Explained with ayahs 1–6
قیامت سے غافل انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر
(الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن)
" موت کی چکی زور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 7
اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت کا اثر جب پھیلنے لگا تو مکہ کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ آپ کے مقابلے میں پروپیگنڈا کی ایک مہم شروع کی جائے اور ہر اس شخص کو، جو مکہ میں زیارت کے لیے آئے آپ کے خلاف پہلے ہی سے اتنا بد گمان کردیا جائے کہ وہ آپ کی بات سننے کے لیے آمدہ ہی نہ ہو۔ یہ مہم ویسے تو بارہ مہینے جاری رہتی تھی، مگر خاص طور پر حج کے زمانے میں کثرت سے آدمی پھیلا دیے جاتے تھے جو تمام بیرونی زائرین کے خیموں میں پہنچ کر ان کو خبردار کرتے پھرتے تھے کہ یہاں ایسا ایسا ایک آدمی ہے، اس سے ہوشیار رہنا۔ ان گفتگوؤں میں طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی تھیں۔ کبھی…
Read the full tafseer →بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ، اضغاث احلام ان خوابوں کو کہا جاتا ہے جن میں کچھ نفسانی یا شیطانی خیالات شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اس کا ترجمہ پریشان خیالات سے کیا گیا ہے۔ یعنی ان منکرین نے اول تو قرآن کو جادو کہا پھر اس سے آگے بڑھے تو پریشان خواب کہنے لگے پھر اس سے بھی آگے بڑھے تو کہنے لگے یہ تو اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان ہے کہ یہ اس کا کلام ہے پھر کہنے لگے کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ کوئی شاعر آدمی ہے شاعرانہ خیالات اس کے کلام میں ہوتے ہیں۔
فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ یعنی اگر یہ واقعی نبی و رسول ہیں تو ہمارے مانگے ہوئے خاص معجزات دکھلائیں اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں…
Read the full tafseer →اضغاث، ضغث کی جمع ہے۔ ضغث گھاس کی اس مٹھی کو کہتے ہیں جو رطب دیا بس اور خشک و تر دونوں کا مجموعہ ہو۔ یہیں سے اضفاث احلام کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی خواب پریشان کے ہیں یعنی وہ خواب جو معنی و مفہوم سے بالکل خالی اور اپنے الجھائو کے سبب سے اس قابل نہ ہوں کہ ان کی تاویل و تعبیر کی طرف کوئی توجہ کی جائے اور ان کی کوئی اہمیت دی جائے۔
فرمایا کہ بات یہیں تک نہیں رہی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کی وحی کو سحر کہتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس کو خواب پریشان سے تعبیر کرتے ہیں، اس کو افتراء قرار دیتے ہیں، پیغمبر ﷺ کو ایک شاعر بتاتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ خدا کے پیغمبر ہیں تو اس کیثبوت کے لئے اسی…
Read the full tafseer →5۔ 1 ان سرگوشی کرنے والے ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ قرآن تو پریشان خواب کی طرح حیران کن افکار کا مجموعہ، بلکہ اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے اور یہ قرآن کتاب ہدایت نہیں، شاعری ہے۔ یعنی کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا پینترا بدلتے اور نئی سے نئی الزام تراشی کرتے ہیں۔
5۔ 2 یعنی جس طرح ثمود کے لئے اونٹنی، موسیٰ ؑ کے لئے عصا اور ید بیضا وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1: جو باتیں یہ کافر لوگ خفیہ طور پر کیا کرتے تھے، بعض اوقات آنحضرت ﷺ وحی کے ذریعے ان سے باخبر ہو کر وہ باتیں بتادیا کرتے تھے، اس بات کو وہ لوگ جادو کہہ دیا کرتے تھے، نبی کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ یہ جادو نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی وحی ہے جو زمین و آسمان میں کہی ہوئی ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
Read the full tafseer →بل قالو۔۔۔۔۔۔۔ شاعر (12 : 5) ” وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں بلکہ یہ اس کی من گھڑت بات ہے بلکہ یہ شخص شاعر ہے “۔ یہ بلکہ بلکہ ہی کرتے رہیں گے ‘ کسی ایک بات پر بھی جم نہیں سکتے ‘ نہ ان کی ایک رائے ہے ‘ اصل بلکہ یہ ہے کہ دراصل یہ لوگ مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ قرآن کے ان ولولہ انگیزاثرات کو کس طرس روکیں ‘ جو لوگوں پر اثر کررہے اور یہ لوگ دعوے پر دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں ‘ ایک سبب کے بعد دوسرا سبب لاتے ہیں۔ لیکن سخت حیراں ہیں ‘ کسی ایک بات پر جمتے نہیں ‘ اس لیے تمام حرکتوں اور اقوال کو چھوڑ کر آئو اس طرف آتے ہیں کہ کوئی ایسا معجزہ دکھا دیا جائے جو گزرے ہوئے رسولوں نے دکھائے…
Read the full tafseer →5 قرآن سن کر ضد اور ہٹ دھرمی سے ایسے بدحواس ہوجاتے تھے کہ کسی ایک رائے پر قرار نہ تھا، کبھی اسے جادو بتاتے، کبھی پریشان خوابیں کہتے، کبھی دعویٰ کرتے کہ آپ اپنے جی سے کچھ باتیں جھوٹ گھڑ لائے ہیں۔ جن کا نام قرآن رکھ دیا ہے۔ نہ صرف یہ ہی بلکہ آپ ایک عمدہ شاعر ہیں اور شاعروں کی طرح تخیل کی بلند پروازی سے کچھ مضامین موثر اور مسجع عبارت میں پیش کردیتے ہیں۔ اگر واقع میں ایسا نہیں تو چاہیے کہ آپ کوئی ایسا کھلا معجزہ دکھلائیں جیسے معجزات پہلے پیغمبروں نے دکھلائے تھے۔ یہ کہنا بھی محض عناد سے دق کرنے کے لیے تھا۔ کیونکہ اول تو مکہ کے یہ جاہل مشرک پہلے پیغمبروں اور ان کے معجزات کو کیا جانتے تھے، دوسرے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 5 بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م ”
کبھی وہ کہتے کہ یہ اللہ کا کلام تو ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ محمد ﷺ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کے پراگندہ خیالات پر مبنی باتیں لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔
بَلِ افْتَرٰٹہُ ”
کبھی کہتے کہ یہ کلام تو خود ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے مگر یہ غلط طور پر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔
بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ج ”
کبھی کہتے کہ خدا داد شاعرانہ صلاحیت کی بنا پر ان پر آمد ہوتی ہے اور یوں یہ کلام ترتیب پاتا ہے۔
فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ”
اور کبھی کہتے کہ اگر یہ واقعتا اللہ کے رسول ہیں تو پھر پہلے رسولوں کی طرح ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
6 اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس ( محمد ﷺ سے باز رکھیں۔ چناچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار والید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو
ایک شخص نے کہا : ہم…
Read the full tafseer →5۔ مشرکین مکہ کے اسی گروہ کی نمائندگی آج یورپ اور یورپ زدہ طبقہ کررہا ہے۔ ٹامس کارلایل (برطانوی) اوروں کے دیکھتے ہوئے اسلام کا بہت ہمدرد ہے اور قرآن کی خوبیوں کا معترف ہے وہ تک یہ لکھ گیا ہے کہ قرآں کیسی غیر مربوط، پریشان کتاب ہے تو دوسروں کا ذکر ہی کیا۔
6۔ یہ پہلی تشخیص پر ترقی ہے۔ (آیت) ” اضغاث احلام “ میں تو پھر ایک شان بےاختیاری اور مجذوبیت کی تھی، ایک گروہ کھلم کھلا کہنا شروع کیا کہ نہیں یہ کلام تو انہوں نے دیدہ و دانستہ اپنے دل سے تراش رکھا ہے۔
7۔ یہ اور اس دوسری تشخیص پر بھی ترقی ہے، منکرین کہتے ہیں کہ ان کی زندگی ہی شاعر کی طرح تراشیدہ اور خیالی ہے۔ اور ان کا یہ کلام (قرآن) تو بس شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →بل قالوا اضغاث احلام بل افترہہ بلکہ یوں بھی کہا کہ یہ قرآن پریشان خیالات ہیں بلکہ اس شخص
نے اس کو خود تراش لیا ہے۔
کافروں نے رسول اللہ ﷺ : کی رسالت سے اس لئے انکار کیا تھا کہ یہ آدمی ہیں اور آدمی پیغمبر نہیں ہوسکتا اللہ نے ان کے اس قول کو گزشتہ آیت میں نقل فرما دیا۔ پھر کافروں نے قرآن کی شان میں کہا تھا کہ یہ بےہودہ گڑ بڑ خوابوں کا مجموعہ ہے اللہ نے پہلے قول کو نقل کرنے کے بعد کلام کا رخ موڑا اور کافروں کے دوسرے قول کو نقل فرمایا۔
مخلوط اور گڑبڑ خوابوں کا مجموعہ قرار دینے کا یہ مطلب تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہے۔ بلکہ کچھ بےہودہ خواب ہیں جو ان کو سوتے میں نظر آجاتے ہیں پھر اس سے بھی…
Read the full tafseer →(5) بلکہ بعض نے یوں بھی کہا کہ محمد ﷺ جو ہمارے پاس لے آکر آئے ہیں یہ منتشر خیالات ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر ﷺ نے ان قرآن کریم کو اپنی طرف سے بنالیا بلکہ بعض نے کہا یہ تو شاعر ہیں، شاعروں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کو چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی بڑی نشانی لائیں جیسا کہ پہلے رسول اپنی اپنی قوم کے انکار کے وقت نشانیاں لائے۔
Read the full tafseer →بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ۔۔ : ”اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (44)۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورة…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل قالوا اضغاث احلام، زجاج نے کہا : انہوں نے کہا جو آپ لائے ہیں وہ پریشان خواب ہیں۔ اور دوسرے علماء نے کہا : انہوں نے کہا وہ ملی جلی باتیں ہیں جیسے پریشان خواب ہوتے ہیں یعنی ڈرائونی چیزیں جو آپ خواب میں دیکھتے ہیں، یہ معانی مجاہد اور قتادہ نے بیان کیے ہیں، اس طرح شاعر کا قول ہے :
کضغث حلم غر منہ حالمہ
قتبی نے کہا : اس سے مراد جھوٹے خواب ہیں : شاعر کا قول ہے :
احادیث طسم أو سراب بفد فد تر قرق للساری و أضغاث حالم
یزیدی نے کہا : الاضغاث اس خواب کو کہتے ہیں جس کی کوئی تعبیر نہ ہو، یہ مفہوم سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ معاملہ اس طرح کا نہیں ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ بَلْ : بلکہ ] [ قَالُـوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ: خوابوں کے پراگندہ خیالات ہیں ] [ بَلِ : بلکہ ] [ افْتَرٰىهُ : انھوں ﷺ نے گھڑا اس کو ] [ بَلْ : بلکہ ] [ هُوَ : وہ ] [ شَاعِرٌ: ایک شاعر ہیں ] [ فَلْيَاْتِنَا : پس انھیں ﷺ چاہیے کہ وہ لائیں ہمارے پاس ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی نشانی ] [ كَمَآ : جیسے کہ ] [ اُرْسِلَ : بھیجے گئے ] [ الْاَوَّلُوْنَ : پہلے (رسول)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب
یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
7:۔ باطل کی راہیں بیشمار ہیں۔ اس لیے باطل پرست ہمیشہ حیران اور مضطرب رہتا ہے اور اسے کسی ایک بات پر ثبات نصیب نہیں ہوتا۔ مشرکین کبھی تو کہتے کہ یہ پیغمبر جادوگر ہے اور کبھی اس سے ترقی کر کے کہتے۔ بلکہ ویسے ہی بےتکی اور لا یعنی باتیں کہتا ہے۔ ” بَلِ افْتَراہُ “ بلکہ وہ خدا پر افترا اور بہتان باندھ رہا ہے۔ ” بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ“ بلکہ ایسا بھی نہیں۔ یہ سب شاعرانہ تخیلات ہیں۔ جنہیں وہ فصیح وبلیغ زبان میں ڈھاک کر بیان کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں مشرکین نے محض اس دعوے کی ضد سے کہیں جو ” رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ “ میں پیش کیا گیا۔
8:۔ مشرکین کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ عصائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍؚبَلِ افْتَرٰىہُ بَلْ ہُوَشَاعِرٌ 0ۚۖ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَۃٍ كَـمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ 5
ضغث
الضِّغْثُ : قبضةُ ريحانٍ ، أو حشیشٍ أو قُضْبَانٍ ، وجمعه : أَضْغَاثٌ. قال تعالی: وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً
[ ص/ 44] ، وبه شبّه الأحلام المختلطة التي لا يتبيّن حقائقها، قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ
[يوسف/ 44] : حزم أخلاط من الأحلام .
( ض غ ث) الضغث
۔ ریحان ۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائیں اس کی جمع اضغاث آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً [ ص/ 44] اپنے ہاتھ میں مٹھی پھر گھاس لو ۔ اسی سے ایسے خواب کو جو ملتبس سا ہو اور اس کا مطلب واضح نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…
Read the full tafseer →بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م بَلِ افْتَرٰہُ بَلْ ھُوَشَاعِرٌ صلے ج فَلْیَاْتِنَا بِاٰیـَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 5)
(بلکہ انھوں نے کہا یہ تو خواب پریشان ہیں بلکہ اس کو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ وہ ایک شاعر ہیں، پس یہ ہمارے پاس کوئی اس طرح کی نشانی لائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ پہلے رسول بھیجے گئے تھے۔ )
مشرکین کے اشکالات کی تعبیر ” اضغاثِ احلام “ کا مفہوم
بَلْ … کلمہ استدراک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کہتا ہے۔ جب دیکھتا ہے کہ اس سے میرا مقصد پورا نہیں ہوا تو ایک قدم آگے بڑھ کر دوسری بات کہتا ہے۔ مشرکین مکہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی ذات پر کفار کا دوسرا اور تیسرا الزام۔
سرورِ دو عالم ﷺ کی مخالفت میں کفار اس حد تک بدحواس ہوچکے تھے کہ وہ قرآن مجید کی تاثیر اور اس کی فصاحت و بلاغت ماننے کے باوجود لوگوں کے سامنے یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ تو خواب میں دیکھے جانے والے پراگندہ خیالات ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ کبھی کہتے یہ شخص توشاعر ہے۔ اگر یہ واقعی ہی رسول ہوتا تو جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ بھیجے گئے یہ بھی کوئی معجزہ پیش کرتا۔ یہاں ان الزامات کا فقط یہ جواب دیا گیا ہے کہ جنھیں ہم نے ہلاک کیا تھا۔ وہ بھی معجزات دیکھنے کے باوجود اپنے…
Read the full tafseer →قرآن کو پریشان خیال کہنا :
5: بَلْ قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍم بَلِ افْتَرٰٹہُ بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ (بلکہ یوں بھی کہا کہ یہ قرآن پریشان خیالات ہیں بلکہ اس شخص نے خود تراش لیا ہے۔ بلکہ یہ شخص شاعر ہے) اس میں انہوں نے اپنی پہلی بات سحر ؔ سے اعراض کرتے ہوئے قرآن کو پریشان خواب کی باتیں قرار دیا جو اس مدعی نے خواب میں دیکھی ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی وحی خیال کرلیا۔ پھر اس سے اعراض کر کے کہنے لگے کہ یہ کلام اس نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ شاعرانہ بات ہے۔ اور یہ خود شاعر ہیں۔ اسی طرح باطل متردد اور غیر واضح ہوتا ہے۔ اور باطل پرستوں کا ایک بات پر ثبات و استقلال نہیں پھر…
Read the full tafseer →تفسیر۔
5۔ بل قالو اضغاث احلام، وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ باطل اور پرانے قصے کہانیاں ہیں اور مخلوط وگڑ بڑ خوابوں کا مجموعہ ہے ، بل افتراہ اس کو اپنی طرف سے بنایا ہے۔ بل ھوشاعر، بعض مشرکین نے کتاب اللہ کو پراگندہ خواب کہا، کچھ لوگوں نے من گھڑت دروغ بندی قرار دیا، اور بعض نے قرآن کو شعر کہا، اور رسول اللہ کوشاعر، فلیاتنا، لے آئیں محمد، بایۃ ، اگر وہ سچے ہیں۔ کماارسل الاولون، رسول کو اور ان کے ساتھ معجزوں کو بھیجا، اللہ ان کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5-6
اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ پراگندہ خواب ہیں “ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
کبھی کہتے ہیں ” یہ اس کا من گھڑت کلام ہے “ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ” یہ شاعر ہے “ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔
جو کوئی واقعات اور رسول ﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے…
Read the full tafseer →8 شاعر سے یہاں پر مقصود و مراد ؟ : یعنی شاعر سے یہاں پر مراد اس کے وہ معروف معنی نہیں کیونکہ اس اعتبار سے قرآن حکیم کو شعر وہ لوگ بھی نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ اس کتاب حکیم کے کلمات کریمہ اور اس کی آیات شریفہ معروف معنوں میں شعری وزن پر ہیں ہی نہیں۔ یہ تو ان اصطلاحات سے ممتاز وبالا اپنی ایک منفرد نوعیت اور اعلیٰ حیثیت و شان کا ایک بےمثل اور بےنظیر کلام ہے۔ سو کفار کے آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کا مقصد اور مطلب یہ تھا کہ یہ صاحب شاعروں کی طرح ایسی فرضی اور خیالی باتیں کرتے ہیں جن کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہوتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (المحاسن، المراغی اور فتح وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →ف 8 اگر یہ سچا ہے تو جیسے حضرت صالح موسیٰ اور عیسیٰ معجزے لے کر آئے تھے اس قسم کے معجزے یہ بھی ملا کر دکھائے۔ ان کے یہ الزامات اور فرمائشیں ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھیں ورنہ قرآن کی صداقت کے مقابلے میں یہ معجزے کچھ حیثیت نہیں رکھتے، اور یہی کیفیت ہر اس شخص کی ہوتی ہے جو حق سے مغلوب ہوجاتا ہے مگر اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ (قرطبی ۔ شوکانی)
Read the full tafseer →ّ (21:5) اضغاث احلام۔ مضاف مضاف الیہ۔ اضغاث ضغث کی جمع ہے جس کے معنی خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائیں۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے :۔ خذ بیدک ضغثا (38:44) اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر گھاس لو۔
احلام حلم کی جمع ہے جس کے معنی خواب دیکھنے کے ہیں اور چونکہ گھاس کے تنکے یا خشک شاخیں مٹھے میں بری بھلی سب ملی جلی ہوتی ہیں اس لئے خواب ہائے پریشان کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔ جیسے کہ سورة یوسف میں ہے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پراگندہ و پریشان خواب ہیں۔ اسی طرح جس بات یا کلام کا کوئی سرمنہ نہ ہو اور بےربط وملتبس ہوا سے بھی تشبیہا اضغاث احلام کہتے ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں ہے یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[3] مراد ہے معجزہ۔
[4] مشرکین قرآن سن کر ضد اور ہٹ دھرمی سے ایسے بدحواس ہوجاتے تھے کہ کسی ایک رائے پر قرار نہ تھا۔ کبھی اسے جادو بتاتے، کبھی پریشان خوابوں کا مجموعہ کہتے، کبھی کہتے کہ اسے آپ نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے اور کبھی آپ کو شاعر بتاتے اور جب دیکھتے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں تو کہتے کہ اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے تو کوئی معجزہ لا دکھائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وقت حساب قریب ہے ! :
(ف 1) قرآن حکیم کا موضوع دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا ہے اور دلوں کی سختیوں اور صلابتوں کو ایمان کی لذت اور آسانیوں سے بدلنا ہے اس لئے اس کے نزدیک اصل چیز ذمہ داری کا احساس ہے خشیت وخوف کا جذبہ ، ہے ، تقوی وپرہیزگاری ہے ، ہوشیاری دانائی ہے جو لوگ قرآن کی بیدار کن آیات سنتے تو ہیں ، لیکن بےپروائی سے عمل نہیں کرتے ، قرآن ان کو غافل قرار دیتا ہے ، اور ان کے حق میں تاسف کا اظہار کرتا ہے فرماتا ہے لوگوں کے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے ، اور ہر لمحہ یہ لوگ فنا کی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور جب قرآن حکیم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ، تو…
Read the full tafseer →-5 ان لوگوں نے صرف جادو ہی نہیں کہا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قرآن کریم پریشان خواب و خیالات ہیں اور پر یاشن خواب و خیالات کا مجموعہ ہے بلکہ محمد ﷺ نے خود اس کو اپنے قصد و اختیار سے گھڑ لیا اور بنا لیا ہے نہیں بلکہ یہ محمد ﷺ ایک شاعر ہیں اور شعر کہتے ہیں اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو کوئی نشانی ایسی لائیں جیسے پہلے لوگ رسول بنائے گئے اور جیسی نشانیوں کے ساتھ وہ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں کفار مکہ قرآن کریم کے باری میں مختلف خیال رکھتے تھے کوئی جادو کہتا اور حضور ﷺ کو جادوگر یا جادو زدہ کہتا کوئی اس سے بڑھ کر پریشانی خوابی اور پریشان خیالی کا مجموعہ بتاتا کوئی اس سے بڑھ کر یہ کہتا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 2۔ خلاصہ یہ کہ رسول نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →کفار مکہ کی طرف سے مختلف اعتراضات اور نشانی دکھانے کا پرانا مطالبہ :
5۔ کفار مکہ نے اب پروپیگنڈا مہم بہت تیز کردی اور فقط آپ کو ” ساحر “ اور آپ کے لائے ہوئے کلام کو ” سحر “ کہنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ مختلف اعتراضات شروع کردیئے اور آپ کے لائے ہوئے کلام کو بھی مختلف ناموں سے یاد کرنے لگے اور ان کے ہر نام میں تحقیر کا عنصر ٹپکتا تھا چناچہ انہوں نے آپ کے لائے ہوئے کلام یعنی قرآن کریم کو مزید دو نام اپنی طرف سے دیئے ایک ” اضغاف احلام “ اور دوسرا ” افتری “ اور اس طرح آپ ﷺ کو ” سحر “ کے نام سے یاد کرتے تھے اور اب ” شاعر “ اور کاہن “ بھی کہنے لگے ۔
(آیت) ” اضغاث احلام “ کیا ہے ؟ اضغاث ضغث کی جمع ہے…
Read the full tafseer →بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ (they said, [ The Further Qur'an is ] a mixture of hotch-potch dreams. - 21:5.) Dreams having an element of personal and shaitanic thoughts are called أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ. That is why this term (أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ ) has been translated as "hotch-potch dreams". What it means is that in the first place the unbelievers called the Qur'an as magic, then they described it as a collection of disturbed dreams, and then they said it was a forgery and fabrication against Allah Ta’ ala to call it His words; and finally they said that he ﷺ was a poet and the Qur'an…
Read the full tafseer →7. The background of this verse is this: When the message of the Prophet (peace be upon him) started gaining adherents, the chiefs of Makkah decided among themselves to start a propaganda campaign to counteract it. For this purpose they decided that every visitor to Makkah for pilgrimage should be approached and his mind so poisoned against the Prophet (peace be upon him) that he does not even go near and listen to him. Though this campaign continued throughout the year, in the pilgrimage season specially a large number of men were deputed to go to the tents of the pilgrims to warn them to…
Read the full tafseer →