصود رحم کی نالی ہے نہ کہ پورا عضو رحم۔ 2:۔ استقرار کے فوراً بعد نطفہ بڑھنے لگتا ہے اور پانچ سے سات دن کے اندر یہ جنین (embryo) کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جو صرف خوردبین ہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ جنین رحم میں داخل ہو کر رحم کی دیوار سے پیوست ہوجاتا ہے۔ اس تفصیل سے صاف ظاہر ہے کہ رحم کو قرار مکین قرار دینا درست نہیں۔ کیونکہ قرآن نے قرار مکین کے الفاظ نطفہ کے لئے استعمال کئے ہیں نہ کہ جنین کے لئے۔ حمل کے تیسرے ہفتے ہی میں جنین دوگنی طوالت اختیار کرلیتا ہے۔ قرآن نے اس کو علقہ یعنی جونک سے تعبیر کیا ہے۔ 3:۔ جب یہ علقہ اور بڑھتا ہے تو اس میں گوشت کی صلابت (سختی) پیدا ہوجاتی ہے۔ قرآن نے اس کو '' مضغہ '' سے تعبیر کیا ہے۔ 4:۔ اس حالت میں ریڑھ کی ہڈی کا ڈھانچہ مضغہ میں نشوونما پاتا ہے۔ قرآن نے اس کو (فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا 14؀ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) سے تعبیر کیا ہے۔ 5:۔ اس حالت میں ہڈیوں اور گوشت پوست سے مل کر ایک حیوانی صورت وجود میں آتی ہے۔ قرآن نے اس حالت کو (فكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا 14؀ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن اب جو صورت بنتی ہے، وہ انسان کی نہیں بلکہ عام حیوانات لبونہ (Mammals) کی مشترکہ صورت ہوتی ہے۔ یعنی انسان کا جنین ایسا ہوجاتا ہے جیسا گھوڑے، بیل، کتے اور دوسرے شیرخوار جانوروں کا ہوتا ہے۔ 6:۔ نقاش قدرت کی دستکاری اب جنین میں ایک عظیم انقلاب برپا کرتی ہے اور انسانی جسم و صورت کی خصوصیات یکایک ابھرنے لگتی ہیں حتیٰ کہ ایک بالکل نئی قسم کا تناسب و اعتدال ظہور میں آتا ہے اور شکل انسانی اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ وجود میں آجاتی ہے۔ اس آخری حالت کو قرآن نے '' خلقا اخر '' سے تعبیر کیا ہے۔ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14؀ۭ ) 23 ۔ المؤمنون :14) یہ آخری دور سب سے بڑا دور ہے یعنی ابتداء کے دو مہینے چھوڑ کر باقی تمام ایام حمل اسی دور میں بسر ہوتے ہیں۔ کتنی حیرت انگیز ہے یہ حقیقت کہ آج سے چودہ سو سال پہلے جبکہ علم الجنین (embryology) نہایت ناقص حالت میں تھا، قرآن نے اس مدارج ستہّ کا اعلان کیا جو جدید علم الجنین کی تحقیق کے ٹھیک ٹھیک مطابق ہیں اور یہ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔ ( تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ۭ ) 32 ۔ السجدة :2) (اس کتاب کا اتارا جانا بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے)
Ayahs 23:17–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ ہماری کارفرمائی ہے کہ) ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنا دئیے اور تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے۔

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے (ایک خاص) اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا پھر اسے (حسب ضرورت) زمین میں ٹھہرائے رکھا اور ہم اس (پانی) کے (اڑا) لے جانے پر (بھی) قادر ہیں۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس (پانی) کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کر دئیے۔ تمہارے لئے ان (باغوں) میں بہت سے پھل (پیدا ہوتے) ہیں اور ان سے تم کھاتے ہو۔

[13] غالباً اس سے مراد سات سیاروں کی گردش کے راستے ہیں۔ اور کیونکہ اس زمانے کا انسان سات سیاروں ہی سے واقف تھا اس لئے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے راستے نہیں ہیں۔ [14] یعنی ہم نے ہر چیز پورے انتظام اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائی۔
Ayahs 23:20–22

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور (ہم ہی نے وہ) درخت بھی (پیدا کیا) جو طورسینا سے نکلتا ہے، تیل (بھی) لئے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لئے سالن (بھی) ۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور (لوگو، ) تمہارے لئے مویشیوں میں بھی عبرت (کا مقام) ہے کہ جو (اَلابلا) ان کے پیٹوں میں (بھری) ہے اس میں سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور (دودھ کے علاوہ) تمہارے لئے ان (چوپایوں) میں (اور بھی) بہت سے فائدے ہیں۔ ان میں سے (بعض کو) تم کھاتے۔ (بھی) ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور (خشکی میں) ان پر اور (سمندر میں) کشتیوں پر سوار (بھی) ہوتے ہو۔

[15] مراد ہے زیتون کا درخت جس سے روغن نکلتا ہے جو بطور دوا بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت سے ملکوں کے لوگ سالن کی جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔ زیتون خاص پیداوار ہے فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نما سینا کی۔ طورسینا کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں مقام طورسینا ہے اس درخت کا اصلی وطن ہے۔
Ayahs 23:23–26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف (ہدایت کے لئے) بھیجا تھا۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو) ، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم (انکاروبدعملی کے نتائج سے) ڈرتے نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا (یہ سن کر لوگوں سے) کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تم ہی جیسا ایک آدمی۔ اس کی غرض یہ ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے۔ اور اگر اللہ کو (پیغمبر ہی بھیجنا) منظور ہوتا تو فرشتوں کو اتارتا۔ ہم نے تو ایسی بات اپنے اگلے باپ دادوں (کے وقتوں) میں (ہوتی) سنی نہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

بس یہ ایک آدمی ہے جس کو جنون ہوگیا ہے، پس (اس کی باتوں پر کان نہ دھرو اور) کچھ مدت انتظار کرو (شاید افاقہ ہوجائے)

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

(یہ سن کر نوح نے) دعا مانگی کہ اے میرے رب، جیسا ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا ہے اس پر اب تو ہی میری مدد کر۔

[16] نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة اعراف آیت 59 تا 764 صفحہ 346، 348 میں اور سورة ہود آیت 25 تا 48 صفحہ 496، 498، 500، 502 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 23:27–28

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

اس پر ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آجائے اور تنور (سے پانی) ابلنے لگے تو (اس وقت) ہر قسم (کے جانوروں) کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے اہل و عیال کو (بھی) سوائے ان لوگوں کے جن کے لئے پہلے بات کہی جا چکی ہے۔ اور (دیکھو، ) جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں ہم سے کچھ عرض معروض نہ کرنا (کیونکہ) وہ غرق ہونے والے ہیں۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی پر سوار ہوجائیں تو کہنا، شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔

[17] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 23 صفحہ 520۔
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور کہنا، اے میرے رب، مجھ کو (زمین پر) برکت کا اتارنا اتاریو اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔

[18] یہاں اتارنے سے مراد میزبانی ہے۔ نوح (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ اے اللہ یہ زمین تیری ہے اور ہم جو اتریں گے تو تیرے ہی مہمان ہوں گے اور تو میزبان۔ تو ہماری مہمانی اچھی طرح کرنا یعنی فراغت سے کھانے پینے کو دینا۔ یوں تو اور لوگ بھی میزبانی کرتے ہیں مگر تو ان سب سے بہترین حق میزبانی ادا کرنے والا یعنی روزی دینے والا ہے۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ اس (قصے) میں (ہماری قدرت کی بہت سی) نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں۔

[19] کہ کون ان نشانیوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔