21. Surah Al-Anbiyaa
الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة نمبر 21 کل رکوع 7 آیات 112 الفاظ وکلمات 1187 حروف 5154 مکہ مکرمہ کے دور متوسط میں سورة الانبیاء نازل کی گئی۔ چونکہ اس سورة میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کا نام ” الانبیاء “ رکھا ہے۔ بد عملی اور کفر و شرک میں مبتلا لوگوں کو ایک دفعہ پھر جھنجھوڑا گیا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ حساب کتاب کی گھڑی سر پر کھڑی ہے لیکن یہ لوگ اپنی غفلت اور جہالت کی روش کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں حالانکہ وہ وقت بہت دور نہیں ہے جب ان کے سامنے ان کی زندگی بھر کے اعمال پیش کئے جائیں گے۔ جس کا وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ غفلت کا اندازہ اختیار کر کے جس طرح وہ لاپرواہی برت رہے ہیں اور ٹہلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جواب دینے سے بچ نہ سکیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر فرمایا کہ اس طرح میرا آنا اور قیامت کا آنا ملا ہوا ہے یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ انسانی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اس سورة میں کفار و مشرکین کی اس غلط فہمی کو بڑی شدت سے دور کیا گیا ہے کہ ایک بشر نبی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے ہیں وہ سب کے سب بشر ہی تھے کوئی اور مخلوق نہ تھے۔ انبیاء کرام کی بشریت سے انکار کو جہالت اور نادانی قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا اور سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا آخری نبی اور آخری رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ وہ ہزاروں انبیاء جو دنیا میں تشریف لائے ہیں ان سب کا دین ایک ہی تھا۔ اسی دین کی تکمیل حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کی گئی ہے۔ اب آپ کے بعد نہ کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کتاب ہدایت کی۔ جو لوگ اس سچائی کو تسلیم کریں گے دنیا اور آخرت کی کامیابی ان ہی لوگوں کا نصیب ہوگی۔ جو منہ سورۃ الانبیاء میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر مبارک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام سورة الانبیاء رکھا۔ مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی توحید و رسالت، شان نبوت، اللہ کا ذکر اور فکر آخرت کی تعلیم دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دین کو لے کر تشریف لائے ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کرام لے کر تشریف لائے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس تعلیم کو پھیلا رہے ہیں جو انبیاء کرام کا مقصد اور مشن تھا۔ فرمایا گیا کہ اگر کفار مکہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی ان لوگوں سے مختلف نہ ہوگا۔ جو نافرمانیاں کر کے اپنی آخرت کو برباد کر بیٹھے تھے۔ سنبھلنے اور سمجھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ پھیریں گے ان کو دنیا اور آخرت میں سوائے حسرتوں کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ۔ فرمایا کہ انسان کی زندگی کا جو بھی لمحہ گذر رہا ہے وہ اس کو موت سے اتنا ہی قریب کر رہا ہے۔ ہر انسان کو اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہی ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جس سے ہر انسان کو یہاں تک کہ تمام انبیاء کرام کو بھی گزرنا ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سب کو موت آئے گی اور اسے موت نہ آئے گی۔ فرمایا کہ ہر انسان کو اپنی آخرت کی فکر کرنا چاہئے۔ اگر اس سلسلہ میں غفلت اور لاپرواہی کا طریقہ اختیار کیا گیا تو یہ زندگی کے لمحے اس کے لئے حسرتوں اور ناکامیوں کا سبب بن جائیں گے۔ فرمایا کہ جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے سب سے پہلے ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا، ان کو ہر طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ ان کا مذاق اڑایا گیا اگر اللہ چاہتا تو ان پر اپنا عذاب بھیج سکتا تھا مگر اس کے ہر فیصلے پر اس کی صفت رحم اور صفت حلم و برداشت غالب ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں جلدی نہیں کرتا لیکن جب وہ کسی قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو پھر کسی کا اقتدار، فوج، دولت، بلند عمارتیں اور شان و شوکت اس کا راستہ نہیں روک سکتے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے ان تمام اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے جو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں جو لوگ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے وہی کامیاب و بامراد ہوں گے لیکن جنہوں نے ان کے راستے کو چھوڑ دیا وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ اللہ نے اپنا آخری نبی بھیج دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی ہے کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا اپنی ہے۔ فرمایا کہ اللہ ان رشتے اور تعلقات سے بلندو برتر ہے۔ اس کی طاقت وق درت ایسی ہے کہ جب کسی چیز کو وجود عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسباب اور ذرائع کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ کن (ہوجا) کہتا ہے اور وہ چیز موجود ہوجاتی ہے اسے اپنا بیٹا بیٹی یا بیوی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ محتاجی انسانوں کو ہوتی ہے اللہ اس طرح کی ہر احتیاج ، محتاجی اور ضرورت سے بلندو برتر اور بےعیب ذات ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں لیکن کائنات میں ہر چیز اس کی محتاج ہے۔
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader
لوگوں کے حساب کا وقت آگیا ہے اور وہ غفلت میں اس سے منہ پھیر رہے ہیں۔
مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader
ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت بھی آتی ہے تو وہ لاپرواہی سے سنتے اور اپنے کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں۔
لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader
ان کے دل غفلت و لاپرواہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک بشر ہے۔ کیا پھر بھی تم دیکھتے بھالتے اس کے جادو میں پھنس جاؤ گے۔
قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader
رسول نے فرمایا کہ میرا رب ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader
وہ (کفار) کہتے ہیں کہ یہ تو پریشان خواب ہیں۔ بلکہ اس نے یہ باتیں خود گھڑ لی ہیں وہ ایک شاعر ہے اور نہ یہ کوئی نشانی (معجزہ) لے کر آئے جیسا کہ پہلے نبی (معجزات دے کر) بھیجے گئے تھے۔
مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader
حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی جس کو ہم نے ہلاک کیا (نشانیاں دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لائی۔ کیا یہ ایمان لائیں گے ؟
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader
اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر بھیجے ہیں وہ انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے وحی بھیجی تھی۔ اگر تمہیں اس کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔
وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader
اور ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور ہمیشہ جینے والے ہوں۔
ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader
پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعدوں کو سچا کر دکھایا۔ ہم نے جس کو چاہا بچا لیا اور حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر دیا
لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader
(اے نبی کہہ دیجیے) بیشک ہم نے تمہاری طرف کتاب کو نازل کیا ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔
وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جن کے رہنے والے ظلم و ستم کرتے تھے اور ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو اٹھایا۔
فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader
جب ان کو ہمارے عذاب کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔
لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader
(فرمایا) مت بھاگو اور جہاں تمہیں آرام و آسائش دی گئی تھی اسی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید کہ تم سے پوچھا جائے۔
قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader
وہ کہنے لگے ہائے ہماری بدنصیبی بیشک ہم ظالم تھے۔
فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader
وہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ کی طرح (ڈھیر) کردیا۔
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader
ہم نے اس زمین اور آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا
لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader
اور اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے۔
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader
بلکہ ہم تو حق اور سچائی کی ضرب کو باطل پر لگاتے ہیں جو باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ باطل مٹ کر رہتا ہے اور تمہارے لئے اس بات سے تباہی ہے جو تم بتاتے ہو۔
وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے اور جو اس کے پاس ہیں (فرشتے) وہ اس کی عبادت و بندگی سے سرکشی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں
یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader
وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور سستی نہیں کرتے۔
اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader
کیا انہوں نے اور دوسرے معبود زمین کی چیزوں میں سے گھڑ لئے ہیں جو انہیں (مرنے کے بعد) دوبارہ کھڑا کریں گے۔
لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader
اگر ان دونوں (زمین و آسمان میں) اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو کائنات کا نظام تباہ و برباد ہوجاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عرش عظیم کا پروردگار ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader
وہ (پروردگار اتنا عظیم ہے کہ) اپنے کاموں کے لئے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور وہ سب (اس کے سامنے) جوابدہ ہیں۔
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader
کیا انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لئے ہیں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اپنی دلیل لے کر آؤ۔ میرے پاس یہ کتاب موجود ہے اور جو مجھ سے پہلے (گذرے ہیں) ان کا ذکر موجود ہے لیکن اکثر وہ لوگ ہیں جو حق اور سچائی کو نہ جاننے کی وجہ سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جس رسول کو بھی بھیجا ہے اس کو یہی بتایا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تم میری ہی عبادت و بندگی کرو۔
وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader
وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے ایک بیٹا بنا لیا ہے (اور فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے حالانکہ) وہ اس (تہمت) سے پاک ہے۔ بلکہ وہ (فرشتے) تو اللہ کے بندے ہیں جن کو عزت دی گئی ہے۔
لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader
وہ آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader
ان کو معلوم ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے مگر جس سے اللہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader
اور جوان میں سے یہ کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں تو اس کی سزا جہنم ہے اور ہم بےانصافوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader
کیا وہ کافر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔ (الگ الگ کردیا) اور پانی سے ہم نے ہر چیز کو زندہ کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہ لائیں گے
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ انہیں لے کر ایک طرف کو ڈھلک نہ جائے۔ اور ہم نے اس (زمین) میں کھلے اور کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت (کی طرح) بنا دیا اور وہ ہماری آیتوں سے منہ پھیر کر چلتے ہیں۔
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader
اسی نے رات اور دن، سروج اور چاند بنائے جو اپنے اپنے دائرے (مدار) میں گھوم رہے ہیں۔