21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة نمبر 21 کل رکوع 7 آیات 112 الفاظ وکلمات 1187 حروف 5154 مکہ مکرمہ کے دور متوسط میں سورة الانبیاء نازل کی گئی۔ چونکہ اس سورة میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کا نام ” الانبیاء “ رکھا ہے۔ بد عملی اور کفر و شرک میں مبتلا لوگوں کو ایک دفعہ پھر جھنجھوڑا گیا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ حساب کتاب کی گھڑی سر پر کھڑی ہے لیکن یہ لوگ اپنی غفلت اور جہالت کی روش کو بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں حالانکہ وہ وقت بہت دور نہیں ہے جب ان کے سامنے ان کی زندگی بھر کے اعمال پیش کئے جائیں گے۔ جس کا وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ غفلت کا اندازہ اختیار کر کے جس طرح وہ لاپرواہی برت رہے ہیں اور ٹہلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے جواب دینے سے بچ نہ سکیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر فرمایا کہ اس طرح میرا آنا اور قیامت کا آنا ملا ہوا ہے یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ انسانی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اس سورة میں کفار و مشرکین کی اس غلط فہمی کو بڑی شدت سے دور کیا گیا ہے کہ ایک بشر نبی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے ہیں وہ سب کے سب بشر ہی تھے کوئی اور مخلوق نہ تھے۔ انبیاء کرام کی بشریت سے انکار کو جہالت اور نادانی قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا اور سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا آخری نبی اور آخری رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ وہ ہزاروں انبیاء جو دنیا میں تشریف لائے ہیں ان سب کا دین ایک ہی تھا۔ اسی دین کی تکمیل حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کی گئی ہے۔ اب آپ کے بعد نہ کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کتاب ہدایت کی۔ جو لوگ اس سچائی کو تسلیم کریں گے دنیا اور آخرت کی کامیابی ان ہی لوگوں کا نصیب ہوگی۔ جو منہ سورۃ الانبیاء میں سترہ انبیاء کرام کا ذکر مبارک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام سورة الانبیاء رکھا۔ مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی توحید و رسالت، شان نبوت، اللہ کا ذکر اور فکر آخرت کی تعلیم دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دین کو لے کر تشریف لائے ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کرام لے کر تشریف لائے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس تعلیم کو پھیلا رہے ہیں جو انبیاء کرام کا مقصد اور مشن تھا۔ فرمایا گیا کہ اگر کفار مکہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی ان لوگوں سے مختلف نہ ہوگا۔ جو نافرمانیاں کر کے اپنی آخرت کو برباد کر بیٹھے تھے۔ سنبھلنے اور سمجھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ پھیریں گے ان کو دنیا اور آخرت میں سوائے حسرتوں کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ۔ فرمایا کہ انسان کی زندگی کا جو بھی لمحہ گذر رہا ہے وہ اس کو موت سے اتنا ہی قریب کر رہا ہے۔ ہر انسان کو اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہی ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جس سے ہر انسان کو یہاں تک کہ تمام انبیاء کرام کو بھی گزرنا ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سب کو موت آئے گی اور اسے موت نہ آئے گی۔ فرمایا کہ ہر انسان کو اپنی آخرت کی فکر کرنا چاہئے۔ اگر اس سلسلہ میں غفلت اور لاپرواہی کا طریقہ اختیار کیا گیا تو یہ زندگی کے لمحے اس کے لئے حسرتوں اور ناکامیوں کا سبب بن جائیں گے۔ فرمایا کہ جتنے بھی انبیاء کرام تشریف لائے سب سے پہلے ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا، ان کو ہر طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ ان کا مذاق اڑایا گیا اگر اللہ چاہتا تو ان پر اپنا عذاب بھیج سکتا تھا مگر اس کے ہر فیصلے پر اس کی صفت رحم اور صفت حلم و برداشت غالب ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں جلدی نہیں کرتا لیکن جب وہ کسی قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو پھر کسی کا اقتدار، فوج، دولت، بلند عمارتیں اور شان و شوکت اس کا راستہ نہیں روک سکتے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے ان تمام اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے جو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا کرتے تھے۔ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساری انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں جو لوگ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے وہی کامیاب و بامراد ہوں گے لیکن جنہوں نے ان کے راستے کو چھوڑ دیا وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ اللہ نے اپنا آخری نبی بھیج دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی ہے کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا اپنی ہے۔ فرمایا کہ اللہ ان رشتے اور تعلقات سے بلندو برتر ہے۔ اس کی طاقت وق درت ایسی ہے کہ جب کسی چیز کو وجود عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسباب اور ذرائع کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ کن (ہوجا) کہتا ہے اور وہ چیز موجود ہوجاتی ہے اسے اپنا بیٹا بیٹی یا بیوی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ محتاجی انسانوں کو ہوتی ہے اللہ اس طرح کی ہر احتیاج ، محتاجی اور ضرورت سے بلندو برتر اور بےعیب ذات ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں لیکن کائنات میں ہر چیز اس کی محتاج ہے۔

Ayahs 21:1–10

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کے حساب کا وقت آگیا ہے اور وہ غفلت میں اس سے منہ پھیر رہے ہیں۔

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت بھی آتی ہے تو وہ لاپرواہی سے سنتے اور اپنے کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں۔

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل غفلت و لاپرواہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک بشر ہے۔ کیا پھر بھی تم دیکھتے بھالتے اس کے جادو میں پھنس جاؤ گے۔

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

رسول نے فرمایا کہ میرا رب ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

وہ (کفار) کہتے ہیں کہ یہ تو پریشان خواب ہیں۔ بلکہ اس نے یہ باتیں خود گھڑ لی ہیں وہ ایک شاعر ہے اور نہ یہ کوئی نشانی (معجزہ) لے کر آئے جیسا کہ پہلے نبی (معجزات دے کر) بھیجے گئے تھے۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی جس کو ہم نے ہلاک کیا (نشانیاں دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لائی۔ کیا یہ ایمان لائیں گے ؟

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر بھیجے ہیں وہ انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے وحی بھیجی تھی۔ اگر تمہیں اس کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور ہمیشہ جینے والے ہوں۔

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعدوں کو سچا کر دکھایا۔ ہم نے جس کو چاہا بچا لیا اور حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر دیا

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

(اے نبی کہہ دیجیے) بیشک ہم نے تمہاری طرف کتاب کو نازل کیا ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10 اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک اور عارضی باتیں ہیں بہت جلد یہ تحریک دم توڑ دے گی۔ لیکن جب سرداران مکہ نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی مقناطیسی اور انقلابی شخصیت اور دلوں کو گرما دینے والی تعلیمات کو بےپناہ مقبولیت حاصل ہو رہی ہے اور ہر گھر اور ہر فرد بڑی یزی سے متاثر ہوتا جا رہا ہے۔ تو انہیں اس تمام صورتحال پر سنجیدگی سے فیصلہ کرنے کی فکر لاحق ہوگئی بنو قریش کی ایک اہم ترین شخصیت حضرت امیر حمزہ ؓ کے اسلام قبول کرنے سے سرداران مکہ اور بھی بوکھلا اٹھے اور اس نئی تحریک سے اس قدر خوفزدہ ہوگئے کہ سب کے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور نہایت خاموشی اور راز داری سے یہ طے کیا کہ نبی کیم ﷺ آپ کے جانثار صحابہ اور قرآنی تعلیمات کا مسلسل مذاق اڑایاجائے اور لوگوں میں خوف و ہر اس پھیلا دیا جائے جس سے ہر شخص ان کے قریب جانے سے گھبرانے لگے یا نفرت کرنے لگے۔ چناچہ ابن ہشام نے جلد اول میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ قریشی سردار عتبہ ابوالولید قریشی سرداروں کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں اسی بات پر بحث ہو رہی تھی کہ اس صورتحال کا مقابلہ کیسے کیا جائے ؟ ابوالولید نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ اس قصے کو ختم کرنے کے لئے میں خود جا کر محمد (ﷺ) سے یہ معلوم کرلوں کہ آخر وہ ان تمام باتوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ کچھ چاہتے ہیں تو اس معاملے کو آپس میں بیٹھ کر طے کرلیتے ہیں اور ان کو کچھ رعایتیں دیدیتے ہیں قریشی سرداروں کو ابوالولید کی فہم و فراست پر پورا اعتماد تھا کہنے لگے کہ تم اٹھو اور محمد ﷺ سے گفتگو کرو چناچہ عتبہ ابوالولید نبی کریم ﷺ کے پاس گیا کہنے لگا کہ ” بھتیجے تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم تمہیں کتنی عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں تمہارا نسب بھی اعلیٰ ترین ہے مگر تم مکہ والوں سے ایسی باتیں کر رہے ہو جس سے ان میں شدید انتشار اور زبردست اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو “ تم ان کے گذرے ہوئے لوگوں کی برائیاں بیان کرتے ہو میری بات غور سے سنو، میں چند باتیں بتاتا ہوں اگر سمجھ میں آجائیں تو ان پر عمل کرلینا۔ نبی کریم ﷺ نے نہایت تحمل اور برد باری سے فرمایا کہ اے عتبہ ابو الولید تم کہو میں تمہاری باتیں سن رہا ہوں۔ ابوالولید نے کہا اگر تم یہ سب کچھ مال و دولت کے لئے کر رہے ہو تو ہم سب مل کر تمہیں اتنا مال جمع کر کے دیدیں گے جس سے تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے۔ اگر تم ان باتوں کے ذریعے حکومت کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ اگر تمہارے اوپر کسی جن وغیرہ کا سایا ہے تو ہم اپنا مال خرچ کر کے تمہارا علاج کرا سکتے ہیں اور اس سے تمہیں نجات دلانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ جب عتبہ ابوالولید یہ باتیں کرچکا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابو لولید تم نے کہا میں نے سن لیا اب تم میری چند باتیں بھی سن لو، اس نے کہا سنائیے۔ نبی کریم ﷺ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورة حم السجدہ کی آیتیں تلاوت کرنا شروع کیں اور کافی دیر تک تلاوت فرماتے رہے جب آیت سجدہ آئی تو نبی کریم ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ عتبہ ابوالولید ان تمام آیات کو غور سے سنتا رہا۔ پھر وہ اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آگیا۔ سب نے عتبہ کے بدلے ہوئے انداز اور چال سے سمجھ لیا تھا کہ عتبہ میں تبدیلی آ چکی ہے اور اس کا رنگ ڈھنگ بدلا ہوا ہے منتظر لوگوں نے پوچھا ابو الولید کیا خبر لائے ہو اس نے کہا اللہ کی قسم جو کچھ انہوں نے مجھے سنایا ہے آج تک میں نے ایسا کلام نہیں سنا، وہ شعر، جادو یا کہانت نہیں ہے۔ عتبہ نے کہا اے قریشیو ! تم وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو اور ان سے الگ رہو، کیونکہ جو بات میں نے سنی ہے اس کی بڑی اہمیت ہے اگر عرب کے لوگ اس پر غالب آگئے تو تمہارے بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہ ہوگا۔ دوسروں پر ہوگا۔ اور اگر یہ عربوں پر غالب آگئے تو ان کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی۔ ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی۔ اس وقت موجود تمام لوگوں نے کہا کہ ابوالولید تمہارے اوپر بھی اس کا جادو چل گیا ہے۔ عتبہ ابوالولید نے صرف اتنا کہا کہ یہ میری رائے ہے باقی تمہیں جو کچھ کرنا ہے وہ کرو۔ یہ تھے وہ واقعات جنہوں نے پورے قریش کو اس نقطہ پر جمع کردیا تھا کہ اگر اب بھی نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کے متعلق پروپیگنڈے کی مہم کو تیز نہ کیا گیا تو سارا عرب مسلمان ہوجائے گا اور ان سرداروں کی اجارہ داریاں ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ محمد (ﷺ) تو ہمارے ہی جیسے بشر ہیں کھاتے ہیں، پیتے ہیں، بازاروں میں چلتے پھرتے اور بیوی بچے رکھتے ہیں ان میں اور ہمارے درمیان وہ کونسی خاص بات ہے جس کی بنیاد پر ہم ان کو نبی مان لیں۔ اگر اللہ کو نبی بنا کر بھیجنا ہی تھا تو ان کے ساتھ کچھ نشانیاں اور معجزات بھیجتے جنہیں دیکھ کر ہم ایمان لاتے کبھی کہتے کہ یہ تو جادوگر ہے جو بھی ان کے قریب جاتا ہے وہ اس پر جادو کردیتے ہیں اور کوئی ان کے جادو سے بچ نہیں سکتا۔ وہ لوگ سے خود ہی سوال کرتے کہ کیا تم جانتے بوجھتے ان کے جادو کے چکر میں پھنسنا گوارا کرو گے ؟ کبھی وہ کہتے کہ یہ محمد (ﷺ) کوئی کاہن یا شاعر ہیں ان کے بکھرے ہوئے پراگندہ خیالات ہیں جن کو وہ خود گھڑ کر اور بنا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے ان تمام سوالات اور پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ اعتراض کرنے والے اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اگر نبی بشر نہیں ہوتا تو اللہ کی مخلوقات میں آخر وہ کونسی مخلوق ہے جوب شر سے زیادہ محترم ہے۔ فرمایا کہ اللہ کے نبی اور رسول بشر ہی ہوتے ہیں جن کی طرف اللہ وحی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے گویا یہ فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے دل اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام بشر ہی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں مزید یقین حاصل کرنا ہے تو وہ ان اہل کتاب سے پوچھ کر دیکھ لیں جن سے وہ ہر بات پر مشورہ کرنے پر اعتماد محسوس کرتے ہیں اور ان کی باتوں پر یقین بھی کرلیتے ہیں ان سے پوچھئے جتنے نبی اور رسول آئے ہیں کیا وہ بشر نہیں تھے ؟ کیا وہ فرشتے تھے ؟ کیا ان کو بھوک پیاس نہیں ستاتی تھی وہ موت کے دروازے سے نہیں گذرتے تھے ؟ کیا کوئی ایسا جسم بھی ہے جس پر موت طاری نہ ہوگی ؟ وغیرہ وغیرہ یقینا انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ ان باتوں سے کہیں اس طرح کا عذاب نازل نہ ہوجائے جس طرح پہلے نافرمانوں پر نازل ہوئے تھے جنہوں نے قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ وہ اپنے فرماں برداروں کو بچا لیتا ہے اور نافرمانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی آپ ان لوگوں کے غلط بےبنیاد پروپیگنڈوں اور باتوں کا خیال نہ کیجیے بلکہ اللہ نے آپ کو جس کتاب سے نوازا ہے اور جو پیغام عطا فرمایا ہے اس کو ہر شخص تک پہنچا دیجیے۔ کیونکہ یہ کتاب انہیں لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اس نے جو وعدے کئے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے۔ ان کو کوئی طاقت و قوت اور کسی کا پروپیگنڈا روک نہیں سکتا۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں۔ یہ ملاحظہ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ ارشاد ہے لوگوں کے حساب کتاب کا وقت بہت قریب آگیا ہے مگر وہ اپنی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے منہ پھیر کر چل رہے ہیں ان کے پاس جب بھی کوئی نئی آیت آتی ہے تو وہ اس کو لاپرواہی سے سن کر پھر اپنے کھیل کود اور تماشوں میں لگ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ ان کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہ چپکے چپکے سرگوشیوں کے انداز میں باتیں کر کے کہتے ہیں یہ تو تمہارے جیسا ہی بشر ہے کیا پھر تم جانتے بوجھتے ان کے جادو کے جال میں پھنسنا چاہتے ہو (نعوذ باللہ) فرمایا پروردگار تو ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ کفار یہ کہتے ہیں کہ یہ تو پریشان اور بکھرے ہوئے خیالات ہے۔ جن کو اس شخص نے خود ہی گھڑ لیا ہے کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو شاعر ہے ورنہ یہ اور نبیوں کی طرح کوئی نشانی (معجزہ) لے کر کیوں نہیں آئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان سے پہلے کوئی بستی ایسی نہیں ہے جس کے تمام لوگوں نے اللہ کے معجزات (نشانیاں) دیکھ کر ایمان قبول کیا ہو بلکہ انکار ہی کیا ہے جس کے نتیجے میں ان کو ہلاک اور برباد کردیا گیا۔ اگر آج ان کو کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو کیا وہ اس پر ایمان لائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں وہ انسان ہی تھے جن کی طرف ہم نے وحی نازل کی تھی آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں اس کا علم نہیں ہے تو جاننے والے اہل کتاب سے پوچھ کر دیکھ لو۔ ہم نے ان انبیاء کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ جینے والے ہوں اور پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعدوں کو سچا کر دکھایا۔ ہم نے جس کو چاہا بچایا اور حد سے گذرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ فرمایا کہ اللہ نے جس کتاب کو نازل کیا ہے اس میں تمہارا ہی ذکر ہے یعنی یہ کتاب تمہاری ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟
Ayahs 21:11–20

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جن کے رہنے والے ظلم و ستم کرتے تھے اور ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو اٹھایا۔

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

جب ان کو ہمارے عذاب کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

(فرمایا) مت بھاگو اور جہاں تمہیں آرام و آسائش دی گئی تھی اسی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید کہ تم سے پوچھا جائے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہائے ہماری بدنصیبی بیشک ہم ظالم تھے۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

وہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ کی طرح (ڈھیر) کردیا۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

ہم نے اس زمین اور آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے پاس سے ہی بنا لیتے۔

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ ہم تو حق اور سچائی کی ضرب کو باطل پر لگاتے ہیں جو باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ باطل مٹ کر رہتا ہے اور تمہارے لئے اس بات سے تباہی ہے جو تم بتاتے ہو۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے اور جو اس کے پاس ہیں (فرشتے) وہ اس کی عبادت و بندگی سے سرکشی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ تھکتے ہیں

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور سستی نہیں کرتے۔

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و نصرت اہل حق کو ہی حاصل ہوئی ہے۔ باطل پرستوں نے ہمیشہ اس دنیا اور اس کے عیش و آرام کو سب کچھ سمجھ کر حق و صداقت اور سچائیوں سے منہ پھیرنے اور آخرت سے غفلت کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے ان کا خیال یہ تھا کہ یہ کائنات خود بخودپیدا ہوگئی ہے جو اپنی فطرت اور مزاج کے لحاظ سے جس طرح چلتی آرہی ہے اسی طرح ختم ہو جائیگی۔ نہ اس کائنات کا کوئی خلاق ہے اور نہ اس کا بنایا ہوا بالاتر کوئی قانون ہے جس کی پابندی کرنا لازمی اور ضروری ہو۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے۔ وہی اس کو چلاتا ہے لیکن کائنات کے چلانے میں وہ انسانوں کی طرح محتاج ہے۔ فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیز (علیہ السلام) اس کے بیٹے ہیں (نعوذ باللہ) کچھ وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کا خلاق ایک بالاتر ہستی کو مانتے ہیں مگر انہوں نے اپنے معبودوں کے فرضی بت بنارکھے ہیں جن کے متعلق ان کا یہ خیال ہے کہ جب تک وہ ان کی سفارش نہ کریں گے اس وقت تک اللہ ان کی کسی بات کو نہ تو سنے گا اور نہ پورا کرے گا۔ غرضیکہ دنیا میں اس طرح کے ذہن و فکر رکھنے والے لوگوں نے اللہ کی ہستی کے عجیب عجیب تصورات قائم کر رکھے ہیں۔ قرآن کریم میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ اس پوری کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ ہے جو اس کا خلاق بھی ہے اور مالک بھی ہے وہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے اور وہ اس کے چلانے میں کسی طرح کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اس بات کو اللہ کے نبی اور رسول آ کر دنیا والوں کو بتاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور رسول ﷺ کو وہ عظیم کتاب دے کر بھیجا جس میں کفار و مشرکین کے غلط عقائد اور افکار کی اصلاح فرمائی گی ہے۔ جن لوگوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے قوانین کی پابندی کی اللہ نے انہیں دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائیں لیکن جنہوں نے کفر و شرک اور نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا ان کو طویل مدت تک سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع دے کر مسلسل نافرمانیوں کے بعد ان کو تہس نہس کردیا گیا۔ اللہ کے اس عذاب کے آنے کے بعد ان کی ساری ترقیاتی اور تمدن اور تہذیب کو کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ کی طرح راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ جب اللہ نے باطل پر حق کی ضرب لگائی تو اس قوم کا اور باطل کا بھیجا بھی باہر آگیا اور وہ قوم اپنے وجود تک کو نہ بچا کسی ۔ انہیں باتوں کو اللہ نے ان آیات میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ نے کفر و شرک اور ظلم اور ستم کرنے والی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا اور ان کی جگہ دوسروں کو اٹھا کر ان کو عظمت سے ہمکنار کردیا۔ جب ان لوگوں کو اللہ کے عذاب کی بھنک پڑی تو انہوں نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا کیونکہ ان کو اپنا عیش و آرام چھوٹتا ہوا نظر آ رہا تھا تو اللہ نے فرمایا کہ اب تم اس عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ اب اگر تم اپنے عیش و آرام کی طرف لوٹ جاؤ تب بھی شاید ہی کوئی تمہارا پرسان حال ہو۔ فرمایا کہ اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ ہم کتنے بدنصیب لوگ ہیں۔ کاش ہم اس سے پہلے اس بات کو سمجھ جاتے مگر ان کی پکار کو سننے والا کوئی بھی نہ ہوگا۔ اور اسی حالت میں ان کو کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ کی طرح راکھ کا ڈھیر کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے وہ فضول یا کھیل تماشا نہیں ہے۔ اگر ہمیں کھلونا بنانا ہوتا تو پھر تمہیں کیوں پیدا کیا جاتا ہم ہی اس سے کھیل لیتے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہی ہے وہ جب چاہتا ہے حق کی ایک ہی ضرب سے باطل کا بھیجا نکال کر رکھ دیتا ہے۔ فرمایا کہ ایک طرف انسان ہے جس پر اللہ نے بےپناہ انعامات فرمائے ہیں یہاں تک کہ فرشتوں کو بھی انسان کے قدموں میں جھکادیا گیا دوسری طرف فرشتے ہیں جو ہر آن اس کے ہر حکم کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں اور ذرا بھی سرکشی اختیار نہیں کرتے۔ دن رات ان کا ایک ہی مشغلہ ہے کہ وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ اللہ کی عبادت اور بندگی اور اس کے حکم کو پورا کرنے میں ذرا سستی نہیں کرتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے کہ اگر اسے دنیا کی ذرا سی راحت و آرام اور عیش و سہولت مل جاتی ہے تو اللہ کی ذات کو بھول کر اس کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ لیکن اللہ کے فرشتے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہر طرح کی طاقتیں عطا کی ہیں اس کے باوجود وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اس کے سامنے ادب و احترام سے جھکے رہتے ہیں اور اسی کی حمد وثناء میں مشغول رہتے ہیں۔
Ayahs 21:21–29

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے اور دوسرے معبود زمین کی چیزوں میں سے گھڑ لئے ہیں جو انہیں (مرنے کے بعد) دوبارہ کھڑا کریں گے۔

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر ان دونوں (زمین و آسمان میں) اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو کائنات کا نظام تباہ و برباد ہوجاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عرش عظیم کا پروردگار ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

وہ (پروردگار اتنا عظیم ہے کہ) اپنے کاموں کے لئے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور وہ سب (اس کے سامنے) جوابدہ ہیں۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لئے ہیں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اپنی دلیل لے کر آؤ۔ میرے پاس یہ کتاب موجود ہے اور جو مجھ سے پہلے (گذرے ہیں) ان کا ذکر موجود ہے لیکن اکثر وہ لوگ ہیں جو حق اور سچائی کو نہ جاننے کی وجہ سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے جس رسول کو بھی بھیجا ہے اس کو یہی بتایا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تم میری ہی عبادت و بندگی کرو۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے ایک بیٹا بنا لیا ہے (اور فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے حالانکہ) وہ اس (تہمت) سے پاک ہے۔ بلکہ وہ (فرشتے) تو اللہ کے بندے ہیں جن کو عزت دی گئی ہے۔

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

وہ آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور وہ اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

ان کو معلوم ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے مگر جس سے اللہ راضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جوان میں سے یہ کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی معبود ہوں تو اس کی سزا جہنم ہے اور ہم بےانصافوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29 ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 29 اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے اس نے ہر چیز اور ہر مخلوق کو زندگی دی ہے۔ وہی مالک اور مختار ہے وہ اس کائنات کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ہر چیز اس کی محتاج ہے۔ اس کے سامنے ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے جس کا وہ شخص پابند ہے لیکن اللہ اپنے احاکمات اور فیصلوں میں کسی کو جواب دینے کا پابند نہیں ہے۔ وہ ہر اس عیب سے پاک، بلند اور برتر ہے جو کفار اور مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ بیٹے بیٹی اور بیوی کا محتاج نہیں ہے یہود اور نصاریٰ کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی اور رسول ہیں وہ اللہ کے بیٹے ہیں یا کفار اور مشرکین کا یہ کہنا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں انتہائی غلط، بےسند اور بےدلیل بات ہے۔ جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ فرشتے تو درحقیقت اللہ کی پیدا کی ہوئی محترم مخلوق ہیں وہ اللہ کے ہر حکم کے تابع ہیں ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے وہ نہایت مستعدی سے اس پر عمل کرتے ہیں اور ذرا سستی نہیں کرتے اور وہ کسی کی سفارش بھی اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتے۔ ان آیات میں کفار اور مشرکین کی اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ یہ فرشتے قیامت میں ان کی سفارش کریں گے فرمایا کہ اس سے بڑا سفید جھوٹ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ غرضیکہ اس کائنات میں صرف اللہ کا حکم چلتا ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ اگر ان اختیارات کے ساتھ دوسرا کوئی معبود ہوتا تو کائنات تباہ اور برباد ہوجاتی وجہ یہ ہے کہ جب دونوں معبودوں کے اختیارات برابر ہوتے تو ایک معبود کچھ کرتا دوسرے معبود کی کچھ اور خواہش ہوتی اس طرح دنیا کا نظام چلنے کے بجائے اختیارات کی جنگ شروع ہوجاتی۔ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں ایک جیسے اختیار رکھنے والے دوسربراہ ایک ملک میں نہیں رہ سکتے ہیں تو اتنی بڑی کائنات کیسے چل سکتی تھی۔ لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اللہ تمام تر اختیارات کے ساتھ اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے اس کے اختیار اور ارادے میں کوئی دوسرا کسی طرح شریک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس نے آج تک جتنی کتابیں نازل کی ہیں ان میں ایک ہی بات کہی گئی ہے کہ اس ایک اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے۔ جس کی عبادت اور بندگی کی جاسکے اس طرح جتنے رسول اور نبی آئے ہیں انہوں نے بھی اللہ کا یہی پیغام دیا ہے کہ اللہ ایک ہے اس کی عظمت اور عبادت اور بندگی میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ کائنات میں ہر چیز اس کی محتاج ہے اور اس کو جواب دینے کی پابند ہے۔
Ayahs 21:30–33

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا وہ کافر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔ (الگ الگ کردیا) اور پانی سے ہم نے ہر چیز کو زندہ کیا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہ لائیں گے

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ انہیں لے کر ایک طرف کو ڈھلک نہ جائے۔ اور ہم نے اس (زمین) میں کھلے اور کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت (کی طرح) بنا دیا اور وہ ہماری آیتوں سے منہ پھیر کر چلتے ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اسی نے رات اور دن، سروج اور چاند بنائے جو اپنے اپنے دائرے (مدار) میں گھوم رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 33 رتق ایک دوسرے میں گھسے ہوئے۔ ملے ہوئے۔ فتقنا ہم نے الگ الگ کردیا۔ جدا کردیا۔ حی زندہ۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، جمی ہوئی چیزیں، بوجھل۔ ان تمید یہ کہ جھک پڑے، ایک طرف کو ڈھلک جائے۔ فجاج (فج) کھلے ہوئے پہاڑی درے۔ سقف چھت، سائبان۔ فلک گول چیز، گھومنا، مدار۔ یسبحون وہ تیرتے ہیں۔ بلا روک ٹوک راستے پر چلتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 33 وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی قدرت کا ملہ اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے فرمایا جا رہا ہے اس اللہ نے انسان کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین و آسمان کو پیدا کر کے سارے اسباب مہیا کردیئے تھے پانی کو پیدا کیا تاکہ اس کے ذریعے ہر چیز کو زندگی مل جائے۔ بلند وبالا پہاڑوں کو زمین میں میخوں کی طرح گاڑ کر بھاری بوجھ رکھ دیئے تاکہ یہ زمین ادھر ادھر ڈھلک نہ جائے اور تو ازن برقرار رہے۔ آنے اور جانے کے راستے بنا دیئے تاکہ ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور سامان لانے لے جانے میں سہولت حاصل رہے۔ آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنا دیا تاکہ کائنات کے جراثیم اور نقصان دینے والی چیزیں دنیا والوں تک نہ پہنچ سکیں رات اور دن کا ایک ایسا نظام بنا دیا کہ کبھی رات ہے، کبھی دن ہے، کبھی کی راتیں بڑی اور کبھی کے دن بڑے۔ اس نظام سے ہر طرح کے موسم بنا دیئے تاکہ یکسانیت سے دل اچاٹ نہ ہوجائے۔ اسی طرح سورج، چاند اور ستاروں کو ایک مربوط اور لگے بندھے نظام میں جکڑ دیا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے نہ ٹکرائیں اور ہر ایک اپنے دائرے میں گھومتا رہے۔ فرمایا گیا کہ اب یہ انسان کی عقل و فہم اور بصیرت پر ہے کہ وہ اس بات پر اچھی طرح غور اور فکر کر کے دیکھ لے کہ اتنے بڑے نظام کائنات کو پیدا کر کے اس کو چلانے والی کوئی ہستی ہے یا نہیں ؟ یقینا ہر شخص کے دل سے یہی صدا بلند ہوگی کہ ایک معمولی سی چیز بھی خود بخودپیدا ہو کر کام نہیں کرسکتی۔ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہوتا ہے۔ یقینا اس کائنات کو بھی کسی نے بنا کر اس کا انتظام سنبھال رکھا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔ جو تنہا اس نظام کائنات کو چلا رہی ہے اور وہ اس کے چلانے اور سنبھالنے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ” رتق اور فتق “ دو لفظوں میں کائنات کی ابتدا کی پوری تاریخ کو سمو دیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس سے جب اس آیت کی تفصیل معلوم کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ پہلے آسمان بند تھا پانی نہ برساتا تھا اور اسی طرح زمین بھی بند تھی جو (بغیر پانی کے) نباتات نہ اگاتی تھی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان کو آباد کیا تو آسمان کی بارش کھول دی اور اس طرح زمین کی نشو و نما کو بھی کھول دیا گیا (تفسیر ابن کثیر) حضرت ابن عباس کی اس تشریح اور تفسیر سے ابتدائے کائنات کی تفصیل معلوم ہوئی جس پر جمہور علما اور مفسرین کا اتفاق ہے۔ ہمارا موجودہ دور سائنسی معلومات اور تحقیقات کا دور ہے جس میں لوگوں کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں۔ جن کے ذریعے اس کائنات کے پوشیدہ راز معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجودہ سائنس دانوں کا یہ خیال اور تحقیق ہے کہ یہ کائنات کھولتے ہوئے بیحد گرم پگھلے ہوئے دھاتوں کا ایک ایسا مجموعہ تھی جس کے اجزا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اچانک اس مادے میں ایک زبردست دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ (Big Gang) کہا جاتا ہے اس سے ابتدائی حصے کو الگ ہونے میں ایک سیکنڈکا ہزاروں حصہ لگا۔ یعنی اس قدر جلد ہوا کہ اس کے مادے کو الگ ہونے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا اور اس کے نتیجے میں اس کائنات نے وجود اختیار کیا اور اس میں ہماری دنیا اور اس میں انسانی ضرورتوں کی ہر چیز پیدا ہوئی۔ اسی مقام پر قرآن کریم ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اللہ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو وسائل ذرائع اور اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کو ” کن “ (ہوجا) کہتا ہے اور وہ چیز ہوجاتی ہے یعنی جتنی دیر میں ان دو حرفوں ” کن “ کی ادائیگی کی جاتی ہے شاید اس میں بھی دیر لگتی ہے اس سے بھی پہلے وہ کام ہوجاتا ہے۔ ابھی آپ نے سائنسدانوں کی تحقیق سے اندازہ کرلیا ہوگا۔ کہ ایک شدید اور عظیم مادے کو پھٹنے اور دنیائیں بننے میں گھنٹے یا منٹ نہیں بلکہ ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ لگا ہے جو اللہ کی قدرت کا ملہ کا اظہار ہے۔ بہرحال یہ تو علمی تحقیقات ہے جس کا سلسلہ قیامت تک چلتا ہی رہے گا اصل چیز یہ ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں بن گئی ہے بلکہ اللہ رب العالمین نے ان تمام چیزوں کو پیدا فرمایا ہے آج دنیا اللہ کی قدرت کو ماننے پر مجبور ہے اور انسان جتنی بھی ترقی کرتا جائے گا۔ اس کو یہ ماننا ہی پڑے گا کہ اس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا نگران ہے۔ اسی کا قانون چلتا ہے۔ ان آیات میں دوسری چیز جو انسانوں کے لئے عظیم نعمت ہے وہ پانی ہے۔ اگر پانی نہ ہوتا تو انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کی ہر چیز میں زندگی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں بھی فرمایا کہ ” اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ “ موجودہ تحقیق کے مطابق ہماری اس زمین کے سوا کہیں کسی ستارے اور سیارے میں پانی موجود نہیں ہے انسان نے جب چاند پر قدم رکھا تو اس کو آکسیجن اور پانی اسی دنیا سے لے کر جاناپڑا کیونکہ چاند پر آکسیجن اور پانی کا وجود نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ نے پانی کو ایک بہت بڑی اور انمول نعمت بنایا ہے جو تمام جان داروں کے لئے ہے، یہ ان کی ضرورت ہے، جہاں انسان یا جان دار آباد نہیں ہے وہاں حیات کا یہ چشمہ بھی موجود نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کی سطح کو پائے دار بنانے اور بقا کے لئے پہاڑوں کی شکل میں بڑے بڑے وزن رکھ دیئے ہیں تاکہ اس دنیا کا تو ازن برقرار رہے اور یہ دنیا انسانوں کے وزن سے ادھر ادھر ڈھلک نہ جائے یہ پہاڑ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو یہ زمین اپنا تو ازن کھو بیٹھتی اور ایک خیمہ تک اس پر نہ ٹکتا۔ موجودہ تحقیق یہ ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے مرکز میں بھڑکتی ہوئی آگ کو بھی قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو مسلسل اور متواتر نہ رکنے والے زلزلوں کا سامنا کرنا پڑتا اور زمین پر معمولی سی عمارت بنانا بھی مشکل ہوجاتا حالانکہ اسی زمین پر بڑے بڑے شہر آباد ہیں اور عظیم الشان بلڈنگیں بنی ہوئی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا۔ اگر چند منٹ تک زلزلہ آتا رہے تو عظیم الشان بلڈنگیں مٹی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ان زلزلوں کو روکنے میں اللہ کی طرف سے پہاڑوں کو بھی بہت کچھ دخل ہے۔ دوسرے یہ کہ پہاڑ آنے والی نسلوں کے لئے ان کی زندگی کا سامان امانت کے طور پر اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ آتش فشاں پہاڑ جب اپنے اندر موجود دھاتوں کو اگلتے ہیں تو یہ بھی انسانوں کے فائدے کی چیزیں بن جاتی ہیں۔ پہاڑوں سے (1) پہلا فائدہ تو ہے کہ یہ زمین میں بوجھ بنا کر رکھ دیئے گئے ہیں (2) دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہ پہاڑ زبردست زلزلوں کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں (3) تیسرا فائدہ یہ ہے کہ پہاڑوں کے اندر اللہ نے جو دھاتیں رکھ دی ہیں اگر وہ آتش فشاں پہاڑوں کے ذریعہ باہر نہ نکلتیں تو پہاڑوں کا آتش فشاں مادہ زمین کو پھاڑ کر رکھ دیتا اور انسانی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے پہاڑوں کو ہر اعتبار سے ایک تو ازن قائم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ پانی اور پہاڑوں کی طرح ایک تیسری نعمت کا بھی اظہار فرمایا ہے اور وہ ہیں آنے جانے اور میل ملاپ کے راستے، اگر یہ راستے نہ ہوتے تو انسانوں کو ترقیات میں آگے بڑھنے کے موقعے نہ ملتے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا کس قدر دشوار ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور میں اللہ نے انسانوں کو برو بحر اور فضاؤں پر کیسی عظمت عطا فرمائی ہے کہ اس نے ہواؤں میں فضاؤں میں سمندروں اور پہاڑوں میں ایسے ایسے راستے بنا دیئے ہیں جن سے وہ نہایت سہولت کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو آج کی ترقیات کا بہت کچھ دار و مدار ان ہی راستوں اور آمد و رفت پر ہے۔ اللہ نے فضاؤں کو سمندروں، پہاڑوں اور خشکی کے راستوں کو انسان کے لئے نعمت بنا دیا ہے۔ پانی، پہاڑ اور آنے جانے کے راستوں کے علاوہ آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا ہے۔ اصل میں ” السمائ “ کے معنی بلندی کے آتے ہیں یعنی جو ہمارے اوپر ہے اس میں بھی موجودہ تحقیق یہ ہے کہ اللہ نے ہماری دنیا پر ایک غلاف سا چڑھا دیا ہے۔ جس کو ” اوزون “ کہتے ہیں اس کا کام یہ ہے کہ کائنات سے آنے والے جراثیم اور ہزاروں قسم کے نقصان دینے والی چیزوں کو اس دنیا میں پہنچنے سے روکنے کا کام اس سے لیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو صرف چھت نہیں فرمایا بلکہ ” محفوظ چھت “ کا نام دیا ہے۔ سورج کی شدید ترین تیز و تند گرمی کو روکنے کا بھی یہی ایک ذریعہ ہے۔ آج کے انسانوں نے اپنے کیمیکل وغیرہ سے اس محفوظ چھت (اوزون) کو شدید نقصان پہنچا دیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہا تو اس سے انسانوں کی صحت اور مفادات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ” محفوظ چھت “ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی طرح رات اور دن کا آنا جانا۔ رات اور دن کے اوقات کا بدلتے رہنا بھی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اگر دن ہی دن ہوتا یا رات ہی رات ہوتی تو نہ لوگوں کو آرام ملتا اور نہ کام کاج ہوتا۔ اللہ نے اسک کا ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں کبھی کے دن، اس سے موسموں میں تغیر بھی آتا ہے اور اس سے سردی گرمی، بہار اور خزاں کے موسم بھی بنتے ہیں اور انسان کے لئے اکتا دینے والی یکسانیت پیدا نہیں ہوتی اور آخری جس نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ وہ ہے چاند، سورج، ستاروں اور سیاروں کا ایک دائرے میں چلنا۔ اگر یہ اپنی چال بھول جائیں تو یہ ساری کائنات آپس میں ٹکرا جائے۔ چونکہ اللہ نے اس کا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تو کسی مجال نہیں ہے کہ وہ اپنی رفتار یا چال سے ایک قدم بھی آگے بڑھا سکے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے۔ پانی کے چشمے بہا دیئے، زمین پر پہاڑوں کے بوجھ رکھ دیئے۔ آسمان کو محفوظ چھت بنا دیا، رات اور دن کا نظام ائم فرمایا اور چاند سورج، ستاروں اور سیاروں کو اس طرح اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے کہ ہر ایک اپنے محور اور مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ سب کچھ محض اللہ کی قدرت اور طاقت سے ہی ممکن ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کو نہ چلا رہے ہوتے تو اس کائنات کا نظام ایک دن میں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ ہمیں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں یہ اور اس قسم کی ہزاروں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اللہ ہم سب کو شکر ادا کرنے اور حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ کیونکہ جس طرح اللہ نے دنیا کی اس مختصر سی زندگی کے لئے ہر طرح کے اسباب کا نظام بنایا ہے اس نے قیامت کے دن اپنے نیک اور مومن بندوں کے لئے کیا کچھ تیار کر کے نہ رکھا ہوگا۔ یہ زندگی تو چند برسوں کے اندر محدود ہے جو ایک وقت پر آکر ختم ہوجائے گی لیکن آخرت کی زندگی کبھی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آخرت کی پوری طرح تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین