Taa-Haa 20:104

Taa-Haa · from ayah 104

20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ۟۠نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوشمند) کہے گا کہ (نہیں بلکہ) صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

We are most knowing of what they say when the best of them in manner will say, "You remained not but one day."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:104

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوشمند) کہے گا کہ (نہیں بلکہ) صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس بارے میں وہ باتیں کریں گے اس کی حقیقت ہمیں خوب معلوم ہے۔ جبکہ ان میں سے جس کا طریقہ سب سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا کہ تم ایک دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم خوب جانتے ہیں وہ جو کچھ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان میں سے ایک عقل و عمل میں بہتر شخص کہے گا کہ تم تو ایک دن کے سوا (دنیا میں) ٹھہرے ہی نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں گے، جب ان کا سب سے اچھے طریقے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم ایک دن کے سوا نہیں ٹھہرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے۔ جبکہ ان میں سے بہتر رائے والا یہ کہے گا کہ تم تو بس دنیا میں ایک ہی دن ٹھہرے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم خوب جاتنے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب کہ ان میں جو سب سے بڑا لال بجھکڑ ہوگا کہے گا کہ بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم ٹھہرے ہو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہمیں خوب معلوم ہے وہ سب کچھ جو کہ وہ کہیں گے جب کہ ان میں سے سب سے بڑا سمجھ دار شخص کہے گا کہ تم لوگ تو صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہی خوب جانتے ہیں (اس مدت کو) جس کی نسبت وہ باتیں کررہے ہیں جب کہ ان میں کا سب سے زیادہ صائب الرائے یہ کہتا ہوگا کہ تم تو بس ایک دن رہے !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بہترین سمجھ بوجھ والا شخص کہے گا کہ تم نہیں رہے ہو مگر (زیادہ سے زیادہ) ایک دن

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سے اچھی راہ والا (یعنی عقل مند اور) کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We know well what they will say to one another: We also know that even the most cautious in his estimate will say: "You lived in the world no more than a day."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We know very well what they say, when the best of them in his ways will say, :You did not remain more than one day.

— Muhammad Taqi Usmani

We know very well what they say, when the best of them in his ways will say, :You did not remain more than one day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We know very well what they will say, when the best among them in knowledge and wisdom will say: "You stayed no longer than a day!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We are Best Aware of what they utter when their best in conduct say: Ye have tarried but a day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We are most knowing of what they say when the best of them in manner will say, "You remained not but one day."

— Saheeh International

We know best what they say. The moderate ones among them will say, "You did not live on earth for more than a day."

— Muhammad Sarwar

We know best what they say, when the fairest of them in course would say: You tarried but a day.

— Muhammad Habib Shakir

We are the Best Knower of that which they will say, when the best of them in judgment Will say: ye tarried not save for a day.

— Abdul Majid Daryabadi

We know best what they will say, when their leader most eminent in conduct will say: "Ye tarried not longer than a day!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 102–104

صور کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے حضرت اسرافیل ؑ اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنالیا ہے پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں ؟ فرمایا کہو (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ01703) 3۔ آل عمران :173)۔ اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہوگا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 81 یہ جملۂ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں سامعین کے اس شبیہ کو رفع کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ آخر اس وقت میدان حشر میں بھاگتے ہوئے لوگ چپکے چپکے جو باتیں کریں گے وہ آج یہاں کیسے بیان ہو رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–113

يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اس دن کے احوال و احساسات کی یہ خبر جو دے رہے ہیں یہ محض ہوائی باتیں ہیں جو صرف مرعوب کرنے کے لئے سنائی جا رہی ہیں۔ بلکہ یہ حقائق ہیں جو پیش آئیں گے۔ اس دن لوگ جو کچھ کہیں گے ان سے سب سے زیادہ واقف ہم ہیں۔ یہ دس دن والی بات تو الگ رہی اس دن ان کے اندر جو سب سے زیادہ معقول دانشمند اور اندازہ دان سمجھا جاتا ہوگا وہ یہ کے گا کہ دس دن کہاں ! بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم دنیا میں رہے ہو گے ! امثل کے معنی امثل کے معنی افضل و برتر کے ہیں یہاں یہ لفظ بطریق تعریض استعمال ہو ہے یعنی ان کے اندر جو سب سے زیادہ لال بجھکڑ مانا جاتا ہوگا وہ اپنی اندازہ دانی کا یہ ثبوت فراہم کرے گا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی سب سے زیادہ عاقل اور سمجھدار۔ یعنی دنیا کی زندگی انھیں چند دن بلکہ گھڑی دو گھڑی کی محسوس ہوگی۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَيَوْمَ تَــقُوْمُ السَّاعَةُ يُـقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ڏ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۭ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ) 30۔ الروم۔ 55) جس دن قیامت برپا ہوگی کافر قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ (دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے یہی مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا سورة فاطر، 37 سورة المؤمنون۔ ، 112۔ 114 سورة النازعات وغیرہ مطلب یہی ہے فانی زندگی کو پاقی رہنے والی زندگی پر ترجیح نہ دی جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–113

45: یعنی جن دنوں کا شمار وہ صرف دس دن سمجھ کر کر رہے تھے، ان کی صحیح تعداد ہم جانتے ہیں 46: یعنی جس شخص کو زیادہ سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، وہ تو کہے گا کہ ہمارے دنیا میں قیام کی مدت یا قبروں میں رہنے کی مدت صرف ایک ہی دن تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 104–107

ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ اس ہولناک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی چپکے کہنا ہم سے نہیں چھپتا۔ وہ آپس میں جو سرگوشیاں کریں گے ہم کو خوب معلوم ہیں۔ 8 یعنی جو ان میں زیادہ عقلمند، صاحب الرائے اور ہوشیار ہوگا وہ کہے گا کہ یہاں دس دن بھی کہاں ؟ صرف ایک ہی دن سمجھو۔ اس کو زیادہ عقلمند اور اچھی راہ روش والا اس لیے فرمایا کہ دنیا کے زوال و فنا اور آخرت کی بقاء و دوام اور شدت ہول کو اس نے دوسروں سے زیادہ سمجھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 104 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ” اَمْثَلْکے معنی مثالی کے ہیں ‘ یعنی ان میں سے بہترین طریقے والا ‘ انتہائی شائستہ ‘ مہذب cultured اور سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص۔ یہ گویا ان کا لال بجھکڑہو گا جو دنیا میں بزعم خود مثالی شخصیت کا مالک اور دانشور تھا۔ یہی ترکیب قبل ازیں آیت 63 میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہاں فرعون کا وہ بیان نقل ہوا تھا جس میں اس نے اپنے ملک کے آئین و تمدن کو ”طَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی“ قرار دیا تھا۔ یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پر مشتمل پانچ رکوع اختتام پذیر ہوئے۔ اس سے آگے سورة کے اختتام تک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یہاں ٹھہرنے سے مراد دنیا کی زندگی بھی ہوسکتی ہے اور برزخ کی زندگی بھی۔ انسان کی عادت ہے کہ اسے خوش کے لمحات قلیل بھی نظر آتے ہیں اور قریب بھی۔ بیسیوں برس پہلے کے واقعات اسے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے کل کی بات ہے اور قیامت کے دہشت ناک احوال دیکھ کر یہ تصور اور بھی بڑھ جائے گا کوئی اس زندگی کو ہفتہ عشرہ قرار دے گا اور جو سب سے زیادہ سمجھدار ہوگا وہ پہلے کی تردید کرتے ہوئے اس زندگی کو صرف ایک دن کی زندگی بتلائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

122۔ اس کو صائب الرائے اس لیے فرمایا کہ اس یوم کے طول اور ہول کے اعتبار سے یہی نسبت اقرب ہے بس اس شخص کو حقیقت شدت کا زیادہ ادراک ہوا اس لیے اس کی رائے پہلے شخص کے اعتبار سے اصوب ہے اور یہ مقصود نہیں کہ یہ شخص مدت کی مقدار کی تحدید کرنے میں مصیب ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دونوں مقداریں تحدیدا صحیح نہیں۔ اور نہ ان قائلین کا یہ مقصود تھا “۔ (تھانوی (رح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–104

آیت نمبر 90 تا 104 ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نحن اعلم بما یقولون اذ یقول امثلہم طریقۃ ان لبثتم الا یوما۔ جس مدت کے متعلق وہ (اپنے اندازے سے کہیں گے ہم خوب جانتے ہیں (کہ وہ کتنی ہوگی) جب کہ ان میں سب سے صائب الرائے یوں کہتا ہوگا کہ نہیں ہم تو ایک ہی روز (قبر میں) رہے۔ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً یعنی زیادہ سمجھدار اور بھرپور عقل والا اور سب سے بڑھ کر معتدل العقل یا معتدل العمل۔ اس قول کے قائل کو اللہ نے زیادہ صائب الرائے قرار دیا ‘ کیونکہ آخرت کے طول کے مقابلہ میں دنیوی مدت انتہائی کم ہے اور اس قول میں کمترین مدت کا ہی اظہار کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان ہے کہ کسی ثقفی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا قیامت کے دن ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) وہ زندہ ہو کر جس مدت کے بارے میں بات چیت کریں گے ہم اسے خوب جانتے ہیں جب کہ ان سب کا زیادہ عاقل اور سچا صاحب الرائے یوں کہتا ہوگا کہ تم ایک ہی روز قبر میں رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ۔۔ : ”اَمْثَلُ“ بمعنی ”أَفْضَلُ“ ہے۔ ”اَلْمَثَالَۃُ“ یعنی ”اَلْفَضْلُ۔“ ”طَرِيْقَةً“ سب سے اچھے طریقے والا سے مراد یہاں سب سے اچھی رائے والا ہے۔ اسے زیادہ اچھی رائے والا اور عقل مند اس لیے فرمایا کہ اس نے دنیا کے عارضی اور ختم ہونے کو اور آخرت کے ہمیشہ اور باقی رہنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھا، اس لیے اس نے کہا کہ دس راتیں کہاں، تم تو ایک دن سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ طبری نے فرمایا کہ قیامت کی ہولناکی انھیں دنیا کا عیش و عشرت ایسا بھلائے گی کہ وہ دنیا میں رہنے کی صحیح مدت بھی نہیں بتاسکیں گے۔ دیکھیے سورة مومنون (112 تا 114) اور روم (55)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–104

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا : تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–110

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔ 3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَحْنُ : ہم ] [اَعْلَمُ : زیادہ جاننے والے ہیں ] [بِمَا : اس کو جو ] [يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہیں گے ] [اِذْ يَقُوْلُ : جب کہے گا ] [اَمْثَلُهُمْ : ان کا زیادہ افضل ] [طَرِيْقَةً : بلحاظ طریقے کے ] [ان لَّبِثْتم : تم لوگ نہیں ٹھہرے ] [اِلَّا : مگر ] [يَوْمًا : ایک دن ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–104

جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرے گا قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ لاد کر آئے گا، مجرمین کا اس حالت میں حشر ہوگا کہ ان کی آنکھی نیلی ہونگی، آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے دن رہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح ہم نے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم آپ سے گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں (یہ خبریں آپ کی نبوت کی دلیلیں ہیں آپ انہیں نہیں جانتے تھے صرف وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا۔ اس سے قرآن مجید مراد ہے جو سارے عالم کے انسانوں کے لیے وعظ اور نصیحت ہے جو اس پر عمل کرے گا کامیاب ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–104

اثبات رسالت محمدیہ و تہدید معاندین و ترہیب از عذاب آخرت قال اللہ تعالیٰ کذلک نقص علیک من انباء ما قد سبق .... الیٰ .... ان لبثتم الا یوما۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور ہارون کا ماجرا ختم ہوا جو از اول تا آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان تھا۔ اب ان آیات میں رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اے نبی ہم آپ ﷺ کو اس قرآن میں گزشتہ زمانے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت رسالت کی اور اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہو۔ اور آپ ﷺ کے لیے باعث تسلی ہو اور منکرین اور معاندین کے لیے موجب تہدید و عبرت ہو۔ اور لوگوں کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 99–104

73:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا ہمارا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اور یہ تیسری آیت تشجیع ہے یعنی گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہم آپ پر اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ انہوں نے توحید کی خاطر کس قدر مصیبتیں اٹھائیں اس طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لہذا آپ بھی ان پر صبر کریں اور یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان صداقت رسول ﷺ یعنی آپ ہماری وحی سے معلوم کر کے گذشتہ لوگوں کی اخبار بیان کر رہے ہیں۔ لہذا آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ 74:۔ ” ذِکْرًا “ سے قرآن کریم مراد ہے۔ و تفسیر الذکر بالقران ھو الذی ذھب الیہ الجمھور (روح ج 16 ص 259) ۔ ” مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–104

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں سامری کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والے بعض لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ لوگ سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تمہاری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی ؟ جب انہوں نے اپنی صفائی پیش کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بچھڑا سازی کا سارا واقعہ بیان کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھتکار دیا ، اور فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ اِذْ يَقُوْلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِيْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا يَوْمًا۝ 104ۧ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 99–110

اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 100–104

مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ فَاِنَّـہٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وِزْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہِ ط وَسَآئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلاً ۔ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُالْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا۔ یَّـتَـخَافَـتُـوْنَ بَیْنَہُمْ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ عَشْرًا۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُھُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ یَوْمًا۔ (طٰـہٰ : 100 تا 104) (جو اس سے اعراض کریں گے، وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اسی کے وبال میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–104

فہم القرآن ربط کلام : جس دن مجرموں نے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے اس دن کے برپا ہونے کی کیفیت اور مجرموں کا حال۔ مجرموں کے لیے قیامت کا دن اس قدر سخت اور بھاری ہوگا کہ اس دن ان کی آنکھوں کی سفیدی نیلی ہوجائے گی۔ اور ان کے ڈیلیپتھرا جائیں گے وہ سرگوشی اور گنگناہٹ کے انداز میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم دس دن سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ جو ان میں سب سے زیادہ اعتماد کے ساتھ بات کرے گا وہ دوسروں کو کہے گا کہ ہم صرف ایک ہی دن دنیا میں ٹھہرے تھے۔ جو کچھ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ قیامت کا آغاز صور میں پھونک مارنے سے ہوگا جونہی اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ صور میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

104: نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ (ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں جبکہ ان میں سے) اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا (صاحب الرائے اس طرح کہتا ہوگا۔ تم تو ایک ہی روز رہے) امثلؔ کا معنی معتدل و درست رائے والا۔ طریقۃ ؔ بمعنی قول ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : قالوالبثنا یومًا اوبعض یوم فسئل العادین ] المؤمنون : 113[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

104۔ نحن اعلم بمایقولون، ، جو وہ آپس میں مشاورت کرتے ہیں۔ اذ یقول امثلھم طریقۃ، یعنی زیادہ سمجھدار اور بھرپور عقل والا اور سب سے بڑھ رک معتدل العقل یامعتدل العمل، ان لبثتم الایوما۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اس کی مدت میعاد کم ہوگی کیونکہ اس وقت ان کے دل مرعوب اور ہول زدہ ہوں گے اس لیے چپکے چپکے باہم کہیں گے کہ ہم لوگ دنیا میں صرف چند دن رہے۔ بعض نے کہا کہ کثرت اور شدت ھول کی وجہ سے وہ ٹھہرنے کی مدت کو ہی بھول جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–104

102۔ 104:۔ اگرچہ بعضے سلف کا قول ہے کہ صور کئی دفعہ پھونکا جائے گا لیکن صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر سے جو روایت ہے اس میں ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا پہلے صور کی آواز سے تمام دنیا ویران ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سے سب زندہ ہوجائیں گے 1 ؎۔ اکثر صحابہ کا قول ہے کہ دونوں صور کے مابن چالیس برس کا فاصلہ ہوگا 2 ؎۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے 3 ؎۔ ان آیتوں میں صور کے بعد حشر کا ذکر ہے اس واسطے یہاں صور سے مطلب دوسرا صور ہے دوزخ میں جانے کے قابل لوگوں کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی کہ ان کی آنکھیں بےرونق اور ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–111

آیات (104) یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کئے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑگیا ہوگا، تو وہ ایک دوسرے سے سرگرشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخری کے جلد آجانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انہیں جانتا ہوگا اور جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انہیں سنتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

107 قیامت کے روز منکروں کی بد حواسی کا ایک مظہر۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے قیامت کے اس ہولناک دن میں مجرموں کی بدحواسی کا ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حیات دنیا کی جس فرصت کو یہ لوگ بہت طویل سمجھا کرتے تھے اور اسی بناء پر یہ عذاب لانے کا بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے وہ وہاں پر ان لوگوں کو اس قدر مختصر معلوم ہوگی۔ سو اس سے ان لوگوں کی اس بدحواسی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس سے یہ لوگ فیصلے کے اس یوم عظیم میں مبتلا ہوں گے۔ مگر آج یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو یہ لوگ قیامت کے اس یوم عظیم کو بہت دور کی چیز سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–113

قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2) بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–104

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 104–109

ف 1 یا جس کے لئے (سفارش کرنے کی) رحمان اجازت دے اور اس کے لئے وہ بات سننا پسند کرے۔ نظم قرآن سے یہ دونوں معنی مفہوم ہوتے ہیں اور دونوں صحیح اور دوسری آیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ( سورة مریم 87، سبا 23 زخرف 86 نجم 26)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:104) املثہم۔ ان میں سے زیادہ اچھا۔ بہتر ۔ امثل کے اصلی معنی تو زیادہ مشابہ کے ہیں لیکن اس کا استعمال اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو اچھے لوگوں کے مشابہ ہو اور اس اعتبار سے اس کے معنی زیادہ بہتر اور زیادہ نیک کے ہیں۔ طریقۃ۔ ای رایا وعقلا۔ عقل اور رائے میں۔ امثلہم طریقۃ۔ جو ان میں کا سب سے زیادہ صائب الرائے۔ محتاط ۔ اندازہ لگانے والا۔ زیادہ زیرک۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–112

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 112 نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 103–105

قیامت کے ذکر پر قریش کا تعجب شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران پانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک بڑی سخت اور پائدار چیز گزری۔ اس لئے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ پھر اڑ جائیں گے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 102–107

[45] یعنی نرسنگھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آتا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے یہاں ذکردوسری دفعہ صور پھونکے جانے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 104–108

(ف 2) جو لوگ یہاں تن آسانیوں میں الجھل کر رہ جاتے ہیں اور مادیت میں اس درجہ پھنس جاتے ہیں ، کہ قرآن کی آواز پر کان نہیں دھرتے ایک وقت آئے گا ، جب وہ پچھتائیں گے ، ان کی پشت عذاب کے بوجھ سے جھک جائے گی اور یہاں کے تمام تکلفات کی اس وقت حقیقت کھلے گی ، (آیت) ” یوم ینفخ “۔ سے مراد یہاں دوسری دفعہ صور پھونکنا ہے ، اس وقت تمام لوگ اللہ کی حکمت وقدرت سے جی اٹھیں گے ، قرآن وحدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ یہ صور پھونکا جائے گا ، ایک اس وقت جب اللہ کو یہ منظور ہوگا ، کہ دنیا کا خاتمہ کر دیاجائے اور ایک اس وقت جب دوبارہ دنیا والے زندہ کئے جائیں گے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نفخ صور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 104 جو کچھ یہ کہتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں جبکہ ان میں سے بہترین رائے اور اچھی راہ رکھنے والا یوں کہے گا کہ نہیں تم تو صرف ایک دن رہے گا۔ یعنی میدان حشر میں جو خفیہ سرگوشیاں کرتے ہیں وہ ہم کو سب معلوم ہے جبکہ ان میں سے ایک اچھی رائے کا سمجھدار اور ہوشیار یوں کہے گا کہ دس دن کس کے تم تو صرف ایک دن رہے ہو گے اس کو امثلھم طریقۃ اس لئے فرمایا کہ اس نے وہاں کے عذاب اور وہاں کی ہولناکی کا دوسروں سے بہتر اندازہ کیا یہ نہیں کہ تجدید میعاد کا اندازہ صحیح ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دنیا میں رہنا اتنا نظر آوے گا یا قبر میں رہنا۔ 12 ہم کو خوب معلوم ہے یعنی چپکے کہنا ہم سے نہیں چھپتا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–107

ف 1۔ مطلب یہ کہ ہم تو یوں سمجھے تھے کہ مر کر پھر زندہ ہونا نہیں یہ گمان تو بالکل غلط نکلا۔ نہ زندہ ہونا تو درکنار یہ بجھی تو نہ ہوا کہ دیر ہی میں زندہ ہوتے، بلکہ بہت ہی جلدی زندہ ہوگئے کہ وہ مدت دس روز کے برابر معلوم ہوتی ہے۔ وجہ اس مقدار کے برابر معلوم ہونے کی اس روز کی درازی اور ہول اور پریشانی ہے کہ مدت لبث فی القبر اس کے سامنے اس قدر قصیر معلوم ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا ہم بیخبر نہیں وہاں ایک آدھ دن کا اندازہ لگانے والے بھی ہوں گے : 104۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم ان کی اس طرح کی بحث وتمحیث سے بیخبر نہیں ان میں سے جو بہتر اندازہ کرنے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں یار ہم دس دن کب رہے ہم تو بس ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ہی رہے ہوں گے ۔ (امثلھم) یعنی ان میں سے جو اندازہ کرنے میں افضل و برتر ہوں گے وہ اس وقت کا اندازہ ایک آدھ دن ہی سے کریں گے چناچہ اس کی تفصیل قرآن کریم میں دوسری جگہوں پر بھی بیان کی گئی ہے کہ ان کا اندازہ یا انداز گفتگو میں جو کچھ وہ کہیں گے اس کو ایک آدھ دن ہی کہیں گے ، گویا اس طرح سے یہ فطرت انسانی کا بیان بھی ہے کہ ہم گزرے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–113

يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ‌ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ‌ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

81. This is a parenthesis that has been inserted to remove this doubt of the hearers: How has it been known today what the people will be talking in whispers on the Day of Resurrection? 82. This is another parenthesis which has been inserted in answer to another objection raised by some hearer. It appears that when this Surah was being recited, someone might have raised this question as a ridicule: Where will these high mountains go on the Day of Resurrection, for it appears from your description of Resurrection that all the people of the world will be running about in a level plain? In order…

Read the full tafseer →