Explained with ayahs 105–108
پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں ؟ ان کا سوال نقل کرکے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہوجائے کی۔ قاع کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ صفصفا اسی کی تاکید ہے اور صفصف کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ نہ اونچان رہے گی نہ نچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جارہی…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 84
اصل میں لفظ " ہَمْس " استعمال ہوا ہے، جو قدموں کی آہٹ، چپکے چپکے بولنے کی آواز، اونٹ کے چلنے کی آواز اور ایسی ہی ہلکی آوازوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہاں کوئی آواز، بجز چلنے والوں کے قدموں کی آہٹ اور چپکے چپکے بات کرنے والوں کی کھسر پسر کے نہیں سنی جائے گی۔ ایک پر ہیبت سماں بندھا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →ھس کے معنی باریک اور پست آواز کے ہیں جو کا نا پھوسی کی نوعیت کی ہو۔
فرمایا کہ آج تو لوگ ہمارے داعی کی بات نہیں سن رہے ہیں وہ صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے تو یہ کج ہو کے چل رہے ہیں، اس کی مخالفت میں گلے پھاڑ رہے ہیں۔ لیکن اس دن کا داعی جب پکارے گا تو سب اس کے پیچھے چل پڑیں گے، کسی کی مجال نہ ہوگی کہ سر مواس سے انحراف کرسکے اور خدائے رحمان کی ہیبت کے آگے سب کی آوازیں پست ہوجائیں گی، کسی کے حلق سے بھی آواز نہیں نکلے گی جو بھی بات کرے گا سرگوشی اور کا نا پھوسی کے انداز میں بات کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
18۔ 1 یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔
18۔ 2 یعنی اس بلانے والے سے ادھر ادھر نہیں ہو نگے۔
18۔ 3 یعنی مکمل سناٹا ہوگا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین…
Read the full tafseer →10 یعنی جدھر فرشتہ آواز دے گا یا جہاں بلائے جائیں گے سیدھے تیر کی طرح ادھر دوڑے جائیں گے۔ نہ بلانے والے کی بات ٹیڑھی ہوگی اور نہ دوڑنے والوں میں کچھ ٹیڑھا ترچھا پن رہے گا۔ کاش یہ لوگ دنیا میں اللہ کے داعی کی آواز پر اسی طرح سیدھے جھپٹتے تو وہاں کام آتا۔ پر یہاں اپنی بدبختی اور کجروی سے ہمیشہ ٹیڑھی چال چلتے رہے۔
11 یعنی محشر کی طرف چلنے کی کھسکھساہٹ کے سوا اس وقت رحمان کے خوف وہیبت کے مارے کسی کی آواز نہ سنائی دے گی، اگر کوئی کچھ کہے گا بھی تو اس قدر آہستہ جیسے کانا پھوسی کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
آیت 108 یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ج ”
تمام انسانوں کو اس دن جب اکٹھے ہونے کے لیے پکارا جائے گا تو ہر کوئی اس پکار پر لبیک کہے گا۔ کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ اس حکم کو نظر انداز کر کے ادھر ادھر ہو سکے۔
Read the full tafseer →76 یہ داعی اللہ کا مقرر کردہ فرشتہ اسرافیل ہوگا۔ اس دنیا میں تو ان لوگوں نے اللہ کے داعی کی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا بلکہ اس کی مخالفت ہی کرتے رہے مگر اس دن اللہ کے داعی کی آواز پر سراپا عمل بن جائیں گے اور جو کچھ وہ کہے گا ٹھیک اسی طرح کرتے جائیں گے۔ وہ کہے گا کہ چلو میدان حشر کی طرف تو سب ادھر دوڑ پڑیں گے۔ اور اس داعی کی آواز اور حکم کو پوری طرح سمجھ بھی رہے ہوں گے۔
ـ77 اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کی یا اس فرشتہ کی آواز اور حکم کو ہمہ تن گوش بن کر سن رہے ہوں گے، کسی کو اونچی آواز سے کسی دوسرے سے کوئی بات پوچھنے کی بھی ہمت نہ رہے گی۔ اس دن یا تو ان کے قدموں کی چاپ کی آواز سنائی دے سکے گی یا…
Read the full tafseer →125۔ یعنی کسی کا ٹیڑھا پن اس کے سامنے نہ چل سکے گا، کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس کے حکم میں توقف کرے۔ اے لایعوج لہ مدعوبل یستوؤن الیہ من غیر انحراف متبعین لصوتہ (کشاف) الداعی سے مراد ہے خدائی بلانے والا، یعنی صور پھونکنے والا فرشتہ۔ سب مردے اپنی قبروں سے نکل نکل اس کے پیچھے ہولیں گے۔
126۔ (فرط ہیبت سے) کمال ہیبت وخوف کے موقعہ پر جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ مارے ڈر کے گھگی بندھ گئی، عربی محاورہ میں اسی کنایہ سے ادا کرتے ہیں۔ (آیت) ” ھمسا “۔ ھمس کے لغوی معنی ہیں پست اور کھس پھس والی آواز کے۔ الھمس وھو الرکز الخفی (کشاف) یہاں مراد پیر کی چاپ ہے۔ اے لاتسمع الا خفق الاقدام ونقلھا الی المحشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →یومئذ یتبعون الداعی لا عوج لہ وخشعت الاصوات للرحمن فلا تسمع الا ہمسا۔
اس روز (سب کے سب خدا کی طرف سے) بلانے والے کے کہنے پر ہو لیں گے ‘ اس کے سامنے کسی کا ٹیڑھاپن نہیں رہے گا اور ساری آوازیں رحمن کے سامنے (اس کی ہیبت کی وجہ سے) دب جائیں گی پس (اے مخاطب) مجھے پاؤں کی آہٹ کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہیں دے گی۔
داعی یعنی اسرافیل میدان حشر کی طرف سب کو بلائیں گے اور صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے پکار کر کہہ رہے ہوں گے اے بوسیدہ ہڈیو ‘ اے پارہ پارہ کھالو ‘ اے ٹوٹے بالو ! تم کو اللہ فیصلے کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے (سب آجاؤ) ابن عساکر نے زید بن جابر شافعی کی روایت سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ عِوَجَ…
Read the full tafseer →(108) قیامت کے دن سب خدائی بلانے والے کے ساتھ تیزی سے ہو لیں گے اس کے سامنے کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں مڑے گا اور تمام آوازیں اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی وجہ سے دب جائیں گی، آپ ماسوا پاؤں کی آہٹ کے جیسا کہ اونٹوں کے پیروں کی آواز ہوتی ہے اور کچھ آواز نہ سنیں گے۔
Read the full tafseer →ۭيَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ۔۔ : یعنی قیامت کے دن سب لوگ حشر کے لیے قبروں سے نکل کر پکارنے والے کی آواز کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ) [ إبراہیم : 43 ] ”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے۔“ اس کی طرف جانے میں کوئی کجی نہ ہوگی، یعنی تیر کی طرح سیدھے جائیں گے اور ذرہ بھر ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اس حالت کا نقشہ سورة ابراہیم (42، 43) ، سورة قمر (6 تا 8) اور سورة قٓ (41، 42) میں دیکھیے۔ ”لَا عِوَجَ لَهٗ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پکارنے والے کی پکار میں کوئی کجی نہ ہوگی کہ کسی تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن الجبال یعنی لوگ قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کے متعلق پوچھتے ہیں فقل یہاں فا کے ساتھ آیا ہے ہر سوال جو قرآن میں آیا ہے اس کے جواب میں قل بغیر فاء کے آیا ہوا ہے سوائے ایک مقام کے، کیونکہ اس کا معنی ہے اگر وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کریں تو آپ کہیں۔ تو کلام کے ضمن میں شرط کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ لوگ پہاڑوں کے متعلق سوال کریں گے پس سوال سے پہلے انہیں جواب دیا۔ یہ سوالات جو پہلے گزر چکے ہیں لوگوں نے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو سوال کے بعد جواب دیا اسی وجہ سے جواب بغیر فاء کے آیا اور یہ سوال ابھی تک انہوں نے پوچھا نہیں تھا۔ ینسفھا وہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [يَّتَّبِعُوْنَ : وہ لوگ پیچھا کریں گے ] [الدَّاعِيَ : پکارنے والے (فرشتے) کا ] [لَا عِوَجَ : کوئی ٹیڑھا پن نہ ہوگا ] [لَهٗ : جس کے لئے ] [وَخَشَعَتِ : اور جھک جائیں گی ] [الْاَصْوَاتُ : آوازیں ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمان کے لئے ] [فَلَا تَسْمَعُ : پھر آپ ﷺ نہیں سنیں گے ] [اِلَّا : مگر ] [هَمْسًا : کھسر پھسر ]
[ھـ م س ](ض) ھَمْسًا آہستہ آہستہ باتیں کرنا۔ ھَمْسٌ ہلکی آواز۔ آہٹ۔ کھسر پھسر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 108 ۔]
نوٹ۔ 1: اردو محاروں میں آنکھوں کا سرخ ہوجانا غصّہ کی علامت ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ غصّے سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ اسی طرح عربی میں آنکھوں کا نیلا ہوجانا خوف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ان سب آیات میں پہاڑوں کی حالت بتائی ہے، پھر زمین کے بارے فرمایا (فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (اور اللہ تعالیٰ زمین کو اس حال میں کر دے گا کہ وہ ہموار میدان ہوگی اس میں ناہمواری اور پستی اور بلندی نہیں ہوگی، یعنی اس میں نہ گہرائی ہوگی اور نہ کوئی اٹھی ہوئی جگہ۔ اس کے بعد فرمایا (یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ ) (جس دن پہاڑوں کی یہ حالت ہوگی جس کا ذکر اوپر ہوا، اس دن لوگ بلانے والے آواز کے پیچھے چل دیں گے) لَاعِوَجَ لَہٗ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھاپن نہیں رہے گا۔ اس کی آواز کے خلاف کوئی بھی شخص دوسری راہ اختیار نہ کرسکے گا) پکارنے والے کی آواز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →76:۔ ” الداعی الخ “ سے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مراد ہیں جو قیامت کے دن صورت پھونکیں گے۔ صور کی آواز پر تمام مردے زندہ ہو کر ہر طرف سے سیدھے آواز کی جانب چل پڑیں گے۔ یردی اسرافیل (علیہ السلام) اذا نفخ فی الصور (لا عوج لہ) ای عن دعائہ لا یزیغون ولا ینحرفون بل یسرعون الیہ ولا یحیدون عنہ (قرطبی ج 11 ص 246) ۔ اس دن تمام بنی آدم پر ہیبت طاری ہوگی اور کوئی شخص اونچی آواز سے بات بھی نہیں کرسکے گا۔ ہیبت خداوندی اور ہول قیامت کی وجہ سے تمام مخلوق سہمی ہوئی ہوگی۔ ای خفیت لمھابتہ تعالیٰ وشدۃ ھول المطلع (روح ج 16 ص 296) ۔ ” ھَمْسًا “ یعنی نہایت پست۔ اس دن جو بھی بات کرے گا۔ نہایت پست اور خفی آواز سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔
مضبوط پہاڑوں کی شکستگی :
اب آج…
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَہٗ 0ۚ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا 108
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…
Read the full tafseer →یَوْمَئِذٍ یَّـتَّـبِـعُـوْنَ الدَّاعِیَ لاَ عِوَجَ لَـہٗ ج وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلاَ تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا۔ (طٰـہٰ : 108)
(اس روز سب لوگ پکارنے والے کے پیچھے پیچھے چلیں گے، کوئی روگردانی نہیں کرسکے گا اور آوازیں رحمن کے خوف سے خاموش ہوجائیں گی، پس تم نہ سنو گے مگر مدھم سے آہٹ۔ )
ہَمْسًا … مدھم آواز، پائوں کی آہٹ کو بھی کہتے ہیں۔ چپکے چپکے بولنے کی آواز۔
خودسروں کا انجام
آنحضرت ﷺ جب مکہ کے لوگوں کے سامنے قرآن پڑھتے تو وہ اس قدر شور مچاتے کہ قرآن کی آواز دب جاتی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم چونکہ اپنے اندر بےپناہ تاثیر رکھتا ہے، اگر یہ کانوں میں پڑے گا تو اثر کیے بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔
جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →108: یَوْ مَپذٍ (اس دن ) ۔ اس میں یوم کی اضافت پہاڑوں کے اڑانے کی طرف کی۔ ای یوم اذنسفت الجبال نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یوم القیامہ کا بدل ثانی ہے۔ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ (وہ داعی کے کہنے پر چلیں گے ادھر ادھر نہ مڑیں گے) جو محشر کی طرف بلائے گا۔ یعنی داعی سے مراد اسرافیل ہیں۔ اتباع داعی سے اتباع صوت داعی مراد ہے اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر آواز دیں گے ایتھا العظام البالیۃ والجلود المتخرقۃ و اللحوم المتفرقۃ ھلمّی الی عرض الرحمان ] الرحمان : 71[ اے بوسیدہ ہڈیو اے پارہ پارہ کھالو۔ متفرق گوشت کے گالو۔ رحمان کی بارگاہ میں پیش ہونے کو چلو۔ ہر طرف سے وہ اس کی…
Read the full tafseer →108۔ یومئذ یتبعون الداعی، ، پکارنے والے کی آواز جو قیامت کے دن روز محشر کی طرف جمع ہونے کے لیے پکارے گا وہ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہوں گے اور حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صور اپنے منہ میں لیے ہوئے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اے بوسیدہ ہڈیو، اے پارہ پارہ کھالو، اے ٹوٹے ہوئے بالو، تم کو اللہ کے فیصلے کے لیے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔ لاعوج لہ، ان کے سامنے کسی کاٹیڑھاپن نہیں رہے گا، اور یہ مقلوب ہے یعنی پکارے جانے پر بلانے سے دائیں بائیں کی طرف نہیں مڑیں گے بلکہ سیدھے تیزی کے ساتھ داعی کی دعوت پر آئیں گے۔
” وخشعت الاصوات للرحمنن ، ، رحمن کی ہیبت سے آوازیں پست ہوجائیں گی۔ فلاتسمع الاھمسا، ، محشر کی طرف…
Read the full tafseer →108:۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے صور کے وقت بد لوگوں کو ایک آگ گھیر کر ان کی قبروں سے میدان محشر تک لیجائے گی یہ حدیث لا عوج لہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ آگ میدان محشر کے راستہ سے بچ کر اور کوئی ٹیڑھا راستہ انہیں چلنے نہ دے گی اس واسطے سورة المعارج میں فرمایا کہ دوسرے صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کی طرف پوجا کے لیے سیدھے دوڑتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب و کتاب کے لیے دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے 1 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–111
آیات (104)
یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →110 منکرین کی قیامت کے روز داعی حق کی بےچوں و چرا پیروی و اتباع : سو اس روزان کی سب اکڑفوں ہرن ہوجائے گی اور یہ سب بلانے والے کی آواز پر سیدھے چلے آئیں گے۔ یعنی حضرت اسرافیل کی آواز پر۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعلان کریں گے کہ اے بوسیدہ ہڈیو، پر اگندہ بالو، بکھرے ہوئے گوشت کے ٹکڑو، تمہارے رب کا تمہیں حکم ہے کہ تم سب فوری طور پر جمع ہوجاؤ۔ تو اس پر یہ سب کے سب بلا کسی چون و چرا اور بدوں کسی حیل و حجت اور قیل و قال کے اٹھ کر اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اس کے حضور چلے آئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتجِیْبونَ بِحَمْدِہٖٖ } ۔ (بنی اسرائیل :52) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)
Read the full tafseer →(20:108) یتبعون مضارع جمع مذکر غائب۔ پیچھے چلیں گے۔ اتباع کریں گے۔ پیروی کریں گے۔ ضمیر یتبعون الناس کے لئے ہے تمام خلقت ۔ الداعی۔ بلانے والا۔ پکارنے والا۔ دعاء سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہاں پکارنے والے سے مراد فرشتہ اسرافیل ہے جو صور پھونکنے پر مامور ہے۔
لا عوج لہ۔ اس سے کوئی کجی نہیں برتے گا۔ یعنی اس کے حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ کوئی حکم عدولی نہیں کرے گا۔ جن کو وہ پکارے گا وہ بالکل سیدھے اس کے پیچھے ہو لیں گے ۔ کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔
خشعت۔ دب گئی۔ نیچی ہوگئی۔ پست ہوگئی۔ عاجز ہوگئی۔ خشوع مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے۔ الخشوع کے معنی ضراعۃ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبور سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کے تھان کی طرف پوجا کے لئے سیدھے دوڑتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب وکتاب کے لئے دوڑے ہوئے چلے آویں گے۔ میدان حشر اور حضور اکرم ﷺ کی شفاعت : صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینے سے جب لوگ بہت گھبرائیں گے و آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے انبیاء کے پاس التجا کے لئے جائیں گے، کہ یہ انبیاء اللہ کی بارگاہ میں حساب وکتاب شروع ہوجانے کی سفارش کردیں۔ یہ سب انبیاء جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کے غصہ کی وہ حالت ہے کہ آج سے پہلے نہ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
[46] مراد ہے صور پھونکنے والا فرشتہ۔
[47] یعنی کوئی ذرا بھی اکڑ دکھا نہ سکے گا کہ اس کے حکم میں توقف کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
(ف 2) جو لوگ یہاں تن آسانیوں میں الجھل کر رہ جاتے ہیں اور مادیت میں اس درجہ پھنس جاتے ہیں ، کہ قرآن کی آواز پر کان نہیں دھرتے ایک وقت آئے گا ، جب وہ پچھتائیں گے ، ان کی پشت عذاب کے بوجھ سے جھک جائے گی اور یہاں کے تمام تکلفات کی اس وقت حقیقت کھلے گی ،
(آیت) ” یوم ینفخ “۔ سے مراد یہاں دوسری دفعہ صور پھونکنا ہے ، اس وقت تمام لوگ اللہ کی حکمت وقدرت سے جی اٹھیں گے ، قرآن وحدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ یہ صور پھونکا جائے گا ، ایک اس وقت جب اللہ کو یہ منظور ہوگا ، کہ دنیا کا خاتمہ کر دیاجائے اور ایک اس وقت جب دوبارہ دنیا والے زندہ کئے جائیں گے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نفخ صور…
Read the full tafseer →- 108 اس دن تمام لوگ بغیر کسی انحراف کے ایک بالنے اور پکارنے والے کی آواز اور کہنے پر چل پڑیں گے اور تمام آوازیں رحمان کے سامنے پست ہوجائیں گی اور اے مخاطب تو سوائے پائوں کے چلنے کی آہٹ اور کھس کھساہٹ کے کوئی آواز نہیں سنے گا۔ یعنی اس دن حضرت اسرافیل کے بلانے پر سب لوگ بغیر کسی انحراف اور بغیر کسی اکڑکے قبروں سے نکل کر چل پڑیں گے نہ بلانے والے کی بات میں کوئی ٹیڑھ نہ حاضر ہونے والوں کی چال میں کوئی اکڑ اور امینٹھ اور خوف وہیبت کے مارے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی لوگوں کے چلنے کی کھس کھساہٹ اور کھس کھس کی آواز کے کوئی آواز تو اے مخاطب نہ سنے گا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی قبر سے زندہ ہو کر ایسے نہ رہیں گے، جیسے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ٹیڑھے رہتے تھے کہ تصدیق نہ کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اس دن سب لوگ بلانے والے کے پیچھے چلے جا رہے ہوں گے :
108۔ زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ تو نبی اعظم وآخر ﷺ کی بات سننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ راہ ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے اور لوگ ہیں کہ ناک بھوں چڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور ان باتوں کو سننے کے لئے ان کے کان تیار ہی نہیں اور اس کی مخالفت میں گلے پھاڑ پھاڑ کر (ھذا رجل مجنون) کے نعرے بلند کر رہے ہیں وہ رسول کی بات سننے کو تیار نہیں اور آنے والے کل کو معلوم ہے کہ کیا ہوگا ؟ داعی جب پکارے گا تو یہ سب اس کے پیچھے پیچھے چل دیں گے اور کسی کی مجال نہ ہوگی کہ سرمو اس سے انحراف کرسکے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے آوازیں پست کئے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →84. The original Arabic word hams is used for the sound of footsteps, the sound of whispering and other low sounds. What it implies here is that the people will be so awestricken on that Day that there will be no sound other than that of footsteps and whispering.
Read the full tafseer →