Explained with ayahs 109–112
نوعیت شفاعت اور روز قیامت۔
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہوگی کہ دوسرے کے لئے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ نہ آسمان کے فرشتے بےاجازت کسی کی سفارش کرسکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہوگا بےاجازت کسی کی سفارش نہ ہوگی۔ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بےاجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ ﷺ بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اللہ کی خوب حمد وثنا کریں گے دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر حد مقرر ہوگی آپ ان کی شفاعت کرکے جنت میں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
سورة طٰهٰ 87
یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف (Merits) کی بنیاد پر ہوگا۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے آئے گا، خواہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلق خدا کے حقوق پر، یا خود اپنے نفس پر، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح (محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوئے آئیں گے، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہوگا۔ یعنی خواہ مخواہ بےقصوران کو سزا دی جائے گی، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →عنو کے معنی فروتنی اور عجز و تذلل کے اظہار کے ہیں اور ظلم سے مراد جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، شرک ہے۔
شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک زعم کی تردید
یہ شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک اور زعم باطل کی تردید ہے۔ وہ اپنے جن مزعومہ شرکاء کو اپنا سفارشی سمجھے بیٹھے تھے ان کے متعلق یہ گمان بھی رکھتے تھے کہ خدا کے ہاں ان کو بڑے ناز و تذلل کا مقام حاصل ہے۔ وہ جو بات چاہیں خدا کے سامنے جرأت و اعتماد اور ناز و اصرار کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں اور خدا کو ان کی ناز براداری اس قدر محبوب و مطلوب ہے کہ وہ بہرحال ان کی بات مانتا اور ان کی سفارش پوری کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس قسم کے واہمہ میں…
Read the full tafseer →111۔ 1 اس لئے کہ اس روز اللہ تعالیٰ مکمل انصاف فرمائے گا اور ہر صاحب حق کو اس کا حق دلائے گا۔ حتٰی کہ اگر ایک سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری پر ظلم کیا ہوگا، تو اس کا بھی بدلہ دلایا جائے گا، اسی لئے نبی ﷺ نے اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا " لتؤدن الحقوق الی اھلھا " ' ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دو ' ورنہ قیامت کو دینا پڑے گا۔ دوسری حدیث میں فرمایا (اِیَّاکُمْ و الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُلْمَ ظُلُمَات، ُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)
ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہوگا، سب سے نامراد وہ شخص ہوگا جس نے شرک کا بوجھ بھی لاد رکھا ہوگا، اس لئے کہ شرک ظلم عظیم بھی ہے اور ناقابل معافی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔…
Read the full tafseer →2 یعنی اس روز بڑے بڑے سرکش متکبروں کے سر بھی اعلانیہ اسی حیّ و قیّوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے۔ جنہوں نے کبھی خدا کے آگے پیشانی نہ ٹیکی تھی اس وقت بڑی عاجزی سے گردن جھکائے چلے آئیں گے۔
3 یعنی ظالم کا حال کچھ نہ پوچھو کیسا خراب ہوگا۔ ظلم کے لفظ میں شرک اور دوسرے معاصی بھی داخل ہیں۔ جیسے فرمایا ( ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31 ۔ لقمان :13) اور ( وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ) 3 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت 111 وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ط ”اور سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اس ہستی کے حضور جو الحی القیوم ہے۔“
قرآن مجید کا یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے یہ دو نام الحیّ اور القیوم ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی اور سورة آل عمران ‘ آیت 2 میں یہ دونوں نام اکٹھے آ چکے ہیں۔ الحی القیوم کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ”اسم اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم ترین نام اسم اعظم ہے جس کے حوالے سے جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ”
یعنی کسی طرح کے شرک کا مرتکب ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
79 اس آیت میں سفارش پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ لوگوں کے اعمال اور ان کے حالات جن میں وہ اعمال سرزد ہوئے اور ان کی نیتوں کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ دوسرے کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص کسی افسر کو جاکر کہے کہ آپ کا فلاں ماتحت آدمی میرا دوست ہے لہذا اس کا فلاں قصور معاف کردیجئے تو وہ جواب میں کہے گا کہ آپ واقعی میرے دوست ہیں لیکن یہ شخص پہلے جتنے قصور کرچکا اس کا آپ کو علم ہے ؟ اس کا ریکارڈ پہلے ہی بہت گندا ہے۔ لہذا اسے معاف کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ بالکل یہی اصول وہاں بھی کارفرما ہوگا یہ ممکن نہ ہوگا کہ کوئی بزرگ اللہ کے حضور یوں سفارش کرنے…
Read the full tafseer →129۔ ذکر روز حشر کا چل رہا ہے کہ اس روز بڑے بڑے متکبرین اور سرکش منکرین کا غرور و انکار ختم ہوچکے گا، اور کسی کو ہمت سراٹھانے کی نہ ہوگی۔
130۔ ظلم کے عام ووسیع معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں لیکن یہاں بمعنی شرک آیا ہے۔ اے حمل شرکا (ابن جریر، عن قتادۃ) الظلم ھھنا الشرک (ابن جریر۔ عن ابن زید) والظلم ھو الشرک (معالم۔ عن ابن عباس ؓ الظلم الشرک (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →وعنت الوجوہ للحی القیوم اور (اس روز) تمام چہرے اس حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔ عنت
ذلیل ہوں گے عاجز ہوں گے جیسے قیدی بادشاہ کے سامنے ذلیل و عاجز ہوتے ہیں عَنَا یَغْنُوْ عناءً ا (نصر) تھک گیا ‘ تعنی تکلیف جھیلی۔ بغوی نے لکھا ہے عانی بمعنی قیدی اسی (باب نصر عنا یعنو) سے ہے۔ الحی وہ ذات جو کبھی نہیں مرے گی اور اس پر موت نہ آنی ہی چاہئے ‘ کیونکہ جس پر موت کا طاری ہونا ممکن ہو وہ حقیقت میں میت (یعنی معدوم الاصل) ہی ہوتا ہے اور اللہ معدوم الاصل نہیں اس لئے اس پر موت آنا ناممکن ہے۔ القیوم تھامے ہوئے۔ ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اس کے تمام اعمال کو تھامے ہوئے اور ساری مخلوق کے انتظام کو تھامے ہوئے۔ چہروں…
Read the full tafseer →(111) اس روز تمام چہرے اس اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے ہوں گے اور ایسا شخص تو ہر طرح ناکام رہے گا جو شرک لے کر آیا ہوگا۔
Read the full tafseer →وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ : ”عَنَتِ“ ”عَنَا یَعْنُوْ عُنُوًّا“ (ن) سے واحد مؤنث غائب، ماضی معلوم ہے، اصل میں ”عَنَوَتْ“ تھا، ذلیل اور عاجز ہو کر جھک جانا۔ اس میں سے اسم فاعل ”عَانٍ“ یا ”اَلْعَانِیْ“ آتا ہے، جس کا معنی قیدی ہے، کیونکہ قیدی بیحد عاجز، بےبس اور ذلیل ہوتا ہے۔ یعنی اس دن صرف تمام آوازیں ہی رحمٰن کے لیے پست نہیں ہوں گی بلکہ تمام چہرے، حتیٰ کہ ان سرکش متکبر لوگوں کے چہرے بھی اس حی و قیوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے جن کی پیشانی دنیا میں کبھی اللہ کے سامنے جھکی نہ تھی۔ کیونکہ وہ سب فانی و محتاج ہیں اور انھیں حی و قیوم کے سامنے جھکے بغیر کوئی چارہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وعنت الوجوہ۔ یعنی چہرے جھک جائیں گے۔ یہ ابن الاعرابی وغیرہ کا قول ہے۔ اسی سے قیدی کو عان کہا جاتا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت نے کہا :
ملیک علی عرش السماء مھیمن لعزتہ تعنوا الوجوہ وتسجد
اور شاعر نے کہا :
و عنا لہ وجھی و خلقی کلہ فی الساجدین لوجہہ مشکورا
جوہری نے کہا : عنا یعنو جھک گیا اور مطیع ہوا اور دوسرے نے اسے جھکا دیا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعنت الوجوہ للحی القیوم کہا جاتا ہے : عنا فیہم فلان اسیرا یعنی فلاں ان میں قیدی ہو کر رہا۔ غناہ غیرہ تعنیۃ کا معنی ہے اس نے اس کو روک لیا۔ العان قیدی کو کہتے ہیں۔ وقوم عناۃ و نسوۃ عوان وعنت بہ امور نزلت قیدی قوم، قیدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خلت یعنی جھک جانا۔
2:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ میں عنت سے مراد ہے خشعت یعنی ڈرنا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے قیدی یعنی سب لوگ قیدی ہوں گے۔
5:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعنت الوجوہ “ سے مراد ہے خضعت یعنی جھکنا (سب لوگ جھکے ہوئے ہوں گے)
6:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان…
Read the full tafseer →[وَعَنَتِ : اور جھک جائیں گے ] [الْوُجوهُ : تمام چہرے ] [لِلْحَيِّ : حقیقی زندہ کے لئے ] [الْقَيُّوْمِ : حقیقی نگراں و کفیل کے لئے ] [وَقَدْ خَابَ : اور نامراد ہوچکا ] [مَنْ : وہ جس نے ] [حَمَلَ : اٹھایا ] [ظُلْمًا : ظلم کو ]
[ع ن و ](ن) عُنُوًّا ذلیل ہونا۔ جھک جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 111 ۔]
Read the full tafseer →(وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ) (اور تمام چہرے حی وقیوم کے لیے جھک جائیں گے) یعنی میدان قیامت میں سبھی عاجزی کی حالت میں ہوں گے دلوں میں اور نفسوں میں اور اعضاء میں سب میں جھکاؤ ہوگا جو متکبر تھے ان کا سب تکبر دنیا میں ہی دھرا رہ گیا اب تو الجبار المتکبر کی بار گاہ میں کھڑے ہیں وہاں جھکاؤ بھی ہے عاجزی بھی ہے (وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا) (اور جو شخص ظلم اٹھا کرلے گیا وہ نا کام ہوگیا) سب سے بڑا ظلم کفر اور شرک ہے اور بندوں پر جو مظالم کیے ان کی فہرست بھی وہاں موجود ہوگی، ظلم کرنے والے وہاں نا کام ہوں گے نامراد ہوں گے اور عذاب میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
77:۔ یہاں قیامت کے دن شفاعت کے نافع ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں سے پھر شفاعت کی ایک صورت کو مستثنی کیا گیا ہے۔ جس کی تعبیر ” مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ “ سے کی گئی ہے۔ اس سے یا تو شافعین یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اور مومنین صالحین مراد ہیں جن کو قیامت کے دن گنہگاروں کی سفارش کرنے کا اذن ملے گا۔ یا مشفوع لھم یعنی وہ گنہگار مومنین مراد ہیں، جن کے حق میں شفاعت ہوگی۔ پہلی صورت میں معبودان باطلہ کی شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہوگی اور دوسری صورت میں مشرکین کے حق میں شفاعت کے مفید ہونے کی نفی مراد ہوگی۔ و معناہ لاجلہ وکذا ورضی لہ ای لاجلہ ویکون من للمشفوع لہ او بدل من الشفاعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ربط آیات :
یہ سورة بنیادی طور پر تسلی کے مضمون میں نازل ہوئی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السالم کے فرعون کے ساتھ کشمکش کا ذکر کرے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ آگے آنے والی مشکلات اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا۔ رسالت اور قیامت کے مسائل بیان کیے۔ اسی ضمن میں کل کی آیات میں پہاڑوں کا ذکر ہوا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہاڑوں جیسی مضبوط چیز کا کیا حال ہوگا ؟ اللہ نے اس کا جواب بھی مرحمت فرمایا کہ آج بلند وبالا اور مضبوط نظر آنے والے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور…
Read the full tafseer →وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ 0ۭ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا 111
عنت
الْمُعَانَتَةُ کالمعاندة لکن المُعَانَتَةُ أبلغ، لأنها معاندة فيها خوف وهلاك، ولهذا يقال : عَنَتَ فلان : إذا وقع في أمر يخاف منه التّلف، يَعْنُتُ عَنَتاً. قال تعالی: لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ
[ النساء/ 25] ، وَدُّوا ما عَنِتُّمْ [ آل عمران/ 118] ، عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ «1» أي : ذلّت وخضعت، ويقال : أَعْنَتَهُ غيرُهُ. وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ [ البقرة/ 220] ، ويقال للعظم المجبور إذا أصابه ألم فهاضه : قد أَعْنَتَهُ.
( ع ن ت…
Read the full tafseer →1 ؎ حی زندہ ‘ قیوم پایندہ ہمیشہ رہنے والا سب کا آسرا اور سب کی ہستی کی اصل اور پناہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَـیُّـوْمِ ط وَقَدْخَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا۔ (طٰـہٰ : 111)
(لوگوں کے چہرے اس حیی قیوم کے آگے جھک جائیں گے اور نامراد ہوا وہ شخص جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
سفارش کرنے والا دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ وہ اپنا اثر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سزا دینے والے افسر کو یہ احساس دلاتا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے اگر تم نے میری سفارش قبول نہ کی تو یہ رشتہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ اور پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ جس طرح میں ایک کام کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں ایسے ہی کئی کام تمہیں بھی میرے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ کیونکہ میں بھی ایک موثر مسند پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
فہم القرآن
ربط کلام : محشر کے دن لوگوں کی جسمانی کیفیت۔
حشر کے دن ناصرف لوگوں کی آواز پست ہوگی بلکہ ہر کوئی ” رَبِّ نَفْسِیْ ، رَبِّ نَفْسِیْ “ کہتا ہوا رب ذوالجلال کے سامنے جھکا جا رہا ہوگا۔ لیکن اس وقت جھکنے اور معافی مانگنے کا ظالم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ لوگو ! تم قیامت کا انکار کرو یا اقرار۔ بہر صورت تمہیں اس رب کے حضور پیش ہونا ہے جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اس کی ذات، صفات اور اقتدار میں کبھی کمزوری واقع ہوئی اور نہ ہوگی۔ بالآخر تمہیں اسی ذات کے سامنے جھکنا اور پیش ہونا ہے۔ لیکن یاد رکھو جو شخص دنیا میں اس…
Read the full tafseer →1 1 1: وَعَنَتِ (جھک جائیں گے اور ذلیل ہوجائیں گے) اور اسی سے ہے کہ اسیر و قیدی کو عانٍ (عاجز) کہتے ہیں عنا یعنو الْوُجُوْہُ (چہرے) مراد چہروں والے۔ لِلْحَیِّ (اس ذات کیلئے جو کبھی نہیں مرے گی) ہمیشہ زندہ رہے گی اس پر موت نہ آئے گی۔ ہر زندگی جس کے پیچھے موت ہو وہ زندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ الْقَیُّوْمِ (ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی) ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اس کے تمام اعمال کو تھامے ہوئے ہے۔ نمبر 2۔ تمام مخلوق کے انتظام کو تھامے ہوئے ہے۔ وَقَدْ خَابَ (اور ایسا شخص ناکام رہے گا) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوگا۔ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا (جو ظلم لے کر آیا ہوگا) جو موقف قیامت میں شرک اٹھا کر لایا۔…
Read the full tafseer →111۔ وعنت الوجوہ للحی القیوم، ، ذلیل ہوں گے عاجز ہوں گے ۔ جیسے قیدی بادشاہ کے سامنے ذیل و عاجز ہوتے ہیں ۔ طلق بن حبیب کا قول ہے کہ اس دن سارے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوں گے۔ وقد خاب من حمل ظلما، ابن عباس ؓ عہنما نے آیت کی تشریح میں فرمایا گھاٹے میں رہے گا، جس نے اللہ کا کسی کو شریک قرار دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
109۔ 112:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کو اپنے بتوں پر یہ جو بھروسہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے یہ بھروسہ شیطان کا دھوکا ہے جس دھوکے میں یہ لوگ پھنس رہے ہیں اس لیے کہ جب ان لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا کسی طرح اس کی بخشش نہ ہوگی اس لیے کسی مشرک کے حق میں اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–111
آیات (104)
یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →113 ظالموں کی ناکامی و نامرادی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ناکام و نامراد ہوگا وہ شخص جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا "۔ یعنی کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی کا بوجھ۔ سو ایسا شخص بڑا ہی ناکام و نامراد ہوگا اور ایسا ناکام و نامراد کہ اس کے لئے اب تدارک و تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ اس بوجھ سے بچنے اور دولت ایمان سے سرفراز ہونے کا موقع دنیاوی زندگی کی وہ فرصت تھی جو اس وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔ اور اب اس کے واپس آنے کی بہرحال کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جھک جائیں گے چہرے اس حی وقیوم کے آگے جو خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ اور جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 3 بےانصافی یہ ہے کہ تاکہ وہ گناہوں پر سزا دی جائے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے اسی کو دوسری آیت الجن 13 میں بخس اور رھق سے تعبیر فرمایا ہے اور قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے مگر گنہگار مومنوں کو معاف کردینا اس عدل کے منافی نہیں ہے
Read the full tafseer →(20:111) عنت۔ ماضی واحد مؤنث غائب (لیکن یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) ۔ عنت یعنت عنت (باب سمع) سے عنت کے معنی گناہ۔ بدکاری۔ مشقت، فساد ۔ ہلاکت غلطی ۔ خطا۔ زنا۔ جور۔ اذیت ۔ کئے گئے ہیں۔ لیکن بدنی یا دینی ضرر کے لئے عام استعمال میں آیا ہے۔ جیسے وذوا ما عنتم (3:118) وہ پسند کرتے ہیں جو چیز تمہیں ضرر پہنچائے۔ اور آیت ذلک لمن خشی العنت منکم (4: 25) یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ یہاں بھی بدکاری دینی وبدنی ضرر کے مترادف ہے اور آیت عزیز علیہ ما عنتم (9:128) جو چیز تمہیں ضرر پہنچاتی ہے وہ انہیں بہت گراں گذرتی ہے۔
آیت ہذا میں یہ باب نصر سے آیا ہے عنت یعنت عنو جس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–113
ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ، جس طرح ہم نے تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے۔ اسی طرح اس قرآن میں عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں جگہ جگہ ہیں، تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آجائیں، اور پرہیز گاری اختیار کریں، یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
[49] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 172 صفحہ 112۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
(ف 1) ان آیات میں مسئلہ شفاعت ذکر کرکے اللہ کی وسعت علمی اور قدر مطلق کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اس کی ذات ہمہ دان ہے ، کوئی چیز اور کوئی جگہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ، بااقتدار ہے ایک وقت آئے گا ، جب کہ تمام جبینیں اس کے سامنے جھکی ہونگی ، کسی شخص کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی ، وہ جو چاہے گا ، ضرور ہوگا جو کرے گا عین معدات و انصاف قرار پائے گا اس لئے وہ لوگ جو اس کے احاطہ علمی کی وسعتوں سے آگاہ نہیں ہیں ، اور اس کے سامنے جرائم ومظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ اس دن نامرادی اور ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔
حل لغات :
قاعا صفصفا : صاف اور ہموار میدان :
امتا : بلندی ۔
الحی القیوم : زندگی اور…
Read the full tafseer →- 1 1 1 اور اس زندہ اور ہمیشہ رہنے والے کے آگ سب کے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے اور بلاشبہ وہ شخص نامراد اور ناکم ہوگا جو ظلم لے کر آیا ہوگا اور اس پر ظلم لدا ہوا ہوگا۔ یعنی جس پر شرک کا بار عظیم ہوگا اور شرک امداد ہوا ہوگا وہ بالکل ہی ناکام اور نامراد رہے گا چہرے جھکے ہوئے ہوں گے۔ یعنی بڑے بڑے متکبر و سرکش حضرت حق کی جناب میں سرنگوں ہوں گے اور کوئی جاحد و منکر ایسا نہ ہوگا جو حی قیوم کے روبرو سجدہ کناں نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
ف 4۔ یعنی سب متکبرین و جاحدین کا تکبر و جحود ختم ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →اس روز سب چہرے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھکے ہوں گے :
111۔ فرمایا کسی صاحب غرور کا غرور اس روز کام نہیں آئے گا اور کوئی منکر و متکبر انکار وتکبر کا اظہار تک نہ کرسکے گا بلکہ بڑے بڑے مطلق العنان بادشاہ فاتحان عالم ‘ سرکش رؤسا وامراء قیامت کے روز جب خداوند ذوالجلال کے حضور میں حاضر ہوں گے تو ان کی گردنیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر عاجزی اور درماندگی کے آثار نمودار ہو رہے ہوں گے اور کوئی دم نہیں مار سکے گا اور اس روز کسی ظالم سے ظالم کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی بلکہ وہ جتنا بڑا ظالم ہوگا اتنا ہی خائب و خاسر بھی ہوگا نہ وہ کسی کو اپنی سنا سکے گا اور نہ اس کی کوئی سننے کو تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
87. From this, it is clear that in the Hereafter the case of every individual will be decided on merits. If a man had been guilty of iniquity and injustice in regard to the rights of God or the rights of man or even his own rights, he shall be dealt with accordingly. On the other hand, those, who are both believers and workers of righteous deeds, shall have no fear that they would be deprived of their rights or punished even though they were innocent.
Read the full tafseer →