Taa-Haa 20:118

Taa-Haa · from ayah 118

20:118

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَلَا تَعْرٰی ۟ۙاِنَّ لَـكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ‏

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, it is [promised] for you not to be hungry therein or be unclothed.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 7 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:118

یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہاں تو تمہیں یہ فائدہ ہے کہ نہ تم بھوکے ہوگے، نہ ننگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تمہارے لئے اس (جنت) میں یہ (راحت) ہے کہ تمہیں نہ بھوک لگے گی اور نہ برہنہ ہوگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہوگا اور نہ ننگا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہاں تو تمہیں نہ بھوک ستاتی ہے نہ ننگے رہتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر تم مصیبت میں پڑجاؤ کہ یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں ہیں کہ نہ تمہیں بھوک لگے

— مولانا اسحاق مدنی

(یہاں اس) کی جنت میں تو یہ ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے ہوگے اور نہ ننگے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں نہ تو تمہیں بھوک ستاتی ہے اور نہ عریانی (کا خدشہ) ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تمہیں یہ آسائش ہے کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(for in Paradise) neither are you hungry nor naked,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Here you have the privilege that you will not be hungry nor will you be unclad,

— Muhammad Taqi Usmani

Here you have the privilege that you will not be hungry nor will you be unclad,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"You will never be hungry therein nor naked."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is (vouchsafed) unto thee that thou hungerest not therein nor art naked,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, it is [promised] for you not to be hungry therein or be unclothed.

— Saheeh International

In Paradise you will experience no hunger, nakedness,

— Muhammad Sarwar

Surely it is (ordained) for you that you shall not be hungry therein nor bare of clothing;

— Muhammad Habib Shakir

Verily it is thine that thou shalt not hunger therein nor go naked.

— Abdul Majid Daryabadi

"There is therein (enough provision) for thee not to go hungry nor to go naked,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:118

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 115–122

انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 118–119

سورة طٰهٰ 98 یہ تشریح ہے اس مصیبت کی جس میں جنت سے نکلنے کے بعد انسان کو مبتلا ہوجانا تھا۔ اس موقع پر جنت کی بڑی اور اکمل و افضل نعمتوں کا ذکر کرنے کے بجائے اس کی چار بنیادی نعمتوں کا ذکر کیا گیا، یعنی یہ کہ یہاں تمہارے لیے غذا، پانی، لباس اور مسکن کا انتظام سرکاری طور پر کیا جا رہا ہے، تم کو ان میں سے کوئی چیز بھی حاصل کرنے کے لئے محنت اور کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے خود بخود یہ بات آدم و حوا (علیہما السلام) پر واضح ہوگئی کہ اگر وہ شیطان کے بہکائے میں آ کر حکم سرکار کی خلاف ورزی کریں گے تو جنت سے نکل کار انہیں یہاں کی بڑی نعمتیں تو درکنا، یہ بنیادی آسائشیں تک حاصل نہ رہیں گی۔ وہ اپنی بالکل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرٰى، جنت میں ضروریات زندگی کی یہ بنیادی چاروں چیزیں بےمانگ بلامشقت ملتی ہیں اور جنت میں بھوک نہ لگنے سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانے کا ذائقہ اور لذت ہی نہیں آسکتی، اسی طرح جب تک پیاس نہ ہو ٹھنڈے پانی کی لذت و راحت نہیں محسوس ہو سکتی۔ وجہ یہ ہے کہ جنت میں بھوک پیاس نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ بھوک پیاس کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی کہ بھوک کے وقت کھانے کو اور پیاس کے وقت پینے کو نہ ملے یا دیر میں ملے بلکہ ہر وہ چیز جس کو اس کا دل چاہے گا فوراً حاضر موجود ملے گی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 118–119

آیت 119-118 جنت آدم کی جامع تعریف ان دو آیتوں میں اس جنت کی نہایت ہی جامع تعریف ہے جس میں حضرت آدم رکھے گئے تھے۔ فرمایا کہ اس میں نہ تم بھوکے ہوگے نہ ننگے، نہ اس میں تمہیں پیاس ستائے گی۔ نہ دھوپ دوسرے لفظوں میں اگر اس بات کو کہنا چاہیں تو یوں کرسکتے ہیں کہ اس میں تم سردی اور گرمی دونوں کے آزاد سے محفوظ رہو گے۔ سردی کے آزار میں سے بھوک اور عریانی ہے اور گرمی کی تکالیف میں سے پیاس اور دھوپ جن لوگوں کی نظر اہل عرب کے کلام پر ہے وہ جاتنے ہیں کہ وہ بسا اوقات سردی اور گرمی کی تکالیف کا ذکر اسی طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ پیاس کا ذکر بھوک کے ساتھ اور دھوپ کا ذکر عریانی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 118–121

121۔ 1 یعنی درخت کا پھل کھا کر نافرمانی کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مطلوب یا راہ راست سے بہک گئے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 117–119

50: اس آیت کو اگلی آیت سے ملا کر پڑھا جائے تو مطلب یہ ہے کہ جنت میں تو تمہیں زندگی کی ساری ضروریات یعنی خوراک، کپڑا اور رہنے کے لیے گھر بغیر کسی محنت کے حاصل ہے، جنت سے نکل گئے تو ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مشقت اٹھانی پڑے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 118–119

ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔ لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 118–119

10 انسان کی یہ ہی بڑی ضرورتیں ہیں، کھانا، پینا، پہننا اور رہنے کے لیے مکان جس میں دھوپ بارش کا بچاؤ ہو۔ جنت میں اس طرح کی کوئی تکلیف نہیں۔ ہر طرح راحت ہی راحت ہے۔ " بہشت آنجا کہ آزارے نباشد " یہاں راحت کا ذکر نہیں کیا۔ صرف تکلیفوں کی نفی کی شاید متنبہ کرنے کے لیے کہ یہاں سے نکلے تو ان سب چیزوں کی تکلیف اٹھاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 116–119

اب یہاں قصہ آدم و ابلیس پانچویں مرتبہ بیان ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع : 4 ‘ سورة الاعراف رکوع : 2 ‘ سورة بنی اسرائیل رکوع : 7 اور سورة الحجر رکوع : 3 میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 116–118

84 آدم و ابلیس کا قصہ سورة ئبقرہ، اعراف اور دیگر کئی مقامات پر پہلے ہی گزر چکا ہے۔ اور آئندہ بھی آئے گا، مگر ہر مقام پر اتنا ہی ذکر کیا گیا جتنا موقع کے لحاظ سے مناسب تھا۔ گویا اس قصہ کے مختلف اجزاء سے مختلف نتائج پیش کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 118–119

141۔ (اور جنت سے باہر ان سب مصیبتوں سے دو چار ہونا پڑے گا، اس لیے ان امور کو پیش نظر رکھ کر اپنے اس موذی دشمن کی طرف سے خوب ہوشیار اور خبردار رہنا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 116–128

آیت نمبر 116 تا 128 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے وہ جنوں کا باپ تھا فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا تھا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا میں اس سے افضل ہوں پھر ہم نے آدم سے کہا بلاشبہ یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے حوّاء مد کے ساتھ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم کو جنت سے نکلوا دے پھر تم مصیبت میں یعنی جوتنے، بونے، کاٹنے اور پینے اور پکانے وغیرہ کی مشقت میں پڑجاؤ (یہاں) آدم کی مصیبت کے بیان پر اکتفا کیا ہے (بیوی کو شریک نہیں کیا) اس لئے کہ زوجہ کے لئے کسب معاش کی ذمہ داری اس کے شوہر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان لک ان لا تجوع فیہ ولا تعری۔ جنت میں تو تمہارے لئے یہ بات ہے کہ اس میں نہ تم بھوکے رہو گے نہ ننگے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–119

(118۔ 119) یہاں جنت میں تو آپ کے لیے یہ آرام ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے ہو گے اور نہ کپڑوں سے ننگے ہو گے اور نہ یہاں پیاسے ہو گے اور نہ دھوپ میں تپوگے یا یہ کہ یہاں پسینے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ۔۔ : گویا آدم اور حوا ؑ کو بتادیا گیا کہ تمہاری تمام بنیادی ضروریات کا یہاں انتظام کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چار چیزیں ہیں : بھوک دور کرنے کے لیے کھانا، پیاس بجھانے کے لیے پانی، ستر ڈھانپنے کے لیے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لیے مکان۔ یہ دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے مراد دنیوی شقاوت ہے نہ کہ اخروی۔ شقاوت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (2)۔ 3 ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بھوک کے بعد پیاس کے بجائے ننگا ہونے کا ذکر کیا اور پیاس کے بعد دھوپ میں جلنے کا ذکر فرمایا۔ اس میں ایک تو آیات کے آخری الفاظ کی مناسبت مقصود ہے اور ایک یہ کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 118–119

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری۔ وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ ۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ھا ضمیر سے مراد جنت ہے۔ لا تظلماً کا معنی ہے۔ پیاسا نہ ہوگا۔ الظماً سے مراد پیاس ہے۔ ولا تضحیٰ ، تم سورج کے سامنے نہ آئو گے کہ تمہیں اس کی گرمی لگے کیونکہ جنت میں سورج نہیں ہے۔ وہ لمبے لمبے سائے ہیں جس طرح فجر کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جنت کا دن اسی طرح ہے اور نماز فجر پڑھنے والوں کے لیے وقت کی طرف اشارہ کیا۔ ابو زید نے کہا : ضحا الطریق یصحو ضحوا اس کا مطلب ہے راستہ ظاہر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 116–122

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میری مراد سے دنیا کی مشقت ہے پاس ابن آدم دنیا کی مشقت اور تکلیف کو اٹھاتا ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے نے سفیان عینہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ” فتشقیان “ نہیں فرمایا (بلکہ فتشقی فرمایا) اس لئے کہ بیوی آپ کے حکم میں داخل تھی پس آپ کی بیوی اور آپ کی تمام اولاد مراد ہے جیسا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا ہے لیکن اس سے مراد ساری امت ہے۔ (آیت) ” یایھا النبی اذا طلقتم “ اور یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک، تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم (1)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [لَكَ : آپ (علیہ السلام) کے لئے ہے ] [اَلَّا تَجوعَ : کہ آپ (علیہ السلام) بھوکے نہ ہوں گے ] [فِيْهَا : اس میں ] [وَلَا تَعْرٰى: اور نہ آپ (علیہ السلام) ننگے ہوں گے ] [ع ر ی ](س) عُرْیَۃً ننگا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 118] [عَرَائٌ کھلا میدان۔ فَنَبَذْنٰہُ بِالْعَرَائِ وَھُوَ سَقِیْمٌ (تو ہم نے ڈال دیا ان (علیہ السلام) کو کھلے میدان میں اس حال میں کہ وہ بیمار تھے) 37:145 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 116–122

سجدہ نہ کرنے پر جب شیطان ملعون اور مردود ہوگیا تھا تو اس نے پہلے ٹھان لی تھی کہ ان کو جنت سے نکلوانا ہے اور ان کی ذریت کو گمراہ کرنا ہے۔ وہ تو وہاں سے نکال دیا گیا اور یہ دونوں حضرات رہتے رہے دونوں کو حکم ہوا تھا کہ جنت میں رہو سہو خوب کھاؤ پیو لیکن فلاں درخت کے پاس نہ جانا اگر اس میں سے کھالیا تو یہ تمہارا اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا۔ اب شیطان ان کے پیچھے لگا اور اس نے کہا کہ دیکھو اس درخت کے کھانے سے جو تمہیں منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اسے کھالے گا وہ یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا۔ اور اس کے کھانے سے تم دونوں فرشتے ہوجاؤ گے (کما فی سورة الاعراف) اور یہاں جو تمہیں عیش و آرام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–127

ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع جن کے رتبے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 116–119

82:۔ مقصد یہ ہے کہ ابلیس تمہارا پرانا جدی پشتی دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریق سے تمہیں کفر و شرک اور دوسرے گناہوں سے ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے فریب سے بچو ” اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ الخ “ یہ جنت کی خوبیاں ہیں کہ وہاں نہ بھوک ہوگی نہ پیاس اور نہ دھوپ یعنی وہاں ہر قسم کا آرام و سکون ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 116–119

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی فرعون کے ساتھ کشمکش کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے تسلی کا سامان پیدا کیا۔ پھر رسالت کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ قیامت کا حال بھی بیان ہوا۔ مومنین اور کافروں کو پیش آنے والے حالات کا ذکر ہوا۔ پھر قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک نصیحت نامہ ہے ، اللہ نے اس کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے۔ پھر آپ سے فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ اس کا ضبط اور بیان ہمارے ذمہ ہے ، ہم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیں گے بلکہ آپ کو پورا پورا یاد کرادیں گے۔ فرمایا جلدی کرنے کی بجائے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْہَا وَلَا تَعْرٰى۝ 118ۙ جوع الجُوع : الألم الذي ينال الحیوان من خلّو المعدة من الطعام، والمَجَاعة : عبارة عن زمان الجدب، ويقال : رجل جائع وجوعان : إذا کثر جو عه . ( ج و ع ) الجوع ۔ وہ تکلیف جو کسی حیوان کو معدہ کے طعام سے خالی ہونے کی وجہ پہنجتی ہے المجاعۃ خشک سالی کا زمانہ ۔ کہا جاتا ہےء رجل جائع بھوکا آدمی اور جب بہت زیادہ بھوکا ہو تو اسے جو عان کہا جاتا ہے ۔ عری وعَرَاهُ وَاعْتَرَاهُ : قصد عُرَاهُ. قال تعالی: إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . ( ع ری ) عری اور عراہ واعتراہ اس کے سامنے آیا اس کی جانب قصد کیا ۔ قرآن میں إِلَّا اعْتَراكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 113–125

تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 118–119

اِنَّ لَـکَ اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْھَا وَلاَ تَعْرٰی۔ وَاَنَّـکَ لاَ تَظْمَؤُا فِیْھَا وَلاَ تَضْحٰی۔ (طٰـہٰ : 118، 119) (اس میں تم کو یہ مقام حاصل ہے کہ تم اس میں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ننگے رہو گے۔ اور نہ تم کو اس میں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گی۔ ) اب جبکہ اس جنت میں تمہیں بغیر کسی کسب اور مشقت کے بنیادی ضرورتیں میسر ہیں لیکن اگر تمہیں جنت سے ابلیس نے نکلوا دیا تو تم کسب معاش کی کلفتیں برداشت کرنے کے لیے چھوڑ دیئے جاؤ گے۔ جنت کی تعریف جنت میں اہل جنت کو ملنے والی نعمتیں حد شمار سے باہر ہیں۔ آج ان کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے۔ قرآن کریم میں معجزانہ انداز میں ایک بات کہہ کر جنت کی منظرکشی کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 116–119

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے عہد پر عزم بالجزم کے ساتھ قائم نہ رہنا شیطان کی وجہ سے تھا اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی دشمنی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام ملائکہ جن میں ابلیس بھی شامل تھا حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ لیکن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کھلے الفاظ میں بتلایا کہ اے آدم ! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ خیال رکھنا کہیں وہ تم دونوں کو اس جنت سے نکلوا کر تمہیں دنیا کی مشقت میں نہ ڈال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

118: اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْھَا (اور تیرے لئے اس میں یہ ہے کہ نہ بھوک لگے گی) یعنی جنت میں وَ لَا تَعْرٰی (اور نہ تو ننگا ہوگا) کپڑوں سے کیونکہ یہ کپڑے ہمیشہ کیلئے تیار کردہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 117–118

117۔ فقلنا یا آدم ان ھذاعدولک ولزوجک، ، حضرت حواء کا بھی دشمن ہے۔ فلایخرجنکما من الجنۃ فتشقی، پھر تھک جاؤ گے تعجب میں پڑجاؤ گے۔ آپ کی زندگی دائیں ہاتھ کی کمائی سے ہوگی کہ اس ہاتھ سے کما کر پسینہ بہاکر ایک دانہ حاصل کرکے اس پر طرح طرح کی مشقتیں کاٹ کر حاصل کرو گے۔ سدی کا بیان ہے کہ اس سے مراد کھیتی باڑی کرنا، پھر اس پیداوار کو کاٹنا، پھر اس کو پیس کر آٹا گوندھنا پھر گرم آگ پر اس کو پکانا۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے ایک سرخ بیل بھی پیدا کیا گیا جس کے ذریعے وہ زمین کھودتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے ۔ یہ تشقی کا مفہوم ہے۔ یہاں خطاب صرف حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 116–123

116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 115–121

آیات (115) یعنی ہم نے آدم (علیہ السلام) کو وصیت کی اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں۔ پس وہ اپنی اولاد کے لئے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے بھول ہوگئی اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہوگئی آدم ( علیہ السلام) سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدم ( علیہ السلام) اپنے عزم پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 117–120

122 حکم خداوندی کی خلاف ورزی کا نتیجہ تعب و مشقت ۔ والعیاذ باللہ : سو آدم سے فرمایا گیا کہ " کہیں شیطان تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ۔ پس اس کے مکر و فریب سے بہرحال ہوشیار رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں میاں بیوی کو جنت سے نکلوا دے اور اس کے نتیجے میں تم دنیا میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑجاؤ۔ اور بیوی چونکہ مرد کے تابع ہوتی ہے اس لیے اس کی اصل ذمہ داری مرد ہی پر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں { تشقی } مفرد کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ " تشقیا " تثنیہ کا صیغہ نہیں اختیار فرمایا گیا۔ بہرکیف شیطان کی پیروی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت کا نتیجہ تعب و مشقت میں مبتلا ہونا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 114–129

سیدنا آدم (علیہ السلام) کا قصہ اور نافرمانوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی قدرت کا بیان بڑی تفصیل سے دیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا کہ اللہ تمام بادشاہوں کا ایسا بادشاہ جو ہر طرح مکمل اور لافانی ہے۔ یہاں سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کو نصیحت کی گئی ہے کہ آپ وحی کے نزول کے وقت الفاظ کو دہرایا نہ کریں بلکہ آرام سے توجہ سے سنتے رہا کریں۔ یاد کروانا اور دل و دماغ میں جما دینا ہمارا (اللہ کا) کام ہے۔ علم میں زیادتی کی دعا کیا کریں۔ اس کے بعد سیدنا آدم (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ جس کی یہاں مثال دینے کی ضرورت ہے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ حسب ضرورت بیان کیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 116–128

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف پھر اس واقعہ کا متعلقہ حصۃ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لیے سجدہ کریں تو شیطان جو اس وقت تک فرشتوں میں رہتا تھا سجدہ کرنے سے انکاری ہوا جبکہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس کی تفصیل سورة بقرہ میں گذر چکی ۔ (دنیا میں بقائے حیات کے لیے محنت کرنا زندگی کا قاعدہ ہے) تو ہم نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا کہ یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ آپ سے دھوکہ کرکے آپ کو جنت سے نکلوا دے اور زندگی کے مصائب سے دو چار کر دے کہ پھر بقائے حیات کے لیے محنت کرنا پڑجائے ، گویا دار دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 118–119

ف 10 گویا حضرت آدم اور حوا کو بتادیا گیا کہ تمہاری تمام بنیادی ضرورتوں کا یہاں کسی محنت و مشقت کے بغیر انتظام کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چارچیزیں ہیں۔ بھوک پوری کرنے کیلئے کھانا، پیاس بجھانے کے لئے پانی، ستر ڈھانپننے کے لے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لئے مکان یہ آیت دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے دنیوی شقاوت مراد ہے نہ کہ اخروی، (کبیر شوکانی) نوائد صفحہ ہذا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 118–119

(20:118) الا تجوع۔ ان لا تجوع کہ تو نہ بھوکا رہے گا۔ جوع سے (باب نصر) جس کا معنی بھوک لگنا ہے۔ مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ جس کا معنی بھوک لگنا ہے۔ مضارع منفی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ جوع بھوک۔ فیھا۔ ای فی الجنۃ۔ لا تعری۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ عری یعری۔ (سمع) عریۃ وعری سے ننگا ہونا۔ نہ تو ننگا ہوگا۔ نہ تو برہنہ ہوگا۔ اسی سے العراء ہے ایسی کھلی جگہ جہاں کوئی چیز آڑ کے لئے نہ ہو۔ فنبذنہ بالعراء وھو سقیم (37:145) پھر ہم نے اسے جبکہ وہ بیمار تھا ایک کھلے میدان میں ڈال دیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 115–128

لغات القرآن آیت نمبر 115 تا 128 تشقی تم مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ لاتجوع تو بھوکا نہ رہے گا۔ لاتعری تو ننگا نہ رہے گا۔ لاتضمو نہ پیاسے رہوگے۔ لاتضحی نہ دھوپ میں رہوگے۔ ادل میں رہنمائی کرتا ہوں۔ الخلد ہمیشہ۔ لایبلی زوال نہ آئے۔ طغی وہ بہک گیا۔ لایشقی بدنصیب نہ ہوگا۔ معیشتۃ گزر بسر کا سامان۔ ضنک تنگ۔ النھی عقل و سمجھ۔ تشریح : آیت نمبر 115 تا 128 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بڑی عظمتوں سے نوازا ہے وہیں اس میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ خواہش ہے کہ اس کو زندگی کی نعمتیں، لذتیں، راحتیں، عیش و آرام، حکومت و سلطنت اور اقتدار اس طرح مل جائے جس سے وہ سب کچھ اسے ہمیشہ حاصل رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–123

اس آیت میں آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا، لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا۔ اس لئے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے، وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبیٰ میں اس خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" اللہ کی بڑائی سے بڑھ کر شیطان کے پھندوں سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے "۔ جب شیطان ملعون ٹھہرایا جا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 115–120

[53] کہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانا۔ [54] یعنی آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو خلاف ورزی کی وہ دانستہ سرکشی کی بنا پر نہیں بلکہ بھول جانے اور نامستقل مزاجی کی وجہ سے تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 115–121

(ف 3) یہاں آدم (علیہ السلام) کی طرف معذرت بیان فرمائی ہے کہ ان سے اجتہادی لغزش کا صدور ہوگیا ، ورنہ قصدا نافرمانی کی جرات انبیاء میں نہیں ہوتی ، کیونکہ منصب نبوت کے معنے ہی یہ ہیں ، کہ اللہ کی فرمانبرداری کے جذبات کو عام کیا جائے ، اور بڑے بڑے سرکشوں کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا جائے ، پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو اطاعت شعاری کی تلقین کے لئے آیا ہے وہ خود نافرمانی وعصیاں کا ارتکاب کرے ؟ حل لغات : لا تظمؤا : ظما ، پیاس کو کہتے ہیں یہاں مراد پیاس کی تلخی اور ناگواری ہے مطلقا اشتہا مقصود نہیں ۔ شجرۃ الخلد : خلد کا درخت ، جس کا پھل کھا کر دوامی نعمت حاصل ہوجائے ۔ یخصفن : خصیف کے معنی اصل میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 117–119

ف 2۔ یعنی اس کے کہنے سے کوئی ایسا کام مت کر بیٹھنا کہ جنت سے باہر کئے جاو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت کا منظر دکھا کر آدم اور اس کی بیوی کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ کن صفات کی حامل ہے : 118۔ آدم (علیہ السلام) کو مع ان کی زوجہ محترمہ اماں حوا کے جنت میں ملاحظہ کی خاطر رکھ کر ان کو بتایا جارہا ہے کہ یہ ایسا مقام ہے کہ یہاں تم کو نہ بھوک ستائے گی اور نہ ہی تم ننگے رہو گے ۔ مفسرین حیران وپریشان ہیں کہ بھوک اور برہنگی کا آپس میں کیا تعلق ہے کیونکہ بھوک کا تعلق تو پیاس کے ساتھ ہے ، معلوم نہیں کہ انکو بھوک اور برہنگی کو جوڑ کیوں بےجوڑ نظر آیا ہے حالانکہ بات تو بالکل صاف اور مفہوم بالکل واضح ہے کہ برہنگی بھوک پر دلالت کرتی ہے اور بھوک انسان کو برہنہ کردیتی ہے اور اس برہنگی اور بھوک میں جتنا وسعو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–119

إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَ‌ىٰ (Here you are privileged that you will not be hungry nor will you be unclad, and you will not be thirsty, nor will you be exposed to sun - 118.) Four things needed for the existence of life will be provided in Paradise without asking or putting in any labour. One should not doubt that good taste of food will not be enjoyed because of the absence of hunger in Paradise. Similarly, it is incorrect to assume that one would not enjoy drinking cold water in Paradise because of lack of thirst. The reality is that hunger and thirst would not be felt in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–119

98. This is the explanation of the distress which they had to undergo immediately after their expulsion from the Garden. Here instead of mentioning the high and perfect blessings of the Garden, only four basic necessities of life have been stated, namely, food, drink, dress, and shelter, as if to say: In the Garden you are being supplied with all these necessities without any labor from you. But if you succumb to the temptations and seduction of Satan, you will be totally deprived not only of these facilities but also of the higher blessings of the Garden. In that case, you will have to work…

Read the full tafseer →