Explained with ayahs 113–114
وعدہ حق وعید حق۔
چونکہ قیامت کا دن آنا ہی ہے اور اس دن نیک بد اعمال کا بدلہ ملنا ہی ہے، لوگوں کو ہوشیار کرنے کے لئے ہم نے بشارت والا اور دھمکانے والا اپنا پاک کلام عربی صاف زبان میں اتارا تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور اس میں گو ناگوں طور پر لوگوں کو ڈرایا طرح طرح سے ڈراوے سنائے۔ تاکہ لوگ برائیوں سے بچیں بھلائیوں کے حاصل کرنے میں لگ جائیں یا ان کے دلوں میں غور و فکر نصیحت و پند پیدا ہو اطاعت کی طرف جھک جائیں نیک کاموں کی کوشش میں لگ جائیں۔ پس پاک اور برتر ہے وہ اللہ جو حقیقی شہنشاہ ہے دونوں جہاں کا تنہا مالک ہے وہ خود حق ہے اس کا وعدہ حق ہے اس کی وعید حق ہے اس کے رسول حق ہیں جنت دوزخ حق ہے اس کے سب…
Read the full tafseer →سوْرَةُ طٰهٰ 88
یعنی ایسے ہی مضامین اور تعلیمات اور نصائح سے لبریز۔ اس کا اشارہ ان تمام مضامین کی طرف ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، نہ کہ محض قریبی مضمون کی طرف جو اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے۔ اور اس کا سلسلہ بیان ان آیات سے ملتا جلتا ہے جو قرآن کے متعلق آغاز سورة اور پھر قصۂ موسیٰ کے اختتام پر ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ’‘ تذکرہ " جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، اور وہ " ذکر " جو ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو عطا کیا ہے، اس شان کا تذکرہ اور ذکر ہے۔
سورة طٰهٰ 89
یعنی اپنی غفلت سے چونکیں، بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، اور ان کو کچھ اس امر کا احساس ہو کہ کن راہوں میں بھٹکے چلے جا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →اصل سلسلہ کلام نئی تمہید کے ساتھ
اس کا طف اوپر والی بات پر ہے جہاں سے یہ سلسلہ کلام چلا ہے۔ آیات 100-99 میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے خاص اپنے پاس سے تمہیں یہ یاد دہانی (قرآن) عطا فرمائی ہے تو جو اس سے منہ موڑیں گے وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اس کے بعد انذار کے لئے قیامت کا ذکر آگیا تھا۔ قیامت کے ذکر کے بعد وہی اصل مضمون ایک نئی تمہید اور مزید تفصیل کے ساتھ از سر نو آگای۔ فرمایا کہ اسی مقصد تذکیر کے لئے ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں اتارا ہے اور اس میں گوناگوں پہلوئوں سے ان عواقب و نتائج کی وضاحت کردی ہے جن سے اس کی تکذیب کرنے والوں کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا تاکہ لوگ اگر تقویٰ اور…
Read the full tafseer →113۔ 1 یعنی گناہ، محرمات اور فواحش کے ارتکاب سے باز آجائیں۔
113۔ 2 یعنی اطاعت اور قرب حاصل کرنے کا شوق یا پچھلی امتوں کے حالات و واقعات سے عبرت حاصل کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →یعنی ہم نے نہایت ہی موثر انداز میں شاہد قیامت ، مناظر عذاب ، اور عبرت آموز کہانیاں ابر بار پیش کی ہیں تکاہ لوگوں کے اندر نیکی کے لئے جوش پیدا ہو اور جھٹلانے والے ڈر جائیں اور جان لیں کہ قیامت میں ان کا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ یہی مضمون سورة کے آغاز میں بھی تھا۔
ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (2) الاتذکرہ لمن یخشی (02 : 2-3) ” یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں گرفتار ہو جائو بلکہ یہ تو اس شخص کے لئے یاد دہانی ہے جو ڈرے۔ “
جب جبرائیل وحی لے کر آتے تھے تو ابھی وہ پوری وحی نہ سنا چکتے کہ حضور دہرانا شروع کردیتے ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ چھوٹ نہ جائے۔ ہر نئی وحی کا یاد…
Read the full tafseer →5 یعنی جیسے یہاں محشر کے احوال اور نیک و بد کے نتائج صاف صاف سنا دیے۔ اسی طرح ہم نے پورا قرآن صاف زبان عربی میں نازل کیا تھا جو لوگ اس کے اولین مخاطب ہیں اس کو پڑھ کر خدا سے ڈریں۔ اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں، اور اتنا نہ ہو تو کم ازکم ان کے دلوں میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ سوچ تو پیدا ہوجائے۔ ممکن ہے یہ ہی سوچ اور غور و فکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے اور ان کے ذریعہ سے دوسروں کو ہدایت ہو۔
Read the full tafseer →لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا ”
ہو سکتا ہے قرآن کی تاثیر سے ان کے اندر کوئی مثبت سوچ یا ایمان کا جذبہ پیدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →81 یعنی قرآن میں جو قیامت کے احوال اور برے اعمال کی سزائیں بتلائی گئی ہیں۔ تو ان سے مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے برے اعمال کے نتائج سے ڈر جائیں اور ان میں تقویٰ پیدا ہو اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو کم از کم ان کے دلوں میں کچھ سوچ ہی پیدا ہوجائے۔ ممکن ہے یہ سوچ ان کی ہدایت کا سبب بن جائے اور ان کے ذریعہ پھر دوسروں کو ہدایت ہو۔
Read the full tafseer →132۔ (قیامت کی، عذاب کی جہنم کی) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی اس طرح جس طرح اوپر کے مضامین صاف صاف ارشاد ہوئے ہیں۔ (آیت) ” انزلنہ “۔ ضمیر مذکر غائب سارے قرآن کی جانب ہے۔ (آیت) ” قرانا عرب یا ‘۔ یعنی قرآن واضح، قرآن مفصح، (آیت) ” عرب یا “۔ پر حاشیہ سورة یوسف کے شروع میں گزر چکا۔
133۔ راہ حق قبول کرنے کے دو ہی واسطے ہیں، یا بہ واسطہ جذبات یا بہ واسطہ تعقل، دونوں آیت کے اس ٹکڑے میں جمع ہوگئے۔ یا یہ مراد ہو کہ بدیوں سے بچنے لگیں اور نیکیوں کی طرف بڑھنے لگیں۔ لاجل ان یصیروا متقین اے محترزین ممالا ینبغی وھو یدعوھم الی الطاعات وفعل ماینبغی (کبیر) یہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ کہ منکر تخویف وترہیب سے ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →وکذلک انزلنا قرانا عربیا وصرفنا فیہ من الوعید لعلہم یتقون او یحدث لہم ذکرا۔
اور ہم نے اسی طرح اس کو عربی قرآن کر کے نازل کیا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تاکہ وہ (سننے والے) ڈر جائیں یا یہ قرآن ان کے لئے (کسی قدر تو) سمجھ پیدا کر دے۔
یعنی جس طرح ہم نے گزشتہ اقوال اور سابق امتوں کے واقعات آپ پر نازل کئے اسی طرح یہ قرآن بھی عربی میں نازل کیا جو ہماری طرف سے نازل کردہ ہے اور اس میں نیک ایمانداروں کے لئے اچھے ثواب کا وعدہ اور کافروں بدکرداروں کے لئے برے عذاب کی وعید ہے۔ قُرْآنًا عَرَبِیًّا یعنی جو قرآن ہم نے نازل کیا وہ عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے سب کا اسلوب اور طرز ایک ہے سارا…
Read the full tafseer →(113) اسی طرح اس سارے قرآن کریم کو ہم نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ پر عربی زبان میں نازل کیا ہے اور قرآن کریم میں ہم نے طرح طرح سے وعدے وعید بیان کیے ہیں تاکہ یہ لوگ کفر وشرک اور فواحش سے ڈریں یا اگر یہ ایمان لے آئیں تو قرآن کریم ان کے لیے ثواب پیدا کردے یا یہ کہ اگر یہ توحید کے قائل ہوجائیں تو قرآن کریم ان کے لیے باعث عزت ہوجائے یا یہ کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو عذاب کا باعث ہوجائے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : ”اسی طرح“ کا اشارہ اس سورت میں مذکور آیات کی طرف ہے کہ ہم نے پورا قرآن ہی ان آیات کی طرح نازل کیا ہے۔ ”قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا“ کی تفسیر سورة یوسف (2) میں دیکھیے۔
وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ : یعنی بار بار اور مختلف طریقوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرایا ہے۔
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۔۔ : تاکہ وہ ڈر جائیں، یا کم از کم یہ ان کے دل میں کسی طرح کی عبرت و نصیحت پیدا کر دے اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا ؟ اگر ہم بھی گناہ کریں گے تو انھی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر) ”ذِكْرًا“ کی تنوین تنکیر کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک یعنی جس طرح ہم نے آپ کے لیے اس سورت میں بیان کیا فکذالک جعلنا قرأنا عربیا یعنی لغت عرب میں ببنایا۔ وصرفنا فیہ من الوعید ہم نے تخویف، تہدید، ثواب اور عقاب بیان کیا۔ لعلھم یتقون یعنی وہ اللہ سے ڈریں اور گناہوں سے اجتناب کریں اور اس کے عذاب سے بچنے والے ہوجائیں۔ او یحدث لھم ذکراً ، ذکر سے مراد نصیحت ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد احتیاط اور تقویٰ ہے۔ بعض نے فرمایا : ذکراً سے مراد شرف ہے۔ یہاں ذکر بمعنی شرف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانہ لذکرلک ولقومک (الزخرف :44) بعض نے فرمایا : تاکہ وہ اس عذاب سے نصیحت حال کر کریں جس کی انہیں وعید سنائی گئی ہے۔ حسن نے او…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خلت یعنی جھک جانا۔
2:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خشعت یعنی ڈرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے قیدی یعنی سب لوگ قیدی ہوں گے۔
5:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے خضعت یعنی جھکنا (سب لوگ جھکے ہوئے ہوں گے)
6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : عربی قرآن ہوتے ہوئے ] [وَّصَرَّفْنَا : اور ہم نے بار بار بیان کیا ] [ فِيْهِ : اس میں ] [مِنَ الْوَعِيْدِ : وارننگ میں سے ] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [يَتَّقُوْنَ : تقوٰی اختیار کریں ] [اَوْ : یا ] [ يُحْدِثُ : وہ وجود دے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ذِكْرًا : کسی یاد کو ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ سے خطاب کہ ہم نے آپ کی طرف عربی میں قرآن نازل کیا، اس میں طرح طرح سے وعیدیں بیان کیں، آپ وحی ختم ہونے سے پہلے یاد کرنے میں جلدی نہ کریں اور علم کی زیادتی کے لیے دعا کرتے رہیں
قیامت کا ذکر فرمانے کے بعد اب قرآن مجید کے بارے میں چند باتیں ارشاد فرمائیں، اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن ہم نے عربی بنا کر نازل کیا ہے جب یہ عربی ہے جس کا مخاطبین کو بھی انکار نہیں ہے اور عرب ہونے کی وجہ سے اس کے اولین مخاطبین اس کو سمجھتے بھی ہیں اور اس کی فصاحت اور بلاغت کو جانتے بھی ہیں تو ایمان لانے سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ہم نے اس میں طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تاکہ وہ ڈر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
78:۔ یہ نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ یعنی ایسا مدلل اور جامع قرآن نازل کرنا ہمارا کام ہے۔ لہذا تم اس عظیم الشان کتاب پر عمل کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ربط آیات :
یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →۔ وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْہِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَہُمْ ذِكْرًا 113
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–125
تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّـقُوْنَ اَوْیُحْدِثُ لَھُمْ ذِکْرًا۔ (طٰـہٰ : 113)
(اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا اور اس میں ہم نے اپنی وعید گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردی تاکہ یہ لوگ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر کچھ سوجھ بوجھ پیدا کریں۔ )
قرآن عربی کا مفہوم
اس سے پہلے آیت 99۔ 100 میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنی طرف سے ایک ذکر عطا کیا ہے جو اس سے اعراض کریں گے وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ کا عطف انہی آیتوں پر ہے۔ اس آیت کریمہ میں اسی مضمون پر اضافہ کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کے آخر میں نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ کو حصول علم کے آداب اور ایک دعا سکھائی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ کے براہ راست اور اولیّن مخاطب عرب تھے جن کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کرکے کفر و شرک اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کریں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ لوگ جس رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ کسی نسبت اور حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ مقام، شان، ذات اور اپنی صفات کے لحاظ سے اعلیٰ وارفع ہے۔ وہی بادشاہ حقیقی ہے اس کی ملک اور حکمرانی میں نہ…
Read the full tafseer →113: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح)
نحو : اس کا عطف کذلک نَقُصُّ پر ہے۔ یعنی اس اتارنے کی مثل اَنْزَلْنٰـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (ہم نے اس کو قرآن عربی اتارا) عربی زبان میں اتارا۔ وَّ صَرَّ فْنَا ( اور بار بار بیان کئے) ۔ فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (اس میں وعیدیں شاید کہ وہ پرہیز کریں) شرک سے بچے رہیں۔ اَوْ یُحْدِثُ لَھُمْ (یا وہ پیدا کر دے گا ان کے لئے) وعید یا قرآن ذِکْرًا (نصیحت) یا ایمان لا کر اس سے مشرف باد ہوجائیں اور بلند ہوجائیں۔ ایک قول یہ ہے کہ أو وائو کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →113۔ وکذالک، ، اسی طرح ہم نے اس سورت میں بیان کیا، انزلناہ ، یعنی نازل کیا، اس کتاب کو، قراناعربیا، ، جو ہم نے قرآن نازل کیا وہ عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے ۔ سب کا اسلوب اور طرز ایک ہے۔ وصرفنا، اور ہم نے اس کو بیان کیا۔ فیہ من الوعید، ، ہم نے اس کے قول کو پھیردیا، وعید کے ذکر کرنے کے ساتھ، یعنی بار بار وعید کی آیات کو ذکر کیا تاکہ لوگ شرک و معاصی سے اجتناب کریں۔ لعلھم یتقون، تاکہ وہ شرک سے بچیں۔ اور یحدث لھم ذکرا، اور قران کو ان کے لیے نصیحت بنایا۔ تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں ۔ اور نصیحت پکڑیں اور اس میں ماقبل اقوام کے عتاب کے ساتھ ذکر کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
113۔ 115:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ لوگ ان پڑھ رسول سے یہ غیب کی باتیں سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ قرآن اترا ہے ان کو اللہ کا رسول جان لیں ان آیتوں میں فرمایا جس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر ہے اسی طرح عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں بھی اہل مکہ کی بول چال کی عربی زبان کے موافق قرآن میں جگہ جگہ ہیں تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آئیں اور عذاب آخرت سے بچیں اور پچھلی امتوں کے ہلاکت کے قصے سن کر اور شام کے ملک کے سفر میں…
Read the full tafseer →آیات (113)
یعنی اسی طرح ہم نے اس کتاب کو فضیلت والی عربی زبان میں نازل کیا ہے جس کو تم خوب سمجھتے ہو اور اس میں کامل تفپہ رکھتے ہو اور اس کے الفاظ و معانی تم پر مخفی نہیں ہیں۔ (وصرفنا فیہ من الوعید) یعنی اس کتاب میں ہم نے وعید کو بہت سی انواع کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کبھی تو ان اسماء کے ذریعے سے بیان کیا ہے جو عدل و انتقام پر دلالت کرتے ہیں کبھی اس عبرت ناک عذاب کے ذکر کے ذریعے سے اس وعید کو بیان کیا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا اور حکم دیا کہ آنے والی امتیں اس سے عبرت حاصل کریں اور کبھی گناہوں کے آثار اور ان سے پیدا ہونے والے عیوب کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی قیامت کی ہولنا کیوں اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →116 قرآن عربی کی نعمت عظمیٰ کی تذکیر و یاددہانی : سو اس نعمت عظمیٰ کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے اتارا ہے اس کو عربی زبان کا قرآن بناکر " کہ اس کے اولین مخاطب عرب ہی تھے۔ اور وہی اس کے لائق تھے کہ ابدی صداقت کی حامل اس عظیم الشان امانت کو بلا کسی کم وکاست کے سب دنیا تک پہنچا سکیں۔ نیز عربی زبان ہی وہ واحد، جامع اور بیمثال باریکیوں اور لطافتوں والی ایسی زبان تھی اور ایسی ہے جو قرآن حکیم کے معانی و مطالب کو بقدر امکان اداء کرسکتی ہے۔ ورنہ اس کے سوا دنیا کی کسی بھی اور زبان میں اس کی اہلیت و صلاحیت ہے ہی نہیں کہ وہ قرآنی معانی و مطالب کو ادا کرسکے۔ سو قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی انہیں عبرت و نصیحت ہو اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا۔ اگر ہم بھی گناہ کرینگے تو انہی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →ّ (20:113) کذالک۔ اس کا عطف کذلک نقص (آیۃ 99) پر ہے یعنی جس طرح اوپر کے مضامین، قیامت کے ہول۔ عذاب اور جہنم کے متعلق صاف صاف ارشاد ہوئے ہیں اسی طرح ہم نے قرآن کو عربی زبان میں وضاحت وفصاحت کے ساتھ نازل کیا ہے اور گناہوں کی سزائوں کو پھیر پھیر کر طرح طرح سے بیان کیا ہے کہ لوگ پرہیزگار بن جائیں۔
یحدث۔ احدث یحدث (افعال) احداث وہ پیدا کر دے۔ نیز ملاحظہ ہو (2:2) ۔ ذکرا۔ ذکر، پند۔ نصیحت۔ بیان۔ نفس کی وہ ہیئت جس کے ذریعہ انسان کے لئے جو کچھ معرفت حاصل کرے اس کا یاد رکھنا ممکن ہو۔ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں :۔
راہ حق قبول کرنے کے دو ہی واسطے ہیں۔ یا بواسطہ جذبات تعقل۔ دونوں آیت کے اس ٹکڑے میں جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114
صرفنا ہم نے طرح طرح بیان کیا۔ الوعید ڈرا دے۔ یحدث وہ پیدا کرتا ہے۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الملک بادشاہ، فرمان روا۔ لاتجعل تو جلدی نہ کر۔ ان یقضیٰ یہ کہ پوری ہوجائے۔ زدنی مجھے زیادہ دے۔ علماً علم۔
تشریح :- آیت نمبر 113 تا 114
قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی اصلاح و تربیت اور ہدایت کے اسباب پیدا ہوجائیں ۔ برے اعمال کے برے نتائج کا ذکر بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ ان میں دنیا کی سمجھ پیدا ہوجائے۔ وہ نصیحت و عبرت حاصل کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا راستہ اختیار کریں اور ہر اس راستے سے بچ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ، جس طرح ہم نے تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے۔ اسی طرح اس قرآن میں عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں جگہ جگہ ہیں، تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آجائیں، اور پرہیز گاری اختیار کریں، یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔
Read the full tafseer →[50] اور یہ غور و فکر آگے بڑھتے بڑھتے ہدایت پر لے آئے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی قرآن حکیم میں وعید اور عذاب کی تفصیلات اس لئے بیان کی گئی ہیں تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں ذرہ بھر بھی اثر پذیری کی استعداد موجود ہے وہ خشیت الہی سے قلب کو معمور کرلیں ، اور اس دنیا میں اللہ کی رضاء کو حاصل کریں ۔
Read the full tafseer →- 1 13 اور ہم نے جس طرح یہ مذکورہ باتیں اور مضامین بیان کئے ہیں اسی رطح ہم نے اس پورے قرآن کریم کو عربی زبان کا نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ لوگ ان کو سن کر پرہیز گاری اور تقویٰ اختیار کریں اور عذاب کی باتوں سے ڈریں یا یہ قرآن کریم ان میں سوجھ بوجھ پیدا کر دے۔ یعنی جس طرح اوپر کے مضامین صاف صاف مذکور ہیں اسی طرح ہم نے پورے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس وعید یعنی قیامت اور عذاب کے وعدوں کو مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ ڈریں اور تقویٰ کی راہ اختیار کریں اور اگر کامل خوف خشیت اور تقویٰ و پرہیز گاری نہ بھی حاصل ہو تو کم از کم…
Read the full tafseer →ف 5۔ مطلب یہ کہ سارے قرآن کے مضامین ہم نے صاف صاف بتلائے ہیں۔
6۔ یعنی اگر پورا اثر نہ ہو تو تھوڑا ہی ہو، اور اسی طرح چند بار تھوڑا تھوڑا جمع ہو کر کافی مقدار ہوجاوے اور کسی وقت مسلمان ہوجاویں۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں اتارا اور مختلف خبریں تم کو پہنچا دیں :
113۔ قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا اور اس میں ہر طرح کی نصیحتیں اور تعلیمات دینی ہم نے بیان کردیں اور پھر انکو مختلف طریقوں سے تصریف آیات کے تحت بار بار بیان کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ہر بات کو اچھی طرح واضح کردیں اور کوئی بات بھی مبہم نہ رہ جائے اور اس میں طرح طرح کی وعیدیں بھی بیان کیں تاکہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں اور ڈر جائیں اور ان عواقب ونتائج کی وضاحت بھی کردی جن سے اس کی تکذیب کرنے والوں کو لازما دو چار ہونا ہے اور اس وقت جب وہ پکڑے جائیں عذر پیش نہ کرسکیں کہ ان کو یاد دہانی نہیں کرائی گئی ، اب اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →88. This means that the Quran is full of such high themes, wise teachings and admonitions as are contained in the preceding portion of this Surah as well as in the other Surahs of the Book.
89. That is, the Arabic Quran might awaken them from their heedlessness and they might recollect the forgotten lessons and feel that they are going astray and might realize the consequences thereof.
Read the full tafseer →