Taa-Haa 20:110

Taa-Haa · from ayah 110

20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا ۟يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِهٖ عِلۡمًا‏

جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah knows what is [presently] before them and what will be after them, but they do not encompass it in knowledge.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:110

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا عِلم نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ لوگوں کی ساری اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے، اور وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ان (سب چیزوں) کو جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اپنے) علم سے اس (کے علم) کا احاطہ نہیں کرسکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا حال سب کچھ جانتا ہے لیکن دوسرے لوگ اسے نہیں جان سکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ ان کے آگے اور ان کی پیچھے جو کچھ ہے سب سے باخبر ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسے معلوم ہے وہ سب کچھ جو ان کے آگے ہے اور وہ سب کچھ جو ان کے پیچھے ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کرسکتا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ جانتا ہے سب کے اگلے اور پچھلے حالات کو اور (لوگ) اس کا (اپنے) علم سے احاطہ نہیں کرسکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ اپنے علم سے اللہ کے علم پر احاطہ نہیں کرسکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows all that is ahead of them and all that is behind them, while the others do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows what is in front of them and what is behind them, and they do not encompass Him in (their) knowledge.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows what is in front of them and what is behind them, and they do not encompass Him in (their) knowledge.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He knows what happens to them, and what will happen to them, but they will never encompass anything of His knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth (all) that is before them and (all) that is behind them, while they cannot compass it in knowledge.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah knows what is [presently] before them and what will be after them, but they do not encompass it in knowledge.

— Saheeh International

God knows all that is in front of them and behind them and they can not encompass His knowledge.

— Muhammad Sarwar

He knows what is before them and what is behind them, while they do not comprehend it in knowledge.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth that which is before them and that which is behind them, and they, encompass it not with their knowledge.

— Abdul Majid Daryabadi

He knows what (appears to His creatures as) before or after or behind them: but they shall not compass it with their knowledge.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–112

نوعیت شفاعت اور روز قیامت۔ قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہوگی کہ دوسرے کے لئے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ نہ آسمان کے فرشتے بےاجازت کسی کی سفارش کرسکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہوگا بےاجازت کسی کی سفارش نہ ہوگی۔ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بےاجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ ﷺ بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اللہ کی خوب حمد وثنا کریں گے دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر حد مقرر ہوگی آپ ان کی شفاعت کرکے جنت میں لے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 86 یہاں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے۔ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا کہ کس کا ریکارڈ کیسا ہے، کون دنیا میں کیا کرتا رہا ہے، اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت و کردار اور کیسی کیسی ذمہ داریوں کے بار لے کر آیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں اور کرتوتوں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے۔ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجے کا مجرم ہے۔ معافی کے قابل ہے یا نہیں۔ پوری سزا کا مستحق ہے یا تخفیف اور رعایت بھی اس کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ ملائکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–113

يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس ٹکڑے کی شرح آیت الکرسی کے تحت وضاحت سے ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا علم سب کو محیط ہے۔ ہر ایک کے ماضی و مستقبل اور حاضر و غائب سب سے وہ واقف ہے۔ دوسرے کسی کی یہ حیثیت نہیں کہ اس کا علم خدا کے علم کا احاطہ کرسکے تو یہ مقام کس کا ہے کہ وہ کسی کے باب میں خدا کے علم میں کوئی اضافہ اور اس بنیاد پر اس کے حق میں کوئی سفارش کرسکے ! خدا کسی کے متعلق کسی سے یہ معلوم کنے کا محتاج نہیں ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ اس کے اعمال کیا رہے ہیں اور وہ کیا معاملہ کئے جانے کا مستحق ہے ؟ یہ ساری چیزیں اس کے علم میں موجود ہیں۔ اس مسئلے پر سورة مریم کی آیت 87 کے تحت جو بحث گزر چکی ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

110۔ 1 گزشتہ آیت میں شفاعت کے لیے جو اصول بیان فرمایا گیا ہے اس میں اس کی وجہ اور علت بیان کردی گئی ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کسی کی بابت پورا علم نہیں ہے کہ کون کتنا بڑا مجرم ہے ؟ اور وہ اس بات کا مستحق ہے بھی یا نہیں کہ اس کی سفارش کی جاسکے ؟ اس لیے اس بات کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا کہ کون کون لوگ انبیاء وصلحا کی سفارش کے مستحق ہیں ؟ کیونکہ ہر شخص کے جرائم کی نوعیت و کیفیت کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور نہ جان ہی سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–113

45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں 46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 108–110

یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔ یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی خدا کا علم سب کو محیط ہے لیکن بندوں کا علم اس کو یا اس کی معلومات کو محیط نہیں۔ اس لیے وہ ہی اپنے علم محیط سے جانتا ہے کہ کس کو کس کے لیے شفاعت کا موقع دینا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 110 یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا ” یہی بات سورة البقرۃ ‘ آیت 255 آیت الکرسی میں الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس طرح بیان فرمائی گئی ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ الاَّ بِمَاشَآءَج ”وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے ‘ اور وہ احاطہ نہیں کرسکتے اس کے علم کا کچھ بھی ‘ مگر یہ کہ جو وہ خود چاہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

79 اس آیت میں سفارش پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ لوگوں کے اعمال اور ان کے حالات جن میں وہ اعمال سرزد ہوئے اور ان کی نیتوں کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ دوسرے کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص کسی افسر کو جاکر کہے کہ آپ کا فلاں ماتحت آدمی میرا دوست ہے لہذا اس کا فلاں قصور معاف کردیجئے تو وہ جواب میں کہے گا کہ آپ واقعی میرے دوست ہیں لیکن یہ شخص پہلے جتنے قصور کرچکا اس کا آپ کو علم ہے ؟ اس کا ریکارڈ پہلے ہی بہت گندا ہے۔ لہذا اسے معاف کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ بالکل یہی اصول وہاں بھی کارفرما ہوگا یہ ممکن نہ ہوگا کہ کوئی بزرگ اللہ کے حضور یوں سفارش کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔” اس کا احاطہ نہیں کرسکتے “۔ یعنی اس کے علوم ومعلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ مضاف یعنی معلومات یہاں محذوف ہے۔ اے ولا یحیطون بمعلوماتہ علما (بحر) یعنی ایسا تو کوئی امر نہیں جو خلق کو معلوم ہو اور اللہ تعالیٰ کو معلوم نہ ہو، اور ایسے بہت سے امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور خلق کو معلوم نہیں۔ پس مخلوقات کے وہ سب احوال بھی اس کو معلوم ہیں جن پر شفاعت کی قابلیت یا عدم قابلیت مرتب ہے۔ سو جو اس کا اہل ہوگا اس کے واسطے سفارش کرنے کی شافعین کو اجازت ہوگی اور جو اہل نہ ہوگا اس کے لیے اجازت نہ ہوگی “۔ (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–115

آیت نمبر 105 تا 115 ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم ولا یحیطون بہ علما۔ وہ ان سب کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور اس کو ان کا علم احاطہ نہیں کرسکتا۔ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْیعنی سفارش کرنے والوں اور جن کی سفارش ہوگی ‘ ان کے آگے آنے والے احوال کو اللہ جانتا ہے۔ وَمَاخَلْفَہُمْیعنی دنیا میں اور قبروں میں جو احوال ان کے تھے ان کو بھی اللہ جانتا ہے۔ وَلاَ یُحِطْیُوْنَ بِہٖ عِلْمًا یعنی ان کا علم اللہ کے معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(110) اللہ تعالیٰ امور آخرت میں سے فرشتوں کے تمام اگلے احوال کو اور امور دنیا میں سے تمام پچھلے احوال کو جانتا ہے اور فرشتوں کا علم اس کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا مگر جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ : 255) کی تفسیر۔ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا : ”بِهٖ“ کی ضمیر کے مرجع کے لحاظ سے اس کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ ”بِهٖ“ میں ”ہٖ“ ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے قرار دی جائے۔ معنی یہ ہوگا کہ کسی کا علم اتنا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا احاطہ کرسکے، مخلوق کا محدود علم خالق کا احاطہ کیسے کرسکتا ہے ؟ دوسرا یہ کہ یہ ضمیر ”يَعْلَمُ“ کے مصدر ”عِلْمٌ“ کے لیے قرار دی جائے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ کوئی شخص اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا اور اس صورت میں یہ آیت الکرسی کے جملہ ”وَلَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یعلم ما بین ایدیھم یعنی قیامت کے امر سے وما خلفہم امر دینا ہے ؛ یہ قتادہ کا قولل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جانتا ہے جس ثواب اور عقاب کی طرف لوٹیں گے۔ وما خلفہم جو انہوں نے دنیا میں پیچھے چھوڑا پھر بعض نے فرمایا : یہ آیت تمام لوگوں کو شامل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے داعی کی اتبباع کی۔ والحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یحیطون بہ علماً بہ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، یعنی کوئی اس کے علم کا احاطہ نہیں کرتا جس کو اللہ جانتا ہے۔ طبری نے کہا : ایدیھم اور خلفہم اور یحیطون میں ضمائر کا مرجع ملائکہ ہیں۔ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ جو فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–110

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔ 3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [مَا : اس کو جو ] [بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان لوگوں کے آگے ہے ] [وَمَا : اور اس کو جو ] [خَلْفَهُمْ : ان کے پیچھے ہے ] [وَلَا يُحِيْطُوْنَ : اور وہ لوگ احاطہ نہیں کرتے ] [بِهٖ : اس کا ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عَلْمًا) (اور ان لوگوں کا علم اس کا احاطہ نہیں کرسکتا) صاحب روح المعانی ج 16 ص 225 نے اس کا ایک مطلب تو یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معلومات کو مخلوق کا علم احاطہ نہیں کرسکتا۔ اور دوسرا مطلب یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی صفات کمال کے ساتھ بندے پوری طرح نہیں جان سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–114

منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 109–111

77:۔ یہاں قیامت کے دن شفاعت کے نافع ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں سے پھر شفاعت کی ایک صورت کو مستثنی کیا گیا ہے۔ جس کی تعبیر ” مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ “ سے کی گئی ہے۔ اس سے یا تو شافعین یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اور مومنین صالحین مراد ہیں جن کو قیامت کے دن گنہگاروں کی سفارش کرنے کا اذن ملے گا۔ یا مشفوع لھم یعنی وہ گنہگار مومنین مراد ہیں، جن کے حق میں شفاعت ہوگی۔ پہلی صورت میں معبودان باطلہ کی شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہوگی اور دوسری صورت میں مشرکین کے حق میں شفاعت کے مفید ہونے کی نفی مراد ہوگی۔ و معناہ لاجلہ وکذا ورضی لہ ای لاجلہ ویکون من للمشفوع لہ او بدل من الشفاعۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–110

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔ مضبوط پہاڑوں کی شکستگی : اب آج…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا۝ 110 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 99–110

اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 110) (وہ جانتا ہے لوگوں کے آنے والے حالات کو اور گزرے ہوئے واقعات کو، اور لوگ اس کا اپنے علم سے احاطہ نہیں کرسکتے۔ ) شفاعت کے صحیح تصور پر دلیل اس آیت کریمہ میں شفاعت کی علی الاطلاق اجازت نہ دینے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کسی افسر کی جانب سے سزا ملتی ہے تو وہ افسر کے جاننے والوں بلکہ اس پر اثر رکھنے والوں کو تلاش کرتا ہے اور جب کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے تو وہ اسے درخواست کرتا ہے کہ آپ براہ کریم میری سفارش کرکے میری سزا معاف کرا دیں۔ سفارش کرنے والا سزا دینے والے افسر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 108–110

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔ جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

110: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (وہ جانتا ہے ان کے تمام اگلے پچھلے احوال کو) ان کے گزشتہ احوال اور مستقبل کی کیفیات سے واقف ہے۔ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا (وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے) یعنی ان چیزوں کو جن کا احاطہ علم الٰہی کرنے والا ہے۔ نحو : اس صورت میں ضمیر ماؔ کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2: ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

110۔ یعلم مابین ایدھیم وماخلفھم، ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اور جو کچھ اس کے پیچھے ہے جو کچھ یہ دنیا میں چھوڑ آیا ہے بعض نے کہا کہ مابین ایدیھم سے مراد آخرت کے احوال ہیں۔ اور وماخلفھم، ، سے مراداعمال ہیں۔ ولایحیطون بہ علما، یعنی ان کا علم اللہ کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–112

109۔ 112:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کو اپنے بتوں پر یہ جو بھروسہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے یہ بھروسہ شیطان کا دھوکا ہے جس دھوکے میں یہ لوگ پھنس رہے ہیں اس لیے کہ جب ان لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا کسی طرح اس کی بخشش نہ ہوگی اس لیے کسی مشرک کے حق میں اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–111

آیات (104) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 109–110

111 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز سفارش صرف اسی کے کام آسکے گی جس کو اجازت ملے گی "۔ کہ مشفُوع لَہ مومن ہو کافر نہ ہو۔ کہ کافر کے لئے شفاعت نہ ہوگی۔ سو اس روز شفاعت کے کام کی دو شرطیں ہونگی۔ اول یہ کہ خدائے رحمن کی طرف سے اس کی اجازت ملے اور دوسری یہ کہ جس کیلئے اجازت ملے۔۔۔۔۔ کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے لائق ہے اور کس کا جرم و قصور قابل معافی ہے۔ سو ان دونوں شرطوں کے وجود اور تحقق کے بغیر کوئی کسی کیلئے کسی طرح کی سفارش نہیں کرسکے گا۔ سو اس سے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی فرما دی گئی جو مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم اور گھمنڈ پر مبنی تھا اور مبنی ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–113

قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2) بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–115

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی کسی کا علم اتنا نہیں ہے کہ اس کی ذات صفات اور معلومات کا احاطہ کرسکے۔ اس آیت کا یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب ” ب 5“ میں 22 ہ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے قرار دی جائے اور اگر وہ ” مابین ایدیھم وما خلفھم “ میں ” ما “ کے لئے قرار دی جائے تو مطل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو (چاہے وہ فرشتے ہوں یا خود انسان یا کوئی اور) لوگوں کے اگلے پچھلے حال کا پورا علم نہیں ہے کہ یہ جان سکیں کہ کس کے حق میں شفاعت کرنی چاہیے اور کس کے حق میں نہ کرنی چاہیے اس لئے شفاعت کو اللہ تعالیٰ کے اذن (اجازت) پر موقف رکھا گیا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے سرزنش ہے جو فرشتوں یا انبیاء اولیا اور بزرگوں کی پرستش…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:110) یعلم ما بین ایدیہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ تمام لوگ ہیں جو کہ حشر کے دن الداعی کی آواز پر اکٹھے ہوجاویں گے (آیت 108 مذکور بالا) یا بلا قید حشر جمیع الناس مراد ہیں۔ لا یحیطون بہ علما۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ علما تمیز ہے لا یحیطون سے یعنی ازروئے علم وہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ یا یوں کہ ان کا علم اس کی ذات وصفات کا کما حقہ ادراک نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–112

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 112 نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 110–113

ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح سے ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ، جس طرح ہم نے تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے۔ اسی طرح اس قرآن میں عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں جگہ جگہ ہیں، تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آجائیں، اور پرہیز گاری اختیار کریں، یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[48] یعنی اس کے علوم و معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ایسے بہت سے امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں اور بندوں کو معلوم نہیں۔ پس مخلوقات کے وہ سب احوال بھی اس کو معلوم ہیں جن پر سفارش کی قابلیت یا عدم قابلیت مرتب ہے۔ تو جو اس کا اہل ہوگا اس کے واسطے سفارش کی اجازت ہوگی ورنہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 109–112

(ف 1) ان آیات میں مسئلہ شفاعت ذکر کرکے اللہ کی وسعت علمی اور قدر مطلق کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اس کی ذات ہمہ دان ہے ، کوئی چیز اور کوئی جگہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ، بااقتدار ہے ایک وقت آئے گا ، جب کہ تمام جبینیں اس کے سامنے جھکی ہونگی ، کسی شخص کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی ، وہ جو چاہے گا ، ضرور ہوگا جو کرے گا عین معدات و انصاف قرار پائے گا اس لئے وہ لوگ جو اس کے احاطہ علمی کی وسعتوں سے آگاہ نہیں ہیں ، اور اس کے سامنے جرائم ومظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ اس دن نامرادی اور ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔ حل لغات : قاعا صفصفا : صاف اور ہموار میدان : امتا : بلندی ۔ الحی القیوم : زندگی اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 1 10 وہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے اگلے اور پچھلے احوال کو جانتا ہے اور مخلوق باعتبار اپنے علم کے معلومات باری تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو مخلوقات کے تمام حالات و معلومات کو جانتا ہے لیکن سب لوگ حضرت حق تعالیٰ کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 109–110

ف 3۔ مراد اس سے مومن ہے کہ شافعین کو اس کی سفارش کے لئے اجازت ہوگی، اور اس باب میں شافع کا بولنا پسندیدہ حق ہوگا، اور کفار کے لئے سفارش کی کسی کو اجازت ہی نہ ہوگی، پس عدم نفع بوجہ عدم شفاعت کے ہے، اس میں ترہیب ہے کفار معرضین کو کہ تم تو شفاعت سے بھی محروم رہو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

علم الہی سب پر محیط ہے مگر اللہ کے علم پر کوئی محیط نہیں ہو سکتا : 110۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی وضاحت فرما دی گئی کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ علم الہی سب پر محیط ہے یعنی پروردگار عالم پر ہر ایک انسان کا ریکارڈ واضح ہے کہ کون کیا کچھ کرتا رہا ہے اور کیا کچھ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خواہ وہ کوئی نبی ورسول ہو یا جن اور فرشتہ یہ نہیں جانتا کہ کسی کا کیا ریکارڈ ہے آیا اس کی سفارش کرنی چاہئے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی شخص کیا سیرت وکردار لے کر آیا ہے اور اس کی گردن پر کس کس کی ذمہ داریوں کا بار ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ریکارڈ سے واقف ہے اور وہ ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–113

يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ‌ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ‌ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

86. Here the reasons for the restrictions on intercession have been stated. On the one hand, no angel, no prophet, no saint, nor anyone else knows, nor can know, the full details about the records of others. On the other hand, Allah has full knowledge of all the deeds and misdeeds of everyone and He knows who deserves pardon or punishment, and how much. If, therefore, there had been full freedom for intercession, the whole purpose of the creation of man would have become meaningless. According to this verse, the door against intercession has not been entirely closed. The righteous people will…

Read the full tafseer →