Taa-Haa 20:105

Taa-Haa · from ayah 105

20:105

وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًا ۟ۙوَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّىۡ نَسۡفًا

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا ان کو اُڑا کر بکھیر دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they ask you about the mountains, so say, "My Lord will blow them away with a blast.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:105

یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا ان کو اُڑا کر بکھیر دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت میں ان کا کیا بنے گا ؟) جواب میں کہہ دو کہ میرا پروردگار ان کو دھول کی طرح اڑا دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ سے یہ لوگ پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، سو فرمادیجئے: میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں (کہ قیامت کو ان کا کیا بنے گا ؟) آپ ان سے کہئے کہ میرا پروردگار انھیں دھول بنا کر اڑا دے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ تم سے پہاڑوں کی بابت سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ میرا رب ان کو گرد و غبار کی طرح اڑا دے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پوچھتے ہیں آپ سے (اے پیغمبر !) ان پہاڑوں کے بارے میں، کہ قیامت میں ان کا کیا بنے گا ؟ تو کہو کہ میرا رب ان کو اڑا دے گا ریزہ ریزہ کر کے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ سے پہاڑوں کی بابت پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار بالکل ان کو اڑا دے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) یہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرمادیں کہ اللہ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They ask you concerning the mountains: "Where will they go?" Say: "My Lord will scatter them like dust,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you about the mountains. So, say (to them), :My Lord will crush them into dust thoroughly,

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you about the mountains. So, say (to them), :My Lord will crush them into dust thoroughly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they ask you concerning the mountains. Say: "My Lord will blast them and scatter them as particles of dust."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will ask thee of the mountains (on that day). Say: My Lord will break them into scattered dust.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they ask you about the mountains, so say, "My Lord will blow them away with a blast.

— Saheeh International

(Muhammad), they will ask you about the mountains. Tell them, "My Lord will grind them to powder

— Muhammad Sarwar

And they ask you about the mountains. Say: My Lord will carry them away from the roots.

— Muhammad Habib Shakir

And they ask thee regarding the mountains; so say thou: my Lord will scatter them with a total scattering.

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee concerning the Mountains: say, "My Lord will uproot them and scatter them as dust;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–108

پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ لوگوں نے پوچھا کہ قیامت کے دن یہ پہاڑ باقی رہیں گے یا نہیں ؟ ان کا سوال نقل کرکے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہٹ جائیں گے، چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ زمین صاف چٹیل ہموار میدان کی صورت میں ہوجائے کی۔ قاع کے معنی ہموار صاف میدان ہے۔ صفصفا اسی کی تاکید ہے اور صفصف کے معنی بغیر روئیدگی کی زمین کے بھی ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ اچھے ہیں اور دوسرے مرادی اور لازمی ہیں۔ نہ اس میں کوئی وادی رہے گی نہ ٹیلہ نہ اونچان رہے گی نہ نچائی۔ ان دہشت ناک امور کے ساتھ ہی ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز پر ساری مخلوق لگ جائے گی، دوڑتی ہوئی حسب فرمان ایک طرف چلی جارہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 82 یہ بھی جملۂ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں کسی سامع کے سوال پر ارشاد ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ سورت ایک الہامی تقریر کے انداز میں سنائی جا رہی ہوگی اس وقت کسی نے مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال اٹھایا ہوگا کہ قیامت کا جو نقشہ آپ کھینچ رہے ہیں اس سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ کسی ہموار میدان میں بھاگے چلے جا رہے ہوں گے۔ آخر یہ بڑے بڑے پہاڑ اس وقت کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سوال کا موقع سمجھنے کے لیے اس ماحول کو نگاہ میں رکھیے جس میں یہ تقریر کی جا رہی تھی۔ مکہ جس مقام پر واقع ہے اس کی حالت ایک حوض کی سی ہے جس کے چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ سائل نے انہی پہاڑوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–113

يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 105–107

آیت 107-105 نسف کے معنی نسف کے معنی ہیں کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا، غلہ کو چھاج میں رکھ کے پھٹکنا کسی چیز کو خس و خاشاک اور خاک اور راکھ بنا کر ہوا میں اڑا دینا یذرہا میں ضمیر کا مرجع زمین ہے ظاہر اور مشہور چیزوں کے لئے عربی میں اس طرح ضمیر لاتے ہیں قرآن میں آسمان اور زمین وغیرہ کے لئے اس طرح متعدد جگہ ضمیریں آئی ہیں ماترک علی ظھر مامن دآبۃ اور روئے زمین پر کسی جاندار کو باقی نہیں چھوڑے گا) میں بھی ضمیر کا مرجع زمین ہے اگرچہ الفاظ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ قاع ضفعف ہموار اور چٹیل میدان کو کہتے ہیں جس میں نہ نشیب و فراز ہو نہ سبزہ و نباتات نہ درخت اور جنگل امت بلندی اور فراز کو کہتے ہیں۔ پہاڑوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 105–108

18۔ 1 یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔ 18۔ 2 یعنی اس بلانے والے سے ادھر ادھر نہیں ہو نگے۔ 18۔ 3 یعنی مکمل سناٹا ہوگا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–113

45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں 46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 104–107

ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ اس ہولناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 105–107

9 یعنی قیامت کے ذکر پر منکرین حشر استہزاءً کہتے ہیں کہ ایسے ایسے سخت اور عظیم الشان پہاڑوں کا کیا حشر ہوگا ؟ کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ؟ اس کا جواب دیا کہ حق تعالیٰ کی لامحدود قدرت کے سامنے پہاڑوں کی کیا حقیقت ہے ان سب کو ذرا سی دیر میں کوٹ پیس کر ریت کے ذرات اور دھنی ہوئی روئی کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف و ہموار کردی جائے گی جس میں کچھ ایچ پیچ اور اونچ نیچ نہ رہے گی، پہاڑوں کی رکاوٹیں ایک دم میں صاف کردی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 105–106

آیت 105 وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ ” واقعات قیامت کے سلسلے میں جب آپ ﷺ ان کو بتاتے ہیں کہ روز محشر روئے زمین ایک صاف اور ہموار میدان کا نقشہ پیش کرے گی تو یہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں کا کیا بنے گا ؟ وہ کہاں چلے جائیں گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 105–106

74 یعنی نفخہ صور اول سے اگر انسان اور دوسری جاندار چیزیں مر بھی جائیں گی تو پہاڑوں جیسی سخت چیز پر اس نفخہ کا کیا اثر ہوگا ؟ یہ سوال دراصل ایسے جاہلوں کی طرف سے ہی ہوسکتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کی اس پیدا کردہ کائنات اور اس کے نظام میں کبھی غور ہی نہیں کیا، آج کے انسان کے لئے یہ ایک بالکل مہمل سوال ہے۔ اگر سیاروں کی گردش اور ان کی کشش ثقل میں معمولی سی بھی گڑ بڑ ہوجائے تو پہاڑوں کا کیا ذکر ہے۔ سارے ستارے ایک دوسرے سے ٹکڑا کر پاش پاش ہوسکتے ہیں۔ قیامت کو یہی کیفیت ہوگی اور اس وقت پہاڑوں کی دھول اڑ رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–115

آیت نمبر 105 تا 115 ترجمہ : اور (بعض) لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے میرا رب ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں منتشر کر دے گا اس طریقہ سے کہ (اولاً ) ان کو ریگ رواں کے مانند ریزہ ریزہ کرے گا پھر ان کو ہوا کے ذریعہ اڑا دے گا، پھر زمین کو ایک ہموار میدان کرکے رکھ دے گا کہ اے (مخاطب) تو اس میں نشیب و فراز نہ دیکھے گا اس دن یعنی جس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئے جائیں گے تو لوگ قبروں سے نکلنے کے بعد محشر کی جانب بلانے والے کی آواز کے پیچھے ہو لیں گے اور وہ (داعی) اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، کہیں گے رحمٰن کے سامنے پیش ہونے کے لئے آؤ اس میں کوئی کجی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفہا ربی نسفا۔ اور وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں (کہ قیامت کے دن ان کا کیا ہوگا) سو آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب ان کو بالکل اڑا دے گا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) قبیلہ بنو ثقیف کے لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کیا تھا کہ قیامت کے دن کی کیا حالت ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے جواب میں کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار ان کو اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ شان نزول : (آیت) ”ویسئلونک عن الجبال“۔ (الخ) ابن مندر ؒ نے ابن جریح ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے کہا اے محمد ﷺ آپ کا پروردگار پہاڑوں کی قیامت کے دن کیا حالت کرے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ آپ سے پہاڑوں کی نسبت پوچھتے ہیں (الخ)

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 105–106

ۧوَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ۔۔ : قرطبی نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی کسی سوال کا ذکر آیا ہے اس کے لیے جواب میں ”قُلْ“ کا لفظ آیا ہے۔ صرف اس مقام پر فاء کے ساتھ ”فَقُلْ“ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے تمام مقامات پر ان سوالات کا جواب ہے جو ہوچکے تھے، یہاں فاء اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ ہونے والے سوال کا جواب دیا کہ ”فَإِنْ سَأَلُوْکَ فَقُلْ۔۔“ یعنی اگر وہ تجھ سے پوچھیں تو کہہ دینا۔۔ یعنی فاء دلیل ہے کہ اس سے پہلے شرط محذوف ہے۔ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا۔۔ : صور پھونکنے کے ساتھ قیامت قائم ہونے اور تمام لوگوں کے جمع کرنے کے ذکر پر منکرین قیامت کی طرف سے سوال آنے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 105–108

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن الجبال یعنی لوگ قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کے متعلق پوچھتے ہیں فقل یہاں فا کے ساتھ آیا ہے ہر سوال جو قرآن میں آیا ہے اس کے جواب میں قل بغیر فاء کے آیا ہوا ہے سوائے ایک مقام کے، کیونکہ اس کا معنی ہے اگر وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کریں تو آپ کہیں۔ تو کلام کے ضمن میں شرط کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ لوگ پہاڑوں کے متعلق سوال کریں گے پس سوال سے پہلے انہیں جواب دیا۔ یہ سوالات جو پہلے گزر چکے ہیں لوگوں نے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو سوال کے بعد جواب دیا اسی وجہ سے جواب بغیر فاء کے آیا اور یہ سوال ابھی تک انہوں نے پوچھا نہیں تھا۔ ینسفھا وہ اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–110

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔ 3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ : اور یہ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنِ الْجبالِ : پہاڑوں کے بارے میں ] [فَقُلْ : تو آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [يَنْسِفُهَا : اکھاڑ پھینکے گا ان کو ] [رَبِيْ : میرا رب ] [نَسْفًا : جیسا اکھاڑنے کا حق ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو اڑادے گا زمین ہموار میدان ہوگی آوازیں پست ہوں گی، شفاعت اسی کے لیے نافع ہوگی جس کے لیے رحمن اجازت دے، سارے چہرے حی وقیوم کے لیے جھکے ہوئے ہوں گے ان آیات میں روز قیامت کے احوال اور اعمال صالحہ پر پورا پورا اجرو ثواب ملنے کا تذکرہ ہے۔ صاحب معالم التنزیل ج 3 ص 231 نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ بنی ثقیف میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ جب قیامت قائم ہوگی تو پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت شریفہ (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ ) (الایۃ) نازل ہوئی۔ جس میں بتادیا کہ پہاڑوں کی بڑائی اور بلندی اور سختی اور پھیلاؤ کی کچھ حیثیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–114

منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 105–107

75:۔ اس سے پہلے چونکہ نفخ صور، حشر نشر اور قیامت کا ذکر تھا۔ اس لیے مشرکین کے لیے اس بات کا موقع تھا کہ وہ یہ سوال پوچھ بیٹھیں کہ جب قیامت آئے گی تو یہ اتنے بڑے بڑے پہاڑ کہاں جائیں گے۔ اس لیے فرمادیا کہ اگر وہ یہ سوال کریں تو آپ اس کا جواب فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ریت کی مانند ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ اور وہ سب زمین پر بکھر جائیں گے اور زمین بالکل صاف اور ہموار چٹیل میدان کی طرح نظر آئے گی۔ اس میں کہیں اونچ نیچ اور نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ ” یَسْئَلُوْنَکَ “ کے جواب میں ” فَقُلْ “ پر فاء اس لیے داخل ہوئی ہے کہ ” یسئلونک “ متضمن معنی شرط ہے۔ کیونکہ یہ سوال متحقق نہیں تھا بلکہ متوقع تھا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–110

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن پاک ایک نصیحت نامہ ہے جو شخص اس سے اعراض کرے گا وہ قیامت والے دن گناہوں کا بہت بڑا بوجھ اٹھائے گا۔ اور قیامت کے دن کے متعلق فرمایا کہ یہ اس وقت واقع ہوگا جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو نہایت ہی قبیح شکل میں اکٹھا کیا جائے گا۔ وہ ذلت کے مارے سرگوشی میں بات کریں گے۔ ان میں سے کوئی کہے گا کہ ہم دنیا اور برزخ میں صرف دس دن ٹھہرے اور جو زیادہ سمجھدار ہوگا ، وہ کہے گا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا وبرزخ کا عرصہ بالکل قلیل محسوس ہوگا۔ مضبوط پہاڑوں کی شکستگی : اب آج…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُہَا رَبِّيْ نَسْفًا۝ 105ۙ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 99–110

اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 105–107

وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لاَّ تَرٰی فِیْھَا عِوَجًاوَّلَآ اَمْتًا۔ (طٰـہٰ : 105 تا 107) (اور وہ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب انھیں جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک دے گا۔ پس اس زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ کہ تم اس میں کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح :۔ نَسْفًااس کا معنی ہے جڑ سے اکھیڑ دینا، پیس کر رکھ دینا، چھاج میں ڈال کر پھٹکنا۔ آیت میں یہ لفظ جس طرح وارد ہوا ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے ابن الاعرابی نے لکھا ہے : یقلعھا قلعا من اصولھا ثم یسیرھا رملا یسیل سیلا ثم یسیرھا کالصوف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 105–107

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کی غلط فہمی کا ازالہ۔ رسول کریم ﷺ نے کفار کے سامنے حشر کی ہولناکیوں کا تذکرہ کیا تو انھوں نے سوال اٹھایا۔ بتائیں کہ پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ اور جن کی بلندیاں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اتنے بڑے، بڑے پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ جس کا جواب دینے کے لیے آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ میرا رب انھیں دھول کی طرح اڑا دے گا اور زمین کو اس طرح ہموار اور چٹیل میدان بنائے گا کہ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھ پاؤ گے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ یہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے، اور یہ روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑنا شروع کردیں گے۔ (القارعۃ : 5)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پہاڑوں کے متعلق سوال و جواب : 105: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ (آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں) کفار نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا بنے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کسی نے سوال نہیں کیا بر تقدیر سوال جواب کی تعلیم کی گئی ہے کہ اگر وہ آپ سے سوال کریں تو کہہ دیں اسلئے فاءؔ سے فرق کیا گیا بخلاف دیگر سوالات کے وہاں فاءؔ نہیں لائی گئی جیسا اس قول میں ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذی (البقرہ : 111) ویسئلونک عن الیتامٰی قل اصلاح لہم خیر ] البقرہ : 220[ ویسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ] البقرہ : 219[ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی ] الاعراف :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

105۔ ویسالونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ کسی ثقفی شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان پہاڑوں کا کیا ہوگا، اس کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی نسف کہاجاتا ہے کہ کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑنا ، اور اس دن یہ پہاڑ اڑتی ہوئی روئی کی مانند ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–107

105۔ 107:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران ہوجانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک سخت اور پائیدار چیز گزری اس لیے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ بھی اڑ جائیں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة القارعہ میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے اڑنے کی تفسیر فرمائی ہے کہ دھنکنے میں جس طرح روئی ٹکڑے ہو کر اڑ جاتی ہے اسی طرح صور کی آواز سے پہاڑا اڑتے پھریں گے۔ سورة الحاقہ اور سورة مزمل میں پہلے صور کے وقت پہاڑروں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–111

آیات (104) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–107

109 منکرین قیامت کا سوال پہاڑوں کے بارے میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ اے پیغمبر آپ سے پوچھتے ہیں ان پہاڑوں کے بارے میں "۔ مذاق اور استہزاء کے طور پر۔ کہ صاحب اس روز یہ دیو ہیکل اور فلک بوس پہاڑ کدھر جائیں گے ؟ اور ان کا کیا بنے گا ؟ وغیرو وغیرہ۔ روایات میں وارد ہے کہ کفار قریش نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کے روز ان دیوہیکل پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ سو ان کا یہ سوال جاننے اور ماننے کیلئے نہیں تھا۔ بلکہ مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا۔ (المراغی، المعارف اور ابن کثیر وغیرہ) اور نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–113

قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2) بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–115

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اب تو یہ پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ مضبوط چٹانیں اور بلند پہاڑ بھلا کیسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں تو فرما دیجئے کہ میرا رب ان کو ذرات بنا کر بکھیر دے گا اور زمین کو ایسا ہموار کر دے گا کہ کوئی بلندی پستی نہ رہے گی بلکہ ایک صاف میدان بن جائے گا جس میں کوئی روئیدگی تک نہ ہوگی اس روز تو پکارنے والے کی بات ایسے مانیں گے کہ تیر کی طرح سیدھے پہنچیں گے ، مفسرین کے مطابق حضرت اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے اور پکار کہیں گے اے بوسیدہ ہڈیو ، گلے سڑے چمڑو اور ٹوٹے بالو آؤ آج اپنے رب کے پاس جمع ہوجاؤ تو ہر کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–109

ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:105) ینسفھا۔ نسف ینسف (ضرب) وہ ان کو اڑا کر بکھیر دے گا۔ نسف ونسوف (نصر) کاٹنا۔ نسف (ضرب) بنیاد اکھڑانا۔ پہاڑ کھودنا۔ کھود کر برابر کردینا۔ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دینا۔ واذا الجبال نسفت (77:10) اور جب پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے۔ نیز ملاحظہ ہو

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–112

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 112 نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 103–105

قیامت کے ذکر پر قریش کا تعجب شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران پانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک بڑی سخت اور پائدار چیز گزری۔ اس لئے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ پھر اڑ جائیں گے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 102–107

[45] یعنی نرسنگھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آتا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے یہاں ذکردوسری دفعہ صور پھونکے جانے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 104–108

(ف 2) جو لوگ یہاں تن آسانیوں میں الجھل کر رہ جاتے ہیں اور مادیت میں اس درجہ پھنس جاتے ہیں ، کہ قرآن کی آواز پر کان نہیں دھرتے ایک وقت آئے گا ، جب وہ پچھتائیں گے ، ان کی پشت عذاب کے بوجھ سے جھک جائے گی اور یہاں کے تمام تکلفات کی اس وقت حقیقت کھلے گی ، (آیت) ” یوم ینفخ “۔ سے مراد یہاں دوسری دفعہ صور پھونکنا ہے ، اس وقت تمام لوگ اللہ کی حکمت وقدرت سے جی اٹھیں گے ، قرآن وحدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ یہ صور پھونکا جائے گا ، ایک اس وقت جب اللہ کو یہ منظور ہوگا ، کہ دنیا کا خاتمہ کر دیاجائے اور ایک اس وقت جب دوبارہ دنیا والے زندہ کئے جائیں گے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نفخ صور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 105 اور اے پیغمبر وقوع قیامت کے سلسلے میں لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ ان کا کیا ہوگا آپ فرما دیجیے کہ ان پہاڑوں کو میرا پروردگار بالکل اڑا دے گا۔ یعنی ان کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں اڑا دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–107

ف 1۔ مطلب یہ کہ ہم تو یوں سمجھے تھے کہ مر کر پھر زندہ ہونا نہیں یہ گمان تو بالکل غلط نکلا۔ نہ زندہ ہونا تو درکنار یہ بجھی تو نہ ہوا کہ دیر ہی میں زندہ ہوتے، بلکہ بہت ہی جلدی زندہ ہوگئے کہ وہ مدت دس روز کے برابر معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس مقدار کے برابر معلوم ہونے کی اس روز کی درازی اور ہول اور پریشانی ہے کہ مدت لبث فی القبر اس کے سامنے اس قدر قصیر معلوم ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہاڑوں کے متعلق ان کا سوال ہے تو یقینا یہ سب اڑا دیئے جائیں گے : 105۔ اس تقریر میں گویا کفار مکہ اور دوسرے معترضین کے مختلف سوالوں کے جواب ان کو سنائے جا رہے ہیں قرآن کریم میں یہ انداز عام طور پر اختیار کیا گیا ہے جس سے دراصل لوگوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جو اعتراض آج تمہارے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں یہ کوئی نئے نہیں بلکہ بہت پرانے ہیں اور پہلے لوگ بھی اسی طرح کے اعتراض کرچکے ہیں کہ قیامت کو سب لوگ چلائے جائے گے ، ہانکے جائیں گے ‘ ہموار زمین میں اکھٹے کئے جائیں گے اگر یہ ساری باتیں صحیح ہیں تو یہ اتنے بڑے پہاڑ کہاں جائیں گے اور یہ ہموار زمین کہاں ہوگی ؟ ان سارے سوالوں کا جواب ان کو پہلے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–113

يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ‌ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ‌ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–107

83. According to the Quran, the earth will take a new shape in the Hereafter: The earth will be spread. (Surah Al-Inshiqaq, Ayat 3). The bottoms of the oceans will be split (and the whole water will sink down in the earth). (Surah Al-Infitar, Ayat 3). The oceans will be filled up. (Surah At-Takweer, Ayat 6). The mountains will be reduced to fine dust and scattered away and there will be left no curve or crease in the earth. (Surah Taaha, Ayats 105-107). On that day the earth will be totally changed. (Surah Ibrahim, Ayat 48). And it will be turned into a garden and given to the pious people to…

Read the full tafseer →