21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 21:1–7

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں اعراض کیے ہوئے ہیں

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

اس حال میں کہ ان کے دل غفلت میں ہیں اور جن لوگوں نے ظلم کیا انہوں نے چپکے چپکے سر گوشی کی کہ یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہارے جیسا انسان ہے۔ کیا تم دیکھتے ہوئے جادو کو مانتے ہو۔

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

اس نے کہا میرا رب بات کو جانتا ہے آسمان میں اور زمین میں اور وہ سننے والا جاننے والا ہے

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ یہ تو خوابوں کی گٹھڑیاں ہیں۔ بلکہ یوں کہا کہ اس شخص نے جھوٹ بنا لیا ہے بلکہ وہ شاعر ہے سو چاہئے کہ ہمارے پاس نشانی لے کر آئے جیسا کہ اس سے پہلے لوگ نشانیاں دیکر بھیجے گئے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے کسی بستی والے ایمان نہیں لائے جسے ہم نے ہلاک کیا، سو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے جن کو رسول بنا کر بھیجا وہ مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ سو تم اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے ہو

منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے پھر آخر سورة تک مختلف مواعظ ہیں اور انہیں کے ذیل میں یاجوج و ماجوج کے خروج اور وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا گیا کہ لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ اپنی غفلتوں میں رو گردانی کیے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی فکر نہیں کہ قیامت ہوگی اور حساب ہوگا اور یہ ان کی غفلت اس لیے ہے کہ وقوع قیامت کو مانتے ہی نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھی نئی نصیحت ان کے پاس آتی ہے یعنی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں اور ان کے دل غافل ہوتے ہیں اور رسول اللہ کی تکذیب بھی کرتے ہیں اور چپکے چپکے آپس میں یوں کہتے ہیں کہ یہ شخص جو یوں کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یہ تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہے اور یہ جو کچھ معجزہ کے نام سے تمہیں دکھاتا ہے یہ جادو ہے۔ کیا تم جانتے بوجھتے جادو کو مان لو گے اور اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ان کی ان باتوں کا جواب رسول اللہ نے یوں دیا کہ آسمان میں اور زمین میں جو بات ہوتی ہے کیسی ہی خفیہ اور پوشیدہ ہو میرا رب اسے خوب جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ تمہاری باتوں کا اسے علم ہے وہ ان کی سزا دے گا۔ ان لوگوں نے قرآن مجید کو ماننے سے بھی انکار کیا اور کہنے لگے کہ یہ تو خوابوں کی گٹھڑیاں ہیں۔ ان کو خواب میں کچھ باتیں سمجھ میں آجاتی ہیں انہیں کو پیش کردیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا۔ اس سے بڑھ کر انہوں نے یوں کہا کہ یہ باتیں خود ہی اپنے پاس سے بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ شاعر ہے۔ وہ لوگ یہ سب عناد اور ضد میں کہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ شاعر نہیں اور جو اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں وہ نہ شعر ہے نہ شاعری ہے۔ شاعروں کی تک بندیوں اور دنیائے خیالات کی باتوں سے بلند اور بالا ہے۔ یہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ جو نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو جیسے ان سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) نشانیاں لے کر آئے یہ بھی کوئی ایسی نشانی لے کر آئیں۔ معجزات تو بہت تھے جنہیں بارہا دیکھتے رہتے تھے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے جس کی چھوٹی سی ایک سورة کے مقابلہ میں ذرا سی عبارت بنا کر لانے سے بھی عاجز تھے۔ لیکن ان معجزات موجودہ کے علاوہ اپنے فرمائشی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ معاندین کی اس بات کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ لوگوں کا پابند نہیں کہ جو لوگ معجزہ چاہیں وہی بھیجے۔ اور ان سے پہلے بعض امتوں کے پاس فرمائشی معجزہ آیا وہ پھر بھی ایمان نہ لائے لہٰذا ہلاک کردیئے گئے۔ اسی کو فرمایا (مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا) ان سے پہلے کسی بستی والے جن کو ہم نے ہلاک کیا (فرمائشی معجزات ظاہر ہونے پر بھی) ایمان نہ لائے (اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ ) (کیا یہ ایمان لے آئیں گے) اگر یہ ایمان نہ لائے تو پرانی امتوں کی طرح ان پر بھی عذاب نازل ہوجائے گا اور چونکہ ابھی عذاب نازل فرمانا قضا و قدر میں نہیں ہے اس لیے فرمائشی معجزات ظاہر نہیں کیے جاتے۔ وہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ صاحب جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ تو تمہاری طرح کے آدمی ہیں اور ان کا مطلب یہ تھا کہ آدمی نبی اور رسول نہیں ہوسکتا۔ ان کے جواب میں اللہ جل شانہ نے فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رْجَالًا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب مرد ہی تھے۔ یعنی آدمی ہی تھے۔ ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے) نبی اور غیر نبی میں وحی آنے نہ آنے کا فرق ہے۔ ایسا کوئی قانون نہیں کہ جو نبی ہو وہ بشر نہ ہو۔ (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) (اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں فسئلوا ایھا الجھلۃ اھل الکتاب الواقفین علی احوال الرسل السالفۃ علیھم الصلوۃ والسلام لتزول شبھتکم مطلب یہ ہے کہ اے جاہلو اہل کتاب سے پوچھ لو جنہیں گزشتہ رسولوں کے حالات معلوم ہیں۔ وہ تمہیں بتادیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) انسان تھے، بشر تھے۔ تم اہل کتاب سے یہ مشورہ تو کرتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا امتحان کرنے کے لیے آپ سے کیا پوچھیں۔ ذرا یہ بھی تو پوچھ لو کہ پہلے جو انبیاء کرام تشریف لائے تھے کیا وہ بشر کے علاوہ کسی دوسری جنس کے افراد تھے۔ تمہیں تو انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کی خاص خبر بھی نہ تھی۔ اہل کتاب ہی کے بتانے سے تمہیں ان کے بارے میں کچھ علم ہوا ہے اور اہل کتاب ہی کے سمجھانے سے تم نے یہ کہا ہے (فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ) تم ان سے معلوم کرتے رہتے ہو تو یہ بھی معلوم کرو کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) بشر تھے یا بشر کے علاوہ اور کسی جنس سے تھے ؟ جب تم ان سے پوچھو گے اور وہ صحیح جواب دیں گے تو یہی بتائیں گے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) انسان تھے بشر تھے۔ جب وہ حضرات بشر تھے تو خاتم النّبیین ﷺ کے بشر ہوتے ہوئے نبی ہونے پر کیا اعتراض ہے۔
Ayah 21:8

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو کوئی ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

مزید فرمایا (وَ مَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ ) (کہ ہم نے رسولوں کے ایسے بدن نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں) چونکہ وہ فرشتے نہیں تھے بشر تھے اس لیے کھانا بھی کھاتے تھے اور کھانا کھانا مقام نبوت کے منافی نہیں ہے۔ سورة فرقان میں فرمایا (وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِِلَّا اِِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر ایسے رسول جو کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے) ۔ (وَ مَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ) (اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے) وہ انسان ہی تھے۔ انسانوں کی طرح انہیں بھی موت آئی اور موت کا آنا بھی نبوت کے منافی نہیں ہے۔
Ayah 21:9

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچ کر دکھایا سو ہم نے انہیں اور جس جس کو چاہا نجات دے دی اور ہم نے حد سے نکلنے والوں کو ہلاک کردیا۔

(ثُمَّ صَدَقْنٰھُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰھُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ ) پھر ہم نے انبیاء کرام سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچ کر دکھایا یعنی ان کو اور ان کے علاوہ جس جس کو چاہا (جو اہل ایمان تھے) نجات دے دی (وَ اَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ ) اور حد سے آگے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 21:10

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا تم نہیں سمجھتے۔

آخر میں فرمایا (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل کی جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا تم نہیں سمجھتے) بعض حضرات نے ذکر کم کا مطلب یہ بتایا ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کی وجہ سے عرب کی عزت ہے اور دائمی شہرت ہے۔ قرآن کی برکت سے ان لوگوں کو عروج ہوا۔ عرب و عجم کے فاتح بنے۔ قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے دنیا میں عرب کی کوئی بھی حیثیت نہ تھی۔ قرآن کی وجہ سے انہیں بلندی ملی۔ اب اس بلندی کی لاج رکھنا ان کا اپنا کام ہے۔ یہ معنی لیا جائے تو الفاظ قرآنیہ کے مناسب ہے۔ (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) یہ حکم سورة نحل میں بھی گزر چکا ہے۔ اس میں حکم ہے کہ جسے معلوم نہیں وہ اہل علم سے پوچھ لے۔ اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ ہر وہ آدمی جسے احکام شریعت معلوم نہیں اس پر واجب ہے کہ اہل علم کی تقلید کرے اور جو مسئلہ معلوم نہ ہو اس کے لیے علماء سے رجوع کرے۔ جاہل رہنا عذر شرعی نہیں ہے۔ خلاف شرع کام کرے اور پھر یوں کہہ دے کہ مجھے پتہ نہ تھا اس سے دنیا میں یا آخرت میں چھٹکارا نہ ہوگا۔ بہت سے لوگ قصداً و عمداً علم دین حاصل نہیں کرتے اور اپنی اولاد کو بھی نہیں پڑھاتے اور اپنے حالات و معاملات میں احکام شرعیہ کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب کوئی ٹوکتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہ تھا۔ پتہ کے پاؤں تو نہیں ہیں کہ خود سے چل کر آئے۔ پتہ کرنا پڑتا ہے۔ علماء کے پاس جانا پڑتا ہے۔ علم سے دور رہنا اور بیزار رہنا اور جہالت کو عذر بنانا شریعت کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی۔
Ayahs 21:11–12

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو توڑ دیا جو ظلم کرنے والی تھیں، اور ہم نے ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا فرما دیا،

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

سو جب انہوں نے ہمارا عذاب آتا دیکھا تو اس بستی سے بھاگنے لگے

ہلاک ہونے والی بستیوں کی بدحالی ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو عبرت دلائی ہے اور پرانی بستیوں کی ہلاکت بتا کر یاد دہانی فرمائی ہے کہ تم سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظلم کرتی تھیں۔ یہ ظلم کفر و شرک اختیار کرنے کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے انہیں تباہ کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ عذاب آ رہا ہے تو وہاں سے دوڑ کر جانے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ مت دوڑو۔ تم جس عیش و عشرت میں لگے ہوئے تھے اور جن گھروں میں رہتے تھے انہیں میں واپس آجاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ تم جس ساز و سامان اور جن مکانوں پر گھمنڈ کرتے تھے اور اتراتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کہاں ہے جائے پناہ اور کہاں ہے حفاظت کی جگہ ؟ جب عذاب آ ہی گیا تو کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی ! ہم ظالم تھے ! کیونکہ عذاب آجانے کے وقت توبہ کرنا اور ظلم کا اقرار کرنا کچھ مفید نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ لوگ اپنی یہی بات کہتے رہے کہ ہائے ہائے ہم ظالم تھے۔ یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بجھی ہوئی حالت میں کردیا۔ لفظ قصمنا کا اصل معنی توڑ دینے کا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ تکلیف کو قاصم الظھر کمر توڑنے والی کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ لفظ لا کر ہلاک شدہ بستیوں کی پوری طرح تباہی بیان فرمائی ہے۔ اور رکض گھوڑے کے پاؤں مارنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑنا شروع کرتے ہیں اور اسے ایڑی مارتے ہیں۔ اس لفظ کو بھاگ جانے کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
Ayahs 21:13–17

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

مت بھاگو اور ان چیزوں کی طرف جن میں تم عیش میں پڑے ہوئے تھے اور اپنے گھروں کی طرف واپس آجاؤ تاکہ تم سے سوال کیا جائے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہائے ہماری خرابی بیشک ہم ظلم کرنے والے تھے۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

سو برابر ان کا یہی کہنا رہا یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بجھی ہوئی حالت میں کردیا۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھلونا بناتے تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے اگر ہم کرنے والے ہوتے

(لاَتَرْکُضُوْا) جو فرمایا اس سے پہلے قیل لھم حذف ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ عذاب دیکھ کر بھاگنے لگے تو ان سے عذاب کے فرشتوں نے یا ان اہل ایمان نے جو وہاں موجود تھے بطور استہزا اور تمسخریوں کہا کہ ٹھہرو کہاں دوڑتے ہو۔ تمہیں تو اپنی نعمت اور دولت عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ اپنے گھروں کو مزین کر رکھا تھا اور اونچے اونچے مکان بنا کر فخر کرتے تھے۔ آؤ دیکھو تمہارے مکان کہاں ہیں ؟ تم سے کوئی سوال کرنے والا سوال کرے تو اس کا جواب دو ۔ اب تو ظلم اور عیش و عشرت کا نتیجہ دیکھ لیا۔ بتاؤ کیا انجام ہوا ؟ (حَصِیْدًا خَامِدِیْنَ ) اس میں ہلاک شدہ لوگوں کا انجام بتایا ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی کو کہتے ہیں اور خامدین خمود سے مشتق ہے۔ جو بجھنے کے معنی میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہلاک ہوئے تو ان کے اجسام کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ جیسے کھیتی کاٹ کر ڈھیر لگا دیا جاتا ہے۔ اور ان کی شوں شاں اور کروفر ایسی ختم ہوگئی جیسے جلتی ہوئی شمعیں بجھا دی جائیں اور آگ جل کر ٹھنڈی ہوجائے اور ذرا بھی روشن نہ رہے۔ قرآن مجید میں یہاں مطلقاً یوں فرمایا ہے کہ ” کتنی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا “ کسی خاص بستی اور خاص علاقہ کا ذکر نہیں ہے اور عبرت دلانے کے لیے یہ اجمال کافی ہے۔ لیکن بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اہل حضرموت مراد ہے جو یمن کا ایک علاقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک نبی بھیجا تھا۔ انہوں نے اسے جھٹلایا اور قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے انہیں قتل کیا اور قید کیا۔ جب قتل کا سلسلہ جاری ہوا تو پشیمان ہوئے اور بھاگنے لگے تو ان سے کہا گیا (لَا تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا) (الآیۃ) ۔ (معالم التنزیل، ص 240، ج 3)
Ayahs 21:18–20

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں سو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پھر وہ چلا جاتا ہے، اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اس کی وجہ سے تمہارے لیے خرابی ہے، اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے، اور جو بندے اللہ کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے، اور نہ وہ تھکتے ہیں،

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات دن اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں، ان میں سستی نہیں آتی

اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار فرمائیں۔ دنیا میں چونکہ حق و باطل کا معرکہ رہتا ہے اور آخر میں حق ہی غالب ہوتا ہے اس لیے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا (نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْ مَغُہٗ ) کہ ہم حق کو باطل پر پھینک دیتے ہیں سو وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے۔ یعنی اس کو مغلوب کردیتا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل اصل الدمغ شج الراس حتی یبلغ الدماغ فاذا ھو ذاھق سو باطل مغلوب ہو کر دفع ہوجاتا ہے۔ (وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو یعنی حق کے خلاف بولتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں جو ایسی باتیں کرتے ہو جن سے وہ پاک ہے اس حرکت کی وجہ سے تمہارے لیے خرابی ہے، یعنی ہلاکت ہے۔ (وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الآیتین) اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی مملوک اور مخلوق ہے اور جو بندے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سر کشی نہیں کرتے اور اس میں عار نہیں سمجھتے کہ وہ اس کی عبادت میں مشغول ہوں۔ وہ برابر اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ذرا سستی نہیں کرتے۔ رات دن اس کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ تھکنے کا نام نہیں۔ ان تسبیح و تقدیس میں مشغول رہنے والوں سے فرشتے مراد ہیں۔ اس کی عبادت اور تسبیح اور تقدیس میں مشغول علی الدوام ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معبود برحق مانتے اور جانتے ہیں۔ اہل دنیا میں جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ اپنی جہالت اور بےعقلی سے شرک میں مبتلا ہیں۔
Ayahs 21:21–22

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین کی چیزوں میں سے معبود بنا لئے ہیں جو زندہ کرتے ہیں ؟

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر آسمان میں اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو ان دونوں کا نظام درہم برہم ہوجاتا، سو اللہ جو عرش والا ہے اس چیز سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

توحید کے دلائل اور فرشتوں کی شان عبدیت کا تذکرہ ان آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفات جلیلہ بیان کی ہیں۔ (مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِھَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ھُمْ یُنْشِرُوْنَ ) (کیا ان لوگوں نے زمین میں سے کاٹ چھانٹ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہیں) یعنی انہوں نے اجزائے زمین سے معبود تو بنا لیے جنہیں پتھروں سے تراشا اور لکڑی وغیرہ سے بنایا ہے لیکن یہ باطل معبود ہیں۔ اگر حقیقی معبود ہوتے تو مردوں کو زندہ کردیتے۔ جب یہ بات نہیں ہے تو ان کو معبود بنانا سراسر حماقت ہے۔ وہ کیا زندہ کرتے وہ تو خود ہی بےجان ہیں۔ سورة نحل میں فرمایا (اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) (وہ مردے ہیں زندہ نہیں ہیں انہیں پتہ نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے) (لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا) اگر آسمان زمین میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ چونکہ ایک کی مشیت کچھ ہوتی دوسرے کا ارادہ کچھ اور ہوتا، اس طرح سے ٹکراؤ ہوجاتا اور اس ٹکراؤ کا اثر آسمان و زمین کے نظام پر ہونا لازم تھا۔ جب آسمان زمین میں فساد نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ معبود صرف ایک ہی ہے۔ ایک سے زیادہ نہیں ہے۔ اس مضمون کو سورة مومنون میں یوں فرمایا (مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِِلٰہٍ اِِذًا لَّذَھَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلاَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) (اللہ نے کوئی اولاد اپنے لیے نہیں بنائی نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا اللہ اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ سب باتیں نہیں ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معبود صرف ایک ہی ہے (فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) (سو اللہ جو عرش کا مالک ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 21:23

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا اور ان لوگوں سے بازپرس ہوتی ہے

(لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) وہ قادر مطلق ہے مختار کامل ہے۔ احکم الحاکمین ہے۔ کسی کی کوئی مجال نہیں کہ اس سے کوئی باز پرس کرے اور یوں پوچھے کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔ (وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) اور اس کی مخلوق سے باز پرس کی جاتی ہے اور کی جائے گی یعنی دنیا میں بھی ان سے مواخذہ ہے اور آخرت میں بھی۔ جس کسی نے غلط عقائد اختیار کیے اور برے اعمال کیے اس سے باز پرس ہوگی اور مستحق سزا ہوگا۔
Ayah 21:24

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس کے سوا معبود بنالئے ہیں آپ فرما دیجیے اپنی دلیل لاؤ، یہ ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور جو مجھ سے پہلے تھے، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے سو وہ اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں،

(اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ) (کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا معبود تجویز کرلیے ہیں۔ (یہ استفہام انکاری بطور توبیخ کے ہے) ۔ (قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ شرک کے جواز پر اپنی دلیل لے آؤ) تم اس پر کوئی بھی دلیل نہیں لاسکتے۔ شرک کرنا بےدلیل ہے۔ عقلاً بھی قبیح ہے اور نقلاً بھی۔ حضرات انبیاء (علیہ السلام) جو پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی شرک سے منع کیا ہے اور کتب الٰہیہ میں شرک کا گمراہی ہونا مذکور ہے۔ اسی کو فرمایا (ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ ) (یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے یعنی قرآن مجید اور جو حضرات مجھ سے پہلے تھے ان کی کتابیں یعنی توراۃ و انجیل بھی موجود ہیں۔ ان سب میں شرک کی قباحت بتائی ہے اور شرک کو گمراہی بتایا ہے۔ سو عقلاً و نقلاً شرک مذموم ہے اور قبیح ہے۔ (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (بلکہ ان میں اکثر وہ ہیں جو حق کو نہیں جانتے سو وہ اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:25

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم نے اس کی طرف یہ وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کرو،

(وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو تم میری عبادت کرو) اس میں مشرکین اہل کتاب کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی معبود بتاتے تھے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے ہماری طرف سے یہی بات پہنچائی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم اس کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو۔ اور اپنے دین شرک کو نبیوں کی طرف منسوب کرنے کی گمراہی میں کیوں مبتلا ہو ؟ اس کے بعد ان لوگوں کی تردید فرمائی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ ا
Ayahs 21:26–29

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ رحمن نے بیٹا بنا لیا ہے وہ پاک ہے بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے اور وہ اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو ان کے اگلے پچھلے احوال ہیں اور وہ کسی کے لیے سفارش نہیں کریں گے بجز ایسے شخص کے جس کی سفارش کرنے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو۔ اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور ان میں سے جو شخص یوں کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں سو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں گے۔ ہم اسی طرح ظالموں کو جزا دیا کرتے ہیں۔

رشاد فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ) (الایۃ) کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ یکسر وہ حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ وہ ہیبت الٰہی سے ڈرتے رہتے ہیں اور سفارش بھی اسی کے لیے کرسکتے ہیں جس کے لیے سفارش کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہو، ان میں سے کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معبود ہوں۔ بالفرض اگر ایسا کہے گا تو دیگر مدعیان الوہیت کی طرح وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔
Ayahs 21:30–32

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے ان دونوں کو کھول دیا، اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا کیا وہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے،

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں جمنے والی چیزیں بنا دیں تاکہ وہ ان کو لے کر نہ ہلے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنا دیئے تاکہ وہ راہ پالیں،

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا دیا اور وہ ہماری نشانیوں سے اعراض کیے ہوئے ہیں،

مزید دلائل توحید کا بیان، تخلیق ارض و سما، پہاڑوں کا جما دینا اور شمس و قمر کا ایک ہی دائرہ میں گردش کرنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی صفت خالقیت کو بیان فرمایا ہے اور مخلوق میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان کو بطور نشانی کے پیش فرما کر اہل کفر کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین سب بند تھے۔ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیدا ہوتا تھا۔ پھر ہم نے انہیں اپنی قدرت سے کھول دیا۔ بارشیں بھی خوب ہونے لگیں اور زمین سے نباتات بھی نکلنے لگی۔ یہ چیزیں منکرین کے سامنے ہیں۔ کچھ لوگ تو خالق ومالک کو مانتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو مانتے تو ہیں لیکن وہ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے کافروں کو ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیکھ کر توحید کا قائل ہونا لازم تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ قدرت الٰہیہ کے مظاہر بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ) (اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا) اس عموم میں جتنے بھی جاندار ہیں سب داخل ہیں اور من الماء سے بارش کا پانی مراد ہے جس کا کسی نہ کسی درجہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ جاندار چیزوں کے پیدا ہونے میں یا زندہ رہنے میں دخل ہے۔ یہ بھی بہت بڑی نشانی ہے جو اہل عقل کے لیے کافی ہے۔ لیکن کافر پھر بھی منکر ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ بارش برسانے والا اور اس پانی کو زندگی کا ذریعہ بنانے والا صرف خالق وحدہ لا شریک لہ ہی ہے، ایمان نہیں لاتے۔ مزید فرمایا (وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِھِمْ ) (یعنی ہم نے زمین میں بھاری بوجھل چیزیں بنا دیں جو زمین پر مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہیں تاکہ وہ لوگوں کو لے کر نہ ہلے) ان بھاری چیزوں سے پہاڑ مراد ہیں۔ جیسا کہ سورة النازعات میں فرمایا (وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا) (اور زمین میں پہاڑوں کو جما دیا) اور سورة والمرسلات میں فرمایا (وَ جَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ ) (اور ہم نے اس میں اونچے اونچے پہاڑ بنا دیئے جو اپنی جگہ پر مضبوطی کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں) ۔ یہ پہاڑ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہیں۔ ان کے جو دوسرے فوائد ہیں وہ اپنی جگہ ہیں۔ ان کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اونچے بھی ہیں، بوجھل بھی ہیں، زمین کے اوپر بھی ہیں، اندر بھی ہیں۔ زمین میں میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں۔ سورة النباء میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھَادًا وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا) (کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا) یہ پہاڑ زمین کو حرکت نہیں کرنے دیتے اور زمین پر رہنے والے اطمینان اور سکون سے رہتے اور بستے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام بھی ہے اور اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی بھی ہے۔ یہ تو زمین کے عام احوال کے اعتبار سے ہے پھر جب کبھی کسی جگہ پر اللہ تعالیٰ کو زلزلہ بھیجنا ہوتا ہے تو انہیں پہاڑوں کے ہوتے ہوئے زمین میں زلزلہ آجاتا ہے اور خود پہاڑ بھی اس کی زد میں آکر چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ (وَ جَعَلْنَافِیْھَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (اور ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنا دیئے تاکہ وہ راہ پالیں) یعنی بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں۔ یہ راستے ایک شہر سے دوسرے شہر کو ملاتے ہیں۔ ان میں پیدل اور سواریوں پر گزرتے ہیں۔ پہاڑوں تک میں اللہ تعالیٰ نے راستے بنا دیئے ہیں۔ ادھر ادھر پہاڑ ہیں، درمیان میں ایک گاڑی کے چلنے کا راستہ ہے جنہیں عموماً مسافر جانتے ہیں۔ سورة نوح میں فرمایا (وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلًا فِجَاجًا) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو) (وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًامَّحْفُوْظًا) (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا) اور یہ آسمان زمین کے لیے چھت کی طرح سے ہے اور محفوظ بھی ہے۔ گرنے سے بھی محفوظ ہے اور ٹوٹنے پھوٹنے سے بھی۔ پھر جب قیامت آئے گی اس وقت آسمان پھٹ پڑیں گے اس سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ فرما رکھا ہے۔ جس طرح ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہیں اسی طرح شیاطین سے بھی محفوظ ہیں۔ جیسا کہ سورة حجر میں فرمایا (وَ حَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ) (اور ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے محفوظ فرمایا مگر یہ کہ ان میں سے کوئی چوری سے بات سن بھاگے، اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے) (وَّ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِھَا مُعْرِضُوْنَ ) (اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے اعراض کیے ہوئے ہیں) آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر کھلی ہوئی دلیلیں ہیں۔ لوگ قصداً ان سے اعراض کرتے ہیں اور ایمان کی طرف نہیں آتے۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جس نے رات کو اور دن کو اور چاند کو اور سورج کو بنایا سب ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں۔

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے رات کو اور دن کو اور چاند کو اور سورج کو پیدا فرمایا) یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جو شخص بھی ان میں غور کرے گا اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق اور حکیم مطلق اور مدبر ہونے کا اعتقاد رکھنے پر مجبور ہوگا۔ (کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستے مقرر فرما دیئے ہیں۔ ان میں رواں رواں ہیں) ۔ انہیں راستوں پر چلتے ہیں۔ عربی میں فلک گول چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ دائرہ سے کیا گیا ہے۔ صاحب جلالین لکھتے ہیں فی فلک ای مستدیر کالطاحونۃ فی السماء یسبحون یسرون بسرعتہ کالسابح فی الماء یعنی وہ چکی کی طرح گول دائرہ میں اسی تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں جیسے پانی میں تیرنے والا چلتا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا (لا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (نہ سورج کے لیے یہ بات درست ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب گول دائرہ میں تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں) ۔
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا، اگر آپ کی وفات ہوجائے تو وہ لوگ کیا ہمیشہ رہیں گے،

منکرین و معاندین کا آپ کی موت کا آرزو مند ہونا اور آپ کے ساتھ تمسخر کرنا، اور تمسخر کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہونا اہل مکہ و دیگر مشرکین رسول اللہ ﷺ کے دنیا کے رخصت ہونے کا انتظار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ بس جی ان کی یہ باتیں تھوڑے ہی دن کی ہیں چند دن میں ختم ہوجائیں گی۔ چند دن ان کی زندگی ہے آج دنیا سے گئے کل دوسرا دن۔ کون انہیں پوچھے گا اور ان کی باتیں کہاں تک چلیں گی ؟ اسی کو سورة طور میں فرمایا (اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ) لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خود ہمیں ہی دنیا میں کتنے دن رہنا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا (وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ) (کہ ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لیے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا) دنیا میں جو بھی آئے ہیں سب کو موت سے دو چار ہونا ہے۔ (اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ ) (اگر آپ کی وفات ہوگئی تو کیا یہ ہمیشہ رہیں گے) مرنا تو ان کو بھی ہے اور حال یہ ہے کہ آپ کی موت کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ مزید فرمایا (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ) (ہر جان موت کو چکھنے والی ہے) جب سب کو مرنا ہی ہے اور قیامت کے دن جمع ہونا ہے تو ہر شخص اس کی فکر کرے کہ وہاں میرا کیا ہوگا، اللہ کے نبی کی تکذیب کرنے پر عذاب ہوگا اور اس سے چھٹکارا کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے فکر مند ہوں تو ایمان کی توفیق ہوجائے گی۔ اس میں بھی مخالفین کے اس گمان کی تردید ہے کہ محمد عنقریب دنیا سے اٹھ جائیں گے تو ہم لوگوں سے کہیں گے کہ دیکھو اگر یہ نبی ہوتے تو وفات کیوں پاتے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور ہم تمہیں بری اور بھلی حالتوں کے ذریعہ اچھی طرح آزماتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف واپس کردیئے جاؤ گے،

آپ سے پہلے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے وہ بھی تو وفات پا گئے لہٰذا اس انتظار میں رہنا کہ ان کی وفات ہوجائے تو ہم لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ نبی ہوتے تو وفات کیوں پاتے، ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔ مزید فرمایا (وَ نَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً ) (ہم تمہیں بطور آزمائش شر اور خیر کے ساتھ جانچیں گے) یعنی تمہارا امتحان کریں گے اس زندگی میں اچھی حالت بھی پیش آئے گی (جیسے تندرستی، مالداری، خوشی اور ازواج اولاد کا موجود ہونا) اور بد حالی بھی پیش آئے گی (مثلاً رنجیدہ ہونا، مرض اور تنگدستی کا پیش آنا، اولاد کا مرنا وغیرہ وغیرہ) زندگی میں یہ سب چیزیں آزمائش کے طور پر پیش آتی ہیں۔ کون ایمان لاتا ہے اور اللہ کا فرمانبر دار ہوتا ہے، اور کون کفر اور نافرمانی کی زندگی گزارتا ہے، مختلف احوال سے اشخاص و افراد کو آزمایا جاتا ہے۔ اسی آزمائش میں یہ بھی ہے کہ بعض مرتبہ کافر دنیاوی احوال کے اعتبار سے آرام اور آسائش میں ہوتے ہیں اور اہل ایمان تنگدستی اور مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان فقراء اور مساکین کو دیکھ کر اہل کفر یوں سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کے محبوب بندے ہیں اور اس طرح آزمائش میں فیل ہوجاتے ہیں۔ اپنی آسائش اور خوشحالی کو کفر پر جمنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں (العیاذ باللہ) (وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ) (اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے یعنی قیامت کے دن حاضر کیے جاؤ گے) اس دن حق اور ناحق کے فیصلے کردیئے جائیں گے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کو ہنسی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں کیا یہی ہے وہ جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ رحمن کے ذکر کا انکار کرتے ہیں،

اس کے بعد فرمایا (وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا) (جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کی ذات کو تمسخر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں) اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ) (کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے) یعنی تمہارے معبودوں کا انکار کرتا ہے اور ان کی عبادت پر اعتراض کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ یہ بےجان ہیں نفع اور ضرر کے مالک نہیں۔ وہ لوگ یہ بات آپ کی شان معظم کو گھٹانے کے لیے کہتے تھے اور ان کا مطلب یہ تھا کہ کوئی صاحب حیثیت دنیاوی جاہ و مرتبہ والا نہیں تھا جسے نبی بنایا جاتا ؟ کیا اس آدمی کو نبوت دی گئی ہے جو ہمارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ (وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور یہ لوگ رحمان کے ذکر کے منکر ہیں۔ یعنی نبی اکرم ﷺ نے جو ان کے باطل معبودوں کو برا کہا وہ تو انہیں کھل رہا ہے اور نا گوار ہو رہا ہے لیکن جو خود ان کی حرکت ہے اس پر توجہ نہیں دیتے۔ رحمن جل مجدہ جس نے انہیں اور ساری مخلوق کو پیدا فرمایا ہے نہ اس کی توحید کے قائل ہوتے ہیں نہ اس کی ذات عظیمہ اور صفات جلیلہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کو تو خود اپنی ذات پر ہنسنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اپنی حماقت اور ضلالت کا خیال نہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ کے سچے نبی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے، میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا، سو تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ

جب مشرکین کے سامنے دنیا میں عذاب آنے یا قیامت آنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو کہتے تھے کہ یہ ڈرانا خواہ مخواہ کا ہے۔ عذاب آنا ہی ہے تو بس آجائے دیر کیوں لگ رہی ہے۔ اسی کو فرمایا (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) یعنی اس کے مزاج میں جلد بازی رکھ دی گئی ہے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے عذاب کو بھی وقت سے پہلے بلانے کو تیار ہے۔ (سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ) (سو میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا سو تم مجھ سے عذاب کی جلدی مت مچاؤ) کیونکہ عذاب وقت مقرر سے پہلے نہیں آتا اور جب آجائے تو ٹالا نہیں جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی نشانیاں ظاہر ہوئیں جن میں غزوۂ بدر کے مواقع پر سردار ان قریش کا مارا جانا اور قید ہونا بھی تھا۔
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

(وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) عذاب کی باتیں سن کر تکذیب کرتے تھے اور چونکہ عذاب کی خبر سچی نہیں مانتے تھے اس لیے بار بار ایسی باتیں کہتے تھے کہ اجی ! عذاب آنے والا نہیں ہے۔ اگر آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا۔ ان لوگوں کی یہ بات قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر فرمائی ہے۔
Ayahs 21:39–40

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیتے جب اپنے چہروں سے آگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی،

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ آگ اچانک ان کے پاس آجائے گی سو وہ انہیں بدحواس کر دے گی، سو وہ اسے نہ ہٹا سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

یہاں ان کے جواب میں فرمایا (لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ بَلْ تَاْتِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ) (اگر کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی، بلکہ وہ آگ ان کے پاس اچانک آجائے گی سو وہ انہیں بد حواس بنا دے گی پھر وہ اسے ہٹا نہ سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی) یعنی جب وہ لوگ دوزخ کی آگ کی لپیٹ میں اور اس کی لپٹوں میں گھریں گے اگر انہیں اس وقت کی حالت کا علم ہوجاتا تو ایسی باتیں نہ بناتے، جب وہ لوگ انہیں گھیرے میں لیں گے تو ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اس وقت اسے نہ ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو یہ مہلت دی جائے گی کہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس آکر مومن بن جائیں اور دوبارہ مر کر پھر حاضر ہوں اور عذاب سے بچ جائیں، جب عذاب دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو بس داخل ہوگئے اور ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ اب وہاں سے نکلنے کا اور مہلت ملنے کا کوئی موقع نہیں۔