Explained with ayahs 113–114
وعدہ حق وعید حق۔
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو اطاعت کی طرف جھک جائیں نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔ پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے وہ خود حق ہے اس کا وعدہ حق ہے اس کی وعید حق ہے اس کے رسول حق ہیں جنت دوزخ حق ہے اس کے سب…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 90
اس طرح کے فقرے قرآن میں بالعموم ایک تقریر کو ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جاتے ہیں، اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ کلام کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر ہو۔ انداز بیان اور سیاق وسباق پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک تقریر ختم ہوگئی ہے اور وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اٰدَمَ۔ سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ یہ دونوں تقریریں مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہوں گی اور بعد میں نبی ﷺ نے حکم الہٰی کے تحت ان کو ایک سورة میں جمع کردیا ہوگا۔ جمع کرنے کی وجہ دونوں کے مضمون کی مناسبت ہے جس کو ابھی ہم واضح کریں گے۔
سورة طٰهٰ 91
فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ، پر تقریر ختم…
Read the full tafseer →وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ، صحیح حدیث میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ابتداء وحی میں جب جبرئیل امین کوئی آیت قرآن لے کر آتے اور رسول اللہ ﷺ کو سناتے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ آیت کو پڑھنے کی بھی کوشش فرماتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یاد سے نکل جائے اس میں آپ پر دوہری مشقت ہوتی تھی اول قرآن کو جبرئیل سے سننے اور سمجھنے کی اس کے ساتھ اس کو یاد رکھنے کے لئے اپنی زبان سے ادا کرنے کی حق تعالیٰ نے اس آیت میں نیز سورة قیامہ کی آیت لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ میں آپ کے لئے آسانی یہ پیدا فرما دی کہ جو آیات قرآن آپ پر نازل کی جاتی ہیں ان کا یاد رکھنا آپ کی…
Read the full tafseer →نزول قرآن کے لئے آنحضرت کے اندر بےقراری کی اصل وجہ
اس آیت کا صحیح مفہوم ذہن نشین کرنے کے لئے سورة مریم کی آیات 65-64 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے مخالفین کی تمام مخالفتوں اور ژاژخائیوں کے مقابلہ کے لئے آنحضرت صلعم کے پاس واحد ہتھیار قرآن ہی تھا۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے اترنے کے لئے آپ کے اندر ایک بےقراری اور بےچینی پائی جاتی تھی۔ اسی سے مشکلات میں آپ کو رہنمائی ملتی تھی، یہی چیز الجھنوں اور پریشانیوں میں تسلی کا ذریعہ بنتی تھی اور مخلافین جو نت نئے مطالبات و اعتراضات روز روز پیش کرتے ان کے فیصلہ کن جواب بھی قرآن ہی دے سکتا تھا۔ ان وجوہ سے اس سپاہی کی طرح جو دشمنوں…
Read the full tafseer →114۔ 1 جس کا وعدہ اور وعید حق ہے، جنت دوزخ حق ہے اور اس کی ہر بات حق ہے۔
114۔ 2 جبرائیل ؑ جب وحی لے کر آتے اور سناتے تو نبی ﷺ بھی جلدی جلدی ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے، کہ کہیں کچھ بھول نہ جائیں، اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور تاکید کی کہ غور سے، پہلے وحی کو سنیں، اس کو یاد کرانا اور دل میں بٹھا دینا ہمارا کام ہے۔ جیسا کہ سورة ق میں آئے گا۔
114۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ سے زیادتی علم کی دعا فرماتے رہیں۔ اس میں علماء کے لئے بھی نصیحت ہے کہ وہ فتوٰی میں پوری تحقیق اور غور سے کام لیں، جلد بازی سے بچیں اور علم میں اضافہ کی صورتیں اختیار کرنے میں کوتاہی نہ کریں علاوہ ازیں علم سے مراد قرآن و حدیث کا علم…
Read the full tafseer →47: جب حضرت جبرئیل ؑ قرآن کریم کی آیتیں وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے، تو آپ اس ڈر سے کہ کہیں بھول نہ جائیں، ساتھ ساتھ ان آیتوں کو دہراتے رہتے تھے جس سے ظاہر ہے کہ آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ اس آیت میں آپ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کو یہ محنت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود ہی قرآن کریم کو آپ کے سینہ مبارک میں محفوظ فرما دے گا۔ یہی بات سورة قیامہ : 16 تا 18 میں بھی فرمائی گئی ہے۔
48: آنحضرت ﷺ کو اس دعا کی تلقین فرما کر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں، اور انسان کو علم کے کسی بھی درجے پر قناعت کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ہر وقت علم میں ترقی کی…
Read the full tafseer →وہ اللہ تو بہت بلند ہے جس کے سامنے چہرے جھک جاتے ہیں ، اس کی جناب میں مایوسی تو ظالموں کو ہوتی ہے اور مومنین صالحین کے لئے تو وہاں اطمینان ہی اطمینان ہے۔ وہ بلندیوں سے اس قرآن کو بھیجتا ہے۔ آپ اس کے دہران میں جلدی نہ کریں۔ قرآن کے نزول میں گہری حکمت ہے۔ اس حکمت اور مقصد کو لازماً پورا کیا جائے گا۔ پس آپ رب تعالیٰ سے زیادتی علم کی دعا کرتے رہیں اور جو کچھ آپ کو دیا جا رہا ہے اس کے بارے میں مطمئن ہوجائیں۔ اس کے بارے میں یہ پریشانی نہ دکھائیں کہ وہ تجھ سے چلا جائے گا۔ علم تو وہ ی ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ وہ باقی ہے ، وہ ہمیشہ نفع دیتا رہے گا ، قائم رہے گا ، پھلتا پھولتا رہے گا اور کبھی ضائع نہ…
Read the full tafseer →6 جس نے ایسا عظیم الشان قرآن اتارا، اور اپنی رعایا کو ایسی سچی اور کھری باتیں ان کے فائدہ کے لیے سنائیں۔
7 یعنی جب قرآن ایسی مفید و عجیب چیز ہے تو جس طرح ہم اس کو بتدریج آہستہ آہستہ اتارتے ہیں، تم بھی اس کو جبرائیل سے لینے میں جلدی نہ کیا کرو۔ جس وقت فرشتہ وحی پڑھ کر سنائے، تم عجلت کر کے اس کے ساتھ ساتھ نہ پڑھو۔ ہم ذمہ لے چکے ہیں کہ قرآن تمہارے سینے سے نکلنے نہ پائے گا۔ پھر اس فکر میں کیوں پڑتے ہو کہ کہیں بھول نہ جاؤں اس فکر کے بجائے یوں دعا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی اور زیادہ سمجھ اور بیش از بیش علوم و معارف عطا فرمائے۔ دیکھو آدم نے ایک چیز میں بےموقع تعجیل کی تھی اس کا انجام کیا ہوا۔…
Read the full tafseer →وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗز ”
”عجلت“ کا مضمون یہاں چوتھی مرتبہ آیا ہے۔ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو آیت نمبر 83 کی تشریح۔ آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ آپ ﷺ کا شوق بجا مگر وحی سے متعلق تمام معاملات وقت ‘ مقدار ‘ مضمون وغیرہ اللہ کی حکمت اور مشیت کے مطابق طے پائیں تو اسی میں خیر اور بہتری ہے۔
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ”
جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا ہے ‘ آپ ﷺ اس کے اسرار و رموز سے متعلق اپنے فہم و تدبر اور بصیرت باطنی میں اضافے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →82 ابتداًء جب آپ ﷺ پر سیدنا جبرائیل وحی لے کر نازل ہوتے تو آپ ساتھ ہی ساتھ وحی کے الفاظ کو اس خیال سے دہرانے لگتے تھے کہ بعد میں بھول نہ جائیں۔ اس طرح وحی کے اگلے مضمون سے توجہ یا ہٹ جاتی تھی یا کٹ جاتی تھی۔ اسی بات کا ذکر سورة قیامۃ بھی آچکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ ساتھ ساتھ اس کو یاد رکھنے اور زبان چلانے کی کوشش نہ کیا کیجئے۔ تمہارے سینہ میں اسے محفوظ رکھنا اور پھر زبان سے انھیں الفاظ کی ادائیگی کروا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ جب وحی نازل ہو رہی ہو آپ بس پوری توجہ سے اسے سنا کیجئے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ ایسی عادت ابھی تک آپ میں پوری طرح راسخ نہ ہوئی تھی۔ لہذا اسی بات کا دوسرے انداز…
Read the full tafseer →134۔ (اور جس نے ایسا جامع، ایسا نافع، ایسا بلیغ دستور حیات اپنے بندوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے) ۔
135۔ (کہ ایسی صورت میں آپ پر قرآن سننے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے پڑھنے کا بار خواہ مخواہ پڑتا ہے) بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے قبل نزول وحی بعض مسائل میں حکم صادر فرما دیا تھا۔ آیت اس پر نازل ہوئی اس صورت میں مراد ہوگی کہ ” آپ قبل نزول وحی (احکام میں) تعجیل نہ کیا کیجئے۔
136۔ اس میں یہ ارشاد ہوا کہ بجائے فی الفور سعی حفظ تدبیر کے، اس تدبیر دعا کو اختیار کیجئے۔ اور اس میں علم قرآن کی تحصیل، حفظ، فہم سب ہی کچھ آگیا۔” اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →فتعلی اللہ الملک الحق سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے بڑا عالی شان ہے فَتَعَالَی اللّٰہُیعنی جس طرح
اللہ اپنی ذات وصفات میں مشابہت مخلوق سے پاک ہے اسی طرح اس کا کلام بھی مخلوق کے کلام کی مماثلت سے اعلیٰ اور بالا ہے پس وہ برتر اور منزہ ہے مشرکوں کے شرکیہ اقوال سے۔ میں کہتا ہوں بلکہ وہ ان لوگوں کے بیان سے بھی برتر وبالا ہے جو اس کے اوصاف کامل طور پر بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ کوئی اس کی ذات وصفات کو پورا پورا بیان نہیں کرسکتا۔ اَللّٰہُمَّ لاَ اُحْصِیْ ثَنَاءً ا عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ عَلٰی مَا اَرَدْتَ ۔
اَلْمَلِکُیعنی وہ ایسا بادشاہ ہے جس کا حکم نافذ ہے جس کی حکومت…
Read the full tafseer →(114) سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے وہ شریک اور اولاد سے پاک ہے اور اے محمد ﷺ آپ قرآن حکیم پڑھنے میں اس سے پہلے کہ آپ اس کی وحی پوری نازل ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے کیوں کہ جبریل امین ؑ جس وقت آپ کے پاس کوئی آیت قرآنیہ لے کر آتے، تو جبریل امین اس آیت کی قرأت سے فارغ نہیں ہوپاتے تھے، یہاں تک کہ رسوک اکرم ﷺ اسی آیت کو شروع سے پڑھنا شروع کردیتے اس خیال سے کہ کہیں اس آیت کو میں بھول نہ جاؤں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا اور فرمایا کہ آپ تو یہ دعا کیا کیجیے اے میرے رب قرآن کریم کے بارے میں میرے حافظہ فہم اور حکمت اور بڑھا دے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تعجل بالقران“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ…
Read the full tafseer →فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ۔۔ :”فَتَعٰلَى“ ”عَلاَ یَعْلُوْ عُلُوًّا“ بلند ہونا۔ باب تفاعل میں تاء اور الف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ”پس بہت بلند ہے۔“ ”الْمَلِكُ الْحَقُّ“ ”حَقَّ یَحِقُّ“ ثابت ہونا۔ لفظ حق باطل کے مقابلے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی حقیقی، سچی اور پائدار ہے۔ دوسرے تمام بادشاہ دنیا میں نہایت محدود اختیارات کے مالک ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں کرسکتے اور آخرت میں ان کے وہ اختیار بھی ختم ہوجائیں گے۔ پھر اس میں کیا شک ہے کہ حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور باقی سب باطل ہیں
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک یعنی جس طرح ہم نے آپ کے لیے اس سورت میں بیان کیا فکذالک جعلنا قرأنا عربیا یعنی لغت عرب میں ببنایا۔ وصرفنا فیہ من الوعید ہم نے تخویف، تہدید، ثواب اور عقاب بیان کیا۔ لعلھم یتقون یعنی وہ اللہ سے ڈریں اور گناہوں سے اجتناب کریں اور اس کے عذاب سے بچنے والے ہوجائیں۔ او یحدث لھم ذکراً ، ذکر سے مراد نصیحت ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد احتیاط اور تقویٰ ہے۔ بعض نے فرمایا : ذکراً سے مراد شرف ہے۔ یہاں ذکر بمعنی شرف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانہ لذکرلک ولقومک (الزخرف :44) بعض نے فرمایا : تاکہ وہ اس عذاب سے نصیحت حال کر کریں جس کی انہیں وعید سنائی گئی ہے۔ حسن نے او…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خلت یعنی جھک جانا۔
2:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خشعت یعنی ڈرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے قیدی یعنی سب لوگ قیدی ہوں گے۔
5:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے خضعت یعنی جھکنا (سب لوگ جھکے ہوئے ہوں گے)
6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان…
Read the full tafseer →[فَتَعٰلَى: تو بلند ہوا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [الْمَلِكُ : جو حقیقی بادشاہ ہے ] [الْحَقُّ : جو کل حق ہے ] [وَلَا تَعْجَلْ : اور آپ ﷺ جلدی نہ کریں ] [بِالْقُرْاٰنِ : قرآن کے بارے میں ] [مِنْ قَبْلِ ان : اس سے پہلے کہ ] [ يُّقْضٰٓى: پورا کیا جائے ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [وَحْيُهٗ : اس کا وحی کرنا ] [وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [زِدْنِيْ : تو زیادہ کر مجھ کو ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ]
Read the full tafseer →(فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ) (سو اللہ برتر ہے بادشاہ ہے حق ہے) اس کے کلام پر ایمان لانا فرض ہے اگر کوئی شخص ایمان نہ لائے تو اللہ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ وہ کسی کے ایمان کا محتاج نہیں، وہ حقیقی بادشاہ ہے وہ حق ہے اور اس کا کلام بھی حق ہے جو ایمان نہ لائے گا اپنا برا کرے گا۔
قال صاحب الروح و فیہ ایماء الی ان القرآن و ما تضمنہ من الوعد و الوعید حق کلہ لا یحوم حول حماہ الباطل بوجہ و ان المحق من اقبل علیہ بشرا شرہ و ان المبطل من اعرض من تدبر زواجرہ (ج 16، ص 28)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ جب آپ پر قرآن نازل ہوا کرے تو آپ پہلے خوب اچھی طرح اخیر تک سن لیں۔ وحی پوری ہونے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →79:۔ یہ آیات توحید کا ثمرہ اور نتیجہ ہے یعنی مذکورہ دلائل توحید سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی متصرف و مختار اور عالم الغیب ہے لہذا وہی سب سے بڑا اور عظیم الشان بادشاہ ہے اور وہی معبود برحق ہے اس لیے حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ 80:۔ یہ چوتھی آیت تشجیع کا ذکر ہے۔ یعنی قرآن مجید کی وحی اترتے وقت اس کے پڑھنے میں جلدی نہ کریں۔ بلکہ اسے غور سے سنیں۔ جب وحی ختم ہوجائے تو پھر آپ اسے دہرا لیں۔ جب آپ کے ذہن میں محفوظ ہوجائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح جرات و استقلال سے قرآن کی تبلیغ فرمائیں۔ ہمارے پیغمبر آدم (علیہ السلام) کی طرح آپ کے عزم اور پائے استقلال میں جنبش نہ آنے پائے۔ جیسا کہ آگے آرہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ربط آیات :
یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →فَتَعٰلَى اللہُ الْمَلِكُ الْحَقُّ 0ۚ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُہٗ 0ۡوَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا 114
علي
العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من : عَلِيَ ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به في قوله : أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ [ الحج/ 62] ، إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيراً [ النساء/ 34] ، فمعناه : يعلو أن يحيط به وصف الواصفین بل علم العارفین . وعلی ذلك يقال : تَعَالَى، نحو : تَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ النمل/ 63]
( ع ل و ) العلو
العلی کے معنی بلند اور بر تر کے ہیں یہ علی ( مکسر اللام سے مشتق ہے جب یہ لفظ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →فَـتَعٰـلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج وَلاَ تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّـقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗ ز وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 114)
(پس، بہت برتر ہے اللہ بادشاہِ حقیقی، پس آپ ﷺ قرآن کے اخذ میں جلدی نہ کریں اس سے پہلے کہ آپ ﷺ کی طرف اس کی وحی پوری ہوجائے، اور دعا مانگا کیجیے، میرے رب ! (اور) زیادہ کر میرے علم کو۔ )
اللہ تعالیٰ بہت بزرگ و برتر ہے، وہ انسانوں کی پرستش اور بندگی کی حاجت نہیں رکھتا۔ سارے انسان بھی گمراہ ہوجائیں، اس کی الوہیت اور حاکمیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود اگر وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے اس قدر رحمت کا سلوک فرماتا ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کے آخر میں نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ کو حصول علم کے آداب اور ایک دعا سکھائی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کے براہ راست اور اولیّن مخاطب عرب تھے جن کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کرکے کفر و شرک اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کریں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ لوگ جس رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ کسی نسبت اور حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ مقام، شان، ذات اور اپنی صفات کے لحاظ سے اعلیٰ وارفع ہے۔ وہی بادشاہ حقیقی ہے اس کی ملک اور حکمرانی میں نہ…
Read the full tafseer →114: فَتَعٰـلَی اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ بڑا عالی شان ہے) وہ تمام گمانوں سے بلند وبالا ہے تمام فہموں کے وہموں سے اعلیٰ ہے اجسام کی مشابہت اور مخلوق کی مشابہت سے منزہ ہے۔ الْمَلِکُ (وہ بادشاہ) ایسا کہ تمام بادشاہ اس کے محتاج الْحَقُّ (سچا) الوہیت کا سچا حقدار فناء و بگاڑ اور زوال کا اس کے اقتدار حکومت میں احتمال و وہم بھی نہیں۔ جب قرآن اور اس کے نزول کا تذکرہ ہوا۔ تو بطور استطراد فرمایا جب جبرئیل قرآن کی وحی لیکر آئیں تو جب تک وہ پوری وحی پہنچانہ چکیں قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں۔ آپ اتنی دیر کریں کہ اس کو سنا دیں اور سمجھا دیں۔ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ (اور آپ قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں) ۔…
Read the full tafseer →114۔ فتعالی اللہ ا الملک الحق، ، جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں مخلوق کی مشابہت سے پاک ہیی اس طرح اس کا کلام بھی مخلوق کی کلام کی مماثلت سے اعلی اور بالا ہے ۔ پس وہ جو برتر اور منزہ ہے۔ مشرکوں نے شرکیہ اقوال سے ۔ ولاتعجل بالقرآن، جب نبی کریم پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) قرآن نازل کرتے تو آپ صلی اللہ اس کو جلدی جلدی یاد کرتے۔ حضرت جبرائیل کی وحی پہنچانے سے پہلے پہلے بھول جانے اور نسیان کے خوف سے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نہی فرمائی اور فرمایا۔
” ولاتعجل بالقرآن، ، اس کو جلدی جلدی نہ پڑھیے، من قبل ان یقضی الیک وحیہ، ، حضرت جبرائیل کی وحی کے مکمل ہونے سے پہلے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
113۔ 115:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ لوگ ان پڑھ رسول سے یہ غیب کی باتیں سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ قرآن اترا ہے ان کو اللہ کا رسول جان لیں ان آیتوں میں فرمایا جس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر ہے اسی طرح عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں بھی اہل مکہ کی بول چال کی عربی زبان کے موافق قرآن میں جگہ جگہ ہیں تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آئیں اور عذاب آخرت سے بچیں اور پچھلی امتوں کے ہلاکت کے قصے سن کر اور شام کے ملک کے سفر میں…
Read the full tafseer →آیات (114)
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی ذکر کیا جس سے اس کے بندے دو چار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آپ ثار ہیں تو فرمایا : (فتعلی اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے قاک بلند اور جلیل تر ہے ( الملک) اقتدار حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے خدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں (الحق) یعنی اس کا وجود اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہوسکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات اس کے سوا مخلوق اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
117 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے بطور حصر و تاکید واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی ہے بادشاہ حقیقی۔ اس ساری کائنات کا اور اسی کا حکم اور تصرف چلتا ہے اس پوری کائنات میں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " سو بڑا ہی بالا و برتر ہے وہ اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے "۔ جس کی بادشاہی حقیقی اور ہر شئی پر حاوی ہے اور جو ظاہر و باطن سب پر اور ہر لحاظ سے حاوی ہے اور ازلی و ابدی ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گی۔ اس کے سوا اور کسی کی یہ شان کہاں اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ ۔ سو وہی ہے بادشاہ حقیقی جو کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خالق کل اور مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–129
سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →ف 5 مفسرین کہتے ہیں کہ جب حضرت جبرئیل نبی ﷺ کو قرآن کی متعدد آیات لا کر سناتے تو آپ شدت شوق سے یا اس خیال سے کہ بھول نہ جائیں حضرت جبرئیل کی قرأت مکمل ہونے سے پہلے ہی انہیں بڑھنا شروع کردیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرمایا کہ ایسا نہ کیجیے بلکہ وحی کو مکمل ہو لینے دیجیے جیسا کہ دوسری جگہ سورة القیامتہ 18-16) میں فرمایا : لاتحریک بہ انک التجعل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قراناہ فاتبع قرانہ ” قرآن اترتے وقت اپنی زبان نہ ہلایا کیجیے، اسے جلدی سے یاد کرنے کے لئے (آپ کے دل میں) اس کا جما دینا اور اس کا پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے پھر جب ہم (فرشتہ کے ذریعے) آپ کو پڑھا کر سنا چکیں تب آپ پڑھا…
Read the full tafseer →(20:114) تعلی۔ تعلی یتعلی تعلی (تفاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب وہ برتر ہے وہ بہت بلند ہے۔ یہاں باب تفاعل تکلف یا تخییل کے لئے استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ مبالغہ کے لئے ہے۔ تخییل کی مثال تمارض زید زید نے دکھاوے کے لئے اپنے تئیں بیمار بتایا۔
مدارک التنزیل میں تعالیٰ کے معنی لکھتے ہیں۔ ارتفع عن فنون الظنون واوھام الافہام وتنزہ عن مضاھاۃ الانام ومشابھۃ الاجسام۔ یعنی ہر وہم و گمان سے بالاتر۔ اور مخلوق کی مشابہت سے بلند وپاک، اس کا مادہ علو ہے۔
لا تعجل۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر تو جلدی نہ کر عجل وعجلۃ مصدر (باب سمع) تو جلدی نہ کر۔ لا تعجل بالقران قرآن (کے پڑھنے ) میں عجلت سے کام نہ لیں۔ یقضی۔ مضارع مجہول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114
صرفنا ہم نے طرح طرح بیان کیا۔ الوعید ڈرا دے۔ یحدث وہ پیدا کرتا ہے۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الملک بادشاہ، فرمان روا۔ لاتجعل تو جلدی نہ کر۔ ان یقضیٰ یہ کہ پوری ہوجائے۔ زدنی مجھے زیادہ دے۔ علماً علم۔
تشریح :- آیت نمبر 113 تا 114
قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی اصلاح و تربیت اور ہدایت کے اسباب پیدا ہوجائیں ۔ برے اعمال کے برے نتائج کا ذکر بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ ان میں دنیا کی سمجھ پیدا ہوجائے۔ وہ نصیحت و عبرت حاصل کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا راستہ اختیار کریں اور ہر اس راستے سے بچ کر…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ : قیامت میں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کا دعویٰ کرنے والے کہاں گئے۔ اس وقت کوئی جواب نہ دے گا۔ پھر خود فرمائے گا کہ ساری بادشاہت اللہ ہی کو ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ کے دل میں اس کی تبلیغ اور اس کو یاد کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم جلدی نہ کیا کرو، اور تم مشقت نہ اٹھاؤ، جب ایک مضمون کی وحی تمام ہوچکے، تب آپ پڑھا کریں۔ اور یہ دعا کرتے رہا کریں کہ یا الہی ! میرا علم زیادہ کر۔ تاکہ وقتاً فوقتاً وحی آتی رہے اور آپ کا علم بڑھتا رہے۔
Read the full tafseer →[51] جب جبرائیل قرآن کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو رسول اکرم ﷺ ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سورة قیامہ میں مزید تسلی فرما دی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ہمارا ذمہ ہے۔
[52] یہاں ایک تقریر ختم ہوگئی اور اگلی آیت سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →تفہیمات قرآن بھی منزل من اللہ ہیں !:
(ف 2) جس طرح قرآن منزل من اللہ ہے اور منشاء الہی کا ترجمان ہے اسی طرح اس کی تفصیلات جو قلب پیغمبر اور افق نبوت سے جلوہ گر ہوتی ہیں ، منزل من اللہ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو تمام ضروری تفصیلات ووضاحت کے ساتھ نازل فرمایا ہے ، چناچہ اس آیت میں اسی حقیقت باہرہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب قرآن نازل ہو تو اس کے جاننے میں جلدی نہ کیجئے جب تک کہ تفصیلات کا انکشاف نہ ہوجائے ، اور وحی کے مقاصد تمام نہ ہوجائیں ، اور ہمیشہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فہم قرآن میں زیادہ سے زیادہ برکت عنائیت فرمائے پیغمبر جو عصر نبوت میں تمام لوگوں سے زیادہ عالم ہوتا ہے جس کی معلومات براہ…
Read the full tafseer →- 1 14 سو اللہ تعالیٰ جو حقیقی بادشاہ ہے وہ بہت بلند مرتبہ ہے اور اس کا درجہ بہت بلند ہے اور اے پیغمبر آپ قرآن کریم میں قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی کا پورا نزول ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے اور آپ ہم سے یوں دعا کیا کیجیے کہ اے پروردگار میرا علم بڑھا دے اور میرا علم زیادہ کر دے۔
نبی کریم ﷺ کی عادت یہ تھی کہ جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائوں جلدی جلدی پڑھتے جاتے تھے اس سے منع فرمایا اور ارشاد ہوا کہ آپ عجلت سے کام نہ لیجیے بلکہ ہم سے دعا کیجیے کہ میرے علم میں ترقی اور اضافہ فرما دیجیے اس دعا میں تمام باتیں شامل ہیں۔
حضرت شاہ صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–116
ف 1۔ اس میں علم حاصل کے یاد رہنے کی اور غیر حاصل کے حصول کی اور جو حاصل ہونے والا نہیں ہے اس میں عدم حصول کی خیر سمجھنے کی اور سب علوم میں خوش فہمی کی، یہ سب دعائیں داخل ہیں، حاصل یہ کہ تدابیر حفظ میں سے تدبیر تعجیل کو ترک کیجئے اور تدبیر دعا کو اختیار کیجئے
Read the full tafseer →بلندی ہر طرح کی اللہ ہی کیلئے ہے ‘ وہی مالک حقیقی ہے اور وحی میں جلدی مت کر :
114۔ ” بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ بہت ہی بلند وبالا ہے ۔ “ جس نے قرآن کریم جیسا جامع اور نافع قانون آپ کو مرحمت فرمایا اور ایسا بلیغ دستور حیات اپنے بندوں کے ہاتھ میں دے دیا ۔ لیکن افسوس کہ آج اس قرآن کریم کو قانون کی نہیں بلکہ مردے بخشوانے کی کتاب سمجھ لیا گیا ہے اور زندوں کے لئے اس میں صرف اتنا حصہ رکھا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس پر ہاتھ پھیر کر اپنے اپنے چہرہ پر مل لیں تاکہ برکت حاصل ہوجائے اور چاہیں اس کو بوسہ دے کر ناک اور ماتھے سے لگا کر رکھ دیں اور ضرورت پیش آئے تو قسم لینے دینے کے لئے اس کو بطور…
Read the full tafseer →وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰ إِلَيْكَ وَحْيُهُ (And do not hasten with (reciting) the Qur'an before its revelation is concluded - 20: 114.) It has been stated in Sahih Hadith on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that in the early days of revelation when angel Jibra'il (علیہ السلام) brought a Qur’ anic verse and recited it to the Holy Prophet ﷺ ، the latter would try to repeat it after him, lest it escapes from his memory. He had, thus, to make a double effort, i.e. to listen to and understand the meaning of the Qur'anic verses while they were being recited by…
Read the full tafseer →90. Such sentences as this are usually found in the Quran at the end of a discourse so that it may end with the praise of Allah. It is plain from the context that the discourse ends with“the Sovereign.”
91. At the end of the discourse, the angel cautions the Prophet (peace be upon him) by Allah’s command to guard against a thing that had been noticed during the revelation, for it was not considered appropriate to do so during its recital. It is obvious from the wording of the caution that the Prophet (peace be upon him) was trying to learn the revealed discourse and was repeating it during…
Read the full tafseer →