Explained with ayahs 109–112
نوعیت شفاعت اور روز قیامت۔
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہوگی کہ دوسرے کے لئے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ نہ آسمان کے فرشتے بےاجازت کسی کی سفارش کرسکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہوگا بےاجازت کسی کی سفارش نہ ہوگی۔ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بےاجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ ﷺ بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اللہ کی خوب حمد وثنا کریں گے دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر حد مقرر ہوگی آپ ان کی شفاعت کرکے جنت میں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة طٰهٰ 87
یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف (Merits) کی بنیاد پر ہوگا۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے آئے گا، خواہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلق خدا کے حقوق پر، یا خود اپنے نفس پر، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح (محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوئے آئیں گے، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہوگا۔ یعنی خواہ مخواہ بےقصوران کو سزا دی جائے گی، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →ظلم اور ہضم کا مفہوم
ظلم اور ہضم دونوں لفظ جب ایک ساتھ استعمال ہوں تو ظلم کے اندر حق تلفی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ہضم کے اندر غضب اور تعدی کا یعنی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی کا حق جو آپ پر عائد ہوتا ہے آپ اس کو دبا بیٹھیں یہ ظلم ہے دوسری صورت یہ ہے کہ آپ تعدی کر کے دوسرے کے پاس جو کچھ ہے اس کو چھیننے اور غصب کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہضم ہے۔
اوپر والی آیت میں فرمایا کہ جو کسی نوع کے شرک کا مرتکب ہوا وہ نامراد ہو۔ یہ اس کے مقابل میں فرمایا کہ جو اعمال صالحہ کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو وہ اپنے اعمال کا بھرپور صلہ پائے گا۔ نہ اس کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی تعدی کا
وھو مومن کا مفہوم ظاہر ہے…
Read the full tafseer →112۔ 1 بےانصافی یہ ہے کہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کم دیا جائے۔ یہ دونوں باتیں وہاں نہیں ہونگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔…
Read the full tafseer →4 بےانصافی یہ کہ کوئی نیکی ضائع کردی جائے یا ناکردہ گناہ پکڑا جائے۔ اور نقصان پہنچنا یہ کہ استحقاق سے کم بدلہ دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت 111 وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ط ”اور سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اس ہستی کے حضور جو الحی القیوم ہے۔“
قرآن مجید کا یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے یہ دو نام الحیّ اور القیوم ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی اور سورة آل عمران ‘ آیت 2 میں یہ دونوں نام اکٹھے آ چکے ہیں۔ الحی القیوم کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ”اسم اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم ترین نام اسم اعظم ہے جس کے حوالے سے جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ”
یعنی کسی طرح کے شرک کا مرتکب ہوا۔
Read the full tafseer →80 یعنی اعمال کی جزا کے لئے دو شرائط کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ایمان بالغیب کے تمام اجزاء پر ایمان لانا، دوسرے ایسے اعمال صالحہ جو شریعت کی پابندیوں کو ملحوظ رکھ کر بجا لائے گئے ہوں۔ مثلا ً ان میں ریاکاری نہ ہو، سنت کے مطابق ہوں اور بعد میں احسان جتلا کر یا شرک کرکے ان اعمال کو برباد نہ کردیا گیا ہو۔ ایسے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا اور پورا پورا ملے گا، ان میں ہرگز کسی طرح کمی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →131۔ یعنی مومن صالح کو ثواب کامل ملے گا۔ یہ نہ ہوگا کہ کوئی نیکی لکھنے سے رہ جائے، یا کوئی بدی خواہ مخواہ لکھ لی جائے، غیر مومن ظاہر ہے کہ اس طبقہ ہی سے سرے سے خارج ہیں، قید وشرط (آیت) ” وھو مومن “۔ کی لگی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →ومن یعمل من الصلحت وہو مؤمن فلا یخف ظلما ولا ہضما۔ اور جس نے نیک
کام ایمان دار ہونے کی حالت میں کئے ہوں گے سو اس کو نہ کسی زیادتی کا اندیشہ ہوگا نہ کمی کا۔ مِنَ الصّٰلِحٰتِمیں مِنْ بمعنی بعض نیک کام ‘ مراد فرائض کی ادائیگی۔ یا مِن ابتدائیہ ہے اور صالحات سے مراد ہیں صحیح درست نیتیں ‘ یعنی جس نے نیک نیت سے کوئی کام کیا ہوگا۔ وَہُوَ مُؤْمِنٌجملہ حالیہ ہے یعنی نیک کام بحالت ایمان کئے ہوں تمام عبادات ‘ طاعات اور نیک کاموں کے قبول ہونے کی لازمی شرط ایمان ہے۔
فَلاَ یَخَاف جزا محذوف ہے فَ سببیت کے لئے ہے ‘ یعنی محذوف جزا کی علت بےخوفی ہے مطلب یہ ہے کہ جو مؤمن نیک کام کرے گا وہ کامیاب ہوگا کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →(112) اور جس نے نیک کام کیے ہوں گے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا سو اسے نہ تو پورے اعمال کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوگا اور نہ اپنے اعمال میں کسی قسم کی کمی کا کوئی خطرہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ : ”مِنَ الصّٰلِحٰتِ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ نیک اعمال“ کیا ہے۔ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے تمام اعمال صالحہ تو کر ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ) [ عبس : 23 ] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ اس لیے وہ اتنے عمل ہی کا مکلف ہے جتنی اس میں طاقت ہے، فرمایا : (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) [ البقرۃ : 286 ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔“ اور فرمایا : (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ) [ التغابن : 16 ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وعنت الوجوہ۔ یعنی چہرے جھک جائیں گے۔ یہ ابن الاعرابی وغیرہ کا قول ہے۔ اسی سے قیدی کو عان کہا جاتا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت نے کہا :
ملیک علی عرش السماء مھیمن لعزتہ تعنوا الوجوہ وتسجد
اور شاعر نے کہا :
و عنا لہ وجھی و خلقی کلہ فی الساجدین لوجہہ مشکورا
جوہری نے کہا : عنا یعنو جھک گیا اور مطیع ہوا اور دوسرے نے اسے جھکا دیا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعنت الوجوہ للحی القیوم کہا جاتا ہے : عنا فیہم فلان اسیرا یعنی فلاں ان میں قیدی ہو کر رہا۔ غناہ غیرہ تعنیۃ کا معنی ہے اس نے اس کو روک لیا۔ العان قیدی کو کہتے ہیں۔ وقوم عناۃ و نسوۃ عوان وعنت بہ امور نزلت قیدی قوم، قیدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خلت یعنی جھک جانا۔
2:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خشعت یعنی ڈرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے قیدی یعنی سب لوگ قیدی ہوں گے۔
5:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے خضعت یعنی جھکنا (سب لوگ جھکے ہوئے ہوں گے)
6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان…
Read the full tafseer →[وَمَنْ : اور وہ جس نے ] [يَّعْمَلْ : عمل کئے ] [مِنَ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں میں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [مُؤْمِنٌ: مومن ہے ] [فَلَا يَخٰفُ : تو اسے خوف نہیں ہوگا ] [ظُلْمًا : کسی زیادتی کا ] [وَّلَا هَضْمًا : اور نہ کسی حق تلفی کا ]
[ھـ ض م ](ض) ھَضْمًا کسی نرم چیز کو کچل کر توڑنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) کسی کے حق کو کم کرنا۔ (2) نرم و ملائم ہونا۔]
[ ھَضْمٌ اسم ذات بھی ہے۔ حق تلفی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 112 ۔]
[ ھَضِیْمٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نرم۔ ملائم۔ وَ نَخْلٍ طَلْعُھَا ھَضِیْمٌ (اور کھجوریں جن کے خوشے ملائم ہوں گے) 26:148 ۔]
Read the full tafseer →(وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا ھَضْمًا) (اور جس شخص نے مومن ہونے کی حالت میں اچھے عمل کیے سو اسے کسی طرح کے ظلم کا اور کسی طرح کی کمی کا اندیشہ نہ ہوگا) جیسے ظالم نا کام ہوں گے ایسے ہی اہل ایمان کامیاب اور بامراد ہوں گے، ان لوگوں نے جو بھی کوئی نیکی کی تھی اس سب کا پورا پورا بدلہ ملے گا نہ کوئی نیکی ماری جائے گی اور نہ ثواب میں کچھ کمی ہوگی۔ جہاں ایک نیکی کا ثواب کئی گنا دیا جائے گا وہاں اصل ثواب میں کمی ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ سورة نساء میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
78:۔ یہ نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ ” وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰهُ الخ “ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ یعنی ایسا مدلل اور جامع قرآن نازل کرنا ہمارا کام ہے۔ لہذا تم اس عظیم الشان کتاب پر عمل کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ربط آیات :
یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا ہَضْمًا 112
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی اس کو اس بات کا کچھ بھی خوف نہ ہوگا کہ اس بارگاہ کبریا میں کوئی ظلم ہوگا یا اس کی کوئی حق تلفی ہوگی۔ کس لیے کہ وہ بارگاہ عدالت ہے حاکم علیم وخبیر ہے کسی کی کوئی چالاکی اور جھوٹا دعویٰ کسی پر نہ چلے گا نہ اس پر کسی کا دباؤ ہوگا نہ وہ کسی سے رشوت لیتا ہے کہ اس سبب سے کسی کی حق تلفی ہوجائے نہ وہاں امیر و فقیر شریف و رذیل کا لحاظ ہوگا نہ اس کی ذات میں غضبانی جذبات ہیں نہ وہ متلون المزاج ہے اس ایک تھوڑے سے جملہ میں دربار حشر کی سب کیفیت بیان فرما دی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَھُوَ مُـؤْمِنٌ فَلاَّ یَخٰفُ ظُلْمًا وَّلاَ ھَضْمًا۔ (طٰـہٰ : 112)
(اور جو شخص نیک عمل کرتا ہے اور وہ صاحب ایمان بھی ہے تو اسے اندیشہ نہیں ہوگا کسی حق تلفی یا تعدی کا۔ )
نجات پانے والے
اللہ تعالیٰ کے یہاں نجات کا راستہ وہ نہیں جو مشرکین نے سمجھ رکھا ہے کہ ساری زندگی عیش و عشرت اور اتباعِ ہوا میں گزار کر یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ان کی شفاعت ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔ یہ تصور عقل کے لحاظ سے بھی کس قدر مہمل ہے کیونکہ زندگی اور پھر اس میں حواس اور عقل جیسی نعمت اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
فہم القرآن
ربط کلام : محشر کے دن لوگوں کی جسمانی کیفیت۔
حشر کے دن ناصرف لوگوں کی آواز پست ہوگی بلکہ ہر کوئی ” رَبِّ نَفْسِیْ ، رَبِّ نَفْسِیْ “ کہتا ہوا رب ذوالجلال کے سامنے جھکا جا رہا ہوگا۔ لیکن اس وقت جھکنے اور معافی مانگنے کا ظالم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ لوگو ! تم قیامت کا انکار کرو یا اقرار۔ بہر صورت تمہیں اس رب کے حضور پیش ہونا ہے جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اس کی ذات، صفات اور اقتدار میں کبھی کمزوری واقع ہوئی اور نہ ہوگی۔ بالآخر تمہیں اسی ذات کے سامنے جھکنا اور پیش ہونا ہے۔ لیکن یاد رکھو جو شخص دنیا میں اس…
Read the full tafseer →112: وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ (اور جس نے نیک کام کئے) صالحات سے طاعات مراد ہیں۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ (اس حالت میں کہ وہ ایماندار تھا) وہ محمد ﷺ جو لے کر آئے اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔
نکتہ : معلوم ہوا کہ ایمان والا لقب ایسے شخص کا ہوسکتا ہے جو بغیر اعمال صالحہ کے ہو۔ ایمان اعمال صالحہ کی قبولیت کی شرط ہے۔ فَـلَا یَخٰفُ (وہ نہ اندیشہ کرے گا۔ ) قراءت : مکی نے نہی فَـلَا یَخَفْ پڑھا ہے۔
ظُلْمًا (زیادتی کا) کہ اس کی سیّأٰت بڑھا دی جائیں وَّ لَا ھَضْمًا (اور نہ کمی کا) کہ اس کی حسنات میں کمی کردی جائے ھضمؔ کی اصل نقص اور کسر ہے ( کم کرنا، توڑنا) ۔
Read the full tafseer →112۔ ومن یعمل من الصالحات وھو مومن فلایخاف، ، ابن کثیر نے ، فلایخف، پڑھا ہے۔ جواب نہی ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے ، فلایخاف، ، خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے۔ ظلما ولاھضما، ابن عباس کا قول ہے کہ اس کو اپنی برائیوں کے بڑھ جانے کا خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی اپنی نیکیوں کے کم ہونے کا اندیشہ ہوگا۔
حسن (رح) کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اس کو نیکیوں کے ثواب میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوگا اور نہ ہی اس امر کا خوف ہوگا کہ دوسرے گناہ گار کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔ ضحاک کا بیان ہے کہ اس کو ناکردہ گناہ میں پکڑے جانے کا اندیشہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی عمل کو اچھائی تلف ہونے کا خطرہ ، ھضم ، کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
109۔ 112:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کو اپنے بتوں پر یہ جو بھروسہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے یہ بھروسہ شیطان کا دھوکا ہے جس دھوکے میں یہ لوگ پھنس رہے ہیں اس لیے کہ جب ان لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا کسی طرح اس کی بخشش نہ ہوگی اس لیے کسی مشرک کے حق میں اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کرنے کی…
Read the full tafseer →آیات (112)
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولنا کیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے، (ویسئلونک عن الجبال) ” یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا ؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے ؟ ( فقل ینسفھا رمی نسفا) یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے گکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اوان اور ریت پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بن دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →114 وہاں کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی : کہ کوئی ناکردہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیا جَائے یا کسی دوسرے کا کیا ہوا گناہ اس کے ذمے ڈال دیا جائے۔ سو ایسی کوئی بات وہاں نہیں ہوگی۔ اور ظلم کیا معنیٰ وہاں تو عدل و انصاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فضل و کرم کا معاملہ ہوگا بس انسان باغیانہ زندگی نہ گزارتا ہو اور کفر و شرک کی آلائشوں سے محفوظ و سلامت ہو۔ اور جب وہاں پر کسی ظلم و زیادتی اور کسی پیشی کا کوئی خوف و خدشہ نہیں تو پھر اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اس دن کام آنے والی نیکیوں کی کمائی کو اصل مقصد اور نصب العین بناؤ۔ وباللہ التوفیق -
115 اور نہ ہی وہاں کسی کے حق میں کوئی کمی ہوگی : کہ اس کو کسی نیکی کا اجر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 3 بےانصافی یہ ہے کہ تاکہ وہ گناہوں پر سزا دی جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے اسی کو دوسری آیت الجن 13 میں بخس اور رھق سے تعبیر فرمایا ہے اور قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے مگر گنہگار مومنوں کو معاف کردینا اس عدل کے منافی نہیں ہے
Read the full tafseer →(20:112) ھضما۔ مصدر باب ضرب۔ نقصان ۔ کم کرنا۔ توڑنا (یعنی شکست حق) نیکیوں کی کمی۔ ھضم کے اصل معنی ہیں کسی نرم چیز کو کچلنا۔ قرآن مجید میں ہے ونخل طلعھا ھضیم (26:178) اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہونے کی وجہ سے کچلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
ھضم حقہ۔ کسی کے حق کو کم کرنا۔ ھضم لہ من حقہ اپنے حق میں سے کسی کو کچھ حصہ بخوشی دینا۔ ھضمت المعدۃ الطعام۔ معدے کا خوراک کو ہضم کرنا۔ الھاضم۔ ہضم کرنے والی دوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ، جس طرح ہم نے تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے۔ اسی طرح اس قرآن میں عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں جگہ جگہ ہیں، تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آجائیں، اور پرہیز گاری اختیار کریں، یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
[49] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 172 صفحہ 112۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
(ف 1) ان آیات میں مسئلہ شفاعت ذکر کرکے اللہ کی وسعت علمی اور قدر مطلق کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اس کی ذات ہمہ دان ہے ، کوئی چیز اور کوئی جگہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ، بااقتدار ہے ایک وقت آئے گا ، جب کہ تمام جبینیں اس کے سامنے جھکی ہونگی ، کسی شخص کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی ، وہ جو چاہے گا ، ضرور ہوگا جو کرے گا عین معدات و انصاف قرار پائے گا اس لئے وہ لوگ جو اس کے احاطہ علمی کی وسعتوں سے آگاہ نہیں ہیں ، اور اس کے سامنے جرائم ومظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ اس دن نامرادی اور ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔
حل لغات :
قاعا صفصفا : صاف اور ہموار میدان :
امتا : بلندی ۔
الحی القیوم : زندگی اور…
Read the full tafseer →- 1 12 اور جو شخص نیک عمل کا پابند رہا ہوگا اور آنحالیکہ وہ مومن بھی ہو تو اس کو نہ کسی ناانصافی کا خوف ہوگا اور نہ کسی نقصان اور دبائو کا ۔ یعنی جو مسلمان نیک اعمال کا پابند ہوگا تو اس کو کامل ثواب ملے گا اور ثواب کے ملنے میں کسی بےانصافی اور دبائو کا اندیشہ نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس پر زور نہ ہوگا اللہ کے ہاں انصاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 4۔ یعنی سب متکبرین و جاحدین کا تکبر و جحود ختم ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →مومن کے لئے اس دن کوئی خوف و خطرہ نہ ہوگا ‘ نہ ناانصافی اور نہ حق تلفی :
112۔ اچھا عمل ہی ہے اس کو مومن کرے یا کافر اور برا عمل برا ہی ہے اس کو مومن کرے یا کافر ، کوئی عمل مومن کے کرنے سے اچھا اور کافر کے کرنے سے برا نہیں ہوتا ۔ اب رہا اس کا بدلہ تو یقینا وہ بھی ہر اچھے عمل کا بدلہ اچھا ہے اور ہر برے عمل کا بدلہ برا فرق یہ ہے کہ مومن جب اچھا عمل کرتا ہے تو اس کو اس کا بدلہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی یقینا اس کا اچھا بدلہ ملے گا اور ایک مومن سے جب کوئی برا عمل ہوجاتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں کہ یا تو وہ عمل اتنا برا ہے کہ اس کے کرنے سے وہ مومن ہی نہیں رہتا تو اس کا معاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
87. From this, it is clear that in the Hereafter the case of every individual will be decided on merits. If a man had been guilty of iniquity and injustice in regard to the rights of God or the rights of man or even his own rights, he shall be dealt with accordingly. On the other hand, those, who are both believers and workers of righteous deeds, shall have no fear that they would be deprived of their rights or punished even though they were innocent.
Read the full tafseer →