Al-Anbiyaa 21:13

Al-Anbiyaa · from ayah 13

21:13

لَا تَرْكُضُوْا وَارْجِعُوْۤا اِلٰی مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَمَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُوْنَ ۟لَا تَرۡكُضُوۡا وَ ارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـئَلُوۡنَ

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Some angels said], "Do not flee but return to where you were given luxury and to your homes - perhaps you will be questioned."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:13

(کہا گیا) "بھاگو نہیں، جاؤ اپنے انہی گھروں میں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھاگ دوڑ نہ کرو اور جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی وہیں واپس لوٹو اور اپنے مکانات کی طرف جاؤ تاکہ تم سے سوال تو کر لیا جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے کہا گیا) بھاگو مت، اور واپس جاؤ، اپنے انہی مکانات اور اسی عیش و عشرت کے سامان کی طرف جس کے مزے تم لوٹ رہے تھے، شاید تم سے کچھ پوچھا جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ ان آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئیں تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان سے کہا گیا:) تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بھاگو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آؤ جن میں تمہیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف، تاکہ تم سے پوچھا جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ہم نے کہا) بھاگو نہیں بلکہ اپنے مکانوں اور اس عیش و عشرت کے سامان کی طرف لوٹ آؤ جس سے تم مزے اڑا رہے تھے شاید تم سے (حقیقت حال کے متعلق) سوال کیا جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے کہا، اب بھاگو ست، اپنے عیش کے سامانوں اور اپنی عیش گاہوں کی طرف پلٹو تاکہ تم سے پرسش ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب ان سے کہا گیا کہ بھاگو مت اور لوٹ جاؤ تم اپنے اس سامان عیش و عشرت کی طرف، جس میں تم لوگ مست ومگن تھے اور اپنے انہی گھروں کی طرف جن کی پختگی و عمدگی پر تم کو بڑا غرور اور ناز تھا شاید تم سے کوئی پوچھ پاچھ ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور واپس چلو اپنے سامان عیش اور اپنے مکانوں کی طرف شائد کہ تم سے کوئی پوچھ پاچھ ہی ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس وقت انہیں کہا گیا :) اب بھاگو مت اور واپس جاؤ اپنے سامان تعیش اور محلات کی طرف شاید کہ وہاں تمہیں پوچھا جائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مت بھاگو اور جن نعمتوں میں تم عیش و آرام کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ شاید تم سے اس بارے میں دریافت کیا جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(They were told): "Flee not, but return to your comforts and to your dwellings. You are likely to be questioned."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It was said to them,) :Do not flee, and go back to the luxuries you were made to enjoy, and to your dwellings. May be you are asked questions.

— Muhammad Taqi Usmani

(It was said to them,) :Do not flee, and go back to the luxuries you were made to enjoy, and to your dwellings. May be you are asked questions.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(But it was said unto them): Flee not, but return to that (existence) which emasculated you and to your dwellings, that ye may be questioned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Some angels said], "Do not flee but return to where you were given luxury and to your homes - perhaps you will be questioned."

— Saheeh International

We told them, "Do not run away. Come back to your luxuries and your houses so that you can be questioned".

— Muhammad Sarwar

Do not fly (now) and come back to what you were made to lead easy lives in and to your dwellings, haply you will be questioned.

— Muhammad Habib Shakir

Flee not, and return unto that wherein ye luxuriated and your habitations, haply ye will be questioned.

— Abdul Majid Daryabadi

Flee not, but return to the good things of this life which were given you, and to your homes in order that ye may be called to account.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–15

قدر ناشناس لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے ؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو ؟ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44؀) 43۔ الزخرف :44) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–15

سورة الْاَنْبِیَآء 14 نہایت معنی خیز فقرہ ہے اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں، مثلاً ، ذرا اچھی طرح اس عذاب کا معائنہ کرو تاکہ کل کوئی اس کی کیفیت پوچھے تو ٹھیک بتاسکو۔ اپنے وہی ٹھاٹھ جما کر پھر مجلسیں گرم کرو، شاید اب بھی تمہارے خدم و حشم ہاتھ باندھ کر پوچھیں کہ حضور کیا حکم ہے۔ اپنی وہی کونسلیں اور کمیٹیاں جمائے بیٹھے رہو، شاید اب بھی تمہارے عاقلانہ مشوروں اور مدبرانہ آراء سے استفادہ کرنے کے لیے دنیا حاضر ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–15

خلاصہ تفسیر اور ہم نے بہت سی بستیاں جن کے رہنے والے ظالم (یعنی کافر) تھے تباہ کر ڈالیں اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو جب ان ظالموں نے ہمارا عذاب آتا دیکھا تو اس بستی سے بھاگنا شروع کیا (تاکہ عذاب سے بچ جاویں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ) بھاگو مت اور اپنے سامان عیش اور اپنے مکانات کی طرف واپس چلو شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے (کہ تم پر کیا گزری مقصود اس سے بطور تعریض کے ان کی احمقانہ جسارت پر تنبیہ ہے کہ جس سامان اور مکان پر تم کو ناز تھا اب نہ وہ سامان رہا نہ مکان نہ کسی دوست ہمدرد کا نام و نشان رہا) وہ لوگ (نزول عذاب کے وقت) کہنے لگے کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے ان کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک طنزیہ اسلوب یہ صورت حال کی تعبیر ہے یعنی خدا کی گرفت نے اپنی زبان حال سے ان سے کہا کہ اب کہاں بھاگتے ہوا اب بھاگو مت، بھاگنے کا وقت گزر گیا ! خدا کی بخشی ہوئی جن رفاہتیوں میں اب تک عیش کرتے اور اپنے جن محلوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر خدا کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے رہے ہو، ان میں جائو تاکہ تمہاری اچھی طرح مزاج پرسی ہو ! لعلکم تسئلون یہاں طنز و تضحیک کے مفہوم میں ہے۔ طنزیوں کہتے ہیں کہ ٹھہرو، ابھی میں تمہاری مزاج پرسی کرتا ہے، ابھی تمہاری خبر لیتا ہوں۔ ابھی پوچھتا ہوں۔ قرآن کے دوسرے مواقع میں بھی یہ اسلوب استعمال ہوا ہے۔ مثلا ً آیت 8 تکاتر اور آیت 92 نحل میں الی ما اترفتم فیہ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 یہ فرشتوں نے ندا دی یا مومنوں نے استہزاء کے طور پر کہا۔ 13۔ 2 یعنی جو نعمتیں اور آسائشیں تمہیں حاصل تھیں جو تمہارے کفر اور سرکشی کا باعث تھیں اور وہ مکانات جن میں تم رہتے تھے اور جن کی خوبصورتی اور پائیداری پر فخر کرتے تھے ان کی طرف پلٹو۔ 13۔ 3 اور عذاب کے بعد تمہارا حال احوال تو پوچھ لیا جائے کہ تم پر یہ کیا بیتی، کس طرح بیتی اور کیوں بیتی ؟ یہ سوال بطور خیال اور مذاق کے ہے، ورنہ ہلاکت کے شکنجے میں کسے جانے کے بعد وہ جواب دینے کی پوزیشن میں ہی کب رہتے تھے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

5: یہ بات ان سے طنز کے طور پر کہی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے عیش و عشرت میں منہمک تھے تو تمہارے نوکر چاکر تم سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا حکم ؟ اب ذرا اپنے گھروں میں واپس جا کر دیکھو، شاید تمہارے نوکر چاکر تم سے تمہارا حکم پوچھیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اب نہ تمہیں اپنے گھروں کا کوئی نشان ملے گا، نہ عیش و عشرت کے سامان کا، اور نہ ان نوکروں کا جو تمہارے احکام کے منتظر رہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–14

لاترکضوا وارجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسئلون (12 : 31) ” بھاگو نہیں ‘ جائو اپنے انہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ‘ شاید کہ تم سے پوچھا جائے گا “۔ یہ تو تمہارا گائوں ہے اس سے مت بھاگو۔ اس کے اندر وہ سب سازو سامان ہے اور اس کے اندر تمہارے وہ مسکن ہیں ‘ جن میں تم عیش پرستیاں کرتے تھے۔ واپس ہو جائو شاید کہ تم سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ دولت کن امور میں خرچ کی۔ اس سوال کا وہ جواب کیا دیں ؟ یہ تو ان کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق تھا۔ اب ذرا تھکتے ہیں تو اب ان کو سمجھ آتی ہے کہ عذاب الٰہی نے تو انہیں گھیر لیا ہے اور اب یہ بھگدڑ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ دوڑ انہیں دائرہ عذاب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 12–13

5 یعنی جب عذاب الٰہی سامنے آگیا تو چاہا کہ وہاں سے نکل بھاگیں اور بھاگ کر جان بچا لیں۔ اس وقت تکوینی طور پر کہا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو، اور ادھر ہی واپس چلو جہاں عیش کیے تھے اور جہاں بہت سے سامان تنعم جمع کر رکھے تھے۔ شاید وہاں کوئی تم سے پوچھے کہ حضرت ! وہ مال و دولت اور زور و قوت کا نشہ کیا ہوا ؟ وہ سامان کدھر گئے ؟ اور جو نعمتیں خدا نے دے رکھی تھیں ان کا شکر کہاں تک ادا کیا تھا ؟ یا یہ کہ آپ بڑے آدمی تھے جن کی ہر موقع پر پوچھ ہوتی تھی، اب بھی وہیں چلیے۔ بھاگنے کی ضرورت نہیں تاکہ لوگ اپنے مہمات میں آپ سے مشورے کرسکیں اور آپ کی رائیں دریافت کرسکیں ؟ (یہ سب باتیں تحکمًا کہی گئی ہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 لَا تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَآ اُتْرِفْتُمْ فِیْہِ وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْءَلُوْنَ ” شاید وہاں تمہیں اپنا کوئیُ پرسان حال یا خبر گیری کرنے والا مل جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

12 یعنی اب اپنی مجالس کی مسندوں پر کیوں براجمان نہیں ہوتے۔ تاکہ لوگ آپ کے سامنے اپنی درخواستیں پیش کریں۔ اپنے مسائل حل کروائیں۔ آپ سے مشورے کریں۔ آپ کی رائے پوچھیں۔ اب کہاں جاتے ہو یہیں بیٹھو اور کچھ نہیں تو کم از کم بعد میں آنے والوں کو یہی بتلا دینا کہ تم پر عذاب الٰہی کیسے آیا تھا ؟ اور کس کس قسم کے حالات پیش آئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (ازراہ ہمدردی کہ کیا گزری) ” مقصود اس سے تعریض ہے کہ نہ وہ سامان رہا نہ مکان رہا، نہ کسی ہمدرد کا نام ونشان رہا “ (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا ترکضوا وارجعوا الی ما اترفتم فیہ ومسکنکم (ان سے کہا گیا) بھاگو مت اور اپنے سامان عیش کی طرف اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو۔ یعنی ان سے بزبان حال یا کسی فرشتے یا کسی مؤمن کی زبانی کہا گیا کہ (اب کیوں بھاگتے ہو) مت بھاگو اُتْرِفْتُمْ جس عیش میں پڑے تھے اسی کی طرف پلٹو۔ اتراف نعمت پر اترا جانا۔ خلیل نے کہا مترف اس شخص کو کہتے ہیں جو خوش حال ‘ فارغ البال ہو کوئی پریشانی اور فکر اس کو نہ ہو۔ لعلکم تسئلون۔ شاید تم سے کوئی پوچھے پاچھے۔ تا کہ کل کو تم سے پوچھا جائے کہ تم پر اور تمہارے مال و متاع پر کیا گزری اور تم اس کا جواب معائنہ کے بعد دے سکو۔ یا یہ مراد ہے کہ تم لوٹ کر جاؤ اپنے جلسوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) فرشتوں نے ان سے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان عیش کی طرف اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو، شاید تم میں سے کوئی ایمان لانے کے بارے میں یا نبی ؑ کے قتل کرنے کے بارے میں پوچھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا تَرْكُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰى مَآ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ۔۔ : یعنی ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں کہا جائے یا فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ بھاگو نہیں، بلکہ ان جگہوں کی طرف جن میں تمہیں خوشحالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف واپس آؤ، تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ ان تمام نعمتوں کی تم نے کیا قدر کی ؟ ایک معنی یہ ہے کہ اپنی انھی مجلسوں میں دوبارہ واپس آؤ، تاکہ پہلے کی طرح تمہارے نوکر چاکر ہاتھ باندھ کر تم سے سوال کریں کہ سرکار کیا حکم ہے ؟ تیسرا معنی یہ ہے کہ بھاگو نہیں، بلکہ اپنی وہی پہنچایتیں اور کونسلیں جما کر بیٹھو، تاکہ لوگ اپنے مسائل کا حل تم سے پوچھنے کے لیے آئیں اور مانگنے والے تم سے مانگنے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–15

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و کم قصمنا من قریۃ کا نت ظالمۃ قریۃ سے مراد وہ شہر ہیں جو یمن میں تھے۔ اہل تفسیر اور مؤخرین نے کہا : اس سے مراد اہل حضور ہیں۔ یہ قوم وہ تھی جن کی طرف ایک نبی مبعوث کیا گیا تھا جس کا نا شعیب بن ذی مہدم تھا اور اس شعیب نبی کی قبر یمن میں ایک پہاڑ کے پاس ہے جس کو ضنن کہا جاتا ہے اس میں کثیر نمک ہے۔ یہ شعیب صاحب مدین نہیں ہیں کیونکہ حضور کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدت سے پہلے کا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدت سے دو سو سال بعد ہوا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے نبی کو قتل کیا تھا اور اصحاب الرس نے اسی تاریخ میں اپنے نبی کو قتل کیا تھا ان کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–15

دنیا کے کاموں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلانے کی مذمت : 1:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دنیا کے کام میں سے ہے (کہ لوگ دنیا کے کاموں میں پڑ کر غافل ہوچکے ہیں حالانکہ ان کا حساب قریب آچکا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اقترب للناس حسابھم “ یعنی لوگوں کے لئے ان کا حساب کا وقت قریب آچکا ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما یاتیھم من ذکر من ربہم “ یعنی جو کچھ اتار جاتا ہے ان پر قرآن میں سے (آیت)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَا تَرْكُضُوْا : (کہا گیا) تم لوگ مت بھاگو ] [ وَارْجِعُوْٓا : اور واپس ہو ] [ اِلٰى مَآ : اس کی طرف ] [ اُتْرِفْتم : تمہیں خوشحالی دی گئی ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَمَسٰكِنِكُمْ : اور اپنے مکانوں کی طرف ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ ] [ تُسْــَٔـلُوْنَ : تم لوگوں سے پوچھا جائے (یعنی کوئی پرسانِ حال ہو)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–17

(لاَتَرْکُضُوْا) جو فرمایا اس سے پہلے قیل لھم حذف ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ عذاب دیکھ کر بھاگنے لگے تو ان سے عذاب کے فرشتوں نے یا ان اہل ایمان نے جو وہاں موجود تھے بطور استہزا اور تمسخریوں کہا کہ ٹھہرو کہاں دوڑتے ہو۔ تمہیں تو اپنی نعمت اور دولت عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ اپنے گھروں کو مزین کر رکھا تھا اور اونچے اونچے مکان بنا کر فخر کرتے تھے۔ آؤ دیکھو تمہارے مکان کہاں ہیں ؟ تم سے کوئی سوال کرنے والا سوال کرے تو اس کا جواب دو ۔ اب تو ظلم اور عیش و عشرت کا نتیجہ دیکھ لیا۔ بتاؤ کیا انجام ہوا ؟ (حَصِیْدًا خَامِدِیْنَ ) اس میں ہلاک شدہ لوگوں کا انجام بتایا ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قال اللہ تعالیٰ اقرب للناس حسابھم .... الیٰ .... وجعلنا ہم حصیدا خمدین۔ (ربط) گزشتہ سورت کے آخر میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں اور آخرت سے غفلت برتنے والوں کی مذمت کا بیان تھا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی۔ اور اس کے بعد کی آیت ولا تمدن عینیک الی ماھتعنا بہ ازواجا منھم نھرۃ الحیوۃ الدنیا، لنفتنھم فیہ۔ میں دنیا کے سامان زیبائش و آرائش پر نظر کرنے کی ممانعت تھی کیونکہ دنیا کی رونق پر نظر کرنا فتنہ عظیم ہے اور آخرت سے غفلت کا سبب ہے اس لیے ان آیات میں قرب ساعت (یعنی قرب قیامت) کی خبر دیتے ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور آخرت کی فکر کریں۔ اور اس کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–13

12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” قَصَمْنَا اي اھلکنا “ یعنی ہلاک کردیا ہم نے۔ ” ظالمة “ یعنی شرک کرنے والی۔ ” فَلَمَّا اَحَسُّوْا بَاسَنَا “ ان قوموں کے پاس ہمارے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی پرواہ نہ کی اور ان کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔ پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو لگے بھاگنے۔ ” لَاتَرْکُضُوْا الخ “ ہم نے کہا اب بھاگو مت۔ بلکہ اپنے اموال و اولاد، باغات اور محلات کی طرف واپس آؤ۔ تاکہ آج جو کچھ تم پر گذرے گا۔ اس کے بارے میں کل تم سے پوچھا جائے گا اور تم اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کرسکو۔ یہ ان سے بطور استہزاء کہا گیا۔ لعلکم تسئلون غدا عما جری علیکم ونزل باموالکم فتجیبوا السائل عن علم ومشاھدۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَرْكُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰى مَآ اُتْرِفْتُمْ فِيْہِ وَمَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْــَٔـلُوْنَ۝ 13 ركض الرَّكْضُ : الضّرب بالرِّجْل، فمتی نسب إلى الرّاكب فهو إعداء مرکوب، نحو : رَكَضْتُ الفرسَ ، ومتی نسب إلى الماشي فوطء الأرض، نحو قوله تعالی: ارْكُضْ بِرِجْلِكَ [ ص/ 42] ، وقوله : لا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلى ما أُتْرِفْتُمْ فِيهِ [ الأنبیاء/ 13] ، فنهوا عن الانهزام . ( ر ک ض ) الرکض اس کے اصل معنی ٹانگ کو حرکت دینے کے ہیں اگر سوار کے متعلق بولا جائے جیسے : ۔ رکضت الفرس تو اس کے معنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لئے ایڑھ لگانا کے ہوتے ہیں اور پیادہ پا آدمی کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–15

1 ؎ کہ تم پر کیا گزری اور تمہارے وہ سازوسامان کیا ہوئے ‘ جن مکانوں پر فخر کیا کرتے تھے کہاں گئے۔ یہ کلام ان سے بطور تمسخر کے کسی باخدا نے کیا تھا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ تَرْکُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَـآ اُتْرِفْـتُمْ فِیْہِ وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 13) (ہم نے کہا) اب مت بھاگو، اور واپس لوٹو اپنے عیش کے سامانوں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم سے بازپرس کی جائے۔ ) ممکن ہے کہ جب اس قوم پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برسا ہو اور وہ اپنے بچائو کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے ہوں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندا سنائی گئی ہو کہ تم تو اس عذاب کو ایک مذاق سمجھ رہے تھے، اب اس سے بھاگتے کیوں ہو۔ اگر تم میں ہمت ہے تو اس کا سامنا کرو۔ ایک طنزیہ اسلوب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ صورتحال کی تعبیر ہو، یعنی عذاب نے اپنی زبان حال سے یہ کہا ہو کہ جس عذاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر الزام لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کیا ان کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کیا جن کے رہنے والے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ظلم کرنے والے تھے۔ انھیں تباہ و برباد کرکے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ قوموں کی تباہی اور دوسری اقوام کو لانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جمع کی ضمیر (ہُمْ ) استعمال فرمائی ہے۔ جس کا مقصد جلالت و جبروت کا اظہار کرنا ہے۔ چناچہ جب ظالم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا مظاہرہ کیا اور ظالموں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارا بچنا مشکل ہے تو وہ ادھر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 13–14

13، 14: لَاتَرْکُضُوْا (مت بھاگو) بعض ملائکہ نے یہ بات کہی : وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَآ اُتْرِفْتُمْ فِیْہِ (اپنے سامان عیش کی طرف لوٹ آئو) جس دنیا کی نعمتوں اور خوشحالی سے تم فائدہ اٹھا رہے تھے۔ قول خلیل (رح) المترفؔ خوشحال اور فارغ البال ہو کوئی فکر نہ ہو۔ وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ (اور اپنے مکانات کی طرف شاید تم سے کوئی پوچھے پا چھے) یہ بات انہیں بطور استہزاء کہی جائے گی کہ تم اپنی نعمتوں کی طرف لوٹ چلو اور اپنے مکانات کی طرف جائو تاکہ کل تمہارا ماجرہ تم سے پوچھا جائے اور جو تمہارے اموال پر گزری تاکہ تم سائل کو اپنے علم و مشاہدہ سے جواب دو ۔ نمبر 2۔ لوٹ جائو اور اپنی مجالس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 13–14

13۔ لاترکضوا، ،۔ گویا کہ ان کو کہا گیا کہ نہ بھاگو اور نہ واپس چلو۔ وارجعوا الی مااترفتھم فیہ، جس عیش میں تم پڑے رہے ہو اس کی طرف پلٹو۔ ومساکنکم لعلکم تسئلون، قتل نبی کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ بعض نے کہا کہ شاید تم سے دنیاوی متاع وغیرہ مانگا جائے ۔ اس آیت کا نزول حضرت موت کے باشندوں کے متعلق ہوا۔ یہ یمن کی ایک بستی تھی جس کے باشندے عرب تھے ، اللہ نے انکوہدایت کے لیے ایک نبی کو مبعوث فرمایا۔ پیغمبر نے ان کو توحید کی دعوت دی۔ ان بستی والوں نے نبی کی تکذیب کی اور اس کو قتل کردیا، اور اللہ نے شاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا۔ بخت نصر نے ان کو قتل اور قید کردیا۔ جب عام طورپر لوگ قتل ہونے لگے تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 15:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی مشاورتوں کا ذکر فرمایا تھا اور ان کو جو شب ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت میں تھے اس کے جواب دیئے تھے اور قیامت اور حساب و کتاب کا وقت قریب آن لگنے سے ان کو ڈرایا تھا۔ ان آیتوں میں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ تک جو لوگ اور بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوگئی تھیں ‘ ان کا ذکر فرمایا ہے تاکہ قریش کو عبرت ہو کر رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ ان کے حق میں بھی یہی پیش آوے گا جو پچھلی امتوں کو پیش آیا ‘ پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ‘ ان قوموں میں سب سے آخری جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–15

آیت 11-15 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنہوں نے دیگر انبیاء ومرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( وکم قصمنا) اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کردیں۔ یعنی جڑ کاٹنے والے عذاب کے ذریعے سے ( من قریۃ) بستیاں جنہوں نے اپنے انجام کو نظر انداز کیا۔ (وانشانا بعد ھا قوماً اخرین) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اسکے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لئے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنے کرتوتوں پر حسرت کے مارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 ظالموں کا برا انجام اور ان کی تحقیر و تذلیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقعہ پر ظالموں سے ایسا کہا گیا کہ تم لوگ بھاگو نہیں بلکہ لوٹ جاؤ اپنے اسی سامان عیش و عشرت کی طرف جس میں تم لوگ مست و مگن تھے۔ یعنی فرشتوں کی طرف سے ان کی تحقیر و تذلیل کے لئے اور استہزاء و مذاق کے طور پر ان سے اس طرح کہا گیا۔ پس اپنے کفر و باطل اور ظلم وعدوان پر اڑے اور جمے رہنے والے ظالم لوگ جب اپنے آخری انجام کو پہنچے تو وہ حواس باختہ ہو کر بھاگنے لگے لیکن اس وقت ان کیلئے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ تب ان سے فرشتوں نے ان کی تحقیر و تذلیل کیلئے کہا کہ اب بھاگو نہیں بلکہ تم لوٹو اپنی انہی نعمتوں اور عیش پرستیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 3 یعنی شاید کوئی تم سے از راہ ہمدردی پوچھے کہ کیا گزری ؟ اور تم اپنے چشم دید حالت بتاسکو یا شاید تمہارے نوکر چاکر تمہارے سامنے ہاتھ باندھ کر دریا قنط کریں کہ حضور فرمایئے کیا حکم ہے ؟ اور تم پہلے کی طرح اپنے ڈیرے اور مجلسیں جمائو اور لوگ مہمات میں تمہارے مشوروں سے مستفید ہونے کے لئے حاضر ہوں۔ بہرحال یہ ان سے تہکم اور توبیخ کے طور پر کہا جا رہا ہے (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:13) لا ترکضوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، مت بھاگو۔ اترفتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تمہیں عیش دیا گیا۔ تم نازو نعمت میں پالے گئے۔ اتراف (افعال) مصدر۔ الی ما اترفتم فیہ۔ اس حالت تعیش کی طرف جہاں تمہیں خدا نے نعمتیں، مال وزر زن و فرزند۔ و دیگر سامان تعیش دے رکھا تھا۔ یہ فقرہ طنزا کہا گیا ہے کہ اب جو تمہاری ناشکری اور کرتوتوں کی وجہ سے عذاب آیا ہے تو بھاگتے کیوں ہو ؟ جائو نا وہیں جا کر عیش لوٹو اور حکومت چلائو تاکہ تم سے تمہاری بربادی اور سزا و عذاب کے متعلق لوگ پوچھیں کہ بایں انعام و اکرام یہ تم عذاب میں کیوں مبتلا کئے گئے اور پھر تم اپنی کرتوتوں کا جواب دو ۔ قالوا۔ ای لمایئسوا من الخلاص…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–15

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شہادت اور بابل کے بادشاہ کا حملہ آور ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک جو بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب غارت ہوگئی تھیں ان کا ذکر فرمایا، تاکہ قریش مکہ کو عبرت ہو کہ رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ انکے حق میں بھی یہی پیش آئے گا، جو پچھلی امتوں کو پیش آیا، پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ان قوموں میں سے سب سے آخر میں جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے، تفسیر عبدالرزاق میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں شعیب نام کے ایک نبی تھی جب ان کی قوم نے ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[9] یہ بطور استہزاء فرمایا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو اور ادھر ہی واپس جاؤ جہاں عیش کئے تھے تاکہ لوگ تمہارے عاقلانہ مشوروں اور مدبرانہ آراء سے استفادہ کرنے کے لئے تمہارے پاس آئیں، یا نزول عذاب کے وقت تمہاری خوشحالی کی وجہ سے لوگ ہمدردی کے طور پر تمہاری احوال پرسی کریں، یا تمہارے خدام باادب ہاتھ باندھ کر تم سے پوچھیں کہ حضور کیا حکم ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–17

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 13 ایڑ لگا کر بھاگو نہیں اور اسی سامان عیش کی طرف جو تم کو دیا گیا تھا واپس چلو اور نیز اپنے رہنے کے گھروں کی طرف واپس ہو جائو اور پھر چلو شاید تم سے کچھ پوچھ گچھ کی جائے۔ یہ محض تعریض اور تحکم کے طور پر فرمایا اور نہ سامان عیش اور مکان وغیرہ کہاں رہا۔ یعنی بھاگ کر کہاں چلے واپس ہی اس عیش میں اور پانے گھروں میں آ جائو جہاں تم مزے اڑایا کرتے تھے اور خدا کے پیغمبروں کی تکذیب کے مرتکب ہوتے تھے شاید تم سے پوچھا جائے کہ کہو کیا گزری اور وہ س امانت عیش کہاں گیا یا شاید یہ مطلب ہو کہ تم قوم کے بڑے تھے ہر مشورے میں بلائے جاتے تھے اور ہر مجلس میں یاد کئے جاتے تھے واپس جائو شاید تمہارے مشورے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ مقصود اس سے تعریض ہے کہ نہ وہ سامان رہا نہ مکان رہا، نہ کسی ہمدرد کا نشان رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم بھاگنے والوں کو آوازیں دیتے رہے کہ ذرا ٹھہر جاؤ اور ہماری بات سنو ! : 13۔ زبان حال کو جب زبان قال سے بیان کیا جائے تو اس کی یہی صورت ہوتی ہے اور یہی ہو سکتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان کے حال کو زبان قال سے بیان کیا جارہا ہے ۔ فرمایا ہماری گرفت کی زبان ان کو آوازیں دیتی رہی کہ ذرا ٹھہر جاؤ اور بھاگو نہیں ‘ واپس آؤ تمہارے گھر تو ادھر ہیں تم کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟ ابھی تو ہم نے تم سے بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ یہ گویا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے رب کریم صاحب جلال والاکرام کے رسولوں کا مذاق اڑایا تھا ۔ تمہیں تو ان گھروں پر بڑا ناز تھا اور ان کو ٹھیوں کاروں ‘ کارخانوں اور ملوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

Commentary These verses describe the destruction of those settlements which some exegesists have taken as Fladhura' ) حضُوراء) and Qilabah (قلابہ) of Yemen. Allah Ta` ala had sent there a prophet about whose name there are different versions. Some say he was Musa Ibn Misha while others say his name was Shu` aib, in which case he was a different prophet from the one who lived in Madyan. This Prophet was killed by his people, who were, as a punishment annihilated by the infidel King Nabucad Nazzar. This King was placed in authority over them just as he was used as an instrument for the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

14. This is a very meaningful sentence. It may mean: (1) Examine this scourge minutely so that if someone asks you about it, you may be able to give an accurate account of it. (2) Hold your grand meetings as usual. Perhaps your servants may come with folded hands before you to receive orders. (3) Hold your councils as before, perhaps people may still come to ask for your wise counsels.

Read the full tafseer →