Ayahs 21:1–7منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے پھر آخر سورة تک مختلف مواعظ ہیں اور انہیں کے ذیل میں یاجوج و ماجوج کے خروج اور وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا ہے۔
اول تو یہ فرمایا گیا کہ لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ اپنی غفلتوں میں رو گردانی کیے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی فکر نہیں کہ قیامت ہوگی اور حساب ہوگا اور یہ ان کی غفلت اس لیے ہے کہ وقوع قیامت کو مانتے ہی نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھی نئی نصیحت ان کے پاس آتی ہے یعنی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں اور ان کے دل غافل ہوتے ہیں اور رسول اللہ کی تکذیب بھی کرتے ہیں اور چپکے چپکے آپس میں یوں کہتے ہیں کہ یہ شخص جو یوں کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یہ تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہے اور یہ جو کچھ معجزہ کے نام سے تمہیں دکھاتا ہے یہ جادو ہے۔ کیا تم جانتے بوجھتے جادو کو مان لو گے اور اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ان کی ان باتوں کا جواب رسول اللہ نے یوں دیا کہ آسمان میں اور زمین میں جو بات ہوتی ہے کیسی ہی خفیہ اور پوشیدہ ہو میرا رب اسے خوب جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ تمہاری باتوں کا اسے علم ہے وہ ان کی سزا دے گا۔ ان لوگوں نے قرآن مجید کو ماننے سے بھی انکار کیا اور کہنے لگے کہ یہ تو خوابوں کی گٹھڑیاں ہیں۔ ان کو خواب میں کچھ باتیں سمجھ میں آجاتی ہیں انہیں کو پیش کردیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا۔ اس سے بڑھ کر انہوں نے یوں کہا کہ یہ باتیں خود ہی اپنے پاس سے بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ شاعر ہے۔ وہ لوگ یہ سب عناد اور ضد میں کہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ شاعر نہیں اور جو اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں وہ نہ شعر ہے نہ شاعری ہے۔ شاعروں کی تک بندیوں اور دنیائے خیالات کی باتوں سے بلند اور بالا ہے۔
یہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ جو نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں اگر یہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو جیسے ان سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) نشانیاں لے کر آئے یہ بھی کوئی ایسی نشانی لے کر آئیں۔ معجزات تو بہت تھے جنہیں بارہا دیکھتے رہتے تھے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے جس کی چھوٹی سی ایک سورة کے مقابلہ میں ذرا سی عبارت بنا کر لانے سے بھی عاجز تھے۔ لیکن ان معجزات موجودہ کے علاوہ اپنے فرمائشی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ معاندین کی اس بات کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ لوگوں کا پابند نہیں کہ جو لوگ معجزہ چاہیں وہی بھیجے۔ اور ان سے پہلے بعض امتوں کے پاس فرمائشی معجزہ آیا وہ پھر بھی ایمان نہ لائے لہٰذا ہلاک کردیئے گئے۔ اسی کو فرمایا (مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا) ان سے پہلے کسی بستی والے جن کو ہم نے ہلاک کیا (فرمائشی معجزات ظاہر ہونے پر بھی) ایمان نہ لائے (اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ ) (کیا یہ ایمان لے آئیں گے) اگر یہ ایمان نہ لائے تو پرانی امتوں کی طرح ان پر بھی عذاب نازل ہوجائے گا اور چونکہ ابھی عذاب نازل فرمانا قضا و قدر میں نہیں ہے اس لیے فرمائشی معجزات ظاہر نہیں کیے جاتے۔
وہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ صاحب جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ تو تمہاری طرح کے آدمی ہیں اور ان کا مطلب یہ تھا کہ آدمی نبی اور رسول نہیں ہوسکتا۔ ان کے جواب میں اللہ جل شانہ نے فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رْجَالًا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب مرد ہی تھے۔ یعنی آدمی ہی تھے۔ ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے) نبی اور غیر نبی میں وحی آنے نہ آنے کا فرق ہے۔ ایسا کوئی قانون نہیں کہ جو نبی ہو وہ بشر نہ ہو۔ (فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) (اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں فسئلوا ایھا الجھلۃ اھل الکتاب الواقفین علی احوال الرسل السالفۃ علیھم الصلوۃ والسلام لتزول شبھتکم مطلب یہ ہے کہ اے جاہلو اہل کتاب سے پوچھ لو جنہیں گزشتہ رسولوں کے حالات معلوم ہیں۔ وہ تمہیں بتادیں گے کہ انبیاء (علیہ السلام) انسان تھے، بشر تھے۔ تم اہل کتاب سے یہ مشورہ تو کرتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا امتحان کرنے کے لیے آپ سے کیا پوچھیں۔ ذرا یہ بھی تو پوچھ لو کہ پہلے جو انبیاء کرام تشریف لائے تھے کیا وہ بشر کے علاوہ کسی دوسری جنس کے افراد تھے۔ تمہیں تو انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کی خاص خبر بھی نہ تھی۔ اہل کتاب ہی کے بتانے سے تمہیں ان کے بارے میں کچھ علم ہوا ہے اور اہل کتاب ہی کے سمجھانے سے تم نے یہ کہا ہے (فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ) تم ان سے معلوم کرتے رہتے ہو تو یہ بھی معلوم کرو کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) بشر تھے یا بشر کے علاوہ اور کسی جنس سے تھے ؟ جب تم ان سے پوچھو گے اور وہ صحیح جواب دیں گے تو یہی بتائیں گے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) انسان تھے بشر تھے۔ جب وہ حضرات بشر تھے تو خاتم النّبیین ﷺ کے بشر ہوتے ہوئے نبی ہونے پر کیا اعتراض ہے۔
Ayah 21:8مزید فرمایا (وَ مَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ ) (کہ ہم نے رسولوں کے ایسے بدن نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں) چونکہ وہ فرشتے نہیں تھے بشر تھے اس لیے کھانا بھی کھاتے تھے اور کھانا کھانا مقام نبوت کے منافی نہیں ہے۔ سورة فرقان میں فرمایا (وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِِلَّا اِِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر ایسے رسول جو کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے) ۔
(وَ مَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ) (اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے) وہ انسان ہی تھے۔ انسانوں کی طرح انہیں بھی موت آئی اور موت کا آنا بھی نبوت کے منافی نہیں ہے۔
Ayah 21:9(ثُمَّ صَدَقْنٰھُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰھُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ ) پھر ہم نے انبیاء کرام سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچ کر دکھایا یعنی ان کو اور ان کے علاوہ جس جس کو چاہا (جو اہل ایمان تھے) نجات دے دی (وَ اَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ ) اور حد سے آگے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 21:10آخر میں فرمایا (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل کی جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا تم نہیں سمجھتے) بعض حضرات نے ذکر کم کا مطلب یہ بتایا ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کی وجہ سے عرب کی عزت ہے اور دائمی شہرت ہے۔ قرآن کی برکت سے ان لوگوں کو عروج ہوا۔ عرب و عجم کے فاتح بنے۔ قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے دنیا میں عرب کی کوئی بھی حیثیت نہ تھی۔ قرآن کی وجہ سے انہیں بلندی ملی۔ اب اس بلندی کی لاج رکھنا ان کا اپنا کام ہے۔ یہ معنی لیا جائے تو الفاظ قرآنیہ کے مناسب ہے۔
(فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) یہ حکم سورة نحل میں بھی گزر چکا ہے۔ اس میں حکم ہے کہ جسے معلوم نہیں وہ اہل علم سے پوچھ لے۔ اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ ہر وہ آدمی جسے احکام شریعت معلوم نہیں اس پر واجب ہے کہ اہل علم کی تقلید کرے اور جو مسئلہ معلوم نہ ہو اس کے لیے علماء سے رجوع کرے۔ جاہل رہنا عذر شرعی نہیں ہے۔ خلاف شرع کام کرے اور پھر یوں کہہ دے کہ مجھے پتہ نہ تھا اس سے دنیا میں یا آخرت میں چھٹکارا نہ ہوگا۔ بہت سے لوگ قصداً و عمداً علم دین حاصل نہیں کرتے اور اپنی اولاد کو بھی نہیں پڑھاتے اور اپنے حالات و معاملات میں احکام شرعیہ کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب کوئی ٹوکتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہ تھا۔ پتہ کے پاؤں تو نہیں ہیں کہ خود سے چل کر آئے۔ پتہ کرنا پڑتا ہے۔ علماء کے پاس جانا پڑتا ہے۔ علم سے دور رہنا اور بیزار رہنا اور جہالت کو عذر بنانا شریعت کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی۔
Ayahs 21:11–12ہلاک ہونے والی بستیوں کی بدحالی
ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو عبرت دلائی ہے اور پرانی بستیوں کی ہلاکت بتا کر یاد دہانی فرمائی ہے کہ تم سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظلم کرتی تھیں۔ یہ ظلم کفر و شرک اختیار کرنے کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے انہیں تباہ کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ عذاب آ رہا ہے تو وہاں سے دوڑ کر جانے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ مت دوڑو۔ تم جس عیش و عشرت میں لگے ہوئے تھے اور جن گھروں میں رہتے تھے انہیں میں واپس آجاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ تم جس ساز و سامان اور جن مکانوں پر گھمنڈ کرتے تھے اور اتراتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کہاں ہے جائے پناہ اور کہاں ہے حفاظت کی جگہ ؟ جب عذاب آ ہی گیا تو کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی ! ہم ظالم تھے ! کیونکہ عذاب آجانے کے وقت توبہ کرنا اور ظلم کا اقرار کرنا کچھ مفید نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ لوگ اپنی یہی بات کہتے رہے کہ ہائے ہائے ہم ظالم تھے۔ یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بجھی ہوئی حالت میں کردیا۔
لفظ قصمنا کا اصل معنی توڑ دینے کا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ تکلیف کو قاصم الظھر کمر توڑنے والی کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ لفظ لا کر ہلاک شدہ بستیوں کی پوری طرح تباہی بیان فرمائی ہے۔ اور رکض گھوڑے کے پاؤں مارنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑنا شروع کرتے ہیں اور اسے ایڑی مارتے ہیں۔ اس لفظ کو بھاگ جانے کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
Ayahs 21:13–17(لاَتَرْکُضُوْا) جو فرمایا اس سے پہلے قیل لھم حذف ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ عذاب دیکھ کر بھاگنے لگے تو ان سے عذاب کے فرشتوں نے یا ان اہل ایمان نے جو وہاں موجود تھے بطور استہزا اور تمسخریوں کہا کہ ٹھہرو کہاں دوڑتے ہو۔ تمہیں تو اپنی نعمت اور دولت عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ اپنے گھروں کو مزین کر رکھا تھا اور اونچے اونچے مکان بنا کر فخر کرتے تھے۔ آؤ دیکھو تمہارے مکان کہاں ہیں ؟ تم سے کوئی سوال کرنے والا سوال کرے تو اس کا جواب دو ۔ اب تو ظلم اور عیش و عشرت کا نتیجہ دیکھ لیا۔ بتاؤ کیا انجام ہوا ؟
(حَصِیْدًا خَامِدِیْنَ ) اس میں ہلاک شدہ لوگوں کا انجام بتایا ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی کو کہتے ہیں اور خامدین خمود سے مشتق ہے۔ جو بجھنے کے معنی میں آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہلاک ہوئے تو ان کے اجسام کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ جیسے کھیتی کاٹ کر ڈھیر لگا دیا جاتا ہے۔ اور ان کی شوں شاں اور کروفر ایسی ختم ہوگئی جیسے جلتی ہوئی شمعیں بجھا دی جائیں اور آگ جل کر ٹھنڈی ہوجائے اور ذرا بھی روشن نہ رہے۔ قرآن مجید میں یہاں مطلقاً یوں فرمایا ہے کہ ” کتنی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا “ کسی خاص بستی اور خاص علاقہ کا ذکر نہیں ہے اور عبرت دلانے کے لیے یہ اجمال کافی ہے۔ لیکن بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اہل حضرموت مراد ہے جو یمن کا ایک علاقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک نبی بھیجا تھا۔ انہوں نے اسے جھٹلایا اور قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے انہیں قتل کیا اور قید کیا۔ جب قتل کا سلسلہ جاری ہوا تو پشیمان ہوئے اور بھاگنے لگے تو ان سے کہا گیا (لَا تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا) (الآیۃ) ۔ (معالم التنزیل، ص 240، ج 3)
Ayahs 21:18–20اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار فرمائیں۔
دنیا میں چونکہ حق و باطل کا معرکہ رہتا ہے اور آخر میں حق ہی غالب ہوتا ہے اس لیے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا (نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْ مَغُہٗ ) کہ ہم حق کو باطل پر پھینک دیتے ہیں سو وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے۔ یعنی اس کو مغلوب کردیتا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل اصل الدمغ شج الراس حتی یبلغ الدماغ فاذا ھو ذاھق سو باطل مغلوب ہو کر دفع ہوجاتا ہے۔ (وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو یعنی حق کے خلاف بولتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں جو ایسی باتیں کرتے ہو جن سے وہ پاک ہے اس حرکت کی وجہ سے تمہارے لیے خرابی ہے، یعنی ہلاکت ہے۔
(وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الآیتین) اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی مملوک اور مخلوق ہے اور جو بندے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سر کشی نہیں کرتے اور اس میں عار نہیں سمجھتے کہ وہ اس کی عبادت میں مشغول ہوں۔ وہ برابر اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ذرا سستی نہیں کرتے۔ رات دن اس کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ تھکنے کا نام نہیں۔ ان تسبیح و تقدیس میں مشغول رہنے والوں سے فرشتے مراد ہیں۔ اس کی عبادت اور تسبیح اور تقدیس میں مشغول علی الدوام ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معبود برحق مانتے اور جانتے ہیں۔ اہل دنیا میں جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ اپنی جہالت اور بےعقلی سے شرک میں مبتلا ہیں۔
Ayahs 21:21–22توحید کے دلائل اور فرشتوں کی شان عبدیت کا تذکرہ
ان آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفات جلیلہ بیان کی ہیں۔ (مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِھَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ھُمْ یُنْشِرُوْنَ ) (کیا ان لوگوں نے زمین میں سے کاٹ چھانٹ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہیں) یعنی انہوں نے اجزائے زمین سے معبود تو بنا لیے جنہیں پتھروں سے تراشا اور لکڑی وغیرہ سے بنایا ہے لیکن یہ باطل معبود ہیں۔ اگر حقیقی معبود ہوتے تو مردوں کو زندہ کردیتے۔ جب یہ بات نہیں ہے تو ان کو معبود بنانا سراسر حماقت ہے۔ وہ کیا زندہ کرتے وہ تو خود ہی بےجان ہیں۔ سورة نحل میں فرمایا (اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) (وہ مردے ہیں زندہ نہیں ہیں انہیں پتہ نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے) (لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا) اگر آسمان زمین میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو آسمان و زمین کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ چونکہ ایک کی مشیت کچھ ہوتی دوسرے کا ارادہ کچھ اور ہوتا، اس طرح سے ٹکراؤ ہوجاتا اور اس ٹکراؤ کا اثر آسمان و زمین کے نظام پر ہونا لازم تھا۔ جب آسمان زمین میں فساد نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ معبود صرف ایک ہی ہے۔ ایک سے زیادہ نہیں ہے۔ اس مضمون کو سورة مومنون میں یوں فرمایا (مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِِلٰہٍ اِِذًا لَّذَھَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلاَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) (اللہ نے کوئی اولاد اپنے لیے نہیں بنائی نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا اللہ اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ جب یہ سب باتیں نہیں ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معبود صرف ایک ہی ہے (فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ) (سو اللہ جو عرش کا مالک ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 21:23(لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) وہ قادر مطلق ہے مختار کامل ہے۔ احکم الحاکمین ہے۔ کسی کی کوئی مجال نہیں کہ اس سے کوئی باز پرس کرے اور یوں پوچھے کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔ (وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) اور اس کی مخلوق سے باز پرس کی جاتی ہے اور کی جائے گی یعنی دنیا میں بھی ان سے مواخذہ ہے اور آخرت میں بھی۔ جس کسی نے غلط عقائد اختیار کیے اور برے اعمال کیے اس سے باز پرس ہوگی اور مستحق سزا ہوگا۔
Ayah 21:24(اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ) (کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا معبود تجویز کرلیے ہیں۔ (یہ استفہام انکاری بطور توبیخ کے ہے) ۔
(قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ شرک کے جواز پر اپنی دلیل لے آؤ) تم اس پر کوئی بھی دلیل نہیں لاسکتے۔ شرک کرنا بےدلیل ہے۔ عقلاً بھی قبیح ہے اور نقلاً بھی۔ حضرات انبیاء (علیہ السلام) جو پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی شرک سے منع کیا ہے اور کتب الٰہیہ میں شرک کا گمراہی ہونا مذکور ہے۔ اسی کو فرمایا (ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ ) (یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے یعنی قرآن مجید اور جو حضرات مجھ سے پہلے تھے ان کی کتابیں یعنی توراۃ و انجیل بھی موجود ہیں۔ ان سب میں شرک کی قباحت بتائی ہے اور شرک کو گمراہی بتایا ہے۔ سو عقلاً و نقلاً شرک مذموم ہے اور قبیح ہے۔
(بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (بلکہ ان میں اکثر وہ ہیں جو حق کو نہیں جانتے سو وہ اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:25(وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو تم میری عبادت کرو) اس میں مشرکین اہل کتاب کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی معبود بتاتے تھے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے ہماری طرف سے یہی بات پہنچائی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم اس کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو۔ اور اپنے دین شرک کو نبیوں کی طرف منسوب کرنے کی گمراہی میں کیوں مبتلا ہو ؟ اس کے بعد ان لوگوں کی تردید فرمائی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے۔ ا
Ayahs 21:26–29رشاد فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ) (الایۃ) کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ یکسر وہ حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ وہ ہیبت الٰہی سے ڈرتے رہتے ہیں اور سفارش بھی اسی کے لیے کرسکتے ہیں جس کے لیے سفارش کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہو، ان میں سے کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معبود ہوں۔ بالفرض اگر ایسا کہے گا تو دیگر مدعیان الوہیت کی طرح وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔
Ayahs 21:30–32مزید دلائل توحید کا بیان، تخلیق ارض و سما، پہاڑوں کا جما دینا اور شمس و قمر کا ایک ہی دائرہ میں گردش کرنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی صفت خالقیت کو بیان فرمایا ہے اور مخلوق میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان کو بطور نشانی کے پیش فرما کر اہل کفر کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین سب بند تھے۔ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیدا ہوتا تھا۔ پھر ہم نے انہیں اپنی قدرت سے کھول دیا۔ بارشیں بھی خوب ہونے لگیں اور زمین سے نباتات بھی نکلنے لگی۔ یہ چیزیں منکرین کے سامنے ہیں۔ کچھ لوگ تو خالق ومالک کو مانتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو مانتے تو ہیں لیکن وہ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے کافروں کو ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیکھ کر توحید کا قائل ہونا لازم تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔
قدرت الٰہیہ کے مظاہر بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ) (اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا) اس عموم میں جتنے بھی جاندار ہیں سب داخل ہیں اور من الماء سے بارش کا پانی مراد ہے جس کا کسی نہ کسی درجہ میں بالواسطہ یا بلاواسطہ جاندار چیزوں کے پیدا ہونے میں یا زندہ رہنے میں دخل ہے۔ یہ بھی بہت بڑی نشانی ہے جو اہل عقل کے لیے کافی ہے۔ لیکن کافر پھر بھی منکر ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ بارش برسانے والا اور اس پانی کو زندگی کا ذریعہ بنانے والا صرف خالق وحدہ لا شریک لہ ہی ہے، ایمان نہیں لاتے۔ مزید فرمایا (وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِھِمْ ) (یعنی ہم نے زمین میں بھاری بوجھل چیزیں بنا دیں جو زمین پر مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہیں تاکہ وہ لوگوں کو لے کر نہ ہلے) ان بھاری چیزوں سے پہاڑ مراد ہیں۔ جیسا کہ سورة النازعات میں فرمایا (وَالْجِبَالَ اَرْسٰھَا) (اور زمین میں پہاڑوں کو جما دیا) اور سورة والمرسلات میں فرمایا (وَ جَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ ) (اور ہم نے اس میں اونچے اونچے پہاڑ بنا دیئے جو اپنی جگہ پر مضبوطی کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں) ۔
یہ پہاڑ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہیں۔ ان کے جو دوسرے فوائد ہیں وہ اپنی جگہ ہیں۔ ان کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اونچے بھی ہیں، بوجھل بھی ہیں، زمین کے اوپر بھی ہیں، اندر بھی ہیں۔ زمین میں میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں۔ سورة النباء میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھَادًا وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا) (کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا) یہ پہاڑ زمین کو حرکت نہیں کرنے دیتے اور زمین پر رہنے والے اطمینان اور سکون سے رہتے اور بستے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام بھی ہے اور اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی بھی ہے۔ یہ تو زمین کے عام احوال کے اعتبار سے ہے پھر جب کبھی کسی جگہ پر اللہ تعالیٰ کو زلزلہ بھیجنا ہوتا ہے تو انہیں پہاڑوں کے ہوتے ہوئے زمین میں زلزلہ آجاتا ہے اور خود پہاڑ بھی اس کی زد میں آکر چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ (وَ جَعَلْنَافِیْھَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (اور ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنا دیئے تاکہ وہ راہ پالیں) یعنی بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں۔
یہ راستے ایک شہر سے دوسرے شہر کو ملاتے ہیں۔ ان میں پیدل اور سواریوں پر گزرتے ہیں۔ پہاڑوں تک میں اللہ تعالیٰ نے راستے بنا دیئے ہیں۔ ادھر ادھر پہاڑ ہیں، درمیان میں ایک گاڑی کے چلنے کا راستہ ہے جنہیں عموماً مسافر جانتے ہیں۔ سورة نوح میں فرمایا (وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلًا فِجَاجًا) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو) (وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًامَّحْفُوْظًا) (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا) اور یہ آسمان زمین کے لیے چھت کی طرح سے ہے اور محفوظ بھی ہے۔ گرنے سے بھی محفوظ ہے اور ٹوٹنے پھوٹنے سے بھی۔ پھر جب قیامت آئے گی اس وقت آسمان پھٹ پڑیں گے اس سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ فرما رکھا ہے۔ جس طرح ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہیں اسی طرح شیاطین سے بھی محفوظ ہیں۔ جیسا کہ سورة حجر میں فرمایا (وَ حَفِظْنٰھَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ) (اور ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے محفوظ فرمایا مگر یہ کہ ان میں سے کوئی چوری سے بات سن بھاگے، اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے) (وَّ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِھَا مُعْرِضُوْنَ ) (اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے اعراض کیے ہوئے ہیں) آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر کھلی ہوئی دلیلیں ہیں۔ لوگ قصداً ان سے اعراض کرتے ہیں اور ایمان کی طرف نہیں آتے۔
Ayah 21:33پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے رات کو اور دن کو اور چاند کو اور سورج کو پیدا فرمایا) یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جو شخص بھی ان میں غور کرے گا اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق اور حکیم مطلق اور مدبر ہونے کا اعتقاد رکھنے پر مجبور ہوگا۔ (کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستے مقرر فرما دیئے ہیں۔ ان میں رواں رواں ہیں) ۔ انہیں راستوں پر چلتے ہیں۔
عربی میں فلک گول چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ دائرہ سے کیا گیا ہے۔ صاحب جلالین لکھتے ہیں فی فلک ای مستدیر کالطاحونۃ فی السماء یسبحون یسرون بسرعتہ کالسابح فی الماء یعنی وہ چکی کی طرح گول دائرہ میں اسی تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں جیسے پانی میں تیرنے والا چلتا ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا (لا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (نہ سورج کے لیے یہ بات درست ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب گول دائرہ میں تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں) ۔
Ayah 21:34منکرین و معاندین کا آپ کی موت کا آرزو مند ہونا اور آپ کے ساتھ تمسخر کرنا، اور تمسخر کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہونا
اہل مکہ و دیگر مشرکین رسول اللہ ﷺ کے دنیا کے رخصت ہونے کا انتظار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ بس جی ان کی یہ باتیں تھوڑے ہی دن کی ہیں چند دن میں ختم ہوجائیں گی۔ چند دن ان کی زندگی ہے آج دنیا سے گئے کل دوسرا دن۔ کون انہیں پوچھے گا اور ان کی باتیں کہاں تک چلیں گی ؟ اسی کو سورة طور میں فرمایا (اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ) لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خود ہمیں ہی دنیا میں کتنے دن رہنا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا (وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ) (کہ ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کے لیے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا) دنیا میں جو بھی آئے ہیں سب کو موت سے دو چار ہونا ہے۔ (اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ ) (اگر آپ کی وفات ہوگئی تو کیا یہ ہمیشہ رہیں گے) مرنا تو ان کو بھی ہے اور حال یہ ہے کہ آپ کی موت کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ مزید فرمایا (کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ) (ہر جان موت کو چکھنے والی ہے) جب سب کو مرنا ہی ہے اور قیامت کے دن جمع ہونا ہے تو ہر شخص اس کی فکر کرے کہ وہاں میرا کیا ہوگا، اللہ کے نبی کی تکذیب کرنے پر عذاب ہوگا اور اس سے چھٹکارا کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے فکر مند ہوں تو ایمان کی توفیق ہوجائے گی۔ اس میں بھی مخالفین کے اس گمان کی تردید ہے کہ محمد عنقریب دنیا سے اٹھ جائیں گے تو ہم لوگوں سے کہیں گے کہ دیکھو اگر یہ نبی ہوتے تو وفات کیوں پاتے۔
Ayah 21:35آپ سے پہلے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے وہ بھی تو وفات پا گئے لہٰذا اس انتظار میں رہنا کہ ان کی وفات ہوجائے تو ہم لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ نبی ہوتے تو وفات کیوں پاتے، ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔
مزید فرمایا (وَ نَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً ) (ہم تمہیں بطور آزمائش شر اور خیر کے ساتھ جانچیں گے) یعنی تمہارا امتحان کریں گے اس زندگی میں اچھی حالت بھی پیش آئے گی (جیسے تندرستی، مالداری، خوشی اور ازواج اولاد کا موجود ہونا) اور بد حالی بھی پیش آئے گی (مثلاً رنجیدہ ہونا، مرض اور تنگدستی کا پیش آنا، اولاد کا مرنا وغیرہ وغیرہ) زندگی میں یہ سب چیزیں آزمائش کے طور پر پیش آتی ہیں۔ کون ایمان لاتا ہے اور اللہ کا فرمانبر دار ہوتا ہے، اور کون کفر اور نافرمانی کی زندگی گزارتا ہے، مختلف احوال سے اشخاص و افراد کو آزمایا جاتا ہے۔ اسی آزمائش میں یہ بھی ہے کہ بعض مرتبہ کافر دنیاوی احوال کے اعتبار سے آرام اور آسائش میں ہوتے ہیں اور اہل ایمان تنگدستی اور مشکل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان فقراء اور مساکین کو دیکھ کر اہل کفر یوں سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کے محبوب بندے ہیں اور اس طرح آزمائش میں فیل ہوجاتے ہیں۔ اپنی آسائش اور خوشحالی کو کفر پر جمنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں (العیاذ باللہ) (وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ) (اور تم ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے یعنی قیامت کے دن حاضر کیے جاؤ گے) اس دن حق اور ناحق کے فیصلے کردیئے جائیں گے۔
Ayah 21:36اس کے بعد فرمایا (وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا) (جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کی ذات کو تمسخر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں) اور یوں کہتے ہیں (اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِھَتَکُمْ ) (کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے) یعنی تمہارے معبودوں کا انکار کرتا ہے اور ان کی عبادت پر اعتراض کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ یہ بےجان ہیں نفع اور ضرر کے مالک نہیں۔ وہ لوگ یہ بات آپ کی شان معظم کو گھٹانے کے لیے کہتے تھے اور ان کا مطلب یہ تھا کہ کوئی صاحب حیثیت دنیاوی جاہ و مرتبہ والا نہیں تھا جسے نبی بنایا جاتا ؟ کیا اس آدمی کو نبوت دی گئی ہے جو ہمارے معبودوں کو برائی کے ساتھ یاد کرتا ہے۔
(وَ ھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (اور یہ لوگ رحمان کے ذکر کے منکر ہیں۔ یعنی نبی اکرم ﷺ نے جو ان کے باطل معبودوں کو برا کہا وہ تو انہیں کھل رہا ہے اور نا گوار ہو رہا ہے لیکن جو خود ان کی حرکت ہے اس پر توجہ نہیں دیتے۔ رحمن جل مجدہ جس نے انہیں اور ساری مخلوق کو پیدا فرمایا ہے نہ اس کی توحید کے قائل ہوتے ہیں نہ اس کی ذات عظیمہ اور صفات جلیلہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کو تو خود اپنی ذات پر ہنسنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ اپنی حماقت اور ضلالت کا خیال نہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ کے سچے نبی کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 21:37جب مشرکین کے سامنے دنیا میں عذاب آنے یا قیامت آنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو کہتے تھے کہ یہ ڈرانا خواہ مخواہ کا ہے۔ عذاب آنا ہی ہے تو بس آجائے دیر کیوں لگ رہی ہے۔ اسی کو فرمایا (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) یعنی اس کے مزاج میں جلد بازی رکھ دی گئی ہے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے عذاب کو بھی وقت سے پہلے بلانے کو تیار ہے۔ (سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ) (سو میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا سو تم مجھ سے عذاب کی جلدی مت مچاؤ) کیونکہ عذاب وقت مقرر سے پہلے نہیں آتا اور جب آجائے تو ٹالا نہیں جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی نشانیاں ظاہر ہوئیں جن میں غزوۂ بدر کے مواقع پر سردار ان قریش کا مارا جانا اور قید ہونا بھی تھا۔
Ayah 21:38(وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو) عذاب کی باتیں سن کر تکذیب کرتے تھے اور چونکہ عذاب کی خبر سچی نہیں مانتے تھے اس لیے بار بار ایسی باتیں کہتے تھے کہ اجی ! عذاب آنے والا نہیں ہے۔ اگر آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا۔ ان لوگوں کی یہ بات قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر فرمائی ہے۔
Ayahs 21:39–40یہاں ان کے جواب میں فرمایا (لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ بَلْ تَاْتِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ) (اگر کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی، بلکہ وہ آگ ان کے پاس اچانک آجائے گی سو وہ انہیں بد حواس بنا دے گی پھر وہ اسے ہٹا نہ سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی) یعنی جب وہ لوگ دوزخ کی آگ کی لپیٹ میں اور اس کی لپٹوں میں گھریں گے اگر انہیں اس وقت کی حالت کا علم ہوجاتا تو ایسی باتیں نہ بناتے، جب وہ لوگ انہیں گھیرے میں لیں گے تو ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے۔ اس وقت اسے نہ ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو یہ مہلت دی جائے گی کہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس آکر مومن بن جائیں اور دوبارہ مر کر پھر حاضر ہوں اور عذاب سے بچ جائیں، جب عذاب دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو بس داخل ہوگئے اور ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ اب وہاں سے نکلنے کا اور مہلت ملنے کا کوئی موقع نہیں۔