23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 23:101–113

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ تو لوگوں کے درمیان رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کی بات پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر جن لوگوں (کے نیک عملوں) کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ فلاح پائیں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن (کے نیک عملوں) کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ وہ ہمیشہ (ہمیشہ) جہنم میں رہیں گے۔

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ (کی لپٹ) ان کے چہروں کو جھلستی ہوگی اور وہ اس میں بدشکل ہو رہے ہوں گے۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

(ہم ان سے پوچھیں گے، ) کیا (ایسا نہیں ہوا کہ دنیا میں) ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ان کو جھٹلاتے تھے ؟

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب، ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی اور بیشک ہم گمراہ لوگ تھے۔

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ہمیں (کسی طرح) اس (دوزخ) سے نکال۔ پھر اگر ہم دوبارہ (ایسا قصور) کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گے۔

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

( اللہ) فرمائے گا، پڑے رہو، اسی (دوزخ) میں راندے ہوئے اور ہم سے بات نہ کرو۔

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ہمارے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو کہتا تھا کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر (رحم کرنے والا) ہے۔

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

لیکن تم نے ان کا مذاق بنا لیا تھا یہاں تک کہ اس (مشغلہ) نے تم کو ہماری یاد (بھی) بھلا دی تھی اور تم ان پر ہنسا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج ہم نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ (یہ) دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں۔

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(پھر ان سے) پوچھا جائے گا کہ (بھلا) تم زمین میں کتنے برس رہے (ہوگے) ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم (بہت) رہے (ہوں گے تو) ایک دن یا ایک دن سے بھی کم۔ (ٹھیک وقت ہمیں یاد نہیں۔ ) بس گننے والوں سے پوچھ لو۔

[42] یہاں دوسری مرتبہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ صور کی تشریح کے لئے سورة طہ حاشیہ 45 میں گزرچکی ہے۔ [43] یعنی اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ ہر طرف نفسی نفسی پڑی ہوگی۔
Ayahs 23:114–118

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(پھر ان سے) کہا جائے گا کہ بیشک تم (روئے زمین پر) تھوڑی ہی دیر رہے۔ کاش تم (یہ بات) جانتے ہوتے۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں (یوں ہی) بیکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تمہیں ہماری طرف لوٹ کر آنا نہیں ہے ؟

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس بالاوبرتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش بزرگ کا مالک (ہے) ۔

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے سوا کسی اور معبود کو (حاجت روائی کے لئے) پکارتا ہے جس کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کے رب کے پاس اس کا حساب ہونا ہے (جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ) ایسے کافر یقینا فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم دعا کرو کہ اے رب، (ہمیں) بخش دے اور (ہمارے حال پر) رحم فرما، تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

[44] یعنی واقعی دنیا کی عمر تھوڑی ہی تھی لیکن اس بات کو پیغمبروں کے کہنے سے دنیا میں سمجھ لیتے تو کبھی اس متاع فانی پر مغرور ہو کر انجام سے غافل نہ ہوتے اور وہ گستاخیاں اور شرارتیں نہ کرتے جن کا دنیا کی فانی لذتوں میں پڑ کر ارتکاب کیا۔