Explained with ayahs 1–6
قیامت سے غافل انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر
(الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)
" موت کی چکی زور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 3
یعنی قرآن کی ہر نئی سورت جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی ہے اور انہیں سنائی جاتی ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 4
وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو اوپر ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس میں کھیل سے مراد یہی زندگی ہے جسے خدا اور آخرت سے غافل لوگ کھیل رہے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے بلکہ کھیل اور مذاق کے طور پر سنتے ہیں۔
Read the full tafseer →مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ ، لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ جو لوگ آخرت اور قبر کے عذات سے غفلت اور اس کے لئے تیاری سے اعراض کرنے والے ہیں یہ ان کے حال کا مزید بیان ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کی کوئی نئی آیت آتی اور پڑھی جاتی ہے تو وہ اس کو اس حالت میں سنتے ہیں کہ کھیل اور ہنسی مذاق کرتے ہیں اور ان کے دل اللہ سے اور آخرت سے بالکل غافل ہوتے ہیں اس کی یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ قرآن کی آیات سننے کے وقت یہ اپنے کھیل اور شغل میں اسی طرح لگے رہتے ہیں قرآن کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ خود آیات قرآن ہی سے کھیل…
Read the full tafseer →تازہ بتازہ یاد دہانی
فرمایا کہ ان کے اندر غفلت اور لا ابلی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت بھی ہے کہ ان کو بار بار گوناگوں پہلوئوں اور اسلوبوں سے یاد دہانی کی جا رہی ہے لیکن جو تازہ تذکیر و تنبیہ بھی ان کے پاس آتی ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے اس کو ہنسی مسخری میں اڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورة طہ میں فرمایا ہے۔ آیت 130 (اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا اور اس میں اپنی وعید گونگاوں پہلوئوں سے واضح کردی کہ وہ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر ہماری یاد دہانی کو تازہ کر دے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے صرف ایک بار ان کو سنا دینے ہی پریس نہیں کیا بلکہ ان کو خواب…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی قرآن جو وقتاً فوقتاً حسب حالات و ضروریات نیا نیا اترتا رہتا ہے، وہ اگرچہ انہی کی نصیحت کے لئے اترتا ہے، لیکن وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جیسے وہ اس سے استہزاء مذاق اور کھیل کر رہے ہوں یعنی اس میں تدبر و غور و فکر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الانبیآء مکیۃ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9)
یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔
لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 یعنی قرآن کی بڑی بیش قیمت نصیحتوں کو محض ایک کھیل تماشہ کی حیثیت سے سنتے ہیں جن میں اگر اخلاص کے ساتھ غور کرتے تو سب دین و دنیا درست ہوجاتی۔ لیکن جب دل ہی ادھر سے غافل ہیں اور کھیل تماشہ میں پڑے ہیں تو غور کرنے کی نوبت کہاں سے آئے۔
3 جب نصیحت سنتے سنتے تنگ آگئے تو چند بےانصافوں نے خفیہ میٹنگ کر کے قرآن اور پیغمبر کے متعلق کہنا شروع کیا کہ یہ پیغمبر تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہیں، نہ فرشتہ ہیں نہ ہم سے زیادہ کوئی ظاہری امتیاز رکھتے ہیں۔ البتہ ان کو جادو آتا ہے۔ جو کلام پڑھ کر سناتے ہیں وہ ہو نہ ہو جادو کا کلام ہے۔ پھر تم کو کیا مصیبت نے گھیرا کہ آنکھوں دیکھتے ان کے جادو میں پھنستے ہو۔ لازم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2 مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّہِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ وَہُمْ یَلْعَبُوْنَ ”
جب بھی ان کی طرف کوئی نئی وحی آتی ہے ‘ کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ اسے اپنے مخصوص لا ابالیانہ انداز میں ہی سنتے ہیں۔ وہ اللہ کے کلام کی طرف کبھی بھی سنجیدگی سے متوجہ نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →3 نئی نصیحت سے مراد کوئی نئی سورت ہے۔ یعنی جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو اسے سن کر بھی ان سنی کردیتے ہیں۔ دنیا کے کاروبار اور مشاغل میں ایسے منہمک ہیں کہ ان آیات الٰہی میں غور کرنے کی نہ انھیں فرصت ملتی ہے اور نہ اس کی ضرورت یا اہمیت سمجھتے ہیں۔ پس اپنے دنیا کے دھندوں میں ہی مست رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد اسلام کے خلاف سازش کرنے والے منکرین ہیں۔ ابوجھل و اصحابہ (ابن عباس ؓ اور آج بھی جو لوگ عداوت اسلام و رسول اسلام میں اسی ابو جہلی روش پر چلیں اسی میں شامل ہیں، سازش کے لئے اخفاء لازمی ہے، اس لئے یہ لوگ اپنی کمیٹیوں، کانفرنسوں، مشورت کے جلسوں کو چھپا چھپا کر کرتے تھے۔ (آیت) ” مایاتیھم ...... یلعبون “۔ ہر تازہ نشان کو، بجائے عنوان عبرت وتذکیر کے سرمایہ تفریح و تمسخر بنالینا منکرین کا عام دستور اگلوں پچھلوں سب میں مشترک ہے۔ (آیت) ” لاھیۃ قلوبھم “۔ یعنی موعظہ ونصیحت کو اس کان سننا اور اس کان اڑا دینا یہ آخرت فراموشی ہی سے پیدا ہوتا ہے جس طرح جاہلیت قدیم میں عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →ما یاتیہم من ذکر من ربہم محدث الا استمعوہ وہم یلعبون۔ ان کے پاس ان کے رب کی
طرف سے جو نصیحت تازہ (ان کے حسب حال) آتی ہے یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں کہ (اس کے ساتھ) ہنسی کرتے ہیں۔
مِنْ ذِکْرٍمیں مِن زائد ہے جار مجرور محل فاعل میں ہے۔ ذکر یعنی ایسی نصیحت جو خواب غفلت سے بیدار کر دے۔ مُحْدَثٍتازہ جدید یعنی جس کا نزول جدید ہو کانوں میں بار بار آئے تاکہ نصیحت پذیری پر تنبیہ ہو۔ محدثٍ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ذکر قدیم نہ ہو (کیونکہ حدوث سے مراد نزول کا حدوث ہے اس سے معتزلہ کے اعتراض کی بیخ کنی ہوگئی جو کلام اللہ کو حادث کہتے ہیں اور محدث کے لفظ سے حدوث پر استدلال کرتے ہیں۔ مترجم) وَہُمْ…
Read the full tafseer →(2) ان کے نبی کے پاس ان کے رب کی طرف بذریعہ جبریل امین ؑ جو نصیحت تازہ آتی ہے۔
یعنی قرآن کریم کی ایک آیت کے بعد دوسری آیت اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت نازل ہوتی ہے تو جبریل امین ؑ کی تشریف آوری اور رسول اکرم ﷺ کا ان کے سامنے آیات قرآنیہ کا تلاوت کرنا، اور ان کا سننا یہ سب چیزیں تازہ اور نئی ہیں تو یہ کفار مکہ رسول اکرم ﷺ کے پڑھنے اور قرآن کریم کو اس طریقے سے سنتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ۔۔ :”اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ“ ”سَمِعَ یَسْمَعُ“ کا معنی سننا ہے، باب افتعال میں تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، جو موقع کی مناسبت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے۔ عام طور پر ”اِسْتَمَعَ“ کا معنی کان لگا کر سننا آتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ کفار کے لیے نصیحت کو کان لگا کر سننا مشکل ہے، خصوصاً جب وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہوں، اس لیے معنی کیا گیا ہے ”مگر وہ اسے مشکل سے سنتے ہیں۔“
پچھلی آیت میں لوگوں کے غفلت میں گرفتار ہونے اور منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں بتایا کہ انھیں اس غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ان کے رب کی طرف سے قرآن و سنت کی صورت میں نئی سے نئی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث، محدث ذکر کی صفت ہے۔ کسائی اور فراء نے محدثاً بھی جائز قرار دیا ہے، بمعنی ما یا تیھم محدثاً نصب کی حال کی بنا پر ہے کیونکہ اگر تو من کو حذف کرے گا تو ذکر کو رفع دے گا یعنی ما یاتیھم من ذکر من ربھم محدث مراد نزول ہے اور جبرائیل کا حضرت محمد ﷺ پر تلاوت کرنا ہے، کیونکہ قرآن کی سورت کے بعد سورت اور آیت کے بعد آیت نازل ہوتی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک وقت کے بعد دوسرے وقت میں اسے نازل کرتا تھا نہ کہ قرآن مخلوق ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الذکر سے مراد وہ ہے جس کے نبی پاک ﷺ انہیں نصیحت کرتے اور وعظ کرتے تھے۔ اور فرمایا : من ربھم کیونکہ نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ مَا يَاْتِيْهِمْ : نہیں پہنچتی ان کے پاس [ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِهِمْ مُّحْدَثٍ : کوئی بھی نئی نصیحت ان کے رب (کی طرف) سے ] [ اِلَّا : مگر ] [ اسْتمعُوْهُ : وہ سنتے ہیں اس کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ يَلْعَبُوْنَ : کھیلتے ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →3:۔ دنیا میں انہماک اور آخرت سے غفلت و اعراض کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی طرف سے جب کوئی نئی آیت توحید نازل ہوتی ہے تو وہ استہزاء و تمسخر کے ساتھ اسے سنتے ہیں۔ اور ان کے دل اس میں غور و فکر کرنے سے سراسر غافل ہوتے ہیں۔ محدث یعنی پہلے سے ان کی سنی ہوئی نہیں ہوتی۔ وھم یلعبون یستمعون القران مستھزئین لاھیۃ قلوبھم معرضۃ عن ذکر اللہ متشاغلۃ عن التامل والتفہم (قرطبی ج 11 ص 268) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →مَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّہِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَـمَعُوْہُ وَہُمْ يَلْعَبُوْنَ 2ۙ
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وھم مبتداء و معرضون خبر وفی غفلہ ضمیر معرضون سے حال ہے ای اعرضوا غافلین اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو۔ لاھیۃ قلوبہم حال ہے ضمیر یلعبون سے اور یہ دونوں حال مترادف یا متداخل ہیں اور جس نے لاھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے تب ایک ہی حال ہے کس لیے کہ یہ خبر بعد خبر ہے ہل ہذا جملہ محل نصب میں ہے النجوی سے بدل کر ای واسروا ھذا الحدیث۔ قال بصیغہ ماضی رسول کا قول ہوگا حمزہ و کسائی و حفض کی قرأت کے بموجب اور دیگر قراء نے قل بصیغہ امر پڑھا ہے۔
تفسیر : یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بیشتر توحید و نبوت اور عالم آخرت کا ثبوت اور انبیاء (علیہم السلام) کے عبرت انگیز تذکرے اور ان کی نافرمان امتوں کا…
Read the full tafseer →مَایَاْیِتْھِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ اِلاَّ اسْتَمَعُوْہُ وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ ۔ (الانبیاء : 2)
(ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو تازہ نصیحت بھی آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں۔ )
اعراض کی کیفیت
اس آیت کریمہ میں ان کے اعراض کی کیفیت بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کا وہ اعراض جس کے پس منظر میں ان کی غفلت اور ان کا غیرسنجیدہ رویہ کارفرما ہے اپنے اندر لا ابالی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت کا پہلو بھی رکھتا ہے۔ قرآن کریم انھیں بار بار ان کے غلط رویئے پر ٹوکتا ہے اور مختلف اسالیب سے انھیں تذکیر و تنبیہ کے ذریعے متوجہ کرتا ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط کلام : سورة طٰہٰ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا۔ اے لوگو ! جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو اس کا انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ سورة الانبیاء کی ابتداء اس بات سے ہو رہی ہے کہ منکرین حق جس عذاب کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو قریب آن پہنچا ہے۔
احتساب اور عذاب کا دن قریب آپہنچا ہے۔ لیکن منکرین حق غفلت کی بناء پر اس سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے اور سنتے ہیں۔ انھیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو قیامت کے دن تم اس میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ منکرین حق کے لیے یہ انتقام اور سخت عذاب کا…
Read the full tafseer →2: مَایاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ (ان کے پاس جو نصیحت آتی ہے) ذکر سے قرآن مجید کا منزّل حصہ مراد ہے۔ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ (ان کے رب کی طرف سے تازہ) اتار کر اس کی تلاوت شروع کر ادی ہو اور ان کے کانوں پر پڑنے کا زمانہ تھوڑا ہو۔ مراد اس سے حروف منظومہ ہیں اور ان کے حدوث میں اختلاف نہیں (باقی حدوث فی النزول مراد ہے) ۔ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ (مگر یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں) نبی اکرم ﷺ سے یا کسی تلاوت کرنے والے سے وَ ھُمْ یَلْعَبُوْنَ (وہ اس سے ہنسی کرنے والے ہیں) مذاق اڑانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →3۔ مایاتیھم من ذکر۔۔۔۔ قرآن میں سے جو چیز اللہ نازل کرے خواہ وہ کوئی وعظ ہو یا نصیحت ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہونا اور بعض نے کہا کہ ذکر من ربھم محدث سے مراد جو نبی کریم نے فرمای اور آپ کی سنن اور نصائح جو قران کے علاوہ ہیں، من ربھم، اللہ رب العزت نے جو فرمایا وھم یلعبون ، وہ صرف ہنسی مذاق کے لیے سنتے ہیں نہ کہ نصیحت اور عبرت پکڑنے کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 1-4
یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب آلگا ہے لوگوں سے ان کے حساب کا وقت مگر لوگ ہیں کہ غفلت میں پڑے ہیں "۔ کیونکہ اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے اور آنے والی ہر چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے " کُلّ آتٍ قَرِیْب "۔ اور اس کے قرب کی سب سے بڑی نشانی خود حضرت خاتم الانبیائ ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری ہے۔ جس کے بعد اب قیامت تک کسی پیغمبر نے نہیں آنا۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ارشاد فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں۔ یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کسی تیسری انگلی کا فاصلہ نہیں اسی طرح اب قیامت کے اور میرے درمیان کسی اور نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →ف 4 ” ذکر “ سے مراد قرآن ہو تو اس کا محدث (نیا) ہونا نزول کے اعتبار سے ہے کیونکہ قرآن حسب مواقع سورت سورت اور آیت آیت کی شکل میں نازل ہوا ہے۔ ورنہ قرآن اللہ کا کلام غیر مخلوق اور قدیم ہے اور بعض علما نے ” ذکر “ سے خود ” رسول “ مراد لیا ہے اور آنحضرت کو قرآن میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے سورة قلم آیت 52 اطلاق آیت 10 (قرطبی)5 یعنی توجہ اور دھیان سے سننے کی بجائے الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔6 جیسا کہ ایک مادہ پرست دنیا کو کھیل تماشا سمجھتا ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو بلکہ یہ سب روشن خیالیاں روز…
Read the full tafseer →(21:2) ما یاتیہم من ذکر۔ میں ما نافیہ ہے من ذکر ای شیء من القران۔ محدث۔ اسم مفعول واحد مذکر احداث (افعال) مصدر۔ جدید۔ تازہ۔ یہ ذکر کی صفت ہے من ذکر محدث کوئی نئی سورت یا آیت۔
استمعوہ۔ ماضی (بمعنی حال) جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع ذکر محدث ہے۔ استعماع (افتعال) مصدر وہ اس کو سنتے ہیں۔
وھم یلعبون۔ وائو حالیہ ہے۔ ہم یلعبون حال ہے استمعوا کے فاعل سے۔ یعنی ان کا دھیان اپنے لہو ولعب کی طرف ہے سننے کی طرف نہیں یہ سننے کے ساتھ مذاق کرنے کے متراد ہے۔ آیۃ کا ترجمہ ہوا۔ نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی یا تازہ سورت یا آیت مگر یہ کہ وہ اسے سنتے ہیں اس حال میں کہ وہ لہو ولعب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی حساب اعمال کا وقت روز قیامت قریب آگیا ہے۔ روز قیامت کو گزرے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قریب فرمایا گیا کیونکہ جتنے دن گزرتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ انسانی اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے اور اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔
Read the full tafseer →-2 ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے کوئی نئی نصیحت اور تازہ نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس کو کھیلتے ہوئے سنتے ہیں یعنی جب کوئی نئی نصیحت آتی ہے اور ان کو خدا کا کلام سنایا جاتا ہے تو یہ کھیلتے اور استہزا کرتے رہتے ہیں یعنی اس کو کھیل اور استہزا کی حالت میں سنتے ہیں جو نہ سننے کے برابر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10۔ یعنی قیامت وقتا فوقتا نزدیک ہوتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →پروردگار کی طرف سے نصیحت تو پہیم آرہی ہے لیکن کوئی کان دھرنے والا بھی تو ہو :
2۔ مخاطبین اول کو کہا جارہا ہے کہ جو بات میں نے تم سے کہی ہے اس کو سن کر تم ششدر اور حیران وپریشان کیوں ہوگئے ہو نصیحت جو میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی بات تو نہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے تو پہیم بہ نصیحت آتی رہی ہے اور کوئی نبی ورسول بھی ایسا نہیں گزرا جس نے تم کو اس کی خبر نہ دی ہو لیکن تم نے ہر ایک کے پیغام کو بھلا دیا اور تمہاری عادت میں یہ بات داخل ہوگئی کہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہو ۔ یہی بات تم نے اب بھی کی ہے اور اس پر تم قائم رہو گے بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام…
Read the full tafseer →مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ﴿2﴾ لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ (No new message comes to them from their Lord, but they listen to it in a state of playing, their hearts paying no heed. 21:2, 3) This verse describes the state of those who disregard the punishment in the grave and in the Hereafter and do not prepare themselves to counter it with good deeds. The verse further describes their practice of making light of new Qur'anic verses when they are recited before them. They are totally oblivious of the fear of God and the Hereafter. The…
Read the full tafseer →3.“New revelation”: A new Surah of the Quran.
4. The words of the original text may also be interpreted as: They do not take life seriously but treat it as a sport and a joke.
Read the full tafseer →