23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 23:71–74

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (ایسا ہوتا کہ) حق ان کی خواہشوں کا تابع ہوجاتا تو یقینا آسمانوں اور زمین اور وہ سب جو کچھ ان میں ہے (ان سب کا انتظام کبھی کا) درہم برہم ہوگیا ہوتا۔ نہیں، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہم نے ان کو ان ہی کے حالات لا کر سنائے ہیں۔ اب یہ اپنے ہی ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا (یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ) تم ان سے (تبلیغ رسالت کی) اجرت مانگتے ہو ؟ تو تمہارے رب کا دیا (ان کی اجرتوں سے کہیں) بہتر ہے اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہی (سیدھے) راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔

[33] قاعدے کی بات ہے کہ آدمی اپنا عیب سن کر خوش نہیں ہوتا اور حق بات اکثر لوگوں کو تلخ لگتی ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نے کفار مکہ کو ان کے عیوب ان پر ظاہر کر کے ان کی اصلاح کی کوشش کی تو جو لوگ بہت خودپسند اور مغرور تھے ان کو الٹی ضد پیدا ہوئی۔ اس آیت میں یہی الزام دیا گیا ہے۔
Ayahs 23:75–79

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان (کے حال) پر رحم فرمائیں اور جو مصیبت ان پر پڑی ہے اسے دور بھی کردیں تو یہ (ایسے بدنفس ہیں کہ) اپنی سرکشی پر اڑے رہیں اور (راہ راست سے) بھٹکے بھٹکے (پھریں) ۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور البتہ (ان کا حال تو یہ ہے کہ) ہم نے انھیں مبتلائے عذاب (بھی) کیا پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی۔

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

(پھر جب نوبت) یہاں تک (پہنچ جائے) کہ ہم ان پر ایک بڑے ہی سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تو (اس وقت تم دیکھو گے کہ) یہ حسرت زدہ رہ جائیں گے۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے (سننے کے) لئے کان، (دیکھنے کے لئے) آنکھیں اور (سوچنے کے لئے) دل دئیے ہیں مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (ہر طرف) پھیلا رکھا ہے اور (قیامت کے دن) تم (سب) کو اکٹھا کر کے اس کے حضور میں لایا جائے گا۔

[34] اس سے مراد وہ سات سالہ قحط ہے جو حضور اکرم ﷺ کی بددعا سے اہل مکہ پر نازل کیا گیا تھا۔
Ayahs 23:80–84

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اور گردش لیل و نہار بھی اسی کی (کارفرمائی) ہے تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

مگر (یہ لوگ) ویسی ہی بات کہتے ہیں جیسی (ان کے) پیش رو کہہ چکے ہیں۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

(یعنی) کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور (مر کر) مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

ہم سے اور (ہم سے) پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی اس کا وعدہ ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ کچھ نہیں محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو، (اچھا) اگر تمہیں خبر ہے تو بتلاؤ کہ زمین اور (وہ تمام مخلوقات) جو اس میں ہیں کس کی ہیں ؟

[35] مطلب یہ ہے کہ جب ساری قوتوں کا مرجع و منبع وہی ایک ذات ہے تو اس کے قبضہ قدرت کے سامنے کیا مشکل ہے کہ تم کو دوبارہ زندہ کر دے۔ واضح رہے کہ یہاں اور اگلی آیات میں توحید اور بعث بعد الموت دونوں پر ایک ساتھ استدلال کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 23:85–88

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

یہ فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی۔ (ان سے) کہو کہ پھر تم کیوں غور نہیں کرتے ؟

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو، (اچھا یہ بتلاؤ کہ) سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

وہ فوراً (یہی) جواب دیں گے کہ (یہ سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ تم کہو، پھر (تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ شرک و انکار کے نتیجے سے) ڈرتے نہیں ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو، اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ کہ) وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ (جس کو چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

[36] یعنی کیوں یہ بات نہیں سمجھتے کہ جس کا قبضہ ساری زمین اور اس کی مخلوقات پر ہے اس کے سوا بندگی کا کوئی اور مستحق نہیں اور اس کے لئے زمین کی اس آبادی کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

یہ فوراً (یہی) جواب دیں گے کہ (یہ سب صفتیں تو) اللہ ہی کی ہیں۔ تم کہو کہ پھر کہاں سے تمہیں دھوکہ لگتا ہے ؟

[37] یعنی کسی شیطانی دھوکے میں ہو کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو۔ مقدمات توحید تو تمہیں سب تسلیم ہیں مگر ان کے قدرتی اور لازمی نتیجے سے نکلے جاتے ہو۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بلکہ حق بات یہ ہے کہ ہم نے سچی بات ان کو پہنچا دی ہے اور یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔

[38] یعنی دلائل و شواہد سے ظاہر کردیا گیا ہے کہ جو کچھ ان سے کہا جا رہا ہے لفظ بہ لفظ صحیح اور حق ہے اور یہ لوگ محض جھوٹے خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔
Ayahs 23:91–93

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ پاک ہے اللہ (کی ذات) ان باتوں سے جو یہ (لوگ اس کی نسبت) بیان کرتے ہیں۔

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

غائب اور حاضر (سب) کا جاننے والا، وہ ان لوگوں کے شرک سے (بری اور) بالاتر ہے۔

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم تو یہ) دعا کرو کہ اے میرے رب، جس (عذاب) کا وعدہ ان (کافروں) سے کیا جا رہا ہے اگر تو مجھے دکھا دے

[39] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انبیاء حاشیہ 13 صفحہ 761۔ سورة بنی اسرائیل آیت 42 صفحہ 648
Ayahs 23:94–99

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے میرے رب، مجھے (ان) ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجئے

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ جس (عذاب) کا وعدہ ہم ان (کافروں) سے کر رہے ہیں (تمہاری زندگی میں ان پر نازل کر کے) تمہیں دکھا دیں۔

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

(اے پیغمبر، اگر تمہارے ساتھ کوئی برائی کرے تو) برائی کو ایسے طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ (یہ لوگ تمہاری نسبت) کہا کرتے ہیں۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور تم (یہ بھی) دعا کرو کہ اے میرے رب، میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے رب، میں اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آئیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ کافر اپنی بکواس سے باز آنے والے نہیں) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی (کے سر) پر موت آ کھڑی ہوگی اس وقت وہ کہنے لگے گا کہ اے رب، مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے۔

[40] یہ تعلیم ہے دعا و آداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ جب ظالموں پر عذاب آئے تو الٰہی مجھے اس سے محفوظ رکھنا۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ وہاں (جاکر) نیک عمل کروں جو میں چھوڑ آیا ہوں (ارشاد ہوگا، ) ہرگز نہیں، یہ ایک (انہونی) بات ہے جو وہ بک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے آگے ایک برزخ حائل ہے (دوبارہ) اٹھائے جانے کے دن تک۔

[41] مرنے کے بعد سے قیامت تک روحیں جس حالت میں رہتی ہیں اس کا نام برزخ ہے۔ اصل میں برزخ کے معنی آڑ کے ہیں اور اسی واسطے اس حالت کو برزخ کہا جو موت سے لے کر قیامت تک رہے گی۔ گویا کہ برزخ اس دنیا کی زندگی اور قیامت میں ایک حد فاصل ہے۔