Explained with ayahs 7–9
مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے
چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ ﷺ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الأنبیاء :7) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے۔ اور آیت میں ہے (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 11
یعنی پچھلی تاریخ کا سبق صرف اتنا ہی نہیں بتاتا کہ پہلے جو رسول بھیجے گئے تھے وہ انسان ہی تھے، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کی نصرت و تائید کے، اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو ہلاک کردینے کے، جتنے وعدے اللہ نے ان سے کیے تھے وہ سب پورے ہوئے اور ہر وہ قوم برباد ہوئی جس نے انکو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ اب تم اپنا انجام خود سوچ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، اہل الذکر سے مراد اس جگہ علماء تورات و انجیل ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں پچھلے انبیاء کا حال معلوم نہیں کہ وہ انسان تھے یا فرشتے تو علماء تورات و انجیل سے معلوم کرلو کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ سب انبیاء سابقین انسان ہی کی نوع سے تھے اس لئے اگر یہاں اہل الذکر سے مطلق اہل کتاب یہود و نصاری ہی مراد ہوں تو بعید نہیں کیونکہ اس معاملے کے سبھی شاہد ہیں۔ خلاصہ تفسیر میں اسی احتمال کو اختیار کر کے تشریح کی گئی ہے۔
مسئلہ
تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ…
Read the full tafseer →دعد سے مراد وہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ اگر لوگ تمہاری تکزیب کرنے والوں کو ہلاک کردیں گے اور تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو نجات دیں گے ہم یونس 20 کے تحت واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دوعذابوں سے درایا ہے ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں رسول کی تکزیب کردینے والی قوم پر لازماََ آتا ہے، دوسرے اس عزاب سے جو آخرت میں ہوگا۔ یہاں عذاب مراد ہے۔ فرمایا کہ تھے تو وہ بہرحال بشر ہی لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ شچا کر دکھایا یعنی ان کو ادرجن کو ہم چاہیں نجات دی اور ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو حدود سے تجاوز کر جانے والے تھے۔ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی وعدے کے مطابق نبیوں کو اور اہل ایمان کو نجات عطا کی اور حد سے تجاوز کرنے والے یعنی کفار و مشرکین کو ہم نے ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
3: نصیحت کا علم رکھنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ یعنی اگر تمہیں خود پچھلے پیغمبروں کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ تمام انبیائے کرام انسانوں ہی میں سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ…
Read the full tafseer →2 ان کا امتیاز دوسرے بندوں سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت و اصلاح کے لیے کھڑے کیے گئے تھے خدا ان کی طرف وحی بھیجتا اور باوجود بےسروسامانی کے مخالفین کے مقابلہ میں ان کی حمایت ونصرت کے وعدے کرتا تھا چناچہ اللہ نے اپنے وعدے سچے کر دکھائے۔ ان کو مع رفقاء کے محفوظ رکھا اور بڑے بڑے متکبر دشمن جو ان سے ٹکرائے تباہ و غارت کردیئے گئے۔ بیشک محمد ﷺ بھی بشر ہیں۔ لیکن اسی نوع کے بشر ہیں جن کی اعانت و حمایت ساری دنیا کے مقابلہ میں کی جاتی ہے ان کے مخالفین کو چاہیے کہ اپنا انجام سوچ رکھیں اور پہلی قوموں کی مثالوں سے عبرت حاصل کریں۔ کہیں آخرت کے حساب سے پہلے دنیا ہی میں حساب شروع نہ کردیا…
Read the full tafseer →آیت 9 ثُمَّ صَدَقْنٰہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰہُمْ وَمَنْ نَّشَآءُ ”
ہم نے نوح علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کو سیلاب کی آفت سے محفوظ رکھا۔ ہود علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کو امان بخشی۔ صالح علیہ السلام اور ان پر ایمان والوں کو نجات دی۔ شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بچایا۔ لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کو مغضوب و معتوب بستیوں سے بحفاظت نکالا اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کو سمندر میں سے بچ نکلنے کا راستہ دیا۔ یوں ہم نے ہر مرتبہ اپنے رسولوں اور اہل ایمان کے ساتھ کیے گئے وعدے کو نبھایا۔
Read the full tafseer →9 البتہ یہ بات ہر نبی سے پیش آتی رہی کہ اس کی دعوت پر کچھ لوگوں نے لبیک کہی اور زیادہ قرآن کے مخالف بن گئے۔ پھر ہم نے اپنے انبیاء اور مومنوں سے فتح و نصرت کے جو وعدے کئے تھے وہ سب پورے کردیئے اور ایسے لوگوں کو ہم نے بروقت اپنے عذاب سے بچا بھی لیا تھا۔ لیکن جن لوگوں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ ان سب کو ہلاک کر ڈالا تھا۔ یہ بات بھی تم اے قریش مکہ ! ان اہل کتاب سے پوچھ سکتے ہو۔
Read the full tafseer →13۔ وعدہ یہی تھا کہ ایمان لانے والے اور تصدیق کرنے والے عذاب سے محفوظ رہیں گے، اور انبیاء بھی باوجود اپنی ہر طرح کی ظاہری بےسروسامانی اور منکرین کی شوکت وقوت کے بالآخر مظفر ومنصور رہیں گے۔
14۔ ان نجات پانے والوں مومنین تو یقیناً داخل ہیں، باقی بعض منکرین بھی ممکن ہے کسی مصلحت تکوینی سے بچا دیئے گئے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →ثم صدقنہم الوعد پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا ‘ یعنی ہم نے پیغمبروں کی مدد کا جو وعدہ کیا
تھا اس کو سچ کر دکھایا۔
فانجینہم ومن نشآء اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے تھے (یعنی پیغمبروں پر ایمان لانے والوں کو) ہم نے (اپنے
عذاب سے اور کفار کی ایذا رسانی سے) بچا لیا۔ مَنْ نَّشَآء سے وہ لوگ مراد ہیں جو پیغمبروں پر ایمان لے آئے تھے یا آئندہ ایمان لانے والے تھے یا آئندہ ان کی اولاد پیدا ہونے والی اور ایمان لانے والی تھی ‘ یہی وجہ ہے کہ عرب عام تباہ کن عذاب سے محفوظ رکھے گئے (کیونکہ آئندہ ان کا یا آئندہ پیدا ہونے والی اولاد کا ایمان لانا اللہ کے علم میں تھا) ۔
واہلکنا المسرفین۔ اور (کفر…
Read the full tafseer →(9) پھر ہم نے ان انبیاء کرام سے جو نجات کا وعدہ کیا تھا اس کو پورا کیا یعنی انبیاء کرام کو اور جو انبیاء کرام پر ایمان لائے ان کو اس نجات دی اور مشرکین کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ۔۔ : ”صَدَقَ یَصْدُقُ“ لازم بھی آتا ہے، یعنی سچ کہنا اور متعدی بھی، یعنی سچا کردکھانا، ”پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کردیا۔“ ”ثُمَّ“ (پھر) کا لفظ یہ بتانے کے لیے ہے کہ رسولوں کی مخالفت ہوئی، انھیں ستایا گیا، جنگیں بھی ہوئیں مگر پھر آخر کار ہم نے ان سے مدد کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا، سو ہم نے رسولوں کو نجات دی اور ان کو بھی جنھیں ہم چاہتے تھے۔ اس میں رسولوں کے پیروکار بھی شامل ہیں اور کفار میں سے وہ بھی جنھیں آئندہ ایمان لانا تھا، یا جن کی اولاد کو ایمان کی توفیق ملنا تھی۔ عربوں پر سب کو ہلاک کرنے والا عذاب نہ آنے میں یہی حکمت تھی۔ ”اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم صدقنھم الوعد ھم ضمیر کا مرجع انبیاء ہیں یعنی ہم نے ان کو نجات دینے، ان کی مدد کرنے اور ان کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کا وعدہ سچا کیا۔ و من نشآء یعنی جنہوں نے انبیاء کی تصدیق کی۔ و اھلکنا المسرفین۔ ہم نے مشرکوں کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ ثُمَّ : پھر ] [ صَدَقْنٰهُمُ : ہم نے سچ کردیا ان (رسولوں) سے ] [ الْوَعْدَ : وعدے کو ] [ فَانجَيْنٰهُمْ : تو ہم نے نجات دی ان (رسولوں) کو ] [ وَمَنْ : اور اس کو جس کو ] [ نَّشَاۗءُ : ہم نے چاہا ] [ وَاَهْلَكْنَا : اور ہم نے ہلاک کیا ] [ الْمُسْرِفِيْنَ : حد سے گزرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →(ثُمَّ صَدَقْنٰھُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰھُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ ) پھر ہم نے انبیاء کرام سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچ کر دکھایا یعنی ان کو اور ان کے علاوہ جس جس کو چاہا (جو اہل ایمان تھے) نجات دے دی (وَ اَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ ) اور حد سے آگے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10:۔ یہ مشرکین کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے اعتراض یہ تھا کہ یہ بھلا رسول ہے۔ ہماری طرح کھاتا پیتا ہے۔ جیسا کہ الفرقان رکوع 1 میں ان کا قول منقول ہے۔ ” مَالِ ھٰذَ الرَّسُوْلُ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ “ تو اس کا جواب دیا کہ جب انبیاء ورسل انسان اور آدمی تھے۔ تو وہ لامحالہ کھاتے پیتے بھی تھے۔ کھانا پینا بشر کو لازم ہے۔ وہ اس سے کس طرح مستثنی ہوسکتے ہیں۔ ” وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ “ یہ مشرکین کے تیسرے اعتراض کا جواب ہے کہ یہ دنیا میں رہے گا نہیں بلکہ فوت ہوجائے گا تو جواب دیا کہ پہلے انبیاء بھی ہمیشہ نہیں رہے۔ بلکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور نبیوں کے طریقہ تبلیغ کو واضح کیا ہے۔ اس میں نافرمانوں کو برے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور اس سلسلے میں نبوت و رسالت پر اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے بارے میں دو چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ انہوں نے پوشیدہ طور پر میٹنگ کی اور پیغمبر اور قرآن کے متعلق غلط نظریہ قائم کیا ، قرآن پاک کے متعلق کہا کہ یہ شعر و شاعری ، سحر یا پریشان خواب ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کو کاہن ، ساحر اور شاعر کہا گیا ، اور اس طرح دین حق کا انکار کردیا گیا۔
اسلامی پروگرام کی مخالفت…
Read the full tafseer →ثُمَّ صَدَقْنٰہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَيْنٰہُمْ وَمَنْ نَّشَاۗءُ وَاَہْلَكْنَا الْمُسْرِفِيْنَ 9
صدق
الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ص دق) الصدق ۔
یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال
ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…
Read the full tafseer →ثُمَّ صَدَقْـنٰـہُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْـنٰـھُمْ وَمَنْ نَّشَآئُ وَاَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیَنَ ۔ (الانبیاء : 9)
(پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے ہیں نجات دی اور حدود سے تجاوز کر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔ )
رسول کی تکذیب ہلاکت کا باعث ہے
اللہ تعالیٰ جب بھی کسی رسول کو کسی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرماتا ہے تو اس رسول کو اپنی قوم کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ جان و تن بھی خطرے میں پڑجاتے ہیں۔ بگڑی ہوئی قوم ہدایت کی دعوت دینے والی زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردینے پر تل جاتی ہے۔ پیغمبر پر ایسے نازک لمحات بھی آتے ہیں جب حوصلے شکست ہونے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کو انبیائے کرام عذاب الٰہی کی وعید سناتے۔ جسے منکرین جھوٹ قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام پر عذاب نازل کرکے انبیاء کے وعدہ کو سچ کر دکھایا۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو عذاب سے نجات دی اور منکرین حق کو تباہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے جو کتاب نازل کی ہے اس میں عبرت کے طور پر پہلی اقوام کی بربادی اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی کامیابی کا ذکر موجود ہے بشرطیکہ لوگ عقل سے کام لیں۔ اگر لوگ عقل استعمال کریں گے تو یقیناً نصیحت پاجائیں گے۔ کچھ مفسرین نے ” ذِکْرِکُمْ “ کا یہ معنیٰ بھی لیا ہے کہ…
Read the full tafseer →9: ثُمَّ صَدَقْنٰـھُمُ الْوَعْدَ (پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا کر دکھایا) ان کو نجات دے کر۔ الوعد اصل فی الوعدؔ ہے جیسا اختار موسٰی قومہ ] الاعراف : 155] میں قومؔ من قومہٖ ؔ ہے۔ فَاَنْجَیْنٰھُمْ (پس ہم نے ان کو نجات دی) اس عذاب سے جو ان کی قوم پر اترا۔ وَمَنْ نَّشَآ ئُ (اور جن کو ہم نے چاہا) وہ مومن ہیں۔
وَاَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ (اور ہم نے اسراف کرنے والوں کو ہلاک کردیا) مسرفؔ جو کفر کی حد سے آگے بڑھنے والے تھے۔ مسرفین کے متعلق ہلاک کرنے کی اخبارات سے پتہ چلتا ہے کہ من نشاء ؔ ان کے علاوہ اور ان سے جدا ہیں۔
Read the full tafseer →9۔ ثم صدقنا ھم الوعد، پھر ہم نے جوان کے ساتھ کفار کے ہلاک کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ سچ کردکھایا، فانجیناھم ومن نشائ، اور ہم نے ان مومنین کو نجات دی جنہوں نے تصدیق کی اور ایمان لائے ان کو اپنے عذاب اور کفار کی ایذاء رسانیوں سے محفوظ فرمایا۔ واھلکنا المسرفین، مشرکین مکذبین کو جھٹلایا، اور ہر مشرک اپنے آپ پر زیادتی کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت 7-9
یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ” کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا ؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی ؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔ “ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لئے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو۔۔۔ جو رسول اللہ ﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی…
Read the full tafseer →12 حد سے بڑھنے والوں کا انجام ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ہلاک کردیا حد سے بڑھنے والوں کو جو کفر و انکار اور شرک و بغاوت کا ارتکاب کر کے حدود بندگی سے نکل گئے تھے۔ پس اس میں درس عبرت ہے ان کفار و مشرکین کے لئے جو آج نبی ٔ آخر الزماں (علیہ الصلوۃ والسلام) کے خلاف صف آرا ہیں کہ یہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوسکتے ہیں جس سے کل کے وہ منکرین ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں پر آخرت کے قطعی اور آخری عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آ کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1 یعنی یہ قرآن جادو یا شعر نہیں ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے تمہاری ناموری ساری دنیا میں ہوگی یا جس تمہارے لئے نصیحت ہے اور مکارم اخلاق اور دینی احکام کا بیان ہے۔ مفسرین نے لفظ ” ذکر “ کے یہ سبھی معنی بیان کئے (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:9) المسرفین۔ اسراف (افعال) سے اسم فاعل جمع مذکر حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ حد حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قریش کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہ۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں، جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ رسول اللہ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے کوئی جادوگر کہتا تھا کوئی شاعر کہتا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعرلوگ اپنے شعروں میں خیالی باتیں باندھتے ہیں، ویسی خیالی باتیں قرآن میں ہیں، کوئی کہتا تھا، اللہ کا رسول آدمی تو نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے، کوئی کہتا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا تھا، اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →[7] یعنی پیغمبروں کی تائید و نصرت اور ان کے دشمنوں کی ہلاکت کے وعدے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
انبیاء (علیہم السلام) بشر ہوتے ہیں :
(ف 1) اس آیت میں مکہ والوں کے اس شبہ کا جواب ہے کہ حضور ﷺ چونکہ عام انسانوں کی طرح ہیں ، اس لئے لائق اعتناء نہیں قرآن حکیم فرماتا ہے جہاں تک انبیاء کی جماعت کا تعلق ہے سب کے سب انسان تھے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے راہ نما ہوکر آئے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ حمیم وجدان کے لحاظ سے ذوق و خواہشات کے لحاظ سے بالکل انسان ہوں تاکہ دوسرے انسانوں کے لئے ان کی زندگی اسوہ اور نمونہ قرار پائے ۔ ورنہ (فوق البشر) ہونے کی صورت میں وہ انسانوں کے لئے کامل راہ نما نہ ہو سکتے ، کیونکہ تبع اور پیروی کے لئے ضروریات اور حالات کا مشترک ہونا لازم ہے ، جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ…
Read the full tafseer →-9 پھر ہم نے جو وعدہ ان رسولوں سے کیا تھا اس کو سچا کردیا سو ان رسولوں کو اور جن جن کو ہم نے چاہا عذاب موعود سے بچا لیا اور حد اطاعت و عبودیت سے گزر جانے والوں کو ہم نے ہالک کردیا۔ یعنی جو وعدے ان پیغمبروں سے کئے تھے وہ یہی کہ تمہاری تکذیب کرنے والوں اور معاندوں کو ہلاک کر دوں گا اور تم کو اور تمہارے ساتھ جس کو چاہوں گا بچا لوں گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ میں نے معاندین اور سرکشوں کو حد سے گزر گئے تھے ہلاک کردیا اور انبیاء (علیہم السلام) کو اور ان کے ہمراہ جن جن کو چاہا بچا لیا ایسا ہی ایک دن اس پیغمبر یعنی محمد ﷺ کے مخالفوں اور معاندوں کے ساتھ بھی ہوگا کہ حد سے نکلنے والے ہلاک ہوں گے اور پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 3۔ پس اگر آپ کی بھی وفات ہوجائے تو نبوت میں کیا قدح لازم آیا، غرض یہ کہ جیسے پہلے رسول تھے ویسے ہی آپ بھی ہیں، اور یہ لوگ جس طرح آپ کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح ان حضرات کی بھی اس زمانے کے کفار نے تکذیب کی۔
Read the full tafseer →وعدہ الہی سچا کر دکھانے اور بعض کو بچا کر بعض کو ہلاک کردینے کا ذکر :
9۔ وعدہ ہے اس جگہ کون سا وعدہ مراد ہے ؟ وہی وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا تھا کہ اگر تمہاری تکذیب کریں گے تو ہم تمہاری تکذیب کرنے والوں کو ختم کرکے رکھ دیں گے لیکن اس کے لئے ایک متعین اور واضح قانون ہم نے بنا رکھا ہے جب اس دور تک پہنچ جائے گی اور ہمارا مقررہ قانون حرکت میں آئے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم ان کو تباہ وبرباد کردیں گے ۔ آپ کسی نبی ورسول کا تذکرہ پڑھ کر دیکھ لیں کیا ایسا نہیں ہوا ؟ اور اگر ہوا تو کب ؟ یہی وجہ ہے کہ ساری قوموں کے سارے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو طرح کے عذابوں سے ڈرایا ایک اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (So, ask the people (having the knowledge) of the message, if you do not know. - 21:7) In this verse, scholars of Injil Evangele) and Torah are referred to as أَهْلَ الذِّكْرِ (people of the message), who had accepted the Holy Prophet's prophethood. Therefore, what it actually means is that if you are not aware whether the prophets of the past were angels or ordinary men then you should find out from the scholars of Injil and Torah as they know perfectly well that all prophets were human beings. It is, therefore, quite possible that…
Read the full tafseer →11. History not only tells us that the former Messengers were human beings but it also contains a lesson that they all received Allah’s succor as promised by Him and their enemies were completely destroyed. Therefore you should seriously consider the goal for which you are heading.
Read the full tafseer →