Ayahs 21:1–21 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب آلگا ہے لوگوں سے ان کے حساب کا وقت مگر لوگ ہیں کہ غفلت میں پڑے ہیں "۔ کیونکہ اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے اور آنے والی ہر چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے " کُلّ آتٍ قَرِیْب "۔ اور اس کے قرب کی سب سے بڑی نشانی خود حضرت خاتم الانبیائ ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری ہے۔ جس کے بعد اب قیامت تک کسی پیغمبر نے نہیں آنا۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں۔ یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کسی تیسری انگلی کا فاصلہ نہیں اسی طرح اب قیامت کے اور میرے درمیان کسی اور نبی نے نہیں آنا۔ نیز ہر شخص کی قیامت تو اس کی اپنی موت ہی ہے۔ موت کے بعد کسی انسان نے اس دنیا میں بہرحال واپس نہیں آنا۔ اور ہر کسی کی موت اس کے سر پر اس طرح کھڑی ہے کہ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ اس کو کب، کہاں اور کس طرح آجائے ؟۔ سو اس طرح لوگوں کے حساب کا وقت بہرحال قریب آ لگا ہے اور وہ ہیں کہ اس کی فکر و تیاری کی بجائے غفلت کا شکار ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے اللہ پاک اپنی بےپایاں رحمت و عنایت سے بندوں کو اس کی یاد بار بار اور طرح طرح سے دلا رہا ہے تاکہ وہ اس کیلئے تیاری کرسکیں قبل اس سے کہ فرصت حیات انکے ہاتھ سے نکل جائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَتٰی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ۔ (النحل : 1) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ، وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌ} (القمر : 1-2) ۔ نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہ، وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ } ۔ (الحج : 47) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا } (المعارج : 6-7) ۔ سو اس طرح کے ان تمام ارشادات سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا وقت قریب ہے۔ لہذا اس کے لئے تیاری کرو قبل اس سے کہ فرصت عمر ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تلافی مافات کی کوئی صورت ممکن نہ رہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوفِیْق وَھُوَ الْہادی اِلٰی سَوَائِ الصِّراط۔ بہرکیف یہی مطلب ہے قیامت کے قریب آلگنے کا اور اس میں لوگوں کی تنبیہ ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر آخرت کیلئے تیاری کریں اور فرصت حیات کو غنیمت سمجھیں۔ (محاسن التاویل، معارف القرآن، فتح القدیر، ابن کثیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ یہاں پر ان لوگوں کے بیک وقت دو جرموں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک غفلت و لاپرواہی اور دوسرا اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و انحراف -
2 غفلت و لاپرواہی بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ہیں کہ غفلت میں پڑے ہیں منہ موڑ کر "۔ اور وہ اس بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے بلکہ دنیا اور پیٹ ہی کے پیچھے لگے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کو اس کا کوئی خیال اور پاس و احساس نہیں کہ ان کیلئے کس قدر ہولناک دن اور کیسا مشکل وقت آنے والا ہے۔ اور یہ کہ فرصت حیات کے خاتمے کے بعد اس کیلئے تیاری کی کوئی صورت پھر ممکن ہی نہیں ہوگی۔ سو آیت کریمہ کا اصل خطاب تو اگرچہ کفار و مشرکین سے ہے جو آخرت کے قائل ہی نہیں لیکن افسوس کہ آج مسلمان کا بھی یہی حال ہے کہ وہ آخرت سے غافل اپنے مادہ اور معدہ کے تقاضوں کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔ اور اس کو اس سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔ الاء ماشاء اللہ ۔ (معارف للکاندھلوی (رح) ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں۔ سو یہ غافل ہیں اپنے مقصد حیات سے اور یہ غافل و لاپرواہ ہیں زندگی کے اصل اور بنیادی حقائق سے غافل و لاپروا۔ سو یہ غافل و لاپرواہ ہیں اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اس کے ذکر اور اس کی عبادت و بندگی اور اس کی یاد دلشاد سے۔ ان سب اصلی اور بنیادی حقائق سے۔ اپنی پیٹ پوجا اور اہواء واغراض کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عقل جیسے جوہر عظیم کو بھی مادہ و معدہ کی خدمت میں لگا دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ غفلت و لاپرواہی سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 21:35 اہل باطل کی اہل حق کیخلاف سرگوشیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس طرح کی سرگوشیاں کرتے ہیں تاکہ اس طرح یہ حق کا راستہ روک سکیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنی سرگوشیوں اور اس طرح کی مخفی اور راز دارانہ باتوں سے تم لوگ دنیا والوں سے تو اپنے ایسے اقوال و اَفعال کو چھپا سکتے ہو مگر دلوں کے بھید جاننے والے اس علیم وخبیر سے کیسے چھپا سکتے ہو ؟ جو اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے ہر وقت اور ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے ؟ بہرکیف یہ بھی اہل باطل کی ایک قدیم اور مشترکہ نفسیات ہے کہ وہ اہل حق کیخلاف طرح طرح سے سرگوشیاں کرتے اور نت نئے طریقوں سے پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں اہل حق کے لیے کئی اہم درس ہیں۔ مثلا یہ کہ ان کو اہل باطل کی ایسی سرگوشیوں اور رازداریوں سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ پہلے سے ہی ایسے ہوتا آیا ہے۔ نینز یہ کہ اہل باطل اس طرح مکروہ ہتھکنڈوں سے حق کا راستہ نہ اس سے پہلے روک سکے ہیں نہ آئندہ کبھی روک سکیں گے۔ کیونکہ حق مغلوب ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ غالب رہنے ہی کے لیے آیا ہے۔ البتہ کبھی ایسے لوگ اپنی اس طرح کی سرگرمیوں سے اپنے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان ضرور کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کو یہاں پر { الذین ظلموا } کے عنوان سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
6 کفار کا بشریت پیغمبر پر اچنبھا اور اس کا انکار۔ والعیاذ باللہ : کہ یہ شخص تو محض تم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ پھر تم اپنے ہی جیسے ایک انسان اور بشر کی اتباع و پیروی کیونکر کرو گے ؟ اور اگر تم نے ایسے کرلیا تو یقیناً تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کے اس قول کو اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { وَلَئِنَ اتَّبَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَکُمْ اِنَّکُمْ اِذًا لَّخَاسِرُوْنَ } ۔ (المومنون : 34) ۔ سو قرآن حکیم نے لوگوں کی اس مشترکہ اور زمانہ ٔ قدیم سے چلی آنے والی گمراہ کن غلط فہمی کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے بیان فرمایا اور بتایا ہے کہ انسان کو اکثر و بیشتر اپنی اسی غلط فہمی سے ٹھوکر لگی ہے اور وہ گمراہی کے گڑھے میں گرا ہے۔ کل بھی اس کو یہی غلط فہمی تھی کہ نبوت اور بشریت دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں اور آج بھی اس کا حال یہی ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ کل کے گمراہ انسان نے اپنی اس غلط فہمی کی بناء پر حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی بشریت طاہرہ کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا جس سے وہ دوزخ کا ایندھن بن گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ آج کا گمراہ انسان ان کی نبوت و رسالت کو ماننے کا دعویٰ کرکے ان کی بشریت کا انکار کرتا ہے۔ غلطی اور غلط فہمی دونوں کی بہرحال ایک ہی رہی ہے کہ نبوت اور بشریت دونوں صفتیں یکجا جمع نہیں ہوسکتیں حالانکہ حق اور حقیقت نفس الامری یہی ہے کہ یہ دونوں صفتیں نہ صرف یہ کہ یکجا ہوسکتی ہیں بلکہ بالفعل اور واقعتا یکجا ہوتی ہیں۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا۔ اور ان دونوں کے یکجا ماننے ہی کا نام ایمان ہے کہ پیغمبر بیک وقت بشر بھی ہوتا ہے اور نبی رسول بھی۔ جیسا کہ مومن صادق یہ گواہی اس طرح دیتا ہے " اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ "۔ بلکہ عبدیت پہلے ہوتی ہے اور نبوت و رسالت بعد میں۔ سو پیغمبر بشر بھی ہوتا ہے اور نبی و رسول بھی۔ اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا۔ اور اسی حقیقت کو قرآن و سنت کی نصوص کریمہ میں جابجا اور طرح طرح سے واضح اور آشکارا فرمایا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سب کو حق سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان ظالموں نے اپنی سرگوشیوں میں پیغمبر کے بارے میں کہا کہ یہ تو تم ہی جیسا ایک بشر اور انسان ہے۔ سو اگر تم لوگ جانتے بوجھتے اس شخص کے جادو کے پھندے میں پھنس گئے تو یہ تمہاری بڑی سادہ لوحی اور حماقت ہوگی۔ سو اس سے قرآن حکیم کا ایک معجزہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں نے یہ بات اپنی خفیہ مجلسوں میں اور رازدارانہ طور پر کہی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس طرح آشکارا فرما دیا۔ سو یہ کلام اللہ ہی کا کلام ہے جس سے کسی بھی شخص یا گروہ کی کوئی بھی حالت اور کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 21:47 اللہ ہی ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے : پس نہ کوئی اس سے چھپ سکتا ہے اور نہ اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ سو بڑے ہی بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جو ایمان سے محروم اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد سے غافل اس کے حقوق سے لاپرواہ اور اپنے انجام سے بےفکر ہو کر حیات مستعار کی اس فرصت محدود کو یونہی ضائع کرتے اور ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں گرنے کے لئے بڑھے چلے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پیغمبر نے فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین کی ہر بات کو جانتا ہے اور وہی ہے جو ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے اس ردِّعمل کو بیان فرمایا گیا جو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ پر منکرین و مکذبین کی اس یا وہ گوئی سے ہوا۔ سو آپ نے ان بدبختوں کو خطاب کیے بغیر اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرا رب آسمان و زمین کی ہر بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے اور ان لوگوں کی سرگوشیوں، فتنہ سامانیوں اور یا وہ گوئیوں سے وہ پوری طرح واقف و آگاہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے وہی تدارک کا سامان فرمائے گا۔ پس میں اپنے اس معاملے کو اسی وحدہ لا شریک کے حوالے کرتا ہوں کہ ہمارا بھروسہ اسی پر ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 21:58 شاعر سے یہاں پر مقصود و مراد ؟ : یعنی شاعر سے یہاں پر مراد اس کے وہ معروف معنی نہیں کیونکہ اس اعتبار سے قرآن حکیم کو شعر وہ لوگ بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ اس کتاب حکیم کے کلمات کریمہ اور اس کی آیات شریفہ معروف معنوں میں شعری وزن پر ہیں ہی نہیں۔ یہ تو ان اصطلاحات سے ممتاز وبالا اپنی ایک منفرد نوعیت اور اعلیٰ حیثیت و شان کا ایک بےمثل اور بےنظیر کلام ہے۔ سو کفار کے آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کا مقصد اور مطلب یہ تھا کہ یہ صاحب شاعروں کی طرح ایسی فرضی اور خیالی باتیں کرتے ہیں جن کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہوتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (المحاسن، المراغی اور فتح وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ بات یہیں تک نہیں رہی کہ انہوں نے اس کلام حکمت نظام کو سحر اور جادو قرار دیا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے اس کو خواب پریشان قرار دیا۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے اس کو افتراء قرار دیا۔ اور پیغمبر کے بارے میں ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ شاعر ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر یہ خدا کے پیغمبر ہیں تو یہ ہمارے پاس اسی طرح کی کوئی نشانی لے آئیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ گزشتہ انبیائے کرام آئے ہیں۔ سو یہ سب کچھ ان لوگوں کے عناد اور ان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے اور عناد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:69 فرمائشی معجزوں کی طلب ہلاکت و تباہی کی راہ ۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ فرمائشی معجزوں کے ظہور پر نہ ماننے والوں کیلئے ہلاکت و تباہی مقدر ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ پہلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ ان فرمائشی معجزوں کے دیکھنے کے باوجود جن کا مطالبہ انہوں نے کیا تھا وہ لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس سے ان کو ہلاک کردیا گیا۔ سو اس طرح آج کے ان کفار کو ان کی فرمائشوں کے مطابق معجزات نہ دکھانا خود ان کے لئے بہتر اور باعث رحمت ہے۔ ورنہ یہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوجاتے جس سے وہ لوگ اس سے قبل دوچار ہوچکے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فرمائشی معجزوں کے ظہور کے بعد جن لوگوں نے نہیں مانا ان کو ہلاک اور نیست و نابود کردیا گیا۔ پہلی قوموں کے ساتھ قدرت کا یہی معاملہ اور دستور رہا۔ اسی لیے فرمائشی معجزوں کے مطالبات کرنی والوں کو اس سے سبق لینا چاہیے۔
Ayah 21:710 لوگوں کیلئے رسول ہمیشہ انسانوں ہی کو بنایا گیا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے [ اے پیغمبر ] انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا۔ نہ کہ کسی نوری مخلوق کو۔ پس ان لوگوں کا یہ اعتراض کہ یہ صاحب تم ہی جیسے ایک بشر ہیں { ہَلْ ہٰذَا الاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ } مطالبہ اور ان کا یہ استبعاد بجائے خود غلط اور باطل ہے کہ ایک بشر اور انسان کو کیوں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ کیونکہ اللہ پاک کا دستور اور قانون ہمیشہ یہی رہا کہ بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے انسانوں ہی کو رسول بناکر بھیجا گیا۔ یہی عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اور اسی سے ہدایت و راہنمائی کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے حضرت خاتم الانبیائ ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء و رسل بھیجے گئے وہ سب کے سب انسان و بشر اور مرد ہی تھے۔ تو پھر آنجناب کی نبوت و رسالت پر ان متکبرین و مکذبین کے ایسے اعتراض کی آخر کیا گنجائش ؟۔ سو جتنے بھی انبیائے کرام کو پیغام رسانی کے لیے بھیجا گیا وہ سب کے سب انسان اور بشر ہی تھے نہ کہ ما فوق البشر۔ ان کے لیے امتیاز صرف یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے اور بس۔ سو اسی طرح کی وحی ہم نے اب آپ کی طرف بھیجی ہے اے رسول۔ لہذا آپ اب ان لوگوں کی یا وہ گوئی کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اور وحی کا شرف و امتیاز وہ سب سے بڑا شرف و امتیاز ہے جس سے ان حضرات انبیاء و رسل کا مرتبہ و مقام اللہ پاک کی مخلوق میں سب سے بڑا ہوجاتا ہے مگر الٹی کھوپڑی اور ٹیڑھے دماغ کے لوگوں کو یہ اہم اور بنیادی حقیقت جو کہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق سمجھنی ہمیشہ مشکل رہی۔ کل بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے الا ما شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 21:811 پیغمبر بشری تقاضوں سے معریٰ نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو یعنی گزشتہ انبیاء کرام کو کوئی ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ سو اس سے واضح ہو فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام بشری تقاضوں سے معری نہیں ہوتے۔ جیسے کھانا پینا وغیرہ۔ اور جب تمام انبیائے کرام کے بارے میں ہماری سنت یہی رہی تو پھر ان لوگوں کا آپ ﷺ پر اے پیغمبر ! اس طرح کا اعتراض کرنا سراسر لغو اور ایک بےہودہ بات ہے کیونکہ آپ ﷺ بھی اسی طرح بشری تقاضے رکھتے ہیں جس طرح کہ گزشتہ انبیاء و رسل رکھتے تھے کہ ان کے بھی بیوی بچے تھے۔ وہ بھی کھایا کرتے تھے اور پانی پیا کرتے تھے۔ وہ بھی بیمار ہوا کرتے تھے۔ اور آخرکار وہ سب موت کی گہری نیند سو گیے۔ سو پیغمبر بشری تقاضوں سے خالی اور معرّٰی نہیں ہوتے۔ جس طرح کہ منکرین اور اعجوبہ پرست لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ ان کے اندر تمام بشری صفات اور انسانی تقاضے موجود ہوتے ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 21:912 حد سے بڑھنے والوں کا انجام ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ہلاک کردیا حد سے بڑھنے والوں کو جو کفر و انکار اور شرک و بغاوت کا ارتکاب کر کے حدود بندگی سے نکل گئے تھے۔ پس اس میں درس عبرت ہے ان کفار و مشرکین کے لئے جو آج نبی ٔ آخر الزماں (علیہ الصلوۃ والسلام) کے خلاف صف آرا ہیں کہ یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوسکتے ہیں جس سے کل کے وہ منکرین ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں پر آخرت کے قطعی اور آخری عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آ کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا اور پورا کر دکھایا۔ ان کو اور جن کو ہم نے چاہا نجات سے سرفراز فرمایا اور ان لوگوں کو آخر کار ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا جو حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔ سو حدود خداوندی سے تجاوز باعث ہلاکت و تباہی ہے اور بندے کی عظمت شان اسی میں ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید جل وعلا -
Ayah 21:1013 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے اتاری تمہاری طرف اے لوگو یہ عظیم الشان کتاب جس میں خود تمہاری نصیحت اور ہدایت کا سامان ہے۔ تو کیا پھر تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ پس اس کو اپنانے اور گلے لگانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ اور اس سے منہ موڑنے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز ذکر کے معنیٰ شرف و مقام کے بھی آتے ہیں۔ تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب حکیم کے ذریعے تمہیں ایک عظیم الشان شرف و مقام سے بھی نوازا گیا ہے۔ نیز ذکر کے معنیٰ تذکرہ وبیان کے بھی آتے ہیں۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب عظیم میں حق و حقیقت اور تمہاری صلاح و فلاح اور فوز و نجاح کا کامل و مکمل ذکر وبیان موجود ہے تو ہر لحاظ سے یہ کتاب حکیم تمہارے لئے خیر ہی خیر اور عظیم الشان نعمت وبرکت ہے۔ اور اس کو دل و جان سے اپنانا خود تمہارے اپنے ہی لئے خیر اور سراسر خیر و برکت ہے۔ اور اس سے منہ موڑنے میں تمہارا اپنا ہی خسران و نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح ہم نے پہلی قوموں کی ہلاکت اور ان کے عذاب سے پہلے ان کی تذکیر و تنبیہ کے لیے اپنے رسول بھیجے تاکہ راہ حق و ہدایت ان کے سامنے واضح ہوجائے اور ان پر حجت قائم ہوجائے اسی طرح تمہارے اوپر بھی اس کتاب عظیم کو اتار کر تمہاری تذکیر اور یاددہانی کا سامان کیا گیا تاکہ تمہیں سعادت دارین سے سرفرازی کے مواقع مل سکیں اور حق وباطل تمہارے سامنے پوری طرح واضح ہو سکے۔ سو اب اس تذکیر و یاددہانی کے بعد تمہارے لیے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ سو اب تم لوگ اپنے بارے میں خود سوچ لو کہ تمہیں کونسی راہ اختیار کرنی ہے۔
Ayahs 21:11–1214 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تکذیب و انکار حق اور ظلم وعدوان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ : جبکہ وہ اڑے رہے تھے اپنے کفر و باطل اور اپنے ان جرائم پر۔ بس اس میں تمہارے لئے بڑا عظیم درس عبرت و بصیرت ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ تم باز آجاؤ کفر و انکار کی اپنی اس روش سے جس کو تم نے اپنا رکھا ہے اور جس کو کل کے ان منکروں نے اپنائے رکھا تھا۔ اور جسکے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو تم باز آجاؤ تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو ان کو پیش آچکا ہے۔ ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہوسکتا ہے جو ان کا ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں و برابر ہے۔ سو تکذیب اور انکار حق اور ظلم وعدوان کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس بارے جتنی ڈھیل اور مہلت ملے وہ بہرحال ایک ڈھیل اور مہلت ہی ہے۔ اس کا انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے تم لوگ اے ظالموا اور منکرو درس لو اور اپنی روش کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ تم بھی اسی انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے کل کے وہ منکر لوگ ہوچکے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:1315 ظالموں کا برا انجام اور ان کی تحقیر و تذلیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقعہ پر ظالموں سے ایسا کہا گیا کہ تم لوگ بھاگو نہیں بلکہ لوٹ جاؤ اپنے اسی سامان عیش و عشرت کی طرف جس میں تم لوگ مست و مگن تھے۔ یعنی فرشتوں کی طرف سے ان کی تحقیر و تذلیل کے لئے اور استہزاء و مذاق کے طور پر ان سے اس طرح کہا گیا۔ پس اپنے کفر و باطل اور ظلم وعدوان پر اڑے اور جمے رہنے والے ظالم لوگ جب اپنے آخری انجام کو پہنچے تو وہ حواس باختہ ہو کر بھاگنے لگے لیکن اس وقت ان کیلئے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ تب ان سے فرشتوں نے ان کی تحقیر و تذلیل کیلئے کہا کہ اب بھاگو نہیں بلکہ تم لوٹو اپنی انہی نعمتوں اور عیش پرستیوں کی طرف جن میں تم لوگ مست و مگن رہا کرتے تھے اور جن کی بناء پر تم لوگ حق بات سننے اور ماننے کیلئے تیار نہیں ہوا کرتے تھے اور جن محلوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر تم لوگ اپنے منکرانہ انداز میں اللہ تعالیٰ کی آیات کریمات اور اس کے بھیجے ہوئے انبیاء و رسل کا مذاق اڑایا کرتے تھے ان میں واپس جاؤ۔ سو اس طرح ان کی تذلیل و تحقیر الگ ہوگی اور ان کی آتش یاس و حسرت میں تیزی سے ان کے عذاب میں اضافہ الگ ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال -
16 ظالموں کی طنز و تضحیک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر یعنی عذاب کے آجانے کے موقع پر ان لوگوں سے کہا گیا کہ لوٹ جاؤ تم اپنے ان ہی گھروں کی طرف [ جن کی عمدگی اور پختگی پر تم کو بڑا ناز ہوا کرتا تھا ] شاہد تمہاری وہاں پر کوئی پوچھ پاچھ ہو۔ سو یہ ان سے بطور طنز و تضحیک کہا گیا ہے کہ " تم لوگ واپس لوٹو کہ شاید تم سے کوئی پوچھ ہو "۔ کہ تم پر کیا گزری ؟ کیا بیتی ؟ یا اہم امور کے بارے میں تم سے پوچھ ہو کہ جناب کی اس بارے کیا رائے اور کیا ارشاد ہے یا تمہاری خدمت کیلئے پوچھ ہو کہ جناب کو کیا چاہیئے کیا حکم ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو ان کلمات کریمہ کے مفہوم کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے اور یہ سب کچھ ان لوگوں سے اس موقعہ پر طنز و تضحیک کے طور پر کہا گیا۔ سو کبر و غرور اور اس کی بنا پر حق سے اعراض و انکار کا نتیجہ وانجام بہرکیف بڑا ہولناک ہوتا ہے۔ مگر منکمر و متکبر لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تا وقتیکہ ان پر عذاب کا کوڑا نہ بر سے اور وہ اپنے اس آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر نہ رہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayahs 21:14–1517 ظالموں کا بےوقت اقرار و اعتراف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان لوگوں نے کہا ہائے ہماری کم بختی واقعی ہم بڑے ظالم تھے۔ سو ان ظالموں نے اپنے ظلم کا اقرار و اعتراف تو کیا مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں تھا کہ اس کا وقت بیت چکا تھا اور اس کا اصل موقعہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ کیونکہ اصل مقصود و مطلوب وہ ماننا ہے جو کہ عذاب کے آنے سے پہلے اور بالغیب یعنی بن دیکھے ہو نہ کہ عذاب کے دیکھ لینے کے بعد کا ایمان۔ کہ وہ ایمان بالغیب نہیں بلکہ ایمان بالشہود اور ایمان بالمشاہدہ ہے جو کہ معتبر اور مفید نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عذاب کے اس موقعہ پر ان ظالموں نے اپنے ظلم وعدوان کا اقرار و اعتراف تو کیا لیکن اس سے ان کی یاس و حسرت میں اضافے کے سوا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں دوسرے تمام ظالموں کے لیے درس عبرت و بصیرت ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ وہ اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں جس پر کل کے وہ ظالم اپنے کیے کرائے کے نتیجے میں پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 21:1618 کائنات کی تخلیق کوئی کھیل تماشا نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس [ حکمتوں بھری ] کائنات کو کوئی کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کیا۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق کوئی کھیل تماشا نہیں۔ کہ ایسا کرنا نہ ہماری شان کے لائق ہے اور نہ ہی حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ ہوسکتا ہے ۔ فَتَعٰالَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ۔ سو آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق بیکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتی۔ ایسا کہنا اور ماننا کافروں ہی کا کام ہوسکتا ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بڑی ہلاکت اور ہولناک تباہی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا خَلَقْنَا السَّمَائَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا بَاطِلاً ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَوَیْلٌ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ } ۔ (ص :27) ۔ بہرکیف یہاں پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی اس کائنات کو کسی کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کیا "۔ اور حکمتوں بھرا یہ کارخانہ ہست و بود اپنے وجود سے اس پر شاہد ہے کہ یہ بیکار و بےمقصد نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک خدائے رحمان و رحیم اور خالق عادل و حکیم کی رحمت و عنایت اور اس کے عدل و حکمت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ اور اس کی ہر چیز بزبان حال اس امر کی گواہی دے رہی ہے کہ خالق عادل وحکیم اور ربِّ رحمان و رحیم نے اس کو نہایت عظیم مقصد وغایت اور حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ سو اس پر حکمت کارخانے کی ہر چیز کا وجود اور اس پر حکمت تخلیق وتکوین اور اس کے خالق حکیم وعادل کے عدل و انصاف کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد ایک یوم حساب و جزا ہو۔ ورنہ یہ سب کچھ عبث اور بےکار ہو کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 21:17–1919 کائنات کی تخلیق بےمقصد نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کہیں ہمیں کھیل تماشا ہی مقصود ہوتا تو ہم اس کیلئے اور کوئی چیز بنالیتے "۔ اور اس کے لئے ہمیں حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ سو یہ سب کچھ کھیل تماشہ کے طور پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بلکہ اس کی تخلیق عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم اور بنیادی مقصود دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں اور اس میں پائے جانے والے عجائب وغرائب میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور پھر اسی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ جبکہ دوسرا اہم مقصد یہ ہے کہ اس کائنات میں پائی جانے والی گوناگوں نعمتوں سے مستفید و فیضیاب ہو کر انسان دل و جان سے اس واہب مطلق کا شکر بجا لائے تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و ہمکنار ہوسکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
20 کار عبث شان خداوندی کے لائق نہیں : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ کار عبث ہماری شان کے لائق نہیں بلکہ اس کے منافی و متضاد ہے۔ لیکن اگر بالفرض ہمیں ایسا کرنا ہوتا بھی تو اس طرح نہ کرتے بلکہ اس کے لیے اپنے یہاں سے کوئی اور سامان کرلیتے { ان کنا فاعلین } کے جملہ شرطیہ کی جزاء محذوف ہے۔ جس پر قرینہ سیاق وسباق ہے۔ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ان " یہاں پر نافیہ ہو۔ یعنی ہم ایسا کرنے والے نہیں کہ یہ ہماری شان کے لائق ہی نہیں۔ تو یہ نتیجہ ہے نفی ماقبل کا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات کی تخلیق محض کھیل تماشے کیلئے نہیں ہوسکتی۔ اگر ایسا کرنا ہوتا تو ہم اس کے لیے اپنے بندوں اور بندیوں اور دوسری مخلوق کو خواہ مخواہ مبتلائے مصیبت نہ کرتے۔ سو ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ کائنات نہایت ہی بامقصد اور پر حکمت ہے۔ سو اگر بالفرض ہمیں کوئی کھیل تماشا ہی مقصود ہوتا تو اس کا سامان ہم اپنے یہاں ہی سے کرلیتے۔ اس کے لیے آدم و ابلیس، حق وباطل، خیر و شر، عدل وظلم اور ہدایت و ضلالت وغیرہ کے ان سلسلوں کی کیا ضرورت ہوتی۔ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ کائنات کی اس رزمگاہ کو پیدا کرنے اور اس میں بندوں اور بندیوں کو اتارنے کا اصل اور حقیقی مقصد ابتلاء و آزمائش ہے تاکہ جو لوگ اس میں اپنے خالق ومالک کے بندے بن کر رہیں اور جہاد زندگی کے اس معرکے میں کامیاب ہوں ان کو جنت کی حقیقی وابدی اور سدابہار نعمتوں سے نوازا جائے۔ اور جو اس میں ناکام ہوں ان کو اپنے کیے کرائے کی سزا ملے تاکہ اس طرح اس حکمتوں بھری کائنات کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہو سکے۔ اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہو سکیں ۔ والحمد للہ رب العالمین -
Ayah 21:2024 فرشتوں کا کام شب و روز تسبیح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ شب و روز اس کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں "۔ کہ تسبیح ان کے لئے اس طرح ہے جس طرح کہ ہمارے لئے سانس۔ جیسا کہ عبد اللہ بن حارث ؓ کی حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو کس قدر احمق اور کتنے بہکے بھٹکے ہوتے ہیں وہ لوگ جو فرشتوں کی اس معصوم پاکیزہ اور فرمانبردار مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے کر اپنے لیے دوزخ کی آگ کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب ملائکہ مقربین کی شان عبدیت کا یہ عالم ہے کہ وہ شب و روز خداوند قدوس کی تسبیح وتحمید میں مشغول و سرگرم رہتے ہیں۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اس میں توقف نہیں کرتے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو خداوند قدوس کی خدائی میں شرکت کا دم بھر سکے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو خداوند قدوس ہر لحاظ سے واحد واحد اور یکتا و بےمثال ہے۔ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 21:2125 آسمان کے بعد زمینی خداؤں کی تردید : سو فرشتوں کی الوہیت اور آسمانی خداؤں کی تردید کے بعد اب زمینی خداؤں کی تردید کے لیے فرمایا گیا " کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا کوئی اور معبود قرار دے رکھے ہیں "۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے کوئی بےجان اور بےحس و حرکت بت اور خود تراشیدہ مورتیاں ہوں یا کوئی زندہ و مردہ انسان جن کو یہ لوگ حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں کہ الفاظ و کلمات کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ بہرکیف { من الارض } کی اس تشریح سے ان زمینی معبودوں کی بھی جڑ کاٹ دی گئی جو لوگوں نے ازخود گھڑ رکھے ہیں۔ مشرکوں کا قدیم زمانے سے یہ حال رہا ہے کہ بہت سے مشرک یہ سمجھتے تھے اور آج بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ رب العزت اپنے عرش پر براجمان ہے۔ زمین میں اس کے حکم کے ماتحت دوسرے خداؤں کی حکومت چل رہی ہے۔ پس وہی ہمارے کرتا دھرتا ہیں۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " اور آج کے کلمہ گو مشرک نے تو اس غرض کے لیے جگہ جگہ اور طرح طرح کی " سرکاریں " گھڑ رکھی ہیں۔ جیسے " کانواں والی سرکار " اور " بلیوں والی سرکار " وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسی سب باتیں بےبنیاد، لایعنی اور خرافات کے پلندے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:2226 زندہ کرنا خداوند قدوس ہی کی صفت وشان ہے : اس کے سوا کسی کے بس میں نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے۔ سو اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے زمین سے کچھ ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہوں۔ جس طرح کہ معبود حقیقی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ زندگی بخشتا اور زندہ کرکے اٹھاتا ہے اور پھر جب کوئی ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ان کو معبود قرار دینا اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ان کو غائبانہ پکارنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے سوا اور معبود تجویز کرنا سراسر ظلم اور حماقت ہے۔ اور مشرکوں نے جو از خود طرح طرح کے معبود زمین سے گھڑ رکھے ہیں اور طرح طرح کی " سرکاریں " فرض کر رکھی ہیں وہ سب بےاصل اور بےبنیاد و بےحقیقت ہیں اور اس طرح کی مشرکانہ باتوں سے ایسے لوگ بڑے ہولناک جرام کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
27 اِبطال شرک کیلئے ایک ٹھوس عقلی دلیل اور قطعی برہان : یعنی " اگر اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کچھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ مشرکوں کا کہنا ہے تو زمین و آسمان کا نظام کبھی کا درہم برہم ہوگیا ہوتا " کیونکہ اس نظام کو چلانے کے لئے ان مختلف خداؤں میں یقیناً تنازع اور اختلاف ییدا ہوتا جس سے یہ سارا نظام درھم برہم ہوجاتا۔ اور جب ایسا نہیں ہوا اور یقیناً نہیں ہوا کہ آسمان اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کا نظام نہایت باقاعدگی اور پوری پابندی کے ساتھ چل رہا ہے تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک بھی ایک ہی ہے اور اس میں متصرف و فرمان روا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس وہی معبود ِبر حق ہے۔ نہ اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک ہوسکتا ہے اور نہ اس کی ذات وصفات میں۔ اور نہ ہی اس کے حقوق و اختیارات میں۔ وہ ہر لحاظ سے واحد و احد اور یکتا ہے اور ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف اور معبود برحق بھی وہی ہے۔
28 اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے : سو توحید خداوندی کی دلیل بیان کرنے کے بعد اس کے نتیجہ وثمرہ کو سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ پاک ہے ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ اس کے بارے میں ازخود بنا رہے ہیں۔ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے بارے میں اور دوسروں کو اس کی صفات میں شریک قرار دے کر۔ اور ان کو ازخود حاجت روا و مشکل کشا مان کر۔ یہ ان کو پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسی تمام شرکیات کی بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس خالق ومالک وحدہ لاشریک کو اس کی مخلوق پر قیاس کرکے اس کیلئے وہی صفات ثابت کرتے ہیں جو مخلوق کے لائق اور اسی کیلئے زیبا ہیں۔ اسی لیے یہاں پر ایک تو سبحان اللہ فرما کر ایسی تمام شرکیات کی جڑ نکال دی کہ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے۔ اور دوسرے رب العرش فرما کر ایسے تمام تصورات کا خاتمہ فرما دیا کہ جب وہ عرش عظیم کا مالک ہے اور یہ صفت اور شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ممکن ہی نہیں تو پھر اس کیلئے کسی اور کا شریک ہونا کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس وہ خالق کل اور مالک مطلق ہر قسم کے شرک اور اس کے تمام شوائب سے پاک ہے۔ اور اس کی شان اس سے کہیں بلند اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 21:2329 اس سے کوئی کچھ پوچھ نہیں سکتا : کہ وہ خالق ومالک بھی ہے اور حاکم و حکیم بھی۔ اور اپنی پوری کائنات میں بلاشرکت غیرے متصرف و فرماں روا بھی۔ وہ جو کچھ کرے وہ حق و صدق ہے۔ لہذا نہ اس سے پوچھنے کا کسی کو کوئی حق ہے اور نہ ہی کسی کی جان ہے کہ وہ اس سے پوچھ سکے۔ وہ اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ اور کسی مخلوق اور مملوک کو یہ حق نہیں پہنچ سکتا کہ وہ اپنے خالق اور مالک حقیقی سے کوئی سوال کرے۔ سو اس ارشاد ربانی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کو واضح فرما دیا کہ وہ کسی کے آگے مسؤل اور جواب دہ نہیں اور باقی سب اس کے آگے مسؤل اور جوابدہ ہیں۔ خواہ وہ ملائکہ مقربین ہوں یا انبیاء و رسل یا جنوں اور انسانوں میں سے کوئی ہستی اور گروہ ہو۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے۔ اگر کسی نے ایسی جسارت کی تو اس کو اس کا بھگتان بھگتنا پڑے گا۔ سو اس سے مشرکوں کے اس مشرکانہ تصور و فلسفہ کی جڑ نکال دی گئی کہ ان کے خود ساختہ اور من گھڑت معبود اس کائنات کے نظم و نسق میں خداوند قدوس کی خدائی میں شریک و دخیل ہیں۔ وہ جو چاہیں کرا سکتے ہیں اور خدائے پاک کے ارادہ کو تبدیل کرا سکتے ہیں۔ سو ایسا ہر تصوروخیال باطل و بےبنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
30 اور باقی سب کی بازپرس کی جائے گی : کہ وہ سب اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں۔ اس کی زمین اور اس کی تخلیق کردہ اس وسیع کائنات میں رہتے، بستے، کھاتے، پیتے اور پلتے بڑھتے ہیں۔ لہذا اس خالق کل اور مالک مطلق کو اسکا حق پہنچتا ہے کہ وہ ان سے پوچھے۔ اور وہ ان سے پوچھے گا کہ تم نے اس کا حقِّ بندگی کیا اور کس طرح ادا کیا ؟ تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پاس کے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور قسم کھا کر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب لوگوں سے ان کی زندگی بھر کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَوَرَبِّکَ لَنَسْاَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ۔ (الحجر : 92-93) ۔ سو اس سے ان مشرکوں کے شرک کی جڑ نکال دی گئی جو کہتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ شرک اور من گھڑت معبود اس کی خدائی میں دخیل ہیں اور اپنے اس مشرکانہ تصور کی بنا پر یہ لوگ ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ خدا کے جس ارادے کو چاہیں بدلوا سکتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق جو چاہیں اس سے منوا سکتے ہیں۔ اور وہ خداوند قدوس کی باز پرس سے بالا ہیں۔ جو چاہیں کریں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:2431 شرک کے حامیوں سے دلیل کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کو بھی مانتے اور ان کو اس کی خدائی میں شریک جانتے ہیں تو ان سے کہو کہ لاؤ تم لوگ اپنی دلیل۔ نقل صحیح یا عقل سلیم سے۔ ایسی دلیل و برھان جو تمہارے دعوے کی تصدیق و تائید کرتی ہو۔ مگر باطل کے لئے ایسی کوئی دلیل کہاں اور کیسے ؟ کہ جب اللہ پاک کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ ممکن ہی نہیں۔ تو پھر اس کیلئے کوئی دلیل وبرہان ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْہَانَ لَہ بِہ فَاِنَّمَا حِسَابُہ عِنْدَ رِبِّہ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکَافِرُوْنَ } ۔ ( المومنون :117) ۔ اور شرک کے حامیوں سے دلیل کا مطالبہ اس لیے فرمایا گیا کہ جہاں تک خداوند قدوس کی ذات اقدس و اعلیٰ کا تعلق ہے وہ تو ما بہ النزاع ہے ہی نہیں۔ اس کو یہ مشرک لوگ بھی مانتے ہیں۔ سو وہ تو ایک مسلم حقیقت ہے۔ اصل اختلاف اس امر میں ہے کہ کیا اس کے ساتھ اور اس کے سوا کوئی اور معبود بھی ہیں۔ اور اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کے سوا کوئی اور معبود سرے سے ہے ہی نہیں مگر تم لوگوں نے اس کے طرح طرح کے شریک گھڑ رکھے ہیں۔ سو اس لیے تم پر لازم آتا ہے کہ تم اس کے لیے کوئی دلیل پیش کرو مگر کہاں اور کیسے ؟ مشرک کے لیے نہ کوئی دلیل ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
32 اکثر لوگ جاہل ہیں ۔ والعیاذ باللہ : یعنی وہ جاہل ہیں حق و حقیقت کے علم وادراک سے۔ سو ارشاد فرمایا کہ دلیل وبرہان تو ان کے پاس کوئی نہیں لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ اس لیے وہ حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اور اسی بنا پر وہ خواہ مخواہ بلا دلیل و ثبوت محض اپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے یا اپنی عقول مریضہ کے ساختہ پرداختہ ڈھکوسلوں کی بناء پر توحید و صداقت کی راہ حق اور صراط مستقیم سے پھرے ہوئے ہیں۔ اور ان کو اس کا بھی کوئی پاس و احساس تک نہیں کہ اس طرح وہ اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ اور ایسا ہولناک نقصان کہ اس جیسا دوسرا کوئی نقصان نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی اور جہالت و بیخبر ی شر و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ نیز اس ارشاد میں پیغمبر ﷺ اور آپ کے اصحاب و اصدقاء اور ان کے توسط سے جملہ اہل حق کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان بھی ہے کہ مخالفین و منکرین اور اعداء و مکذبین نے حق اور اہل حق کے خلاف جو ہنگامہ برپا کر کھا ہے اس کی اساس و بنیاد کسی علم و دلیل پر نہیں بلکہ محض جہالت اور بےعلمی پر ہے۔ لہذا آپ ان کی اس مخالفت سے نہ کبھی آزردہ خاطر اور دلگیر ہوں اور نہ ہی ان کی ژاژخواہیوں اور یا وہ گوئیوں کو کبھی خاطر میں لائیں۔
Ayah 21:2533 توحید کی ایک اہم نقلی دلیل : سو اس سے توحید کی ایک اہم نقلی دلیل بیان فرمائی گئی کہ ہر پیغمبر نے اس کی دعوت دی۔ یہ توحید کی نقلی دلیل ہے جو کہ عقل صحیح اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اور جس کی عظمت و اہمیت کا یہ عالم ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی وحی کی گئی ہے اور ہر پیغمبر نے سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت لوگوں کو دی اور دنیا کو اسی راہ حق و صواب کی طرف بلایا کہ معبود برحق ایک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت کا حق دار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سابقہ کتب کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ بھی توحید کی دعوت دیتا ہے۔ چناچہ تورات میں حضرت ابراہیم کی جو تعلیم آج بھی موجود ہے وہ سراسر توحید ہی کی دعوت ہے۔ سو گزشتہ انبیاء و رسل نے ہمیشہ توحید کی دعوت دی جو آج یہ قرآن دے رہا ہے۔ اور گزشتہ انبیاء و رسل کی تعلیم و تبلیغ کا جو ریکارڈ محفوط و موجود ہے وہ پوری طرح قرآن حکیم کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر رسول نے توحید ہی کی دعوت دی۔ شرک کی دعوت کسی نے بھی نہیں دی۔ سو توحید ہی دین حق کی اصل و اساس اور بنیاد ہے۔
Ayahs 21:26–2734 اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں : جیسا کہ مشرک لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کو خدا کی اولاد قرار دیا اور مشرکوں نے اس کے فرشتوں کو۔ سو اس کی کوئی اولاد نہیں بلکہ سب اس کے بندے ہیں۔ اور اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کو اس کی اولاد قرار دینا ایسی ناروا جسارت ہے جو عقل و نقل سب کے خلاف اور نہایت ہی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسی جسارت اور اس قدر بڑا جرم ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ لرز کر گرپڑیں۔ جیسا کہ سورة مریم کی آیت نمبر 88 تا آیت نمبر 92 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کے اس طرح کے تمام خیالات باطل و بےبنیاد ہیں۔ وہ وحدہ لا شریک ایسی تمام نسبتوں اور اس طرح کے جملہ تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 21:28–2935 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک اہم پہلو کا ذکر وبیان : کہ وہ وحدہ لا شریک ایک برابر جانتا ہے اس سب کو جو کہ ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ عام اس سے کہ وہ سامنے ہو زمانے اور وقت کے اعتبار سے یا جگہ اور مکان کے لحاظ سے۔ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کہ آگے پیچھے اور ماضی اور مستقبل کی یہ تقسیم بندوں کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ اس وحدہ لاشریک کے اعتبار سے یہ سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ممکن نہیں تو پھر اس کیلئے کوئی شریک آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے اسی کمال علم کی بنا پر نہ تو ان تمام ہستیوں میں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک مانتے ہیں کوئی اس کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کو کم کرسکتا ہے۔ سو اس وحدہ لا شریک کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
36 اللہ والوں کی شان خوف و خشیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ہمیشہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں "۔ تو پھر ان کو خدا یا خدا کی اولاد قرار دینے کی آخر تک اور گنجائش ہی کیا بن سکتی ہے ؟ سو فرشتوں جیسی پاکیزہ مخلوق بھی اس کی الوہیت یا اس کی دوسری کسی بھی صفت میں اس کی شریک نہیں۔ بلکہ اس کی عاجز مخلوق اور اس کے فرمانبردار بندے ہیں۔ اور جو نور معرفت سے جتنا زیادہ سرشار ہوگا وہ اس وحدہ لا شریک کے خوف و خشیت سے بھی اسی قدر زیادہ سرفراز و سرشار ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ اس کی معرفت میں سب سے اونچا اور بڑا مرتبہ حضرات ملائکہ و رسل ہی کا ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے خوف و خشیت میں بھی سب سے آگے یہی ہوں گے۔ انکے شریک خدائی ہونے کا کیا سوال ؟
Ayah 21:3038 توحید و معاد کی دلیل کائنات سے : سو توحید خداوندی کی ایک اور عظیم الشان دلیل آسمانوں اور زمین کا کھول دینا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کو ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے الگ کردیا۔ پھر آسمان سے بارش برسانے کا انتظام فرمایا جس سے زمین کو قوت و زندگی ملتی ہے اور زمین کو روئیدگی کی صلاحیت بخشی جس سے انسان اور دوسری بیشمار مخلوق کی زندگی کے لئے قسما قسم کے اور طرح طرح کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ کھلا ثبوت اور عظیم الشان نشانی ہے ہماری بےپایاں قدرت، بےنہایت رحمت اور وحدانیت مطلقہ کی۔ سو یہ بھی توحید خداوندی کی ایک عظیم الشان اور واضح دلیل ہے۔ اور اس میں اس بات کا بھی کھلا ثبوت ہے کہ آسمان و زمین دونوں کا خالق ومالک اور حاکم و متصرف ایک ہی ہے۔ ورنہ ان دونوں کے درمیان یہ حیرت انگیز توافق ممکن نہ تھا۔ نیز پانی سے زمین کے زندہ ہونے اور اس میں طرح طرح کی پیداواریں اگنے اور فصلیں پیدا ہونے میں موت کے بعد زندگی کا نمونہ و ثبوت بھی موجود ہے۔ نیز اسی سے معاد اور آخرت کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات انسان کی خدمت میں لگی ہو اور خود انسان عبث و بیکار ہو۔ لازما اس سے باز پرس ہوگی اور اس کے لیے سزا و جزا ہوگی۔
39 ہر چیز کی زندگی پانی سے : سو اس سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پانی ہی سے ہر چیز کو زندگی بخشی گئی۔ اور ہر چیز کی زندگی کا مدارو انحصار بھی پانی ہی پر ہے کہ اسباب کی اس دنیا میں پانی کے بغیر نہ کسی جاندار کو زندگی مل سکتی ہے اور نہ کسی کی زندگی برقرار رہ سکتی ہے۔ تو ذرا سوچو اور غور کرو اے عقل سلیم اور فکر مستقیم کی دولت رکھنے والو کہ کیسی قادر مطلق اور حکیم مطلق ہے وہ ذات جس نے پانی کے اس حیات آفریں محلول کو وجود بخشا۔ اور اس کائنات کی ہر زندہ چیز کی زندگی اور اس کی بقاء کو پانی کے اس جوہر عظیم سے مربوط کردیا۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ہر چیز کا وجود اور اس کی بقا کو پانی ہی سے مربوط اور وابستہ کردیا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 21:3140 آیات ارضی میں غور وفکر کی دعوت : سو اس سے آیات ارضی یعنی زمین کے اندر کی نشانیوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ زمین کے اندر بھی طرح طرح کے نشانہائے قدرت موجود ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے زمین کے اندر طرح طرح کے [ پہاڑوں کے ] عظیم الشان لنگڑ ڈال دیے تاکہ یہ کہیں ڈولنی نہ لگیں [ اپنے اوپر رہنے بسنے والے ] ان لوگوں کو لے کر۔ نیز اس میں ہم نے طرح طرح کے کشادہ راستے بھی رکھ دیے۔ تاکہ لوگ راہ پاس کیں۔ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی راہ۔ نیز اس سے وہ دنیاوی زندگی کی ان عارضی منزلوں سے بڑھ کر اپنے اس ربِّ حقیقی کی معرفت کی حقیقی منزل مراد تک بھی رسائی حاصل کرسکیں جس نے انکو یہ سب کچھ دیا بخشا ہے کہ آخر وہ کون قادر مطلق، حکیم مطلق اور مہربان مطلق ہے جس نے ہماری ضروریات زندگی کے لئے ایسے ایسے عظیم الشان انتظامات فرمائے ہیں ؟ اس کا ہم پر کیا حق ہے اور اس کے اس حقِّ واجب کو پہچاننے اور اس کو ادا کرنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور زمین کے اندر پائے جانے والے یہ عظیم الشان نشانہائے قدرت اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دے رہے ہیں اور اس واہب مطلق کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کے گیت گا رہے ہیں۔ سو انسان اگر صحیح طریقے سے ان عظیم الشان نشانہائے قدرت میں غور و فکر سے کام لے تو اس کو حق و ہدایت کی وہ صراط مستقیم نصیب ہوسکتی ہے جو اس کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی ضامن و کفیل ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 21:3241 آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو آسمان کی سقف محفوظ اس مالک الملک کی وحدانیت مطلقہ کا ایک اور عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے۔ ایسی محفوظ اور اس قدر مضبوط چھت جو نہ گرتی ہے اور نہ اس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت ہوتی ہے۔ اور جو تمام سیاروں ستاروں کے بالائی نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اور اس طرح آسمان کا یہ سقف محفوظ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت اور اس کی عظمت و عنایت کے ایک عظیم الشان شاہکار کے طور پر دنیا پر تنا ہوا اور ان کو ہر وقت اور ہر جگہ درس عبرت دے رہا ہے اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اہل دنیا کو دعوت غور و فکر دے رہا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی عظمت کو پہچان کر صدق دل سے اس کے آگے جھک جائیں۔ یہ اس کا اپنے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں اس کے بندوں کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا راز مضمر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نشانیاں طلب کرنے والے لوگ آخر آسمان کے اس سقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت و پہنائی کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ چھت کب بنی لیکن اس کی اس قدر وسعت اور اتنی طویل مدت کے باوجود اس میں کسی معمولی سے معمولی خلل یا نقصان اور پھٹن و شگاف کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ یہ ہر قسم کے نقص و قصور اور پھٹن و شگاف اور کہنگی وغیرہ کے ہر اثر و نشان سے پاک و محفوظ ہے۔ تو آخر یہ کس کی قدرت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک جو معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -