Al-Anbiyaa 21:6

Al-Anbiyaa · from ayah 6

21:6

مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا ۚ— اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ ۟مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَـكۡنٰهَا‌ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Not a [single] city which We destroyed believed before them, so will they believe?

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:6

حالاں کہ اِن سے پہلے کوئی بستی بھی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہ لائی، اب کیا یہ ایمان لائیں گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے اجاڑیں سب ایمان سے خالی تھیں۔ تو کیا اب یہ ایمان ﻻئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ ان سے پہلے جس کسی بستی کو ہم نے ہلاک کیا، وہ ایمان نہیں لائی، اب کیا یہ لوگ لے آئیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان سے پہلے ہم نے جس بھی بستی کو ہلاک کیا وہ (انہی نشانیوں پر) ایمان نہیں لائی تھی، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے پہلے کوئی بستی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہیں لائی تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ جس بستی کو بھی ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لائی تھی۔ تو یا اب یہ ایمان لائیں گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پہلے کسی بستی کے لوگ بھی، جن کو ہم نے ہلاک کیا، ایمان لانے والے نہ بنے، تو کیا یہ لوگ ایمان لانے والے بنیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ ان سے پہلے کوئی بھی ایسی بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ہو ایمان نہ لائی تھی تو کیا اب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگوں کے قبل بھی کوئی بستی والے جنہیں ہم نے ہلاک کیا ہے ایمان تو لائے نہیں تھے۔ سو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ایمان لائی کوئی بستی ان سے پہلے جس کو ہم نے ہلاک کیا تو کیا یہ لوگ (کوئی معجزہ دیکھ کر) ایمان لے آئیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ‘ وہ ایمان نہیں لاتی تھیں تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Not one township that We destroyed before them believed. Would they, then, believe?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Not a single town from those whom We destroyed came to believe before them. So, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani

Not a single town from those whom We destroyed came to believe before them. So, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Not one of the towns of those which We destroyed, believed before them; will they then believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Not a township believed of those which We destroyed before them (though We sent them portents): would they then believe?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Not a [single] city which We destroyed believed before them, so will they believe?

— Saheeh International

The people of the town whom We had destroyed also had no faith. Will these people then believe in God?

— Muhammad Sarwar

There did not believe before them any town which We destroyed, will they then believe?

— Muhammad Habib Shakir

Not a city before them which We destroyed believed; will they then believe?

— Abdul Majid Daryabadi

(As to those) before them, not one of the populations which We destroyed believed: will these believe?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

قیامت سے غافل انسان اللہ تعالیٰ عزوجل لوگوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے پھر بھی لوگوں کی غفلت میں کمی نہیں آئی نہ وہ اس کے لئے کوئی تیاری کررہے ہیں جو انہیں کام آئے۔ بلکہ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے مشغول اور منہمک ہو رہے ہیں کہ قیامت سے بالکل غافل ہوگئے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ) امر ربی آگیا اب کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا الخ۔ ابو نواس شاعر کا ایک شعر ٹھیک اسی معنی کا یہ ہے۔ شعر (الناس فی غفلاتہم ورحی المنیتہ تطحن) " موت کی چکی زور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 8 اس مختصر سے جملے میں نشانی کے مطالبے کا جو جواب دیا گیا ہے وہ تین مضمونوں پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ تم پچھلے رسولوں کی سی نشانیاں مانگتے ہو، مگر یہ بھول جاتے ہو کہ ہٹ دھرم لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ دوسرے یہ کہ تم نشانی کا مطالبہ تو کرتے ہو، مگر یہ یاد نہیں رکھتے کہ جس قوم نے بھی صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے سے انکار کیا ہے وہ پھر ہلاک ہوئے بغیر نہیں رہی ہے۔ تیسرے یہ کہ تمہاری منہ مانگی نشانی نہ بھیجنا تو تم پر خدا کی ایک بڑی مہربانی ہے۔ اب تک تم انکار پر انکار کیے جاتے رہے اور مبتلائے عذاب نہ ہوئے۔ کیا اب نشانی اس لیے مانگتے ہو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آگے۔ اَفَهُمْ يُؤ ْمِنُوْنَ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ کیا منہ مانگے معجزہ کو دیکھ کر یہ ایمان لے آئیں گے مراد یہ ہے کہ ان سے اس کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی اس لئے مطلوبہ معجزہ نہیں دکھایا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آنحضرت صلعم کو تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ ان کی ان خرافات کو پروا نہ کرو۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی اسی روش پر چل پڑے ہیں جس پر ان سے پہلے ہلاک ہونے والی قومیں چلیں۔ جس طرح انہوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور اس کی پاداش میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا اسی طرح ان کے لئے بھی ہلاکت مقدر ہوچکی ہے۔ انہوں نے ہر قسم کی نشانیاں دیکھیں لیکن ایمان کی راہ اختیار نہ کی تو ان سے کس طرح توقع رکھتے ہو کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی دکھا دی گی تو یہ ایمان لانے والے بن جائیں گے ! یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اسی اندھے بنے رہیں گے جس طرح آن اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے ہلاک کیں، یہ نہیں ہوا کہ ان کی حسب خواہش معجزہ دکھلانے پر ایمان لے آئی ہوں، بلکہ معجزہ دیکھ لینے کے باوجود وہ ایمان نہیں لائیں، جس کے نتیجے میں ہلاکت ان کا مقدر بنی تو کیا اگر اہل مکہ کو ان کی خواہش کے مطابق کوئی نشانی دکھلا دی جائے، تو وہ ایمان لے آئیں گے ؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بھی تکذیب وعناد کے راستے پر ہی بدستور گامزن رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: نشانی سے مراد معجزہ ہے۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کے بہت سے معجزات ان کے سامنے آچکے تھے، لیکن وہ نت نئے معجزوں کے مطالبات کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ پچھلی قوموں نے بھی ایسے مطالبات کیے تھے لیکن جب ان کو ان کی فرمائش کے مطابق معجزات دکھائے گئے تب بھی وہ ایمان نہیں لائے جس کے نتیجے میں انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے فرمائشی معجزے دیکھنے کے بعد ایمان نہیں لائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے فرمائشی معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے اور ابھی اللہ تعالیٰ کو ان کی فوری ہلاکت منظور نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مآامنت۔۔۔۔۔۔۔۔ اھلکنھا (12 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا ‘ ایمان نہ لائی “۔ یہ اس وہ سے کہ جب کوئی قوم بغض وعناد کے اس مرتبے تک پہنچ جائے کہ وہ ایک محسوس خارق عادت معجزے کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر تو اسے ہلاک کیا جانا ہی ٹھہرتا ہے۔ بار بار معجزات آئے ‘ باربار اقوام نے تکذیب کی اور بار بار ان مکذبین کو تاریخ میں ہلاک کیا جاتا رہا۔ تو اگر ان لوگوں کو ویسا ہی معجزہ دکھادیا جائے اور یہ بھی اسی طرح ایمان نہ لائیں تو پھر ہلاکت کے سوا اور کیا انجام ہوگا۔ افھم یومنون (12 : 6) ” کیا یہ ایمان لائیں گے “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی پہلی قوموں کو فرمائشی نشان دکھلائے گئے۔ وہ انھیں دیکھ کر بھی نہ مانے آخر سنت اللہ کے موافق ہلاک کیے گئے۔ اگر ان مشرکین مکہ کی فرمائشیں پوری کی جائیں تو ظاہر ہے یہ ماننے والے تو ہیں نہیں۔ لامحالہ حق تعالیٰ کی عام عادت کے موافق تباہ کیے جائیں گے اور ان کی بالکلیہ تباہی مقصود نہیں۔ بلکہ حکمت الٰہیہ فی الجملہ ان کے باقی رکھنے کو مقتضی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَا ج ” ان سے پہلے بہت سے رسولوں کو حسی معجزات دیے گئے تھے جو انہوں نے اپنی قوموں کو دکھائے ‘ مگر ان میں سے کوئی ایک قوم یا کوئی ایک بستی بھی ایسی نہیں تھی جو ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لائی ہو۔ چناچہ وہ لوگ واضح معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور آخر کار ہلاکت ہی ان کا مقدر بنی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–7

6 اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس ( محمد ﷺ سے باز رکھیں۔ چناچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار والید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو ایک شخص نے کہا : ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان بڑے بڑے، معجزات، خوارق عادت سے حاصل کیا ؟ پرانے انبیاء کے وقت میں تو بارہا اس کا تجربہ ہوچکا۔ انہوں نے سب کچھ دکھا ڈالا، پھر بھی ان کے زمانہ کے منکرین کی بھی وہی ہے جو ان قدیم منکرین کی نفسیت (سائکالوجی) ان جدید منکرین بھی وہی ہے جو ان قدیم منکرین کی تھی، پھر آج ان کے ایمان لے آنے کی کیا امید ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما امنت قبلہم من قریۃ اہلکنہا افہم یومنون۔ ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں وہ (مطلوبہ معجزات دیکھنے کے بعد بھی) ایمان نہیں لائے تھے تو کیا یہ لوگ (اپنے مطلوبہ فرمائشی معجزات کو دیکھ کر) ایمان لے آئیں گے۔ قَبْلَہُمْ یعنی مشرکین مکہ سے پہلے ‘ مِّنْ قَرْیَۃٍجار مجرور فاعل کے قائم مقام ہے اور مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اہل قریہ۔ مِنْ قَریۃٍ میں مِن زائد ہے۔ اَہْلَکْنٰہَا یعنی مطلوبہ معجزات ان کے سامنے آئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ اہلکناہا ‘ قریۃ کی صفت ہے۔ اَفَہُمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ استفہام انکاری ہے یعنی مکہ کے مشرک تو گزشتہ کافروں سے کفر میں سخت ہیں جب گزشتہ کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد ﷺ آپ کی قوم سے پہلے نشانیوں پر ایمان نہیں لائی جن کو ہم نے ان نشانیوں کی تکذیب کے وقت ہلاک کیا ہے سو کیا آپ کی قوم نشانیوں اور معجزات پر ایمان لے آئے گی بلکہ ہرگز یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”مآامنت قبلہم من قریۃ“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اگر آپ اپنے دعوی میں سچے ہیں اور آپ کو ہمارے ایمان لانے پر خوشی ہوگی، تو آپ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونے کی پہاڑی میں تبدیل کردیجیے۔ چناچہ جبریل امین آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی قوم نے جو آپ سے سوال کیا ہے اس کو پورا کردیا جائے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْيَةٍ۔۔ : اس آیت میں تین باتیں نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرمائی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر تم نے پہلے رسولوں جیسا معجزہ لانے کا مطالبہ کیا ہے، سو پہلی امتوں کو ایسے معجزات دکھائے گئے، وہ ان پر ایمان نہیں لائے، تو تم جو ان سے کہیں بڑھ کر سرکش اور ضدی ہو، کیسے ایمان لاؤ گے ؟ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (59) دوسری یہ کہ جو قومیں معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائیں انھیں ہلاک کردیا گیا، کیونکہ صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے والی قوم ہلاک کردی جاتی ہے، تو تم ایسا مطالبہ کیوں کرتے ہو جس کا نتیجہ تمہاری ہلاکت ہے ؟ تیسری یہ کہ تمہیں معجزہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما امنت قبلھم من قریہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قول ہے اور فرعون کی قوم ہے۔ اھلکنھا یعنی ہمارے علم میں ان کی ہلاکت تھی۔ افھم یومنون۔ وہ تصدیق کرتے ہیں یعنی وہ آیات پر ایمان نہ لائے تو انہیں جڑ سے اکھیڑ دیا گیا اگر یہ بھی آیات دیکھ لیں گے جو تجویز کرتے ہیں پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کے عقاب کو مؤخر کیا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی صلبوں میں ایمان والے ہیں اور من قریۃ میں من زائدہ ہے جیسے اس ارشاد میں زائدہ ہے، فما منکم من احد عنہ حجزین۔ (الحاقہ)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–15

دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت : 1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ مَآ اٰمَنَتْ : ایمان نہیں لائی ] [ قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے ] [ مِّنْ قَرْيَةٍ : کوئی بھی ایسی بستی ] [ اَهْلَكْنٰهَا : ہم نے ہلاک کیا جس کو ] [ اَفَهُمْ : تو کیا یہ لوگ ] [ يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لے آئیں گے (نشانی یعنی معجزہ دیکھ کر)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔ (ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

7:۔ باطل کی راہیں بیشمار ہیں۔ اس لیے باطل پرست ہمیشہ حیران اور مضطرب رہتا ہے اور اسے کسی ایک بات پر ثبات نصیب نہیں ہوتا۔ مشرکین کبھی تو کہتے کہ یہ پیغمبر جادوگر ہے اور کبھی اس سے ترقی کر کے کہتے۔ بلکہ ویسے ہی بےتکی اور لا یعنی باتیں کہتا ہے۔ ” بَلِ افْتَراہُ “ بلکہ وہ خدا پر افترا اور بہتان باندھ رہا ہے۔ ” بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ“ بلکہ ایسا بھی نہیں۔ یہ سب شاعرانہ تخیلات ہیں۔ جنہیں وہ فصیح وبلیغ زبان میں ڈھاک کر بیان کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں مشرکین نے محض اس دعوے کی ضد سے کہیں جو ” رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ “ میں پیش کیا گیا۔ 8:۔ مشرکین کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ عصائے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الانبیاء ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ” انبیائ “ کا ذکر تو کہیں نہیں آیا ، تاہم اس میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مثلا ً حضرت نوح ، ادریس ، یونس ، ایوب ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسم مبارک مذکور ہے اس لئے اس سورة کو سورة الانبیاء کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعض سورتیں جیسے سورة مزمل ، مدث ، نٓ ، فاتحہ وغیرہ تو مکی زندگی کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں ، مگر یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔ اس کی ایک سو بارہ آیات سات رکوع ۔ 1138 الفاظ اور 4168 حروف ہیں۔ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اَہْلَكْنٰہَا۝ 0ۚ اَفَہُمْ يُؤْمِنُوْنَ۝ 6 أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–10

بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَـۃٍ اَھْلَکْـنٰـھَا ج اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانبیاء : 6) (ان سے پہلے کسی بستی کے لوگ بھی، جن کو ہم نے ہلاک کیا، ایمان لانے والے نہ بنے، تو کیا یہ لوگ ایمان لانے والے بنیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اگر پیغمبر کی صداقت کا یہی معیار ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے مطلوب معجزات دکھائے تو پھر وہ امتیں جنھوں نے اپنے نبیوں سے اس شرط پر کوئی مخصوص معجزہ طلب کیا تھا کہ اگر یہ معجزہ دکھا دیا گیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، تو آخر وہ ایمان کیوں نہ لائے۔ حتیٰ کہ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور وہ تباہ و برباد کردیئے گئے۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں معجزات کی طلب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی ذات پر کفار کا دوسرا اور تیسرا الزام۔ سرورِ دو عالم ﷺ کی مخالفت میں کفار اس حد تک بدحواس ہوچکے تھے کہ وہ قرآن مجید کی تاثیر اور اس کی فصاحت و بلاغت ماننے کے باوجود لوگوں کے سامنے یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ تو خواب میں دیکھے جانے والے پراگندہ خیالات ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ کبھی کہتے یہ شخص توشاعر ہے۔ اگر یہ واقعی ہی رسول ہوتا تو جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ بھیجے گئے یہ بھی کوئی معجزہ پیش کرتا۔ یہاں ان الزامات کا فقط یہ جواب دیا گیا ہے کہ جنھیں ہم نے ہلاک کیا تھا۔ وہ بھی معجزات دیکھنے کے باوجود اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مطلوبہ معجزات کے اظہار کے باوجود ایمان نہ لائے گے : 6: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اقوال کی تردید فرمائی۔ مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (ان سے پہلے بھی بستیوں والے ایمان نہ لائے) قریۃ سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی اہل قریۃ۔ اَھْلَکْنٰـھَا (جن کو ہم نے ہلاک کیا) یہ قریۃ کی صفت ہے جبکہ ان کے پاس مطلوبہ معجزات آبھی چکے۔ کیونکہ انہوں نے وہ معجزات بطور ضد کے طلب کئے تھے۔ اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ (تو کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے) یعنی وہ معجزات آجانے کے باوجود ایمان نہ لائے کیا وہ مطالبہ کرنے والے ایمان لائیں گے اگر ہم ان کے مطلوبہ معجزات پورے کردیں۔ حالانکہ یہ تو سرکشی میں ان سے دو ہاتھ آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔ ما آمنت قبلھم۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ بھی ایمان نہیں لائے۔ من قریۃ، بستی والوں کے پاس نشانیاں نہیں آئیں۔ اھلکنا ھا، تو انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور پھر ہم نے ان کو ہلاک کیا جھٹلانے کی وجہ سے۔ افھم یومنون، یہ استفہام انکاری ہے یعنی مکہ کے مشرک تو گزشتہ کافروں سے کفر میں سخت ہیں۔ جب گزشتہ کافر ایمان نہیں لائے تو یہ لوگ یقینا ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

آیت 5-6 اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ پراگندہ خواب ہیں “ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ اس کا من گھڑت کلام ہے “ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ” یہ شاعر ہے “ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسول ﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 فرمائشی معجزوں کی طلب ہلاکت و تباہی کی راہ ۔ والعیاذ باللہ : کیونکہ فرمائشی معجزوں کے ظہور پر نہ ماننے والوں کیلئے ہلاکت و تباہی مقدر ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ پہلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ ان فرمائشی معجزوں کے دیکھنے کے باوجود جن کا مطالبہ انہوں نے کیا تھا وہ لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس سے ان کو ہلاک کردیا گیا۔ سو اس طرح آج کے ان کفار کو ان کی فرمائشوں کے مطابق معجزات نہ دکھانا خود ان کے لئے بہتر اور باعث رحمت ہے۔ ورنہ یہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوجاتے جس سے وہ لوگ اس سے قبل دوچار ہوچکے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فرمائشی معجزوں کے ظہور کے بعد جن لوگوں نے نہیں مانا ان کو ہلاک اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الانبیاء : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی جن قوموں کی ہلاکت اللہ کے علم میں مقدر ہوچکی تھی وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں۔ یہی حال ان کا ہے مگر اللہ کے علم میں ان کی ہلاکت مقدر نہیں ہے کیونکہ ان کی نسل سے بہت سے مسلمان پیدا ہونے والے ہیں۔ اس لئے ان کی فرمائش کے مطابق نشانی ظاہر نہیں ہوتی ورنہ کسی بڑ ی سے بڑی نشانی کا اظہار ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (قرطبی)10 کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ جتنے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب شر ہی تھے اور یہ بات تو اثر سے ثابت ہے۔ اکثر مفسرین نے آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے کہ یہاں ” اہل ذکر “ سے مراد اہل کتاب ہیں اور یہ ان کے اعتراض ” ھل ھذا الابشر مثلکم “ کا جواب ہے (قرطبی) اس آیت سے بعض نے جواز…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:6) ما امنت۔ ما نافیہ ہے امنت ایمان سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ وہ ایمان لائی۔ اس نے مانا۔ یہاں سے جملہ مستانفہ شروع ہوتا ہے۔ اور کفار و مشرکین کے متذکرہ بالا نجوی کا خداوند تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی تسلی خاطر کے لئے جواب ہے۔ ما امنت ۔۔ افہم یؤمنون۔ ان سے قبل ہم نے جن بستیوں کو (باوجود معجرہ ہائے عظم کے مرسلین خداوندی کی نافرمانی کی وجہ سے) ہلاک کیا ان کے اہالیان تو ایمان نہ لائے تو کیا یہ لوگ آپ سے معجزہ عظیم کا مطالبہ کر رہے ہیں ایسے معجزہ کی صورت میں ) ایمان لے آئیں گے۔ افہم میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10 اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–9

قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[3] مراد ہے معجزہ۔ [4] مشرکین قرآن سن کر ضد اور ہٹ دھرمی سے ایسے بدحواس ہوجاتے تھے کہ کسی ایک رائے پر قرار نہ تھا۔ کبھی اسے جادو بتاتے، کبھی پریشان خوابوں کا مجموعہ کہتے، کبھی کہتے کہ اسے آپ نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے اور کبھی آپ کو شاعر بتاتے اور جب دیکھتے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں تو کہتے کہ اگر یہ شخص واقعی پیغمبر ہے تو کوئی معجزہ لا دکھائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–6

وقت حساب قریب ہے ! : (ف 1) قرآن حکیم کا موضوع دل کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنا ہے اور دلوں کی سختیوں اور صلابتوں کو ایمان کی لذت اور آسانیوں سے بدلنا ہے اس لئے اس کے نزدیک اصل چیز ذمہ داری کا احساس ہے خشیت وخوف کا جذبہ ، ہے ، تقوی وپرہیزگاری ہے ، ہوشیاری دانائی ہے جو لوگ قرآن کی بیدار کن آیات سنتے تو ہیں ، لیکن بےپروائی سے عمل نہیں کرتے ، قرآن ان کو غافل قرار دیتا ہے ، اور ان کے حق میں تاسف کا اظہار کرتا ہے فرماتا ہے لوگوں کے محاسبہ کا وقت قریب آگیا ہے ، اور ہر لمحہ یہ لوگ فنا کی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں مگر انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور جب قرآن حکیم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-6 ہم نے جس بستی کو ان سے پہلے ہلاک کیا وہ تو باوجود نشان دیکھنے یک ایمان نہیں لائیتو کیا یہ لوگ نشان دیکھ کر ایمان لے آئیں گے۔ یعنی پہلے لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے آخر ہم نے ان کو ہلاک و برباد کر دیاتو کیا یہ لوگ جو روز روز نئی نئی فرمائشیں کرتے ہیں اگر ا ن کے فرمائشی نشانات دکھائے گئے کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ بھی پہلوں کی طرح ایمان نہیں لائیں گے اور پہلوں کی طرح ان پر بھی عذاب استیصال کا قاعدہ جاری ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مشیت ان کی تباہی و ہلاکت کی مقتضی نہیں ہے اسلئے منہ مانگی نشانی اور فرمائشی معجزہ نہیں دکھایا جاسکتا۔ باقی نبی کریم ﷺ سے صد ہا نشانات…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے ہلاک شدگان کیوں ہلاک ہوئے ؟ کہ وہ ایمان نہ لائے تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے ؟ 6۔ نشانات کا مطالبہ کرنے والوں کو ایک طرح کے نشانات جو ان کے سامنے پیش کئے جا رہے تھے اور وہ ان کو دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے اور جانوروں کی طرح ان کی نظر آگے ہی آگے کو دیکھ رہی تھی وہ عقل وفکر اور غور و تدبر کے لئے آفاق ونفس میں فکری معجزات کی طرف خیال تک نہیں کرتے تھے اور نشانات عذاب کے متعلق ان سے اس آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ دعوتوں میں پڑھ چکے ہو کہ جب بھی کسی قوم کے پاس عذاب نشان آیا تو وہ ان کی ہلاکت کا باعث ہی ہوا اور یہی حال تمہارا ہوگا پھر اس کے لئے ایک وقت متعین ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then in اَفَھُم یؤمِنُونَ (Will they believe?) there is a hint that there was no likelihood of these people accepting the true faith even after seeing the miracles of their choice. Hence they were not shown the desired miracle.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8. This contains a concise answer to the demand for a sign in the previous verse. (1) You ask for signs like the ones which were shown by the former Messengers but you forget that those obdurate people did not believe in spite of the signs shown to them. (2) While demanding a sign, you fail to realize that the people, who disbelieved even after seeing a sign, were inevitably destroyed. (3) It is indeed a favor of Allah that He is not showing the sign as demanded by you. Therefore, the best course for you would be to believe without seeing a sign. Otherwise, you will meet the same doom that…

Read the full tafseer →