Explained with ayahs 1–6
قیامت سے غافل انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر
(الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)
" موت کی چکی زور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 5
" پھنسے جاتے ہو " بھی ترجمہ ہوسکتا ہے، اور دونوں ہی مطلب صحیح ہیں۔ سرگوشیاں کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار آپس میں بیٹھ بیٹھ کر کیا کرتے تھے جن کو نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بڑی فکر لاحق تھی وہ کہتے تھے یہ شخص بہرحال نبی تو ہو نہیں سکتا، کیونکہ ہم ہی جیسا انسان ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جو اس کو ہم سے ممتاز کرتی ہو اور ہماری بہ نسبت اس کو خدا سے ایک غیر معمولی تعلق کا مستحق بناتی ہو ؟ البتہ اس شخص کی باتوں میں اور اس کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو اس کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کے قریب جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپس میں آہستہ آہستہ سرگوشی کر کے یہ کہتے ہیں کہ یہ جو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں یہ تو ہم جیسے ہی انسان ہیں کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں کہ ہم ان کی بات مان لیں اور پھر اس کلام الٰہی کو جو ان کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس کی حلاوت و بلاغت اور دلوں میں تاثیر کا کوئی کافر بھی انکار نہ کرسکتا تھا، اس سے لوگوں کو ہٹانے کی صورت یہ نکالی کہ اس کو سحر اور جادو قرار دیں اور پھر لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے یہ کہیں کہ جب تم سمجھ گئے کہ یہ جادو ہے تو پھر ان کے پاس جانا اور یہ کلام سننا دانشمندی کے خلاف ہے شاید یہ گفتگو آپس میں آہستہ اس لئے…
Read the full tafseer →قریش کے لیڈروں کی سخن سازیاں
لاھیۃ قلوبھم دوسرا ملا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دل کا اصلی کام تفکر و تذکر ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ان کے دل اپنی دلچسپیوں میں ایسے کھوئے ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات اور بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی یہ مذاق میں اڑا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ قریش کے لیڈروں اور ان کے دانشوروں کی وہ باتیں نقل ہو رہی ہیں جو وہ اپنی مجالس میں قرآن اور نبی ﷺ کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے لوگوں کے اندر پھیلاتے تھے۔ ان کو یہ اندازہ اچھی طرح ہوگیا تھا کہ قرآن کی دعوت دلوں میں گھر کر رہی ہے اور صاف ذہن رکھنے والے لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو مٹانے کے لئے انہوں نے لوگوں کے اندر یہ وسوسہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی نبی کا بشر ہونا ان کے لئے ناقابل قبول ہے پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ تو جادوگر ہے، تم اس کے جادو میں دیکھتے بھالتے کیوں پھنستے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الانبیآء مکیۃ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9)
یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔
لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 یعنی قرآن کی بڑی بیش قیمت نصیحتوں کو محض ایک کھیل تماشہ کی حیثیت سے سنتے ہیں جن میں اگر اخلاص کے ساتھ غور کرتے تو سب دین و دنیا درست ہوجاتی۔ لیکن جب دل ہی ادھر سے غافل ہیں اور کھیل تماشہ میں پڑے ہیں تو غور کرنے کی نوبت کہاں سے آئے۔
3 جب نصیحت سنتے سنتے تنگ آگئے تو چند بےانصافوں نے خفیہ میٹنگ کر کے قرآن اور پیغمبر کے متعلق کہنا شروع کیا کہ یہ پیغمبر تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہیں، نہ فرشتہ ہیں نہ ہم سے زیادہ کوئی ظاہری امتیاز رکھتے ہیں۔ البتہ ان کو جادو آتا ہے۔ جو کلام پڑھ کر سناتے ہیں وہ ہو نہ ہو جادو کا کلام ہے۔ پھر تم کو کیا مصیبت نے گھیرا کہ آنکھوں دیکھتے ان کے جادو میں پھنستے ہو۔ لازم ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 3 لَاہِیَۃً قُلُوْبُہُمْ ط ”
ان کا غیر سنجیدہ رویہ اس حد تک ان کے دلوں میں گھر کر گیا ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی ایک کھیل ہی سمجھ رکھا ہے۔
ہَلْ ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ج ”
رسول اللہ ﷺ سے کلام اللہ سن کر اگر ان کا کوئی ساتھی متاثر ہوتا تو اسے الگ لے جا کر بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھاتے کہ ارے تم خواہ مخواہ اپنے جیسے ایک انسان کو اللہ کا رسول اور اس کی باتوں کو اللہ کا کلام سمجھ رہے ہو۔ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”
تم جانتے بھی ہو کہ یہ کلام وغیرہ سب جادو کا کمال ہے۔ تو کیا تم جانتے بوجھتے ہوئے اس کا شکار…
Read the full tafseer →4 قریش مکہ قرآن کی دعوت کے شدید مخالف تھے لیکن اس کے انداز بیان، فصاحت و بلاغت اور جادو کی سی تاثیر کے وہ خود بھی معترف تھے اور قرآن کو اسی لحاظ سے جادو کہتے تھے اور اس جادو کو روکنے کا طریقہ ابتداًء انہوں نے یہ اختیار کرلیا تھا کہ سب قریشی سرداروں نے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ جہاں تک ہوسکے قرآن کے سننے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سننے پر پابندی تو انہوں نے اپنے آپ پر لگائی تھی مگر یہ قریشی سردار خود بھی اس پابندی کو نباہ نہ سکے اور خود بھی چوری چھپے قرآن سن لیتے تھے کیونکہ ان کے دل اور ان کے کام قرآن کی لذت سے محظوظ ہونا چاہتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ تین سردار رات کے وقت کعبہ کے گرد کھڑے ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد اسلام کے خلاف سازش کرنے والے منکرین ہیں۔ ابوجھل و اصحابہ (ابن عباس ؓ اور آج بھی جو لوگ عداوت اسلام و رسول اسلام میں اسی ابو جہلی روش پر چلیں اسی میں شامل ہیں، سازش کے لئے اخفاء لازمی ہے، اس لئے یہ لوگ اپنی کمیٹیوں، کانفرنسوں، مشورت کے جلسوں کو چھپا چھپا کر کرتے تھے۔ (آیت) ” مایاتیھم ...... یلعبون “۔ ہر تازہ نشان کو، بجائے عنوان عبرت وتذکیر کے سرمایہ تفریح و تمسخر بنالینا منکرین کا عام دستور اگلوں پچھلوں سب میں مشترک ہے۔ (آیت) ” لاھیۃ قلوبھم “۔ یعنی موعظہ ونصیحت کو اس کان سننا اور اس کان اڑا دینا یہ آخرت فراموشی ہی سے پیدا ہوتا ہے جس طرح جاہلیت قدیم میں عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →لاہیۃ قلوبہم (قرآن میں غور کرنے اور انجام کو سوچنے سے) ان کے دل بےفکر ہیں۔ ابوبکر وراق نے لاہِیَۃً کا
مطلب بیان کیا کہ ان کے دل دنیوی سجاوٹ و بناوٹ میں مشغول ہیں آخرت اور اس کی ہولناکیوں سے غافل ہیں۔
واسروا النجوی الذین ظلموا اور چھپا کر سرگوشیاں کیں ظالموں نے۔ (سرگوشی تو خود پوشیدہ ہی ہوتی ہے
کانوں کانوں میں بات کرنے کو نجویٰ کہتے ہیں پھر اَسَرُّوْاکیوں فرمایا تو اس اضافہ سے پوشیدہ رکھنے میں مبالغہ کو ظاہر کرنا مقصود ہے یا یہ مطلب ہے کہ ایسی جگہ سرگوشی کرتے ہیں کہ وہ مقام بھی پوشیدہ رہے کسی کو معلوم نہ ہو۔
اَسَرُّوْا میں واؤ زائد ہے یا ضمیر جمع کا ہے اور الذیناس سے بدل ہے یا اَسَرُّوْاسے…
Read the full tafseer →(3) ان لوگوں کے دل یوم حشر سے بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم لوگ یعنی مشرکین مکہ ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کے بارے میں آپس میں چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ محمد ﷺ ہم جیسے ایک معمولی آدمی ہیں تو کیا پھر بھی ان کے سحر میں مبتلا ہو اور جھوٹ سنتے جاتے، حالانکہ تم خوب جانتے ہو، کہ یہ جادو اور جھوٹ ہے۔
Read the full tafseer →لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ ۭ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي۔۔ : ”لَاهِيَةً“ ”لَہِیَ یَلْھٰی“ (ع) یا ”لَھَا یَلْھُوْ“ (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ ”لَھْوٌ“ وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة روم (6، 7)۔
وَاَسَرُّوا النَّجْوَي : یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا ھیۃ قلوبھم یعنی کے ان کے دل غافل ہوتے ہیں ذکر الہٰی سے اعراض کیے ہوئے ہوتے ہیں غور و تامل نہیں کرتے یہ عربوں کے قول لھیت عن ذکر الشئی سے مشتق ہے۔ جب تو کسی چیز کو ترک کر دے اور اس سے اعراض کرتے۔ ألھی لھیا و لھیانا، لا ہیۃ۔ نعت ہے اسم سے مقدم ہے اور نعت کا حق یہ ہوتا ہے کہ تمام اعراب میں موصوف کے تابع ہو جب نعت اسم سے پہلے آجاتی ہے تو منصوب ہوتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خاشعۃ ابصارھم و دانیہ علیہھم ظللھا ( الدہر : 14) لا ھیۃ قلوبھم۔ شاعر نے کہا :
لعزۃ موحشا طلل یلوح کا نہ حلل
مراد طلل موحش ہے۔ کسائی اور فراء نے لا ھیۃ قلوبھم رفع کے ساتھ بھی جائز قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ لَاهِيَةً : غافل ہونے والے ہوتے ہوئے ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ وَاَسَرُّوا : اور انھوں نے چھپایا ] [ النَّجوي : سرگوشی کو ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ ظَلَمُوْا : ظلم کیا ] [ هَلْ ھٰذَآ : (سرگوشی کرتے ہیں کہ) یہ کیا ہیں ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ بَشَرٌ: ایک بشر ] [ مِّثْلُكُمْ : تم لوگوں جیسے ] [ اَفَتَاْتُوْنَ : تو کیا تم لوگ آتے ہو ] [ السِّحْرَ : جادو کے پاس [ وَ : اس حال میں کہ ] [ انتم : تم لوگ ] [ تُبْصِرُوْنَ : دیکھتے ہوتے ہو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →4:۔ یعنی جب قرآن سنتے ہیں تو اس کے خلاف آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ ” الذین ظلموا “ بظاھر ” اسروا “ کا فاعل معلوم ہوتا ہے۔ مگر قاعدہ کے مطابق فاعل ظاہر جمع کے لیے فعل مفرد آنا چاہئے تھا۔ مفسرین اور ائمہ نحو نے اس کے بہت سے جواب دئیے ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ موصول ” اسروا “ کا فاعل نہیں بلکہ (1) ” اسروا “ کی ضمیر ” الناس “ کی طرف راجع ہے اور ” الذین ظلموا “ اس سے بدل ہے (2) الذین کا فعل یقول اس سے پہلے محذوف ہے (3) الذین سے پہلے فعل اعنی محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے۔ (4) یہ مجرور ہے۔ اور مع صلہ الناس کی صفت ہے۔ یا اسروا کی واو علامت جمع ہے۔ علامت فاعل نہیں (من القرطبی والبحر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →لَاہِيَۃً قُلُوْبُہُمْ 0ۭ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي 0ۤۖ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا 0ۤۖ ہَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ 0ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ 3
لهي
أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها .
الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وھم مبتداء و معرضون خبر وفی غفلہ ضمیر معرضون سے حال ہے ای اعرضوا غافلین اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو۔ لاھیۃ قلوبہم حال ہے ضمیر یلعبون سے اور یہ دونوں حال مترادف یا متداخل ہیں اور جس نے لاھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے تب ایک ہی حال ہے کس لیے کہ یہ خبر بعد خبر ہے ہل ہذا جملہ محل نصب میں ہے النجوی سے بدل کر ای واسروا ھذا الحدیث۔ قال بصیغہ ماضی رسول کا قول ہوگا حمزہ و کسائی و حفض کی قرأت کے بموجب اور دیگر قراء نے قل بصیغہ امر پڑھا ہے۔
تفسیر : یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بیشتر توحید و نبوت اور عالم آخرت کا ثبوت اور انبیاء (علیہم السلام) کے عبرت انگیز تذکرے اور ان کی نافرمان امتوں کا…
Read the full tafseer →لاَھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ ط وَاَسَرُّوا النَّجْوَیصلے ق الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا صلے ق ھَلْ ھٰذَآ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُم ج اَفَـتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 3)
(ان کے دل غفلت میں مدہوش ہیں اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے تو کیا تم آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
لاَھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ ” یہ دوسرا حال ہے۔ “ وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا کے فقرہ میں اَسَرُّوا فعل ہے نَجْوَی مفعول ہے اور الَّذِیْنَ فاعل ہے۔ نَحْو کا قاعدہ یہ ہے کہ فاعل اگر اسم ظاہر ہو تو فعل واحد ہوتا ہے۔ اس قاعدے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے بارے میں لاپرواہی اور حق بات کو شغل کے طور پر لینے کا بنیادی سبب دل کی غفلت ہے۔
انسان کا دل، حق بات کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجائے تو مؤثر ترین بات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہی حالت سرور دو عالم ﷺ کے مخالفین کی تھی۔ جس کا ” قَالُوْا قُلُوْا بُنَا غُلْفٌ“ کہہ کر برملا اعتراف کرتے تھے۔ (البقرۃ : 88) کہ ہمارے دل پر دہ میں ہیں۔ اسی بناء پر انھوں نے اپنی خفیہ مجالس میں پوری راز داری کے ساتھ ایک منظم پراپیگنڈہ کا فیصلہ کیا جس کے پیش نظر وہ لوگوں کو کہتے کہ محمد یوں ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے جیسا انسان ہے اس میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ وہ یہ کہہ کر…
Read the full tafseer →3: لَا ھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ (قرآن میں غور کرنے اور انجام کو سوچنے سے ان کے دل غافل ہیں) ۔
نحو : یلعبون کی ضمیر سے لا ھیۃً حال ہے۔ نمبر 2۔ یہ اسمعوہ کی ضمیر سے۔ ہم یلعبون اور لاھیۃ دونوں حال ہیں۔ نمبر 3۔ بعض نے لا ھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ دوسری خبر ہے ہم مبتدا یلعبون خبر اول ہے اور قلوبھم کا رفع لا ھیۃ کی وجہ سے ہے۔
اللغۃ : لا ھیۃؔ کا لفظ لَھَا یَلْھُو عنہ سے لیا گیا ہے جبکہ اس سے غافل ہو مطلب یہ ہے کہ ان کے دل مقصود سے غافل ہیں۔
ابوبکر و راق کا قول غافل دل وہ ہے جو دنیا اور اس کی رونق میں مشغول ہو۔ اور آخرت اور اس کی ہولناکیوں سے کنارہ کش ہو۔
وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →3۔ لاھیۃ “ وہ بھول جانے اور غافل رہنے والے ہیں۔ قلوبھم اللہ کے ذکر سے اعراض کرانے والے۔ لاھیۃ، ماقبل اسم کے لیے صفت ہے اور موصوف صفت اعرابی میں ایک ہی ہوتے ہیں ۔ اور جب موصوف اسم سے مقدم ہوجائے تو اس کی دوحالتیں ہیں فصل والی اور وصل والی۔ فصل والی حالت میں نصب آئے گا جیسا کہ اللہ کا فرمان ، خشعا ابصارھم، ودانیۃ علیھم ظلالھا،۔ ولاھیۃ قلوبھ، ماوروصل کی صورت میں یہ ماقبل کے اعراب کی طرح ہوگا۔ ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا، واسروا النجوی الذین ظلمو، اس سے مراد شرک ہے ۔ واسروا، یہ فعل ہے جو جمع سے مقدم ہے۔
کسائی کا قول ہے کہ یہاں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔ اس سے مراد جنہوں نے ظلم کیا اور چھپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 1-4
یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور…
Read the full tafseer →5 اہل باطل کی اہل حق کیخلاف سرگوشیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس طرح کی سرگوشیاں کرتے ہیں تاکہ اس طرح یہ حق کا راستہ روک سکیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اپنی سرگوشیوں اور اس طرح کی مخفی اور راز دارانہ باتوں سے تم لوگ دنیا والوں سے تو اپنے ایسے اقوال و اَفعال کو چھپا سکتے ہو مگر دلوں کے بھید جاننے والے اس علیم وخبیر سے کیسے چھپا سکتے ہو ؟ جو اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے ہر وقت اور ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے ؟ بہرکیف یہ بھی اہل باطل کی ایک قدیم اور مشترکہ نفسیات ہے کہ وہ اہل حق کیخلاف طرح طرح سے سرگوشیاں کرتے اور نت نئے طریقوں سے پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 7 یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے۔ اب جو یہ خارق عادت کارنامے دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آنحضرت کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا۔ ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور شر نبی نہیں ہوسکتا اور قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔
Read the full tafseer →(21:3) لاھیۃ قلوبہم۔ یہ بھی استمعوا کے فاعل سے حال ہے۔ لاھیۃ اسم فاعل واحد مؤنث ۔ لاھی واحد مذکر۔ لاھیات جمع۔ غافل ۔ لہو میں پڑے ہوئے اللھو۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ یہ لھوت کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانے کے ہیں۔ لاھیۃ قلوبہم (درآں حالیکہ) ان کے دل (یوم جزا سے ہٹ کر) غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ما یاتیہم سے جو فقرہ شروع ہوا تھا وہ قلوبہم پر آکر ختم ہوا۔ واسروا سے نیا فقرہ شروع ہوتا ہے
اسروا۔ وہ پوشیدہ رکھتے ہیں (ماضی بمعنی حال) ۔ النجوی۔ اسم معرف باللام۔ سرگوشی۔ یا یہ مصدر ہے بمعنی سرگوشی کرنا۔ نجوی میں خود ہی اخفاء کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی حساب اعمال کا وقت روز قیامت قریب آگیا ہے۔ روز قیامت کو گزرے ہوئے زمانے کے اعتبار سے قریب فرمایا گیا کیونکہ جتنے دن گزرتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ انسانی اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے اور اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وقت حساب قریب ہے ! :
(ف 1) قرآن حکیم کا موضوع دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا ہے اور دلوں کی سختیوں اور صلابتوں کو ایمان کی لذت اور آسانیوں سے بدلنا ہے اس لئے اس کے نزدیک اصل چیز ذمہ داری کا احساس ہے خشیت وخوف کا جذبہ ، ہے ، تقوی وپرہیزگاری ہے ، ہوشیاری دانائی ہے جو لوگ قرآن کی بیدار کن آیات سنتے تو ہیں ، لیکن بےپروائی سے عمل نہیں کرتے ، قرآن ان کو غافل قرار دیتا ہے ، اور ان کے حق میں تاسف کا اظہار کرتا ہے فرماتا ہے لوگوں کے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے ، اور ہر لمحہ یہ لوگ فنا کی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور جب قرآن حکیم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ، تو…
Read the full tafseer →-3 ان کے دل اور جانب مشغول ہوتے ہیں اور یہ ظالم لوگ چپکے چپکے سر گوشیاں کرتے ہیں کہ یہ محمد ﷺ کچھ نہیں مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے تم تو آنکھوں دیکھتے کیوں جادو میں پھنسنے کو آتے ہو یعنی سنتے وقت ان کے دل اور جانب متوجہ و مشغول ہوتے ہیں اور چپکے چپکے سازشیں کرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ محمد ﷺ بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے یہ کسی خاص شخصیت کا مالک نہیں ہے اور نہ یہ پیغمبر ہے اور یہ جو کلام سناتے ہیں اس میں ایک قسم کی دلکشی ضرور ہے مگر وہ دل کشی جادو کی ہے اور یہ جادو آمیز کلام ہے لہٰذا تم دیکھتے بھالتے اور جانتے بوجھتے کیوں جادو میں مبتلا ہونے کو آتے ہو۔
مکہ میں کافروں کی قوت اگرچہ کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 10۔ یعنی قیامت وقتا فوقتا نزدیک ہوتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ دنیوی دلچسپیوں میں اس قدر کھوئے گئے ہیں کہ کلام الہی کو جادو کہہ دیا ہے :
3۔ اعضائے انسانی میں سے سب اعضا کے اپنے اپنے کام ہیں اور ہر عضو وہی کام کرتا ہے جو اس کے متعلق ہو ۔ ہر انسان کھاتا ہے اور ہر انسان کھاتا ہے اور ہر انسان سانس بھی لیتا ہے لیکن ذرا غور کرو کہ اگر کوئی شخص منہ کا کام ناک سے لینا شروع کر دے اور ناک کا منہ سے تو کیا ہو ؟ اگر سمجھ میں نہ آئے تو کسی ہسپتال میں جا کر اس آدمی کو دیکھو جس کی ناک سے نالی اس کے معدہ میں اتاری گئی ہو اور پھر تصور کرو کہ ایسا کیوں ترک کردیا جو اس کے ذمہ اللہ نے لگایا تھا ۔ معلوم ہے کہ دل کا کام کیا ہے ؟ ہاں ! دل کا کام غور وفکر کرنا ہے لیکن تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ (Would you then go along with sorcery while you have eyes to see? - 21:3) Those people used to discuss among themselves secretly that the claim of the Holy Prophet about his prophethood should not be accepted, because he was an ordinary human being like all others and not an angel. On the other hand not even the most rigid among the unbelievers could deny the supreme charm and eloquence of the Book of Allah nor its power to influence people when it was recited before them. Therefore, in order to turn people away from the Holy Book they started…
Read the full tafseer →5. This may also be translated as: What, are you then being ensnared by his magic?
The disbelievers, who were the chiefs of Makkah, whispered to one another to this effect: Anyhow this man cannot be a Prophet because he is a human being like us and eats and drinks and has wife and children like us. We see nothing unusual about him that might distinguish him from us and make him worthy of the office of Prophethood. We, however, admit that there is some magic in his talk and personality. That is why anyone who listens to him or goes near Him is charmed. Therefore, the best thing for you is not…
Read the full tafseer →