Al-Anbiyaa 21:7

Al-Anbiyaa · from ayah 7

21:7

وَمَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ‌ فَاسْأَلُوا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:7

اور اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی اور کو نہیں، آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ لہذا (کافروں سے کہو کہ) اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو نصیحت کا علم رکھنے والوں سے پوچھ لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر کچھ مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم نہیں جانتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے نبی) آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے، وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ لہذا اگر تم لوگ یہ بات نہیں جانتے تو اہل الذکر (اہل کتاب) سے پوچھ لو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم سے پہلے جس کو ہم نے رسول بنا کر بھیجا آدمیوں ہی میں سے بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے تو اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کا یہ شبہ کہ رسول انسان نہ ہونا چاہیے اس لئے بھی باطل ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم اسی طرح وحی بھیجتے رہے سو تم لوگ پوچھ لو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آپ سے قبل مردوں ہی کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے رہے ہیں۔ سو تم اہل کتاب سے پوچھ دیکھو اگر تم علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو (بطور رسول) ان کی طرف ہم وحی کرتے تھے تو (اے قریش مکہ !) تم اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی پیغمبر بنا کر بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), even before you We never sent any other than human beings as Messengers, and to them We sent revelation. Ask the People of the Book if you do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We did not send before you messengers except men whom We inspired with revelation. So, ask the people (having the knowledge) of the Message, if you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

And We did not send before you messengers except men whom We inspired with revelation. So, ask the people (having the knowledge) of the Message, if you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We sent not before you but men to whom We revealed. So ask the people of the Reminder if you do not know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We sent not (as Our messengers) before thee other than men, whom We inspired. Ask the followers of the Reminder if ye know not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know.

— Saheeh International

The messengers that We had sent before you were only men to whom We had given revelation. Ask the People of the Book if you do not know.

— Muhammad Sarwar

And We did not send before you any but men to whom We sent revelation, so ask the followers of the reminder if you do not

— Muhammad Habib Shakir

And We sent not before thee but men unto whom We revealed; so ask the people of the Admonition if ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Before thee, also, the messengers We sent were but men, to whom We granted inspiration: If ye realise this not, ask of those who possess the Message.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْاَنْبِیَآء 9 یہ جواب ہے ان کے اس قول کا کہ " یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے " وہ نبی ﷺ کی بشریت کو اس بات کی دلیل قرار دیتے تھے کہ آپ نبی نہیں ہو سکتے۔ جواب دیا گیا کہ پہلے زمانے کے جن لوگوں کو تم خود مانتے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے، وہ سب بھی بشر ہی تھے اور بشر ہوتے ہوئے ہی خدا کی وحی سے سرفراز ہوئے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 11)۔ سورة الْاَنْبِیَآء 10 یعنی یہ یہودی، جو آج اسلام کی دشمنی میں تمہارے ہم نوا ہیں اور تم کو مخالفت کے داؤ پیچ سکھایا کرتے ہیں، ان ہی سے پوچھ لو کہ موسیٰ اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کون تھے۔ انسان ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، اہل الذکر سے مراد اس جگہ علماء تورات و انجیل ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں پچھلے انبیاء کا حال معلوم نہیں کہ وہ انسان تھے یا فرشتے تو علماء تورات و انجیل سے معلوم کرلو کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ سب انبیاء سابقین انسان ہی کی نوع سے تھے اس لئے اگر یہاں اہل الذکر سے مطلق اہل کتاب یہود و نصاری ہی مراد ہوں تو بعید نہیں کیونکہ اس معاملے کے سبھی شاہد ہیں۔ خلاصہ تفسیر میں اسی احتمال کو اختیار کر کے تشریح کی گئی ہے۔ مسئلہ تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اوپر آیت 3 میں مخالفین کا یہ اعتراض نقل ہوا ہے، ھل ھذا الا بشر مثلکم (یہ تو تمہارے ہی مانند ایک بشر ہیں) یہ اسی اعتراف کا جواب ہے کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ خدا نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا بلکہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں سب بشر ہی تھے کبھی خدا نے غیر بشر کو رسول بنا کر نہیں بھیجا۔ رسولوں کو جو امتیاز حاصل تھا وہ یہ نہیں کہ وہ مافوق بشر تھے بلکہ صرف یہ کہ ہم ان کے پاس اپنی وحی بنا بھیجتے تھے، اسی طرح کی وحی جس طرح کی وحی ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں، جس کی مخالفت میں یہ لوگ یہ بکواس کر رہے ہیں۔ دشمن کی گواہی آیت اوپر والے ٹکڑے میں خطاب کا رخ حضرت صلعم کی طرف تھا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی تمام نبی مرد انسان تھے، نہ کوئی غیر انسان کبھی نبی آیا اور نہ غیر مرد، گویا نبوت انسانوں کے ساتھ اور انسانوں میں بھی مردوں کے ساتھ ہی خاص رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت نبی نہیں بنی۔ اس لئے نبوت بھی ان کے فرائض میں سے ہے جو عورت کو طبعی اور فطری دائرہ عمل سے خارج ہے۔ 7۔ 2 اَ ھْلَ الذِّکْرِ (اہل علم) سے مراد اہل کتاب ہیں، جو سابقہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے، ان سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء جو ہو گزرے ہیں، وہ انسان تھے یا غیر انسان ؟ وہ تمہیں بتلائیں گے کہ تمام انبیاء انسان ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

3: نصیحت کا علم رکھنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ یعنی اگر تمہیں خود پچھلے پیغمبروں کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ تمام انبیائے کرام انسانوں ہی میں سے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یہ ان کے قول (هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ) 21 ۔ الانبآء :3) کا جواب ہوا۔ یعنی پہلے بھی جو پیغمبر آئے جن کی مانند نشانیاں دکھلانے کا آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کرتے ہو، وہ آنحضرت ﷺ کی طرح بشر تھے فرشتے نہ تھے۔ اگر اتنی مشہور و مستفیض بات کی بھی اپنی جہالت کی وجہ سے تم کو خبر نہیں، تو خبر رکھنے والوں سے دریافت کرلو۔ آخر یہود و نصاریٰ اہل کتاب سے تمہارے تعلقات ہیں، اتنی موٹی بات ان سے ہی پوچھ لینا کہ پہلے زمانوں میں جو انبیاء و رسل تشریف لائے وہ بشر تھے یا آسمان کے فرشتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ الاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ” آیت کے پہلے حصے میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ‘ مگر بعد میں خطاب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوگیا ہے جو کہتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ ہم ان کی بات کیسے مان لیں ؟ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے ‘ وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح کھاتے پیتے اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرتے تھے۔ یہ بات اگر تمہاری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–7

6 اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس ( محمد ﷺ سے باز رکھیں۔ چناچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار والید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو ایک شخص نے کہا : ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ یعنی سلسلہ نبوت تو ہمیشہ انسانوں ہی کی معرفت جاری رکھا گیا ہے نبی تو ہر دور میں، ہر ملک میں، آدمی ہی بنا کر بھیجا گیا ہے کوئی جن، کوئی فرشتہ، کوئی فوق البشر انسانی آبادی کے لئے پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔ (آیت) ” الارجالا “۔ بشر کے بجائے رجل کے لفظ کے استعمال میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ نبوت ہمیشہ مردوں ہی کو ملی ہے نہ کہ عورتوں کو۔ عارف تھانوی (رح) نے یہاں فرمایا کہ اسی اصل کی بناء پر اہل طریق بھی خلافت مردوں ہی کو دیتے ہیں۔ 11۔ (کہ تم تو سرے سے سلسلہ نبوت و طریق وحی ہی کے منکر ہو) مشرکین تو تمامتر بروز، حلول وغیرہ کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں، نبوت، رسالت نزول وحی کے اصول ومبادیات ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ (اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے پس (اے مکہ والو) تم اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم کو اس کا علم نہیں ہے۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو کہ سابق پیغمبر آدمی ہوئے یا فرشتے ‘ تاکہ تمہارا شبہ جاتا رہے۔ اہل کتاب سے پوچھنے کا حکم دینے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو رسول اللہ ﷺ (اور دوسرے دینی امور) کے سلسلہ میں اہل کتاب پر اعتماد تھا ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ یا یہ وجہ ہے کہ متواتر خبر موجب یقین ہوتی ہے خواہ اہل تواتر کافر ہی ہوں اور چونکہ آدمیوں کا ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اور ہم نے آپ سے قبل صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے جیسا کہ آپ کو بنایا ہے جن کے پاس ہم فرشتوں کو بھیجا کرتے تھے جیسا کہ آپ کے پاس بھیجتے ہیں اگر تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے تو توریت وانجیل کے ماننے والوں سے پوچھ لو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا۔۔ : یہ ”هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ“ (یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا) کا جواب ہے، یعنی وہ تمام رسول جو آپ سے پہلے آئے، جن کے رسول ہونے کو یہ بھی مانتے ہیں، مثلاً ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق ؑ وغیرہم، وہ سب بشر تھے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو یہ لوگ آپ کو بشر ہونے کی وجہ سے رسول کیوں نہیں مانتے ؟ دیکھیے سورة انعام (91) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (کَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ یَفْلِيْ ثَوْبَہُ وَ یَحْلِبُ شَاتَہُ وَیَخْدِمُ نَفْسَہُ) [ مسند أحمد : 6؍256، ح : 26248۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 671 ] ”آپ ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم یہ ان پر رد ہے جو انہوں نے کہا تھا : قل ھذا الا بشر مثلکم اپنے نبی کو تسلی دی یعنی ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر مردوں کو۔ فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔ اس سے مراد اہل تورات اور انجیل ہیں جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے تھے، یہ سفیان کا قول ہے۔ اس کو اہل ذکر کہا ہے کیونکہ وہ انبیاء کی خبروں کا ذکر کرتے تھے جن کو عرب نہیں جانتے تھے کفار قریش حضرت محمد ﷺ کے معاملہ کو اہل کتاب کی طرف لوٹاتے تھے۔ ابن زید نے کہا : الذکر سے مراد قرآن ہے، یعنی اہل قرآن میں سے جاننے والے مومنین سے پوچھ۔ جابر جہنی نے کہا : جب یہ آیت نازل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–15

دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت : 1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ قَبْلَكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ ایسے مردوں کو ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف ] [ فَسْــَٔـلُوْٓا : تو تم لوگ پوچھ لو ] [ اَهْلَ الذِّكْرِ : یاد دہانی والوں (اہل کتاب) سے ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

منکرین کے عناد کا تذکرہ اور ان کی معاندانہ باتوں کا جواب یہاں سے سورة الانبیاء شروع ہو رہی ہے۔ اس میں چوتھے رکوع کے ختم تک معاندین اور منکرین توحید و رسالت اور منکرین آخرت کی تردید ہے۔ پھر پانچوں رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے جو اپنی قوم سے خطاب کیا اور بتوں کو توڑنے پر جو قوم نے ان سے سوال و جواب کیے اور انہیں آگ میں ڈالا اس کا تدکرہ ہے۔ اس کے بعد حضرت لوط، حضرت نوح، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت ایوب اور حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل اور حضرت ذوالنون (یعنی حضرت یونس) اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔ (ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ یہ مشرکین کے پہلے سوال کا جواب ہے جو ” ھَلْ ھٰذَا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الخ “ میں مذکور ہوچکا ہے۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 171) ۔ یعنی ہم نے انسانوں کی طرف جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ انسان اور بشر ہی تھے۔ ان میں کوئی ایک بھی فرشتہ نہیں تھا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے علم وفضل پر تمہیں اعتماد ہے اہل الذکر سے اہل کتاب (یہود و نصاری) کے علماء مراد ہیں مشرکین کو اہل کتاب کی طرف اس لیے مراجعت کا حکم دیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں اکثر ان سے مراجعت کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور نبیوں کے طریقہ تبلیغ کو واضح کیا ہے۔ اس میں نافرمانوں کو برے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور اس سلسلے میں نبوت و رسالت پر اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے بارے میں دو چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ انہوں نے پوشیدہ طور پر میٹنگ کی اور پیغمبر اور قرآن کے متعلق غلط نظریہ قائم کیا ، قرآن پاک کے متعلق کہا کہ یہ شعر و شاعری ، سحر یا پریشان خواب ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کو کاہن ، ساحر اور شاعر کہا گیا ، اور اس طرح دین حق کا انکار کردیا گیا۔ اسلامی پروگرام کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْہِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ 7 رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–10

بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الانبیاء : 7) (اور آپ ﷺ سے پہلے ہم نے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر مردوں کو، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، تو تم اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ ) آپ ﷺ کے بشر ہونے میں حکمت اوپر آیت نمبر 3 میں مخالفین کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ یہ شخص جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یہ تو تمہاری طرح ایک بشر ہے، بشر نبی نہیں ہوسکتا تو یہ کیسے نبی ہوگیا۔ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب انسان، بشر بلکہ مرد تھے۔ کسی اور مخلوق میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کے بشر ہونے کا ایک اور جواب۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ اور انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ اور پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے۔ اور سب کے سب کھانے، پینے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانے پینے کی حاجت سے بےنیاز ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے۔ کہ اگر ان لوگوں کو اس بات پر پھر بھی یقین نہیں آتا تو انھیں چاہیے کہ اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ جتنے پیغمبر بھی آپ ﷺ سے پہلے مبعوث کیے گئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے۔ اہل ذکر سے مراد اہل علم ہیں جو شریعت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعتراض بشریت کی تردید : 7: وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا (ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا) یہ ان کے اس قول کا جواب ہے۔ ھل ھذا الابشر مثلکم الانبیا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ (جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے) قراءت : حفص نے اسی طرح پڑھا ہے اور ابن کثیر وابن عامر و نافع وحمزہ وغیرہ نے یوحٰی پڑھا ہے۔ فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ (پس تم اہل ذکر سے پوچھ لو) اہل ذکر سے علمائے کتابیین مراد ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جن رسولوں کی طرف وحی بھیجی جاتی رہی وہ انسان تھے۔ ملائکہ نہ تھے۔ اہل مکہ کو اہل کتاب پر اعتماد تھا۔ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اگر تم کو اس کا علم نہیں ہے) پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7۔ وماارسلناک قبلک، ،،۔ یہ اس قول کا جواب ہے۔ ھل ھذا الابشرمثلکم ، کہ ہم نے پہلے بھی انبیاء فرشتوں میں سے نہیں بھیجے بلکہ ان اقوام کی طرف بھی تم میں سے تمہاری طرح بشر کو نبی بناکربھیجتے رہے۔ فاسئلوا اھل الذکر، ، پس تم سوال کرو توریت والوں سے اور انجیل والوں سے ان سے پوچھنے کا حکم دینے کی وجہ یا تو وہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو رسول اللہ کے سلسلہ میں اہل کتاب پر اعتماد تھا۔ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ اہل کتاب رسولوں کے منکر نہیں تھے کہ وہ بشر ہی ہوتے ہیں۔ بشر ہونے سے انکار نہ کرتے۔ اگرچہ یہ بھی نبی کریم کی نبو ت کے منکر تھے۔ مشرکین کو حکم دیا کہ وہ ان سے پوچھیں تاکہ ان کو اس بات کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

آیت 7-9 یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ” کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا ؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی ؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔ “ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لئے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو۔۔۔ جو رسول اللہ ﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 لوگوں کیلئے رسول ہمیشہ انسانوں ہی کو بنایا گیا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے [ اے پیغمبر ] انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا۔ نہ کہ کسی نوری مخلوق کو۔ پس ان لوگوں کا یہ اعتراض کہ یہ صاحب تم ہی جیسے ایک بشر ہیں { ہَلْ ہٰذَا الاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ } مطالبہ اور ان کا یہ استبعاد بجائے خود غلط اور باطل ہے کہ ایک بشر اور انسان کو کیوں رسول بنا کر بھیجا گیا۔ کیونکہ اللہ پاک کا دستور اور قانون ہمیشہ یہی رہا کہ بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے انسانوں ہی کو رسول بناکر بھیجا گیا۔ یہی عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اور اسی سے ہدایت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الانبیاء : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 11 یعنی تمام پیغمبر طبعی تقاضوں میں دوسرے انسانوں ک طرح ہی تھے ان کے جسم ایسے نہیں تھے کہ ان کو کھانے پینے کی ضرورت نہ ہو اور پھر وہ عام آدمیوں کی طرح ایک عمر پا کر گزر گئے۔ اس میں ان لوگوں کی صاف تردید ہے جو انبیا کی موت کی نفی کرتے ہیں۔ (شوکانی)12 یعنی تائید و نصرت کا وعدہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 7–8

(21:7) رجالا۔ رجل کی جمع ہے۔ مرد ۔ انسان۔ اھل الذکر۔ اہل علم۔ اس سے مراد یا تو اہل کتاب ہیں یعنی علماء یہود و نصاری کہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں وہ انبیاء کی بشریت سے منکر نہ تھے۔ یا یہاں ذکر سے مراد القرآن ہے اور اہل الذکر سے مراد قرآن کو ماننے والے مومن علمائ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10 اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–9

قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[5] یہ ان کے اس قول کا جواب ہے کہ '' یہ شخص تم ہی جیسا آدمی ہے ''۔ [6] یعنی یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ان میں جو انبیاء مبعوث ہوئے تھے وہ انسان تھے یا فرشتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

انبیاء (علیہم السلام) بشر ہوتے ہیں : (ف 1) اس آیت میں مکہ والوں کے اس شبہ کا جواب ہے کہ حضور ﷺ چونکہ عام انسانوں کی طرح ہیں ، اس لئے لائق اعتناء نہیں قرآن حکیم فرماتا ہے جہاں تک انبیاء کی جماعت کا تعلق ہے سب کے سب انسان تھے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے راہ نما ہوکر آئے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ حمیم وجدان کے لحاظ سے ذوق و خواہشات کے لحاظ سے بالکل انسان ہوں تاکہ دوسرے انسانوں کے لئے ان کی زندگی اسوہ اور نمونہ قرار پائے ۔ ورنہ (فوق البشر) ہونے کی صورت میں وہ انسانوں کے لئے کامل راہ نما نہ ہو سکتے ، کیونکہ تبع اور پیروی کے لئے ضروریات اور حالات کا مشترک ہونا لازم ہے ، جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-7 اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمیوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے ۔ مگر تم کو معلوم نہیں ہے تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھو لو۔ یہ شاید اس بات کا جواب ہے کہ رسول بشر نہیں ہونا چاہئے بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے ارشاد فرمایا کہ آج تک جتنے رسول آئے سب مرد ہی آئے اور مردوں ہی پر ہم وحی نازل کرتے رہے یہ ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ سب جانتے ہیں اگر تم کو اتنی بات بھی نہیں معلوم تو تم اتنا بھی نہیں جانتیت و یہود و نصاریٰ جو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہیں ان اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی ہوا کرتے تھے یا فرشتے ہوتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کے اس مطالبہ کا جواب کہ یہ رسول تو ایک بشر ہے اور بشر رسول کب ہوتا ہے ؟ 7۔ آپ غور کریں گے تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جب سے اس دنیا میں کفر آیا تو یہ نظریہ بھی ساتھ ہی آگیا کہ بشر کبھی رسول نہیں ہو سکتا انبیاء کرام میں سے پہلے رسول ونبی نسل انسانی میں سے نوح (علیہ السلام) ہیں اس لئے کہ آدم (علیہ السلام) بھی انسان تھے لیکن نسل انسانی کے طور پر نہیں بلکہ اصل انسانی کے طور پر بہرحال نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کفار کا سوال یہی تھا کہ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ : (آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَہٍ غَیْْرُہُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (So, ask the people (having the knowledge) of the message, if you do not know. - 21:7) In this verse, scholars of Injil Evangele) and Torah are referred to as أَهْلَ الذِّكْرِ‌ (people of the message), who had accepted the Holy Prophet's prophethood. Therefore, what it actually means is that if you are not aware whether the prophets of the past were angels or ordinary men then you should find out from the scholars of Injil and Torah as they know perfectly well that all prophets were human beings. It is, therefore, quite possible that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

9. This is the answer to their objection: This man is no more than a human being like yourselves, and therefore, cannot be a Messenger of God. They have been told that the former Prophets, too, whom you also recognize as Prophets, were human beings and were blessed with revelations from Allah. 10. That is, you may have it testified by the Jews, who are the enemies of Islam like you, and are teaching you the ways to oppose it, that all the Messengers including Prophet Moses (peace be upon him) were human beings.

Read the full tafseer →