Explained with ayahs 10–15
قدر ناشناس لوگ
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة الْاَنْبِیَآء 13
یعنی جب عذاب الہٰی سر پر آگیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ آگئی شامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے بہت سی بستیاں جن کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے تباہ کر ڈالیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو جب ان ظالموں نے ہمارا عذاب آتا دیکھا تو اس بستی سے بھاگنا شروع کیا (تاکہ عذاب سے بچ جاویں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ) بھاگو مت اور اپنے سامان عیش اور اپنے مکانات کی طرف واپس چلو شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے (کہ تم پر کیا گزری مقصود اس سے بطور تعریض کے ان کی احمقانہ جسارت پر تنبیہ ہے کہ جس سامان اور مکان پر تم کو ناز تھا اب نہ وہ سامان رہا نہ مکان نہ کسی دوست ہمدرد کا نام و نشان رہا) وہ لوگ (نزول عذاب کے وقت) کہنے لگے کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے ان کا…
Read the full tafseer →تاریخ کا حوالہ
یہ پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح تم اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہو کہ خدا کی یاد دہانی کا مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں یہی حرکت کرچکی ہیں جس کی پاداش میں ہم نے ان کے پرخچے اڑا دیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اسی جرم کے مرتکب ہو رہے ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا وہی معاملہ تمہارے ساتھ نہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔
کانت ظالمۃ یہاں ظلموآ انفسھم کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والی بنیں۔ خدا نے اپنے رسول بھیج کر ان کو خطرے سے آگاہ کردیا۔ لیکن انہوں نے اپنی رعونت کے سبب سے خود اس خطرے کے…
Read the full tafseer →11۔ 1 قَصَمَ کے معنی ہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دینا۔ یعنی کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا، توڑ پھوڑ کر رکھ دیا، جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' قوم نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں (سورة بنی اسرائیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
4: اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے ہی ذکر خیر کا سامان ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی ہے جس کے براہ راست کا مخاطب تم عرب لوگ ہو، اور یہ تمہارے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخر کلام تم پر تمہاری زبان میں نازل فرمایا، اور اس سے رہتی دنیا تک دنیا کی ساری قوموں میں تمہارا ذکر خیر جاری رہے گا۔
Read the full tafseer →وکم قصمنا من قریۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حصیدا خمدین (11 تا 51) ”
قصم کا مفہوم ہے شدت سے کاٹنا ‘ اس لفظ کی آواز کی شدت بھی اس کے ملسوم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لفظ کے تلفظ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم بستیوں کو بڑی شدت اور سختی سے اس طرح توڑا پھوڑا گیا کہ ان کا وجود ہی ختم کردیا گیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کو پیس کر رکھ دیا گیا۔
وانشانا ۔۔۔۔۔۔۔ اخرین (12 : 11) ” اور ان کے بعد دوسری کسی قوم کو اٹھایا “۔ یہاں قصم کا فعل بستیوں پر وارد ہوتا ہے اور بستیوں اور ان کے باشندوں سب کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے لیکن انشا کا فعل صرف قوم پر وارد ہوتا ہے ‘ پہلے قوم پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ بستیاں آباد کرتی ہے۔…
Read the full tafseer →4 یعنی یہ نہیں کہ ان کے نیست و نابود کردینے سے اللہ کی زمین اجڑ گئی وہ گئے دوسروں کو ان کی جگہ بسا دیا گیا۔
Read the full tafseer →آیت 11 وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً ”
ان کے باسی گنہگار ‘ سرکش اور نافرمان تھے۔ چناچہ انہیں سزا کے طور پر نیست و نابود کردیا گیا۔
وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ”
جیسے قوم نوح علیہ السلام کے بعد قوم عاد کو موقع ملا اور قوم عاد کے بعد قوم ثمود نے عروج پایا اور اسی طرح یہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11 یعنی یہ نہیں ہوا تھا کہ ظالم قوموں کو بلاک کرنے کے بعد یہ زمین بےآباد اور ویران رہ گئی تھی۔ جبکہ اس زمین کو ہم نے فوراً دوسرے لوگو لاکر آباد کردیا تھا اور اس کا اگر کچھ نقصان پہنچتا تھا تو صرف ظالموں ہی کو پہنچا تھا۔
Read the full tafseer →16۔ (اور اللہ کی زمین ویران اور غیر آباد نہ رہی) (آیت) ” قریۃ کانت ظالمۃ “ سے مراد وہ قومیں ہیں جو اپنے حق میں ظلم کرتی رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
آیت نمبر 11 تا 23
ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…
Read the full tafseer →وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ وانشانا بعدہا قوما اخرین۔ اور ہم نے بہت سی بستیاں
جہاں کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے ‘ غارت کردیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔
قَصْمٌتوڑنا مراد بکثرت ہلاک کرنا۔ قَرْیَۃٍیعنی اہل قریۃٍ بہت بستیوں والے کانَتْ ظَالِمَۃً یعنی کفر اور گناہ کر کے انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا۔ اَنْشَاْنَاہم نے وارث بنایا۔ بَعْدَہَا اس بستی کو تباہ کرنے کے بعد۔
Read the full tafseer →(11) اور ہم نے بہت سی بستیاں جہاں کے رہنے والے کافر و مشرک تھے برباد کردیں اور ان کی ہلاکت کے بعد دوسری قومی پیدا قوم پیدا کردی جو ان کی بسیتوں میں آباد ہوگئی ،
Read the full tafseer →ۧوَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً : ”قَصْمٌ“ کا معنی کسی سخت چیز کو توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : ”فُلاَنٌ قَصَمَ ظَھْرَ فُلاَنٍ“ کہ فلاں نے فلاں کی کمر توڑ دی۔ ”اِنْقَصَمَتْ سِنُّہُ“ فلاں کا دانت ٹوٹ گیا۔ ”کَمْ“ یہاں تکثیر کے لیے ہے، ”کتنی ہی بستیاں“ سے مراد بہت سی بستیاں ہیں، اس سے کوئی خاص بستی مراد نہیں۔ ابن عباس ؓ کی طرف منسوب وہ روایت موضوع ہے جس میں ان سے نقل کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یمن کے شہروں کے لوگ ہیں۔ [ الاستیعاب في بیان الأسباب ] آیت کے الفاظ کے مطابق بھی وہ بستیاں عام ہیں اور کوئی خاص علاقہ مراد نہیں۔
وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ : ”اَلإْنْشَاءُ“ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و کم قصمنا من قریۃ کا نت ظالمۃ قریۃ سے مراد وہ شہر ہیں جو یمن میں تھے۔ اہل تفسیر اور مؤخرین نے کہا : اس سے مراد اہل حضور ہیں۔ یہ قوم وہ تھی جن کی طرف ایک نبی مبعوث کیا گیا تھا جس کا نا شعیب بن ذی مہدم تھا اور اس شعیب نبی کی قبر یمن میں ایک پہاڑ کے پاس ہے جس کو ضنن کہا جاتا ہے اس میں کثیر نمک ہے۔ یہ شعیب صاحب مدین نہیں ہیں کیونکہ حضور کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدت سے پہلے کا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدت سے دو سو سال بعد ہوا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے نبی کو قتل کیا تھا اور اصحاب الرس نے اسی تاریخ میں اپنے نبی کو قتل کیا تھا ان کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت :
1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…
Read the full tafseer →[ وَكَمْ قَصَمْنَا : اور پیس کر رکھ دیں ہم نے کتنی ہی ] [ مِنْ قَرْيَةٍ : ایسی بستیاں ] [ كَانتْ : جو تھیں ] [ ظَالِمَةً : ظلم کرنے والی ] [ وَّانشَانا : اور ہم نے اٹھایا ] [ بَعْدَهَا : ان کے بعد ] [ قَوْمًا اٰخَرِيْنَ : ایک دوسری قوم ]
[ ق ص م ](ض) قَصْمًا کسی چیز کو توڑ مروڑ کر تباہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ہلاک ہونے والی بستیوں کی بدحالی
ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو عبرت دلائی ہے اور پرانی بستیوں کی ہلاکت بتا کر یاد دہانی فرمائی ہے کہ تم سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظلم کرتی تھیں۔ یہ ظلم کفر و شرک اختیار کرنے کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے انہیں تباہ کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ عذاب آ رہا ہے تو وہاں سے دوڑ کر جانے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ مت دوڑو۔ تم جس عیش و عشرت میں لگے ہوئے تھے اور جن گھروں میں رہتے تھے انہیں میں واپس آجاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ تم جس ساز و سامان اور جن مکانوں پر گھمنڈ کرتے تھے اور اتراتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کہاں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔
(ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” قَصَمْنَا اي اھلکنا “ یعنی ہلاک کردیا ہم نے۔ ” ظالمة “ یعنی شرک کرنے والی۔ ” فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَاسَنَا “ ان قوموں کے پاس ہمارے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی پرواہ نہ کی اور ان کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔ پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو لگے بھاگنے۔ ” لَاتَرْکُضُوْا الخ “ ہم نے کہا اب بھاگو مت۔ بلکہ اپنے اموال و اولاد، باغات اور محلات کی طرف واپس آؤ۔ تاکہ آج جو کچھ تم پر گذرے گا۔ اس کے بارے میں کل تم سے پوچھا جائے گا اور تم اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرسکو۔ یہ ان سے بطور استہزاء کہا گیا۔ لعلکم تسئلون غدا عما جری علیکم ونزل باموالکم فتجیبوا السائل عن علم ومشاھدۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…
Read the full tafseer →وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَۃٍ كَانَتْ ظَالِمَۃً وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ 11
قصم
قال تعالی: وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] أي : حطمناها وهشمناها، وذلک عبارة عن الهلاك، ويسمّى الهلاک قَاصِمَةَ الظّهر، وقال في آخر : وَما كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرى [ القصص/ 59] . والْقُصَمُ : الرجل الذي يَقْصِمُ مَنْ قاومه .
( ق ص م ) القصم
( ج ) کے معنی ہلاک کرنے اور کسی چیز کو توڑنے دینے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] اور ہم نے بہت سے بستیوں کو جو ستم گا ر تھیں ہلاک کر مارا ۔ یعنی انہیں توڑ مروڑ کر ریزہ…
Read the full tafseer →ترکیب : و کم قصمنا صاحب کشاف کہتے ہیں قصم اس طرح سے توڑنے کو کہتے ہیں کہ ایک ایک ٹکڑا جدا ہوجائے بخلاف قضم اور کسر کے۔ قریہ سے مراد وہاں کے سکان بحذف مضاف۔ کم خبریہ تکثیر کے لیے محل نصب میں قصمنا کی وجہ سے من قریۃ تمیز کانت ظالمۃ محلِ جر میں قریہ کی صفت ہو کر بحذف مضاف۔ اذا مفاجات کے لیے ھم مبتداء یرکضون خبر اذا اس کا ظرف تلک دعواھم تلک موضع رفع میں اسم زالت و دعوھم خبرویجوز العکس۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم نے مسرفین کو ہلاک کردیا۔ اب پھر اس کی تشریح فرماتا ہے کہ وہ مسرفین کون تھے اور ان کے کیا عادات تھے اور کس طرح سے ہلاک ہوئے ؟ تاکہ ان مشرکین کو معلوم ہو کہ وہ ہمارے ہی جیسے کافر اور بدکار…
Read the full tafseer →وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ۔ (الانبیاء : 11)
(اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیاجن کے لوگ اپنے جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے اور ان کے بعد دوسرے لوگ اٹھا کھڑے کیے۔ )
تاریخ کا حوالہ
روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ جس طرح تم ایک قوم کی حیثیت سے یہاں آباد ہو اور تمہاری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا ہے اسی طرح تم سے پہلے تم سے زیادہ وسیع سطح پر تم سے بڑی قومیں زمین کے مختلف حصوں میں آباد رہی ہیں ان کی طرف بھی مختلف وقتوں میں رسول بھیجے گئے لیکن جب انھوں نے رسول کی ہدایت کو قبول کرنے کی بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا ان کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کیا جن کے رہنے والے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ظلم کرنے والے تھے۔ انھیں تباہ و برباد کرکے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ قوموں کی تباہی اور دوسری اقوام کو لانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جمع کی ضمیر (ہُمْ ) استعمال فرمائی ہے۔ جس کا مقصد جلالت و جبروت کا اظہار کرنا ہے۔ چناچہ جب ظالم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ کیا اور ظالموں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارا بچنا مشکل ہے تو وہ ادھر…
Read the full tafseer →11: وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ (اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا) قصمؔ کا معنی ہلاک کرنا، توڑنا، من قریۃ سے اہل قریہ مراد ہیں کیونکہ اگلے ارشاد میں فرمایا : کَانَتْ ظَالِمَۃً وہ کافر تھیں ( کیونکہ بستی کفر نہیں کرتی وہاں کے رہنے والے کفر کرتے ہیں) ۔
کم یہ قَصَمْنَا کی وجہ سے منصوب ہے۔ القصم کا لفظ غضب شدید کو ظاہر کر رہا ہے اس لئے کہ قصم اس طرح توڑنے کو کہتے ہیں جس میں اجزاء کے جوڑ الگ الگ کردیئے جائیں۔ البتہ الفصمؔ ایسے توڑنے کو کہتے ہیں جس میں اجزاء ظاہر نہ ہوں۔ وَّاَنْشَاْنَا (اور ہم نے پیدا کیا) بَعْدَھَا قَوْمًا ٰاخَرِیْنَ (ان کے بعد دوسرے لوگوں کو) جو ان کے مکانات میں رہائش…
Read the full tafseer →تفسیر۔
11۔ وکم قصمنا، اس سے بکثرت ہلاک ہونا مراد ہے قصم کسرہ کے ساتھ ہے۔ من قریۃ کانت ظالمہ، ظالمہ سے مراد کافرہ بستی ہے اور اس کے اہل خانہ ۔ وانشاء ھا بعدھا، ہم نے اس بستی کو تباہ کرنے کے بعد وارث بنادیا۔ قوما آخرین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 15:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی مشاورتوں کا ذکر فرمایا تھا اور ان کو جو شب ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت میں تھے اس کے جواب دیئے تھے اور قیامت اور حساب و کتاب کا وقت قریب آن لگنے سے ان کو ڈرایا تھا۔ ان آیتوں میں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ تک جو لوگ اور بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوگئی تھیں ‘ ان کا ذکر فرمایا ہے تاکہ قریش کو عبرت ہو کر رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ ان کے حق میں بھی یہی پیش آوے گا جو پچھلی امتوں کو پیش آیا ‘ پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ‘ ان قوموں میں سب سے آخری جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
آیت 11-15
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنہوں نے دیگر انبیاء ومرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( وکم قصمنا) اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کردیں۔ یعنی جڑ کاٹنے والے عذاب کے ذریعے سے ( من قریۃ) بستیاں جنہوں نے اپنے انجام کو نظر انداز کیا۔ (وانشانا بعد ھا قوماً اخرین) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔
جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اسکے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لئے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنے کرتوتوں پر حسرت کے مارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
14 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تکذیب و انکار حق اور ظلم وعدوان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ : جبکہ وہ اڑے رہے تھے اپنے کفر و باطل اور اپنے ان جرائم پر۔ بس اس میں تمہارے لئے بڑا عظیم درس عبرت و بصیرت ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ تم باز آجاؤ کفر و انکار کی اپنی اس روش سے جس کو تم نے اپنا رکھا ہے اور جس کو کل کے ان منکروں نے اپنائے رکھا تھا۔ اور جسکے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو تم باز آجاؤ تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو ان کو پیش آچکا ہے۔ ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہوسکتا ہے جو ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1 یعنی یہ قرآن جادو یا شعر نہیں ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے تمہاری ناموری ساری دنیا میں ہوگی یا جس تمہارے لئے نصیحت ہے اور مکارم اخلاق اور دینی احکام کا بیان ہے۔ مفسرین نے لفظ ” ذکر “ کے یہ سبھی معنی بیان کئے (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:11) قصمنا۔ قصم یقصم (ضرب) قصم سے ماضی جمع متکلم۔ القصم کے معنی کسی چیز کو توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں۔ قصم اللہ ظھر الظالم خدا ظالم کی کمر توڑ دے قاصمۃ الظھر پشت کو توڑ دینے والی مصیبت۔
کم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کردیا۔ یعنی ان کو توڑ موڑ کر ریزہ ریزہ اور ہلاک کردیا۔ انشانا۔ انشاء سے ماضی جمع متکلم ہم نے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20
قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20
ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شہادت اور بابل کے بادشاہ کا حملہ آور ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک جو بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب غارت ہوگئی تھیں ان کا ذکر فرمایا، تاکہ قریش مکہ کو عبرت ہو کہ رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ انکے حق میں بھی یہی پیش آئے گا، جو پچھلی امتوں کو پیش آیا، پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ان قوموں میں سے سب سے آخر میں جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے، تفسیر عبدالرزاق میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں شعیب نام کے ایک نبی تھی جب ان کی قوم نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
[8] یعنی اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور زیربحث ہیں، تمہارے عیوب اور تمہاری بداخلاقیوں کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی…
Read the full tafseer →- 1 1 اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو جو ظالم تھیں یعنی جن کے رہنے والے ظالم تھے ہلاک کر ڈالا اور چورا چورا کردیا اور ان بستیوں کو ہلاکت کے بعد ہم نے دوسرے لوگوں کو پیدا کردیا۔ یعنی ظالموں اور کافروں کو مٹا کر ان کی جگہ دوسروں کو پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 3۔ پس اگر آپ کی بھی وفات ہوجائے تو نبوت میں کیا قدح لازم آیا، غرض یہ کہ جیسے پہلے رسول تھے ویسے ہی آپ بھی ہیں، اور یہ لوگ جس طرح آپ کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح ان حضرات کی بھی اس زمانے کے کفار نے تکذیب کی۔
Read the full tafseer →کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا اور ان کی جگہ دوسرے لوگ لاکھڑے کیے :
11۔ مکہ والوں کی ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے کہ گزشتہ قوموں کی داستانیں ایک بار پھر اپنی نگاہ میں لاؤ اور دیکھو کہ انہیں اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت کرنے سے کن نتائج کے ساتھ دو چار ہونا پڑا اور وہ کس انجام کو پہنچائے گئے بچے تو کون اور ہلاک ہوئے تو کون ؟ مان لینے والوں کا انجام کتنا اچھا رہا اور نہ ماننے والوں اور مخالفت کرنے والوں کے ہم نے کس طرح پرخچے اڑا دیئے ، آج تم بھی اسی کے مرتکب ہو رہے ہو جس کے مرتکب وہ ہوئے تھے پھر ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ گزشتہ کل جو انجام ان کا ہوا وہی انجام آنے والے کل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
Commentary
These verses describe the destruction of those settlements which some exegesists have taken as Fladhura' ) حضُوراء) and Qilabah (قلابہ) of Yemen. Allah Ta` ala had sent there a prophet about whose name there are different versions. Some say he was Musa Ibn Misha while others say his name was Shu` aib, in which case he was a different prophet from the one who lived in Madyan. This Prophet was killed by his people, who were, as a punishment annihilated by the infidel King Nabucad Nazzar.
This King was placed in authority over them just as he was used as an instrument for the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12. This is a comprehensive answer to the various objections which were being raised in desperation by the disbelievers of Makkah against the Quran and the Prophet (peace be upon him), as if to say: What is there in this Book that you cannot understand? Why don’t you consider it in the right spirit? There is nothing contradictory in it. It discusses you and your own problems and affairs of life. It describes your own nature, origin and end. It discriminates between good and evil and presents high moral qualities which your own consciences endorse and confirm. Why don’t you, then, use your…
Read the full tafseer →