23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 23:31–42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

ان کے بعد پھر ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی۔

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ہم نے انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا (جس کی دعوت یہ تھی کہ لوگو) اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم (انکار و بدعملی کے نتائج سے) ڈرتے نہیں ؟

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تھا اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودگی (بھی) دی تھی وہ (لوگوں سے) کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تم ہی جیسا ایک آدمی۔ جو کچھ تم کھاتے ہو یہ بھی کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی اطاعت کرلی تو (سمجھ لو کہ) تم گھاٹے میں رہے۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا (یہ شخص) تم سے کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور (مر کر) مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ کر کے زمین سے) نکالے جاؤ گے ؟

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

(عقل سے) دور (اور قیاس سے) بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے۔

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

(بھلا دوبارہ زندہ ہونا کیسا، ) زندگی تو بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں ہم جیتے ہیں اور ہم کو ہرگز (پھر جی کر) اٹھنا نہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو بس ایک انسان ہے جس نے اللہ پر جھوٹ گھڑ لیا ہے اور ہم تو ہرگز اس کی ماننے والے نہیں۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

(لوگوں کا انکار دیکھ کر) رسول نے دعا کی، '' اے میرے رب، ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر (اب تو ہی) میری مدد فرما ''۔

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

ارشاد ہوا، '' عنقریب یہ لوگ (اپنے کئے پر) پچھتائیں گے۔ ''

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

چناچہ (ہمارے وعدہ بر) حق کے مطابق ایک چنگھاڑ نے انھیں آلیا اور ہم نے ان کو خس و خاشاک (کی طرح پامال) کردیا۔ تو (اللہ کی) پھٹکار ہو ظالم قوم پر !۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کیا۔

[20] غالباً اس سے مراد قوم عاد ہے۔
Ayahs 23:43–44

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی قوم اپنے وقت (مقرر) سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم پے در پے پیغمبر بھیجتے رہے۔ جب کسی قوم کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا، تو ہم نے بھی (ہلاک کرنے میں) ایک کے بعد دوسرے کا نمبر لگا دیا اور ان کو داستان (پارینہ) بنا کر رکھ دیا۔ پس پھٹکار ہو ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے !۔

[21] یعنی ہر قوم جس نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی تھی اپنے مقررہ وقت پر ہلاک کی جاتی رہی۔ نہ اس سے ذرا پہلے نہ اس سے ذرا پیچھے۔
Ayahs 23:45–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس لیکن ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی سرکش۔

[22] یعنی معجزہ صریحہ کہ دلیل نبوت ہے۔
Ayahs 23:47–49

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

چناچہ وہ لگے کہنے کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور (آدمی بھی وہ) جن کی قوم ہماری خدمتگار ہے ؟

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

غرض انہوں نے (موسی و ہارون) دونوں کو جھٹلا دیا تو (انجام یہ ہوا کہ) وہ ہلاک ہونے والوں میں (شامل) ہوگئے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور تحقیق (اس واقعے کے بعد) ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) عطا فرمائی تاکہ لوگ (اس سے) ہدایت پائیں۔

[23] یعنی بنی اسرائیل۔
Ayahs 23:50–51

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور (اسی طرح) ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو (اپنی قدرت کی) نشانی بنایا اور ان کو ایک مرتفع (بلند) مقام میں پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھا۔

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

(ہم تو اپنے تمام پیغمبروں سے یہی ارشاد کرتے رہے ہیں کہ) اے پیغمبرو، پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ تم جو کچھ کرتے ہو ہم اس سے خوب واقف ہیں۔

[24] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو۔ [25] نشانی یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو باپ کے بلا توسط پیدا کردیا۔ [26] اسرائیلی سلسلہ کے انبیاء کا ذکر یہاں صرف دو بڑے پیغمبروں پر ختم کردیا۔ ایک وہ جو اس امت کے لئے کتاب احکام و دستور شریعت لے کر آیا، دوسرا وہ جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔
Ayahs 23:52–53

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری امت (دین کے اعتبار سے) ایک ہی امت ہے اور ہم ہی تمہارے رب ہیں پس ہم سے ڈرتے رہو۔

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

(ان تمام پیغمبروں کے ذریعے جو تعلیم دی گئی وہ یہی تعلیم تھی) لیکن (بعد میں) لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ جس گروہ کے پاس جو کچھ ہے اس میں وہ مگن ہے۔

[27] یعنی میرے احکام کی مخالفت نہ کرو۔ اللہ سے ڈرنے کے معنی بس اس قدر ہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت پر جرأتِ اقدام باقی نہ رہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ (نعوذباللّٰہ) اسے ہّوا بنا کر اس طرح ڈرایا جائے جس طرح کسی جابر حاکم یا موذی دشمن سے ڈرایا جاتا ہے۔ اللہ تو محبت و محبوبیت کی چیز ہے دہشت و وحشت کی نہیں۔
Ayahs 23:54–55

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) تم چھوڑ دو ان (لوگوں) کو، اپنی غفلت (وسرشاری) میں ایک (مقررہ) وقت تک (ڈوبے رہیں) ۔

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو مال اور اولاد سے ان کی مدد کئے چلے جا رہے ہیں

[28] یعنی وقت موت تک۔
Ayahs 23:56–62

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(تو اس کے یہ معنی ہیں کہ) ان کو بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں ؟ (نہیں، حقیقت حال دوسری ہی ہے) مگر یہ لوگ (اصل معاملے کا) شعور نہیں رکھتے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

جو اپنے رب کے ساتھ (کسی کو) شریک نہیں کرتے۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور (اس کی راہ میں) جو کچھ دے سکتے ہیں (بلاتامّل) دیتے ہیں اور (پھر بھی) ان کے دل (اس خیال سے) خوف زدہ رہتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کے پاس واپس جانا ہے۔

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

تو بلاشبہ یہی لوگ (ہیں جو) بھلائیوں کے لئے تیزگام ہیں اور ان میں (سب سے) آگے نکل جانے والے ہیں۔

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم کسی شخص کی طاقت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے اور ہمارے پاس (لوگوں کی حالت و استعداد کے لئے) نوشتہ ہے جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتاتا ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو۔

[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ سمجھ لینا کہ یہاں کا عیش و آرام اور اس کے پانے والے کے برحق، صالح اور اللہ کا محبوب ہونے کا ثبوت ہے اور تکلیف و آلام میں زندگی بسر کرنے والا غیرصالح اور مغضوب بارگاہ الٰہی ہے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی بلکہ حماقت ہے۔ مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نحل حاشیہ 34 صفحہ 632۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

لیکن (اصل بات تو یہ ہے کہ) ان (لوگوں) کے دل اس (حقیقت) کی طرف سے غفلت (وسرشاری) میں پڑگئے ہیں اور اس کے علاوہ ان لوگوں کے اور بھی اعمال (بد) ہیں جن کے یہ مرتکب ہوتے رہتے ہیں

[30] جس طرح مومنین کا سرمایہ علاوہ ان کے ایمان کے اعمال حسنہ ہیں اسی طرح کافر علاوہ کفر کے طرح طرح کے اعمال بد میں مبتلا رہتے ہیں۔
Ayahs 23:64–70

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

(اور یہ ان اعمال سے باز آنے والے نہیں) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو وہ فوراً بلبلا اٹھیں گے۔

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

(اس وقت ہم ان سے کہیں گے کہ) اب بلبلاؤ مت، تم کو ہمارے ہاں سے (کسی طرح کی) مدد ملنے والی نہیں۔

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

البتہ (ایک وقت تھا کہ) ہماری آیتیں تمہیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم (ہمارے پیغمبر کی آواز سنتے ہی) الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے تھے،

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

اپنے گھمنڈ میں (اس کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور اپنی مجلسوں میں) اس پر باتیں چھانٹتے (اور) بیہودہ بکواس کیا کرتے تھے۔

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا، یا (ان کے بدکنے کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے پاس (کوئی عجیب) بات آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ کہ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اس لئے اس (کی رسالت) کے منکر ہوگئے ؟

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ کہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے ؟ نہیں، بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) رسول ان کے پاس حق بات لے کر آیا ہے اور حق ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔

[31] اصل میں لفظ '' مترفین '' استعمال کیا گیا ہے۔ مترفین ان لوگوں کو کہتے ہیں جو مال و دولت پا کر عیش کر رہے ہوں اور اللہ کی مخلوق کے حقوق سے غافل ہوں۔ [32] عذاب سے مراد یہاں آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے۔ چناچہ اس عذاب کا ایک نمونہ کفار کو بدر میں دکھایا گیا جہاں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے یا قید ہوگئے اور عورتیں مہینوں تک ان کا نوحہ کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کے مظالم سے تنگ کر آ کر بددعا فرمائی تو سات سال کا قحط مسلط ہوا اور مردار، ہڈیاں اور چمڑے کھانے کی نوبت آگئی۔