Explained with ayahs 115–122
انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟
حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 92
جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے، یہاں سے ایک الگ تقریر شروع ہوتی ہے جو اغلباً اوپر والی تقریر کے بعد کسی وقت نازل ہوئی ہے اور مضمون کی مناسبت سے اس کے ساتھ ملا کر ایک ہی سورة میں جمع کردی گئی ہے۔ مضمون کی مناسبتیں متعدد ہیں۔ مثلاً یہ کہ
1) وہ بھولا ہوا سبق جسے قرآن یاد دلا رہا ہے وہی سبق ہے جو نوع انسانی کو اس کی پیدائش کے آغاز میں دیا گیا تھا اور جسے یاد دلاتے رہنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا، اور جسے یاد دلانے کے لیے قرآن سے پہلے بھی بار بار " ذکر " آتے رہے ہیں۔
2) انسان اس سبق کو بار بار شیطان کے بہکانے سے بھولتا ہے، اور یہ کمزوری وہ آغاز آفرینش سے برابر دکھا رہا ہے۔ سب سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس سے (بہت زمانہ) پہلے ہم آدم ؑ کو ایک حکم دے چکے تھے (جس کا بیان آگے آتا ہے) سو ان سے غفلت (اور بےاحتیاطی) ہوگئی اور ہم نے (اس حکم کے اہتمام میں) ان میں پختگی (اور ثابت قدمی) نہ پائی اور (اس اجمال کی تفصیل اگر مطلوب ہو تو) وہ وقت یاد کرو جبکہ ہم نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ (تحیت) کرو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے (کہ) اس نے انکار کیا پھر ہم نے (آدم سے) کہا کہ اے آدم (یاد رکھو) یہ بلاشبہ تمہارا اور تمہاری بی بی کا (اس وجہ سے) دشمن ہے (کہ تمہارے معاملہ میں مرد و ہوا) سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے (یعنی اس کے کہنے سے کوئی ایسا کام مت کر بیٹھنا کہ جنت…
Read the full tafseer →عھد الی کا مفہوم ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں۔ یہ اسلوب بیان کسی کو کوئی خاص ہدایت یا وصیت تاکید و اہتمام کے ساتھ کرنے کے لئے آتا ہے۔
عجلت سے احتراز کی ہدایت
اوپر کی آیت میں آنحضرت کو قرآن کے معاملہ میں جلدی کرنے سے روکا ہے۔ اب اس جلدی کے نقصانتا واضح کرنے کے لئے حضرت آدم اور ابلیس کے ماجرے کا حوالہ دیا ہے کہ یہی عجلت آدم کے لئے مزلہ قدم ثابت ہوئی۔ انسانی فطرت کے اسی ضعف سے ابلیس نے فائدہ اٹھایا اور آدم کو ورغلا کر اللہ کی اس ہدایت سے غافل کردیا جو ان کو ایک خاص درخت کے پھل سے احتراز کے لئے کی گئی تھی۔ جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ آدم کو جنت سے نکل کر اس دنیا کے دارالابتلاء میں آنا پڑا۔ مقصود…
Read the full tafseer →15۔ 1 نسیان، (بھول جانا) ہر انسان کی سرشت میں داخل ہے اور ارادے کی کمزوری یعنی فقدان عزم۔ یہ بھی انسانی خصلت میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں کمزوریاں ہی شیطان کے وسوسوں میں پھنس جانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ان کمزوریوں میں اللہ کے حکم سے بغاوت و سرکشی کا جذبہ اور اللہ کی نافرمانی کا عزم مصمم شامل نہ ہو، تو بھول اور ضعف ارادہ سے ہونے والی غلطی عصمت و کمال نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ اس کے بعد انسان فوراً نادم ہو کر اللہ کی بارگاہ میں جھک جاتا اور توبہ و استفغار میں مصروف ہوجاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت آدم ؑ نے کیا) حضرت آدم ؑ کو اللہ نے سمجھایا تھا کہ شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، یہ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–116
49: جس تاکید کا یہاں ذکر ہے، اس سے مراد ایک خاص درخت کا پھل نہ کھانے کی تاکید ہے۔ اس واقعے کی تفصیل اور اس سے متعلق سوالات کا جواب سورة بقرہ : 34 تا 39 میں گذر چکا ہے۔ اور یہاں آدم ؑ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان میں عزم نہیں پایا، اس کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان سے درخت کا پھل کھانے کے سلسلے میں جو غلطی ہوئی، اس میں ان کے عزم کو دخل نہیں تھا، یعنی انہوں نے نافرمانی کے ارادے سے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ان سے بھول ہوگئی۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ان میں ایسا پختہ عزم نہیں تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آتے۔ اس سے انسان کی اس سرشت کی طرف…
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کو حکم یہ تھا کہ وہ جنت کا ہر پھل کھائیں مگر ایک خاص درخت کا پھل نہ کھائیں۔ انسان کی تربیت اور اس کی قوت ارادی کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بعض چیزوں کی ممانعت کردی جائے تاکہ اس کی شخصیت پختہ ہو۔ یہ انسانی خواہشات اور مادی میلانات پر وہ کنٹرول کرسکے تاکہ وہ جب روحانی ترقی کے لئے اپنی ضروریات مادی کو کم کرنا چاہے تو کم کرسکے۔ وہ مرغوبات اور خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔ یہ وہ معیار ہے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے وہ ایسی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر ضبط کیا ہے۔ ان کے مرغوبات کے استعمال میں اعتدال ہوتا ہے اور خواہشات سے وہ بلند…
Read the full tafseer →8 وہ ہی جو دانہ کھالیا تھا۔ بھول گئے، یعنی قائم نہ رہے، آگے اس قصہ کی قدرے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 115 وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلآی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ ”
یعنی مخصوص درخت کے پاس نہ جانے کا عہد ‘ جس کا ذکر قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔
فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ”
آیت زیر نظر میں ”عزم“ کے دو ترجمے کیے گئے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک ارادے کی پختگی۔ اس لحاظ سے وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے آدم علیہ السلام کے اندر ارادے کی پختگی ‘ ہمت اور عزیمت نہیں پائی۔ وہ اللہ سے کیے گئے اپنے عہد کو نبھا نہ سکے اور اس اعتبار سے انہوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ یہ دراصل انسانی خلقت کے اندر موجود اس کمزوری کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة النساء میں اس طرح آیا ہے : وَخُلِقَ…
Read the full tafseer →83 یہاں سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بھولنے کا ذکر، ذکر کی مناسبت سے فرمایا۔ یعنی چونکہ بھول جانا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ذکر یا یاددہانی نازل کی جاتی رہی ہے۔ اور اس فطرت انسان کا آغاز ان کے باوا آدم سے ہی ہوگیا تھا۔ ان کا عزم اتنا مضبوط نہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد رکھتے۔ چناچہ ایک طویل مدت کے بعد جب کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) اس عہد کو بھول ہی چکے تھے۔ شیطان کا داؤ چل گیا اور آپ شیطان کے فریب میں آگئے۔ اس مطلب سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھول چوک انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ یہی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھول چوک…
Read the full tafseer →137۔ یہ پختگی نہ ہونا، اور عدم ثبات وعزم دانستہ نافرمانی اور ارادی سرکشی سے بالکل مختلف ہے۔ بعض اہل لطائف نے یہ معنی بھی کہے ہیں کہ ” ہمنے ان میں ارادہ ہی نہ پایا “ یعنی گناہ کا قصد انہوں نے کیا ہی نہیں محض ایک بدخیالی اور بد احتیاطی ان سے سرزد ہو کر رہی۔ ؛ یحتمل ولم نجد لہ عزما علی المقام علی المعصیۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں دلالت ہے اس پر کہ ضعف طبعی اور کمال میں منافات نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →ولقد عہدنا الی ادم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزما۔ اور اس سے (بہت زمانہ) پہلے ہم آدم کو
ایک حکم دے چکے تھے سو اس سے بھول (اور بےاحتیاطی) ہوگئی اور ہم نے اس کے اندر پختگی نہیں پائی۔ عَہِدْنَا ہم نے آدم کو حکم دیا اور نصیحت کردی کہ درخت کے قریب نہ جائے۔ قاموس نے لکھا ہے عَہِدَ اِلَیْہِاس کو حکم دے دیا یا نصیحت کردی۔ فَنَسِیَیعنی وہ حکم کو بھول گیا اور درخت سے بچے رہنے کا جو اس کو حکم دیا گیا تھا اس کو چھوڑ بیٹھا۔ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا اور حکم کو یاد رکھنے کی کوشش ہم نے اس کے اندر نہیں پائی یا جس چیز سے روکا گیا اس سے باز رہنے پر صبر اس کے اندر نہیں پایا۔ لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے…
Read the full tafseer →(115) اور حضرت آدم ؑ کے اس درخت میں سے کھانے سے پہلے یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے ہم حضرت آدم ؑ کو ایک حکم دے چکے تھے تو ان سے اس حکم کی بجا آوری میں غفلت اور بےاحتیاطی ہوگی اور ہم نے ان میں (مردوں والی) پختگی اور ثابت قدمی نہ پائی۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ۔۔ : ”عَھِدَ إِلَیْہِ“ کا معنی ”أَوْصَاہُ“ ہے کہ اس نے اسے تاکید کی۔ تاکید سے مراد مخصوص درخت کے قریب نہ جانے کا حکم ہے۔ ”نَسِیَ“ کا معنی عام طور پر ”وہ بھول گیا“ آتا ہے، مگر یہاں مراد جان بوجھ کر عمل ترک کرنا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس نے آدم و حوا ؑ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا اور ان دونوں کے لیے اپنے خیر خواہ ہونے کی قسم اٹھائی تھی : (مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ) [ الأعراف : 20 ] ”تم دونوں کے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک یعنی جس طرح ہم نے آپ کے لیے اس سورت میں بیان کیا فکذالک جعلنا قرأنا عربیا یعنی لغت عرب میں ببنایا۔ وصرفنا فیہ من الوعید ہم نے تخویف، تہدید، ثواب اور عقاب بیان کیا۔ لعلھم یتقون یعنی وہ اللہ سے ڈریں اور گناہوں سے اجتناب کریں اور اس کے عذاب سے بچنے والے ہوجائیں۔ او یحدث لھم ذکراً ، ذکر سے مراد نصیحت ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد احتیاط اور تقویٰ ہے۔ بعض نے فرمایا : ذکراً سے مراد شرف ہے۔ یہاں ذکر بمعنی شرف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانہ لذکرلک ولقومک (الزخرف :44) بعض نے فرمایا : تاکہ وہ اس عذاب سے نصیحت حال کر کریں جس کی انہیں وعید سنائی گئی ہے۔ حسن نے او…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی نے صغیر میں ابن مندہ نے توحید میں اور حاکم نے (حاکم نے ان کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انسان اس لے نام رکھا گیا کیونکہ اس نے اس کی طرف (یعنی اللہ تعالیٰ سے) وعدہ کیا پھر بھول گیا۔
2:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن عساکر نے ابو امامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ اگر بنوآدم کی عقلیں جمع کی جائیں جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا قیامت کے قائم ہونے تک اور ان کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں آدم (علیہ السلام) کی عقل کو رکھ دیا جائے ان سب کی عقلوں کے…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ عَهِدْنَآ : اور بیشک ہم نے عہد لیا تھا ] [اِلٰٓى اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) سے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [فَنَسِيَ : تو وہ بھول گئے ] [وَلَمْ نَجِدْ : اور ہم نے نہیں پائی ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) میں ] [عَزْمًا : کوئی ثابت قدمی۔]
نوٹ۔ 1: قیامت کے دن سفارش وہی کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور اسی کے حق میں کرسکے گا جس کے لئے بارگاہ الٰہی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ یہ دونوں باتیں قرآن مجید کے اور دوسرے مقامات پر کھول کر بتادی گئی ہیں۔ پھر آیت۔ 110 ۔ میں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے۔ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہ…
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو جنت میں مخصوص درخت کھانے سے منع فرمانا، پھر شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے بھول کر اس میں سے کھا لینا، اور دنیا میں نازل کیا جانا
حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی حضرت حوا [ کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے دونوں جگہ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں اور اجمالی طور پر سورة حجر اور سورة بنی اسرائیل میں بھی بیان کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا لیکن وہ اسے بھول گئے اور پختگی کے ساتھ حکم کی پابندی کا دھیان نہ رکھا لہٰذا غفلت ہوگئی۔ پہلی آیت میں بالاجمال اس کو بیان فرمایا، اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–127
ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں…
Read the full tafseer →81:۔ ہم نے بنی آدم کی تخلیق سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ جنت میں رہیں اور وہیں کے پھلوں اور میووں میں سے جو چاہیں کھائیں اور ایک درخت سے ہم نے ان کو منع کیا تھا کہ اس کے قریب نہ جائیں مگر ان سے بھول ہوگئی اور انہوں نے شجرہ ممنوعہ سے تناول کرلیا۔ اس طرح وہ عزم اور ثبات قدم کا ثبوت نہ دے سکے یا عزم سے پختہ ارادہ مراد ہے، یعنی آدم (علیہ السلام) نے بالارادہ اللہ کے حکم کے خلاف نہیں کیا تھا۔ بلکہ بھول ہوگئی تھی اور اللہ کا حکم یاد نہیں رہا تھا۔ کانہ لما مدح سبحانہ القران وحرض علی استعمال التؤدۃ والرفق فی اخذہ و عھد علی العزیمۃ بامرہ وترک النسیان فیہ ضرب حدیث ادم مثلاً للنسیان فیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ربط آیات :
یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا 115ۧ
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124]
( ع ھ د ) العھد
( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ عَھِدْنَـآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْلَـہٗ عَزْمًا۔ (طٰـہٰ : 115)
(ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا، سو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ )
ربطِ کلام
سابقہ آیات کریمہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل اور اہل مصر کی ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور پھر انھیں تورات دینے کے لیے کوہ طور پر بلایا اور وہ جاتے ہوئے اپنی قوم کو بتا کر گئے کہ میں تمہارے لیے ایک ہدایت نامہ لینے کے لیے جارہا ہوں جس سے ہمیشہ تم رہنمائی حاصل کرسکو گے۔ لیکن قوم نے اس ہدایت نامہ کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے نبی ﷺ کو جلد بازی سے منع کیا گیا ہے۔ اب آدم (علیہ السلام) کے حوالے سے جلد بازی کی مثال اور اس کا نقصان ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں داخل کرتے وقت عہد لیا تھا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو۔ تمہیں اس بات کی کھلی اجازت ہے جہاں سے چاہو اور جو چاہو کھاؤ اور پیو۔ لیکن جس درخت کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے قریب نہیں جانا۔ اگر تم اس درخت کے قریب جاؤ گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔ (البقرۃ : 35) لیکن آدم (علیہ السلام) اس عہد کو بھول گئے اور اس پر استقامت نہ دکھا سکے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا واقعہ موقع کی…
Read the full tafseer →قصہ آدم ( علیہ السلام) و ملائکہ و ابلیس :
115: وَلَقَدْ عَھِدْنَـآ اِلٰٓی اٰدَمَ (اور تحقیق ہم آدم (علیہ السلام) کو ایک حکم دے چکے تھے) یعنی ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ درخت میں سے نہ کھائیں بادشاہوں کے اوامر وو صایا میں کہا جاتا ہے تقدم الملک الی فلان واوعزالیہ و عزم علیہ وعھد الیہ۔ ان تمام میں حکم و نصیحت کا معنی ہے۔
نحو : قصہ آدم کا عطف و صَرَّفنا فیہ من الوعید پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں قسم سے کہتا ہوں کہ ہم نے تمہارے باپ آدم کو حکم دیا اور ان کو وصیت کی کہ وہ درخت کے قریب نہ جائیں۔
مِنْ قَبْلُ (ان کے وجود سے قبل) پس انہوں نے وہ کرلیا جس سے روکا گیا تھا۔ جیسا کہ یہ مخالفت کر رہے ہیں۔ مطلب…
Read the full tafseer →تفسیر۔
115۔ ولقد عھدنا الی آدم من قبل، ، ہم نے حضرت آدم کو حکم دیا اور نصیحت کردی کہ درخت کے قریب نہ جائے اور اس درخت سے نہ کھائے۔ فنسی، حضرت آدم اس امر کو بھول گئے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے عہد کو توڑدیا اور وہ بھول گئے۔ ولم نجدلہ عزما، حسن کا قول ہے کہ جس چیز سے ان کو روکا گیا اس سے کماحقہ نہ رک سکے بلکہ بھول گئے۔ عطیہ عوفی کا بیان ہے کہ جس چیز کا ان کو حکم دیا اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ شیطان نے آپ کو پختہ عزم دیا جس وجہ سے وہ غلطی کربیٹھے اور وہ ان کے ساتھ حسد کرتا تھا اور اسی نے آپ کے سامنے سرجھکانے سے انکار کردیا۔ لغت میں عزم کا معنی ہے کسی کام کو کرنے کا پختہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
113۔ 115:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ لوگ ان پڑھ رسول سے یہ غیب کی باتیں سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ قرآن اترا ہے ان کو اللہ کا رسول جان لیں ان آیتوں میں فرمایا جس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر ہے اسی طرح عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں بھی اہل مکہ کی بول چال کی عربی زبان کے موافق قرآن میں جگہ جگہ ہیں تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آئیں اور عذاب آخرت سے بچیں اور پچھلی امتوں کے ہلاکت کے قصے سن کر اور شام کے ملک کے سفر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
آیات (115)
یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
117 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے بطور حصر و تاکید واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی ہے بادشاہ حقیقی۔ اس ساری کائنات کا اور اسی کا حکم اور تصرف چلتا ہے اس پوری کائنات میں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " سو بڑا ہی بالا و برتر ہے وہ اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے "۔ جس کی بادشاہی حقیقی اور ہر شئی پر حاوی ہے اور جو ظاہر و باطن سب پر اور ہر لحاظ سے حاوی ہے اور ازلی و ابدی ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گی۔ اس کے سوا اور کسی کی یہ شان کہاں اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ ۔ سو وہی ہے بادشاہ حقیقی جو کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خالق کل اور مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی ارادہ کی پتخگی اور درخت کے قریب نہ جانے کا جو عہد کیا تھا اس پر جمے رہتے بلکہ شیطان کے بہکانے میں آگئے۔ (شوکانی) اس واقعہ کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ (قرآن میں یہ چھٹی با رآدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان ہو رہا ہے۔ اول سورة قرہ، دوم اعراف، سوم حجر، چہار اسرا، پنجم کہف اور ششم یہاں اور ہر جگہ ای ک خاص مقصد کے تحت مختلف انداز سے اس قصہ کو دہرایا گیا ہے۔ یہاں جمل سے اس کی مناسبت کے سلسلہ میں چند وجوہ بیان کی گی ہیں۔ اوپر آیت ” نذالک نقص علیک من انبا وما قدسبق “ سے اس کا تعلق ہے یعنی اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم قصے بیان فرمائیں گے۔ چناچہ اس کے تحت آدم کا قصہ بیان فرما دیا اور ایک مناسبت وہ…
Read the full tafseer →(20:155) عھدنا الی ادم۔ ہم نے آدم سے عہد کیا تھا۔ عہد الی۔ عہد کرنا۔ شرط لگانا۔ وصیت کرنا۔ یہ عہد شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانے کا تھا۔ فنسی۔ ای فنسی العہد۔ پس وہ اس عہد کو بھول گیا۔ صاحب ضیاء القرآن المفردات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :۔
نسیان کا معنی ہے انسان کا اس چیز کو محفوظ نہ رکھنا جو اسے ودیعت کی گئی ہے اور اس کی وجہ کبھی تو دل کی کمزوری کبھی غفلت ہوتی ہے اور کبھی قصداً بھی انسان کسی چیز کو اپنے دل سے محو کردیتا ہے ۔ اور یہی نسیان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مذموم ہے۔
لم نجد لہ عزما۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(1) ہم نے (اس لغزش میں) ان کا کوئی قصد نہ پایا۔ یعنی آپ نے قصدا اس درخت کا پھل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–128
لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128
تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔
تشریح : آیت نمبر 115 تا 128
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا : کہ آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف گیہوں کا دانہ جو کھایا۔ اس قصے کے ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی یہ تسکین بھی فرمائی ہے کہ قریش سیدھی سیدھی جو باتیں قرآن کی نہیں مانتے، اور شیطان کے بہکانے میں آکر اللہ کلے حکم کے بر خلاف کام کرتے ہیں، یہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے انسان کی ایک قدیمی عادت ہے۔ اس لئے اس کا کچھ رنج نہیں کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–120
[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔
[54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–121
(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟
حل لغات :
لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔
شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔
یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…
Read the full tafseer →- 1 15 اور بلاشبہ ہم نے اب سے بہت پہلے آدم کی تاکید کی تھی اور حکم دیا تھا مگر وہ بھول گیا اور بےاحتیاطی سے کام لیا اور یاد نہ رکھا اور ہم نے اس میں پختگی اور استقلال نہ پایا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس حکم اور تاکید کو یاد نہ رکھا جس چیز کے کھانے سے منع کیا تھا اس کے کھانے میں مبتلا ہوگئے ہم نے اس کے ارادے میں ہمت و استقلال اور پختگی اور ثابت قدمی نہ پائی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہی جو دانا کھالیا بھول گئے یعنی قائم نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
ف 1۔ اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں ہے اس میں عدم حصول کی خیر سمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی، یہ سب دعائیں داخل ہیں، حاصل یہ کہ تدابیر حفظ میں سے تدبیر تعجیل کو ترک کیجئے اور تدبیر دعا کو اختیار کیجئے
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) سے لئے گئے عہد اور ان کی بھول کا بیان شروع ہوتا ہے :
115۔ زیر نظر آیت سے ایک انسانی کمزوری کا بیان شروع ہو رہا ہے جو قبل ازیں کتنی ہی بار پیچھے بیان کیا جاچکا ہے انسان کی یہ کمزوری اس کی فطرت میں داخل ہے اس لئے فی نفسہ وہ مذموم نہیں لیکن نفس انسانی کی بعض مزید کمزوریاں جو خود مذموم ہیں وہ اس کے ساتھ مل کر اس کو بھی مذموم بنا دیتی ہیں ۔ اس فطری کمزوری کو ہمیشہ آدم (علیہ السلام) کے تذکرہ ہی سے شروع کیا گیا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہی انسان اول تسلیم کئے گئے ہیں اور اس طرح یہ بات تفہیم کرائی گئی کہ انسان کی یہ فطری کمزوری اس کے ساتھ ہی معرض وجود میں آئی تھی اور جب تک انسان ہے اس…
Read the full tafseer →Commentary _
And now we come to the story of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) which has been related earlier in Surah Al-Baqarah and Al-A` raf and partly in Surah Hijr and Al-Kahf, and will also appear later in Surah Sad. The link of the story with the preceding verses has been variously explained by the commentators. The most obvious of these explanations is the one which refers to an earlier verse كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ (Thus We narrate to you certain events of what has passed- 20:99) in which Allah informed the Holy Prophet ﷺ that the stories of the past…
Read the full tafseer →92. From here begins a new discourse, which probably was revealed some time after the preceding discourse see (E.N. 90), and it was incorporated in this Surah by the command of Allah because both deal with the same theme. The following are the similarities between the two:
(1) Both the discourses remind mankind of the forgotten lesson, the admonition, which Allah had taught man on the occasion of his creation.
(2) Both teach that it is Satan who seduces man to forget that lesson. He succeeded in this by causing his first parents to forget it. Since then he has been forgetting it over and over…
Read the full tafseer →