Al-Anbiyaa 21:8

Al-Anbiyaa · from ayah 8

21:8

وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ ۟وَمَا جَعَلۡنٰهُمۡ جَسَدًا لَّا يَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوۡا خٰلِدِيۡنَ

اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not make the prophets forms not eating food, nor were they immortal [on earth].

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:8

اُن رسُولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان (رسولوں) کو ایسے جسم بنا کر پیدا نہیں کردیا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں، اور نہ وہ ایسے تھے کہ ہمیشہ زندہ رہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے انہیں خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (دنیا میں بہ حیاتِ ظاہری) ہمیشہ رہنے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے انھیں محض جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ان (رسولوں کے) جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہ تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کو ایسے جسم بھی نہیں دیے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ابدی زندگی رکھنے والے بھی نہ تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور ان کا دوسرا شبہ کہ رسول کوئی ایسی نوری مخلوق ہونا چاہیے جو نہ کچھ کھائے نہ پیئے بھی باطل ہے کیونکہ) ہم نے ان رسولوں کے کوئی ایسے مافوق الفطرت اور نوری بدن نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا ہی نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ ہم نے ان (رسولوں) کے جسم ایسے بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ غیرفانی ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ان (رسولوں) کے لیے ایسا جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ (زندہ) رہنے والے ہوتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We did not endow the Messengers with bodies that would need no food; nor were they immortals.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not make them such bodies as ate no food, nor were they immortal.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not make them such bodies as ate no food, nor were they immortal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We did not place them in bodies that did not eat food, nor were they immortals.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We gave them not bodies that would not eat food, nor were they immortals.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not make the prophets forms not eating food, nor were they immortal [on earth].

— Saheeh International

We had not made them such bodies that would not eat any food nor were they immortal.

— Muhammad Sarwar

And We did not make them bodies not eating the food, and they were not to abide (forever).

— Muhammad Habib Shakir

And We made them not bodies not eating food; nor were they to be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor did We give them bodies that ate no food, nor were they exempt from death.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْاَنْبِیَآء 9 یہ جواب ہے ان کے اس قول کا کہ " یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے " وہ نبی ﷺ کی بشریت کو اس بات کی دلیل قرار دیتے تھے کہ آپ نبی نہیں ہو سکتے۔ جواب دیا گیا کہ پہلے زمانے کے جن لوگوں کو تم خود مانتے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے، وہ سب بھی بشر ہی تھے اور بشر ہوتے ہوئے ہی خدا کی وحی سے سرفراز ہوئے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 11)۔ سورة الْاَنْبِیَآء 10 یعنی یہ یہودی، جو آج اسلام کی دشمنی میں تمہارے ہم نوا ہیں اور تم کو مخالفت کے داؤ پیچ سکھایا کرتے ہیں، ان ہی سے پوچھ لو کہ موسیٰ اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کون تھے۔ انسان ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، اہل الذکر سے مراد اس جگہ علماء تورات و انجیل ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں پچھلے انبیاء کا حال معلوم نہیں کہ وہ انسان تھے یا فرشتے تو علماء تورات و انجیل سے معلوم کرلو کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ سب انبیاء سابقین انسان ہی کی نوع سے تھے اس لئے اگر یہاں اہل الذکر سے مطلق اہل کتاب یہود و نصاری ہی مراد ہوں تو بعید نہیں کیونکہ اس معاملے کے سبھی شاہد ہیں۔ خلاصہ تفسیر میں اسی احتمال کو اختیار کر کے تشریح کی گئی ہے۔ مسئلہ تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کوئی بنی مافوق بشر نہیں ہوا یعنی وہ تمام انبیا بھی اسی طرح کی بشری خصوصیات کے ساتھ آئے تھے جس طرح کی بشری خصوصیات تمہارے اندر ہیں۔ نہ تو ان کو ایسے جسم ملے تھے جو کھانے پینے کی ضرورت سے متفی ہوں اور نہ وہ زندہ جاوید ہو کر آئے تھے۔ وہ بھی انسانوں ہی کہ طرح کھاتے پیتے تھے اور انہیں بھی اسی طرح موت سے دوچار ہونا پڑا جس طرح ہر بشر کو اس سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اعتراض دوسری جگہ اس طرح نقل ہوا ہے۔ آیت نمبر مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (33) وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ (34) وما کانوا خلدین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 بلکہ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور موت سے بھی ہم کنار ہو کر مسافر عالم بقاء بھی ہوئے، یہ انبیاء کی بشریت ہی کی دلیل دی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

3: نصیحت کا علم رکھنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ یعنی اگر تمہیں خود پچھلے پیغمبروں کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ تمام انبیائے کرام انسانوں ہی میں سے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بشری خصائص ان میں موجود تھیں، نہ فرشتوں کی طرح ان کا بدن ایسا تھا کہ کبھی کھانا نہ کھا سکتے نہ وہ خدا تھے کہ کبھی موت اور فنا نہ آئے ہمیشہ زندہ رہا کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ” پہلے جو انبیاء آئے تھے وہ سب عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی ابدی زندگی لے کر نہیں آیا تھا۔ چناچہ ان میں سے ہر ایک پر موت کا مرحلہ بھی آیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 اب کفار مکہ کے ایک بنیادی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے۔ اعتراض یہ تھا کہ یہ نبی ہم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ سب بشری کمزوریاں اور بشری تقاضے اس میں بھی موجود ہیں جو ہم میں ہیں۔ وہ ہماری طرح ہی کھانے پینے اور چلنے پھرنے کا محتاج ہے اور ہماری طرح نکاح شادیاں بھی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اسے نہ تو کوئی دنیی جاہ چشم میسر ہے اور نہ ہی کوئی فرشتہ اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا انھیں جواب یہ دیا گیا کہ تم لوگ جو اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر اس نبی سے کئی طرح کے سوال اور کئی طرح کے اعتراض کرتے ہو تو ایک سوال یہ بھی پوچھ لو کہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) بشر تھے یا نہیں ؟ ان کے جواب سے تمہیں تسلی ہوجائے گی کہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ مشرکین کے تہ بہ تہ جہل کا شافی جواب ہے۔ رسول نہ بشری ضروریات غذا وغیرہ سے برتر ہوتا ہے اور نہ وہ غیر فانی ہو کر دنیا میں آتا ہے اس کی ترکیب جسمانی اور اس کی طبعی ضروریات سب وہی ہوتی ہیں جو گوشت پوست کے بنے ہوئے ہر بشر کی ہوتی ہے۔ اس کا اصل مشن تو بس محض صحیح خدائی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کھانا نہ کھانا کمالات اور علامات مقبولیت میں سے نہیں، جیسا کہ بہت سے عوام اور بعض خواص بھی خیال کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما جعلنہم جسدا لا یاکلون الطعام اور ہم نے ان پیغمبروں کے ایسے جسم نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں۔ (یعنی فرشتے نہیں بنایا) جسد اسم جنس ہے ایک ہو یا زیادہ سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے یا مضاف محذوف ہے یعنی جسموں والے۔ جسد رنگ دار جسم کو کہتے ہیں ‘ لغوی اعتبار سے جسد کا معنی ہے کسی چیز کا باہم اکٹھا ہونا اور جڑنا۔ لاَ یَاکُلُوْنَ الطَّعَامَ ۔ جسداً کی صفت ہے یا علیحدہ ہے اور کافروں کے قول کا جواب ہے ‘ کفار کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ یہ رسول کھانا کھاتا ہے۔ وما کانوا خلدین۔ اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہیں ہوتے۔ آیت سابقہ کے مضمون کی تاکید اس آیت سے ہو رہی ہے کہ جس کی زندگی کی بقاء کھانے پر موقوف ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) اور اسی طرح ہم نے ان انبیاء کرام کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور پانی نہ پیتے ہوں اور نہ وہ حضرات دنیا میں ہمیشہ رہنے والے ہوئے بلکہ وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور پانی بھی پیتے تھے اور ان انبیاء کرام نے وفات بھی پائی ہے، یہ آیت کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا۔۔ :”جَسَدًا“ کا معنی بےجان جسم ہے، یہ جثہ کا ہم معنی ہے۔ محقق ائمۂ لغت کا یہی قول ہے، جیسا کہ ابو اسحاق زجاج نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ) [ طٰہٰ : 88 ] کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے : (مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ) [ الفرقان : 7 ] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا : (هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ) [ الأنبیاء : 3 ] ”یہ تمہارے جیسا ایک بشر ہی تو ہے۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما جعلنھم جسداً لا یاکلون الطعام ھم ضمیر کا مرجع انبیاء ہیں یعنی ہم نے آپ سے پہلے ایسے رسل نہیں بنائے جو بشری طبائع سے خارج ہوں اور وہ کھانے، پینے کے محتاج نہ ہوں۔ وما کانو خلدین۔ وہ فوت نہ ہوں گے۔ یہ ان کے قول کا جواب ہے : ھل ھذآ الا بشر مثلکم اور ان کے اس قول کا جواب ہے جو انہوں نے کہا : مال ھذا الرسول یا کل الطعام (الفرقان :7) ۔ جسداً ، اسم جنس ہے اسی لیے اجساد نہیں فرمایا۔ بعض علماء نے فرمایا : اجساد اً نہیں فرمایا کیونکہ وما جعلنا کل واحد منھم جسداً مراد لیا ہے۔ الجسد بدن کو کہتے ہیں، اسی سے ہے تجسد جس طرح تو جسم سے تجسم کہتا ہے۔ الجسد، زعفرن اور اس جیسے رنگ کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–15

دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت : 1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَا جَعَلْنٰهُمْ : اور ہم نے نہیں بنایا ان کو ] [ جسدًا : ایسا جسم ] [ لَّا يَاْكُلُوْنَ : جو نہ کھاتے ہوں ] [ الطَّعَامَ : کھانا ] [ وَمَا كَانوْا : اور وہ نہیں تھے ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (وَ مَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ ) (کہ ہم نے رسولوں کے ایسے بدن نہیں بنائے جو کھانا نہ کھاتے ہوں) چونکہ وہ فرشتے نہیں تھے بشر تھے اس لیے کھانا بھی کھاتے تھے اور کھانا کھانا مقام نبوت کے منافی نہیں ہے۔ سورة فرقان میں فرمایا (وَمَا اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِِلَّا اِِنَّہُمْ لَیَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر ایسے رسول جو کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے) ۔ (وَ مَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ) (اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے) وہ انسان ہی تھے۔ انسانوں کی طرح انہیں بھی موت آئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔ (ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

10:۔ یہ مشرکین کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ تھا کہ یہ بھلا رسول ہے۔ ہماری طرح کھاتا پیتا ہے۔ جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں ان کا قول منقول ہے۔ ” مَالِ ھٰذَ الرَّسُوْلُ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ “ تو اس کا جواب دیا کہ جب انبیاء ورسل انسان اور آدمی تھے۔ تو وہ لامحالہ کھاتے پیتے بھی تھے۔ کھانا پینا بشر کو لازم ہے۔ وہ اس سے کس طرح مستثنی ہوسکتے ہیں۔ ” وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ “ یہ مشرکین کے تیسرے اعتراض کا جواب ہے کہ یہ دنیا میں رہے گا نہیں بلکہ فوت ہوجائے گا تو جواب دیا کہ پہلے انبیاء بھی ہمیشہ نہیں رہے۔ بلکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو اس وقت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور نبیوں کے طریقہ تبلیغ کو واضح کیا ہے۔ اس میں نافرمانوں کو برے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور اس سلسلے میں نبوت و رسالت پر اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے بارے میں دو چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ انہوں نے پوشیدہ طور پر میٹنگ کی اور پیغمبر اور قرآن کے متعلق غلط نظریہ قائم کیا ، قرآن پاک کے متعلق کہا کہ یہ شعر و شاعری ، سحر یا پریشان خواب ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کو کاہن ، ساحر اور شاعر کہا گیا ، اور اس طرح دین حق کا انکار کردیا گیا۔ اسلامی پروگرام کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا جَعَلْنٰہُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ۝ 8 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ جسد الجَسَد کالجسم لكنه أخصّ ، قال الخلیل رحمه اللہ : لا يقال الجسد لغیر الإنسان من خلق الأرض «3» ونحوه، وأيضا فإنّ الجسد ما له لون، والجسم يقال لما لا يبين له لون، کالماء والهواء . وقوله عزّ وجلّ : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] ، يشهد لما قال الخلیل، وقال : عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ طه/ 88] ، وقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–10

بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا لاَّ یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 8) (اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ ) انبیائے کرام انسانی احتیاجات سے ماورا نہیں ہوتے کفارِ مکہ کو آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض بھی تھا کہ یہ شخص کیسے رسول ہوسکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں گھومتا یعنی کاروبار کرتا ہے قَالُوْا مَالِھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الْطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ” انھوں نے کہا، یہ کیسا رسول ہے کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ “ اس آیت کریمہ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کے بشر ہونے کا ایک اور جواب۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ اور انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ اور پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے۔ اور سب کے سب کھانے، پینے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانے پینے کی حاجت سے بےنیاز ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے۔ کہ اگر ان لوگوں کو اس بات پر پھر بھی یقین نہیں آتا تو انھیں چاہیے کہ اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ جتنے پیغمبر بھی آپ ﷺ سے پہلے مبعوث کیے گئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے۔ اہل ذکر سے مراد اہل علم ہیں جو شریعت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8: وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا (اور ہم نے ان کو ایسا جسم نہیں بنایا) جسد (رنگ دار جسم) اس کو واحد لائے کیونکہ اسم جنس ہے جس کا اطلاق واحد و جمع سب پر ہوتا ہے۔ لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (جو کھانا نہ کھاتے ہوں) یہ جَسَدًاکی صفت ہے یعنی ہم نے آپ سے پہلے والے انبیاء (علیہم السلام) کو کھانا نہ کھانے والے جسم نہیں بنایا۔ وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ (اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہ تھے) گویا کہ کفار نے اس طرح کہا وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ نہ کھائے اور ہمیشہ رہے چونکہ ان کے اعتقاد میں فرشتوں پر موت نہ آئے گی۔ نمبر 2۔ طویل بقاء اور لمبی زندگی کو خلود کا نام دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8۔ وماجعلنا ھم، اس سے مراد رسول ہیں۔ جسدا ، اجساد نہیں کہاکیون کہ یہ اسم جنس ہے۔ لایاکلون الطعام، یہ اس قول کی تردید ہے ، مالھذا، الرسول یا کل الطعام ، کافر یہ کہتے تھے کہ یہ رسول کھانا کھاتا ہے ان کی اس آیت میں تردید ہے ، وماکانوخالدین، اور نہ ہی وہ دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–9

آیت 7-9 یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ” کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا ؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی ؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔ “ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لئے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو۔۔۔ جو رسول اللہ ﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 پیغمبر بشری تقاضوں سے معریٰ نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو یعنی گزشتہ انبیاء کرام کو کوئی ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ سو اس سے واضح ہو فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام بشری تقاضوں سے معری نہیں ہوتے۔ جیسے کھانا پینا وغیرہ۔ اور جب تمام انبیائے کرام کے بارے میں ہماری سنت یہی رہی تو پھر ان لوگوں کا آپ ﷺ پر اے پیغمبر ! اس طرح کا اعتراض کرنا سراسر لغو اور ایک بےہودہ بات ہے کیونکہ آپ ﷺ بھی اسی طرح بشری تقاضے رکھتے ہیں جس طرح کہ گزشتہ انبیاء و رسل رکھتے تھے کہ ان کے بھی بیوی بچے تھے۔ وہ بھی کھایا کرتے تھے اور پانی پیا کرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة الانبیاء : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 11 یعنی تمام پیغمبر طبعی تقاضوں میں دوسرے انسانوں ک طرح ہی تھے ان کے جسم ایسے نہیں تھے کہ ان کو کھانے پینے کی ضرورت نہ ہو اور پھر وہ عام آدمیوں کی طرح ایک عمر پا کر گزر گئے۔ اس میں ان لوگوں کی صاف تردید ہے جو انبیا کی موت کی نفی کرتے ہیں۔ (شوکانی)12 یعنی تائید و نصرت کا وعدہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 7–8

(21:7) رجالا۔ رجل کی جمع ہے۔ مرد ۔ انسان۔ اھل الذکر۔ اہل علم۔ اس سے مراد یا تو اہل کتاب ہیں یعنی علماء یہود و نصاری کہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں وہ انبیاء کی بشریت سے منکر نہ تھے۔ یا یہاں ذکر سے مراد القرآن ہے اور اہل الذکر سے مراد قرآن کو ماننے والے مومن علمائ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10 اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–9

قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[5] یہ ان کے اس قول کا جواب ہے کہ '' یہ شخص تم ہی جیسا آدمی ہے ''۔ [6] یعنی یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو کہ ان میں جو انبیاء مبعوث ہوئے تھے وہ انسان تھے یا فرشتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

انبیاء (علیہم السلام) بشر ہوتے ہیں : (ف 1) اس آیت میں مکہ والوں کے اس شبہ کا جواب ہے کہ حضور ﷺ چونکہ عام انسانوں کی طرح ہیں ، اس لئے لائق اعتناء نہیں قرآن حکیم فرماتا ہے جہاں تک انبیاء کی جماعت کا تعلق ہے سب کے سب انسان تھے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے راہ نما ہوکر آئے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ حمیم وجدان کے لحاظ سے ذوق و خواہشات کے لحاظ سے بالکل انسان ہوں تاکہ دوسرے انسانوں کے لئے ان کی زندگی اسوہ اور نمونہ قرار پائے ۔ ورنہ (فوق البشر) ہونے کی صورت میں وہ انسانوں کے لئے کامل راہ نما نہ ہو سکتے ، کیونکہ تبع اور پیروی کے لئے ضروریات اور حالات کا مشترک ہونا لازم ہے ، جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-8 اور ہم نے ان انبیاء سابقین کے ایسے جسد اور ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہیں کھاتے ہوں اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہ شاید اس بات کا جواب ہے کہ یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے اور یہ وفات کیوں پائے گا سو بتایا کہ آج تک کوئی رسول ایسا نہیں آیا کہ فرشتوں کی طرح کھانا نہ کھاتا ہو اور نہ ہم نے اس کے جسم کی ساخت ایسی رکھی کہ وہ کھانے سے بےنیاز ہو پس جس طرح اور پہلے رسول آدمی تھے اور کھانا کھانے کی احتیاج رکھتے تھے اسی طرح یہ پیغمبر بھی فرشتہ نہیں ہے یہ آدمیوں کی طرح کھانا بھی کھاتا ہے اور اس کی وفات بھی ہوگی کیونکہ کوئی رسول دنیا میں ہمیشہ رہین کو نہیں آیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–11

ف 3۔ پس اگر آپ کی بھی وفات ہوجائے تو نبوت میں کیا قدح لازم آیا، غرض یہ کہ جیسے پہلے رسول تھے ویسے ہی آپ بھی ہیں، اور یہ لوگ جس طرح آپ کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح ان حضرات کی بھی اس زمانے کے کفار نے تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انبیاء ورسول کی بشریت کے مخالفین سے کہا جارہا ہے کہ ہم نے جسم بھی ان کو دیا اور موت بھی : 8۔ مشرکین مکہ اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ (آیت) ” مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ (الفرقان 25 : 8) ” یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے “ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ” اللہ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو کیا اس کے پاس کوئی فرشتہ نہیں تھا “۔ زیر نظر آیت میں ان دونوں باتوں کا جواب ان کو دیا گیا ہے کہ ” ہم نے تو ان پیغمبروں کو ایسے جسم کا نہیں بنایا کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے ۔ “ ان لوگوں کو یہ تعجب کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (So, ask the people (having the knowledge) of the message, if you do not know. - 21:7) In this verse, scholars of Injil Evangele) and Torah are referred to as أَهْلَ الذِّكْرِ‌ (people of the message), who had accepted the Holy Prophet's prophethood. Therefore, what it actually means is that if you are not aware whether the prophets of the past were angels or ordinary men then you should find out from the scholars of Injil and Torah as they know perfectly well that all prophets were human beings. It is, therefore, quite possible that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

9. This is the answer to their objection: This man is no more than a human being like yourselves, and therefore, cannot be a Messenger of God. They have been told that the former Prophets, too, whom you also recognize as Prophets, were human beings and were blessed with revelations from Allah. 10. That is, you may have it testified by the Jews, who are the enemies of Islam like you, and are teaching you the ways to oppose it, that all the Messengers including Prophet Moses (peace be upon him) were human beings.

Read the full tafseer →