21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsسراج البیان

Ayah 21:1

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ Open ayah 21:1 in the Quran reader

لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

Ayah 21:2

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ Open ayah 21:2 in the Quran reader

جو نئی نصیحت ان کے رب کے پاس سے ان کیلئے آتی ہے اسے کھیل میں ہی لگے ہوئے سنتے ہیں ۔

Ayahs 21:3–6

لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 21:3 in the Quran reader

ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے چپکے چپکے مصلحت کی (کہتے ہیں) یہ تو تم ہی جیسا ایک آدمی ہے ، پھر تم اپنی آنکھوں دیکھے جادو میں کیوں پڑتے ہو ؟ (ف 1) ۔

قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 21:4 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا ، میرا رب ہر بات جو آسمان اور زمین میں ہے جانتا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔

بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 21:5 in the Quran reader

بلکہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن پریشان خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے جھوٹ باندھا ہے ، بلکہ وہ شاعر ہے سو اس کو چاہئے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جیسے پہلے لوگ بھیجے گئے تھے ۔

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:6 in the Quran reader

ان سے پہلے کوئی بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ایمان نہیں لائی تھی ، پس کیا یہ ایمان لائیں گے ؟

وقت حساب قریب ہے ! : (ف 1) قرآن حکیم کا موضوع دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا ہے اور دلوں کی سختیوں اور صلابتوں کو ایمان کی لذت اور آسانیوں سے بدلنا ہے اس لئے اس کے نزدیک اصل چیز ذمہ داری کا احساس ہے خشیت وخوف کا جذبہ ، ہے ، تقوی وپرہیزگاری ہے ، ہوشیاری دانائی ہے جو لوگ قرآن کی بیدار کن آیات سنتے تو ہیں ، لیکن بےپروائی سے عمل نہیں کرتے ، قرآن ان کو غافل قرار دیتا ہے ، اور ان کے حق میں تاسف کا اظہار کرتا ہے فرماتا ہے لوگوں کے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے ، اور ہر لمحہ یہ لوگ فنا کی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور جب قرآن حکیم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ، تو ان کی قساوت قلبی اور بڑھ جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں ، کہ یہ تو ہماری طرح ایک انسان ہے گویا بشریت اور انسانیت اتنا بڑا جرم ہے کہ وہ معاف نہیں کیا جاسکتا ، پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خیالات پریشان ہیں بلکہ افترا ہے اور محض ایک شاعری ہے ، غور فرمائیے ان اعتراضات میں سے کوئی بات بھی معقول ہے ؟ کیا بشر ہونا نبوت کے منافی ہے ؟ کیا انسان کو عہدہ نبوت پر فائز نہیں ہونا چاہئے ، ؟ کیا سحر وافترا دنیا میں اتنا بڑا انقلاب پیدا کرسکتے ہیں ؟ کیا خیالات پریشان زندگی کا دستور العمل بن سکتے ہیں ، اور کیا شاعری میں یہ قوت ہے کہ ٹھوس اور جچے تکے خیالات زندگی کے متعلق پیش کرسکے ۔ بات یہ ہے کہ ان کے دلوں میں چونکہ مذہب کی تڑپ نہیں تھی اور غفلت وجمود کے حجابات سے دل بےنور تھا ، اس لئے قرآن کی روشنی انہیں محسوس نہ ہوئی وہ آیات کو سنتے قیامت کے ہولناک احوال سے گوش آشنا ہوتے ، مگر طبیعت میں قطعا اثر و گداز پیدا نہ ہوتا اور تکذیب کے لئے مختلف بہانے بنا لیتے کبھی کہتے کہ یہ انسانی کلام ہے کبھی کہتے جادو ہے ، اور کبھی اسے افتراء قرار دیتے ، اور شاعری سے زیادہ وقت نہ دیتے فی الحقیقت اس نوع کے اعتراض خود ان کی پراگندگی خیالات کے آئینہ دار ہیں ، اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے سے سراسر قاصر رہے ، کیونکہ جس قسم کے اعتراضات پیش کئے گئے ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ قرب قیامت کے معنی یہ ہیں کہ موت ہر آنا یقینی ہے اور موت کے بعد اعمال کے نیک اور بد ہونے کا عالم قبر میں احساس ہوجاتا ہے اس لئے جو چیز قطعی اور ضمنی ہے اور جس کا آغاز موت کے بعد فورا ہوجاتا ہے اس کو ابھی سے محسوس کرنا چاہئے ۔ بل : کا لفظ عربی میں اضراب کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی پہلے جو مفہوم ذکر کیا گیا ہے ، یا سمجھ میں آتا ہے صحیح نہیں ، صحیح وہ ہے جو اس کے بعد مذکور ہے اس آیت میں لفظ بل اضراب کے لئے نہیں بلکہ استدراک کے لئے ہے یعنی جہاں وہ قرآن حکیم کو خیالات پریشان کہتے ہیں وہاں اسے افتراء سے بھی تعبیر کرتے ہیں ، اور اسے شاعری بھی قرار دیتے ہیں ۔ حل لغات : یلعبون : یعنی بےاعتنائی اور بےتوجہی برتتے ہیں ۔
Ayahs 21:7–10

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 21:7 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے جو ہم نے بھیجے وہ بھی آدمی ہی تھے ان پر ہم وحی بھیجتے تھے ، سو اگر تم نہیں جانتے تو یاد رکھنے والوں (یعنی اہل کتاب) سے پوچھ لو (ف 1) ۔

وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ Open ayah 21:8 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ایسے بدن بھی نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں ، اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہ تھے ،

ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 21:9 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے سچا وعدہ کیا سو انہیں اور جسے چاہا بچا لیا ، اور مسرفوں کو ہلاک کیا ۔

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 21:10 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف (اے قریش) کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم کو عقل نہیں ؟ ۔

انبیاء (علیہم السلام) بشر ہوتے ہیں : (ف 1) اس آیت میں مکہ والوں کے اس شبہ کا جواب ہے کہ حضور ﷺ چونکہ عام انسانوں کی طرح ہیں ، اس لئے لائق اعتناء نہیں قرآن حکیم فرماتا ہے جہاں تک انبیاء کی جماعت کا تعلق ہے سب کے سب انسان تھے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے راہ نما ہوکر آئے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ حمیم وجدان کے لحاظ سے ذوق و خواہشات کے لحاظ سے بالکل انسان ہوں تاکہ دوسرے انسانوں کے لئے ان کی زندگی اسوہ اور نمونہ قرار پائے ۔ ورنہ (فوق البشر) ہونے کی صورت میں وہ انسانوں کے لئے کامل راہ نما نہ ہو سکتے ، کیونکہ تبع اور پیروی کے لئے ضروریات اور حالات کا مشترک ہونا لازم ہے ، جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ ہمارے راہ نما کے آگے بھی وہی زندگی کی مشکلات ہیں ، جو ہمیں پیش آتی ہیں ، اور وہ باوجود ان مشکلات کے کامیاب زندگی بسر کرتے ہیں اس وقت تک اس سے تحصیل اخلاق کی خواہش پیدا نہیں ہوتی ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ کائنات میں جس قدر ا انبیاء (علیہم السلام) آئے ہیں وہ گو اخلاق اور روحانیت کے اعتبار سے کہیں بلند وارفع تھے مگر سب کے سب انسان تھے بشری ضروریات سے مستغنی نہ تھے ، بھوک کی خواہش انہیں بھی بےقرار کردیتی تھی ، اور پیاس کی شدت کا بھی احساس ہوتا تھا ، بیماریاں بھی آتی تھیں ، اور موت بھی ، مگر باوجود ان عوارض بشری کے وہ پیغمبر تھے ، اللہ کے پیارے اور محبوب تھے یقین و اطمینان کے لئے علماء سے پوچھو ، جو آسمانی کتابوں اور صحیفوں کو سمجھتے ہیں ۔ وہ تمہیں بتائیں گے کہ نبوت کے کیا معنی ہیں ، بات اصل میں یہ تھی کہ مکہ والے یہ نہیں برداشت کرسکتے تھے کہ بنی ہاشم کا ایک بےنواد بیکس انسان اس عہدہ جلیلہ پر فائز ہو ، اور محامد و فضائل میں ان سے بڑھ جائے ، ان کو حسد تھا کہ ہم قوم میں سردار اور مالدار ہیں ، ہمارے بہت سے اعوان وانصار ہیں ، اور ہم دولت و حشمت کے مالک ہیں ، ہم تو باوجود ان خوبیوں کے اللہ کی نظروں میں جچے نہیں اور یہ ایک یتیم بےنوا اتنے بلند منصب کو پائے ، اور لوگ ہمیں چھوڑ کر اس کی عزت و تکریم کریں ، کیا دولت وعزت ہم سے منہ پھیر لے گی ؟ اور اس کے قدم چومے گی ، کیا بنی ہاشم کا اقتدار اس کی وجہ سے پھر مکہ کے تمام قبائل سے بڑھ جائے گا ، یہ خیالات تھے جو قبول حق کے لئے مانع تھے ، اس لئے انہوں نے بغیر کسی معقول وجہ کے کہ کہنا شروع کردیا ، کہ انبیاء (علیہم السلام) کو انسانی ضروریات کے سامنے نہیں جھکنا چاہئے ، ان کو بشری شکل و صورت میں نہ ہونا چاہئے ، غرض یہ تھی کہ اس طریق سے ہم بآسانی اسلام کے مشن کو ناکام بنا سکیں گے مگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ ایک انسان کے سر پر یہ تاج فضیلت رکھا جائے ، اور اس کو ان کے سامنے کامیاب بنایا جائے ، چناچہ اسی بشر نے وہ کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ، کہ ان جیسا ایک بھی کسی دیوتا سے نہ ہوسکا ، جن کو دنیا خدا کے سوا پوجتی ہے ۔ حل لغات : رجالا : رجال جمع رجل ، بمعنی مردان ۔ اھل الذکر ، : علماء توریت ومصحف انبیاء ۔ کو جاننے والے ،
Ayahs 21:11–17

وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 21:11 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیاں جو ظالم تھیں ، توڑ پھوڑ کر برباد کیں ، اور ان کے بعد دوسرے نئے لوگ پیدا کئے (ف 1) ۔

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ Open ayah 21:12 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمارے عذب کی آہٹ پائی تو فورا ہی وہاں سے بھاگنے لگے ۔

لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:13 in the Quran reader

بھاگو مت ‘ اور اسی کی طرف لوٹو ، جس میں تم آرام کرتے تھے ‘ اور اپنے گھروں کی طرف (لوٹ جاؤ ) شاید تم کو کوئی پوچھے ۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:14 in the Quran reader

بولے ہائے ہماری کم بختی ہم ظالم تھے ۔

فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ Open ayah 21:15 in the Quran reader

پھر یوں ہی کہتے رہے ، یہاں تک کہ ہم نے انہیں ایسا کردیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی ہوئی آگ ۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 21:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے بطور کھیل کے نہیں بنایا ۔

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:17 in the Quran reader

اگر ہم کھلونا بنانا چاہتے ، تو ہم اسے اپنے پاس سے بناتے ، اگر ہمیں منظور ہوتا ۔

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی سامان موجود ہے ۔ کئی بستیوں کو ہم نے ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا ، اور ان کے بعد ان کی جگہ دوسروں کو لابسایا ، جب ان پر عذاب آیا تو اس وقت انہوں نے بھاگنے اور رہائی پانے کی کوشش کی مگر ہم نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ نازونعمت سے پھر ہمکنار ہو ، اور گھروں کو لوٹو ، حل لغات : یرکضون : رکض سے ہے دوڑنا جلدی جلدی چلنا ۔
Ayahs 21:18–19

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ Open ayah 21:18 in the Quran reader

بلکہ ہم تو باطل کے اوپر حق پھینکتے ہیں ، پھر وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے ، پھر ناگاہ وہ فنا ہوجاتا ہے اور کم بختی تمہاری ان باتوں کے سبب جو بناتے ہو (ف 1) ۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ Open ayah 21:19 in the Quran reader

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کا ہے ، اور جو خدا کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں ۔

کائنات کا ایک مقصد ہے : (ف 1) اسلام نکتہ نگاہ سے یہ دنیا اور اس کی تمام آرائشیں بغیر کسی مقصد کے نہیں ہیں ، یہ آفتاب کا طلوع و غروب ، ستاروں کا چمکنا اور جھلملانا یہ آسمان کا سقف زرنگار ، اور یہ اتنی بڑی زمین کا پھیلاؤ پہاڑ ، درخت ندی ، نالے ، اور طیور وبہائم ، ان سب چیزوں کو آخر خدا نے کیوں پیدا کیا ہے ، کیا یہ محض دلچسپی کے لئے ہے اور اتنے بڑے نظام سے کوئی فائدہ مقصود نہیں ، ؟ قرآن حکیم اس کا یہ جواب دیتا ہے ، کہ اس کائنات کا ایک مقصد ہے یہ محض اتفاقیہ امور نہیں بلکہ قدرت کاملہ اور شعور بالغہ ہے ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کائنات میں تمہیں ایک نظام وترتیب نظر آتی ہے ، زینت و آرائش معلوم ہوتی ہے جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ کباڑی کی دکان نہیں ، بلکہ علیم و حکیم خدا کی صنعت کا شاہکار ہے ، مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کی نیابت کا حامل ہو اور خدا دا وعلوم ومعارف سے دنیا کو جنت بنا دے اور ان تمام خرافات اور ادہام کو مٹا دے جن کا تعلق باطل سے ہے ، کیونکہ اصول ہے کہ حق اور باطل میں تصادم ناگزیر ہے ، اور بالآخر حق کو کامیابی اور نصرت حاصل ہوتی ہے اور باطل نیست ونابود ہوجاتا ہے ۔
Ayahs 21:20–21

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ Open ayah 21:20 in the Quran reader

رات اور دن تسبیح کرتے ہیں ، اور نہیں تھکتے (ف 2) ۔

اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ Open ayah 21:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی چیزوں میں سے معبود بنائے ہیں کہ وہ انہیں اٹھا کھڑا کریں گے ۔

(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کو بیان فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اور وہ ساری دنی اور مافیہا کا مالک ہے اور فرشتے اس کا حکم بجا لاتے ہیں ، اور اپنے فرائض منصبی کو بڑی تندہی سے ادا کرتے ہیں ، شب وروز اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اور کبھی ملال ومکدر کا اظہار نہیں کرتے ، مگر ان مشرکوں کو دیکھئے کہ بتوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بت ان کو قیامت کے بعد جلا دیں گے ، افسوس یہ کہ یہ لوگ اپنے فرائض بشری کو محسوس نہیں کرتے ، ورنہ فرشتوں کی طرح کسی وقت بھی اس کی اطاعت سے بےنیاز نہ ہو سکتے ۔
Ayahs 21:22–24

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 21:22 in the Quran reader

اگر زمین آسمان (ف 3) ۔ میں اللہ کے سوا کئی معبود ہوتے تو زمین آسمان تباہ ہوجاتے ، سو اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔

لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 21:23 in the Quran reader

جو وہ کرتا ہے پوچھا انہیں جاتا ، اور یہ لوگ پوچھے جاتے ہیں ۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:24 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا اور معبود مقرر کئے ہیں تو کہہ اپنی دلیل لاؤ ، یہ بیان میرے ساتھیوں کا ہے اور ان کا بھی جو مجھ سے پہلے تھے ، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اور ٹلاتے ہیں ۔

توحید پر ایک فلسفیانہ دلیل : (ف 3) متعدد خداؤں کا وجود عقل ووجدان اور ذوق سلیم کے قطعا منافی ہے قرآن حکیم نے اس عقیدے کی بار بار تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل غیر عقلی عقیدہ ہے ، یہاں ایک نہایت باریک دلیل بیان فرمائی ہے جو توحید کے مسئلہ کو پوری طرح واضح کردیتی ہے ارشاد ہے کہ اگر کائنات میں متعدد ارادے اور مختلف شعور کار فرما ہوتے تو کیا زمین وآسمان اسی طرح قائم رہتے ؟ ناممکن ہے کہ متعدد خداؤں کو مان کر عقل کی تسکین ہو سکے ، اگر خدا دو ہوں بغرض محال تو اوس کے کھلے ہوئے معنے یہ ہوں گے کہ دونوں قادر مطلق ہوں گے ، دونوں ارادے کے لحاظ سے آزاد ہوں گے ، اور دونوں جو چاہیں گے ، کرسکیں گے اور قطعا ناممکن ہوگا کہ ان میں اشتراک ووحدت ہو کیونکر یہ اختلاف ارادہ ہی تو ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے انکو دو فرض کیا ہے ورنہ دو چیز کو جو ہر جہت سے ایک ہوں ، وہ کہنا منطقی غلطی ہے ، دونوں میں مابہ الامتیاز اگر کوئی چیز ہے تو وہ یہی ارادہ کا اختلاف ہے اور اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک ہی چیز پر دونوں متضاد اثرات ڈالیں گے ، نتیجہ معلوم کہ وہ موثر باقی نہ رہ سکے گا ، یہ کس قدر واضح دلیل ہے توحید کی ، مگر سمجھے کون ، ان لوگوں میں تو بصیرت ہی موجود نہیں ۔ حل لغات : فقذف : قذف سے ہے معنی پھینکنا ڈالنا ، ۔ فیدمغہ : دمع توڑ ڈالنا ۔ الویل : ذلت خرابی شور وفغان ۔
Ayahs 21:25–27

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:25 in the Quran reader

اور جو کوئی رسول ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا ہے اس کی طرف ہم نے یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے سو مجھے ہی پوجو (ف 1) ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 21:26 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ رحمن اولاد رکھتا ہے ، (حالانکہ) وہ اس تہمت سے پاک ہے ، بلکہ وہ عزت دار بندے ہیں ۔

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ Open ayah 21:27 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر نہیں بولتے ، اور وہ اس کے ہی حکم سے کام کرتے ہیں ۔

(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ فطرت کی آواز کیا ہے ؟ وہ کون سا پیغام ہے جس کو تمام انبیاء نے مشترکہ طور پر پیش کیا ، وہ کون سی دعوت ہے جس کو سب پیغمبروں نے متحدہ شکل میں ظاہر کیا ، وہ ایک خدا کی پرستش اور عبادت ہے ، آدم (علیہ السلام) سے جناب محمد ﷺ تک سب لوگوں نے اس روشن حقیقت کو نمایاں کیا ، کہ خدا ایک ہے مالک وآقا ایک ہے محبوب ودوست ایک ہے اور وہ ذات ذی الجلال ایک ہے ، جس کے سامنے جھکنا چاہئے ۔ غور فرمائیے کس قدر صحیح ، روشن اور عملی تعلیم ہے ، ایک خدا کی پرستش کے معنی یہ ہیں ، کہ تمام کائنات کو اپنے قدموں پر جھکا لیا جائے ، اور بجز خدا کی کبریائی اور جلال کے اور کسی کی عظمت کا اعتراف نہ کیا جائے خدا کو ایک ماننے کے یہ معنے ہیں کہ ایک خدا کو تو حاکم مطلق جانو ، اور باقی دنیا کی ہر چیز اور ہر قوت کو محکوم سمجھو ، خدا کو تو حاکم مطلق جانو ، اور باقی دنیا کی ہر چیز اور ہر قوت کو محکوم سمجھو ، خدا کو ایک ماننے کے عقیدہ میں انسانی شرف ومجد کا راز پہناں ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم اس عقیدہ کو بار بار مختلف پہلوؤں سے ذکر فرماتا ہے ، اور کہتا ہے کہ لوگو ! شرک کی ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکلو ، اور توحید کی وادیوں میں قدم زن ہوجاؤ ، یہاں نور برکت اور عزت شرف کے چشمے بہتے ہیں ، مگر مشرکین ہیں کہ ان کے دلوں کی تاریکی انہیں اس روشن حقیقت کو دیکھنے نہیں دیتی ، وہ زندہ اور حی وقیوم خدا کو چھوڑ کر پتھروں کے سامنے جھکتے ہیں ، وہ انسان اور افضل اپنی بزرگی و عظمت کی توہین کرتے ہیں ۔
Ayahs 21:28–29

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:28 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو ان کے آگے اور پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لئے جس سے اللہ راضی ہوا اور وہ خود اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں (ف 1) ۔

وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 21:29 in the Quran reader

اور جو کوئی ان میں سے کہے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں ، سو ایسے کو ہم دوزخ کی سزا دیں گے ، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں ۔

(ف 1) جس طرح عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے ، اسی طرح مکہ والے فرشتوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ الزام غلط ہے ، وہ اس نوع کی نسبتوں سے پاک ہے ، اس کا تخیل ہی شرک کے منافی ہے ، فرمایا بدبختو ! تم جن فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے ہو ، وہ تو اس کی فرمانبردار اور اطاعت شعار مخلوق ہیں ، ان کی مجال نہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت کرسکیں ، ان کا کام تو محض یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کے احکام کی تعمیل میں مصروف رہیں ۔ اور ایک لمحہ غفلت میں نہ گزاریں ۔ مکے والوں کا دوسرا عقیدہ یہ تھا کہ یہ فرشتے جن کی وہ پرستش کرتے تھے ان کی سفارش کریں گے ، فرمایا یہ بھی غلط ہے اللہ تعالیٰ کے جلال وجبروت کے سامنے ان کی اپنی کیفیت یہ ہے کہ ہر وقت خائف رہتے ہیں ، وہ اگر سفارش بھی کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اذن کے ماتحت ہوگی بطور خود انہیں سفارش کے اختیارات حاصل نہیں ۔ جس طرح شرک جرم ہے ، اسی طرح لوگوں کو اپنی پوجا اور پرستش پر آمادہ کرنا بھی جرم ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، وہ لوگ جو یہ کہیں ، کہ ہم خدا ہیں ، ہمارے سامنے جھکو ، اور ہماری پرستش کرو ، ہم انکو عبرت ناک سزا دیں گے ، کیونکہ یہ ظالم ہیں ، اور دنیا میں گمراہی پھیلانے کے موجب ہیں ۔
Ayahs 21:30–32

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے نہ دیکھا ، کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے ، پھر ہم نے انہیں جدا کیا ، اور ہر شئے کو ہم نے پانی سے زندہ کیا ، پھر وہ نہیں مانتے ؟ (ف 2) ۔

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے ، کہ زمین آدمیوں کو لے کر ہل نہ جائے اور اس میں کشادہ سڑکیں بنائیں ، کہ وہ راہ پائیں ۔

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا دیا ، اور وہ اس کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے ۔

(ف 2) طبعیات اور علم الحیات کے ماہرین کی تازہ ترین تحقیقات یہ ہے کہ آسمان اور زمین درحقیقت ایک ہی کرہ تھے ، بعد میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر انفصال ہوا ، اور یہ دونوں الگ الگ ہوگئے نیز یہ کہ ابتدا میں بحری جانور پیدا ہوئے ، بعد میں دوسری زندہ چیزیں ظہور پذیر ہوئیں ، گویا پانی ہی زندگی کا باعث بنا ہے اور یہیں سے حیات کا آغاز ہوا ۔ غور فرمائیے ، قرآن حکیم بھی اس آیت میں اسی حقیقت کا اظہار کرتا ہے ، مگر کب سے ، آج سے چودہ سو سال قبل سے جب کہ موجودہ علوم وفنون کا وجود تک نہ تھا ۔ حل لغات : مشفقون : اشفاق سے ہے ، ڈر اور خوف ۔ رتقا : انضمام ، باہم ملنا ، مفعول کے معنوں میں ہے ۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور اسی نے رات اور دن ، اور سورج اور چاند بنایا ، یہ سب آسمان میں تیرتے ہیں (ف 1) ۔

جمال قدرت کا مشاہدہ کرو : (ف 1) تذکیر بآلاء اللہ بھی قرآن حکیم کا ایک خاص طرز بیان ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جنہیں خشک دلائل سے زیادہ کائنات کا جمال اپنی طرف کھینچتا ہے ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت نظر دیتے ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ تم اگر واقعی قدرت کے جمال و کمال کو دیکھنا چاہتے ہو تو صرف مادیت کی تسکین کے لئے نہ دیکھو ، بلکہ دیدئہ عبرت سے ملاحظہ کرو ، تمہیں معلوم ہوگا کہ کس صنعت و حکمت سے اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو پیدا کیا ہے زمین وآسمان کی تخلیق پر غور کرو ، پانی کے حیات بخش اثرات دیکھو ، پہاڑوں کے فوائد سمجھو ، آسمان ، دن ، رات اور چاند سورج کو دیکھو کہ کیونکر ہر چیز اللہ کی وسعت عملی کا پتہ دے رہی ہے ۔ (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “۔ سے مراد محض یہ ہے کہ آفتاب وقمر بھی اپنے فرائض تکوین کو ادا کر رہے ہیں ، یہ مراد نہیں کہ وہ آسمان میں محض گھوم ہی رہے ہیں ، اور مچھلیوں کی طرح تیر رہے ہیں یہ محض ایک لسانی عرف ہے ، جس کو قرآن حکیم نے ادا کیا ہے جس طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ سورج غروب ہوگیا ، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ سورج کبھی غروب نہیں ہوتا ، مقصود یہ ہوتا ہے کہ دن کی روشنی ختم ہوچکی ، اور رات کی تاریکی شروع ہونے والی ہے قرآن حکیم چونکہ خالص عربی زبان میں نازل ہوا ہے ، اور وہ بےنظیر ادبی کمالات کا حامل ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ عربی محاورات کو ملحوظ رکھے ، بلکہ عربیت کا بہترین نمونہ ہو ، اور معانی ومفاہیم کے لئے عربی انداز بیان ہی اختیار کرے ، تاکہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ قرآن میں عجمی پیرایہ اختیار کیا گیا ہے ۔
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ سے پہلے ہم نے کسی بشر کو ہمیشہ جینا عطا نہیں کیا ، پس اگر تو مر گیا ، تو کیا وہ ہمیشہ جئیں گے ؟ (ف 2) ۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں امتحان کے طور پر آزماتے ہیں اور تم ہماری طرف آؤ گے ۔

(ف 2) حضور ﷺ نے جب اسلام کو پھیلانا شروع کیا ، اور مشرکین نے دیکھا کہ آپ کو خاص کامیابی ہو رہی ہے ، تو وہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دے لیتے کہ یہ کامیابی صرف انکی زندگی تک محدود ہے جب یہ انتقال کر جائیں گے تو پھر اسلام کی اشاعت رک جائے گی ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر آپ کے لئے وصال ضروری ہے تو کیا یہ لوگ مخالفت وعناد کے لئے زندہ رہیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکے گا ، ہمارا اٹل اور محکم قانون یہ ہے کہ ہر نفس کے لئے موت مقدر ہے ۔ فقل المشامتین بنا افیقوا سیلقی الشامتون کما لقینا : دنیا کی ہر بات کو اشتباہ اور شک کی نظروں سے دیکھا جاسکتا ہے مگر موت ایسی قطعی ہے کہ اس میں کسی کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا ، چھوٹے سے لے کر بڑے تک اور ادنے سے اعلی تک سب کے لئے ضروری ہے کہ موت کے سامنے زندگی کا نذرانہ پیش کر دے ، اس لئے ان بیوقوفوں کا حضور ﷺ کے متوقع انتقال پر خوش ہونا بیکار اور چھچھورا پن ہے ۔ حل لغات : فیسبحون : تیرتے پھرتے ہیں یعنی کشتی کی طرح سواری متوازی چلتے ہیں ۔
Ayahs 21:36–37

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور کافر جب تجھے دیکھتے ہیں ، تو تجھ سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں ، کہ کیا یہی (شخص) ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (باہانت) کرتا ہے اور وہ لوگ رحمن کے نام سے منکر ہیں ، (ف 1) ۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

آدمی جلدی سے بنا ہے ، عنقریب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ، سو تم مجھ سے جلدی نہ کرو ،

(ف 1) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابتداء میں کس حقارت سے اسلام کو اور حضور ﷺ کو دیکھتے تھے اور کس بےخوفی سے آوازے کستے تھے ، کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ ہے جو تمہارے بتوں کی مذمت کرتا ہے ، مگر ایک وقت آپہنچا جب کہ ان کو حضور ﷺ کی عظمت کا سچا احساس ہوا ، اور انہیں معلوم ہوگیا کہ جس کو ہم حقارت سے دیکھتے تھے ، وہ کائنات میں سب سے بڑا انسان ہے ۔
Ayahs 21:38–39

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (قیامت کا وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (ف 2) ۔

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ، یہ کافر اس وقت کو جان لیں ، جب وہ آگ کو اپنے مونہوں اور کمروں سے نہ ہٹا سکیں گے ، اور نہ مدد پائیں گے ۔

(ف 2) مکہ والے جب یہ دیکھتے کہ انکار اسلام کے باوجود ان پر اللہ کا عذاب نہیں آتا ، تو وہ یہ سمجھتے شاید یہ ان کی نیک سختی کی وجہ سے ہے ، اس لئے حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ، کہ کیوں عذاب نہیں آجاتا ، اور ہمیں کیوں نہیں مٹا دیتا ، قرآن حکیم کہتا ہے یہ عذاب طلبی تمہاری فطری عجلت پسندی کا نتیجہ ہے ، اور صاف وصریح بےعقلی کی بات ہے ، عنقریب تم لوگ اپنی آنکھوں سے اللہ کے غضب وغصہ کو دیکھ لو گے ۔ حل لغات : عجل : جلدی یا عجلت ، اور اس کے معنے مٹی کے بھی ہیں ۔ بغتۃ : اچانک ، ناگاہ ۔ فتبھتھم : ان کے حواس باختہ کر دے گی ۔