Explained with ayahs 115–122
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
سورة طٰهٰ 95
یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم ؑ کو دیا گیا تھا، یعنی یہ کہ " اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا "۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوچکا ہے۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہوجاتا ہے، اور کس طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی۔
سورة طٰهٰ 96
دشمنی کا مظاہرہ اسی وقت ہوچکا تھا۔ آدم اور حوا…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ، یہ اس عہد کا مختصر بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ سے لیا تھا اس میں تخلیق آدم کے بعد سب فرشتوں کو اور ان کے ضمن میں ابلیس کو بھی، کیونکہ اس وقت تک ابلیس جنت میں فرشتوں کے ساتھ رہتا سہتا تھا یہ حکم دیا گیا کہ سب کے سب آدم ؑ کو سجدہ کریں سب فرشتوں نے سجدہ کرلیا مگر ابلیس نے انکار کردیا جس کی وجہ دوسری آیات میں اس کا تکبر تھا کہ میں آگ سے بنا ہوں یہ مٹی سے، اور آگ بہ نسبت مٹی کے افضل و اشرف ہے میں اس کو سجدہ کیوں کروں، اس پر ابلیس تو ملعون ہو کر جنت سے نکالا گیا۔ حضرت آدم و حوا کے لئے جنت کے سب باغات اور ساری نعمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہر چیز کے…
Read the full tafseer →اوپر والی آیت میں قصہ آدم و ابلیس کا وہ خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے جو یہاں اس کے بیان سے مدنظر ہے۔ اس کے بعد اب اصل قصہ کی تفصیل آرہی ہے۔ قصوں کی تفصیل سے پہلے ان کا خلاصہ نگاہ کے سامنے کردینے سے نظم کلام کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور یہ اسلوب بیان قران نے جگہ جگہ اتخیار کیا ہے۔ اصحاب کہف کے واقعہ کے بیان کرنے میں بھی قرآن نے یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے اور ہم اس کی وضاحت اس کے محل میں کرچکے ہیں۔
قصہ آدم و ابلیس کا سبق
فرمایا کہ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو تعظیم بجا لائو تو سب نے اس حکم کی تعمیل کی مگر ابلیس نے اس کی تعمیل سے انکار کردیا۔ یہ ماجرا سورة بقرہ اور اعراف میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
117۔ 1 یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم ؑ سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑجائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم ؑ و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
49: جس تاکید کا یہاں ذکر ہے، اس سے مراد ایک خاص درخت کا پھل نہ کھانے کی تاکید ہے۔ اس واقعے کی تفصیل اور اس سے متعلق سوالات کا جواب سورة بقرہ : 34 تا 39 میں گذر چکا ہے۔ اور یہاں آدم ؑ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان میں عزم نہیں پایا، اس کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان سے درخت کا پھل کھانے کے سلسلے میں جو غلطی ہوئی، اس میں ان کے عزم کو دخل نہیں تھا، یعنی انہوں نے نافرمانی کے ارادے سے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ان سے بھول ہوگئی۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ان میں ایسا پختہ عزم نہیں تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آتے۔ اس سے انسان کی اس سرشت کی طرف…
Read the full tafseer →جہاں یہ قصہ اجمالاً بیان ہوتا ہے۔ دوسری جگہ اس کی تفصیلات ہیں کیونکہ یہاں اس قصے کا صرف وہ پہلو دکھانا ہے جو انبیاء پر انعامات کا ہے۔ لہٰذا انعام کا پہلو جلدی بیان کرنے کے لئے یہ اجمال و اختصار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
9 ظاہر ہے بہشت کا آرام دوسری جگہ کہاں مل سکتا ہے۔ آخر کھانے پہننے، رہنے سہنے کی تدبیریں کرنی پڑیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
اب یہاں قصہ آدم و ابلیس پانچویں مرتبہ بیان ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع : 4 ‘ سورة الاعراف رکوع : 2 ‘ سورة بنی اسرائیل رکوع : 7 اور سورة الحجر رکوع : 3 میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
84 آدم و ابلیس کا قصہ سورة ئبقرہ، اعراف اور دیگر کئی مقامات پر پہلے ہی گزر چکا ہے۔ اور آئندہ بھی آئے گا، مگر ہر مقام پر اتنا ہی ذکر کیا گیا جتنا موقع کے لحاظ سے مناسب تھا۔ گویا اس قصہ کے مختلف اجزاء سے مختلف نتائج پیش کئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →138۔ اس سجدہ کے حکم اور ابلیس کے انکار وغیرہ پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکے پ 1 رکوع 4۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
آیت نمبر 116 تا 128
ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…
Read the full tafseer →واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی۔ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے سامنے سجدہ کرو۔ فوراً سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ اس نے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →(116) اور جب کہ ہم نے ان فرشتوں سے بھی کہا جو کہ زمین پر تھے کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ تحیت کرو تو سوائے ان کے سردار ابلیس کے اور سب نے سجدہ کیا، ابلیس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنا اپنی بڑائی کے خلاف سمجھا اور انکار کردیا۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (34 تا 36) اور اعراف (11، 12)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی۔ سورة بقرہ میں اس پر تفصیلاً گفتگو گزر چکی ہے۔ فقلنا یادم ان ھذا عدولک ولزوجل فلا فخرجنکما یہ نہی ہے مطلب یہ اس کی بات نہ ماننا ورنہ تمہارے جنت سے خروج کا سببب بن جائے گا۔ فتشقیٰ یعنی آپ اور آپ کی بیوی دونوں علت کے برابر ہونے ک میں ایک ہیں 0۔ فتشقیا نہیں فرمایا کیونکہ معنی معروف ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مخالف ہیں اور وہی مقصود ہیں نیز حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت حواء کے لیے محنت کرنے والے تھے اور اس کے لیے کمانے والے تھے تو شقا میں وہ خاص کیے گئے۔ بعض نے فرمایا : اخراج دونوں پر واقع ہوگا اور شقا صرف حضرت آدم پر ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو سب نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [اَبٰى: اس نے انکار کیا ]
[ب ل ی ](س) بِلًی کسی چیزکا پرانا اور بوسیدہ ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 120]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–122
سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
82:۔ مقصد یہ ہے کہ ابلیس تمہارا پرانا جدی پشتی دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریق سے تمہیں کفر و شرک اور دوسرے گناہوں سے ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے فریب سے بچو ” اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ الخ “ یہ جنت کی خوبیاں ہیں کہ وہاں نہ بھوک ہوگی نہ پیاس اور نہ دھوپ یعنی وہاں ہر قسم کا آرام و سکون ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی فرعون کے ساتھ کشمکش کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے تسلی کا سامان پیدا کیا۔ پھر رسالت کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ قیامت کا حال بھی بیان ہوا۔ مومنین اور کافروں کو پیش آنے والے حالات کا ذکر ہوا۔ پھر قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک نصیحت نامہ ہے ، اللہ نے اس کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ پھر آپ سے فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ اس کا ضبط اور بیان ہمارے ذمہ ہے ، ہم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیں گے بلکہ آپ کو پورا پورا یاد کرادیں گے۔ فرمایا جلدی کرنے کی بجائے…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ 0ۭ اَبٰى 116
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102]
( م ل ک ) الملک
الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلآَّ اِبْلِیْسَ ط اَبٰی۔ (طٰـہٰ : 116)
(اور جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کردیا۔ )
گزشتہ آیت کریمہ میں نہایت اجمال سے حضرت آدم کے جس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اب اس کی کسی حد تک تفصیل بیان کی جارہی ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کا قالب تیار کیے جانے کے بعد جب ان میں روح پھونکی گئی تو تمام فرشتوں کو سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس سے پہلے سورة البقرہ اور سورة الاعراف میں ہم یہ تفصیل عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم صرف ملائکہ کے لیے ہی تھا یا اس میں جنات بھی شامل تھے ؟ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–119
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے عہد پر عزم بالجزم کے ساتھ قائم نہ رہنا شیطان کی وجہ سے تھا اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی دشمنی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام ملائکہ جن میں ابلیس بھی شامل تھا حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ لیکن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کھلے الفاظ میں بتلایا کہ اے آدم ! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ خیال رکھنا کہیں وہ تم دونوں کو اس جنت سے نکلوا کر تمہیں دنیا کی مشقت میں نہ ڈال…
Read the full tafseer →116: وَاِذْ قُلْنَا (اور جب ہم نے کہا۔ )
نحو : یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔
لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ (فرشتوں کو کہ تم آدم کو سجدہ کرو) قول اول یہ لغوی سجدہ ہے جو کہ تذلل، خضوع کو کہا جاتا ہے۔ دوسرا قول آدم کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے آدم کو قبلہ کی طرف قرار دیکر سجدہ کا حکم ہوا۔ فَسَجَدُوا اِلَّا اِبْلِیْسَ (پس انہوں نے سوائے ابلیس کے سجدہ کیا) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابلیس فرشتہ تھا مستثنیٰ منہ کی جنس سے تھا۔
حضرت حسن کا قول یہ ہے ملائکہ ارواح کی مخلوق کا نچوڑ ہیں۔ ان میں توالد و تناسل نہیں اور ابلیس گرم لو کے مادہ سے ہے (جو جنات کی اصل ہے) ان سے استثناء انکا اس لئے صحیح…
Read the full tafseer →116۔ واذقلناللملائکۃ۔۔۔۔۔ ، اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
117 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے بطور حصر و تاکید واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی ہے بادشاہ حقیقی۔ اس ساری کائنات کا اور اسی کا حکم اور تصرف چلتا ہے اس پوری کائنات میں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " سو بڑا ہی بالا و برتر ہے وہ اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے "۔ جس کی بادشاہی حقیقی اور ہر شئی پر حاوی ہے اور جو ظاہر و باطن سب پر اور ہر لحاظ سے حاوی ہے اور ازلی و ابدی ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گی۔ اس کے سوا اور کسی کی یہ شان کہاں اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ ۔ سو وہی ہے بادشاہ حقیقی جو کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خالق کل اور مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–128
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔
(دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے)
تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
ف 8 دشمنی کا مظاہرہ تو وہ اسی وقت کرچکا تھا جب اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (الاعراف 12)9 یعنی روزی کے لئے محنت مشقت کرنی پڑے اور جنت کی تمام نعمتیں اور آسائشیں چھین لی جائیں۔ آدم کی کی طرف خاص کر شقاوت کی نسبت اسی لئے ہے مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لئے اصل آدمی ہی ہیں اور حوا ان کے تابع
Read the full tafseer →(20:116) ابی۔ اباء مصدر سے (باب فتح) یابی۔ انکار کرنا۔ ناپسند کرنا۔ اس نے سخت انکار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی، فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا :" یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا، اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس لئے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں مسجدہ کیونکر ہو سکتا ہوں " شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے۔ پھر فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل جب فوراً بلا عذر کرلی، تو اس ناری جسم کو کسی عذر کے پیش کرنے کیا موقع باقی رہا۔ غرض اس سرکشی کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ٹھہرا کر آسمان پر سے زمین پر اتار دیا۔ اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–120
[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔
[54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟
حل لغات :
لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔
شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔
یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…
Read the full tafseer →- 1 16 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو اس پر سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس ابلیس نے تعمیل سے انکار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
ف 1۔ اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں ہے اس میں عدم حصول کی خیر سمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی، یہ سب دعائیں داخل ہیں، حاصل یہ کہ تدابیر حفظ میں سے تدبیر تعجیل کو ترک کیجئے اور تدبیر دعا کو اختیار کیجئے
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں پر فوقیت عطا کردیئے جانے کا مختصر ذکر :
116۔ فرشتہ کیا ہے ؟ فقط خیر ہی خیر ۔ اور ابلیس کیا ہے فقط شر ہی شر ، اور انسان کیا ہے ؟ خیر وشر کا مجموعہ ، عقل کیا ہے خیر وشر کی پہچان ، اسلام کیا ہے ؟ خیر کے کرنے اور شر سے بچنے ‘ خیر کا حکم دینے اور شر سے منع کرنے کا نام اسلام ہے زیر نظر آیت میں فرمایا کہ انسان کو پیدا کرنے کے بعد ہم نے اس کی آزمائش کی اور جب اس آزمائش سے وہ پاس ہوگیا یعنی اتنے نمبر حاصل کر لئے کہ وہ پاس قرار دے دیا گیا تو ہم نے فرشتوں کو جو مجموعہ خیر ہیں حکم دیا کہ آدم کی فوقیت کا اقرار کرو کیونکہ وہ شرکو دبا کر خیر کی طرف دوڑ آیا ہے فرشتوں نے اس بات کو…
Read the full tafseer →وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ (And when We said to angels - 20:116)Here is a brief mention of the command which, after the creation of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) Allah gave to all the angels including Iblis (Shaitan) who at that time lived in the Paradise with them, to prostrate to him. All the angels obeyed but Shaitan refused. In his haughtiness he claimed that he was made of fire while Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) was made of clay, and fire being superior to clay, he could not be expected to prostrate to the latter. As a punishment for his arrogance and defiance of the command of Allah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
95. Here the command, which was given to Prophet Adam, has not been mentioned, which was: You must not eat the fruit of this tree. This has been mentioned at other places but has been omitted here because the emphasis here is on this weakness of man that he is easily seduced by Satan in spite of the forewarnings and admonitions to this effect.
96. Both knew that Satan was their enemy, for Adam himself had witnessed the demonstration of his enmity, when he had refused to bow down before him and declared in plain words: I am better than him. You created me of fire and him of clay. (Surah…
Read the full tafseer →