Explained with ayahs 109–112
نوعیت شفاعت اور روز قیامت۔
قیامت کے دن کسی کی مجال نہ ہوگی کہ دوسرے کے لئے شفاعت کرے ہاں جسے اللہ اجازت دے۔ نہ آسمان کے فرشتے بےاجازت کسی کی سفارش کرسکیں نہ اور کوئی بزرگ بندہ۔ سب کو خود خوف لگا ہوگا بےاجازت کسی کی سفارش نہ ہوگی۔ فرشتے اور روح صف بستہ کھڑے ہوں گے، بےاجازت الٰہی کوئی لب نہ کھول سکے گا۔ خود سید الناس اکرم الناس رسول اللہ ﷺ بھی عرش تلے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اللہ کی خوب حمد وثنا کریں گے دیر تک سجدے میں پڑے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر حد مقرر ہوگی آپ ان کی شفاعت کرکے جنت میں لے…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 85
اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو متن میں کیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ " اس روز شفاعت کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ کسی کے حق میں رحمان اس کی اجازت دے اور اس کے لیے بات سننے پر راضی ہو "۔ الفاظ ایسے جامع ہیں جو دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے روز کسی کو دم مارنے تک کی جرأت نہ ہوگی کجا کہ کوئی سفارش کے لیے بطور خود زبان کھول سکے۔ سفارش وہی کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ بولنے کی اجازت دے، اور اسی کے حق میں کرسکے گا جس کے لیے بارگاہ الہٰی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ یہ دونوں باتیں قرآن میں متعدد مقامات پر کھول کر بتادی گئی ہیں۔ ایک طرف فرمایا مَنْ ذَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیات 109
شفاعت کے لئے شرائط
استثناء میرے نزدیک یہاں منقطع ہے۔ یہ عربوں کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ وہ جس معبودوں کو پوجتے ہیں وہ خدا کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ وہ خود آگے بڑھ کر اپنے پجارویں میں سے جس کے لئے چاہیں گے سفارش کریں گے اور اس کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ ان کے اس زعم کی تردید میں فرمایا کہ اس دن کسی کی شفاعت کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں ہے حالانکہ خدائے رحمان کسی کو شفاعت کی اجازت دے اور کسی کے بارے میں وہ کسی کے کچھ کہنے کو پسند فرمائے۔ یعنی جو شفاعت کرے گا وہ بھی خدا کی اجازت سے کرے گا اور جس کے لئے شفاعت کی جائے گی وہ بھی بایں شرط مشروط ہے کہ خدا اس کے بارے میں کسی…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی اس دن کسی کی سفارش کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، سوائے ان کے جن کو رحمٰن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، اور وہ بھی ہر کسی کی سفارش نہیں کریں گے بلکہ صرف ان کی سفارش کریں گے جن کی بابت سفارش کو اللہ پسند فرمائے گا اور یہ کون لوگ ہونگے ؟ صرف اہل توحید، جن کے حق میں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة نجم، 2 6 ، سورة انبیاء، 28۔ سورة سباء، 23۔ سورة النباء 38۔ اور آیت الکرسی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین…
Read the full tafseer →12 یعنی اس کی سفارش چلے گی جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سفارش کی اجازت ملے۔ اس کا بولنا خدا کو پسند ہو اور بات ٹھکانے کی کہے اور ایسے شخص کی سفارش کرے جس کی بات (لا الہ الا اللہ) خدا کو پسند آچکی ہے کافر کے حق میں کوئی سعی سفارش نہیں چلے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت 108 یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ج ”
تمام انسانوں کو اس دن جب اکٹھے ہونے کے لیے پکارا جائے گا تو ہر کوئی اس پکار پر لبیک کہے گا۔ کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ اس حکم کو نظر انداز کر کے ادھر ادھر ہو سکے۔
Read the full tafseer →78 یعنی اس دن سفارش ہوگی ضرور مگر اس کے لئے تین شرائط ہوں گی۔ ایک تو وہی شخص سفارش کرسکے گا جس کو اللہ کی طرف سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے۔ دوسرے اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہوگی۔ تیسرے وہ صرف ایسی بات کے لئے ہی سفارش کرسکے گا جسے اللہ سننا پسند فرمائے گا۔
Read the full tafseer →127۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتاؤں اور اپنے آباؤ اجداد کو اپنا شافع گڑھ رکھا ہی تھا، خود مسیحیت کا سارا دارومدار ہی عقیدہ شفاعت وکفارہ پر ہے۔ قرآن نے ہر جگہ اسی مشرکانہ عقیدۂ شفاعت مطلقہ پر ضرب لگائی ہے اور کسی مستقل مطلق شافع کے وجود سے بار بار انکار کیا ہے۔ (آیت) ” الا من اذن لہ الرحمن “۔ اسلام جس شفاعت کا قائل ہے، اس کی پہلی اور سب سے بڑی شرط خود حق تعالیٰ کی اجازت ہے۔ شفاعت کوئی اپنے ارادہ واختیار سے کر ہی نہیں سکتا، صرف وہی کرسکے گا جس کو خود حق تعالیٰ ایما فرمائیں گے، گویا یہ شفاعت ہی صرف ظاہری ورسمی ہوگی، ورنہ حقیقۃ تو اللہ ہی کا حکم ہوگا۔ (آیت) ” رضی لہ قولا “۔ یعنی کسی شافع کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ اس روز (کسی کو کسی کی)
سفارش نفع نہ دے گی مگر ایسے شخص کے واسطے جس کے لئے رحمن نے اجازت دے دی ہو اور اس شخص کے واسطے بولنا پسند کرلیا ہو۔
من یا محل رفع میں ہے اور لفظ شفاعت مضاف محذوف ہے یعنی کسی کو کسی کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی ‘ ہاں اس شخص کی شفاعت فائدہ دے گی جس کو شفاعت کرنے کی اللہ نے اجازت دے دی ہوگی۔ یا من محل نصب میں ہے یعنی کسی کو کسی کی شفاعت مفید نہ ہوگی ہاں اس شخص کو سفارش فائدہ دے گی جس کے لئے سفارش کرنے کی اللہ نے اجازت دے دی ہوگی۔
وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلاً یعنی اس شفیع کی شفاعت کو اللہ نے پسند کیا ہو ‘ مطلب یہ ہے کہ شفیع…
Read the full tafseer →(109) اور قیامت کے دن فرشتوں کی شفاعت کسی کو نفع نہیں دے گی مگر ایسے شخص کی شفاعت فائدہ مند ہوگی، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی ہو اور اس کا کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا ہو۔
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ۔۔ : اس آیت میں اس دن کی مزید ہیبت اور عظمت بیان ہوئی ہے کہ مشرکین کا کہنا کہ ہمارے معبود ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، بالکل غلط ہے۔ وہاں کوئی سفارش نفع نہ دے گی۔
اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ۔۔ : اس کے دو مطلب ہیں، دونوں مراد ہیں اور دونوں کی تائید آیات قرآن سے ہوتی ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ نہایت مختصر لفظوں میں بہت زیادہ معانی ہوتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کی جس کو رحمٰن سفارش کرنے کی اجازت دے اور جس کے بات کرنے کو پسند فرمائے۔ دوسرا یہ کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کو جس کے حق میں رحمٰن سفارش کی اجازت دے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن، من محل نصب میں ہے پہلے سے استثناء خارج کی ببنا پر یعنی لا تنفع الشفاعۃ احداً الا شفاعۃ من اذن لہ الرحمن یعنی کسی کو شفاعت نفع نہ دے گی مگر اس کی کی شفاعت جس کو رحمن اذن شفاعت فرمائے گا۔ ورضی لہ قولاً یعنی اللہ تعالیٰ جس کی شفاعت پر راضی ہوگا۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے شفاعت اسے نفع دے گی جسے رحمن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور اس کے لیے ایسا قول ہوگا جو پسندیدہ ہوگا۔ حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا : قول سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [لَّا تَنْفَعُ : نفع نہیں دے گی ] [الشَّفَاعَةُ : شفاعت ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : وہ ] [اَذِنَ : اجازت دی ] [لَهُ : جس کو ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن نے ] [وَرَضِيَ : اور وہ راضی ہوا ] [لَهٗ : جس کی ] [قَوْلًا : بات سے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (یَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا) (جس دن شفاعت نفع نہ دے گی مگر اس کو جس کے لیے رحمن نے اجازت دی اور جس کے لیے بولنا پسند فرمایا) مطلب یہ ہے کہ اس ہولناک دن میں مصیبت سے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہ ہوگا اور شفاعت کام نہ دے گی۔ ہاں جس کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ بولنا پسند فرمائے گا اس کے حق میں شفاعت نافع ہوگی۔ اول تو ہر ایک شفاعت کر نہیں سکے گا جسے شفاعت کرنے کی اجازت ہوگی وہی شفاعت کی جرأت کرے گا جیسا آیۃ الکرسی میں فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ الاَّ باذْنِہٖ ) (کون ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
77:۔ یہاں قیامت کے دن شفاعت کے نافع ہونے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں سے پھر شفاعت کی ایک صورت کو مستثنی کیا گیا ہے۔ جس کی تعبیر ” مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ “ سے کی گئی ہے۔ اس سے یا تو شافعین یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اور مومنین صالحین مراد ہیں جن کو قیامت کے دن گنہگاروں کی سفارش کرنے کا اذن ملے گا۔ یا مشفوع لھم یعنی وہ گنہگار مومنین مراد ہیں، جن کے حق میں شفاعت ہوگی۔ پہلی صورت میں معبودان باطلہ کی شفاعت کے نافع ہونے کی نفی ہوگی اور دوسری صورت میں مشرکین کے حق میں شفاعت کے مفید ہونے کی نفی مراد ہوگی۔ و معناہ لاجلہ وکذا ورضی لہ ای لاجلہ ویکون من للمشفوع لہ او بدل من الشفاعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔
مضبوط پہاڑوں کی شکستگی :
اب آج…
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَہٗ قَوْلًا 109
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…
Read the full tafseer →یَوْمَئِذٍ لاَّ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَـہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَـہٗ قَوْلاً ۔ (طٰـہٰ : 109)
(اس دن کوئی سفارش نفع نہیں دے گی، بجز اس آدمی کے کہ اسے رحمن اجازت دے اور اس کے قول کو پسند فرمائے۔ )
شفاعت کا صحیح تصور
قیامت کے حوالے سے عربوں میں جو گمراہیاں پائی جاتی تھیں اور جن کی وجہ سے انھیں قیامت کی پرواہ تک نہ تھی ان میں سے ایک گمراہی یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر واقعی قیامت آہی گئی تو ہمیں اس کی کیا پرواہ ہے کیونکہ جن قوتوں کو ہم نے آج تک اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھ کر پکارا ہے اور ہمیشہ ان کی پوجا کی ہے وہ قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گی اور ان کی سفارش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔
جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →109: یَوْمََئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ (اس دن شفاعت فائدہ نہ دے گی مگر ایسے شخص کیلئے جس کے لئے رحمان نے اجازت دے دی ہو۔ )
نحو : مَنْ شفاعت کا بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ مضاف محذوف ہے۔ ای لا تنفع الشفاعۃ الا شفاعۃ من اذن لہ الرحمان یعنی وہ شفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًا (اور اس کے لئے بولنا پسند کرلیا ہو) اور اپنے لئے اس کی بات کو پسند کرلیا ہو کہ جس کے حق میں شفاعت کی جارہی ہے وہ محفوظ ہوگا۔ نمبر 2۔ یہ منصوب ہے اس طرح کہ تنفع کا مفعول ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
109۔ یومئذ لاتنفع الشفاعۃ۔ اس دن لوگوں میں سے کسی کی شفاعت قبول نہیں کی جائے گی، الامن اذن لہ الرحمن، مگر جس کو اللہ رب العزت اجازت فرمائیں گے۔ ورضی لہ قولا، جس کی بات سے وہ راضی ہوگاجس کی شفاعت کو وہ پسند کرے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد لاالہ الا اللہ ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مومن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
109۔ 112:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کو اپنے بتوں پر یہ جو بھروسہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے یہ بھروسہ شیطان کا دھوکا ہے جس دھوکے میں یہ لوگ پھنس رہے ہیں اس لیے کہ جب ان لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا کسی طرح اس کی بخشش نہ ہوگی اس لیے کسی مشرک کے حق میں اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–111
آیات (104)
یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
111 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز سفارش صرف اسی کے کام آسکے گی جس کو اجازت ملے گی "۔ کہ مشفُوع لَہ مومن ہو کافر نہ ہو۔ کہ کافر کے لئے شفاعت نہ ہوگی۔ سو اس روز شفاعت کے کام کی دو شرطیں ہونگی۔ اول یہ کہ خدائے رحمن کی طرف سے اس کی اجازت ملے اور دوسری یہ کہ جس کیلئے اجازت ملے۔۔۔۔۔ کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے لائق ہے اور کس کا جرم و قصور قابل معافی ہے۔ سو ان دونوں شرطوں کے وجود اور تحقق کے بغیر کوئی کسی کیلئے کسی طرح کی سفارش نہیں کرسکے گا۔ سو اس سے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی فرما دی گئی جو مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم اور گھمنڈ پر مبنی تھا اور مبنی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)
Read the full tafseer →(20:109) لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) ای لا تنفع شفاعۃ شافع الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا۔ یعنی کسی سفارش کرنے والے کی سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شفاعت کنندہ کے جسے رحمن اجازت بخشے اور (پھر اس سفارش کنندہ کی) بات پر وہ (رحمن) راضی ہو۔
اس کی تائید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ (2:255) کون ہے جو اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔
اور یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا۔ (78:37) اس دن جب کہ روح اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے کوئی نہ بول سکے گا بجز اس کے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →حاصل مطلب یہ ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ جن مورتیوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں، وہ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑائیں گے۔ ارشاع ہوتا ہے کہ قیامت کے دن کسی کی سفارش ان کو فائدہ نہ دے گی، مگر اس کی جس کو اللہ نے مجاز کیا ہے۔ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مر جائے گا، تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ بھی شرک کرنے والوں سے بیزار ہوں گے، ان کی سفارش ہرگز نہ ہوگی۔ پھر فرمایا ہر ایک شخص کے دنیا کے عملوں کا حال اور اس کا عقبیٰ کا انجام اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
[46] مراد ہے صور پھونکنے والا فرشتہ۔
[47] یعنی کوئی ذرا بھی اکڑ دکھا نہ سکے گا کہ اس کے حکم میں توقف کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
(ف 1) ان آیات میں مسئلہ شفاعت ذکر کرکے اللہ کی وسعت علمی اور قدر مطلق کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اس کی ذات ہمہ دان ہے ، کوئی چیز اور کوئی جگہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ، بااقتدار ہے ایک وقت آئے گا ، جب کہ تمام جبینیں اس کے سامنے جھکی ہونگی ، کسی شخص کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی ، وہ جو چاہے گا ، ضرور ہوگا جو کرے گا عین معدات و انصاف قرار پائے گا اس لئے وہ لوگ جو اس کے احاطہ علمی کی وسعتوں سے آگاہ نہیں ہیں ، اور اس کے سامنے جرائم ومظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ اس دن نامرادی اور ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔
حل لغات :
قاعا صفصفا : صاف اور ہموار میدان :
امتا : بلندی ۔
الحی القیوم : زندگی اور…
Read the full tafseer →- 109 اس دن کسی کے حق میں سفارش نفع نہیں دے گی اور شفاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا مگر ہاں اس شخص کو شفاعت کا فائدہ حاصل ہوگا جس کے لئے رحمان نے شافع کو اجازت دی ہو اور اس کے لئے شافع کی بات کو پسند کرلیا ہو۔ یعنی سفارش اس کے حق میں مفید ہوگی جس کے لئے رحمان اجازت دے اور اس کا بولنا پسند کرے مراد یہ ہے کہ وہ جس کی سفارش کی جائے وہ مومن ہو کافر کے لئے نہ سفارش کی اجازت نہ سفارش مفید اور مقبول ۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس کی سفارش چلے گی۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ شافع ماذون ہو اور مشفوع لہ مسلمان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
ف 3۔ مراد اس سے مومن ہے کہ شافعین کو اس کی سفارش کے لئے اجازت ہوگی، اور اس باب میں شافع کا بولنا پسندیدہ حق ہوگا، اور کفار کے لئے سفارش کی کسی کو اجازت ہی نہ ہوگی، پس عدم نفع بوجہ عدم شفاعت کے ہے، اس میں ترہیب ہے کفار معرضین کو کہ تم تو شفاعت سے بھی محروم رہو گے۔
Read the full tafseer →اس روز کسی کی کوئی سفارش بھی نہیں کرسکے گا الا یہ کہ رحمن اجازت دے :
109۔ دنیا کی ساری قومیں مزعومہ شفاعت کے سہارے تلاش کرتی رہی ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں ۔ کچھ لوگ تو آخرت کو مانتے ہی نہیں اور جو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ان کا سارا انحصار اپنے اپنے مذہبی پیشیواؤں اور لیڈروں کے متعلق یہ ہے کہ یہ لوگ ہماری سفارش کرکے ہمیں اللہ رب العزت کے عذاب سے بچالیں گے اور اسی شفاعت کے سہارے لوگ وہ کچھ کر رہے ہیں جس سے زیادہ بڑی برائی کوئی اور نہیں ہوسکتی ۔ یہود کی تاریخ تو ایسے مفروضوں سے بھری پڑی ہے اور عیسائیت کا انحصار ہی سارا اس شفاعت پر ہے اور دوسرے سارے لوگ خواہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →85. This also has another interpretation: On that Day intercession will not be effective except in the case of the one for whom the Merciful may allow it and be pleased to hear it for him. Both these interpretations are supported by the following:
Who is there that can intercede with Him except by His own permission? (Surah Al-Baqarah, Ayat 255).
On that Day when the spirit and the angels will stand with folded hands, they will not be able to say anything except what the Merciful will permit, and they will say the right thing. (Surah An-Naba, Ayat 38). They do not intercede for anyone except…
Read the full tafseer →