Al-Anbiyaa 21:12

Al-Anbiyaa · from ayah 12

21:12

فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَ ۟ؕفَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّنۡهَا يَرۡكُضُوۡنَؕ

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when its inhabitants perceived Our punishment, at once they fled from it.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:12

جب اُن کو ہمارا عذاب محسُوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب انہوں نے ہمارے عذاب کا احساس کر لیا، تو لگے اس سے بھاگنے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ ایک دم وہاں سے بھاگنے لگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب انھوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا اچانک وہ ان (بستیوں) سے بھاگ رہے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو لگے وہاں سے بھاگنے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب ان لوگوں نے آتا محسوس کیا ہمارے عذاب کو تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے

— مولانا اسحاق مدنی

سو جب انہوں نے ہمارا عذاب (آتا ہوا) دیکھا تو لگے اس بستی سے بھاگنے بھاگو مت۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب انہیں محسوس ہوا ہمارا عذاب تو اس سے بھاگنے لگے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب انہوں نے ہمارے عذاب کے آثار دیکھے تو لگے بھاگنے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, when they perceived Our chastisement they took to their heels and fled.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, as soon as they sensed Our punishment (approaching them), they started fleeing from it.

— Muhammad Taqi Usmani

So, as soon as they sensed Our punishment (approaching them), they started fleeing from it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, when they sensed Our torment, behold, they (tried to) flee from it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And, when they felt Our might, behold them fleeing from it!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when its inhabitants perceived Our punishment, at once they fled from it.

— Saheeh International

When they found Our torment approaching them they started to run away from the town.

— Muhammad Sarwar

So when they felt Our punishment, lo! they began to fly

— Muhammad Habib Shakir

Then when they perceived Our violence, lo! they were from it fleeing.

— Abdul Majid Daryabadi

Yet, when they felt Our Punishment (coming), behold, they (tried to) flee from it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–15

قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44؀) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–12

سورة الْاَنْبِیَآء 13 یعنی جب عذاب الہٰی سر پر آگیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ آگئی شامت۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

خلاصہ تفسیر اور ہم نے بہت سی بستیاں جن کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے تباہ کر ڈالیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو جب ان ظالموں نے ہمارا عذاب آتا دیکھا تو اس بستی سے بھاگنا شروع کیا (تاکہ عذاب سے بچ جاویں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ) بھاگو مت اور اپنے سامان عیش اور اپنے مکانات کی طرف واپس چلو شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے (کہ تم پر کیا گزری مقصود اس سے بطور تعریض کے ان کی احمقانہ جسارت پر تنبیہ ہے کہ جس سامان اور مکان پر تم کو ناز تھا اب نہ وہ سامان رہا نہ مکان نہ کسی دوست ہمدرد کا نام و نشان رہا) وہ لوگ (نزول عذاب کے وقت) کہنے لگے کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے ان کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خدا کی پکڑ سے کوئی پناہ نہیں یعنی جس طرح آج تم بڑے طنطنہ کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو اسی طرح انہوں نے بھی رعونت کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دی بالآخر جب ہمارے عذاب نے ان کے دروازوں پر دستک دے دی تو اس کے مقابلہ کے لئے وہ کوئی تدبیر نہ کرسکے بلکہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لکنہ خدا کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ وہ جب دبوچ لیتا ہے تو اس کے چنگل سے کوئی نہیں نکل سکتا !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حواس کے ذریعے سے ادراک کرلینا۔ یعنی جب انہوں نے عذاب یا اس کے آثار کو آتے دیکھا یا کڑک گرج کی آواز سن کر معلوم کرلیا، تو اس سے بچنے کے لئے راہ فرار ڈھونڈنے لگے۔ رکض کے معنی ہوتے ہیں آدمی گھوڑے وغیرہ پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے کے لیے ایڑ لگائے یہیں سے یہ بھاگنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–12

4: اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے ہی ذکر خیر کا سامان ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ کتاب عربی زبان میں نازل کی گئی ہے جس کے براہ راست کا مخاطب تم عرب لوگ ہو، اور یہ تمہارے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخر کلام تم پر تمہاری زبان میں نازل فرمایا، اور اس سے رہتی دنیا تک دنیا کی ساری قوموں میں تمہارا ذکر خیر جاری رہے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلمآاحسوا بأ سنآ اذا ھم منھا۔۔۔۔ (12 : 21) ” جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے “۔ یعنی گائوں سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ان کو معلوم ہوگیا کہ عذاب الٰہی آگیا ‘ گویا یہ بھاگ دوڑ ان کو عذاب الٰہی سے بچا لے گی۔ گویا وہ اس قدر تیز بھاگ سکتے ہیں کہ عذاب الٰہی ان سے پیچھے رہ جائے گا ‘ لیکن ان کی یہ بھگدڑ ایسی ہی ہے جس طرح چوہا پنجرے میں دوڑتا ہے۔ وہ بغیر سوچ اور بغیر کسی شعور کے دوڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

5 یعنی جب عذاب الٰہی سامنے آگیا تو چاہا کہ وہاں سے نکل بھاگیں اور بھاگ کر جان بچا لیں۔ اس وقت تکوینی طور پر کہا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو، اور ادھر ہی واپس چلو جہاں عیش کیے تھے اور جہاں بہت سے سامان تنعم جمع کر رکھے تھے۔ شاید وہاں کوئی تم سے پوچھے کہ حضرت ! وہ مال و دولت اور زور و قوت کا نشہ کیا ہوا ؟ وہ سامان کدھر گئے ؟ اور جو نعمتیں خدا نے دے رکھی تھیں ان کا شکر کہاں تک ادا کیا تھا ؟ یا یہ کہ آپ بڑے آدمی تھے جن کی ہر موقع پر پوچھ ہوتی تھی، اب بھی وہیں چلیے۔ بھاگنے کی ضرورت نہیں تاکہ لوگ اپنے مہمات میں آپ سے مشورے کرسکیں اور آپ کی رائیں دریافت کرسکیں ؟ (یہ سب باتیں تحکمًا کہی گئی ہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ ” جب عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے اور انہیں احساس ہوگیا کہ اب واقعی عذاب آنے والا ہے تو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–12

11 یعنی یہ نہیں ہوا تھا کہ ظالم قوموں کو بلاک کرنے کے بعد یہ زمین بےآباد اور ویران رہ گئی تھی۔ جبکہ اس زمین کو ہم نے فوراً دوسرے لوگو لاکر آباد کردیا تھا اور اس کا اگر کچھ نقصان پہنچتا تھا تو صرف ظالموں ہی کو پہنچا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ یہ گویا ندائے غیبی ان کے کان میں آئی۔” انہوں نے “ یعنی انہیں ظالم، کافر وفاسق، عذاب زدہ لوگوں نے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما احسوا باسنا اذا ہم منہا یرکضون۔ پھر جب اس بستی والوں نے ہمارے عذاب کی شدت دیکھ لی تو یکدم تیزی کے ساتھ وہاں سے بھاگنے لگے۔ اَحَسُّوْا یعنی جب انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ بَاْسَنَآہمارے عذاب کی شدت کو یَرْکُضُوْنَ گھوڑوں کو ایڑ لگا کر تیزی سے بھاگنے لگے ‘ یا یوں کہا جائے کہ سوار گھوڑے کو ایڑ مار کر تیزی سے بھگاتا ہے اور بستی والے بھی تیزی سے بھاگنے لگے اس لئے ان کو ایڑ مارنے والے سواروں سے تشبیہ دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(12) سو جب ان مشرکین نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آتا ہوا دیکھا تو عذاب سے بچنے کے لیے اس بستی سے بھاگنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ۔۔ : احساس کا معنی حواس سے معلوم کرنا، مثلاً دیکھنا یا سننا وغیرہ۔ ”يَرْكُضُوْنَ“ ”رَکَضَ یَرْکُضُ“ (ن) کا معنی سواری کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑ لگانا ہے، مراد تیزی سے بھاگنا ہے، یعنی جب انھوں نے ہمارے عذاب کو اپنے حواس یعنی آنکھوں یا کانوں وغیرہ سے محسوس کیا تو بہت تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–15

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و کم قصمنا من قریۃ کا نت ظالمۃ قریۃ سے مراد وہ شہر ہیں جو یمن میں تھے۔ اہل تفسیر اور مؤخرین نے کہا : اس سے مراد اہل حضور ہیں۔ یہ قوم وہ تھی جن کی طرف ایک نبی مبعوث کیا گیا تھا جس کا نا شعیب بن ذی مہدم تھا اور اس شعیب نبی کی قبر یمن میں ایک پہاڑ کے پاس ہے جس کو ضنن کہا جاتا ہے اس میں کثیر نمک ہے۔ یہ شعیب صاحب مدین نہیں ہیں کیونکہ حضور کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدت سے پہلے کا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدت سے دو سو سال بعد ہوا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے نبی کو قتل کیا تھا اور اصحاب الرس نے اسی تاریخ میں اپنے نبی کو قتل کیا تھا ان کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–15

دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت : 1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَلَمَآ : پھر جب ] [ اَحَسُّوْا : ان لوگوں نے محسوس کیا ] [ بَاْسَنَآ : ہماری سختی کو ] [ اِذَا : تب ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ مِّنْهَا : اس سے ] [ يَرْكُضُوْنَ : بھاگنے لگے ] [ ر ک ض ](ن) رَکْضًا (1) پائوں ہلانا۔ بھاگنا۔ (2) کسی چیز کو پائوں سے رگڑنا۔ ایڑ لگانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔] [ اُرْکُضْ فعل امر ہے۔ تو رگڑ۔ اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ (آپ (علیہ السلام) رگڑیں (زمین کو) اپنے پائوں سے) 38:42]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–12

ہلاک ہونے والی بستیوں کی بدحالی ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو عبرت دلائی ہے اور پرانی بستیوں کی ہلاکت بتا کر یاد دہانی فرمائی ہے کہ تم سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو ظلم کرتی تھیں۔ یہ ظلم کفر و شرک اختیار کرنے کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے انہیں تباہ کر ڈالا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ عذاب آ رہا ہے تو وہاں سے دوڑ کر جانے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ مت دوڑو۔ تم جس عیش و عشرت میں لگے ہوئے تھے اور جن گھروں میں رہتے تھے انہیں میں واپس آجاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ تم جس ساز و سامان اور جن مکانوں پر گھمنڈ کرتے تھے اور اتراتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کہاں ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔ (ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–13

12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” قَصَمْنَا اي اھلکنا “ یعنی ہلاک کردیا ہم نے۔ ” ظالمة “ یعنی شرک کرنے والی۔ ” فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَاسَنَا “ ان قوموں کے پاس ہمارے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی پرواہ نہ کی اور ان کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔ پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو لگے بھاگنے۔ ” لَاتَرْکُضُوْا الخ “ ہم نے کہا اب بھاگو مت۔ بلکہ اپنے اموال و اولاد، باغات اور محلات کی طرف واپس آؤ۔ تاکہ آج جو کچھ تم پر گذرے گا۔ اس کے بارے میں کل تم سے پوچھا جائے گا اور تم اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرسکو۔ یہ ان سے بطور استہزاء کہا گیا۔ لعلکم تسئلون غدا عما جری علیکم ونزل باموالکم فتجیبوا السائل عن علم ومشاھدۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَـنَآ اِذَا ہُمْ مِّنْہَا يَرْكُضُوْنَ۝ 12ۭ حسس فحقیقته : أدركته بحاستي، وأحست مثله، لکن حذفت إحدی السینین تخفیفا نحو : ظلت، وقوله تعالی: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] ( ح س س ) احسستہ کے اصل معنی بھی کسی چیز کو محسوس کرنے کے ہیں اور احسنت بھی احسست ہی ہے مگر اس میں ایک سین کو تحقیقا حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ ظلت ( میں ایک لام مخذوف ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] جب عیسٰی ( (علیہ السلام) ) نے ان کی طرف سے نافرمانی ( اور نیت قتل ) دیکھی ۔ بؤس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ : الشدة والمکروه،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ارکض الفراروالہرب واصلہ من رکض الرحل الذاتہ ومنھا ارکض برجلک والمغنی انھم ھربوا اکضین دوابھم الترف النعمۃ یقال امترف فلان وھو مترف ای وسع علیہ علیہ فی معاشہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّـآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَـآ اِذَا ھُمْ مِّنْھَا یَرْکُضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 12) (اور جب انھوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔ ) عذاب سے کوئی پناہ نہیں اللہ تعالیٰ کے رسول جب ان کے تمرد اور سرکشی کے باعث انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو وہ بھی تمہاری طرح ان کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتے تھے بلکہ بڑھ چڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے بلکہ کبھی تو ایسا ہوتا کہ بار بار ہمارے رسول کو چڑاتے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ عذاب آخر کہاں رک گیا ہے، آ کیوں نہیں پاتا۔ لیکن جب اس عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور ان کے دروازوں پر دستک دی تو پھر انھیں یقین آیا کہ ہم جسے محض ایک ڈراوا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کیا جن کے رہنے والے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ظلم کرنے والے تھے۔ انھیں تباہ و برباد کرکے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ قوموں کی تباہی اور دوسری اقوام کو لانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جمع کی ضمیر (ہُمْ ) استعمال فرمائی ہے۔ جس کا مقصد جلالت و جبروت کا اظہار کرنا ہے۔ چناچہ جب ظالم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ کیا اور ظالموں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارا بچنا مشکل ہے تو وہ ادھر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مشاہدئہ عذاب کے وقت حالت : 12: فَلَمَّآ اَحَسُّوْا (جب انہوں نے دیکھ لیا) یعنی ہلاک کئے جانے والوں نے بَاْسَنَـآ (ہمارے عذاب کو) یعنی حس اور مشاہدہ سے جان لیا۔ اِذَا ھُمْ مِّنْھَا (تو یک دم وہ وہاں سے) یعنی بستی سے۔ اذاؔ مفاجات کیلئے آتا ہے اور ھممبتدا اور یَرْکَضُوْنَ خبر ہے۔ یَرْکُضُوْنَ (وہ تیزی سے بھاگنے لگے) الرکض ایڑ لگانا یہ بھی درست ہے کہ وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنی بستی سے بھاگنے لگے جب ان پر عذاب کا ابتدائی مرحلہ آیا۔ نمبر 2۔ ان کے تیزی کے ساتھ پیدل بھاگنے کو ان سواروں سے تشبیہ دی جو اپنے گھوڑوں پر سوار تیزی سے پابہ رکاب ہوں۔ پس ان کو کہا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔ فلمااحسو باسنا، یعن جب انہوںں ے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اذاھم منھا یرکضون وہ ایڑی لگاکربھاگنے لگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 15:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی مشاورتوں کا ذکر فرمایا تھا اور ان کو جو شب ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت میں تھے اس کے جواب دیئے تھے اور قیامت اور حساب و کتاب کا وقت قریب آن لگنے سے ان کو ڈرایا تھا۔ ان آیتوں میں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ تک جو لوگ اور بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوگئی تھیں ‘ ان کا ذکر فرمایا ہے تاکہ قریش کو عبرت ہو کر رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ ان کے حق میں بھی یہی پیش آوے گا جو پچھلی امتوں کو پیش آیا ‘ پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ‘ ان قوموں میں سب سے آخری جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–15

آیت 11-15 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنہوں نے دیگر انبیاء ومرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( وکم قصمنا) اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کردیں۔ یعنی جڑ کاٹنے والے عذاب کے ذریعے سے ( من قریۃ) بستیاں جنہوں نے اپنے انجام کو نظر انداز کیا۔ (وانشانا بعد ھا قوماً اخرین) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اسکے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لئے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنے کرتوتوں پر حسرت کے مارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

14 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تکذیب و انکار حق اور ظلم وعدوان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ : جبکہ وہ اڑے رہے تھے اپنے کفر و باطل اور اپنے ان جرائم پر۔ بس اس میں تمہارے لئے بڑا عظیم درس عبرت و بصیرت ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ تم باز آجاؤ کفر و انکار کی اپنی اس روش سے جس کو تم نے اپنا رکھا ہے اور جس کو کل کے ان منکروں نے اپنائے رکھا تھا۔ اور جسکے نتیجے میں وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو تم باز آجاؤ تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو ان کو پیش آچکا ہے۔ ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہوسکتا ہے جو ان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ” رکض “ کے لفظی معنی جانور کو ایڑلگا کر بھگانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہمارا عذاب ان کے سروں پر پہنچ گیا تو انہوں نے عذاب سے بچنے کے لئے بھاگنے کی کوشش کی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:12) احسنوا۔ احساس (افعال) ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے محسوس کیا۔ انہوں نے پایا۔ باسنا۔ مضاف مضاف الیہ ہمارا عذاب۔ ب ء س مادہ۔ البئوس الباس۔ الباسائ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ الباس الباساء جسمانی زخم اور نقصان کے لئے آتا ہے اور یؤس زیادہ تر فقر وفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولا جاتا ہے۔ اذا۔ جب ۔ ناگہاں۔ اس وقت۔ ظرف زمان ہے۔ اذا اکثر وبیشتر تو شرط ہی ہوتا ہے مگر مفاجات یعنی کسی چیز کے اچانک پیش آنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے آیہ ہذا میں اذا ہم منھا یرکضون۔ تو فورا وہاں سے بھاگنے لگے۔ یہاں اذا فجائیہ ہے۔ منھا۔ میں ضمیر واحد مؤنث غائب یا تو قریۃ کی طرف راجع ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–15

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شہادت اور بابل کے بادشاہ کا حملہ آور ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک جو بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب غارت ہوگئی تھیں ان کا ذکر فرمایا، تاکہ قریش مکہ کو عبرت ہو کہ رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ انکے حق میں بھی یہی پیش آئے گا، جو پچھلی امتوں کو پیش آیا، پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ان قوموں میں سے سب سے آخر میں جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے، تفسیر عبدالرزاق میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں شعیب نام کے ایک نبی تھی جب ان کی قوم نے ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–12

[8] یعنی اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور زیربحث ہیں، تمہارے عیوب اور تمہاری بداخلاقیوں کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–17

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 12 سو جب ان ظالموں کو ہمارے عذاب کا احساس ہوا اور انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تب ہی اس بستی سے بھاگنے لگے۔ یعنی عذاب کے خوف سے ایڑ لگا کر بھاگے۔ ایڑ لگانا شاید سواریوں پر سوار ہو کر بھاگے ہوں گے اس بھاگنے پر ارشاد ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے جب ہمارا عذاب دیکھا تو وہ اچانک بھاگ کھڑے ہوئے : 12۔ جس طرح عذاب کے آج تم طلبگار ہو اور بار بار مطالبہ کرتے ہو کہ وہ عذاب جس کا وعدہ دیتے دیتے تم تھکتے بھی نہیں اس کو لے کیوں نہیں آتے ہو ؟ تم سے پہلے اسی طرح کی ڈینگیں وہ مارتے تھے اور اپنے رسولوں سے بار بار مطالبہ کرتے رہے اور ہم بھی ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیتے چلے گئے اور بالاخر وہ وقت آگیا جو ہمارے قانون میں طے تھا اور ہمارے عذاب نے ان کے دروازوں پر دستک دے دی تو وہ بجائے اس کے کہ دروازے بند رکھتے اور عذاب کو اندر داخل نہ ہونے دیتے انہوں نے دروازے کھولے اور اپنی اپنی کھوٹیاں اور محلات چھوڑے اور بھاگ نکلنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

Commentary These verses describe the destruction of those settlements which some exegesists have taken as Fladhura' ) حضُوراء) and Qilabah (قلابہ) of Yemen. Allah Ta` ala had sent there a prophet about whose name there are different versions. Some say he was Musa Ibn Misha while others say his name was Shu` aib, in which case he was a different prophet from the one who lived in Madyan. This Prophet was killed by his people, who were, as a punishment annihilated by the infidel King Nabucad Nazzar. This King was placed in authority over them just as he was used as an instrument for the…

Read the full tafseer →