Explained with ayahs 10–15
قدر ناشناس لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 12
یہ اکٹھا جواب ہے کفار مکہ کے ان مضطرب اقوال کا جو وہ قرآن اور محمد ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شاعری ہے، یہ ساحری ہے یہ پراگندہ خواب ہیں، یہ من گھڑت افسانے ہیں، وغیرہ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں آخر وہ کونسی نرالی بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو، جس کی وجہ سے اس کے متعلق تم اتنی متضاد راہیں قائم کر رہے ہو۔ اس میں تو تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیر بحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت اور آغاز و انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی ماحول سے وہ نشانیاں چن چن کر پیش کی گئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور تمہارے…
Read the full tafseer →قرآن کریم عربوں کے لئے عزت و فخر ہے
كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ، کتاب سے مراد قرآن ہے اور ذکر اس جگہ بمعنے شرف و فضیلت اور شہرت کے ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ قرآن جو تمہاری زبان عربی میں نازل ہوا تمہارے لئے ایک بڑی عزت اور دائمی شہرت کی چیز ہے تمہیں اس کی قدر کرنا چاہئے جیسا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ اہل عرب کو حق تعالیٰ نے قرآن کی برکت سے ساری دنیا پر غالب اور فاتح بنادیا اور پورے عالم میں ان کی عزت و شہرت کا ڈنکا بجا اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ یہ عربوں کی مقامی یا قبائلی یا لسانی خصوصیت کی بناء پر نہیں بلکہ صرف قرآن کی بدولت ہوا۔ اگر قرآن نہ ہوتا تو شاید آج کوئی عرب قوم کا نام لینے والا بھی نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →یعنی جس طرح ہم نے پچھلی قوموں پر ان کے ہلاک کرنے سے پہلے ان کی تذکیر کے لیے رسول بھیجے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اسی طرح تمہارے اوپر بھی ایک کتاب اتاردی ہے جس میں تمہیں اچھی طرح یاددیانی کردی ہے۔ اب تم ہمارے سامنے یہ عذر نہیں کرسکتے کہ تمہیں یاددہانی نہیں کی گئی۔ یہ یاد دہانی اینے لازمی نتائج اپنے ساتھ رکھتی ہے جو سنت الٰہی کے مطابق بہرحال ظاہر ہو کے رہیں گے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے کہ اگر تم نے روک دی تو یہ دو ہوجائے گی بلکہ اس کو رد کردینے کا وہی نتیجہ تمہارے سامنے آ کے رہے گا جو تم سے پہلے دوسری قوموں کے سامنے آچکا۔ خدا کی جو سنت آج تک جاری رہی ہے وہ تمہارے معاملے میں بدل نہیں جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی وعدے کے مطابق نبیوں کو اور اہل ایمان کو نجات عطا کی اور حد سے تجاوز کرنے والے یعنی کفار و مشرکین کو ہم نے ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
4: اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے ہی ذکر خیر کا سامان ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی ہے جس کے براہ راست کا مخاطب تم عرب لوگ ہو، اور یہ تمہارے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخر کلام تم پر تمہاری زبان میں نازل فرمایا، اور اس سے رہتی دنیا تک دنیا کی ساری قوموں میں تمہارا ذکر خیر جاری رہے گا۔
Read the full tafseer →لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون ( ” ۔
قرآن ایک ایسا معجزہ ہے کہ یہ تمام نسلوں کے لی کھلا معجزہ ہے۔ یہ ایسا معجزہ نہیں ہے کہ ایک ہی نسل میں اس کا مظاہرہ ہو ‘ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ ختم ہوجائے۔ یہ ایک دائم وقائم معجزہ ہے۔
قرآن کریم کے ذریعہ عربوں کو بھی بڑی شہرت ملی جب وہ قرآن کے پیغام کو لے کر مشرق و مغرب تک جا پہنچے۔ اس سے پہلے وہ کوئی قابل ذکر لوگ نہ تھے۔ نہ ان کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی قابل ذکر چیز تھی۔ جب تک عربوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھا انہوں نے اس کے ذریعہ پوری انسانیت کی راہنمائی کی ‘ تو وہ بھی کامیاب رہے اور اس کی وجہ سے پوری انسانیت کو بھی کامیابی اور خوسحالی…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن کے ذریعہ سے تم کو ہر قسم کی نصیحت و فہمائش کردی گئی اور سب برا بھلا انجام سمجھا دیا گیا۔ اگر کچھ بھی عقل ہوگی تو عذاب الٰہی سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرو گے اور قرآن کی قدر پہچانو گے جو فی الحقیقت تمہارے مجدو شرف کی ایک بڑی دستاویز ہے۔ کیونکہ تمہاری زبان میں اور تمہاری قوم کے ایک فرد کامل پر اترا اور دنیا میں تم کو شہرت دائمی عطا کی۔ اگر اپنے ایسے محسن کو نہ مانو گے تو دنیا میں ذلیل ہو گے اور آخرت کا عذاب الگ رہا آگے ان قوموں کا دنیاوی انجام بیان فرماتے ہیں جنہوں نے انبیاء سے دشمنی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 10 لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ”
یہاں ”ذِکْرُکُمْ“ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارے حصے کی نصیحت اور تعلیم ہے یعنی ذکرٌ لکم اور دوسرا یہ کہ ”اس میں تمہارا اپنا ذکر بھی موجود ہے“۔ اس دوسرے مفہوم کی وضاحت ایک حدیث سے ملتی ہے ‘ جس کے راوی حضرت علی رض ہیں۔ آپ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : أَلَا اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ”آگاہ ہوجاؤ ! عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا“ فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ”تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا ؟“ یعنی اس فتنے…
Read the full tafseer →10 یعنی اس میں کوئی نرالی داستانیں اور عجیب و غریب ملک کے حالات نہیں ہیں بلکہ تم ہی جیسے لوگوں کے حالات مذکور ہیں۔ تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیربحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت، آغاز اور انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے اچھے اور برے اخلاق کے فرق کو نمایاں کرکے دکھایا جارہا ہے اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جسے سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے کہ اگر تم کچھ بھی غور و فکر کرو تو اس میں تمہارے لئے نصیحت اور تمہارا بھلا ہی بھلا ہے۔
Read the full tafseer →15۔ خطاب قرآن کے معاصر منکرین سے ہے۔ ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ نہ قرآن کی بلیغ موعظت تم پراثر کرتی ہے، اور نہ تم گزشتہ منکرین کے انجام سے سبق حاصل کرتے ہو۔ الذکر بمعنی التذکیر والمعنی فیہ موعظتکم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : لوگوں (یعنی) منکرین بعث اہل مکہ کے لئے ان کا حساب (یعنی) قیامت کا دن قریب آگیا پھر بھی وہ اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اس پر ایمان کے ذریعہ تیاری سے اعراض کئے ہوئے ہیں ان کے رب کے پاس سے ان کے پاس کوئی نئی نصیحت بتدریج نہیں آتی (یعنی الفاظ قرآنی) مگر یہ کہ یہ لوگ اس کو کھیل کود میں استہزاء کے طور پر سنتے ہیں حال یہ ہے کہ ان کے قلوب اس کے معانی سے غافل ہوتے ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں الذین ظلموا اَسَرُّوْا کے واؤ سے بدل ہے کہ یہ یعنی محمد ﷺ تمہارے جیسا ہی انسان ہے لہٰذا جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ سحر ہے پھر بھی تم جادو کی بات سننے کے لئے اس کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکر کم افلا تعقلون۔ (اے گروہ قریش) ہم نے تمہاری طرف قرآن
نازل کیا ہے جس کے اندر تمہارا ذکر ہے کیا تم نہیں سمجھتے۔
ذکر یعنی تمہاری فضیلت اور بزرگی قرآن کے اندر ہے بشرطیکہ تم اس کو سمجھو (اور مانو) یا یہ مطلب ہے کہ قرآن میں تمہارے لئے شرف ہے کہ تمہاری زبان میں اتارا گیا ہے۔ یا ذکر سے مراد ہے اللہ کا ذکر اور ضروری دینی امور کا تذکرہ۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ذکر سے مراد ہے اچھا ذکر اور شہرت و ناموری۔ یا نصیحت یا وہ اعلیٰ اخلاق جن سے تم کو اچھا ذکر حاصل ہو۔ مجاہد کے نزدیک ذکر سے اس جگہ مراد ہیں باتیں۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے ذکر اور تذکرہ کسی چیز کو یاد رکھنا ‘ ذکر کرنا زبان…
Read the full tafseer →(10) اور ہم تمہارے نبی کریم ﷺ کی طرف ایسی کتاب بھیج چکے ہیں کہ اگر تم اس پر ایمان لے آؤ تو اس میں تمہاری عزت و شرافت ہے کیا پھر بھی اپنی عزت و شرافت کی تصدیق نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا۔۔ : اس آیت میں کفار کی ان تمام پریشان کن باتوں کا اکٹھا جواب ہے جو وہ نبی ﷺ اور قرآن کے متعلق کہتے تھے کہ یہ خوابوں کی پراگندہ باتیں ہیں، یا من گھڑت باتیں ہیں، یا جادو ہے، یا شاعری ہے، تو فرمایا کہ قرآن کا ان میں سے کسی بات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ہم نے تو تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، تمہارے ہی حالات اور زندگی کے معاملات پر بحث کی گئی ہے اور انھی کے متعلق تمہاری راہنمائی کی گئی ہے۔ اس میں خواب، جادو یا شاعری کی کون سی بات ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ ”فِيْهِ ذِكْرُكُمْ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں یہ کتاب ساری…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد انزلنا الیکم کتباً یعنی قرآن ہم نے تمہاری طرف نازل کیا۔ فیہ ذکرکم متبدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ جملہ محل نصب میں ہے کیونکہ کتاب کی نعت ہے۔ یہاں ذکر سے مراد شرف ہے یعنی تمہارے لیے قرآن میں شرف ہے جیسے : و انہ لذکر لک ولقومک (الزخرف :44) پھر اس استفہام کے ذریعے انہیں متنبہ کیا جن کا معنی توقیف ہے فرمایا : افلا تعقلون۔ بعض علماء نے فرمایا : فیہ ذکرکم کا مطلب ہے تمہارے دین کے امر کا ذکر ہے تمہاری شریعت کے اس احکام ہیں اور اس میں ثواب اور عقاب کا ذکر ہے جس کی طرف تم نے لوٹنا ہے کیا تم غور نہیں کرتے ان چیزوں میں جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ مجاہد نے کہا : فیہ ذکر کم کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ لَقَدْ انزَلْنَآ : بیشک ہم نے اتاری ہے ] [ اِلَيْكُمْ : تو لوگوں کی طرف ] [ كِتٰبًا : ایک ایسی کتاب ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ ذِكْرُكُمْ : تم لوگوں کا ذکر ہے ] [ اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
نوٹ۔ 1: مشرکین مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو یہ بھی اسی طرح کی کوئی نشانی دکھائیں جس طرح کی نشانیاں پہلے آنے والے رسولوں نے دکھائیں۔ نشانی سے مراد معجزات ہیں جن کا ذکر دوسرے انبیاء کی سرگزشتوں میں آیا ہے۔ ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا کیونکہ قرآن کی دعوت تمام تر آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے دلائل پر مبنی ہے۔ وہ معجزات کے بجائے لوگوں کو آنکھیں کھولنے اور عقل و بصیرت سے…
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل کی جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا تم نہیں سمجھتے) بعض حضرات نے ذکر کم کا مطلب یہ بتایا ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کی وجہ سے عرب کی عزت ہے اور دائمی شہرت ہے۔ قرآن کی برکت سے ان لوگوں کو عروج ہوا۔ عرب و عجم کے فاتح بنے۔ قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے دنیا میں عرب کی کوئی بھی حیثیت نہ تھی۔ قرآن کی وجہ سے انہیں بلندی ملی۔ اب اس بلندی کی لاج رکھنا ان کا اپنا کام ہے۔ یہ معنی لیا جائے تو الفاظ قرآنیہ کے مناسب ہے۔
(فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →11:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ” ذکر “ سے مسئلہ توحید، دیگر امور دین اور احکام شریعت کا ذکر مراد ہے۔ ای ذکر دینکم و احکام شرعکم الخ (قرطبی ج 11 ص 273) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور نبیوں کے طریقہ تبلیغ کو واضح کیا ہے۔ اس میں نافرمانوں کو برے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور اس سلسلے میں نبوت و رسالت پر اعتراضات اور شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے بارے میں دو چیزوں کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ انہوں نے پوشیدہ طور پر میٹنگ کی اور پیغمبر اور قرآن کے متعلق غلط نظریہ قائم کیا ، قرآن پاک کے متعلق کہا کہ یہ شعر و شاعری ، سحر یا پریشان خواب ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کو کاہن ، ساحر اور شاعر کہا گیا ، اور اس طرح دین حق کا انکار کردیا گیا۔
اسلامی پروگرام کی مخالفت…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْہِ ذِكْرُكُمْ 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
بل قالواضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر کفار مکہ کو قرآن کے جادو کہنے میں بھی استقلال نہ تھا جیسا کہ بےتک کوئی کسی میں عیب لگایا کرتا ہے تو وہ اسی طرح مختلف باتیں کہا کرتا ہے یعنی جادو پھر بھی ایک نادر چیز ہے۔ یہ تو ایسا بھی نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں کہ جن کو ازخود محمد ﷺ نے بنا کر ذرا اچھی اور دلچسپ عبارت میں جمع کرلیا ہے کیونکہ وہ شاعر ہے۔ (3) فلیاتنا بایۃ الخ پہلے نبیوں کی طرح کوئی بڑا بھاری معجزہ کیوں نہیں دکھاتا کوئی نشانی نہیں لاتا ؟ یہ ان کے تین شبہ تھے جن کی تقلید میں آج کل کے عیسائی اور متعصب ہنود بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکناھا افہم یؤمنون یہ ان کی تیسری بات…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِـتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُ کُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 10)
(اور ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟ )
ذکر کا ایک معنی ہے یاد دہانی۔ اور دوسرا ہے یاد، تذکرہ اور سرگزشت۔
آیت کے مختلف مفاہیم
پہلے معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے اور وہ قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس تو کوئی انذار اور تبشیر کرنے والا نہیں آیا تھا ورنہ ہم دوسروں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور صالح ہوتے۔ اس بیخبر ی میں ہمیں آخر کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کو انبیائے کرام عذاب الٰہی کی وعید سناتے۔ جسے منکرین جھوٹ قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام پر عذاب نازل کرکے انبیاء کے وعدہ کو سچ کر دکھایا۔
اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو عذاب سے نجات دی اور منکرین حق کو تباہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے جو کتاب نازل کی ہے اس میں عبرت کے طور پر پہلی اقوام کی بربادی اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی کامیابی کا ذکر موجود ہے بشرطیکہ لوگ عقل سے کام لیں۔ اگر لوگ عقل استعمال کریں گے تو یقیناً نصیحت پاجائیں گے۔ کچھ مفسرین نے ” ذِکْرِکُمْ “ کا یہ معنیٰ بھی لیا ہے کہ…
Read the full tafseer →قرآن میں قریش کیلئے عظمت :
10: لَقَدْ اَنْزَلْنَآ ٰاِلَیْکُمْ (یقینا ہم نے تمہاری طرف اتاری) اے گروہ قریش۔ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُ کُمْ (ایسی کتاب جس میں تمہارا تذکرہ ہے) تمہاری عظمت ہے اگر تم اس کو جانو۔ نمبر 2۔ تمہارا ذکر اس بناء پر کہ وہ تمہاری زبان میں ہے۔ نمبر 3۔ اس میں تمہارے دین کا تذکرہ ہے اور دنیا کا بھی۔
نحو : جملہ فیہ ذِکْرُکُمْ یہ کتابًا کی صفت ہے۔
اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ (کیا تم نہیں سمجھتے) اس کو جو میں نے تمہیں دوسروں پر فضیلت دی تاکہ تم ایمان لائو۔
Read the full tafseer →10۔ لقدانزلنا الیکم کتابا، اے قریش کے گروہ ، فی ذکرکم، ذکر سے مراد فضیلت و بزرگی ہے۔ وانہ للذکرلک ولقومک ، وہ باعث عزت و تعظیم ہیں جو ایمان لائے۔ مجاہد کا قول ہے کہ کہ اس جگہ باتین مراد ہیں۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ذکر سے مراد دین کی طرف جس کی زیادہ احتیاجیت ہو وہ ہے ۔ افلاتعقلون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب…
Read the full tafseer →آیت 10
اے وہ لوگو ! جن کی طرف محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمہاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ( فیہ ذکر کم) یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انہیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمہارا اشرف و فخر اور تمہاری سر بلندی ہے، تمہاری قدر بڑھے گی اور تمہارا معاملہ عظیم ہوجائے گا۔ (افلا تعقلون) کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمہارا نفع و نقصان ہے ؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمہارا ذکر اور جس میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کا…
Read the full tafseer →13 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے اتاری تمہاری طرف اے لوگو یہ عظیم الشان کتاب جس میں خود تمہاری نصیحت اور ہدایت کا سامان ہے۔ تو کیا پھر تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ پس اس کو اپنانے اور گلے لگانے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے۔ اور اس سے منہ موڑنے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز ذکر کے معنیٰ شرف و مقام کے بھی آتے ہیں۔ تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب حکیم کے ذریعے تمہیں ایک عظیم الشان شرف و مقام سے بھی نوازا گیا ہے۔ نیز ذکر کے معنیٰ تذکرہ وبیان کے بھی آتے ہیں۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کتاب عظیم میں حق و حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة الانبیاء :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة انبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس میں سات رکوع اور ایک سو بارہ آیات ہیں اس میں وہی مضمون مسلسل ارشاد ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے کاموں میں اور دولت کے انبار جمع کرنے میں یا پھر جسمانی ضروریات کی تکمیل میں اس قدر انہماک سے لگے ہوئے ہیں کہ آخرت ، حساب کتاب اور عذاب قبر سے بالکل غافل ہوچکے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات میں ایک سے ایک بڑھ کر اور نئی سے نئی دلیل ہوتی ہے مگر یہ اسے مذاق یا کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یا اپنے شغل میں لگے رہتے ہیں اور ان دلائل کی پروا نہیں کرتے حالانکہ امور دنیا میں آدمی ساری عمر بھی جو کام کرتا ہے اگر اسے کوئی کہہ دے کہ اس کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1 یعنی یہ قرآن جادو یا شعر نہیں ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے تمہاری ناموری ساری دنیا میں ہوگی یا جس تمہارے لئے نصیحت ہے اور مکارم اخلاق اور دینی احکام کا بیان ہے۔ مفسرین نے لفظ ” ذکر “ کے یہ سبھی معنی بیان کئے (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:10) ذکر کم۔ ای ذکر لکم۔ تمہارے لئے نصیحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
اقترب قریب آگیا۔ محمدیث نیا۔ استمعوہ وہ اس کو سنتے۔ یلعبون وہ کھیل کود میں لگے ہیں۔ لاھیۃ غفلت، بھولے ہوئے۔ اسروا چپکے چپکے کرتے ہیں۔ النجویٰ سرگوشی مشورے۔ اضغاث پراگندہ، پریشان خیال۔ احلام خواب۔ اسئلوا پوچھ لو، سوال کرو۔ جسد جسم۔ صدقنا ہم نے سچ کر دکھایا۔ المسرفین حد سے گزرنے والے۔
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 10
اعلان نبوت کے بعد ابتداء میں سرداران مکہ نے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی تعلیمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جو شخص بھی آپ کی باتوں کو سنتا اس کا مذاق اڑاتا، بھبتیاں کستا اور ہر طرح کی اذیتیں پہنچانے میں کسر نہ چھوڑتا تھا ان کا گمان یہ تھا کہ یہ سب کچھ وقتی تحریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شہادت اور بابل کے بادشاہ کا حملہ آور ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک جو بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب غارت ہوگئی تھیں ان کا ذکر فرمایا، تاکہ قریش مکہ کو عبرت ہو کہ رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ انکے حق میں بھی یہی پیش آئے گا، جو پچھلی امتوں کو پیش آیا، پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ان قوموں میں سے سب سے آخر میں جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے، تفسیر عبدالرزاق میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں شعیب نام کے ایک نبی تھی جب ان کی قوم نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
[8] یعنی اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور زیربحث ہیں، تمہارے عیوب اور تمہاری بداخلاقیوں کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
انبیاء (علیہم السلام) بشر ہوتے ہیں :
(ف 1) اس آیت میں مکہ والوں کے اس شبہ کا جواب ہے کہ حضور ﷺ چونکہ عام انسانوں کی طرح ہیں ، اس لئے لائق اعتناء نہیں قرآن حکیم فرماتا ہے جہاں تک انبیاء کی جماعت کا تعلق ہے سب کے سب انسان تھے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے راہ نما ہوکر آئے تھے ، اس لئے ضروری تھا کہ وہ حمیم وجدان کے لحاظ سے ذوق و خواہشات کے لحاظ سے بالکل انسان ہوں تاکہ دوسرے انسانوں کے لئے ان کی زندگی اسوہ اور نمونہ قرار پائے ۔ ورنہ (فوق البشر) ہونے کی صورت میں وہ انسانوں کے لئے کامل راہ نما نہ ہو سکتے ، کیونکہ تبع اور پیروی کے لئے ضروریات اور حالات کا مشترک ہونا لازم ہے ، جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ…
Read the full tafseer →- 10 بلاشبہ ہم نے تمہارے لئے ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہاری نصیحت اور خیر خواہی کا کافی سامان موجود ہے کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔ یعنی ہم نے تمہارے لئے ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لئے کافی نصیحت ہے اور جس میں تمہارا ذکر بھی ہے اور اس میں تمہاری عزت اور شرف بھی ہے اور تمہارے لئے موجب فخر بھی ہے اور تمہارے دین اور دنیا کی حفاظت کا سامان بھی ہے اگر تم اس پر ایمان لے آئو تو یہ سب باتیں تم کو میسر ہوجائیں کیا اب بھی تم سمجھ سے کام نہیں لو گے۔ ذکرکم کی تفسیر کئی طرح بیان کی گئی ہے ہم نے تیسیر میں تمام اقوال کو جمع کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 3۔ پس اگر آپ کی بھی وفات ہوجائے تو نبوت میں کیا قدح لازم آیا، غرض یہ کہ جیسے پہلے رسول تھے ویسے ہی آپ بھی ہیں، اور یہ لوگ جس طرح آپ کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح ان حضرات کی بھی اس زمانے کے کفار نے تکذیب کی۔
Read the full tafseer →ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے اگر تم سمجھو ؟ ۔
10۔ ” ہم نے تمہارے لئے ایک کتاب نازل کردی ہے اس میں تمہارے لئے موعظت ہے ۔ “ گویا اب گزشتہ بات کو مزید صاف صاف طریقہ سے بیان کردیا کہ اگر تم کو سچائی کی طلب ہے تو وہ قرآن کریم ہی کے اندر ہے اس سے زیادہ بڑھ کر تمہارے لئے سچائی کی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے ؟
زیر نظر آیت نے اس جیسی دوسری بیشمار آیات کریمات نے یہ حقیقت قطعی طور پر واضح کردی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نے اپنی صداقت کے لئے جس چیز پر بطور ایک نشانی کے زور دیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کریم ہے چناچہ ارشاد الہی بیان ہوا ہے کہ :
(آیت) ” وَمَا کُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِہِ…
Read the full tafseer →The Holy Qur'an is an honour and pride for the Arabs
كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ (a book having a good name for you - 21:10): The word (Book) is meant for Qur'an and ذکر (name) is used here for honour, excellence and fame. Thus what is meant here is that the revelation of Qur'an in Arabic language is a great honour and everlasting fame for the Arabs and they should value it as such. History has proved that by Allah's Mercy and by the blessings of Qur'an Arabs have dominated the world and ruled over it for a long time. This is also a fact of life that Arabs gained dominance over the world not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12. This is a comprehensive answer to the various objections which were being raised in desperation by the disbelievers of Makkah against the Quran and the Prophet (peace be upon him), as if to say: What is there in this Book that you cannot understand? Why don’t you consider it in the right spirit? There is nothing contradictory in it. It discusses you and your own problems and affairs of life. It describes your own nature, origin and end. It discriminates between good and evil and presents high moral qualities which your own consciences endorse and confirm. Why don’t you, then, use your…
Read the full tafseer →