24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

(یہ ایک) سورت ہے جس کو ہم (ہی) نے نازل کیا ہے اور ہم (ہی) نے اس (کے احکام) کو فرض کیا ہے اور ہم ہی نے اس (سورت) میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم (ان کو) یاد رکھو (اور ان پر عمل کرو) ۔

Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

زانیہ عورت اور زانی مرد، سو (دونوں کے لئے حکم یہ ہے کہ) ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں اللہ کے دین (کے معاملے) میں ان (کے حال) پر ترس (ذرا بھی) دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود رہے۔

[1] یہ سزا اس زانی اور زانیہ کے لئے ہے جو آزاد، عاقل اور غیرشادی شدہ ہوں یا نکاح کے بعد ہم بستری نہ کرچکے ہوں۔ باقی جو آزاد نہیں ان کی سزا اس کی نصف یعنی پچاس کوڑے ہیں جیسا کہ سورة نساء کی آیت 25 سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز مار ایسی ہونی چاہئے جس کا اثر جلد تک رہے گوشت تک نہ پہنچے۔ اس کے متعلق اشارہ خود قرآن کے لفظ فاجلدوا میں ملتا ہے۔ آزاد، عاقل، بالغ اور شادی شدہ مرد و عورت کے لئے زنا کی سزا رجم یا سنگسار کرنا ہے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ یہ سزا سنت رسول سے، تعامل صحابہ کرام سے اور مجہتدین امت کے اجماع سے متفقہ طور پر ثابت ہے۔ ثبوت زنا یا تو چار عینی شاہدوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زنا کرنے والا خود اقرار کرلے۔ [2] یعنی یہ سزا برسرعام دی جائے تاکہ مجرم کو فضیحت اور لوگوں کو عبرت و نصیحت ہو۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرک عورت کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ (کوئی) نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک، اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر۔

[3] یعنی بدکار مرد کے لئے موزوں ہے تو بدکار یا مشرک عورت۔ اسی طرح بدکار عورت کے لئے بدکار یا مشرک مرد موزوں ہے۔ چناچہ اس سورت کی آیت 62 میں فرمایا '' خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ''۔ [4] یعنی مومنوں کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ جانتے بوجھتے اپنی لڑکیوں کا نکاح بدکار یا مشرک مردوں سے کریں۔ اسی طرح ان پر یہ بھی حرام ہے کہ وہ دانستہ ایسی عورت سے نکاح کریں جو زانیہ یا مشرکہ ہوں۔ لیکن جو عورت یا مرد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے تو اس کے ساتھ نکاح درست ہے۔
Ayah 24:4

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں (اور) پھر (اپنے دعوے پر) چار گواہ نہ لاسکیں تو ان کو اسی کوڑے مارو اور (آئندہ) کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔

[5] شریعت کی اصلاح میں اس قسم کی تہمت تراشی کو '' قذف '' کہا گیا ہے۔ [6] یہی حکم پاک دامن مردوں پر بھی زنا کی تہمت لگانے کا ہے۔
Ayahs 24:5–6

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

لیکن جو اس (حرکت) کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی) حالت کی اصلاح کرلیں تو اللہ غفورُ رَّحیم ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (زنا کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (ہی دعوے کے) اور کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے ہر ایک کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بلاشک و شبہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے۔

[7] اگرچہ توبہ اور اصلاح حال کے بعد ایسے لوگوں کا اللہ کے نافرمان بندوں میں شمار نہ رہے گا لیکن توبہ سے سزا کی حد ساقط نہ ہوگی۔ البتہ ان کی شہادت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص کی شہادت توبہ کے بعد بھی قابل قبول نہیں لیکن امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اس کی شہادت کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔
Ayahs 24:7–8

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور (مرد کے اس حلف کے بعد) عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے۔

[8] اس حلفی بیان کا نام شریعت کی اصلاح میں '' لعان '' ہے اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے، الزام بدکاری کے ثبوت کے لئے تو قاعدہ وہی یعنی چار گواہوں کی شہادت ہے لیکن اگر شوہر چار گواہ پیش نہ کرسکے تو خود اس کی پانچ مرتبہ کی حلفی شہادت قائم مقام چار گواہوں کے سمجھی جائے گی اور بیوی پر حد زنا جاری کردی جائے گی۔
Ayahs 24:9–10

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں (مرتبہ) یہ (کہے) کہ مجھ پر اللہ کا غضب (ٹوٹے) اگر یہ شخص سچاہو۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اگر تم پر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) حکمت والا ہے (تو تم بڑی مصیبت میں پڑجاتے) ۔

[9] یعنی عورت بھی اگر اس طرح پانچ مرتبہ شہادت شوہر کی تکذیب میں دے تو زنا کی سزا سے تو بچ جائے گی لیکن اس مرد پر حرام ہوجائے گی اور قاضی ان کے درمیان تفریق کرا دے گا۔
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جو لوگ یہ بہتان (گھڑ کر) لائے ہیں تم ہی میں کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس (واقعے) کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ (بہ اعتبار انجام کے) یہ تمہارے حق میں بہتر (ہی بہتر) ہے۔ ان میں سے ہر شخص کو جتنا کچھ اس نے کیا تھا گناہ ہوا اور جس شخص نے اس (واقعے) میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے تو بڑا (سخت) عذاب ہے۔

[10] یہاں سے اس واقعے کا ذکر ہے جس میں مدینہ کے منافقین نے سیّدہ عائشہ ؓ پر زنا کا الزام لگایا تھا اور اس کا اتنا چرچا کیا تھا کہ بعض بھولے بھالے مسلمان بھی متاثر ہوگئے تھے۔ اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ [11] یہ خطاب ان مسلمانوں کی تسلی کے لئے ہے جنہیں اس واقعے سے صدمہ پہنچا تھا بالخصوص سیّدہ عائشہ ؓ اور ان کا گھرانہ۔ کیا یہ شرف تھوڑا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں سیّدہ عائشہ ؓ کی برأت اتاری اور دشمنوں کو رسوا کیا اور قیامت تک کے لئے سیّدہ عائشہ ؓ کا ذکر خیر قرآن پڑھنے والوں کی زبان پر جاری کردیا۔ پھر اس واقعے میں خیر کا پہلو یہ بھی تھا کہ یہ واقعہ اسلام کے تمدنی قوانین میں بڑے اہم اضافوں کا سبب بن گیا جن کا ذکر آگے اس سورت میں آ رہا ہے۔ [12] یعنی جتنا کسی نے اس فتنے میں حصہ لیا تھا اتنا ہی اس نے گناہ سمیٹا اور سزا کا مستحق ہوا۔ کسی نے فتنہ اٹھانے والے کی زبانی موافقت کی، کوئی سن کر ہنس دیا، کوئی خاموش رہا۔ غرض جس نے جو کیا اس کا بدلہ پائے گا۔ [13] مراد اس سے عبداللہ بن ابی، رئیس المنافقین ہے جو فتنے کا اصل بانی تھا۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے یہ (افواہ) سنی تھی تو کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنوں کے حق میں نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے ؟۔

[14] یعنی ایک صحابی رسول اور ایک زوج رسول کے حق میں۔ آیت کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے کیوں نہ خیال کیا کہ اگر اس کو اس صورت حال سے سابقہ پیش آتا جو سیَّدہ عائشہ ؓ کو پیش آئی تھی تو کیا وہ زنا کا مرتکب ہوجاتا ؟
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

(اور جن لوگوں نے یہ بہتان تراشا تھا) وہ کیوں نہ لائے اس (بات) پر چار گواہ ؟ پھر جب گواہ نہ لاسکے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

[15] کیونکہ قرائن (Circumstantialevidence) جن پر ظالموں نے الزام کی بنیاد رکھی تھی واقعہ کے خلاف تھے اس لئے الزام صرف چشم دید شہادت پر ہی لگایا جاسکتا تھا۔
Ayahs 24:14–15

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو جس بات کا تم نے چرچا کیا تھا اس (کی پاداش) میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

(تم اس وقت کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جب کہ تم اس (جھوٹ) کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ بکے جا رہے تھے جس کے بارے میں تمہیں مطلق علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی (سی) بات سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی (سخت بات) تھی۔

[16] فضل و کرم دنیا میں یہ کہ توبہ کی مہلت عطا ہوئی اور آخرت میں یہ کہ توبہ قبول ہوئی۔
Ayahs 24:16–18

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تھا تو (سنتے ہی) کیوں نہ بول اٹھے کہ ہمیں زیبا نہیں کہ ایسی بات منہ سے نکالیں۔ معاذ اللہ ! یہ تو بڑا (بھاری) بہتان ہے۔

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر ایسی حرکت کبھی نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور اللہ (اپنے) احکام تم سے (صاف صاف) بیان کرتا ہے اور وہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[17] اصل میں لفظ '' سبحانک '' استعمال ہوا ہے جو یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں اردو میں '' معاذ اللہ '' بولا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں '' سبحانک '' کا ترجمہ '' معاذ اللہ '' سے کیا گیا ہے۔
Ayahs 24:19–20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحش پھیلے ان کے لئے دنیا میں دردناک عذاب ہے اور آخرت میں (بھی) ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم (وکرم) تم پر نہ ہوتا اور یہ (بات نہ ہوتی) کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو تم میں بڑا فساد برپا ہوگیا ہوتا) ۔

[18] یعنی دنیا میں بھی سزا کے مستحق ہیں اور آخرت میں بھی۔ اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ بدکاری کے جھوٹے الزام گھڑ کر انھیں معاشرے میں پھیلانے کی کوششیں کرتے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں لیکن آیت کے الفاظ اشاعت فحش کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں لہذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدباب کرے اور مناسب تعزیری قوانین کے ذریعے اشاعت فحش کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت انگیز سزا دے۔ [91] یعنی تم لوگ نہیں جانتے کہ فحش پھیلانے کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں اور مجموعی طور پر ان کا نقصان کس قدر ملت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس چیز کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اور جو شیطان کے نقش قدم پر چلے گا تو وہ (اسے) بےحیائی اور بری باتوں ہی کا حکم دے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم (وکرم) نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص بھی (توبہ کر کے) پاک نہ ہوتا۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[20] یعنی توبہ کی توفیق نہ ہوتی جیسے منافقین کو نہ ہوئی یا یہ کہ توبہ قبول نہ کی جاتی کیونکہ اللہ پر کوئی چیز واجب تو ہے نہیں۔ [21] چناچہ تمہاری توبہ بھی سن لی اور دلی ندامت بھی جان لی۔
Ayahs 24:22–25

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ فضیلت والے اور صاحب مقدرت ہیں وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مدد) نہ دینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں اور چاہئے کہ (ان کے قصور) معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے ؟ اور اللہ (کی صفت یہ ہے کہ وہ) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔ (پس تم بھی اللہ کے رنگ میں رنگ جاؤ) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ (زنا کی) تہمت لگاتے ہیں ان عورتوں پر (جو) پاک دامن (ہیں اور ایسی باتوں سے) بیخبر ، (اور) ایمان والیاں (ہیں، ایسے لوگ) دنیا اور آخرت (دونوں) میں ملعون ہیں اور (آخرت میں) ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(وہ) اس دن (کو بھول نہ جائیں جس دن) ان کے خلاف گواہی دیں گی ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کاموں کی جو وہ کیا کرتے تھے۔

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ ان کو ان کا واجبی بدلہ پورا پورا دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی سچا (اور سچ کو سچ کر) دکھانے والا ہے۔

[22] سیّدنا مسطح ؓ ایک نادار صحابی تھے۔ وہ مہاجر تھے، بدری تھے اور سیّدنا ابوبکر ؓ کے عزیز بھی تھے۔ سیّدنا ابوبکر ؓ ان کی مالی امداد کرتے رہتے تھے مگر کیونکہ سیّدنا مسطح ؓ نے تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا اس لئے سیّدنا ابوبکر ؓ نے قسم کھائی کہ وہ ان کی کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 24:26–28

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے، اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے۔ یہ لوگ ان (تہمتوں) سے بری ہیں جو (بہتان لگانے والے) بکتے پھرتے ہیں۔ ان کے لئے (آخرت میں) مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم اپنے گھروں کے سوا (دوسرے) گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ تم (ان گھر والوں سے) اجازت حاصل نہ کرلو اور تم (اجازت لینے سے پہلے) ان پر سلام نہ بھیج لو۔ یہی تمہارے لئے بہتر (طریقہ) ہے۔ تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر گھر میں تم کسی کو نہ پاؤ تو بھی اس میں داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ مل جائے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ (اس وقت موقع نہیں) لوٹ جاؤ تو (بےتامّل) لوٹ آیا کرو۔ یہ تمہارے حق میں زیادہ پاکیزہ تر ہے اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

[23] یعنی خبیثوں کا جوڑ خبیثوں سے لگتا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا جوڑ پاکیزہ لوگوں سے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک بدکار آدمی سوائے بدکاری کے ہر عیب سے پاک ہو اور اس کے چال چلن اور رنگ ڈھنگ میں بدکاری کی کوئی علامت نہ پائی جاتی ہو۔ پھر یہ بات کس طرح تمہاری سمجھ میں آتی ہے کہ ایک پاکیزہ انسان برسوں اسی عورت سے نباہ کئے جا رہا ہو جو صرف زناکار ہو اور جس میں اور کوئی عیب نہ ہو لہذا جب کسی پر بدکاری کا الزام لگایا جائے تو لوگوں کو چاہئے کہ بس اسے سنتے ہی نہ مان لیا کریں بلکہ دیکھیں کہ جس پر الزام لگایا جارہا ہے وہ اس پر چسپاں بھی ہوتا ہے یا نہیں۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

(البتہ) ان گھروں میں جہاں کوئی نہیں رہتا اور جہاں تمہارے فائدے کی کوئی چیز ہو (تو) تمہارے (بےاجازت) چلے جانے سے تم پر (کوئی) گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو اللہ (سب) جانتا ہے۔

[24] یعنی جن مکانوں میں کوئی خاص آدمی نہیں رہتا نہ کوئی روک ٹوک ہے، مثلاً مدرسہ، ہوٹل، سرائے وغیرہ۔ ایسی عمارتوں میں جانے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے حق میں زیادہ پاکیزہ ہے (اور) جو کچھ بھی لوگ کیا کرتے ہیں بیشک اللہ کو (سب) خبر ہے۔

[25] مراد ہے مردوں کا عورتوں کو دیکھنا یا دوسرے لوگوں کے ستر پر نگاہ ڈالنا جیسا کہ سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے۔ اصطلاح شرعی میں ستر جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے ڈھانکنا فرض ہے۔ مردوں کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے (اس میں ناف اور گھٹنے شامل ہیں) اور اس کو سوائے بیوی کے کسی اور کے سامنے قصداً کھولنا حرام ہے۔
Ayahs 24:31–32

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) مومن عورتوں سے کہو کہ (وہ بھی) اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے، اور اپنے سینوں پر دوپٹوں کے بکل مارے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر، اپنے باپ پر، اپنے شوہروں کے باپ پر، اپنے بیٹوں پر، اپنے شوہر کے بیٹوں پر، اپنے بھائیوں پر، اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر، اپنی بہنوں کے بیٹوں پر، اپنی (میل جول کی) عورتوں پر، اپنے لونڈی غلام پر، ان زیردست مردوں پر جو (عورتوں) سے کچھ غرض نہ رکھتے ہوں، یا وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی آگاہ نہیں ہوئے ہوں۔ اور (انہیں چاہئے کہ چلنے میں) اپنے پاؤں (زمین پر ایسے زور سے) نہ ماریں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا علم (لوگوں کو) ہوجائے۔ اے ایمان والو، (اگر تم سے ان احکام کی بجا آوری میں کوتاہی ہوگئی ہو تو) تم سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) تم میں سے جو بےنکاح ہوں ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو نیک بخت ہوں ان کا بھی۔ اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا (اور خوب) جاننے والا ہے۔

[26] یعنی انھیں قصداً غیر مردوں کو نہ دیکھنا چاہئے، نگاہ پڑجائے تو ہٹا لینی چاہئے اور دوسروں کے ستر پر بھی نگاہ نہ ڈالنی چاہئے۔ [27] یعنی ناجائز جنسی تعلقات سے پرہیز کریں اور اپنا ستر بھی دوسروں کے سامنے نہ کھولیں۔ عورت کا ستر ہاتھ اور منہ کے سوا اس کا سارا جسم ہے جسے تمام لوگوں سے چھپانے کا حکم ہے۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ نیز عورت کو ایسا باریک یا چست لباس بھی نہ پہننا چاہئے جس سے بدن اندر سے جھلکے یا بدن کی ساخت نمایاں ہو۔ [28] یعنی جس قدر زینت کا ظاہر کرنا ناگزیر ہے۔ احادیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرے کی ٹکیا، ہتھیلیاں اور پیر '' الاماظہر '' میں داخل ہیں کیونکہ بہت سی ضروریات دینی و دنیوی ان کے کھلے رکھنے پر مجبور کرتی ہیں اور یہ اعضاء مستثنیٰ ہوئے تو ان کے متعلقات مثلاً انگوٹھی، مہندی کا جل وغیرہ کو بھی استثنا میں داخل کرنا پڑے گا۔ لیکن نامحرم مردوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ان اعضاء کا نظارہ کیا کریں اس لئے اجازت سے پیشتر نیچی نظر رکھنے کا حکم مومنین کو سنا دیا گیا۔ اگر ایک مرتبہ مرد کس اجنبی عورت پر یا عورت کی کسی اجنبی مرد پر نظر پڑجائے تو دوبارہ قصداً اس طرح نظر نہ کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے مگر دوسری نظر کی اجازت نہیں۔ [29] عورتیں دوپٹہ اوڑھتے وقت اس کا ایک پلہ ایک طرف سے دوسری طرف کو پشت پر ڈال لیا کرتی ہیں۔ اس لپیٹ کو بکل کہتے ہیں اور کیونکہ خلقی زیبائش میں نمایاں چیز سینے کا ابھار ہے لہذا اس لئے مزید تاکید فرمائی۔ اور دوپٹہ بھی باریک کپڑے کا نہ ہونا چاہئے جیسا کہ اس بارے میں خود رسول اللہ ﷺ کی تصریح سے ثابت ہے۔ [30] چچا اور ماموں کا بھی یہی حکم ہے۔ [31] باپ کے مفہوم میں دادا، پردادا، نانا، پرنانا بھی شامل ہیں۔ [32] بیٹوں میں پوتے، پر پوتے، نواسے اور پرنواسے سب شامل ہیں اور اس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا کوئی فرق نہیں۔ [33] بھائیوں میں سگے، سوتیلے اور ماں جائے بھائی سب اس حکم میں داخل ہیں۔ لیکن چچیرے خلیرے وغیرہ بھائی اس میں شامل نہیں۔ [34] بھائی بہنوں کے بیٹوں سے مراد تینوں قسم کے بھائی بہنوں کی اولاد ہے اور ان کے پوتے، پر پوتے، نواسے، پرنواسے سب اس میں شامل ہیں۔ یہ تمام عزیز جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اصطلاح میں محرم کہلاتے ہیں۔ ان سے نکاح حرام ہے۔ [35] یعنی مومن عورتیں۔ کافر عورت شریعت میں اجنبی مرد کے حکم میں ہے۔ [36] یعنی خدمت گار جو محض اپنے کام سے کام رکھیں اور ان کے بارے میں یہ شبہ کرنے کی گنجائش نہ ہو کہ وہ گھر کی خواتین کے بارے میں کوئی ناپاک خواہش کرنے کی ہمت کرسکیں گے۔ [37] مراد اس سے اس سن کے بچے ہیں جو ابھی شہوانیت کے معنی سے واقف ہی نہ ہوئے ہیں۔ یہ معنی نہیں کہ ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں۔ [38] یعنی پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ زیور کی جھنکار نہ سنی جائے۔
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جو لوگ نکاح (کرنے) کا مقدور نہیں رکھتے انھیں چاہئے کہ ضبط (نفس) کریں یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔ اور (دیکھو، ) تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کے خواہاں ہوں ان سے مکاتبت کرلو بشرطیکہ تم ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ، اور اللہ کے اس مال میں سے بھی انھیں دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے۔ اور اپنی لونڈیوں کو جو پاک دامن رہنا چاہتی ہیں دنیوی فائدوں کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو ان کے مجبور کئے جانے کے بعد اللہ (ان کے لئے) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

(مسلمانو، ) ہم نے تمہارے پاس کھلے کھلے احکام بھیج دئیے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے (عبرتناک) حالات اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت (کی باتیں بھی) ۔

[39] مکاتبت اصطلاح شریعت میں غلام و آقا کے درمیان معاہدے کا نام ہے۔ غلام اپنے آقا سے یہ کہے کہ میں کما کر اتنا مال تجھے دے دوں تو آزاد ہوجاؤں اور مالک اسے منظور کرے۔ یہ مکاتب اگرچہ ابھی غلام رہے گا۔ لیکن پیشہ یا تجارت اختیار کرنے کے باب میں خود مختار ہوجائے گا۔ پھر اگر شرط پوری ہوگئی تو آزاد ہوجائے گا۔ نہ پوری ہونے کی صورت میں غلام یا تو خود ہی مکاتبت فسخ کرا لے ورنہ قاضی کرا دے گا۔ [40] بہتری کے آثار سے مراد ہے کمانے کا سلیقہ اور غلامی سے آزاد ہو کر بدکاری، چوری یا اور طرح کی بدمعاشیوں کا ارتکاب نہ کرنا۔ [41] تاکہ وہ جلد آزادی حاصل کرلیں۔ [42] زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی لونڈیوں کو ان کی خواہش کے خلاف عصمت فروشی پر مجبور کرتے تھے اور مقصود اس سے محض مالی نفع تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر لونڈی ازخود آمادہ ہوجائے اور اس کا مالک اس سے فیس وصول نہ کرے تو عصمت فروشی اس کے حق میں جائز ہوجائے گی۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ (ہی) نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک طاق ہے (اور) اس میں ایک چراغ (رکھا ہوا) ہے (اور) وہ چراغ ایک قندیل میں ہے (اور) قندیل (کا یہ حال ہے کہ) گویا ایک چمکدار ستارہ، (اور وہ چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی، (اور وہ تیل اس قدر صاف اور سلگنے والا ہے کہ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خودبخود جل اٹھے گا اگرچہ آگ اسے نہ بھی چھوئے، (اور جب آگ بھی لگ گئی تب تو) نورٌ علیٰ نور ہے۔ اللہ اپنے اس نور کی طرف جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے، اور وہ لوگوں (کے سمجھنے) کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔

[43] یعنی اللہ ہی نور ہدایت بخشنے والا ہے اہل آسمان کو بھی اور اہل زمین کو بھی یعنی جملہ مخلوقات کو۔ [44] یعنی برکت والا، بہت مفید اور نفع بخش۔ [45] یعنی کسی آڑ میں نہ ہو کہ اس پر صرف صبح کی یا صرف شام کی دھوپ پڑے بلکہ ایسی جگہ واقع ہو جہاں صبح سے شام تک اس پر دھوپ پڑتی رہے۔ زیتون کے ایسے درخت کا تیل زیادہ لطیف اور صاف ہوتا ہے۔ اور زیادہ روشنی دیتا ہے بہ نسبت اس درخت کے جو شرقی یا غربی ہو۔ [46] یعنی اللہ تعالیٰ کے نور سے تمام موجودات کی نمود ہے لیکن مومن صالح کو نور الٰہی سے ہدایت و عرفان کا جو خصوصی حصہ ملتا ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ گویا مومن کا جسم ایک طاق کی طرح ہے جس کے اندر ستارے کی طرح چمکدار شیشہ (قندیل) اس کا دل ہے جس میں ہدایت کا چراغ روشن ہے۔ یہ روشنی ایسے تیل سے حاصل ہو رہی ہے جو ایک نہایت ہی مفید درخت (زیتون) سے نکل کر آیا ہے اور وہ تیل اس قدر صاف شفاف ہے کہ بغیر آگ دکھلائے ہی معلوم ہوتا ہے کہ خودبخود جل اٹھے گا۔ یہ تیل حسن استعداد اور توفیق الٰہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مومن کا شیشہ دل نہایت صاف ہوتا ہے اور توفیق الٰہی سے اس میں قبول حق کی ایسی زبردست استعداد پائی جاتی ہے کہ بغیر دیاسلائی دکھائے ہی جل اٹھنے کو تیار ہوتا ہے۔ پھر جہاں ذرا آگ دکھائی یعنی وحی قرآن کی روشنی نے اس کو مس کیا تو اس کی فطری روشنی بھڑک اٹھی۔ اسی کو '' نورعلیٰ نور '' فرمایا۔ باقی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے کہ جس کو چاہے اپنی روشنی عطا فرمائے اور وہی جانتا ہے کہ کس کو یہ روشنی ملنی چاہئے اور کس کو نہیں۔
Ayahs 24:36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(اس نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں (پائے جاتے) ہیں جن کی تعظیم کا اور ان میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ (ان میں) صبح و شام ایسے لوگ اللہ کی تسبیح (وتقدیس) کرتے رہتے ہیں۔

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جنہیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی ہے نہ (خریدو) فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ اور ادائے زکوٰۃ سے۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جب (مارے خوف کے) دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں (پھری کی) پھری رہ جائیں گی۔

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

(وہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ) اللہ ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔

[47] مراد مسجدیں ہیں۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ان کے اعمال (نرے دھوکے کی ٹٹی ہیں) جیسے دشت (بےآب) میں سراب کہ پیاسا (دور سے) اسے پانی سمجھے ہوئے تھا یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچا تو کچھ بھی نہ پایا اور (دیکھا تو) اللہ کو اپنے پاس موجود پایا جس نے اس (کے اعمال) کا حساب پورا پورا چکا دیا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

[48] اس مثال میں ان کافروں کا حال بیان ہوا ہے جو اپنے زعم و عقیدے کے موافق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے، حالانکہ کوئی کام بظاہر اچھا بھی ہو تو وہ کفر کی شامت سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور معتبر نہیں۔ ریگستان میں دور سے چمکتی ہوئی ریت کو دیکھ کر جس طرح ایک پیاسا اسے پانی کا تالاب سمجھتا ہے اور منہ اٹھائے اس کی طرف دوڑتا چلا جاتا ہے اسی طرح یہ کافر جب منزل موت میں داخل ہوں گے تو ان پر اس حقیقت کا انکشاف ہوگا کہ ان کے لئے وہاں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جس کا فائدہ وہ اٹھا سکیں بلکہ اللہ ان کے کفر اور ان بداعمالیوں کا جو وہ نمائشی نیکیوں کے ساتھ کر رہے تھے حساب لینے اور پورا پورا بدلہ دینے کے لئے موجود ہے۔