Explained with ayahs 1–6
قیامت سے غافل انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر
(الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)
" موت کی چکی زور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 6
یعنی رسول نے کبھی اس جھوٹے پروپیگنڈے اور سرگوشیوں کی اس مہم (Whispering Campaign) کا جواب اس کے سوا نہ دیا کہ " تم لوگ جو کچھ باتیں بناتے ہو سب خدا سنتا اور جانتا ہے، خواہ زور سے کہو، خواہ چپکے چپکے کانوں میں پھونکو "۔ وہ کبھی بےانصاف دشمنوں کے مقابلے میں ترکی بہ ترکی جواب دینے پر نہ اتر آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپس میں آہستہ آہستہ سرگوشی کر کے یہ کہتے ہیں کہ یہ جو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں یہ تو ہم جیسے ہی انسان ہیں کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں کہ ہم ان کی بات مان لیں اور پھر اس کلام الٰہی کو جو ان کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس کی حلاوت و بلاغت اور دلوں میں تاثیر کا کوئی کافر بھی انکار نہ کرسکتا تھا، اس سے لوگوں کو ہٹانے کی صورت یہ نکالی کہ اس کو سحر اور جادو قرار دیں اور پھر لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے یہ کہیں کہ جب تم سمجھ گئے کہ یہ جادو ہے تو پھر ان کے پاس جانا اور یہ کلام سننا دانشمندی کے خلاف ہے شاید یہ گفتگو آپس میں آہستہ اس لئے…
Read the full tafseer →تفویض الی اللہ
یہ اس ردعمل کا بیان ہے جو آنحضرت ﷺ پر مخالفین کی اس بکواس کا ہوا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ اشغلے محض لوگوں کو ورغلانے کے لئے وہ لوگ ایجاد کر رہے ہیں جن پر قرآن کا حق ہونا اچھی طرح واضح ہے اس وجہ سے آپ نے ان لوگوں کو خطاب کیے بغیر معاملہ اللہ کے حوالہ کیا کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، وہ سمیع وعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سرگوشیاں جن و انسان خوانوں میں بھی ہو رہی ہیں اور یہ فتنے جو لوگ بھی ایجاد کر رہے ہیں، میرا رب ہر بات کو اچھی طرح جانتا۔ تو جب وہ جانتا ہے تو وہ اس کے تدارک کا سامان بھی فرمائے گا۔ میں اس معاملہ کو اپنے رب ہی کے حوالہ کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →4۔ 1 وہ تمام بندوں کی باتیں سنتا ہے اور سب کے اعمال سے واقف ہے، تم جو جھوٹ بکتے ہو، اسے سن رہا ہے اور میری سچائی کو اور جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں، اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1: جو باتیں یہ کافر لوگ خفیہ طور پر کیا کرتے تھے، بعض اوقات آنحضرت ﷺ وحی کے ذریعے ان سے باخبر ہو کر وہ باتیں بتادیا کرتے تھے، اس بات کو وہ لوگ جادو کہہ دیا کرتے تھے، نبی کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ یہ جادو نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی وحی ہے جو زمین و آسمان میں کہی ہوئی ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Read the full tafseer →قل ربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (12 : 4) ” رسول نے کہا میرا بر ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے اور وہ سمیع وعلیم ہے “۔ زمین کے جس حصے میں بھی تحریک اسلامی کے خلاف کوئی سرگوشی ہو ‘ اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے کیونکہ اللہ تو وہ ہے جو زمین و آسمان میں بولے جانے والے تمام اقوال کو جانتا ہے اور اس کے ہاں وہ ریکارڈ ہوتے ہیں اور وہ جو سازشیں بھی پکائیں اللہ اپنے رسول کو پہلے سے بتا دیتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔
انہوں نے بہت سوچا کہ قرآن کے اثرات کو کس پروپیگنڈے سے روکیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سحر ہے۔ یہ ایک مخلوط قسم کی سوچ اور منتشر افکار ہیں ‘ جن کو محمد جمع کرکے…
Read the full tafseer →4 پیغمبر نے فرما دیا کہ تم کتنے ہی چھپا کر مشورے کرو، اللہ کو سب خبر ہے وہ تو آسمان و زمین کی ہر بات کو جانتا ہے پھر تمہارے راز اور سازشیں اس سے کہاں پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 5 بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م ”
کبھی وہ کہتے کہ یہ اللہ کا کلام تو ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ محمد ﷺ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کے پراگندہ خیالات پر مبنی باتیں لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔
بَلِ افْتَرٰٹہُ ”
کبھی کہتے کہ یہ کلام تو خود ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے مگر یہ غلط طور پر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔
بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ج ”
کبھی کہتے کہ خدا داد شاعرانہ صلاحیت کی بنا پر ان پر آمد ہوتی ہے اور یوں یہ کلام ترتیب پاتا ہے۔
فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ”
اور کبھی کہتے کہ اگر یہ واقعتا اللہ کے رسول ہیں تو پھر پہلے رسولوں کی طرح ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔
Read the full tafseer →5 ایسی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کے درمیان جو خفیہ مجلس منعقد ہوتی اور سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ وہ طشت از بان تو ہو ہی جاتی تھیں۔ آپ نے ان سب باتوں کے جواب صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی رازداری سے کی جائے، میرا پروردگار اس سے پوری طرف واقف ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری ان ساری سرگرمیوں کے باوجود اللہ اپنے دین کی دعوت کے کام کو آتے بڑھاتا رہے گا اور تمہاری کوئی تجویز کارگر نہ ہونے پائے گی۔
Read the full tafseer →4۔ (چنانچہ وہ تمہارے بھی ان اقوال کفریہ سے خوب باخبر اور تمہاری سازشوں پر پوری طرح مطلع ہے) اسلام کا خدا جاہلی مذہبوں کے دیوتاؤں کی طرح ناقص العلم نہیں۔ حاضر و غائب، جلی وخفی اس پر سب یکساں روشن ہے۔ خفیہ سے خفیہ سازش بھلا اس سے کون مخفی رہ سکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →قل ربی یعلم القول فی السمآء والارض وہو السمیع العلیم۔ پیغمبر نے کہا میرا رب ہر بات
کو خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں جانتا ہے اور وہ ہی خوب سننے والا اور بخوبی جاننے والا ہے۔ یعنی ہر قائل کی ہر بات کو آسمانوں میں ہو یا زمین میں ظاہر ہو یا پوشیدہ ‘ چلا کر ہو یا چپکے چپکے بہرحال اللہ اس کو جانتا ہے وہ سب کی باتیں خوب سنتا ہے اور سب کے احوال و افعال کو خوب جانتا ہے اس سے کوئی پوشیدہ بات بھی پوشیدہ نہیں۔
Read the full tafseer →(4) محمد ﷺ نے فرمایا کہ میرا رب ہر بات کو خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ آسمان میں ہو اور خواہ زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی بات کو بخوبی سننے والا اور جو ان کو سزا ملے گی اسے خوب جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ۔۔ : یعنی پیغمبر ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم نے خفیہ مشورے سے جو بات طے کی ہے وہ میرے رب سے مخفی نہیں۔ وہ آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ”یَعْلَمُ السِّرَّ“ (وہ چھپی بات کو جانتا ہے) کے بجائے ”يَعْلَمُ الْقَوْلَ“ فرمایا، یعنی وہ ہر بات جانتا ہے، تمہاری خفیہ سرگوشیاں بھی اور بلند آواز سے گفتگو بھی۔ اس لیے اس کے پیغمبر کے خلاف تمہاری یہ خفیہ مجلسیں یا علانیہ مخالفت تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی اور تم غلبۂ اسلام کو کسی طرح نہیں روک سکو گے۔ ایک قراءت میں ”قُلْ رَّبِّي“ ہے، یعنی کہہ دے کہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ربی یعلم القول فی السمآء والارض یعنی آسمان اور زمین میں جو بات کہی جاتی ہے اس پر مخفی نہیں ہوتی۔ اہل کوفہ کے مصاحف مف قال رب یعنی محمد ﷺ نے کہا : میرا رب قول کو جانتا ہے یعنی وہ جانتا ہے جو تم سر گوشیاں کرتے ہو۔ بعض علماء نے کہا : قہلی قرأت قٰل ربّی اولیٰ کیونکہ انہوں نے اپنی بات کو چھپایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نبی پر ظاہر کردیا اور اسے کہنے کو کہا۔ نحس نے کہا : دونوں قرأتیں صحیح ہیں اور یہ دو آیتوں کے قائم مقام ہیں ان میں فائدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا اور آپ ﷺ نے اس طرح فرمایا جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ قٰلَ : (آپ ﷺ ) نے کہا ] [ رَبِيْ : میرا رب ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْقَوْلَ : ساری باتوں کو ] [ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ : جو زمین و آسمان میں ہیں ] [ وَهُوَ : اور وہ ہی ] [ السَّمِيْعُ : سننے والا ہے ] [ الْعَلِيْمُ : جاننے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: حساب قریب آنے سے مراد قیامت ہے اور اس کا قریب آجانا دنیا کی پچھلی عمر کے لحاظ سے ہے کیونکہ یہ امت آخری امت ہے۔ حساب قبر بھی اس میں شامل ہے جو ہر انسان کو مرنے کے فوراً بعد دینا ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر انسان کی موت کو اس کی شخصی قیامت کہا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →6:۔ یہ سورت کا دعویٰ ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے تمام غیوب صرف اللہ ہی جانتا ہے اور سب کچھ سننے والا بھی وہی ہے اور کوئی نہیں، لہذا فریاد رس، کارساز اور متصرف و مختار بھی وہی ہے اور کوئی نہیں لہذا تمہارے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔حضور ﷺ کے اس اعلان سے برا افروختہ ہو کر انہوں نے آپ کو جادوگر وغیرہ کہنا شروع کردیا۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 271) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ 0ۡوَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 4
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : وھم مبتداء و معرضون خبر وفی غفلہ ضمیر معرضون سے حال ہے ای اعرضوا غافلین اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو۔ لاھیۃ قلوبہم حال ہے ضمیر یلعبون سے اور یہ دونوں حال مترادف یا متداخل ہیں اور جس نے لاھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے تب ایک ہی حال ہے کس لیے کہ یہ خبر بعد خبر ہے ہل ہذا جملہ محل نصب میں ہے النجوی سے بدل کر ای واسروا ھذا الحدیث۔ قال بصیغہ ماضی رسول کا قول ہوگا حمزہ و کسائی و حفض کی قرأت کے بموجب اور دیگر قراء نے قل بصیغہ امر پڑھا ہے۔
تفسیر : یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بیشتر توحید و نبوت اور عالم آخرت کا ثبوت اور انبیاء (علیہم السلام) کے عبرت انگیز تذکرے اور ان کی نافرمان امتوں کا…
Read the full tafseer →قٰـلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ز وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانبیاء : 4)
(آنحضرت ﷺ نے) فرمایا، میرا رب آسمان اور زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ )
ایک داعی کا اعتماد علی اللّٰہ
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے دو باتیں پڑھی ہیں۔ ایک یہ بات کہ مشرکینِ مکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں مختلف باتیں کہتے تھے۔ کبھی انھیں جادوگر قرار دیتے اور کبھی کسی اور نام سے پکارتے۔ اور دوسری یہ بات کہ ان کی شخصیت کے اثر اور قرآن پاک کی تاثیر سے پریشان ہو کر اپنی خفیہ مجالس میں اس کے توڑ کے لیے تدبیریں سوچتے اور چھپ چھپ کر منصوبہ بندی کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے بارے میں لاپرواہی اور حق بات کو شغل کے طور پر لینے کا بنیادی سبب دل کی غفلت ہے۔
انسان کا دل، حق بات کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجائے تو مؤثر ترین بات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہی حالت سرور دو عالم ﷺ کے مخالفین کی تھی۔ جس کا ” قَالُوْا قُلُوْا بُنَا غُلْفٌ“ کہہ کر برملا اعتراف کرتے تھے۔ (البقرۃ : 88) کہ ہمارے دل پر دہ میں ہیں۔ اسی بناء پر انھوں نے اپنی خفیہ مجالس میں پوری راز داری کے ساتھ ایک منظم پراپیگنڈہ کا فیصلہ کیا جس کے پیش نظر وہ لوگوں کو کہتے کہ محمد یوں ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے جیسا انسان ہے اس میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ وہ یہ کہہ کر…
Read the full tafseer →4: قَالَ رَبِّیْ (پیغمبر نے کہا میرے رب) قراءت : حمزہ، علی و حفص نے اس طرح پڑھا ہے۔ قالؔ کا قائل حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اور دیگر قراء نے قل رَبِّی پڑھا ہے۔ اے قل یا محمد لِلَّذِیْنَ اَسرّوا النجوٰی (اے محمد ﷺ سرگوشیاں کرنے والوں کو کہہ دیں) ۔ یَعْلَمُ القَوْلَ فِی السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (ہر بات کو خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں جانتا ہے) وہ ہر قائل کا قول جانتے ہیں خواہ وہ قائل آسمان کے کسی کنارے میں ہو یا زمین کی کسی تہہ میں اور پوشیدہ طور پر کہے یا ببانگ دہل کہے۔
وَھُوَ السَّمِیْعُ (وہی سننے والا ہے) ان کے اقوال کو الْعَلِیْمُ (وہ جاننے والا ہے) ان کے دلوں میں جو چھپا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →4۔ قال، ، ان کو آپ نے فرمایا، ربی یعلم القول فی السماء والارض، حمزہ اور کسائی اور حفص نے یونہی پڑھ ا ہے۔ قال ربی، خبر ہونے کی وجہ سے ۔ مبتدا لفظ (محمد) ہے۔ یعلم القول فی السماء والارض، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، وھو السمیع العلیم، وہ تمہاری باتوں کو سننے والا ، العلیم اور تمہارے افعال کا جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 1-4
یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور…
Read the full tafseer →7 اللہ ہی ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے : پس نہ کوئی اس سے چھپ سکتا ہے اور نہ اس کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ سو بڑے ہی بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جو ایمان سے محروم اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد سے غافل اس کے حقوق سے لاپرواہ اور اپنے انجام سے بےفکر ہو کر حیات مستعار کی اس فرصت محدود کو یونہی ضائع کرتے اور ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں گرنے کے لئے بڑھے چلے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پیغمبر نے فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین کی ہر بات کو جانتا ہے اور وہی ہے جو ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے اس ردِّعمل کو بیان فرمایا گیا جو آنحضرت ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 7 یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے۔ اب جو یہ خارق عادت کارنامے دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آنحضرت کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا۔ ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور شر نبی نہیں ہوسکتا اور قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔
Read the full tafseer →(21:4) قال۔ ای قال الرسول ﷺ ۔ القول۔ ہر بات خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی جائے یا بالجھر کہی جاوے تاکید کے لئے یعلم السر کو یعلم القول کہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →[2] چناچہ وہ تمہاری سرگوشیوں اور سازشوں سے خوب واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وقت حساب قریب ہے ! :
(ف 1) قرآن حکیم کا موضوع دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا ہے اور دلوں کی سختیوں اور صلابتوں کو ایمان کی لذت اور آسانیوں سے بدلنا ہے اس لئے اس کے نزدیک اصل چیز ذمہ داری کا احساس ہے خشیت وخوف کا جذبہ ، ہے ، تقوی وپرہیزگاری ہے ، ہوشیاری دانائی ہے جو لوگ قرآن کی بیدار کن آیات سنتے تو ہیں ، لیکن بےپروائی سے عمل نہیں کرتے ، قرآن ان کو غافل قرار دیتا ہے ، اور ان کے حق میں تاسف کا اظہار کرتا ہے فرماتا ہے لوگوں کے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے ، اور ہر لمحہ یہ لوگ فنا کی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور جب قرآن حکیم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ، تو…
Read the full tafseer →-4 پیغمبر نے فرمایا میرا پروردگار ہر باتک و خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے یعنی کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ان کے اقوال کو سنتا اور ان کے افعال کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ سو تمہارے ان اقوال کفر یہ کو بھی جانتا ہے اور تم کو خوب سزا دے گا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو بات بھی کہ جاتی ہے میرا پروردگار اس کا جانتا ہے :
4۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق کہا جارہا ہے کہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے اس پروپیگنڈا کا کبھی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کبھی ان پر کوئی اعتراض کیا ہے جس کا تعلق آپ کی ذات سے ہو آپ کو جادوگر اور ساحر قرار دینے کا تعلق آپ کی ذات اقدس سے تھا اس لئے آپ نے کبھی ان کے اس قول کا جواب نہیں دیا اور اگر کبھی دیا تو کیا ؟ یہی کہ ” آسمان و زمین میں جو بات بھی کہی جاتی ہے میرے پروردگار کو سب معلوم ہے وہ سننے والا جاننے والا ہے “ اور یہ جواب اتنا جامع ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور ان کو سب کچھ کہہ بھی دیا جو ایک نبی کی زبان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ (Would you then go along with sorcery while you have eyes to see? - 21:3) Those people used to discuss among themselves secretly that the claim of the Holy Prophet about his prophethood should not be accepted, because he was an ordinary human being like all others and not an angel. On the other hand not even the most rigid among the unbelievers could deny the supreme charm and eloquence of the Book of Allah nor its power to influence people when it was recited before them. Therefore, in order to turn people away from the Holy Book they started…
Read the full tafseer →6. This was the answer of the Prophet (peace be upon him) to their false propaganda and whispering campaign. Instead of giving a tit for tat answer, he said: My Lord will deal with you for He hears everything and knows everything.
Read the full tafseer →