Explained with ayahs 115–122
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
سورة طٰهٰ 95
یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم ؑ کو دیا گیا تھا، یعنی یہ کہ " اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا "۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوچکا ہے۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہوجاتا ہے، اور کس طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی۔
سورة طٰهٰ 96
دشمنی کا مظاہرہ اسی وقت ہوچکا تھا۔ آدم اور حوا…
Read the full tafseer →فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰي، یعنی یہ شیطان کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے جس کی وجہ سے تم مصیبت اور مشقت میں پڑجاؤ۔ لفظ تشقی شقاوت سے مشتق ہے۔ یہ لفظ دو معنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک شقاوت آخرت، دوسرے شقاوت دنیا یعنی جسمانی مشقت و مصیبت اس جگہ یہی دوسرے معنی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ پہلے معنی میں کسی پیغمبر کے لئے تو کیا کسی نیک مسلمان کے لئے بھی یہ لفظ نہیں بولا جاسکتا اس لئے فراء نے اس شقاوت کی تفسیر یہ کی ہے کہ ھو ان یا کل من کد یدیہ یعنی شقاوت سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے خوراک حاصل کرنا پڑے گی (قرطبی) اور اس جگہ قرینہ مقام بھی دوسرے ہی معنی کے لئے…
Read the full tafseer →ابلیس نے صرف سجدہ کرین ہی سے انکار نہیں کیا بلکہ جیسا کہ سورة اعراف کی آیات 22-14 کے تحت ہم وضاحت سے بیان کر آئے ہیں اس نے جوش حسد میں خود اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج کیا کہ اگر تو مجھے آدم اور اس کی ذریت کو ورغلانے کی مہلت دے دے تو میں یہ ثابت کردوں گا کہ نہ مجھ پر کسی فضیلت کے سزا وار ہیں اور نہ اس جنت کے حقدار ہیں بلکہ میں ان میں سے اکثر کو اپنا مرید و ہمنوا بنا لوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اس کو مہلت دے دی کہ جاتو جس کو ورغلا سکتا ہے ورغلالے میں تجھ کو اور تیرے سارے مریدوں کو جہنم میں جھونک دوں گا اور دوسری طرف حضرت آدم کو آگاہ فرما دیا کہ تم جنت میں رہو لیکن اس امر کو یا رکھو کہ ابلیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
117۔ 1 یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم ؑ سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑجائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم ؑ و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
50: اس آیت کو اگلی آیت سے ملا کر پڑھا جائے تو مطلب یہ ہے کہ جنت میں تو تمہیں زندگی کی ساری ضروریات یعنی خوراک، کپڑا اور رہنے کے لیے گھر بغیر کسی محنت کے حاصل ہے، جنت سے نکل گئے تو ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت اٹھانی پڑے گی۔
Read the full tafseer →اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہیں ستاتی ہے۔ “
اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ اس سجدے کا حکم اللہ نے خود اس کو دیا تھا۔ اشاراتاً پہلے ہی تخلیق آدم کا منصوبہ بھی بتا دیا تھا۔
فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (02 : 811) ” ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جائو۔ “ کیونکہ جنت سے نکل کر انسان کو مشقت ، جدوجہد ، بدعملی ، گمراہی ، پریشانیوں ، حیرانیوں ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
9 ظاہر ہے بہشت کا آرام دوسری جگہ کہاں مل سکتا ہے۔ آخر کھانے پہننے، رہنے سہنے کی تدبیریں کرنی پڑیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
اب یہاں قصہ آدم و ابلیس پانچویں مرتبہ بیان ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع : 4 ‘ سورة الاعراف رکوع : 2 ‘ سورة بنی اسرائیل رکوع : 7 اور سورة الحجر رکوع : 3 میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
84 آدم و ابلیس کا قصہ سورة ئبقرہ، اعراف اور دیگر کئی مقامات پر پہلے ہی گزر چکا ہے۔ اور آئندہ بھی آئے گا، مگر ہر مقام پر اتنا ہی ذکر کیا گیا جتنا موقع کے لحاظ سے مناسب تھا۔ گویا اس قصہ کے مختلف اجزاء سے مختلف نتائج پیش کئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →139۔ (کہ تمہیں دونوں کے معاملہ میں اسے مردود ہونا پڑا تھا)
140۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ اس کے کہے میں آکر کوئی ایسا کام کر بیٹھو کہ جنت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →فقلنا یادم ان ہذا عدو لک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی۔ ہم نے کہا آدم یقیناً یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے (نکال دینے کا سبب بن جائے) پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ۔
وَاِذْ قُلْنَا اور یاد کرو اس وقت کا واقعہ جب ہم نے کہا تھا تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ آدم سے بھول ہوگئی تھی۔ اَبّٰیاس نے سجدہ کرنے یا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ ابی مستقل جملہ ہے جو گزشتہ کلام کی تاکید کر رہا ہے۔ ابلیس کے استثناء کی علت بھی اس کو قرار دیا جاسکتا ہے فَقُلْنَا اس کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے یعنی ہم نے آدم اور ان کی بی بی کو جنت میں داخل کردیا پھر ہم نے کہا ہٰذَا یعنی…
Read the full tafseer →(117) پھر ہم نے کہا اے آدم یاد رکھو کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی حضرت ”حوا“ کا دشمن ہے اس کے کہنے سے کوئی کام ایسا نہ کرنا کہ جنت سے باہر نکال دیے جاؤ اور مصیبت میں پڑجاؤ۔
Read the full tafseer →فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ۔۔ : عداوت کا اظہار سجدے سے انکار کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (22) ”فَتَشْقٰي“ تو مصیبت میں پڑجائے گا، یعنی روزی کے لیے محنت مشقت کرنا پڑے گی اور جنت کی تمام آسائشیں اور نعمتیں چھین لی جائیں گی۔ آدم ؑ کی طرف خاص شقاوت کی نسبت اس لیے ہے کہ مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے اصل آدم ؑ ہی ہیں اور حوا [ ان کے تابع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی۔ سورة بقرہ میں اس پر تفصیلاً گفتگو گزر چکی ہے۔ فقلنا یادم ان ھذا عدولک ولزوجل فلا فخرجنکما یہ نہی ہے مطلب یہ اس کی بات نہ ماننا ورنہ تمہارے جنت سے خروج کا سببب بن جائے گا۔ فتشقیٰ یعنی آپ اور آپ کی بیوی دونوں علت کے برابر ہونے ک میں ایک ہیں 0۔ فتشقیا نہیں فرمایا کیونکہ معنی معروف ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مخالف ہیں اور وہی مقصود ہیں نیز حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت حواء کے لیے محنت کرنے والے تھے اور اس کے لیے کمانے والے تھے تو شقا میں وہ خاص کیے گئے۔ بعض نے فرمایا : اخراج دونوں پر واقع ہوگا اور شقا صرف حضرت آدم پر ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…
Read the full tafseer →[فَقُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [يٰٓاٰدَمُ : اے آدم (علیہ السلام) ] [ان : بیشک ] [ھٰذَا : یہ ] [عَدُوٌّ: دشمن ہے ] [لَّكَ : آپ (علیہ السلام) کا ] [وَلِزَوْجِكَ : اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ کا ] [فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا : پس وہ ہرگز نہ نکالے آپ (علیہ السلام) دونوں کو ] [مِنَ الْجَنَّةِ : اس باغ سے ] [فَتَشْقٰي : پھر آپ (علیہ السلام) تکلیف میں پڑیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
82:۔ مقصد یہ ہے کہ ابلیس تمہارا پرانا جدی پشتی دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریق سے تمہیں کفر و شرک اور دوسرے گناہوں سے ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے فریب سے بچو ” اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ الخ “ یہ جنت کی خوبیاں ہیں کہ وہاں نہ بھوک ہوگی نہ پیاس اور نہ دھوپ یعنی وہاں ہر قسم کا آرام و سکون ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی فرعون کے ساتھ کشمکش کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے تسلی کا سامان پیدا کیا۔ پھر رسالت کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ قیامت کا حال بھی بیان ہوا۔ مومنین اور کافروں کو پیش آنے والے حالات کا ذکر ہوا۔ پھر قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک نصیحت نامہ ہے ، اللہ نے اس کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ پھر آپ سے فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ اس کا ضبط اور بیان ہمارے ذمہ ہے ، ہم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیں گے بلکہ آپ کو پورا پورا یاد کرادیں گے۔ فرمایا جلدی کرنے کی بجائے…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰي 117
عدو
العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال :
رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّلَّـکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّـکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَـتَشْقٰی۔
(طٰـہٰ : 117)
(تو ہم نے کہا، اے آدم ! یہ تمہارا بھی دشمن ہے اور تمہاری بیوی کا بھی، سو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے اور پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ۔ )
حضرت آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی سے آگاہی
حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں ٹھہراتے ہوئے پروردگار نے آگاہ کردیا تھا کہ یہ ابلیس تمہارا دشمن ہے۔ آیت کریمہ میں ” ھذا “ کا لفظ یہ اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت آدم ابلیس کو جانتے پہچانتے تھے۔ اس نے سب کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور اس کی دشمنی سے بھی واقف تھے۔ وہ جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے عہد پر عزم بالجزم کے ساتھ قائم نہ رہنا شیطان کی وجہ سے تھا اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی دشمنی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام ملائکہ جن میں ابلیس بھی شامل تھا حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ لیکن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کھلے الفاظ میں بتلایا کہ اے آدم ! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ خیال رکھنا کہیں وہ تم دونوں کو اس جنت سے نکلوا کر تمہیں دنیا کی مشقت میں نہ ڈال…
Read the full tafseer →117: فَقُلْنَا یٰٓاٰ دَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّلَّکَ وَلِزَوْجِکَ (اور ہم نے کہا اے آدم بیشک یہ تیرا دشمن اور تیری بیوی کا دشمن ہے) اس طرح کہ اس نے تمہیں سجدہ نہیں کیا اور تیری عظمت کا قائل نہیں۔ فَـلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ (کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکال باہر کرے) یعنی تمہارے جنت سے نکلوانے کا سبب نہ بن جائے۔ فَتَشْقٰی (پھر تم مشقت و مصیبت میں پڑ جائو) خوراک کی تلاش میں تھکنا پڑے۔
یہاں فتشقیا نہیں فرمایا آیات کے آواخر کا لحاظ رکھا گیا۔ نمبر 2۔ حواء تو بحیثیت تابع داخل ہی ہے۔ نمبر 3۔ مرد عورت کے خرچہ کا ذمہ دار ہے۔ روایت تفسیر یہ میں ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
117۔ فقلنا یا آدم ان ھذاعدولک ولزوجک، ، حضرت حواء کا بھی دشمن ہے۔ فلایخرجنکما من الجنۃ فتشقی، پھر تھک جاؤ گے تعجب میں پڑجاؤ گے۔ آپ کی زندگی دائیں ہاتھ کی کمائی سے ہوگی کہ اس ہاتھ سے کما کر پسینہ بہاکر ایک دانہ حاصل کرکے اس پر طرح طرح کی مشقتیں کاٹ کر حاصل کرو گے۔ سدی کا بیان ہے کہ اس سے مراد کھیتی باڑی کرنا، پھر اس پیداوار کو کاٹنا، پھر اس کو پیس کر آٹا گوندھنا پھر گرم آگ پر اس کو پکانا۔
سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے ایک سرخ بیل بھی پیدا کیا گیا جس کے ذریعے وہ زمین کھودتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے ۔ یہ تشقی کا مفہوم ہے۔ یہاں خطاب صرف حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
122 حکم خداوندی کی خلاف ورزی کا نتیجہ تعب و مشقت ۔ والعیاذ باللہ : سو آدم سے فرمایا گیا کہ " کہیں شیطان تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ۔ پس اس کے مکر و فریب سے بہرحال ہوشیار رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں میاں بیوی کو جنت سے نکلوا دے اور اس کے نتیجے میں تم دنیا میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑجاؤ۔ اور بیوی چونکہ مرد کے تابع ہوتی ہے اس لیے اس کی اصل ذمہ داری مرد ہی پر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں { تشقی } مفرد کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ " تشقیا " تثنیہ کا صیغہ نہیں اختیار فرمایا گیا۔ بہرکیف شیطان کی پیروی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت کا نتیجہ تعب و مشقت میں مبتلا ہونا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ف 8 دشمنی کا مظاہرہ تو وہ اسی وقت کرچکا تھا جب اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (الاعراف 12)9 یعنی روزی کے لئے محنت مشقت کرنی پڑے اور جنت کی تمام نعمتیں اور آسائشیں چھین لی جائیں۔ آدم کی کی طرف خاص کر شقاوت کی نسبت اسی لئے ہے مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لئے اصل آدمی ہی ہیں اور حوا ان کے تابع
Read the full tafseer →(20:117) فتشقی۔ تشقی مضارع واحد مذکر حاضر۔ شقی یشقی (سمع) شقاوۃ شقوۃ۔ شقوۃ مصدر۔ بدبخت ہونا۔ شقاوۃ جملہ اعتبارات وحیثیات سے سعادۃ سعادت نفسی۔ سعادت بدنی۔ سعادت خارجی۔
اسی طرح شقاوت بھی ان ہی اقسام پر منقسم ہوتی ہے۔ چناچہ شقاوت اخروی کی مثال ہے فلا یضل ولا یشقی (20: 133) وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔
اور شقاوت دنیوی کے متعلق ہے فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (آیت ہذا) تو یہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے پھر تم تکلیف میں پڑ جائو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ (شیطان) تمہیں کوئی چکمہ دے اور تم پھنس جائو۔ ایسے یہ تم کو جنت کی راحتوں سے محروم کر دے گا۔ فتشقی اور تم مشقت میں مبتلا ہوجائو گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کو شیطان کا بہکانا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت
یہاں فرمایا کہ شیطان تم دونوں کو جنت سے زمین پر اتار دینے کی تدبیر کرے گا تم اس کا کہنا ہر گز نہ ماننا۔ کیونکہ اگر تم نے شیطان کا کہنا مان کر جس درخت کے پھل سے تم کو روکا گیا ہے، وہ پھل کھالیا تو پھر تم کو زمین پر اتار دیا جائے گا۔ جہاں تمہیں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔ محنت نہ کرو گے تو بھوکے، اور کپڑوں کی تدبیر نہ کرو گے تو ننگے رہو گے۔ ہاتھ سے پانی نہ بھرو گے تو پیاسے، اور دھوپ میں کھیتی کرو گے تو گرمی کی تکلیف اٹھاؤ گے۔ یہ جنت کی سی راحت جاتی رہے گے۔ اللہ سچا ہے، اور اس نے علم غیب کے موافق یہ بات جو آدم (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–120
[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔
[54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟
حل لغات :
لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔
شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔
یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…
Read the full tafseer →- 1 17 پھر ہم نے آدم (علیہ السلام) یہ ابلیس یقینا تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو کسی غلطی کے ارتکاب کے باعث جنت سے نکلوا دے پھر تو تکلیف و مصیبت میں پڑجائے۔ یعنی ابلیس تجھ کو کسی غلطی پر بہکا کر آمادہ کر دے اور تم دونوں جنت سے نکال دیئے جائو اور معیشت کے چکر میں پھنس جائو چونکہ بیوی کی ذمہ داری بھی خاوند پر ہوتی ہے اس لئے آدم (علیہ السلام) کو مشقت میں مبتلا ہونے سے ہوشیار کیا اگرچہ پریشانی بیوی کو بھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
ف 2۔ یعنی اس کے کہنے سے کوئی ایسا کام مت کر بیٹھنا کہ جنت سے باہر کئے جاو۔
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کو بتا دیا گیا کہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا پکا دشمن ہے اس سے چوکنے رہنا :
117۔ اس طرح اب قصہ ابلیس وآدم کے مختصر حصص کرکے کبھی کوئی بات اور کبھی کوئی بات بیان کی گئی جس طرح انسان نصیحت کرتا ہے وہی انداز اختیار کیا گیا اس بیان میں ترتیب قصہ ملحوظ نہیں رکھی گئی اور یہ بات قرآن کریم میں اکثر مقامات پر پائی جاتی ہے اور وجہ اسکی یہی ہے کہ تذکیر ونصیحت کے لئے ایسا کرنا لازم وضروری ہوتا ہے تاکہ ضرورت کی بات بیان کرکے اس سے مقصد نصیحت حاصل کیا جائے ، ہمارے مفسرین نے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کریمات کو جہاں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ ابلیس نے جوش حسد میں آ کر خود اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →(فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰ ). The word تَشقٰی (tashga) is derived from شَقَاوَہ (shaqawah) which has two meanings namely distress or trouble in the Hereafter and distress in this world. Here the word has obviously been used in the second meaning because it cannot be used in its first meaning even for pious Muslims, leave alone the prophets. Commentators have explained this word in the sentence ھو امن یاکل من کدّ یدیہ (He will have to earn his living by the labour of his hands). (Qurtubi) In the present context the second meaning of the word appears more appropriate…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
95. Here the command, which was given to Prophet Adam, has not been mentioned, which was: You must not eat the fruit of this tree. This has been mentioned at other places but has been omitted here because the emphasis here is on this weakness of man that he is easily seduced by Satan in spite of the forewarnings and admonitions to this effect.
96. Both knew that Satan was their enemy, for Adam himself had witnessed the demonstration of his enmity, when he had refused to bow down before him and declared in plain words: I am better than him. You created me of fire and him of clay. (Surah…
Read the full tafseer →