Explained with ayahs 105–108
پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟
لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں ؟ ان کا سوال نقل کرکے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہوجائے کی۔ قاع کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ صفصفا اسی کی تاکید ہے اور صفصف کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ نہ اونچان رہے گی نہ نچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جارہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
سورة طٰهٰ 83
عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورة انشقاق میں فرمایا اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ " زمین پھیلا دی جائے گی "۔ سورة انفطار میں فرمایا اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ، " سمندر پھاڑ دیے جائیں گے " جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا سورة تکویر میں فرمایا اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ، " سمندر بھردیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے "۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کردی جائے گی۔ اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
آیت 107-105
نسف کے معنی
نسف کے معنی ہیں کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا، غلہ کو چھاج میں رکھ کے پھٹکنا کسی چیز کو خس و خاشاک اور خاک اور راکھ بنا کر ہوا میں اڑا دینا
یذرہا میں ضمیر کا مرجع زمین ہے ظاہر اور مشہور چیزوں کے لئے عربی میں اس طرح ضمیر لاتے ہیں قرآن میں آسمان اور زمین وغیرہ کے لئے اس طرح متعدد جگہ ضمیریں آئی ہیں ماترک علی ظھر مامن دآبۃ اور روئے زمین پر کسی جاندار کو باقی نہیں چھوڑے گا) میں بھی ضمیر کا مرجع زمین ہے اگرچہ الفاظ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔
قاع ضفعف ہموار اور چٹیل میدان کو کہتے ہیں جس میں نہ نشیب و فراز ہو نہ سبزہ و نباتات نہ درخت اور جنگل
امت بلندی اور فراز کو کہتے ہیں۔
پہاڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
18۔ 1 یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔
18۔ 2 یعنی اس بلانے والے سے ادھر ادھر نہیں ہو نگے۔
18۔ 3 یعنی مکمل سناٹا ہوگا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–113
45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں
46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
9 یعنی قیامت کے ذکر پر منکرین حشر استہزاءً کہتے ہیں کہ ایسے ایسے سخت اور عظیم الشان پہاڑوں کا کیا حشر ہوگا ؟ کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ؟ اس کا جواب دیا کہ حق تعالیٰ کی لامحدود قدرت کے سامنے پہاڑوں کی کیا حقیقت ہے ان سب کو ذرا سی دیر میں کوٹ پیس کر ریت کے ذرات اور دھنی ہوئی روئی کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف و ہموار کردی جائے گی جس میں کچھ ایچ پیچ اور اونچ نیچ نہ رہے گی، پہاڑوں کی رکاوٹیں ایک دم میں صاف کردی جائیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 107 لَّا تَرٰی فِیْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا ”
تب زمین ایک ہموار چٹیل میدان کی صورت اختیار کر جائے گی اور دیکھنے والا اس میں کوئی نشیب و فراز محسوس نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →75 یعنی پہاڑوں کو پیوند خاک بنادیا جائے، سمندروں کو پاٹ دیا جائے گا۔ زمین کے سب نشیب فراس ختم کردیئے جائٖں گے اور وہ ایک بالکل ہموار اور وسیع میدان کی طرح بن جائے گا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : ( يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ 48 ۔ ) 14 ۔ ابراھیم :48) یعنی اس دن یہ زمین ایسی نہ رہے گی جیسی تم آج دیکھ رہے ہو، بلکہ اس میں تبدیل پیدا کردی جائے گی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
124۔ (مثل ٹیلہ، پہاڑ وغیرہ کے) خطاب اب یہاں عام ہے صرف رسول اللہ ﷺ سے نہیں۔ (آیت) ” ینسفھا ....... نفسا “۔ یعنی انہیں ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
آیت نمبر 105 تا 115
ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…
Read the full tafseer →لا تری فیہا عوجا ولا امتا۔ کہ جس میں آپ کو نہ ناہمواری دکھائی دے گی نہ (کہیں) بلندی۔ ابن المنذر نے ابن جریج کی روایت سے بیان کیا کہ قریش نے سوال کیا تھا قیامت کے دن آپ کا رب ان پہاڑوں کا کیا کرے گا ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
صحیح بات یہ ہے کہ کوئی خاص سائل نہ تھا اور برتقدیر سوال جواب کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ فَقُلْمیں فَ کا لانا بتارہا ہے کہ یہ فَ جزائیہ ہے اور شرط محذوف ہے یعنی اگر لوگ سوال کریں تو یہ جواب دیجئے دوسری آیات میں بھی سوالات کے جوابوں کی تعلیم دی گئی لیکن وہاں چونکہ کوئی شرط محذوف ہے نہ مذکور اس لئے قُلْ سے پہلےنہیں ذکر کی گئی مثلاً فرمایا ہے وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(106۔ 107) پھر زمین کو ایک میدان ہموار کردے گا کہ اس پر کوئی سبزہ وغیرہ کی کوئی بلندی دیکھے گا۔
Read the full tafseer →ۙلَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا : ”عِوَجًا“ کجی، مراد نیچی جگہ ہے۔ ”اَمْتًا“ معمولی ابھری ہوئی جگہ، یعنی ہر بلندی اور پستی، حتیٰ کہ سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی ختم ہو کر پوری زمین بالکل ہموار ہوجائے گی، جس میں ذرہ برابر نیچی یا اونچی جگہ دکھائی نہ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن الجبال یعنی لوگ قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کے متعلق پوچھتے ہیں فقل یہاں فا کے ساتھ آیا ہے ہر سوال جو قرآن میں آیا ہے اس کے جواب میں قل بغیر فاء کے آیا ہوا ہے سوائے ایک مقام کے، کیونکہ اس کا معنی ہے اگر وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کریں تو آپ کہیں۔ تو کلام کے ضمن میں شرط کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ لوگ پہاڑوں کے متعلق سوال کریں گے پس سوال سے پہلے انہیں جواب دیا۔ یہ سوالات جو پہلے گزر چکے ہیں لوگوں نے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو سوال کے بعد جواب دیا اسی وجہ سے جواب بغیر فاء کے آیا اور یہ سوال ابھی تک انہوں نے پوچھا نہیں تھا۔ ینسفھا وہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[لَّا تَرٰى: آپ ﷺ نہیں دیکھیں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [عِوَجًا : کوئی ٹیڑھا پن ] [وَّلَآ اَمْتًا : اور نہ کوئی اونچی جگہ ]
[ء م ت ](ض) اَمْتًا اندازہ لگانا۔ قصد کرنا۔ اَمْتٌ اونچا مقام۔ زیر مطالعہ آیت۔ 107 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
ان سب آیات میں پہاڑوں کی حالت بتائی ہے، پھر زمین کے بارے فرمایا (فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (اور اللہ تعالیٰ زمین کو اس حال میں کر دے گا کہ وہ ہموار میدان ہوگی اس میں ناہمواری اور پستی اور بلندی نہیں ہوگی، یعنی اس میں نہ گہرائی ہوگی اور نہ کوئی اٹھی ہوئی جگہ۔ اس کے بعد فرمایا (یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ ) (جس دن پہاڑوں کی یہ حالت ہوگی جس کا ذکر اوپر ہوا، اس دن لوگ بلانے والے آواز کے پیچھے چل دیں گے) لَاعِوَجَ لَہٗ اس کے سامنے کوئی ٹیڑھاپن نہیں رہے گا۔ اس کی آواز کے خلاف کوئی بھی شخص دوسری راہ اختیار نہ کرسکے گا) پکارنے والے کی آواز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب
قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
75:۔ اس سے پہلے چونکہ نفخ صور، حشر نشر اور قیامت کا ذکر تھا۔ اس لیے مشرکین کے لیے اس بات کا موقع تھا کہ وہ یہ سوال پوچھ بیٹھیں کہ جب قیامت آئے گی تو یہ اتنے بڑے بڑے پہاڑ کہاں جائیں گے۔ اس لیے فرمادیا کہ اگر وہ یہ سوال کریں تو آپ اس کا جواب فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ریت کی مانند ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ اور وہ سب زمین پر بکھر جائیں گے اور زمین بالکل صاف اور ہموار چٹیل میدان کی طرح نظر آئے گی۔ اس میں کہیں اونچ نیچ اور نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ ” یَسْئَلُوْنَکَ “ کے جواب میں ” فَقُلْ “ پر فاء اس لیے داخل ہوئی ہے کہ ” یسئلونک “ متضمن معنی شرط ہے۔ کیونکہ یہ سوال متحقق نہیں تھا بلکہ متوقع تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔
مضبوط پہاڑوں کی شکستگی :
اب آج…
Read the full tafseer →لَّا تَرٰى فِيْہَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا 107ۭ
عوج
الْعَوْجُ : العطف عن حال الانتصاب، يقال :
عُجْتُ البعیر بزمامه، وفلان ما يَعُوجُ عن شيء يهمّ به، أي : ما يرجع، والعَوَجُ يقال فيما يدرک بالبصر سهلا کالخشب المنتصب ونحوه . والعِوَجُ يقال فيما يدرک بالفکر والبصیرة كما يكون في أرض بسیط يعرف تفاوته بالبصیرة والدّين والمعاش، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ،
( ع و ج ) العوج
( ن ) کے معنی کسی چیز کے سیدھا کپڑا ہونے کی حالت سے ایک طرف جھک جانا کے ہیں ۔ جیسے عجت البعیر بزمامہ میں نے اونٹ کو اس کی مہار کے ذریعہ ایک طرف مور دیا فلاں مایعوج عن شئی یھم بہ یعنی فلاں اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لاَّ تَرٰی فِیْھَا عِوَجًاوَّلَآ اَمْتًا۔ (طٰـہٰ : 105 تا 107)
(اور وہ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے گا۔ پس اس زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ کہ تم اس میں کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح :۔ نَسْفًااس کا معنی ہے جڑ سے اکھیڑ دینا، پیس کر رکھ دینا، چھاج میں ڈال کر پھٹکنا۔ آیت میں یہ لفظ جس طرح وارد ہوا ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے ابن الاعرابی نے لکھا ہے :
یقلعھا قلعا من اصولھا ثم یسیرھا رملا یسیل سیلا ثم یسیرھا کالصوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کی غلط فہمی کا ازالہ۔
رسول کریم ﷺ نے کفار کے سامنے حشر کی ہولناکیوں کا تذکرہ کیا تو انھوں نے سوال اٹھایا۔ بتائیں کہ پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ اور جن کی بلندیاں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اتنے بڑے، بڑے پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ جس کا جواب دینے کے لیے آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ میرا رب انھیں دھول کی طرح اڑا دے گا اور زمین کو اس طرح ہموار اور چٹیل میدان بنائے گا کہ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھ پاؤ گے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ یہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے، اور یہ روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑنا شروع کردیں گے۔ (القارعۃ : 5)…
Read the full tafseer →107: لَّا تَرٰی فِیْھَا عِوَ جًا (تمہیں اس میں ناہمواری دکھائی نہ دے گی) عوجا : جھکائو۔ ٹیڑھ۔ وَّ لَآ اَمْتًا (نہ ٹیلہ) بلندی العوجؔ کا لفظ کسرہ سے معانی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ مفتوح کا لفظ اعیان میں ہی آتا ہے اور زمین تو اعیان میں سے ہے۔ مگر اس کے لئے لفظ معانی والا استعمال ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب زمین اس قدر برابر کردی جائے کہ اس میں ذرا بھر ٹیڑھ نہ رہے خواہ کتنے آلات سے جائزہ لیا جائے تو پھر یہ معانی کے قائم مقام بن گئی۔
Read the full tafseer →107۔ لاتری فیھا عوجا ولاامتا۔ مجاہد کا قول ہے کہ نہ اس میں بلندی دکھائی جائے گی اور نہ ہی پستی۔ حسن کا قول ہے کہ عوج کہاجاتا ہے جو زمین سے ذرا نیچے ہو اور امت جو زمین سے اونچی ہو کہ نہ تو اس دن زمین کونہ نیچھے دیکھے گا اور نہ ہی اونچا۔ قتادہ کا قول ہے کہ نہ اس میں کوئی کجی نظر آئے گی اور نہ ہی ابھار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
105۔ 107:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران ہوجانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک سخت اور پائیدار چیز گزری اس لیے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ بھی اڑ جائیں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة القارعہ میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے اڑنے کی تفسیر فرمائی ہے کہ دھنکنے میں جس طرح روئی ٹکڑے ہو کر اڑ جاتی ہے اسی طرح صور کی آواز سے پہاڑا اڑتے پھریں گے۔ سورة الحاقہ اور سورة مزمل میں پہلے صور کے وقت پہاڑروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–111
آیات (104)
یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
109 منکرین قیامت کا سوال پہاڑوں کے بارے میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ اے پیغمبر آپ سے پوچھتے ہیں ان پہاڑوں کے بارے میں "۔ مذاق اور استہزاء کے طور پر۔ کہ صاحب اس روز یہ دیو ہیکل اور فلک بوس پہاڑ کدھر جائیں گے ؟ اور ان کا کیا بنے گا ؟ وغیرو وغیرہ۔ روایات میں وارد ہے کہ کفار قریش نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کے روز ان دیوہیکل پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ سو ان کا یہ سوال جاننے اور ماننے کیلئے نہیں تھا۔ بلکہ مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا۔ (المراغی، المعارف اور ابن کثیر وغیرہ) اور نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–115
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–109
ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)
Read the full tafseer →(20:107) عوجا۔ کجی۔ ٹیڑھا پن یہ عوج یعوج سے اسم ہے عوج مصدر اعوج صفت عوج العود لکڑی ٹیڑھی ہوگئی۔ عوج الانسان آدمی بدخلق ہوگیا۔ اعوجاج ٹیڑھا پن (لکڑی کا) ۔ امتا۔ ٹیلا۔ اونچان۔ نشیب و فراز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبور سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کے تھان کی طرف پوجا کے لئے سیدھے دوڑتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب وکتاب کے لئے دوڑے ہوئے چلے آویں گے۔ میدان حشر اور حضور اکرم ﷺ کی شفاعت : صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینے سے جب لوگ بہت گھبرائیں گے و آدم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے انبیاء کے پاس التجا کے لئے جائیں گے، کہ یہ انبیاء اللہ کی بارگاہ میں حساب وکتاب شروع ہوجانے کی سفارش کردیں۔ یہ سب انبیاء جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کے غصہ کی وہ حالت ہے کہ آج سے پہلے نہ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–107
[45] یعنی نرسنگھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آتا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے یہاں ذکردوسری دفعہ صور پھونکے جانے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
(ف 2) جو لوگ یہاں تن آسانیوں میں الجھل کر رہ جاتے ہیں اور مادیت میں اس درجہ پھنس جاتے ہیں ، کہ قرآن کی آواز پر کان نہیں دھرتے ایک وقت آئے گا ، جب وہ پچھتائیں گے ، ان کی پشت عذاب کے بوجھ سے جھک جائے گی اور یہاں کے تمام تکلفات کی اس وقت حقیقت کھلے گی ،
(آیت) ” یوم ینفخ “۔ سے مراد یہاں دوسری دفعہ صور پھونکنا ہے ، اس وقت تمام لوگ اللہ کی حکمت وقدرت سے جی اٹھیں گے ، قرآن وحدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ یہ صور پھونکا جائے گا ، ایک اس وقت جب اللہ کو یہ منظور ہوگا ، کہ دنیا کا خاتمہ کر دیاجائے اور ایک اس وقت جب دوبارہ دنیا والے زندہ کئے جائیں گے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نفخ صور…
Read the full tafseer →- 107 کہ جس میں تو اے مخاطب نہ کوئی موڑ اور ناہمواری دیکھے گا اور نہ کوئی ٹیلا اور بلندی نظر آئیگی یعنی زمین ایکصاف اور چٹیل میدان ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 1۔ مطلب یہ کہ ہم تو یوں سمجھے تھے کہ مر کر پھر زندہ ہونا نہیں یہ گمان تو بالکل غلط نکلا۔ نہ زندہ ہونا تو درکنار یہ بجھی تو نہ ہوا کہ دیر ہی میں زندہ ہوتے، بلکہ بہت ہی جلدی زندہ ہوگئے کہ وہ مدت دس روز کے برابر معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس مقدار کے برابر معلوم ہونے کی اس روز کی درازی اور ہول اور پریشانی ہے کہ مدت لبث فی القبر اس کے سامنے اس قدر قصیر معلوم ہوگی۔
Read the full tafseer →اس زمین میں آپ نہ کجی دیکھیں گے اور نہ اونچ نیچ دیکھیں گے :
107۔ ان آیات کریمات میں نبی کریم ﷺ کے ذریعہ سے خطاب عام ہے اور یہ آیت بھی گزشتہ آیت کی طرف کفار کے سوال کی مزید وضاحت کے طور پر کہی گئی ہے کہ اس زمین میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں رہے گا کیونکہ پن کی اصل وجہ اس زمین کے نشیب و فراز ہیں کہیں سے یہ اتنی گہری چلی گئی ہے کہ گویا تحت الثری کو پہنچ گئی ہے اور دوسری طرف یہ اتنی اونچی نظر آتی ہے کہ پہاڑوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور اس زمین سے یہ نشیب و فراز سب ختم کر کے رکھ دیئے جائیں گے اور اس کی صورت کیا ہوگی ؟ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کے علم سے متعلق ہے ہمارا تو فقط یقین ہے کہ ایسا ہوگا کیونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
83. According to the Quran, the earth will take a new shape in the Hereafter:
The earth will be spread. (Surah Al-Inshiqaq, Ayat 3).
The bottoms of the oceans will be split (and the whole water will sink down in the earth). (Surah Al-Infitar, Ayat 3).
The oceans will be filled up. (Surah At-Takweer, Ayat 6).
The mountains will be reduced to fine dust and scattered away and there will be left no curve or crease in the earth. (Surah Taaha, Ayats 105-107).
On that day the earth will be totally changed. (Surah Ibrahim, Ayat 48).
And it will be turned into a garden and given to the pious people to…
Read the full tafseer →